38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 38:33–43

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اہل (و عیال) اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا الخیل وامسحوا بنو اصیھا واعجازھا اوقال اکفالھا وتدوھا ولا تقلد وھا الاوتار۔ گھوڑے پالو اور ان کی پیشانیوں نیز ان کی سرینوں پر ہاتھ پھیرا کرو یا آپ نے اعجاز کی بجائے اکفالھا فرمایا (دونوں کا مفہوم ایک ہے) انہیں پٹے ڈال کرو لیکن تانت کے پٹے نہ ڈالا کرو) ممکن ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کے ایال اور کونچوں پر اسی جذبے کے تحت ہاتھ پھیرا ہو جس کی ترغیب ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں دی ہے ۔ حسن سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی کونچیں کھول دیں اور ان کی گردنیں اڑادیں اور فرمایا کہ یہ گھوڑے دوبارہ مجھے اپنے رب کی یاد سے غافل نہ کر پائیں۔ پہلی تاویل زیادہ صحیح ہے اور دوسری تاویل کی بھی گنجائش ہے جن حضرات نے آیت کی دوسری تاویل کی ہے انہوں نے کے ذریعہ گھوڑوں کے گوشت کی اباحت پر استدلال کیا ہے کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان گھوڑوں کو یونہی ضائع نہیں کرسکتے تھے انہوں ان کے گوشت سے فائدہ ضرور اٹھایا ہوگا۔ لیکن یہ بات اس طرح نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ گھوڑے کا گوشت حرام ہو اور حضرت سلیمان نے انہیں تلف کرکے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کیا ہو اور اللہ کے حکم کی تنقید میں ہی انہیں فائدہ نظر آیا ہو۔ انہوں نے کسی اور چیز کو مدنظر نہ رکھا ہو۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ان گھوڑوں کو مارسکتا تھا اور لوگوں کو ان کے کھانے سے منع کرسکتا تھا اس لئے یہ ممکن ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انہیں تلف کر کے اور بعد میں ان کے گوشت سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کرکے اللہ کا حکم بجا لایا ہو۔