38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 38:1–2

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

(1۔ 2) یعنی قرآن کریم کو بار بار پڑھو تاکہ ایمان کفر سے اور سنت بدعت سے اور حق باطل سے سچ جھوٹ سے حلال حرام سے اور نیکی برائی سے ممتاز ہوجائے یا یہ کہ ص سے مراد اہل مکہ یا ابوجہل کو ہدایت سے روک دیا گیا یا یہ کہ ص اللہ تعالیٰ کے اسم پاک صادق اس کا مخفف ہے۔ یا یہ کہ اس کے ذریعے سے قسم کھائی گئی ہے قسم ہے قرآن کی جو شرف وبیان والا ہے یعنی جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے شرافت والا اور اولین و آخرین کے بیان والا ہے بلکہ یہ کفار مکہ ہی تعصب و برائی اور مخالفت و دشمنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ شان نزول : صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ (الخ) امام احمد، ترمذی، نسائی اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت ابوطالب یمار ہوئے تو قریش ان کے پاس آئے اور رسول اکرم بھی تشریف لائے قریش نے ابو طالب سے آپ کی شکایت کی ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے بھتیجے تو اپنی قوم سے کیا چاہتا ہے آپ نے فرمایا میں صرف ان سے ایک بات چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کا فرمانبردار ہوجائے گ اور ان کو جزیہ دے گا۔ صرف ایک کلمہ ہے ابو طالب نے کہا وہ کیا، آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ تو سب نے کہا صرف ایک اللہ یہ تو عجیب بات ہے تو ان لوگوں کے بارے میں ص والقرآن سے بل لما یذوقوا عذاب تک یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا

قریش سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں تو انہوں نے ہلاکت کے وقت فرشتوں کو بہت پکارا مگر اس وقت بھاگنے اور چھٹکارا پانے کا کہاں وقت تھا سو پکڑے گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اور ان کی یہ عادت تھی کہ جب کسی دشمن سے لڑتے تو مناص مناص کر کے ایک دوسرے کو پکارتے تھے، مقصود یہ ہوتا ایک دم حملہ کریں۔ چناچہ جس کے مقدر میں بچنا ہوتا تھا وہ بچ جاتا تھا اور جس وقت ان پر دشمن غلبہ حاصل کرلیتا تھا تو کچھ لوگ ان میں سے پیش قدمی کر کے پکارتے تھے مناص مناص (زبر کے ساتھ) یعنی بھاگو بھاگو چناچہ سب لڑائی سے بھاگ جاتے تھے تو وہاں بھی انہوں نے فرشتوں کو پکارنا شروع کیا باقی وہاں فرار ہونے اور خلاصی کا کہاں وقت تھا۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

اور ان کفار قریش نے اس بات سے تعجب کیا کہ ان کی قوم میں سے ایک پیغمبر ڈرانے والا آگیا اور کفار مکہ یہاں تک کہنے لگے کہ نعوذ باللہ محمد ساحر اور دعوی نبوت میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اسنے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے

انہوں نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا کہ ہمارے طرف ضروریات کے لیے ایک معبود کافی ہے ان کی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے

اور ان کفار قریش کے رئیس عتبہ، شیبہ ابی خلف، ابو جہل مجلس سے یہ کہتے ہوئے چلے کہ یہاں سے چلو چلو ابو جہل نے ان سرداروں سے کہا، کہ ہم بات اب کراچکے اپنے معبودوں کے پاس چلو اور ان ہی کی عبادت پر قائم رہو محمد سب کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یا یہ کہ یہ تو کوئی مطلب کی بات معلوم ہوتی ہے اس کے ذریعے یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے

یہ بات تو جو محمد کہتے ہیں یہودیت و نصرانیت میں بھی نہیں ان سے بھی نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے یہ تو ان کی من گھڑت بات ہے۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

کیا ہم سب میں سے اسی میں کوئی خصوصیت تھی کہ اسی کو نبوت ملی اور اسی پر کتاب نازل ہوئی ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کفار مکہ خود ہی میری کتاب اور میرے نبی کی نبوت کے بارے میں شک میں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا اسی بنا پر جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

کیا ان کفار کے قبضہ میں نبوت و کتابیں ہیں کہ جس کو یہ چاہیں سو دیں۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جو ایمان نہ لائے اس کو پکڑنے میں غالب ہے اور زبردست فیاض ہے کہ محمد کو کتاب و نبوت عطا کی۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر انہیں ہی کی حکومت ہے تو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں پر) چڑھ جائیں

کیا ان کو آسمان اور زمین اور جو مخلوقات اور چیزیں ان کے درمیان ہیں سب کا اختیار حاصل ہے تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان کے دروازوں سے اوپر چڑھ جائیں۔
Ayahs 38:11–12

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں

(11۔ 12) اور وہاں جاکر دیکھیں کہ کیا آپ کو نبوت ملی ہے یا نہیں اور کیا آپ پر قرآن کریم نازل کیا گیا ہے یا نہیں مقام بدر پر جہاں انہوں نے رسول اکرم کے خلاف سازش کی تھی محض ان لوگوں کی ایک بھیڑ ہے اور منجملہ اور کافروں کے یہ کفار مکہ بھی ہیں جو بہت جلد شکست دیے جائیں گے۔ چناچہ سب کے سب بدر کے دن مارے گئے۔
Ayahs 38:13–15

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی یہی وہ گروہ ہیں

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں

(13۔ 15) اور محمد آپ کی قوم سے قبل بھی قوم نوح نے نوح کی اور قوم ہود نے ہود کی اور فرعون نے جس کی سلطنت کے کھونٹے گڑ گئے تھے یا کہ جو کھونٹوں میں آدمیوں کو باندھ کر سزا دیا کرتا تھا اسی واسطے اس کو ذوالاودتاد کہا جاتا ہے موسیٰ کی اور قوم صالح نے صالح کی اور قوم لوط نے لوط کی اور قوم شعیب نے شعیب کی تکذیب کی۔ اور وہ انہی لوگوں کی جماعت ہے ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا جیسا کہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے سو میرا عذاب ان پر واقع ہوگیا اور آپ کی قوم جو تکذیب پر مصر ہے صرف دوسری صورت کی منتظر ہے جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے

اور اللہ تعالیٰ نے جب اپنی کتاب میں اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کا تذکرہ کیا تو کفار مکہ کہنے لگے اے ہمارے رب ہمارا نامہ اعمال روز حساب سے پہلے ہی ہمیں دے دے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اس میں کیا ہے۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

محمد آپ ان لوگوں کی تکذیب پر صبر کیجیے اور ان کے سامنے ہمارے بندہ داؤد کا ذکر کیجیے جو عبادت میں بڑی قوت والے تھے اور اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف بڑے رجوع کرنے والے تھے۔
Ayahs 38:18–19

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے سب ان کے فرمانبردار تھے

(18۔ 19) ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح کریں اور اسی طرح پرندوں کو بھی حکم کر رکھا تھا جو کہ ان کے پاس جمع ہوجاتے تھے اور پہاڑوں اور پرندوں میں سے ہر ایک ذکر خداوندی میں مصروف رہتا تھا۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)

اور ہم نے سپاہیوں کے ذریعے ان کی سلطنت کو نہایت قوت دی تھی کہ ہر رات کو ان کی عبادت گاہ کی تینتیس ہزار آدمی حفاظت کیا کرتے تھے اور ہم نے ان کو نبوت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی تھی کہ وہ فیصلہ فرمانے کے وقت تقریر میں نہیں رکھتے تھے گواہوں اور قسم پر فیصلہ فرماتے تھے۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے

محمد بھلا آپ کو داؤد کے ان اہل مقدمہ کی خبر بھی پہنچی ہے جو حضرت داؤد کے پاس مقدمہ لائے تھے اور عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آپ کے پاس پہنچے۔
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے گا اور ہم کو سیدھا راستہ دکھا دیجئے

داؤد ان کے بےوقت آنے سے گھبرا گئے تو وہ دونوں کہنے لگے اے داؤد آپ ڈریں نہیں ہم دونوں کے درمیان ایک معاملہ ہے ایک نے دوسرے پر زیادتی و ظلم کیا ہے آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کردیجیے اور بےانصافی نہ کیجیے اور ہمیں سیدھی راہ بتایے۔
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اسکے (ہاں) نناوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے یہ بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

پھر ان میں سے ایک کہنے لگا کہ صورت مقدمہ یہ ہے کہ یہ شخص میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ سو یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے دے دے اور بات چیت میں دباتا ہے۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بیشک تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گرپڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا

حضرت داؤد نے فرمایا جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں باوجود اس کے کہ وہ زیادہ ہیں ملانے کی درخواست کرتا ہے تو واقعتا یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے اور اکثر شرکاء اور بھائی یوں ہی ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ اس طرح ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے اس کے بعد یہ دونوں اہل مقدمہ جس طرف سے آئے تھے باہر چلے گئے۔ اور اس کے بعد حضرت داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے اس واقعہ میں ان کے صبر کا امتحان لیا ہے تو انہوں نے اس سے بھی اپنے رب کے سامنے توبہ کی اور سجدہ میں گر پڑے اور خصوصی طور پر اللہ کے سامنے توبہ و استغفار کے ساتھ رجوع ہوئے۔
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

سو ہم نے ان کو وہ امر بھی معاف کردیا ہمارے یہاں ان کے لیے خاص تقرب کا درجہ اور آخرت میں اعلی درجہ کی نیک انجامی ہے۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی جو لوگ خدا کے راستے سے بھٹکتے ہیں انکے لئے سخت عذاب (تیار) ہے لہ انہوں نے حساب کے دن کو بھولا دیا

اے داؤد علیہ السلام، ہم نے تمہیں بنی اسرائیل پر حاکم اور نبی بنایا ہے سو لوگوں کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا اور آئندہ بھی نفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا کہ کہیں وہ تمہیں اطاعت خداوندی سے ہٹا دے جو لوگ اللہ کے رستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ انہوں نے روز حساب کے لیے نیکیاں کرنا چھوڑ دیں۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے

ہم نے تمام مخلوقات کو عبث بغیر اوامرو نواہی کے نہیں پیدا کیا یہ ان لوگوں کا انکار ہے جو مرنے کے بعد جی اٹھنے کے منکر ہیں۔ سو ایسے منکروں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے کیا ان کو ہم انکی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے

کیا ہم لوگوں کو جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے جیسا کہ حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ بن حارث کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو کہ شرک کرتے پھرتے ہیں جیسا کہ عتبہ شیبہ ولید بن عتنبہ اور کیا ہم کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کو کافروں کی طرح کردیں گے۔ غزوہ بدر میں عتبہ، شیبہ، ولید نے حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ سے مقابلہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی نے ولید بن عتنبہ کو اور حضرت حمزہ نے عتبہ بن ربیعہ کو اور حضرت عبیدہ نے شیبہ کو قتل کردیا۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

یہ قرآن حکیم جو ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر نازل کیا ہے ایک بابرکت کتاب ہے جس میں ایمان والوں کے لیے رحمت و مغفرت ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے

اور ہم نے داؤد کو حضرت سلیمان فرزند عطا کیے بہت ہی زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کی تابعداری کی طرف رجوع ہونے والے تھے۔
Ayahs 38:31–34

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

(31۔ 34) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔ ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔ اور ہم نے سلیمان کی چالیس دن کے لیے بادشاہت ختم کر کے ان کی آزمائش کی اور شیطان کو ان کے تخت پر اس زمانہ میں قابض کردیا۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

پھر انہوں نے اپنی سلطنت اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی اور عرض کیا کہ میرے پروردگار میرا قصور معاف فرما اور ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو یا یہ کہ اب بقیہ زندگی میں وہ مجھ سے چھینی نہ جائے بیشک جس کو آپ چاہیں بادشاہت اور نبوت عطا کرنے والے ہیں۔
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

سو اس کے بعد ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم یا حضرت سلیمان کے حکم سے جہاں وہ جانا چاہتے نرمی سے چلتی اور جنات کو بھی ان کا تابع کردیا یعنی تعمیر کرنے والوں کو بھی اور سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے والوں کو بھی۔
Ayahs 38:37–38

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

(37۔ 38) اور دوسرے جنات کو بھی جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے یہ سرکش اور فسادی جنات تھے کہ جو کام بھی ان کے سپرد ہوتا تھا اس سے بھاگ جاتے تھے۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

اے سلیمان یہ ہماری عنایت کردہ بادشاہت ہے کہ اس کے ذریعے سے ہم نے تمہیں جنات پر بادشاہت دی ہے تو ان سرکشوں میں سے پر چاہو احسان کرو اس کو رہا کر دو یا قید ہی میں پڑا رہنے دو تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی،
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

اور ان کے لیے ہماری یہاں خاص قرب اور آخرت میں اعلی درجہ کی نیک انجامی ہے۔