Ayah 38:1آیت 1 { صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ } ”ص ‘ قسم ہے اس قرآن کی جو ذکر والا ہے۔“
یہاں پر پہلے حرف یعنی صٓ پر آیت مکمل نہیں ہوئی بلکہ یہ حرف پہلی آیت کا حصہ ہے۔ اسی طرح سورة قٓ اور سورة نٓ کے آغاز میں بھی ایک ایک حرف ہے اور ان دونوں سورتوں میں بھی ایسا ہی ہے کہ اکیلا حرف پہلی آیت کا حصہ ہے نہ کہ الگ مستقل آیت۔ البتہ کئی سورتوں میں آغاز کے دو حروف پر آیت مکمل ہوجاتی ہے۔ مثلاً طٰہٰ ‘ یٰسٓ اور حٰمٓ مستقل آیات ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسی سورتیں بھی ہیں جن کے آغاز میں تین تین حروف مقطعات ہیں لیکن وہ حروف الگ آیت کی حیثیت سے نہیں بلکہ پہلی آیت کا حصہ ہیں۔ مثلاً الٓــــرٰ۔ اس کے برعکس بہت سی سورتوں کے آغاز میں تین حروف مقطعات ایک مکمل آیت کے طور پر بھی آئے ہیں ‘ مثلاً الٓـــــمّٓ۔ یہاں ان مثالوں سے دراصل یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ قرآن کے یہ معاملات توقیفی حضور ﷺ کے بتانے پر موقوف ہیں ‘ کسی کے اجتہاد یا گرامر کے کسی اصول سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ ”بیان القرآن“ کے آغاز میں تعارفِ قرآن کے عنوان کے تحت اس موضوع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
جہاں تک سورة صٓ کی پہلی آیت کے مضمون کا تعلق ہے اس میں ”ذکر والے“ قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سے پہلے ہم کئی ایسی آیات بھی پڑھ چکے ہیں جن میں قرآن کو ”الذِّکْر“ یا ”ذِکْر“ کہا گیا ہے۔ سورة الحجر کی یہ آیت اس حوالے سے بہت اہم ہے : { اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ ”یقینا ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : { لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ ”اے لوگو ! اب ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے ‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے !“ بہر حال ”ذکر“ کے معنی یاددہانی کے ہیں۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ میں القرآن ذی الذکرکا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن یاد دہانی reminding کا حامل ہے ‘ یاد دہانی سے معمور ہے۔
قرآن کی قسم کے بارے میں یہاں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس قسم کا ”مقسم علیہ“ محذوف ہے۔ یعنی ذکر والے قرآن کی قسم کس بات پر کھائی گئی ہے ‘ اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت قبل ازیں سورة یٰسٓ کی آیت 3 کے تحت یوں کی جا چکی ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں بھی قرآن کی قسم کے بعد اس قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے ‘ ان تمام مقامات پر سورة یٰسٓ کی آیت 3 ہی کو ان تمام قسموں کا مقسم علیہ تصور کیا جائے گا۔ سورة یٰسٓ کے آغاز میں قرآن کی قسم اور اس قسم کے مقسم علیہ کا ذکر یوں ہوا ہے : { یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ ”یٰسٓ‘ قسم ہے قرآن حکیم کی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقینا آپ مرسلین میں سے ہیں“۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے بعد بھی اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کے کلمات کو محذوف مانتے ہوئے پورے جملے کا مفہوم یوں تصور کیا جائے گا : ”اے محمد ﷺ یہ ذکر والا قرآن گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“
Ayah 38:2آیت 2 { بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ } ”لیکن جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے وہ غرور اور ضد میں مبتلا ہیں۔“
ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں ضدم ّضدا ایک موقف اختیار کرلیا ہے اور اب غرور اور جھوٹی اَنا کی وجہ سے اس پر اڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:3آیت 3 { کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ } ”کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے“
{ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ } ”تو عذابِ الٰہی کے وقت وہ لگے چیخنے ِچلانے ‘ حالانکہ تب خلاصی کا وقت نہیں رہا تھا۔“
اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور قانون کے مطابق کسی شخص کی موت کے آثار ظاہر ہونے کے بعد اس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب کسی قوم پر عذاب کے آثار ظاہر ہوجائیں تو اس وقت ان لوگوں کی اجتماعی توبہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اس قانون سے پوری انسانی تاریخ میں صرف قوم یونس علیہ السلام کو استثناء ملا تھا ‘ جس کا ذکر سورة یونس کی آیت 98 میں آیا ہے۔
Ayah 38:4آیت 4 { وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَ ہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ } ”اور انہیں بڑا تعجب ہوا ہے کہ ان کے پاس آیا ہے ایک خبردار کرنے والا ان ہی میں سے“
{ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ } ”اور کافر کہتے ہیں کہ یہ ساحر ہے ‘ کذاب ّہے۔“
یہ بہت سخت الفاظ ہیں ‘ لیکن قرآن نے مشرکین ِمکہ ّکے قول کے طور پر انہیں جوں کا توں نقل کیا ہے۔ ان الفاظ سے دراصل حضور ﷺ کی مخالفت کی اس کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے جو اس سورت کے نزول کے وقت مکہ کے ماحول میں پائی جاتی تھی۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے یہ معلومات اپنے حافظے میں پھر سے تازہ کرلیں کہ مکی سورتوں کے پچھلے گروپ کی آٹھ سورتیں الفرقان تا السجدۃ اور زیر مطالعہ گروپ کی تیرہ سورتیں سبا تا الاحقاف 4 نبوی ﷺ سے 8 نبوی ﷺ کے زمانے میں نازل ہوئیں۔ ان میں سے سورة الصّٰفّٰت البتہ اس دور کی سورت نہیں ہے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آیات پانچ رکوعوں میں 182 آیات ہیں اور ایک رکوع میں 53 آیات بھی ہیں اور تیز ردھم سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ ابتدائی دور کی سورت ہے۔ بہر حال ان سورتوں کا نزول جس دور 4 تا 8 نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہوا ‘ اس دور میں حضور ﷺ کی مخالفت بہت شدت اختیار کرچکی تھی اور اسی نسبت سے آپ ﷺ پر ہونے والے حملوں کی نوعیت میں بھی تبدیلی آچکی تھی۔ ابتدا میں تو اکثر لوگوں نے آپ ﷺ کی باتوں پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا تھا۔ اس لیے اس زمانے میں اگر کوئی شخص آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تو وہ آپ ﷺ کو مجنون وغیرہ کہہ دیتا ‘ بلکہ ابتدا میں تو بعض لوگوں کے ہاں اس حوالے سے آپ ﷺ کے ساتھ ہمدردی کا انداز بھی پایا جاتا تھا۔ اس وقت بعض لوگ تو واقعی سمجھتے تھے کہ غار حرا میں راتیں گزارنے کی وجہ سے آپ ﷺ پر کوئی آسیب وغیرہ آگیا ہے۔ چناچہ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ نے آپ ﷺ سے بہت ہمدردی کے انداز میں کہا تھا کہ اے میرے بھتیجے ! عرب کے بہت سے کاہنوں اور عاملوں کے ساتھ میرے تعلقات ہیں ‘ اگر تم کہو تو میں ان میں سے کسی کو بلا کر تمہارا علاج کرا دوں۔ البتہ جب مشرکین مکہ نے دیکھا کہ وہ آواز جس کو وہ محض ایک شخص کی پکار سمجھتے تھے اب گھر گھر میں گونجنے لگی ہے اور جس تحریک کو انہوں نے ایک مشت ِغبار سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا اب وہ ایک طوفان کا روپ دھار کر ان کے پورے معاشرے کو زیر و زبر کرنے والی ہے تو ان کی مخالفت میں بتدریج شدت آتی گئی۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ سٰحِرٌ کَذَّابٌ ایسے ہی شدید مخالفانہ جذبات کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔
Ayah 38:5آیت 5 { اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًاج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} ”کیا اس نے تمام معبودوں کو بس ایک معبود بنا دیا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے !“
جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے ‘ زیر مطالعہ گروپ کی ان سورتوں کا مرکزی مضمون توحید ہے جو اس آیت میں بڑے موثر اور زوردار انداز میں بیان ہوا ہے۔
Ayah 38:6آیت 6 { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ } ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“
یہ آیت لفظی تصویر کشی word picture کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہے۔ ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد مکہ کے مخصوص ماحول میں ایک مجمع کا نقشہ نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے ‘ جس سے رسول اللہ ﷺ خطاب فرما رہے ہیں۔ مجمع میں عام لوگوں کے ساتھ قریش کے چند سردار بھی موجود ہیں۔ سب لوگ حضور ﷺ کی باتیں بڑے دھیان سے سن رہے ہیں ‘ مگر تھوڑی دیر کے بعد ان کے سردار یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل پڑتے ہیں کہ چلو چلو یہاں سے ! تم لوگ کہاں کھڑے ہو ؟ کس کی باتیں سن رہے ہو ؟ کیا ان کے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے ؟ چھوڑو ان باتوں کو اور جائو اپنا اپنا کام کرو ! اور سنو ‘ ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان سب باتوں کے پیچھے ضرور ان کا کوئی مفاد پوشیدہ ہے۔ یہ دعوت تو اس غرض سے دی جارہی ہے کہ محمد ﷺ یہاں اپنا اقتدار قائم کر کے ہم پر حکم چلانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تم اپنے عقائد اور اپنے معبودوں کی پرستش پر مضبوطی سے جمے رہو اور ان باتوں پر دھیان مت دو !
Ayah 38:7آیت 7 { مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ } ”ہم نے ایسی کوئی بات پچھلے دین میں تو نہیں سنی ہے۔“
آخر ہمارا بھی اپنا ایک دین ہے جو ہم نے ورثے میں پایا ہے۔ پھر ہمارے باپ دادا کی روایات ہیں جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہیں۔ لیکن ہم نے ایسی باتیں اس سے پہلے نہ تو اپنے باپ دادا کے دین میں سنی ہیں اور نہ ہی پرانی روایات سے ان کی تصدیق ہوتی ہے۔
{ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔ ”یہ تو نہیں ہے مگر ایک گھڑی ہوئی چیز۔“
اختلاق ”خلق“ سے باب افتعال ہے۔ یعنی یہ کوئی خواہ مخواہ بنائی ہوئی چیز ہے۔
Ayah 38:8آیت 8 { ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْم بَیْنِنَا } ”کیا اسی پر نازل ہوا ہے یہ ذکر ہمارے درمیان ؟“
اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہے تو کیا یہ محمد ﷺ پر ہی نازل ہونا تھا ‘ کیا اس کے لیے اللہ کو ہمارے بڑے بڑے سرداروں اور سرمایہ داروں سے کوئی ”اعلیٰ شخصیت“ نظر نہیں آئی ؟
{ بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ } ”بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے معاملے میں شک میں پڑگئے ہیں۔“
{ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ } ”بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔“
اصل بات یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے میرے کسی عذاب کی مار نہیں چکھی ‘ اس لیے انہیں میرے اس کلام کے بارے میں شک ہے۔
Ayah 38:9آیت 9 { اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَہَّابِ } ”کیا ان کے اختیار میں ہیں آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ؟ جو بہت زبردست ‘ بہت عطا کرنے والا ہے۔“
کیا اللہ کی رحمت کے خزانوں کا اختیار ان لوگوں کے پاس ہے ؟ کیا اللہ ان لوگوں سے پوچھنے کا مکلف تھا کہ میں نبوت اور رسالت کے منصب پر کسے فائز کروں ؟
Ayah 38:10آیت 10 { اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَاقف } ”کیا ان کے پاس ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کی ؟“
{ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ } ”تو چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر آسمان پر۔“
اگر تمہارے لیے ممکن ہے تو اپنے تمام وسائل و ذرائع بروئے کار لا کر آسمان پر چڑھ جائو اور ربّ العالمین کی رحمت کے خزانوں اور اس کے اقتدار واختیار میں تصرف کر کے دکھائو !
Ayah 38:11آیت 11 { جُنْدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ } ”یہ بھی ایک لشکر ہے پہلے ہلاک کیے گئے لشکروں میں سے ‘ جواَب یہاں ہلاک ہوگا۔“
اگلی آیات میں قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم لوط علیہ السلام ‘ قوم شعیب علیہ السلام اور آلِ فرعون کے عبرتناک انجام کا ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ جو روش اختیار کر کے ماضی کی یہ اقوام ہلاکت سے دو چار ہوئیں ‘ وہی روش اب قریش ِمکہ ّبھی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی مذکورہ اقوام جیسے انجام سے دو چار ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔
Ayah 38:12آیت 12 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ } ”ان سے پہلے جھٹلایا تھا قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے۔“
کہا جاتا ہے کہ فرعون جب اپنے لشکروں کے ساتھ سفر کرتا تھا تو گھوڑوں اور خچروں کی ایک کثیر تعداد کو صرف خیموں کے کھونٹے اٹھانے کے لیے مختص کیا جاتا تھا ‘ اس لیے اسے فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ کہا گیا ہے۔ اس میں کثرت افواج کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 38:13آیت 13 { وَثَمُوْدُ وَقَوْمُ لُوْطٍ وَّاَصْحٰبُ لْئَیْکَۃِط اُولٰٓئِکَ الْاَحْزَابُ } ”اور قوم ثمود ‘ قوم لوط علیہ السلام اور َبن والوں قومِ شعیب علیہ السلام نے ‘ یہ ہیں وہ ہلاک ہونے والے لشکر !“
یعنی یہ تمام اقوام اس سے پہلے اللہ کے رسولوں علیہ السلام کو جھٹلا کر ہلاک ہوچکی ہیں۔
Ayah 38:14آیت 14 { اِنْ کُلٌّ اِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ } ”ان سب نے ہی رسولوں علیہ السلام کی تکذیب کی ‘ تو وہ میری سزا کے مستحق ہوگئے۔“
Ayah 38:15آیت 15 { وَمَا یَنْظُرُ ہٰٓؤُلَآئِ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَہَا مِنْ فَوَاقٍ } ”اور یہ لوگ بھی اب منتظر نہیں ہیں مگر صرف ایک چنگھاڑ کے جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔“
ماضی کی کئی اقوام پر اللہ کا عذاب ایک مسلسل تیز آواز اور چنگھاڑ کی صورت میں بھی آیا تھا۔ چناچہ اگر مشرکین ِمکہ ّاپنی ہٹ دھرمی پر اسی طرح قائم رہے تو ایسا ہی کوئی عذاب ان پر بھی آسکتا ہے۔ آج کی سائنس بھی تصدیق کرتی ہے کہ صوتی لہریں sound waves چونکہ انرجی ہی کی ایک قسم ہے ‘ اس لیے ایک انتہائی زور دار آواز کسی بھی مادی نظام کو درہم برہم کرنے اور ماحول میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم کو ہلاک کرنا چاہے تو یہ کام وہ صرف ایک زور دار آواز سے ہی کرسکتا ہے۔
Ayah 38:16آیت 16 { وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ } ”اور وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ ُ تو ہمیں جلدی دے دے ‘ یومِ حساب سے پہلے۔“
یعنی تو ہمارا حساب روز حساب سے پہلے ہی چکا دے ! قِطّ کے معنی حصہ بھی ہیں اور یہ حساب کے رجسٹر چٹھا کے لیے بھی بولاجاتا ہے ‘ جس میں کسی کاروبار کی آمدن اور خرچ کا سالانہ حساب کتاب لکھا جاتا ہے اور اس سے اس کاروبار کی سالانہ بچت یا نقصان کا پتا چلتا ہے۔
یہ بات مشرکین مکہ استہزائیہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ یہ جو محمد ﷺ ہمیں ڈراتے رہتے ہیں کہ ہمیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا ‘ پھر ہمارے ایک ایک عمل کا حساب ہوگا اور اس کے بعد ہمیں سزا دی جائے گی ‘ تو اے ہمارے پروردگار ! اس کے لیے یوم حساب ہی کا انتظار کیوں ؟ یہ کام ابھی کیوں نہ ہوجائے ! اس لیے بہتر ہوگا کہ تو ہمارا حساب کتاب ابھی کرلے اور ہمارا چٹھا Balace Sheet ابھی اسی زندگی میں ہی ہمارے ہاتھ میں تھما دے۔
Ayah 38:17آیت 17 { اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ } ”اے محمد ﷺ ! آپ صبرکیجیے اس پر جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں“
{ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِج اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ} ”اور آپ ﷺ تذکرہ کیجیے ہمارے بندے دائود کا جو بہت قوت والا تھا ‘ بیشک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا تھا۔“
Ayah 38:18آیت 18 { اِنَّاسَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ } ”ہم نے تو اس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا ‘ جو اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے شام کو بھی اور صبح کے وقت بھی۔“
Ayah 38:19آیت 19 { وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃًط کُلٌّ لَّہٗٓ اَوَّابٌ} ”اور پرندے بھی ‘ جو کہ جمع کردیے جاتے تھے۔ یہ سب کے سب اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔“
یعنی حضرت دائود علیہ السلام ‘ پہاڑ اور پرندے سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے ‘ یا یہ کہ پہاڑ اور پرندے حضرت دائود علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے تھے اور پھر حضرت دائود علیہ السلام ان سب کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس طرح وہ سب مل کر حضرت دائود علیہ السلام کی آواز میں آواز ملا کر اللہ کی حمد کے ترانے الا پتے تھے۔
Ayah 38:20آیت 20 { وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ } ”اور ہم نے اس کی حکومت کو خوب مضبوط کیا تھا ‘ اور ہم نے اسے حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بھی۔“
یعنی ایسی واضح ‘ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات جو تمام مخاطبین و متعلقین کے لیے موجب ِاطمینان ہو۔
اب آگے اس سورت میں چند ایسے واقعات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ دراصل ان واقعات کا بیان یہاں اشاروں کنایوں میں ہوا ہے۔ تفصیلات کی تحقیق کے لیے اگر ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں ان واقعات کے حوالے سے جو معلومات ملتی ہیں وہ انبیائِ کرام علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں۔ یوں ہمارے لیے شش و پنج کی سی صورت ِحال بن جاتی ہے۔ بہر حال ان واقعات کے مطالعے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں خطا یا لغزش کا کوئی معاملہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء و رسل علیہ السلام معصوم تھے ‘ لیکن انسان تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ ان میں کبھی غلطی کا رجحان ہی پیدا نہ ہوا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر وہ فرشتے ہوتے ‘ انسان نہ رہتے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندے ہونے کے سبب تمام انبیاء و رسل علیہ السلام ہر وقت اللہ کی حفاظت میں رہتے تھے۔ خود حضور ﷺ کی زندگی میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً کتب سیرت میں حضور ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ جوانی میں ظہورِنبوت سے پہلے دو مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی میلے میں جانے کا ارادہ کیا۔ عرب میں ہر سال بہت سے ایسے میلے لگتے تھے جن میں فحش گوئی اور لہو و لعب کا سامان بھی ہوتا تھا اور بےہودہ مشاعرے بھی سجائے جاتے تھے۔ ان میلوں میں عکاظ کا بازار بہت مشہور تھا جوہر سال خصوصی اہتمام سے سجتا تھا اور اس میں شرکت کے لیے پورے عرب سے لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ روایات کے مطابق آپ ﷺ نے دو مرتبہ ایسے کسی بازار یا میلے میں جانے کا ارادہ فرمایا ‘ مگر دونوں مرتبہ ایسا ہوا کہ راستے میں جہاں آپ ﷺ آرام کے لیے رکے ‘ وہاں آنکھ لگ گئی اور پھر ساری رات سوتے میں ہی گزر گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس لہو و لعب میں شریک ہونے سے آپ ﷺ کو کلیۃً محفوظ رکھا۔ اگرچہ یہ دونوں واقعات حضور ﷺ کے منصب ِنبوت پر فائز ہونے سے پہلے کے ہیں ‘ لیکن ایک نبی تو پیدائشی طور پر ہی نبی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں حضور ﷺ کا فرمان ہے : کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ 1 ”میں اس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام کی روح ابھی ان کے جسد میں نہیں پھونکی گئی تھی“۔ یعنی عالم ارواح میں بھی حضور ﷺ کی روح مبارک کی ایک خصوصی امتیازی شان تھی۔ بہر حال آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر میں ہوا لیکن آپ ﷺ بچپن سے ہی براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے اور اس حفاظت کا مطلب یہی ہے کہ بشری سطح پر اگر کبھی کوئی غلط ارادہ پیدا ہو بھی گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر عمل کی نوبت نہ آنے دی۔
آئندہ آیات میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس کی جو تفصیل محرف شدہ تورات میں ملتی ہے اس میں حضرت دائود علیہ السلام پر بہت شرمناک الزامات عائد کیے گئے ہیں ‘ جو عصمت ِ انبیاء کے یکسر منافی ہیں۔ قرآن حکیم کے اشارات سے اصل بات یوں معلوم ہوتی ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں واضح رہے کہ چار بیویوں کی پابندی شریعت ِمحمدی ﷺ میں ہے ‘ اس سے قبل ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام کے دل میں ایک ایسی عورت سے نکاح کی رغبت پیدا ہوئی جو کسی دوسرے شخص کے نکاح میں تھی۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس پر متنبہ فرمایا اور اس سے روکنے کی ایک صورت پیدا فرما دی۔
Ayah 38:21آیت 21 { وَہَلْ اَتٰٹکَ نَبَؤُا الْخَصْمِ } ”اور کیا آپ کے پاس خبر آئی ہے جھگڑنے والوں کی ؟“
یہ ایک مقدمہ تھا جو دو دعویداروں نے فیصلے کے لیے حضرت دائود علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔
{ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ } ”جب وہ دیوار پھلانگ کر محراب میں داخل ہوگئے۔“
حضرت دائود علیہ السلام تنہائی میں محو عبادت تھے کہ دو اشخاص اچانک آپ علیہ السلام کے حجرے میں آدھمکے۔
Ayah 38:22آیت 22 { اِذْ دَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ } ”جب وہ دائود علیہ السلام کے پاس آئے تو وہ ان سے ڈرا۔“
تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود دو افراد کا آپ علیہ السلام کی خلوت گاہ میں اچانک در آنا ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ چناچہ آپ علیہ السلام کو بجا طور پر تشویش ہوئی کہ نہ معلوم یہ لوگ کس نیت سے آئے ہیں۔
{ قَالُوْا لَا تَخَفْج خَصْمٰنِ بَغٰی بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ } ”انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ‘ ہم دو مخالف فریق ہیں ‘ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے“
عربی میں ”خصم“ سے مراد وہ شخص ہے جو کسی کے بالمقابل ہو ‘ یعنی دشمن یا مخالف فریق۔
{ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِط } ”تو آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے اور آپ اسے ٹالیے نہیں“
یعنی یہ مقدمہ ہمارے لیے بہت اہم ہے اور ہم اس کا فوری طور پر فیصلہ چاہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام اسے کسی اور وقت پر نہ ٹال دیجیے گا۔
{ وَاہْدِنَآ اِلٰی سَوَآئِ الصِّرَاطِ } ”اور سیدھی راہ کی طرف ہماری راہنمائی کیجیے۔“
ہمارے بیانات سن کر آپ علیہ السلام ہمیں درست لائحہ عمل اختیار کرنے کی ہدایت فرمائیں۔ چناچہ ان میں سے جو مدعی تھا اس نے اپنا مقدمہ اس طرح پیش کیا :ـ
Ayah 38:23آیت 23 { اِنَّ ہٰذَآ اَخِیْقف لَہٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌقف } ”یہ میرا بھائی ہے ‘ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک ہی دنبی ہے۔“
اگر ہم اس کی توجیہہ تورات کے مطابق کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مدعی نے کنائے کے انداز میں بات کی۔ وہ دراصل یہ کہنا چاہتا تھا کہ میری ایک ہی بیوی ہے جبکہ میرے مخالف کی ننانوے بیویاں ہیں۔
{ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْہَا وَعَزَّنِیْ فِی الْْخِطَابِ } ”اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دو ‘ اور گفتگو میں اس نے مجھے دبا لیا ہے۔“
Ayah 38:24آیت 24 { قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ } ”دائود علیہ السلام نے کہا کہ یہ تو واقعتا اس نے بہت ظلم کیا ہے ‘ تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے۔“
{ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآئِ لَیَبْغِیْ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ } ”اور یقینا مشترک معاملہ رکھنے والوں میں سے اکثر ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں“
قریبی رشتہ داروں کے باہمی اشتراک کو پنجابی میں ”شریکا“ کہا جاتا ہے اور شری کے والوں میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جس کسی کو جہاں موقع ملتا ہے وہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرنے میں نہیں چوکتا۔
{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا ہُمْ } ”سوائے ان لوگوں کے جو صاحب ِ ایمان اور نیک عمل والے ہوں اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔“
{ وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ } ”اور دائود علیہ السلام کو اچانک خیال آیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے“
حضرت دائود علیہ السلام سمجھ گئے کہ ان دو اشخاص کا ان کے پاس آنا اور آکر مقدمہ پیش کرنا اللہ کی طرف سے تھا اور اللہ نے یہ ساری صورت حال انہیں متنبہ کرنے کے لیے پیدا فرمائی تھی۔
{ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاکِعًا وَّاَنَابَ } ”تو اس نے فوراً اپنے رب سے استغفار کیا اور اس کے حضور جھک گیا پوری طرح متوجہ ہو کر۔“
رکوع کے لغوی معنی جھکنے کے ہیں ‘ لہٰذا یہاں رَاکِعًا سے رکوع بھی مراد ہوسکتا ہے اور سجدہ بھی۔
اس واقعہ کے حوالے سے جو اسرائیلی روایت دستیاب ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رض کا ایک اثر قول بھی موجود ہے جس کے مرفوع ہونے کے بارے میں کوئی واضح اشارہ یا ثبوت موجود نہیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے حضور ﷺ سے اس بارے میں سنا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اسرائیلی روایت سنی ہو اور اسی کو بیان کردیا ہو واللہ اعلم۔ بہر حال میری رائے اس حوالے سے یہی ہے کہ انبیاء کے معاملے میں بشری تقاضوں کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ سورة الاحزاب کی آیت 52 ہم پڑھ چکے ہیں ‘ جس میں حضور ﷺ سے فرمایا گیا ہے : { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْم بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ } ”اس کے بعد اب مزید عورتیں آپ ﷺ کے لیے نکاح میں لانا جائز نہیں اور نہ یہ کہ آپ ان کی جگہ دوسری بیویاں بدل لیں اگرچہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو !“ ان الفاظ میں حضور ﷺ کی خواہش کے امکان کا ذکر بہت واضح انداز میں ملتا ہے کہ اگر آپ ﷺ کی طبیعت میں کسی خاتون سے نکاح کرنے کے بارے میں آمادگی پیدا ہو بھی جائے تو بھی آپ ﷺ ایسا نہ کریں۔ چناچہ اس سے یہی ثا بت ہوتا ہے کہ انبیاء انسان تھے اور ان کی شخصیات میں انسانی و بشری تقاضے بھی موجود تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بھی وہ معصوم تھے۔ اس لیے کہ اگر کبھی کسی بشری تقاضے کے تحت کسی نبی کو کوئی ایسا خیال آتا بھی تھا جو کہ نہیں آنا چاہیے تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا اور اس خیال کی تکمیل کی صورت پیدا نہیں ہونے دیتا تھا۔ اسی کا نام عصمت ِانبیاء ہے۔
Ayah 38:25آیت 25 { فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”تو ہم نے اسے معاف کردیا۔ اور یقینا ہمارے پاس اس کے لیے مقام قرب اور اچھا انجام ہے۔“
جب وہ ہمارے پاس لوٹ کر آئے گا تو ہم اسے بہت اعلیٰ مقام عطا کریں گے۔
Ayah 38:26آیت 26 { یٰـدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ } ”ہم نے کہا : اے دائود علیہ السلام ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے ‘ لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو“
{ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”اور دیکھو ! اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔“
{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌم بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ } ”یقینا وہ لوگ جو بھٹک جاتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے بڑا سخت عذاب ہے ‘ بسبب اس کے کہ وہ بھول گئے حساب کے دن کو۔“
اگر حساب کا دن یاد رہے اور آخرت کی زندگی کا یقین دل میں موجود ہو تو انسان راہ راست پر رہتا ہے۔
Ayah 38:27آیت 27 { وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا بَاطِلًا } ”اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے ‘ اسے بےکار پیدا نہیں کیا۔“
یہ مضمون قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے اور سورة آل عمران کی آیت 191 میں تو اسی لفظ باطل کے ساتھ آیا ہے : { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } ”اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےکار پیدا نہیں کیا ‘ تو ُ پاک ہے ‘ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے !“ سورة المو منون میں یوں فرمایا گیا ہے : { اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ } ”کیا تم نے سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے !“ مطلب یہ کہ عبث اور بےکار کام کرنا اللہ کی شان سے بہت بعید ہے۔
{ ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ } ”یہ گمان تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کفر کیا ‘ پس ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے آگ کی۔“
Ayah 38:28آیت 28 { اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ } ”کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کردیں گے ؟“
ظاہر ہے دنیا میں کچھ لوگ نیکو کار ہیں جو اکثر بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہتے ہیں ‘ جبکہ کچھ لوگ بدمعاش ‘ ظالم اور شریر ہیں جو ہر وقت بد امنی پھیلانے اور لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انسان کے لیے اسی دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہوتی اور آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک لوگ اور مجرمین ایک جیسے ہوجاتے۔ یوں نہ تو نیکی کے راستے پر چلنے ‘ غلط کاریوں سے بچنے اور قدم قدم پر مشکلات برداشت کرنے والوں کو کوئی جزا ملتی اور نہ ہی ان ظالموں ‘ قاتلوں اور لٹیروں کو کوئی سزا ملتی جو خلق خدا پر ظلم بھی کرتے رہے اور عیش و عشرت کے مزے بھی لوٹتے رہے۔ بلکہ ایسی صورت میں نیکوں کار لوگ سخت گھاٹے میں رہتے کہ انہوں نے ساری زندگی تکلیفوں اور پابندیوں میں گزاردی اور اس کا کچھ اجر بھی انہیں نہ ملا۔ اس کے برعکس بدکردار اور بد قماش لوگ فائدے میں رہتے کہ انہوں نے عمر بھر جو چاہا کیا ‘ نہ جائز و ناجائز کو دیکھا اور نہ ہی خود کو کبھی قانون اور اخلاقیات scruples کا پابند سمجھا اور پھر اس کی پاداش میں انہیں کوئی سزا بھی نہ ملی۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہوتا کہ یہ دنیا بےکار پیدا ہوئی ہے اور انسان کی جبلت ّمیں جو اخلاقی ِحس اور نیکی و بدی کی جو تمیز پیدا کی گئی ہے وہ بھی بےمقصد اور بےجواز ہے ‘ کیونکہ اس تمیز اور حس کے مطابق تو نیکی کا نتیجہ اچھا اور برائی کا انجام برا ہونا چاہیے۔ اگر نظریاتی طور پر آخرت کی نفی ہوجائے تو یہ سب نتائج الٹے ہوجاتے ہیں۔
{ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ ”کیا ہم متقیوں کو فاجروں کی طرح کردیں گے ؟“
کیا ہم اپنے متقی بندوں کو ان فاسقوں اور فاجروں کے برابر کردیں گے ؟
Ayah 38:29آیت 29 { کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ} ”اے نبی ﷺ ! یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے“
عربی میں اَلْـبَرَکَۃ کسی چیز میں سے اس کے خیر کو نکالنے والے عامل کو کہتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کی مثال لیں جس کے اندربالقوۃ ُ potentially کوئی مثبت صلاحیت یا اہلیت موجود ہے مگر چونکہ اس کی وہ صلاحیت غیر فعال dormant ہے اس لیے نہ تو اسے اس کا شعور ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چناچہ اگر کوئی واقعہ یا کسی دوسرے شخص کا کوئی عمل یا کسی کی کوئی نصیحت اسے اس صلاحیت کا احساس دلا دے اور وہ اسے بروئے کار لانا شروع کر دے تو وہ واقعہ یا عمل گویا اس کے لیے برکت کا باعث بن گیا۔ اسی مفہوم میں بارش کے پانی کو قرآن میں مآئً مُبٰرَکاً قٓ: 9 کہا گیا ہے۔ اس پانی کی برکت کا مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ زمین میں روئیدگی کی صلاحیت تو بالقوہ potentially موجود ہے مگر خشک اور بےآب وگیاہ زمین میں مختلف قسم کے بیشمار بیج ُ خفتہ dormant حالت میں بیکار پڑے رہتے ہیں۔ جب بارش کا پانی اس زمین کو سیراب کرتا ہے تو اس کے اندر جذب کا عمل osmosis شروع ہوتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کے اندر موجود بیجوں کی قوت نمو کو انگیخت ملتی ہے ‘ زمین کی خفتہ قوت یا صلاحیت بھی فعال ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں۔ تو اس طرح گویا خشک زمین کے لیے بارش کا پانی مبارک یا باعث برکت ثابت ہوا۔
لفظ بَرَکۃ سے متعلق اس وضاحت کی روشنی میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی روح کی نشوونما کے لیے غذا فراہم کرتی ہے اور روح کے اندر موجود خیر اور نیکی کی غیرفعال dormant صلاحیت کو انگیخت دے کر اسے عمل صالح کے صدور کے قابل بناتی ہے۔ علامہ اقبالؔ نے انسان کو اس کی روح کی اہمیت کا احساس ان الفاظ میں دلایا ہے : ؎
ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل تو نرا صاحب ِادراک نہیں ہے !
{ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”تاکہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ہوش مند لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔“
Ayah 38:30آیت 30 { وَوَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا۔“
{ نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۔ } ”وہ بہت ہی اچھا بندہ تھا۔ بیشک وہ ہماری طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔“
Ayah 38:31آیت 31 { اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ } ”جب اس کے سامنے پیش کیے گئے شام کے وقت عمدہ نسل کے اصیل گھوڑے۔“
اس سے پہلے ہم سورة النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے عظیم الشان لشکروں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے لشکروں میں انسانوں کے علاوہ ِجن اور پرندے بھی تھے اور ان سب کو الگ الگ رجمنٹس regiments اور دستوں میں منظم کیا گیا تھا۔ اسی طرح سوار فوج cavalry کی اہمیت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اپنے لشکر میں اعلیٰ نسل کے اصیل اور تیز رو گھوڑوں کے دستوں کا اہتمام بھی کر رکھا تھا اور اس زمانے میں اصل فوجی طاقت یہی گھوڑے ہوا کرتے تھے۔ سورة النمل کی متعلقہ آیات کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی افواج کے مختلف دستوں کے باقاعدہ معائنے inspection parade کا اہتمام بھی فرمایا کرتے تھے : { وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ } ”اور جمع کیے گئے سلیمان علیہ السلام کے معائنہ کے لیے اس کے لشکر جنوں ‘ انسانوں اور پرندوں میں سے ‘ اس طرح کہ انہیں جماعتوں میں منظم کیا گیا تھا“۔ چناچہ ایسے ہی کسی معائنہ کے لیے ایک سہ پہر آپ علیہ السلام کے سامنے گھوڑوں کے دستے پیش کیے گئے۔ اس مصروفیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام ایسے مشغول ہوئے کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ علیہ السلام کی نماز عصر قضا ہوگئی ‘ جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر حضور ﷺ کی بھی نماز عصر قضا ہوگئی تھی۔ اس پر حضور ﷺ نے کافروں پر بایں الفاظ بددعا فرمائی تھی : مَلاَ َٔاللّٰہُ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا 1 ”اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے“۔ بہر حال گھوڑوں کی مشغولیت کی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی نماز عصر قضا ہوگئی جس کا آپ علیہ السلام کو بیحد افسوس ہوا۔
Ayah 38:32آیت 32 { فَقَالَ اِنِّیْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ } ”تو اس نے کہا کہ میں نے پسند کرلیا مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر کے مقابلے میں !“
حُبَّ الْخَیْرِ سے مال و دولت یعنی گھوڑوں کی محبت مراد ہے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اس قدر مشغول ہوگیا کہ اپنے رب کے ذکرکو بھول گیا۔ اپنے ربّ کی یاد سے غافل ہوگیا۔
{ حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ } ”یہاں تک کہ سور ج چھپ گیا اوٹ میں۔“
یہاں پر تَوَارَتْ کے بعد الشَمْس سور ج کا لفظ گویا محذوف ہے۔
Ayah 38:33آیت 33 { رُدُّوْہَا عَلَیَّط فَطَفِقَ مَسْحًام بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ } ”تو اس نے کہا : واپس لائو ان کو میرے پاس ! تو اب وہ لگا تلوار مارنے ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر۔“
یعنی آپ علیہ السلام کو نماز قضا ہونے کا اس قدر افسوس تھا کہ آپ علیہ السلام نے گھوڑوں کو واپس منگوایا اور شدید تاثر اور مغلوبیت کی کیفیت میں ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر تلوار سے وار کرنا شروع کردیے۔ یہاں پر بعض مفسرین نے مَسْحًاسے ”ہاتھ پھیرنا“ مراد لے کر آیت کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دراصل گھوڑوں کی کارکردگی سے خوش ہو کر انہیں واپس منگوایا تھا اور جب گھوڑے واپس لائے گئے تو آپ علیہ السلام ان کی گردنوں اور ٹانگوں کو پیار سے سہلاتے رہے ‘ یعنی ان سے اظہارِ محبت کے طور پر ان پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ لیکن آیت کے الفاظ اور سیاق وسباق کے مطابق پہلا مفہوم ہی درست معلوم ہوتا ہے۔
یہاں پر اس نکتہ کی وضاحت بھی بہت ضروری ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا مذکورہ عمل دراصل غلبہ حال کے تحت تھا۔ جیسے حضرت عمر رض غزوئہ اُحد میں رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر تلوار پھینک کر بیٹھ گئے تھے کہ اب کس کے لیے لڑنا ہے ؟ حالانکہ اُن رض کا جہاد و قتال تو اللہ کے لیے تھا ‘ نہ کہ حضرت محمد ﷺ کے لیے۔ اسی طرح حضور ﷺ کے انتقال کے موقع پر بھی حضرت عمر رض نے غلبہ حال کے سبب تلوار کھینچ لی کہ جس کسی نے کہا کہ حضور ﷺ انتقال کر گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اس انتہائی نازک صورت حال کو حضرت ابوبکر صدیق رض نے سنبھالا۔ آپ رض نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَد مَاتَ ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ ”جو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوچکا ہے اور جو کوئی اللہ کی بندگی کرتا تھا تو وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت واقع نہیں ہوگی“۔ اس کے بعد آپ رض نے سورة آلِ عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْط } آیت 144 1۔ بہرحال غلبہ حال کی کیفیت میں کبھی کبھی بڑی شخصیات سے بھی غیر معمولی افعال اور غیر متوقع رویے کا صدور ہوجاتا ہے۔ چناچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنی نماز قضا ہونے کے رنج میں غلبہ حال کی غیر معمولی کیفیت کے تحت گھوڑوں پر تلوار سے وار کرنا بعید از فہم نہیں ہے۔
Ayah 38:34آیت 34 { وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ } ”اور اسی طرح ہم نے آزمائش میں ڈالا سلیمان علیہ السلام کو ‘ اور اس کے تخت پر ہم نے ایک جسد ڈال دیا ‘ پھر اس نے رجوع کیا۔“
اس واقعہ کے بارے میں ایک مرفوع حدیث موجود ہے۔ واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنے سپہ سالاروں سے غصے کی کیفیت میں کہا کہ تم مت سمجھو کہ میرا اقتدار اور میری طاقت تم لوگوں کے بل پر قائم ہے۔ میں آج رات اپنی تمام بیویوں کے پاس جائوں گا اور ان سب سے بیٹے پیدا ہوں گے جو بڑے ہو کر میرے دست بازو بنیں گے۔ لیکن آپ علیہ السلام یہ کہتے ہوئے ”ان شاء اللہ“ کہنا بھول گئے۔ چناچہ آپ علیہ السلام کی تمام ازواج میں سے صرف ایک کو حمل ہوا اور اس حمل سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا جو دایہ نے لا کر آپ علیہ السلام کے تخت پر رکھ دیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو بات کہی تھی اس کا شاید دربار میں چرچا بھی ہوگیا تھا ‘ چناچہ اس موقع پر انہیں سبکی بھی اٹھانی پڑی۔
ایسا ہی معاملہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ آپ ﷺ سے مشرکین مکہ نے اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو ان کے بارے میں کل بتائوں گا۔ مگر یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ ”ان شاء اللہ“ کہنا بھول گئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام روزانہ ہی آپ ﷺ کے پاس آتے تھے اور آپ ﷺ کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ راہنمائی کے لیے وحی بھیج دیں گے ‘ مگر اس کے بعد کئی روز تک وحی نہیں آئی۔ ظاہر ہے یہ صورت حال آپ ﷺ کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ مشرکین بار بار آپ ﷺ کے پاس آکر مطالبہ کرتے ہوں گے اور تالیاں پیٹتے ہوں گے کہ کیا ہوا آپ ﷺ کے علم کو ؟ اور کہاں رہ گئی آپ ﷺ کی وحی ؟ پھر جب کئی روز کے بعد سورة الکہف نازل ہوئی تو اس میں مذکورہ سوالات کے جوابات کے ساتھ یہ آیات بھی نازل ہوئیں : { وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا۔ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُز وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ وَقُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّہْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ ہٰذَا رَشَدًا۔ ”اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہیں کہ میں یہ کام کل ضرور کر دوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے ! اور اپنے رب کو یاد کر لیاکیجیے جب آپ بھول جائیں اور کہیے : ہوسکتا ہے کہ میرا رب میری راہنمائی کر دے اس سے بہتر بھلائی کی طرف۔“
ایسے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے مقرب بندوں کا چھوٹی چھوٹی فروگزاشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواخذہ ہوتا ہے ‘ جبکہ عام لوگوں کی بڑی بڑی غلطیوں کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام مذکورہ بات کہتے ہوئے ”ان شاء اللہ“ کہنا بھول گئے۔ بلکہ روایت میں تو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر فرشتے نے آپ علیہ السلام کو یاد بھی کرایا مگر جذبات کی کیفیت میں آپ علیہ السلام اس کا اہتمام نہ کرسکے۔ البتہ تنبیہہ کے بعد پر آپ علیہ السلام نے فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیا۔
Ayah 38:35آیت 35 { قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ } ”اس نے دعا کی : پروردگار ! مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہ ہو ‘ یقینا تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔“
چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرماتے ہوئے آپ علیہ السلام کو ِجنوں ‘ پرندوں اور ہوائوں پر بھی حکومت عطا فرمائی اور ایسی حکومت آپ علیہ السلام کے بعد پھر کسی اور کو نصیب نہ ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے والد حضرت دائود علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی انعامات اور احسانات فرمائے تھے ان کے بارے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جذباتِ شکر کا اظہار آپ علیہ السلام کی اس دعا سے بھی ہوتا ہے : { وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ۔ النمل ”اور اس نے دعا کی : پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر ادا کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور یہ کہ میں اچھے اعمال کروں جن سے تو راضی ہو ‘ اور مجھے داخل کرنا اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں۔“
Ayah 38:36آیت 36 { فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآئً حَیْثُ اَصَابَ } ”تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو بھی مسخر کردیا ‘ وہ اس کے حکم سے چلتی تھی بہت نرمی سے ‘ جہاں کہیں کا وہ قصد کرتا۔“
ہوا کے چلنے کا رخ متعین کرنا بھی آپ علیہ السلام کے اختیار میں تھا۔ چناچہ ہوا آپ علیہ السلام کی مرضی سے آپ علیہ السلام کو اور آپ علیہ السلام کے سفیروں کو خشکی اور سمندر کی مسافتیں طے کراتی تھی۔
Ayah 38:37آیت 37 { وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآئٍ وَّغَوَّاصٍ } ”اور سرکش ِجنات ّکو بھی ہم نے مسخر کردیا تھا سب کے سب عمارتیں بنانے والوں اور غوطہ خوروں کو۔“
حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے یہ جنات بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے اور سمندر کی تہہ سے موتی اور دیگر اشیاء نکالتے تھے۔ -۔ -۔ -۔ - بَنَّـائ کے معنی معمار کے ہیں۔ حسن البناء شہید بھی اسی وجہ سے ”البناء“ کہلاتے تھے کہ ان کا تعلق ایک معمار خاندان سے تھا۔ عرب معاشرے میں کسی بھی پیشے کو حقیر یا باعث عار نہیں سمجھا جاتا۔ بقول غالب ع ”پیشے کو عیب نہیں ‘ رکھیے نہ فرہاد کو نام !“ چناچہ عربوں کے ہاں اگر کسی شخص کے آباء و اَجداد حرم میں لوگوں کو پانی پلایا کرتے تھے تو وہ آج بھی ”سقّاء“ کہلاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کا تعلق نانبائیوں کے خاندان سے ہے تو وہ ”خباز“ کہلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔
Ayah 38:38آیت 38 { وَّاٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ } ”اور دوسرے ِجنات ّکو بھی جو جکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں۔“
یعنی کچھ جنات کو تو آپ علیہ السلام نے کام پر لگایا ہوتا تھا جبکہ بعض دوسروں کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا تھا کہ کہیں اچانک ضرورت پڑنے پر ان سے کام لیا جاسکے۔
Ayah 38:39آیت 39 { ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”یہ ہماری عطا ہے ‘ پس تم چاہو تو لوگوں پر احسان کرو یا اپنے پاس روکے رکھو ‘ اس پر کوئی حساب نہیں۔“
ہم نے سلیمان علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ ہم نے جو نعمتیں تمہیں عطا کر رکھی ہیں ان میں سے جو چاہو لوگوں میں تقسیم کرو اور جو چاہو اپنے پاس رکھو۔ نیز جس کو چاہو دو اور جس کو چاہو نہ دو۔ اس معاملے میں آپ علیہ السلام سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔
Ayah 38:40آیت 40 { وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”اور اس کے لیے ہمارے پاس مقام قرب بھی ہے اور بہت عمدہ ٹھکانہ بھی۔“
جب وہ علیہ السلام لوٹ کر ہمارے پاس آئے گا تو اسے مقام قرب ‘ بہت بلند مراتب اور بڑے بڑے انعامات سے نوازا جائے گا۔