Ayah 38:1منکرین توحید و مکذبین رسالت کے لیے وعید
صٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اللہ کو ہی معلوم ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ابتدائی آیات کا سبب نزول معلوم کرلینا چاہیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو ان کے پاس قریش مکہ آئے اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لائے۔ قریش نے ابو طالب سے شکایت کی (کہ تمہارا بھتیجا ایسی ایسی باتیں کرتا ہے) ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا کہ میں ان کے سامنے ایک کلمہ پیش کرتا ہوں وہ اسے قبول کرلیں تو سارا عرب ان کا فرمانبردار ہوجائے گا اور عجمی لوگ ان کو جزیہ دیا کریں گے ابو طالب نے کہا کہ صرف ایک کلمہ کہلوانا چاہتے ہو ؟ فرمایا ہاں بس ایک کلمہ ! پھر آپ نے فرمایا اے چچا (لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ) کہہ لو ! قریش مکہ جو وہاں حاضر تھے انہوں نے کہا کیا ایک ہی معبود کو مان لیں ؟ ہم نے تو یہ بات اس سے پہلے کسی مذہب میں نہیں سنی یہ تو اپنے پاس سے بنائی ہوئی ہے، لہٰذا ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہوگیا یعنی (صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ) سے لے کر (اِنْ ھٰآا الاَّ اخْتِلاَقٌ) تک آیات نازل ہوگئیں۔ (رواہ الترمذی اوائل سورة ص قال ھذا حدیث حسن صحیح)
(وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ) (قسم ہے قرآن کی جو نصیحت والا ہے) کافر لوگ جو قرآن کو اور آپ کو جھٹلا رہے ہیں ان کی بات غلط ہے۔
Ayahs 38:2–3(بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ خود ہی تعصب میں اور حق کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں) (کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہم نے ہلاک کردیا) (فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) سو ان لوگوں نے پکارا یعنی جب عذاب آیا تو بلند آواز سے توبہ کرنے لگے تاکہ عذاب سے نجات مل جائے اور وہ وقت چھٹکارہ کا نہ تھا (کیونکہ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ )
فائدہ : مصاحف قرآنیہ میں (وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) لکھا ہوا ہے اور محققین کے نزدیک اسی طرح صحیح ہے قدیم اور جدید مصاحف میں (لاَتَ بقطع التاء) لکھا ہے جو تواتر سے ثابت ہے۔ 1
لیکن حضرت ابو عبید قاسم بن سلام کا ارشاد ہے کہ (لا تحین وصل التاء) کے ساتھ رسم قرآنی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مصحف عثمانی میں، میں نے خود موصولاً لکھا ہوا دیکھا ہے لیکن امام شاطبی ؓ نے قصیدہ رائیہ میں فرمایا ہے (ابو عبیدٍ عزاولا تحین الامام والکل فیہ اعظم النکرا) (یعنی ابو عبید نے ” ولا تحین “ کو مصحف عثمانی کی طرف منسوب کیا ہے اور تمام علماء نے اس بارے میں بڑی نکیر کی ہے) حضرت ابوعبید بھی رسم قرآنی کے امام ہیں لیکن چونکہ یہ نقل خبر واحد کے درجہ میں ہے جس کا تواتر ثابت نہیں ہوا اس لیے ائمہ کرام نے اس کو تسلیم نہیں کیا، حضرت امام جزری نے بھی نام لیے بغیر اپنے مقدمہ میں حضرت ابو عبید کا قول نقل کیا ہے اور آخر میں ووھلا فرمایا یعنی یہ قول ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
لات حین کے مذکورہ وصل و قطع کے اختلاف کی وجہ سے وقف اور ابتداء میں بھی اختلاف ہوگیا، چناچہ جملہ علماء و قراء فرماتے ہیں کہ ” لا “ پر وقف کرکے تحین سے ابتداء کرنا درست نہیں ہے کیونکہ لا پر تا زائدہ آتی ہے اور دونوں کلمہ واحدہ کے حکم میں ہیں لہٰذا وقف کریں تو لات پر کریں
1 اور المناص کا معنی ہے نجات کی جگہ اور بچنا، چوکنا، کہا جاتا ہے ناصہ، ینوصہ جب کوئی چیز فوت ہوجائے اور فراء کہتے ہیں النوص کا معنی ہے پیچھے رہ جانا اور حضرت مجاہد (رح) نے اس کی تفسیر فرار کے ساتھ کی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(ولات ” ھی لا “ المشبھۃ بلیس عند سیبویۃ زیدت علیھا تاء التأنیث لتا کید معناھا وھو النفی لان زیادۃ البناء تدل علی زیادۃ المعنی أولان التاء تکون للمبالغۃ فی علامۃ أو لتاکید شبھھا بلیس بجعلھا علی ثلاثۃ أحرف ساکنۃ الوسط۔ (روح المعانی ص 163: ج 23)
والمناص المنجا والفوت یقال ناصہٗ ینوصہ، اذا فاتہ وقال الفراء النوص التأخرو عن مجاھد تفسیرہ بالفرار وکذا روی عن ابن عباس۔ (روح المعانی ص 165: ج 23)
” سیبویہ کے نزدیک ” لات “ کا لامشبہ بلیس ہے اور اس کے ساتھ تائے تانیث معنی نفی کی تاکید کے لیے بڑھائی گئی ہے کیونکہ بناء کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے یا تاء اس لیے بڑھائی گئی کہ وہ مبالغہ کے لیے ہے جیسے علامۃ کی یا تاء لیس کے ساتھ مشابہت کی تاکید کے لیے بڑھائی گئی ہے تاء نے ” لا “ کے تین حرف بنا دئیے جن کا درمیان والا ساکن ہے اور لیس بھی اسی طرح ہے۔ “
لیکن ابو عبید (رح) اپنے اختیار کردہ رسم الحظ کی بناء پر کہتے ہیں کہ لا پر وقف کرکے تحین سے ابتداء کرسکتے ہیں۔
ملا علی قاری ؓ فرماتے ہیں کہ یہ قرأت شاذ ہے کیونکہ مبنی اور معنی کے اعتبار سے قواعد عربیہ کے خلاف ہے۔
اگر ضرورت کی بناء پر لات پر حسب مذہب جمہور قراء عمل کیا جائے تو تا کو ہا سے بدل کر وقف کریں یا تا کو ت ہی رہنے دیں ؟ اس کے بارے میں ملا علی قاری ؓ فرماتے ہیں کہ کسائی وقف بالھاء کرتے ہیں اور باقی قراء کرام رسم کے تابع کرتے ہوئے وقف بالتا کرتے ہیں۔ (کیونکہ تا لمبی لکھی ہوئی ہے۔ )
Ayahs 38:4–5(وَعَجِبُوْا اَنْ جَاءَ ھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْہُمْ ) (اور انہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آگیا) اس میں ان کے لیے دو باتیں تعجب کی تھیں ایک تو یہ کہ انسان اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہے دوسرے یہ کہ ہمارے ہی اندر سے نبی بھیجا گیا ہے اگر ہمارے اندر سے اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا تھا تو کوئی سردار آدمی ہوتا کما فی سورة الزخرف (لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ )
(وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ) (اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے) رسول اللہ ﷺ کے معجزات دیکھ کر انہوں نے یہ بات کہی تھی، کافروں نے یہ بھی کہا (اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِِلٰہًا وَّاحِدًا) (کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا) (اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ) (بلاشبہ یہ بڑے تعجب کی بات ہے) چونکہ قریش مکہ اپنے باپ دادوں کو دیکھتے آئے تھے جو بہت سے معبود مانتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اس لیے انہیں یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ صرف ایک ہی معبود کی عبادت کی جائے اور ایک معبود کے علاوہ سارے معبودوں کو باطل معبود قرار دے دیا جائے خیر کی بات رواج سے اٹھ جاتی ہے اور بری بات عام ہوجاتی ہے رواج میں جگہ پکڑ لیتی ہے تو اچھی بات سن کر جو خلاف رواج ہو تعجب ہونے لگتا ہے اسی لیے قریش مکہ کو توحید کی بات سن کر تعجب ہوا۔ )
Ayah 38:6(وَانْطَلَقَ الْمَلاَُ مِنْہُمْ ) (اور ان میں سے جو سردار تھے یوں کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ یہاں سے چل دو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو) اگر یہاں اور بیٹھے رہے تو ممکن ہے کہ اس شخص کی بات ہمارے دلوں میں اثر کر جائے اور ہمیں ایک ہی معبود کو ماننا پڑے۔ (اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ یُرَادُ ) (بیشک یہ ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کیا جا رہا ہے) یہ بھی مشرکین کا قول ہے اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جس کی طرف ترجمہ میں اشارہ کردیا گیا ہے یعنی یہ شخص جو ہماری جماعت سے نکل کر نئی نئی باتیں کر رہا ہے اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اسے عرب و عجم کی سرداری مل جائے اور سب سے اوپر ہو کر رہے، اور بعض مفسرین نے یہ مطلب بتایا ہے کہ اس شخص کا جو کچھ دعویٰ ہے اور اس پر اس کا جو جماؤ ہے اس سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا، اس کی طرف سے کسی طرح کے جھکاؤ کی امید نہیں اور تیسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس شخص کا وجود اور اس شخص کی دعوت اور اس کا دعویٰ یہ بھی زمانہ کی لائی ہوئی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے ہمارے پاس کوئی ایسی تدبیر نہیں کہ اس شخص کو روک دیں صبر کے گھونٹ پینے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ (ذکرہ صاحب الروح)
Ayahs 38:7–8مشرکین مکہ نے مزید کہا (مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ ) (ہم نے یہ بات کسی دوسرے دین میں نہیں سنی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے دین نصاری مراد ہے اس وقت تک ادیان سماوی میں وہی آخری دین تھا جس میں نصاریٰ نے تحریف و تغییر کرلی تھی اور مشرکین مکہ نصاریٰ کی باتیں سنتے رہے تھے اس لیے انہوں نے یہ بات کہی، نصاریٰ نے اپنے دین کو بدل دیا تھا توحید سے منحرف ہو کر تین خدا ماننے لگے تھے۔
ان لوگوں نے یہ بھی کہا (اِنْ ھٰذَا اِِلَّا اخْتِلاَقٌ) (یہ جو توحید والی بات کہتے ہیں بالکل ہی گھڑی ہوئی ہے) جس کو انہوں نے اپنے پاس سے بنالیا ہے، اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا (اَوْنُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا) (کیا نصیحت کی بات یعنی قرآن جس کے نازل ہونے کا ان کو دعویٰ ہے ہمارے درمیان سے انہیں پر نازل کیا گیا) ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگ سردار ہیں مال والے ہیں بڑے لوگ ہیں اگر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہونی تھی تو ہم میں سے کسی پر نازل ہونی چاہیے تھی اس کی کیا خصوصیت ہے جو اس کو نبی بنایا گیا اور اس پر کتاب نازل کی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِنْ ذِکْرِیْ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ میرے ذکر کی طرف سے یہ لوگ شک میں ہیں) (بَلْ لَمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ ) (بلکہ بات یہ کہ انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا) یہ ساری باتیں اور موشگافیاں عذاب آنے سے پہلے پہلے ہیں، جب عذاب آجائے گا تو تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائیں گے لیکن اس وقت کی تصدیق فائدہ نہ دے گی۔
Ayah 38:9(اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآءِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّابِ ) (کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو بہت عزت والا ہے بہت عطا فرمانے والا ہے) یعنی یہ لوگ جو یوں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ کر اس شخص کو کیوں پیغمبری ملی اور اس پر قرآن کیوں نازل ہوا انہیں یہ بات کہنے اور اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ عزیز ہے وہاب ہے وہ اپنی رحمت سے جس کسی کو جو چاہے عطا فرما دے نبوت اور رسالت بھی اس کا ایک عطیہ ہے اس نے اپنی حکمت کے مطابق جیسے چاہا نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا، ان لوگوں کو نہ کوئی اختیار ہے نہ پروردگار عالم جل مجدہٗ کے خزانوں کے مالک ہیں انہیں یہ بات کہنے کا کیا اختیار ہے کہ آپ کو نبوت کیوں نہ ملی ؟
Ayah 38:10(اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا) (کیا ان کے قبضہ میں آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی ملکیت ہے ؟ یعنی یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اجرام علویہ اور اجسام سفلیہ میں انہیں کچھ بھی دخل اور اختیار نہیں ہے پھر انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ملک اور ملکوت میں دخل دیں اور قادر مطلق جل مجدہ پر اعتراض کریں کہ فلاں کو کیوں نبوت دی (فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ) ، آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں اگر ان کے بارے میں کسی اختیار کا دعویٰ ہے تو سیڑھیوں کے ذریعہ اوپر چڑھ جائیں لیکن انہیں تو ذرا سا بھی اختیار نہیں پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کیوں دخل دے رہے ہیں۔
Ayah 38:11(جُندٌ مَّا ھُنَالِکَ مَہْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ) (اس مقام پر ان لوگوں کی ایک بھیڑ ہے جو شکست کھائی ہوئی جماعتوں میں سے ہیں) یعنی یہاں مکہ معظمہ میں ایسے لوگوں کی بھیڑ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ان کا لشکر شکست خوردہ جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے، یہ بھی شکست کھائیں گے جیسے ان سے پہلی مخالف جماعتوں نے شکست کھائی، چناچہ اہل مکہ نے بدر میں شکست کھائی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ احزاب سے وہ جماعتیں مراد ہیں جو غزوۂ خندق کے موقع پر چڑھ کر آگئی تھیں انہوں نے بھی شکست کھائی اور بری طرح پسپا ہو کر بھاگے اس مضمون میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ غم نہ کریں فکر مند نہ ہوں دوسری اقوام کی طرح ان کو بھی شکست ہوگی۔ (راجع القرطبی ص 153: ج 15)
Ayahs 38:12–14گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا تذکرہ
اس کے بعد گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا ذکر فرمایا جس میں مشرکین مکہ کے لیے عبرت ہے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور قوم عاد نے اور فرعون نے جو ذی الاوتاد تھا اور ثمود نے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے اور اصحاب الایکہ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کو اپنا شیوہ بنایا اور اس کی سزا پائی، مزید فرمایا (اِِنْ کُلٌّ اِِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ) یہ سب وہی ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا، ان لوگوں کے عذاب کی تفصیلات قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہیں جنہیں عام طور سے عوام اور خواص جانتے ہیں، اصحاب الایکہ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ایک امت مراد ہے جو ایکہ یعنی جھاڑیوں اور جنگلوں میں رہتے تھے ان پر ظلہ کا عذاب آیا یہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے ایک بادل کے سایہ میں کھڑے ہوگئے تھے اور وہیں ہلاک کردئیے گئے۔ (دیکھو انوار البیان تفسیر سورة شعراء)
ذوالاوتاد کا معنی
(ذُو الْاَوْتَادِ ) (میخوں والا) یہ لفظ فرعون کی صفت ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وہ میخوں یعنی کیلوں کے ذریعہ لوگوں کو سزا دیتا تھا، چاروں ہاتھ پاؤں چار ستونوں سے باندھ دیتا تھا اور چاروں میں ایک ایک کیل ٹھوک دیتا تھا پھر اسی طرح چھوڑ دیتا تھا جس کی جہ سے وہیں پڑے پڑے آدمی مرجاتا تھا، اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اس کی حکومت مضبوط تھی، اور ایک قول یہ ہے کہ اوتاد سے لشکر مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرعون کے بہت سارے لشکر تھے چونکہ لشکر جہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے کیلیں گاڑتے ہیں اس لیے لشکروں کو اوتاد سے تعبیر کیا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (ذکر ہذہ الاقوال صاحب الروح)
Ayahs 38:15–16اہل مکہ کو جب یہ بات بتائی جاتی تھی کہ انکار اور تکذیب پر عذاب آجایا کرتا ہے اور پہلی قومیں کفر پر جمے رہنے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں تو اس کا مذاق بناتے تھے اور اطمینان کے ساتھ دنیاوی اعمال میں مشغول رہتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ یہ لوگ بس اسی انتظار میں ہیں کہ ایک چیخ آجائے یعنی صور پھونک دیا جائے گا اس وقت جو چیخ ہوگی وہ رکنے والی نہ ہوگی سمجھداری اسی میں ہے کہ قیامت آنے سے پہلے ہی ایمان قبول کرلیں اور اپنا حال درست کرلیں۔ اور علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جسے سورة یٰسین میں فرمایا ہے، (مَا یَنظُرُونَ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ) (یہ لوگ ایک ایسی سخت آواز کے منتظر ہیں جو انہیں آکر پکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے) (فَلاَ یَسْتَطِیعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلاَ اِِلٰی اَھْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ ) (سو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف جاسکیں گے) علامہ قرطبی سورة ص کی آیت کا مطلب بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب غزوہ بدر کے واقعہ کے بعد انہیں یہی انتظار ہے کہ قیامت قائم ہوجائے ان کو چاہیے تھا کہ بدر کے واقعہ سے عبرت حاصل کرلیتے اور اہل ایمان کے غلبہ سے سے سبق لے کر خود بھی مومن ہوجاتے قیامت قائم ہوگی تو دم مارنے کی گنجائش نہ ہوگی اور ذرا سی بھی مہلت نہ دی جائے گی، قیامت کو مانتے بھی نہیں اور ڈھنگ ایسا ہے جیسے وہاں کے لیے بہت کچھ کیا ہو اور عذاب کی بھی بد دعاء کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب حساب کے دن سے پہلے ہمارا حصہ ہمیں دیدے۔ 1
یعنی قیامت کے دن کا انتظار کیوں ہے ہمیں جو عذاب دینا ہے ابھی آجائے، بات یہ ہے کہ انہیں قیامت آنے کا یقین نہیں تھا ورنہ اپنے منہ سے کون عذاب مانگتا ہے۔
1 (قولہ تعالیٰ ” ما لھا من فَوَاقٍ “ بفتح الفاء صمھا فی السبعیۃ وھو ما بین الحلبتین لانھام ثم تترک سریعہ یرضعھا الفصیل لتدر ثم تحلب قال الفراء وابو عبیدۃ وغیرھما من فواق بفتح الفاء أی راحۃ لا یفیقون فیھا کما یفیق المریض والمغشی علیہ، من فواق بضم الفاء من انتظار، والقط فی کلام العرب الحظ والنصیب او القط اسم للفطعۃ من الشئ کالقسم والقسم فاطلق علی النصیب والکتاب والرزق لقطعۃ عن غیرہ الا أنہ فی الکتاب اکثر استعمالاً وأقوی حقیقۃ (المتقطا من القرطبی ص 156: ج 15 ص 157)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد مالَھَامِنْ فَواقٍ یہ فَوَاق فا کے فتحہ کے ساتھ اس وقفہ کو کہتے ہیں جو دو دفعہ دوہنے کے درمیان ہوتا ہے کہ پہلے دودھ دوھ کر تھوڑا سا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ بچہ تھنوں کو چوسے تو دوبارہ دودھ اتر آئے اور پھر دوسری دفعہ دوھ لیں فراء اور ابو عبیدہ وغیرہ کہتے ہیں فَوَاق فاء کے فتحہ کے ساتھ یعنی ایسی راحت و سکون جس میں افاقہ نہ ہوگا جیسے مریض کو افاقہ ہوتا ہے یا بےہوش کو، اور فُوَاق فاء کے ضمہ کے ساتھ انتظار کے معنی میں ہے۔ اور ” فط “ کلام عرب میں حصہ اور نصیب کو کہتے ہیں یا ” القط “ کسی شی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں القسم اور القسم پھر اس کا اطلاق حصہ پر کیا گیا وہ کتاب اور رزق جو الگ کرلیا گیا ہو ان پر بھی بولا جاتا ہے مگر کتاب کے معنی میں اس کا استعمال زیادہ ہے اور حقیقت کے لحاظ سے قط بمعنی کتاب زیادہ قوی ہے۔
Ayahs 38:17–20حضرت رسول اکرم ﷺ کو تسلی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ
رسول اللہ ﷺ کو مشرکین کی باتوں سے رنج ہوتا تھا، آیت بالا میں آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ہمارے بندۂ داؤد کو یاد کیجیے جو قوت والے تھے اور فرمایا کہ وہ اواب تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے، پھر ان کی تسبیح کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے یعنی اس کے ذکر میں مشغول رہتے تھے سورة سبا کے دوسرے رکوع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے اس کی مراجعت کرلی جائے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کا ملک مضبوط کردیا تھا اور انہیں حکمت یعنی نبوت دی تھی اور فصل الخطاب سے نوازا تھا یعنی وہ ایسی تقریر کرتے تھے جو خوب واضح ہوتی تھی، سننے والے اچھی طرح سمجھ لیتے تھے۔
اس کے بعد آئندہ آیات میں ان کا ایک واقعہ ذکر فرمایا جس میں ان کے صبر کا تذکرہ ہے اور اسی نسبت سے (اصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ ) کے ساتھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یاد کرنے کا حکم دیا۔
Ayah 38:21حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں دو شخصوں کا حاضر ہو کر فیصلہ چاہنا اور آپ کا فیصلہ دینا
ان آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور اس کے بعد والی آیات میں یہ بتایا کہ ہم نے داؤد کو زمین کا خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ آپ انصاف کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کریں، یہاں جو قصہ ذکر فرمایا وہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آئے بھی کس طرح ؟ دروازے سے آنے کی بجائے دیوار پھاند کر آئے اور تنہائی میں ان کے پاس پہنچ گئے انہوں نے عبادت کے لیے ایک جگہ بنا رکھی تھی جسے محراب سے تعبیر فرمایا وہ مشغول عبادت بھی تھے جب ان دونوں پر نظر پڑی تو بتقاضائے بشریت گھبرا گئے ان دو شخصوں نے ان کی گھبراہٹ کو محسوس کرلیا اور کہنے لگے کہ آپ ہماری وجہ سے خوف زدہ نہ ہوں ہم کوئی چور ڈاکو نہیں ہیں ہم اپنا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ہیں ہم میں ایک مدعا اور دوسرا مدعی علیہ ہے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، آپ ہمارا مقدمہ سن لیجیے اور انصاف سے فیصلہ کردیجیے اور فیصلہ میں بےانصافی نہ کیجیے اور ہم کو سیدھی راہ بتا دیجیے۔
پھر ان میں سے ایک بولا کہ یہ میرا (دینی) بھائی ہے اس کے پاس ننانوے یعنی ایک کم سو دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دیدے، اور کہنے میں بھی وہ طریقہ نہیں اختیار کیا جو سوال کرنے والوں کا ہوتا ہے بلکہ مجھے اس سختی کے ساتھ خطاب کیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس نے جو یہ بات اٹھائی کہ تیری جو ایک دنبی ہے وہ تو اسے دیدے اور یہ اسے اپنی دنبیوں میں ملا لے اس کا یہ سوال کرنا ظلم ہے، یہ تو ان دونوں کے مقدمہ کا فیصلہ فرمایا اور ساتھ ہی عام لوگوں کا مزاج اور رواج اور طریقہ کار بھی بیان فرما دیا اور وہ یہ کہ بہت سے لوگ جو شریک ہوتے ہیں، یا مل جل کر رہتے ہیں ان کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں ہاں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے لوگ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے ایسے لوگ ہیں تو سہی مگر کم ہیں۔
اول تو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ جل شانہٗ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ کو (اصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ ) کے ساتھ شروع فرمایا ہے جس سے واضح ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو کسی ایسی بات میں مبتلا فرمایا تھا جس میں صبر کی ضرورت تھی رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ اپنے مخاطبین کی باتوں پر صبر کریں اور داؤد کے قصے کو یاد کریں اس کے بعد یہ بات بیان فرمائی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے پھر یہ قصہ بیان فرمایا کہ دو شخص ان کے پاس دیوار پھلانگ کر آگئے اور دونوں نے اپنا مقدمہ پیش کیا، انہوں نے ان کا فیصلہ سنا دیا، اس میں یہ بات تلاش کرنے کی ہے کہ اس میں صبر کرنے کی کون سی بات تھی، اس بارے میں روایات حدیث سے کوئی بات واضح نہیں ہوتی، البتہ اتنی بات قرآن مجید کے سیاق اور بیان سے معلوم ہو رہی ہے کہ جو دو شخص ان کے پاس تنہائی میں پہنچ گئے تھے وہ وقت ان کی عبادت کرنے کا تھا فیصلہ خصومات کا وقت نہ تھا پھر وہ دونوں دیواریں کود کر آئے جب داؤد (علیہ السلام) کو ان سے گھبراہٹ ہوئی تو انہوں نے تسلی تو دیدی کہ آپ گھبرائیے نہیں لیکن بےوقت پہنچے پھر دیوار کود کر آئے اور ساتھ ہی یوں کہہ دیا کہ (فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بالْحَقِّ ) کہ آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور مزید یوں کہا کہ بےانصافی نہ کیجیے اور ساتھ ہی یوں بھی کہہ دیا کہ سیدھی راہ بتا دیجیے ان باتوں سے ایک طرح کی بےادبی ظاہر ہوتی تھی جس سے ابہام ہوتا تھا کہ داؤد (علیہ السلام) ناحق فیصلہ بھی کرسکتے ہیں اور زیادتی بھی کرسکتے ہیں، داؤد (علیہ السلام) نبی ہونے کے ساتھ ساتھ جلیل القدر بادشاہ بھی تھے مدعی اور مدعیٰ علیہ کی باتیں سن کر صبر کیا اور تحمل سے کام لیا ان متواتر گستاخیوں پر کوئی دار و گیر نہیں فرمائی بلکہ بڑی نرمی کے ساتھ ان کا مقدمہ سنا اور فیصلہ فرما دیا۔
Ayah 38:22حضرت داؤد (علیہ السلام) کا مبتلائے امتحان ہونا پھر استغفار کرنا
اب رہی یہ بات کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جب صبر کے ساتھ مدعی اور مدعی علیہ کی بات سنی اور فیصلہ فرما دیا جو صحیح فیصلہ تھا تو اس میں وہ کون سی بات تھی جو ان کے امتحان کا سبب بن گئی ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعی کی بات سن کر مدعی علیہ سے دریافت کیے بغیر جو یہ فرما دیا کہ اس شخص نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں ملانے کے لیے تیری دنبی ملانے کا سوال کیا اس میں فریقین میں سے ایک کی جانب جھکاؤ معلوم ہوتا ہے جو آداب قضاء کے خلاف ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ مدعی علیہ نے اس بات کا اقرار کرلیا تھا کہ واقعی میں نے اس شخص سے یہ سوال کیا ہے کہ اپنی دنبی مجھے دیدے اگر یہ صورت ہو تو پھر بھی یہ بات رہ جاتی ہے کہ قاعدہ کے مطابق مدعی علیہ سے فرمانا چاہیے تھا کہ تو نے اس پر ظلم کیا ہے بجائے اس سے خطاب کرنے کے مدعی سے فرمایا کہ اس شخص نے تجھ پر ظلم کیا یہ بھی ایک قسم کی مدعی کی تھوڑی سی طرف داری ہوئی جب یہ خیال آیا تو انہوں نے اسے امتحان کی بات سمجھا، بڑوں کی بڑی باتیں ہیں معمولی بات میں بھی ان کی گرفت ہوجاتی ہے اس لیے وہ استغفار کی طرف متوجہ ہوئے اور سجدہ میں گرپڑے اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا کہ ان کے لیے ہمارے ہاں نزدیکی ہے اور اچھا انجام ہے۔
یہ دونوں شخص جو مقدمہ لے کر آئے تھے اس کی واضح تصریح نہیں ملتی کہ یہ کون تھے ؟ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے (جو بےسند ہے) کہ یہ دونوں حضرت جبرائیل اور میکائیل ( علیہ السلام) تھے، اندر جانا چاہا تو چوکیداروں نے روکا، لہٰذا وہ دیوار کود کر ان کے پاس محراب میں تشریف لے گئے، یہ بات بعید نہیں ہے کہ یہ دونوں فرشتے ہوں کیونکہ اونچی دیوار تھی، پھلانگ کر تنہائی میں پہنچ جانا انسان کا کام نہیں ہے لیکن اگر یہ حضرات فرشتے تھے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کا دنبیوں سے کیا واسطہ اور جھگڑے سے کیا تعلق ! ملا اعلیٰ والے دنبیوں کے بارے میں کیوں جھگڑا کرنے لگے اور ننانوے دنبی والے نے ایک دنبی والے سے مطالبہ کیوں کیا کہ یہ ایک دنبی بھی مجھے دیدے اور نہ صرف یہ کہ سادگی کے ساتھ مطالبہ کیا بلکہ سختی کو استعمال کیا اگر یہ دونوں فرشتے تھے تو انہوں نے جھگڑا کیا تو وہ بھی حقیر دنیا کے لیے اور اگر جھگڑا ہوا ہی نہیں تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں یہ بات کیوں کہی کہ ہمارا آپس میں جھگڑا ہوا ہے یہ تو کذب بیانی ہوئی اور جھوٹا بیان ہوا جو گناہ کبیرہ ہے اور فرشتے تو ہر گناہ سے پاک ہیں۔
مفسرین نے اس کا یہ جواب لکھا ہے کہ یہ جھگڑا اور دعویٰ کسی حقیقت واقعیہ پر مبنی نہیں تھا بلکہ بطور فرض انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا تھا جس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو متنبہ کرنا مقصود تھا اس کے ذریعہ انہوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو امتحان میں ڈالنے کا ایک راستہ تھا۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) جس فتنہ میں مبتلا کیے گئے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے یوں نقل کیا گیا ہے جسے محدث حاکم نے مستدرک میں لکھا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کو ان کی خود پسندی نے امتحان میں مبتلا کیا جس کی صورت حال یوں بن گئی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا اللہ رات اور دن میں کوئی بھی ایسی خالی گھڑی نہیں گزرتی جس میں آل داؤد میں سے کوئی شخص نماز یا تسبیح یا تکبیر اور دیگر عبادات میں مشغول نہ ہوتا ہو، اللہ جل شانہٗ کو ان کی یہ بات ناگوار ہوئی اور ارشاد فرمایا کہ اے داؤد یہ سب کچھ میری ہی مدد سے ہے اگر میری مدد شامل حال نہ ہو تو تمہیں مذکورہ عبادت پر قدرت نہ ہو قسم ہے میرے جلال کی میں ایک دن تجھے تیرے ہی سپرد کرتا ہوں داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب مجھے وہ دن بتا دیجیے گا اس کے بعد اس خاص دن میں وہ فتنہ میں مبتلا کردئیے گئے۔ (مستدرک حاکم ص 433: ج 2 وقال صحیح الاسناد وأقرہ الذہبی) اس میں سبب فتنہ کا تو ذکر ہے لیکن فتنہ کا ذکر نہیں بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ جتنی دیر فرشتوں سے بات چیت ہوئی اتنی دیر میں چونکہ اللہ کے ذکر سے غافل رہے اس لیے انہوں نے اسے فتنہ سمجھ لیا گو قضاء کا کام اور فیصلے دینا بھی عبادت ہے لیکن چونکہ عبادت بلاواسطہ یعنی تسبیح و تہلیل سے غفلت ہوئی اس لیے انہوں نے اسے اپنے حق میں فتنہ سمجھ لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 38:23–25شرکاء مالیات کا عام طریقہ
حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دو شخصوں کے درمیان جو فیصلہ فرمایا صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی عام شرکاء کی ایک حالت بھی بتادی جنہیں خلطاء سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس دنیا میں بسنے والے لوگ جو آپس میں مل جل کر رہتے ہیں جن میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا تجارت میں یا کسب اموال کے دوسرے طریقوں میں ساجھا رہتا ہے عام طور سے یہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے رہتے ہیں جو خیانت وغیرہ کی صورت میں ہوتی ہے عام طور سے لوگوں کا یہی حال ہے ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے ہیں یہ لوگ اپنے شرکاء پر زیادتی نہیں کرتے لیکن ایسے لوگ زیادہ نہیں ہیں، یہ لوگ کمی کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بہت کام کی بات بتائی اور شرکاء کا ایک مزاج بتادیا اور درحقیقت شرکت میں کوئی دھندا کرنا بہت بڑے امتحان میں پڑنے کا ذریعہ ہے بات بات میں جھگڑے بھی اٹھتے رہتے ہیں اور خیانت کے مواقع بھی سامنے آتے رہتے ہیں، جو شخص خیانت سے بچ گیا بہت ہی مبارک ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے کہ میں دو شریکوں میں تیسرا ہوں (یعنی میری طرف سے ان کی مدد ہوتی رہتی ہے) جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک خیانت نہ کرے پھر جب دونوں میں سے کوئی شریک خیانت کرلیتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ (رواہ ابو داؤد) یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد ختم ہوجاتی ہے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک دعاء
حضرت داؤد (علیہ السلام) بہت بڑے ذاکر و عابد تھے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب داؤد (علیہ السلام) کی نماز تھی اور روزوں میں سب سے زیادہ محبوب داؤد (علیہ السلام) کے روزے تھے وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز میں کھڑے رہتے تھے اور آخری چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے (رواہ البخاری ص 486: ج 1) اور ایک روایت میں ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بےروزہ رہتے تھے اور جب دشمن سے بھڑ جاتے تھے تو پشت نہیں پھیرتے تھے۔ (ایضاً )
حضرت ابو دردا ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے ایک یہ دعاء بھی تھی اللھم انی اسألک حبک وحب من یحبک والعمل الذی یبلغنی حبک اللھم اجعل حبک احب الی من نفسی ومالی واھلی ومن المآء البادر (اے اللہ میں آپ سے آپ کی محبت کا اور ان لوگوں کی محبت کا جو آپ سے محبت کرتے ہیں اور اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے آپ کی محبت تک پہنچا دے اے اللہ آپ اپنی محبت کو مجھے اتنی زیادہ محبوب بنا دیجیے جو میری جان سے اور میرے مال سے اور میرے اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بڑھ کر مجھے محبوب ہو۔ (رواہ الترمذی و حسنہ کما فی المشکوٰۃ ص 220)
رسول اللہ ﷺ جب داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کرتے تھے تو یہ بات بیان فرمایا کرتے تھے کہ وہ انسانوں میں سب سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ (ایضاً )
حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کے ہنر سے کسب کرتے تھے، اسی میں سے کھاتے تھے (رواہ البخاری مرفوعاً ) اور ان کا ذریعہ کسب یہ تھا کہ لوہے کی زرہیں بناتے تھے انہیں فروخت کرکے اپنا خرچہ بھی چلاتے تھے اور فقراء مساکین پر بھی خرچ کرتے تھے۔
سورۂ صٓ کا سجدہ
سورة ص میں شوافع کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے حنفیہ کے نزدیک یہاں سجدہ تلاوت ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص میں سجدۂ تلاوت ادا کیا اور فرمایا کہ داؤد نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا، اور ہم اس سجدہ کو بطور شکر ادا کرتے ہیں۔ (رواہ النسائی کما فی المشکوٰۃ ص 49)
ایک مشہور قصہ کی تردید
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس جو دو شخص فیصلہ لے کر آئے تھے جن کا یہ فیصلہ ان کے امتحان کا سبب بنا اس کے بارے میں بعض کتابوں میں ایک ایسا قصہ لکھ دیا گیا ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت پر ان کی نظر پڑگئی تھی جس سے نکاح کرنے کا خیال پیدا ہوگیا اور اس خیال کے پیچھے ایسے پڑے کہ اس کے شوہر کو جہاد میں بھیج کر شہید کروانے کا راستہ نکالا اور جب وہ شہید ہوگیا تو آپ نے اس عورت سے نکاح کرلیا، یہ قصہ جھوٹا ہے جسے اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے حد یہ ہے کہ محدث حاکم نے بھی مستدرک (مستدرک ص 586، ص 587: ج 2) میں لکھ دیا اور تعجب ہے کہ حافظ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اسے ذکر کرکے سکوت اختیار کیا حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی بات کہے گا اور اس کا عقیدہ رکھے گا تو میں اس پر حد قذف کی دوہری سزا جاری کروں گا یعنی ایک سو ساٹھ (160) کوڑے لگاؤں گا۔ (روح المعانی ص 158: ج 23)
اور صاحب جلالین نے یوں لکھ دیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور اس شخص کی ایک بیوی تھی جس نے شکایت کی تھی۔
یہ قصہ بھی اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان کے خلاف بھی ہے اور کسی صحیح سند سے ثابت بھی نہیں ہے۔
Ayah 38:26حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت کا اعلان
اس آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا خطاب ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فرمایا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ اے داؤد ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا سو آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش نفس کا اتباع نہ کیجیے ورنہ یہ خواہش آپ کو اللہ کے راستہ سے ہٹا دے گی یوں تو ہر حاکم پر لازم ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھے لیکن خاص طور پر جسے اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا اور نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اس کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ حق اور حقیقت اور عدل و انصاف پر قائم رہے۔
اتباع ہویٰ کی مذمت
نیز یہ بھی خطاب فرمایا کہ آپ اتباع ہویٰ سے پرہیز کریں یعنی خواہش نفس کا اتباع نہ کریں ورنہ وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے ہٹا دے گی، درحقیقت دو ہی چیزیں ہیں اتباع ہدیٰ اور اتباع ہویٰ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو عمل کرنے کے لیے حکم ہو وہ ھدی یعنی ہدایت ہے اور اس کا اتباع کرنا لازمی ہے اور جو چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے نہ ہو اپنے نفس کے تقاضوں کے مطابق ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے خلاف ہو اس کا اتباع کرنا جائز نہیں ہے یہ نفس کا اتباع ہی تو ہے جو بندوں کو احکام شرعیہ سے روکتا ہے جو لوگ قاضی اور حاکم ہیں اور جج ہیں یہ لوگ خلاف شرع فیصلے کرجاتے ہیں، رشوت لے لیتے ہیں یا اپنے رشتے دار کی رشتہ داری کو دیکھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردیتے ہیں یہ اتباع ہویٰ ہی تو ہے سورة النساء میں فرمایا :
(یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا) (اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم رہنے والے اللہ کے لیے گواہی دینے والے رہو اگرچہ اپنی ہی ذات پر ہو یا والدین یا دوسرے رشتہ داروں کے مقابلہ میں ہو وہ شخص اگر امیر ہے تو اور غریب ہے تو دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو زیادہ تعلق ہے تو تم خواہش نفس کا اتباع مت کرنا کبھی تم حق سے ہٹ جاؤ) اور بہت سے حکام کسی کی دشمنی میں ظالمانہ فیصلہ دے دیتے ہیں سورة المائدہ میں اسی کو فرمایا (وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا) (اور کسی قوم کا بغض تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ )
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سوال فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سایہ کی طرف پہلے پہنچنے والے کون ہیں ؟ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں حق دیا جائے تو قبول کرلیں اور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو پوری طرح دے دیں اور لوگوں کے لیے اسی طرح فیصلے کریں جیسے اپنے لیے فیصلہ کرتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 322)
یہ اتباع ہویٰ ہی قرآن و حدیث کے احکام میں تاویل کرنے پر آمادہ کرتا ہے علماء سے بدظن کرتا ہے، زکوٰۃ نہ دینے کے لیے حیلے اور بہانے تراشتا ہے بےپردگی اور سود کو حلال کرنے کے لیے ایسے لوگوں کی تحریروں کی آڑ لیتا ہے جو اخلاص سے خالی ہیں تقویٰ سے دور ہیں بھرپور علم سے بعید ہیں، ننگے پہناوے، ناچ رنگ، نفس و نظر کی حرام لذت، جاہ و شہرت کی طلب اور مال کثیر کی رغبت شریعت کے خلاف عمل کرنے پر آمادہ کرنا اتباع ہویٰ ہی کا کام ہے، کسی بھی مرنے والے کی میراث شرعی وارثوں کو نہ دینا، بہنوں کو باپ کے ترکہ سے نہ دینا مزدور سے کام لے کر مزدوری نہ دینا یہ اور اسی طرح کی سینکڑوں چیزیں ہیں جنہیں انسان اتباع ہویٰ کی وجہ سے اختیار کرتا ہے اور احکام شرعیہ سے منہ موڑتا ہے جو لوگ ہدایت کا اتباع کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلنے ہی کو زندگی کا مقصد قرار دیتے ہیں اور جو حکم سنتے ہیں مان لیتے ہیں۔
خواہشوں کا اتباع گمراہ کردیتا ہے
یہ جو فرمایا (فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) اس میں یہ بتادیا کہ خواہشوں کا اتباع کرنا اللہ تعالیٰ کے راستہ سے ہٹا دیتا ہے جس طرح دنیاوی احکام میں نفس کی خواہشوں کے پیچھے چلنے کی وجہ سے قوانین شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہے اسی طرح امور آخرت میں بھی اتباع ہویٰ اللہ کے راستہ سے ہٹا دیتا ہے نام دین کا اور بزرگی کا ہوتا ہے لیکن کام شریعت کے خلاف ہوتے ہیں، یہ جو قبر پرستی ہے جھوٹی پیری مریدی ہے عرسوں کے خرافات ہیں اپنی طرف سے تجویز کردہ نفل نمازوں کی بدعات ہیں یہ سب اتباع ہویٰ کی وجہ سے ہے ان لوگوں کو عموماً اتباع سنت سے زیادہ بدعات پر چلنا زیادہ مرغوب ہے کیونکہ وہ ان کی اپنی نکالی ہوئی ہیں اور شیطان بھی ان کو بدعات پر ابھارتا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ ابلیس نے کہا کہ میں نے لوگوں کو گناہوں پر ڈال کر ہلاک کردیا اور انہوں نے مجھے استغفار کے ساتھ ہلاک کردیا، (یعنی میں گناہ کرواتا تھا وہ گناہ کرکے استغفار کرلیتے تھے جس سے میری محنت پر پانی پھرجاتا تھا) لہٰذا میں نے یہ کیا کہ ان کے لیے وہ چیزیں نکال لیں جو دین الٰہی میں نہیں ان کی خواہشوں کے مطابق انہیں وہ نیکی سمجھ کر کرتے ہیں لہٰذا وہ ان چیزوں سے توبہ نہیں کرتے (الترغیب والترہیب للحافظ المنذری) جب خواہشات نفس کا اتباع کریں گے اور ان اعمال کو نیکی سمجھ کر کریں گے تو توبہ نہ کریں گے لہٰذا عذاب میں مبتلا ہوں گے اور شیطان کا مقصد پورا ہوگا۔
گمراہ لوگ عذاب شدید کے مستحق ہیں
(اِِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ ) (بلاشبہ جو لوگ اللہ کی راہ سے ہٹتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے حساب کے دن کو بھول جانے کے سبب سے) اس میں اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹنے والوں کے لیے وعید بیان فرما دی اور یہ بھی بتادیا کہ یہ لوگ اس لیے مبتلا عذاب ہوں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے حساب کے دن کو بھول گئے تھے اس میں تعمیم ہے کہ اتباع ہویٰ کی وجہ سے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹا ہو یا اور کسی وجہ سے وہ عذاب شدید کا مستحق ہوا ہو ان گمراہیوں میں عام طور سے وہی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو قیامت کو نہیں مانتے، یا مانتے تو ہیں لیکن وہاں کی حاضری کا خیال نہیں رکھتے اور اسے بھول بھلیاں کیے رہتے ہیں اس لیے وہاں کے لیے تیاری نہیں کرتے اور اپنی جان کو مستحق عذاب بناتے رہتے ہیں۔
Ayahs 38:27–29مفسدین اور اعمال صالحہ والے، مؤمنین اور متقین اور فجار برابر نہیں ہوسکتے !
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے ان سے پہلے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا تھا اور عنقریب حضرت سلیمان اور ان کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر آ رہا ہے ان تین آیات میں بطور جملہ معترضہ توحید و رسالت اور معاد کو بیان فرمایا یہی تینوں چیزیں ہیں جن کی طرف قرآن کریم برابر دعوت دیتا ہے اور ان کے ماننے پر آخرت کی بھلائی کا وعدہ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اسے وجود بخشا یہ سب یوں ہی خواہ مخواہ اور بلا حکمت نہیں ہیں ان کے وجود کو دیکھ کر اول تو خالق کائنات جل مجدہٗ کی معرفت حاصل ہونا چاہیے اور پھر یہ بھی فکر کرنا چاہیے کہ ان چیزوں کے پیدا فرمانے میں حکمت کیا ہے ؟ دنیا میں انسان بھی اور دوسری مخلوق بھی ہے آپس میں رحم بھی ہے، مظالم بھی ہیں، لڑائی جھگڑے بھی ہیں قتل و خون بھی ہیں اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی ہیں اور کافر و مشرک بھی ہیں، موت بھی ہے اور حیات بھی ہے، یہ کارخانہ جو جاری اور ساری ہے خالق کائنات جل مجدہٗ نے اسے کیوں پیدا فرمایا اگر اس بات میں غور کیا جائے تو سمجھ میں آجائے کہ اس کارخانہ میں جو کچھ بھی ہے سب اللہ تعالیٰ شانہٗ کی حکمت پر مبنی ہے ایمان و کفر، خیر و شر کا سلسلہ جاری ہے لیکن ایک دن یہ دنیا ختم ہوجائے گی قیامت واقع ہوگی سب حاضر ہوں گے اس وقت اہل ایمان کو ایمان کی جزا اور اہل کفر کو کفر کی سزا دی جائے گی جو لوگ وقوع قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے نزدیک موت کے بعد اچھے یا برے اعمال کا بدلہ ملنے والا نہیں ہے ان کی بات کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ مومن ہیں متقی ہیں گناہوں سے بچتے ہیں وہ اور بڑے بڑے فاجر برابر ہوجائیں گے، یعنی نہ انہیں کوئی ثواب ملے گا نہ انہیں کوئی عذاب ملے گا ان لوگوں کا یہ گمان باطل ہے جو ان کے لیے ہلاکت اور بربادی کا سبب ہے اور وہ بربادی یہ ہوگی کہ یہ لوگ دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کا بڑا مرتبہ ہے یہ حضرات جنتی ہوں گے اور زمین میں فساد کرنے والے دوزخ میں جائیں گے اگر ان کافروں اور مفسدوں نے یہ سمجھا ہے کہ اہل ایمان کو نعمتیں نہ ملیں گی اور وہ ہماری طرح ہی ہوں گے مر کر ختم ہوجائیں گے یا یہ سمجھا ہے کہ جو نعمتیں انہیں ملیں گی ہمیں بھی مل جائیں گی یہ ان کی حماقت ہے۔ (یہاں تک توحید اور معاد کا بیان ہوا)
اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے آپ کی طرف ایک کتاب نازل کی ہے جو مبارک ہے اس کے ماننے اور پڑھنے پڑھانے اور اس پر عمل کرنے میں دنیا اور آخرت کی خیر ہی خیر ہے، آپ کے توسط سے جن لوگوں تک پہنچے ان کو چاہیے کہ اس کی آیات میں فکر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں تاکہ احکام شرعیہ کو جانیں اور ان پر عمل پیرا بھی ہوں۔
Ayahs 38:30–33حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ وہ اچھے بندہ تھے
حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مال اور دولت اور ملک اور حکومت سے نواز تھا اول ان کے بارے میں فرمایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) کہ وہ اچھے بندے تھے اور ساتھ ہی (اِنَّہٗ اَوَّابٌ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔
گھوڑوں کا پیش کیا جانا آخر میں متنبہ ہونا
اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے پاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے اندازہ یہی ہے کہ یہ گھوڑے جہاد کی ضرورت کے لیے پال رکھے تھے گھوڑے بھی اصیل تھے، اور عمدہ تھے صافناتٌ یہ صافنٌ کی جمع ہے صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو سامنے کے ایک پاؤں کو موڑ کر باقی تین پاؤں پر کھڑا ہو، اصیل گھڑوں کی یہ صفت بتائی جاتی ہے۔
ایک دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے معائنہ فرمانے کے لیے گھوڑوں کو طلب کیا آپ ان کے دیکھنے میں اتنے مشغول ہوئے کہ سورج چھپ گیا اس سے پہلے جو فرض یا نفل نماز پڑھا کرتے تھے وہ رہ گئی (اگر فرض نماز تھی تو بھولنے کی وجہ سے گناہ میں شمار نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ حاضرین میں سے کسی نے یاد بھی نہ دلایا ہو، اور اگر نفل نماز تھی تب تو اس کے چھوٹ جانے میں گناہ ہی نہیں) لیکن انہوں نے ہر حال میں اس نماز کے چھوٹنے کو اچھا نہ سمجھا ہو اور گو کہ گھوڑوں کی مشغولیت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے تھی لیکن پھر بھی چونکہ ذکر بالواسطہ ذکر حقیقی یعنی ذکر بالواسطہ سے غافل ہونے کا سبب بن گیا اس لیے جب مذکورہ نماز کے فوت ہوجانے کا احساس ہوا تو فرمایا کہ ان گھوڑوں کو واپس کرو جب گھوڑے واپس لوٹائے گئے تو انہیں ذبح کرنا شروع کردیا ان کی گردنیں تو کاٹی ہی تھیں پنڈلیاں بھی کاٹ دیں اور فرمایا کہ مال کی محبت نے مجھے اپنی طرف اتنا لگایا کہ اپنے رب کی طرف سے غافل ہوگیا یہ ذبح کرنا مال ضائع کرنے کے طور پر نہیں تھا بلکہ بطور قربانی کے تھا البتہ یہ اشکال رہ جاتا ہے کہ پنڈلیوں کو کیوں کاٹا ؟ یہ تو جانور کو بلاوجہ تکلیف دینا ہے اور احقر کے خیال میں یوں آتا ہے کہ گردنیں کاٹنے کے بعد پنڈلیاں کاٹی ہوں گی جب کہ ان کی جان نکل چکی ہوگی اور گھڑے میں چونکہ پنڈلی ہی اصل چیز ہے اس سے گھوڑا دوڑتا ہے اس لیے غیرت کے جوش میں پنڈلیاں بھی کاٹ دیں یعنی اس کام میں جلدی کردی ورنہ کھانے پینے کے لیے تو کاٹنا ہی تھا چونکہ تقدم ذکری تقدم عملی کو مستلزم نہیں ہے اس لیے یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ آیت شریفہ میں پہلے پنڈلیوں کا ذکر ہے یہاں رعایت فواصل کے لیے لفظ الاعناق کو مؤخر کردیا گیا ہے یہ بلاغت میں ہوتا رہتا ہے جیسا کہ سورة طٰہٰ میں (رَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُوْسٰی) فرمایا ہے اور دوسری جگہ (رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ ) فرمایا ہے۔