Ayah 38:41آیت 41 { وَاذْکُرْ عَبْدَنَآ اَیُّوْبَ 7 اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ } ”اور ذرا یاد کیجیے ہمارے بندے ایوب علیہ السلام کو ‘ جبکہ اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔“
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اور ان کا صبر مشہور ہے۔ آپ علیہ السلام کسی جلدی مرض میں مبتلا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کا سارا جسم گل گیا تھا۔ مال و دولت بھی سب جاتا رہا ‘ اعزہ و اقرباء منہ موڑ گئے ‘ آل و اولاد میں سے کچھ فوت ہوگئے اور کچھ آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ آخر کار ایک بیوی ساتھ رہ گئی تھی جو اس بیماری سے اکتانے لگی۔ واضح رہے کہ شر یا ایذاوغیرہ کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ شیطان کو تکلیف پہنچانے کی قدرت حاصل ہے۔ آپ علیہ السلام نے انتہائی کس مپرسی کی حالت میں مذکورہ بالا دعا کی تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayah 38:42آیت 42 { اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّشَرَابٌ} ”ذرا اپنا پائوں زمین پر مارو ‘ یہ چشمہ جو جاری ہوا ہے ٹھنڈا پانی ہے غسل کے لیے ہے اور پینے کے لیے۔“
آپ علیہ السلام کے ایڑی مارنے پر زمین سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا۔ اس پانی میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے ایسی شفا رکھ دی کہ اس سے نہانے اور اس کو پینے سے آپ علیہ السلام صحت یاب ہوگئے۔ ممکن ہے اس پانی میں گندھک کے اثرات ہوں۔ ایسے چشمے بعض مقامات پر آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں جن میں نہانے سے جلدی امراض کے مریض شفایاب ہوجاتے ہیں۔
Ayah 38:43آیت 43 { وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ } ”اور ہم نے اسے اس کے اہل و عیال بھی عطا کردیے اور ان کے ساتھ ویسے ہی اہل و عیال مزید بھی دیے“
یعنی آپ علیہ السلام کے اہل و عیال آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مزید اولاد سے بھی نوازا۔
{ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”یہ سب ہماری طرف سے رحمت کا مظہر تھا ‘ اور یاددہانی تھی ہوش مند لوگوں کے لیے۔“
Ayah 38:44آیت 44 { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ } ”اور تم لے لو اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک ُ مٹھا ‘ تو اس سے ایک ضرب لگا دو ‘ اور قسم نہ توڑو !“
حضرت ایوب علیہ السلام کسی موقع پر اپنی بیوی سے ناراض ہوئے تو آپ علیہ السلام نے غصے میں قسم کھالی کہ آپ علیہ السلام انہیں سو کوڑے ماریں گے۔ اب جب کہ آپ علیہ السلام صحت مند ہوگئے تو آپ علیہ السلام فکر مند تھے کہ اب قسم پوری کرنے کی کیا ترکیب کریں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی راہنمائی کرتے ہوئے ایک طریقہ بتادیا کہ آپ علیہ السلام سو تنکے لے کر ان کو باندھ کر ایک جھاڑو سا بنا لیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی قسم پوری ہوجائے گی اور آپ علیہ السلام کی اہلیہ کو تکلیف بھی نہیں ہوگی۔
{ اِنَّا وَجَدْنٰـہُ صَابِرًاط نِعْمَ الْعَبْدُط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ} ”یقینا ہم نے اسے صابر پایا ‘ بہت ہی خوب بندہ۔ یقینا وہ ہماری طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔“
Ayah 38:45آیت 45 { وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ } ”اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم علیہ السلام ‘ اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کا ‘ جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔“
Ayah 38:46آیت 46 { اِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ } ”ہم نے ان کو خالص کرلیا تھا ایک خالص شے ‘ یعنی آخرت کے گھر کی یاد دہانی کے لیے۔“
ان لوگوں کی زندگی کا ایک یہی مقصد تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو آخرت کی زندگی کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔ اس حوالے سے یہ بات میں بارہا عرض کرچکا ہوں کہ اللہ کا جو بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اسے دنیا کے مال و دولت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی میں اگر اس کا کوئی ہدف ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے ‘ انہیں آخرت کے برے انجام سے بچائے۔ پھر اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی ہدف کے لیے صرف ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیتیں اسی مشن کے لیے وقف ہوجاتی ہیں۔ حضرت شیخ معین الدین اجمیری رح کی مثال لے لیجیے۔ آپ رح یہی مشن لے کر اجمیر پہنچے تھے۔ اجمیر اس زمانے میں ہندو راجپوتوں کا مرکزی شہر اور کفر کا گڑھ تھا۔ حضرت شیخ علی ہجویری رح تو لاہور اس وقت تشریف لائے تھے جب یہ علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوچکا تھا ‘ لیکن حضرت معین الدین رح نے اس شہر کو اپنا ٹھکانہ بنایا جو اس وقت مکمل طور پر کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بہر حال آپ رح اپنا گھر بار چھوڑ کر کوئی کاروبار کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے آئے تھے اور یہی آپ رح کی زندگی کا مقصد اور مشن تھا۔
Ayah 38:47آیت 47 { وَاِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ } ”اور یقینا وہ ہمارے نزدیک ُ چنے ہوئے اور نیک لوگوں میں سے ہیں۔“
گویا جو شخص لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے اور اس کے دین کی دعوت کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیتا ہے اور اس کا جینا مرنا اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے نزدیک مُصْطَفَیْن چنیدہ اور برگزیدہ افراد میں سے ہوجاتا ہے۔
Ayah 38:48آیت 48 { وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِط وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ } ”اور ذکرکیجیے اسماعیل علیہ السلام الیسع علیہ السلام اور ذوالکفل علیہ السلام کا ‘ یہ سب بھی بہت عمدہ لوگوں میں سے تھے۔“
حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل ﷺ کے بارے میں آج ہمیں یقینی معلومات میسر نہیں۔ سورة الانبیاء آیت 85 کی تشریح کے ذیل میں مولانا مناظر احسن گیلانی رح کا یہ خیال نقل کیا گیا تھا اور مجھے اس سے کسی حد تک اتفاق ہے کہ قرآن میں ذو الکفل علیہ السلام کے نام سے جس پیغمبر کا ذکر ہوا ہے وہ دراصل گوتم بدھ تھے۔ ان کا اصل نام سدھارتا تھا۔ ”گوتم بدھ“ یا ”گو تمابدھا“ ان کا لقب تھا جو بعد میں مشہور ہوا۔ آپ ریاست ”کپل وستو“ کے ولی عہد تھے۔ چناچہ جن محققین کا خیال ہے کہ قرآن میں ذوالکفل کے نام سے گوتم بدھ ہی کا ذکر ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ ”کفل“ دراصل ”کپل“ ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ یعنی ہندی ”پ“ کی جگہ عربی کی ”ف“ نے لے لی ہے اور اس طرح گویا ذوالکفل کے معنی ہیں ”کپل ریاست والا۔“ ٭
Ayah 38:49آیت 49 { ہٰذَا ذِکْرٌط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”یہ ایک ذکر ہے ‘ اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے۔“
Ayah 38:50آیت 50 { جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ } ”یعنی رہنے والے باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے رکھے جائیں گے۔“
اہل ِجنت کے لیے جنت کے دروازے کھلے رکھے جانے کا ذکر سورة الزمر کے آخری رکوع میں بھی آیا ہے ‘ بلکہ وہاں اس حوالے سے اہل جنت اور اہل جہنم کے استقبال کا فرق اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ اہل جنت کے لیے تو جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ جیسے کسی مہمان کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یعنی جس مہمان کا باقاعدہ انتظار ہو اس کے لیے یوں نہیں ہوتا کہ پہلے دروازہ بند ہو اور اس کے آنے پر ہی اسے کھولا جائے۔ چناچہ جنتی مہمانوں کے لیے جنت کے دروازوں کو پہلے سے ہی کھول کر رکھا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کو ہانک کر جب جہنم کے دروازے پر لے جایا جائے گا تب دروازوں کو کھولا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ جہنم کی مثال جیل کی سی ہے اور جیل کے دروازوں کو معمول کے مطابق بند رکھا جاتا ہے۔ البتہ جب کوئی نیا مجرم آتا سے تو اسے داخل کرنے کے لیے اس کے کھولنے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔
Ayah 38:51آیت 51 { مُتَّکِئِیْنَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ } ”اس میں وہ تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے ‘ طلب کریں گے اس میں میوے بہت سے اور مشروبات بھی۔“
Ayah 38:52آیت 52 { وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ} ”اور ان کے پاس ہوں گی ان کی بیویاں نیچی نگاہوں والی ‘ ان کی ہم عمر۔“
Ayah 38:53آیت 53 { ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ } ”یہ کچھ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے حساب کے دن کے لیے !“
Ayah 38:54آیت 54 { اِنَّ ہٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ } ”یہ ہیں ہماری عطا کی ہوئی چیزیں ‘ جو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔“
Ayah 38:55آیت 55 { ہٰذَا ط وَاِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ } ”متقین کے لیے تو یہ ہے ! اور یقینا سرکشوں کے لیے لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔“
Ayah 38:56آیت 56 { جَہَنَّمَج یَصْلَوْنَہَاج فَبِئْسَ الْمِہَادُ } ”یعنی جہنم ‘ جس میں وہ داخل ہوں گے ‘ پس وہ بہت ہی برا بچھونا ہوگا۔“
Ayah 38:57آیت 57 { ہٰذَالا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ} ”یہ ہے ان کے لیے ‘ پس اس کو چکھیں ‘ کھولتا ہوا پانی اور پیپ !“
جہنم میں لے جا کر اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جگہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اب اس میں رہو اور اس کے عذاب کو برداشت کرو۔ اس میں ان کو کھولتے ہوئے پانی اور زخموں کے خون اور پیپ کا مزہ بھی چکھنا ہوگا۔ گویا انہیں کھانے اور پینے کے لیے ایسی چیزیں دی جائیں گی جن کو انسان کی طبیعت بہت ناگوار محسوس کرتی ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !
Ayah 38:58آیت 58 { وَّاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖٓ اَزْوَاجٌ } ”اور اسی طرح کی کئی دوسری چیزیں بھی۔“
اور اسی طرح کی مزید خوفناک ‘ گندی اور بدذائقہ چیزیں بھی اہل جہنم کو کھانے اور پینے کے لیے دی جائیں گی۔
Ayah 38:59آیت 59 { ہٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ } ”یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ دھنسی چلی آرہی ہے۔“
جہنم میں پہلے سے موجود لوگ ہر نئے آنے والے گروہ کے بارے میں یوں کہیں گے کہ ہم تو پہلے ہی یہاں انتہائی مصیبت میں ہیں۔ جگہ بھی تنگ ہے ‘ گرمی اور حبس بھی بہت ہے اور اوپر سے تم بھی ہمارے اوپر دھنسے چلے آرہے ہو۔
{ لَا مَرْحَبًام بِہِمْ } ”ان کے لیے کوئی کشادگی نہ ہو !“
یعنی یہ جو نئی کھیپ آرہی ہے ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔ ”مرحبا“ کے لغوی معنی فراخی اور کشادگی کے ہیں۔ یہ کسی کو خوش آمدید کہنے کا کلمہ greeting ہے۔ یعنی آئیے آئیے ! آپ کے لیے یہاں بہت جگہ اور ہر قسم کی سہولت موجود ہے چشم ِما روشن دل ماشاد ! لیکن ان کے لیے وہاں کوئی خیر مقدم نہیں ہوگا۔ یعنی نہ تو کوئی ”مرحبا“ خوش آمدید کہنے والا ہوگا اور نہ ہی ”مرحبا“ کہنے کے لائق وہ ماحول ہوگا۔
{ اِنَّہُمْ صَالُوا النَّارِ } ”یہ ہیں آگ میں گھسے آنے والے۔“
Ayah 38:60آیت 60 { قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْقف لَا مَرْحَبًامبِکُمْ } ”وہ نئے آنے والے کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایسے ہو ! تمہارے لیے نہ ہو کوئی کشادگی !“
تمہارے لیے کوئی ”مرحبا“ نہیں ‘ کوئی خیر مقدم اور خوش آمدید نہیں !
{ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَاج فَبِئْسَ الْقَرَارُ } ”تم نے ہی اسے ہمارے لیے پہلے بھیجا ہے ‘ تو یہ بہت ہی بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔“
تم نے ہی ہمارے لیے یہ سارا سامان فراہم کیا ہے۔ یہ سارا تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم ہماری پہلی نسل ہو اور تم نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے ہی ہمیں تمام غلط عقائد اور برے اعمال سکھائے تھے۔ تمہارے کرتوتوں کے باعث اور تمہاری پیروی کرنے کی وجہ سے ہی آج ہم یہاں جہنم میں آئے ہیں۔
Ayah 38:61آیت 61 { قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا ہٰذَا فَزِدْہُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ } ”وہ کہیں گے : پروردگار ! جس نے یہ سب کچھ ہمارے لیے آگے بھیجا ہے تو اس کے لیے عذاب کو آگ میں دوگنا بڑھا دے۔“
جس نے ہمارے لیے یہ سارا سامان فراہم کیا ہے ‘ جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا ہے اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے !
Ayah 38:62آیت 62 { وَقَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ } ”اور وہ کہیں گے : کیا بات ہے ہم یہاں ان کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم دنیا میں برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟“
دنیا میں ہمارے ساتھ کچھ گھٹیا اور کم حیثیت لوگ بھی تو تھے جو محمد ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ وہاں ہم انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج وہ لوگ یہاں جہنم میں نظر نہیں آرہے ‘ معلوم نہیں کہاں چلے گئے ہیں !
Ayah 38:63آیت 63 { اَتَّخَذْنٰہُمْ سِخْرِیًّا } ”کیا ہم نے انہیں خواہ مخواہ ہنسی مذاق بنا لیا تھا“
یعنی کیا ہم نے انہیں غلط سمجھا تھا ؟ اور ہم ان کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے کیا وہ سب بلاوجہ اور بےمحل تھا ؟ اور کیا اصل میں وہ برے لوگ نہیں تھے ؟
{ اَمْ زَاغَتْ عَنْہُمُ الْاَبْصَارُ } ”یا ہماری نگاہیں ان سے چوک رہی ہیں ؟“
یعنی کیا وہ لوگ یہاں جہنم میں موجود ہی نہیں یا پھر ہم انہیں دیکھ نہیں پا رہے۔ اہل جہنم کی یہ ساری گفتگو اہل ِایمان کے بارے میں ہوگی جو اس وقت جنت کی نعمتوں سے فیض یاب ہو رہے ہوں گے۔
Ayah 38:64آیت 64 { اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَہْلِ النَّارِ } ”یقینا یہ حق ہے اہل جہنم کے مابین جھگڑا !“
تم لوگوں کو یقین رکھنا چاہیے کہ جیسے ہم یہ سب کچھ بیان کر رہے ہیں ‘ اس روز اہل ِجہنم کے مابین بالکل اسی طرح سے بحث و تکرار ہوگی۔
Ayah 38:65آیت 65 { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌق وَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ } ”اے نبی ﷺ ! کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں ‘ اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے ‘ وہ اکیلا ہے اور ہرچیز پر پوری طرح چھایا ہوا ہے۔“
Ayah 38:66آیت 66 { رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ } ”وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے ‘ اور وہ بہت زبردست ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“
Ayah 38:67آیت 67 { قُلْ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌ } ”آپ کہہ دیجیے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔“
Ayah 38:68آیت 68 { اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ”تم اس سے اعراض کر رہے ہو۔“
دیکھو ! ہمارے یہ رسول ﷺ تمہارے پاس بہت بڑی اور فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں ‘ لیکن تم لوگ ہو کہ مسلسل اس سے اعراض کیے جا رہے ہو۔
Ayah 38:69آیت 69 { مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍم بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ } ”مجھے کچھ علم نہیں ملااعلیٰ کے بارے میں ‘ جب وہ باہم بحث و تکرار کر رہے ہوتے ہیں۔“
یہ مضمون سورة الزمر کی آخری آیت میں بھی آئے گا۔ فرشتے چونکہ عاقل ہستیاں ہیں اس لیے تکوینی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً ممکن ہے کسی وقت کوئی فرشتہ کسی ملک یا قوم کے بارے میں کہتا ہو کہ اب تو ان لوگوں پر عذاب آجانا چاہیے اور اس کے جواب میں کوئی دوسرا کہتا ہو کہ نہیں ابھی انہیں کچھ مزید مہلت ملنی چاہیے۔ آخری فیصلہ تو ہر کام میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہوتا ہے ‘ لیکن فرشتے بھی مختلف امور کے بارے میں باہم گفتگو کرتے ہیں اور اس طرح ان کی آراء میں کبھی کبھی اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔
Ayah 38:70آیت 70 { اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ} ”میری طرف تو بس یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں صرف واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں۔“
Ayah 38:71آیت 71 { اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌم بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ } ”جب کہا تھا آپ ﷺ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں ایک بشر کو مٹی سے۔“
قصہ آدم و ابلیس کے ذکر کے حوالے سے یہ قرآن کریم کا ساتواں اور آخری مقام ہے۔
Ayah 38:72آیت 72 { فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ } ”تو جب میں اس کو پوری طرح درست کر دوں“
”تسویہ“ کے معنی کسی تخلیق کو ہر لحاظ سے درست کر کے اس کی تکمیل کردینے کے ہیں۔ انگریزی میں اسے finishing touch دینا کہا جاتا ہے۔ چناچہ ”تسویہ“ کا مرحلہ بنیادی تخلیق کے بعد آتا ہے ‘ جیسا کہ سورة الاعلیٰ میں فرمایا گیا : { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ ”آپ ﷺ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی ‘ جس نے تخلیق کیا ‘ پھر تسویہ کیا“۔ سورة الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران اس موضوع پر ان شاء اللہ تفصیل سے گفتگو ہوگی۔
{ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ } ”اور میں اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم گرپڑنا اس کے سامنے سجدے میں۔“
یہاں پر رُوْحِیْ میری روح کا لفظ نوٹ کیجیے اور اس نکتے کو ذہن نشین کر لیجیے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مسجودِ ملائک ہونا اس روح ربانی کی بنیاد پر تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم میں پھونکی تھی۔ اس سے قبل نہ تو وہ مسجودِ ملائک تھے ‘ اور نہ ہی ان کا وہ مقام و مرتبہ تھا جو بعد میں اشرف المخلوقات کی حیثیت سے ان کو ملا۔
Ayah 38:73آیت 73 { فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ } ”تو سجدہ کیا سب کے سب فرشتوں نے ‘ اکٹھے ہو کر۔“
یہ بہت پر زور اسلوب ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے جوں کی توں سورة الحجر آیت 30 میں بھی آچکی ہے۔
Ayah 38:74آیت 74 { اِلَّآ اِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ } ”سوائے ابلیس کے ‘ اس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔“
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا۔ کفر اور تکبر اس کے اندر پہلے سے موجود تھا جو اس موقع پر کھل کر سامنے آگیا۔ جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر بہت سے منافقین کا نفاق واضح ہو کر ان کی زبانوں پر آگیا تھا۔
Ayah 38:75آیت 75 { قَالَ یٰٓاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ } ”اللہ نے فرمایا : اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کو سجدہ کرتا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے ؟“
یہاں پر آدم علیہ السلام کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کا اپنے دونوں ہاتھوں سے نسبت دینا بہت اہم اور قابل غور ہے۔ قرآن کریم میں اللہ کی قدرت کے استعارے کے طور پر اللہ کے ہاتھوں کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ جیسے سورة یٰـسٓ کی آیت 71 میں فرمایا گیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں اَیدِینَا سے ان کے لیے چوپائے بنائے ہیں ‘ لیکن آیت زیر مطالعہ میں ”دونوں ہاتھوں“ کا ذکر خصوصی اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ میرے نزدیک اس سے دو عالم یعنی عالم ِ خلق اور عالم امر مراد ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ نے آدم یعنی انسان میں جمع کردیا ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُط } یعنی خلق اور امر کے دونوں عالم اسی کے ہیں ‘ ان دونوں پر اسی کا تسلط اور اسی کی حکومت ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی کچھ مخلوق تو ایسی ہے جس کا تعلق صرف عالم امر سے ہے۔ مثلاً فرشتے جو حیوانی جسم یا حیوانی خواہشات نہیں رکھتے اور نر یا مادہ کی تفریق سے بھی منزہ و مبرا ّہیں۔ دوسری طرف جنات اور تمام ارضی حیوانات ہیں جو عالم خلق کی مخلوق ہیں۔ ان میں ”روح“ نہیں پائی جاتی۔ اس لحاظ سے انسان گویا اللہ تعالیٰ کی واحد مخلوق ہے جس کا تعلق ان دونوں عالم سے ہے۔ اس کا حیوانی جسم مٹی سے بنا ہے ‘ اس لحاظ سے یہ ”عالم خلق“ کی چیز ہے ‘ جبکہ اس کے جسم میں پھونکی گئی روح ”عالم امر“ کی امانت ہے۔ جیسا کہ سورة الاحزاب کی اس آیت میں فرمایا گیا : { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا۔ ”یقینا ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ اور انسان نے اسے اٹھالیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا جاہل ہے“۔ امانت کے اس تصور کی وضاحت اس آیت کے مطالعے کے دوران کی جا چکی ہے۔
چناچہ تخلیق ِآدم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا ذکر گویا استعارہ ہے اس کی تخلیق میں عالم ِ خلق اور عالم امر کو جمع کرنے کا۔ انسان کو دونوں ہاتھوں سے بنانے کا یہ مفہوم بھی لیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خصوصی اہتمام سے بنایا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس لحاظ سے یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کا نقطہ عروج climax ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔
{ اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ } ”کیا تو نے تکبر کیا یا تو عالی مرتبہ لوگوں میں سے ہے ؟“
Ayah 38:76آیت 76 { قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ } ”اس نے کہا : میں اس سے بہتر ہوں !“
اس نے کہا ہاں ! یہ بات صحیح ہے کہ میں اس سے بہتر اور برتر ہوں۔ دراصل شیطان کا یہ دعویٰ اس کے مشاہدے کی بنیاد پر تھا۔ اس کے پیش نظر صرف حضرت آدم علیہ السلام کا جسد ِخاکی تھا۔ اس کے اندر پھونکی گئی روح کا اسے علم نہیں تھا۔ چناچہ اس کا یہ دعویٰ کہ ”میں اس خاکی وجود سے بہتر ہوں“ اس کے مشاہدے کے اعتبار سے کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔
{ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ } ”مجھے بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے !“
Ayah 38:77آیت 77 { قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ} ”اللہ نے فرمایا : نکل جائو یہاں سے ! اب تم مردود ہوگئے ہو۔“
Ayah 38:78آیت 78 { وَّاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْٓ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ } ”اور اب تم پر میری لعنت رہے گی جزا اور سزا کے دن تک۔“
Ayah 38:79آیت 79 { قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ } ”اس نے کہا : پروردگار ! پھر مجھے مہلت دے ‘ اس دن تک جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔“
Ayah 38:80آیت 80 { قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ”اللہ نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں یہ مہلت دے دی گئی۔“
اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں بھی ”استحقار“ کا وہی انداز محسوس کیا جاسکتا ہے جو اوپر آیت 77 میں پایا جاتا ہے۔