Ayahs 38:1–31 ۔ 3:۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
عام قراءت دال کی جزم کے ساتھ وقف کی صورت میں ہے کیونکہ یہ حروف تہجی میں سے ایک ہے جس طرح الم اور المر ہے۔ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت حسن بصری ‘ ابن اسحاق اور نصر بن عاصم نے صاد پڑھا ہے یعنی دال کے نیچے کسرہ ہے اور تنوین نہیں۔ اس کی قراءت کی وجہ سے دو مذہب ہیں : (1) یہ صادی یصادی سے مشتق ہے جب یہ عارض کے معنی میں ہو اسی سے فانت لہ تصدی۔ ) عیس ( ہے یعنی تو اس کا سامنا کرتا ہے مصادۃ کا معنی معارضہ ہے اسی سے ایل لفظ صدی ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو خالی جگہوں مینآواز کے مقابل ہوتی ہے اس کے معنی ہے قرآن کے مقابل ہو اپنے عمل کے ساتھ اور اس کے اوامرر پر عمل کر اور اس کی نواہی سے رک جا۔
نحاس نے کہا : یہ مذہب حضرت حسن بصری ؓ سے مروی ہے انہوں نے اسکے ساتھ تفسیر بیان کی ہے ان کی قراءت صحیح روایت ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی ہے اس کی تلاوت کیجئے اس کی قراءت کا سامنا کیجئے۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ دال اجتماع ساکنین کی وجہ سے مکسور ہے عیسیٰ بن عمر نے صاد یعنی دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کی مثل قاف اور نون ہے اس کا آخر مفتوح ہے اس بارے میں بھی تین مذہب ہیں : (1) یہ اتل کے معنی میں ہو (2) فتحہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے ہوا اور فتحہ کو اتباع کی وجہ سے اختیار کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حرکات میں سے خفیف ترین حرکت ہے (3) یہ قسم کی بنا پر حذف ہے اور فعل قسم موجود نہیں جس طرح تیرا یہ قول ہے : اللہ لا فعلن ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اغراء کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے حضرت محمد ﷺ نے مخلوقات کے دلوں کو شکار کیا اور انہیں مائل کیا یہاں تک کہ وہ آپ پر ایمان لے آئے۔
ابن ابی اسحاق نے صاد پڑھا ہے یعنی دال مکسور ہے اور اس پر تنوین ہے اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ حرف قسم کے حذف کی وجہ سے مجرور ہے۔ یہ قول بعید ہے اگرچہ سیبویہ نے اس کی مثل کو جائز قرار دیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس ان اصوات کے مشابہ قرار دیا گیا ہو جو غری منصرف ہیں ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے اسے صاد ‘ قاف اور نون پڑھا ہے کیونکہ یہ اکثر مبنی ہوتا ہے جس طرح منذ ‘ قط قبل ‘ بعد۔
ص کو جب تو مورت کا نام بنائے تو یہ منصرف نہ ہوگا جس طرح جب تو کسی مئونث کا نام اسم مذکر سے رکھے تو وہ منصرف نہیں ہوتا اگرچہ اس کے حروف قلیل ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت ابن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ سے ص کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے عکرمہ نے کہا : نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس ؓ سے ص کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ص مکہ مکرمہ میں ایک سمندر تھا اسی پر رحمن کا عرش تھا جب رات اور دن نہیں تھا۔
حضرت سعید بن جبیر نے کہا : ص سے مراد وہ سمندر ہے جس کے ذریعے دو نفخوں کے درمیان اللہ تعالیٰ مخلوقات کو زندہ کرے گا۔
ضحاک نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : ص ایک قسم ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے یہ سدی نے کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
محمد بن کعب نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کی چابی ہے جو صمد ‘ صانع المصنوعات اور صادق الوعد ہیں۔ قتادہ نے کہا : یہ رحمن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے (1) ۔ مجاہد نے کہا۔ یہ سورت کا آغاز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ خاص کیا ہے۔
والقرآن وائو کی وجہ سے یہ اسم مجرور ہے وائو ‘ باء کا بدل ہے۔ قرآن کی قسم اٹھائی مقصد اس کی عظمت شان پر آگاہی تھی کیونکہ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے یہ سیوں میں موجود ہر مرض کی شفا ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے۔
ذی الذکر۔ صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے جس کی علامت یاء ہے یہ ایسا اسم ہے جس میں حرف علت ہے اس میں اصل ذوی ہے جو فعل کا وزن ہے۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل نے کہا : ذی الذکر کا معنی ہے ذی البیان۔ ضہاک نے کہا : اس کا معنی ذی الشرف یعنی جو اس پر ایمان لایا وہ اس کے لئے دارین میں شرف کا باعث ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لقد انرزلنا الیکم کتبا فیہ ذکر کم) الانبیاء (10: اس آیت میں ذکرکم سے مراد تمہارے لئے شرف ہے۔ قرآن بذات خود شریف ہے کو قن کہ یہ ایک معجزہ ہے اور ان چیزوں پر مشتمل ہے جس پر غیر مشتمل نہں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذی الذکر سے مراد ہے اس میں اس چیز کا ذکر ہے امور دین میں سے جس چیز کے وہ محتاج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذی الذکر سے مراد ہے اس میں اس چیز کا ذکر ہے امور دین میں سے جس چیز کے وہ محتاج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذی الذکر سے مراد ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی عظمت کا ذکر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ موعظت اور ذکر والا ہے جواب قسم محذوف ہے۔ کئی وجہ سے اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو قسم ص ہے کیونکہ اس کا معنی ہے حق پس یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان والقرآن کا جواب ہے جس طرح تو کہتا ہے : حق واللہ ‘ نزل واللہ ‘ وجب واللہ۔ اس صورت میں والقرآن ذی الذکر پر عطف کرنا بہت اچھا ہے اور فی عزۃ و شقاق پر وقف تام ہوگا ‘ یہ ابن انباری کا قول ہے اور غلبی نے یہی معنی فراء سے نقل کیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق۔ ہوگا کیونکہ بل سابقہ امر کی نفی اور اس کے غیر کا اثبات ہے ‘ یہ قلبی نے کہا گویا یوں کلام کی والقرآن ذی الذکر۔ بل الذین کفرو فی عزۃ و شقاق۔ یعنی وہ حق قبول کرنے اور حضرت محمد ﷺ سے دشمنی میں اندھے ہوگئے ہیں یا والقرآن ذی الذکر یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو کہ تو جادوگر ‘ جھوٹا ہے کیونکہ وہ آپ کی سچائی اور امانت کو پہچانتے ہیں بلکہ وہ حق کو قبول کرنے سے تکبر کر رہے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ق والقرآن المجید۔ بل عجبوا ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا جواب کم اھلکما ہے گویا گلام یوں ہوگی والقرآن لکم اھلکنا جب کم کو موخر کیا تو لام کو حذف کردیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے و الشمس واضحھا۔ ) لشمس ( پھر فرمایا : قد افلح) الشمس (9: اصل میں لقد افلح تھا۔
مہدوی نے کہا : یہ فراء کا مذہب ہے ابن انباری نے کہا اس تو جیہ کی بنا پر فی عزۃ و شقاق پر وقف مکمل نہ ہوگا۔ اخفش نے کہا : جواب قسم ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب۔ ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین۔ ) الطارق ( ابن انباری نے کہا : یہ قبیح ہے کیونکہ دنوں کے درمیان کلام طویل ہوگئی ہے اور آیات و قصص بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ کسائی نے کہا : جواب قسم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ان ذلک لحق تخاصم اھل النار۔
ابن انباری نے کہا : یہ پہلے سے بھی زیادہ قبیح ہے کیونکہ کلام قسم اور جواب قسم میں بہت طویل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا جواب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ان ھذا لرزقناما لہ من نفاد۔ ہے۔ قتادہ نے کہا : جواب مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہے والقران ذی الذکر ‘ لتبعثن ہے۔
فی عزۃ بلکہ کافر تکبر میں مبتلا ہیں اور حق کو قبول کرنے سے رکے ہوئے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے و اذا قیل لہ اثق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم) البقرۃ (206: عربوں کے ہاں عزت سے مراد غلبہ اور قہر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : عزیز۔
یعنی غالب ہوا اور مال سلب کر لاا اسی معنی میں و عزنی فی الخطاب۔ ہے یعنی وہ مجھ پر غالب آگیا جریر نے کہا۔
بعر علی الطریق بمنکبیہ
وہ اونٹ اپنے دونوں کندھوں کے ساتھ راستے پر غالب آجاتا ہے۔ شقاق یعنی اختلاف اور جدائی کو ظاہر کرنے والے ہیں۔ یہ شق سے ماخوذ ہے گویا یہ ایک حصہ میں ہیں اور وہ دوسرے حصہ میں ہیں اور سورة بقرۃ میں اس کے بارے میں گفتگو مفصل گذر چکی ہے۔
قرن سے مراد قوم ہے جو ان سے زیادہ طاقتور تھے کم کثرت کا معنی دے رہا ہے۔ انہوں نے مدد چاہتے ہوئے اور توبہ کرتے ہوئے ندا کی۔ ندا کا اصل معنی آواز کا بلند کرنا ہے اس معنی میں حدیث القہ علی بلال فانہ اندی منک صوتا بلال پر یہ کلمات پیش کرو کیونکہ اس کی واز تجھ سے بلند ہے ٭
ولات حین مناص حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے توبہ کے ساتھ آواز کو بلند کیا جب کہ یہ تو بہ کا وقت نہ تھا اور نہ ہی یہ وہ وقت تھا جب عمل نفع دے۔ نحاس نے کہا : یہ حضرت حسن بصری کی جانب سے ولات حسین مناص کی تفسیر ہے جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے اس نے ابو اسحاق سے وہ تمیمی سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ولات حین مناص کا معنی ہے یہ کوئی بھاگنے کا وقت نہیں۔ کہا : تمام قوم روک دی گئی۔ کیبف نے کہا : جب وہ جنگ کرتے اور بےبس ہوجاتے تو وہ ایک دوسرے کو کہتے مناص یعنی تم پر بھاگ جانا لازم ہے جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے کہا : بھاگ جائو تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولات حین مناص۔ قشیری نے کہا : اس تعبیر کی بنا پر تقدیر کلام یہ ہوگی فنا دوا مناص کیونکہ باقی کلام فنا دوا پر دلالت کرتی تھی اسی لئے اسے حذف کردیا گیا یعنی جو تم آوازیں لگا رہے ہو یہ اس کا وقت نہیں۔ اس میں ایک قسم کا استہزاء ہے کیونکہ یہ کہنا بعید از قیاس ہے کہ سابقہ قوموں میں سے جو بھی ہلاک ہوا وہ اضطرار کے وقت یہ کہتا ہو۔ مناص ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ولات حین مناص کا معنی یہ ہو یعنی کوئی چھٹکارے کی صورت میں نہیں اس کو نصب اس لئے دی گئی ہے کیونکہ اس پر لا واقع ہے۔
قشیری نے کہا : اس میں اعتراض کی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اس صورت میں ولات حین مناص میں وائو کا کو ئئی معنی نہیں رہتا۔ جرجانی نے کہا : معنی ہے انہوں نے اس گھڑی کی ندا کی جس سعات کوئی نجات نہیں جب لا کو مقدم کیا اور حسین کو موخر کیا تو اس نے وائو کا تقاضا کیا جس طرح حال تقاضا کرتا ہے جب اسے مبتدا اور خبر بنا دیا جائے جس طرح تیرا یہ قول ہے جاء زید راکبا۔ جب تو اسے مبتدا اور خبر بنا دے گا تو یہ وائو کا تقاضا کرے گا جس طرح جاءنی زید و ھو راکب ہے حسین یہ فنادوا کی ظرف ہے مناص یہ پیچھے ہٹنے ‘ بھاگ جانے اور چھٹکارا پانے کے معنی میں ہے یعنی انہوں نے اس وقت نجات پانے کے لئے ندا کی جس وقت میں ان کے لئے چھٹکارا پانے کی صورت میں نہ تھی۔ فراء نے کہا :
امن ذکر لیلی اذنا تک تنوص (1)
کیا پہلی کو یاد کر کے جب وہ تجھ سے دور ہوگئی تو اس کی طرف آگے برھتا ہے کہا جاتا ہے : ناص عن قرنہ ینوص نوصا و منا صا یعنی بھاگ کھڑا ہوا۔ نحاس نے کہا : کہا جاتا ہے ناص ینوص جب وہ آگے بڑھے۔
میں کہتا ہوں : اس تاویل کی بناء پر یہ اضداد میں سے ہے۔ نو ص سے مراد وحشی گدے ہیں استناص یعنی پیچھے ہٹ گیا۔ نحویوں نے ولات حین مناص اور اس پر وقف کرنے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کتاب القرات میں اس کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی ہے۔ سوائے چند باتوں کے جو کچھ اس نے ذکر کیا ہے وہ سب مردود ہے۔ سیبویہ نے کہا : لات یہ مشتابہ بلیس ہے اس میں اسم ضمیر ہے تقدیر کلام یوں ہے لیست احیاننا ہسین مناص۔
حکایت بیان کی گئی ہے کہ عربوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے ساتھ اسم کو رفع دیتے ہیں اور کہتے ہیں ولات حین مناص۔ یہ حکایت بیان کی گئی ہے کہ رفع قلیل ہے اور خبر مخدوف ہے جس طرح کہ ہم اسم میں مخذوف تھا یعنی تقدیر کلام یوں تھی ولات حین مناص لنا سیبویہ اور فراء کے نزدیک ولات کی تاء پر عطف ہوگا پھر حین مناص سے تو نئی کلام شروع کرے گا ‘ یہ ابن کیسان اور زجاج کا قول ہے۔ ابول الحسن بن کیسان نے کہا : قول اسی طرح ہے جس طرح سیبویہ نے کہا کیونکہ نے اسے یسین کے مشابہ قرار دیا تو جس طرح لیست کہا جاتا ہے اسی طرح لات کہا جاتا ہے۔ کسائی کے نزدیک اس پر وقف ھاء پر ہوگا یعنی ولاہ یہی مبرد بن محمد بن یزید کا قول ہے علی بن سلیمان نے اس سے حکایت بیان کی کہ اس میں دلیل یہ ہے کہ اس پر ھاء کلمہ کی تانیث کے لئے داخل ہوئی ہے جس طرح ثمہ اور ربہ کہا جاتا ہے۔ قشیری نے کہا : بعض اوقات ثمت ‘ ثمہ کے معنی میں کہا جاتا ہے اور ربت ‘ ربہ کے معنی میں کہا جاتا ہے گویا انہوں نے لا میں ھاء کا اضافہ کردیا اور انہوں نے لاہ کہا انہوں نے ثم میں ثمہ کہا ہے جب وصل ہوا تو یہ تاء ہوگئی۔
ثعلبی نے کہا : اہل لغت نے کہا ولات حین دونوں مفتوح ہیں گویا یہ دونوں ایک کلمہ ہیں بیشک یہ اصل میں لا ہے جس میں تاء کا اضافہ کردیا گیا ہے جس طرح رب اور ربت ‘ ثم اور ثمت ابوزبید طائی نے کہا :
طلبوا صلحنا ولات اوان فاجبنا ان لیس حین بقاء
انہوں نے ہماری صلح کا مطالبہ کیا جب کہ وہ اس کا وقت نہ تھا ہم نے جواب دیا کہ یہ بقاء کا وقت نہیں ایک اور شاعر نے کہا :
تذکر حب لیلی لات حینا و امسی الشیب قد قطع القرینا
اس نے لیلی کی محبت کو یاد کیا جب کہ وہ اس کا وقت نہ تھا بڑھاپے نے دوستی کو قطع کردیا۔
کچھ عرب اس لفظ کے ساتھ مابعد اسم کو جر دیتے ہیں ‘ فراء نے یہ شعر پڑھا :
فلتعرفن حلال ئقا سمولۃ ولتندمن ولات ساعۃ مندم
تو جمع شدہ مخلوقات کو پہچان لے گا اور تو شرمندہ ہوگا جب کہ وہ شرمندگی کا وقت نہیں۔
کسائی ‘ فراء ‘ خلیل سیبویہ اور اخفش اس طرف گئے ہیں ولات حین میں تاء حسین سے منقطع ہے وہ کہتے ہیں : اس کا معنی لیست ہے۔ مصا حف جدد اور عتق میں اسی طرح ہے یعنی حین سے تاء کو الگ کردیا گیا ہے ‘ ابو عبیدہ معمر بن مثنی اسی طرف گیا کہا ہے۔
ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا : میرے نزدیک ولا پر وقف ہے اور ابتدا تحین مناص سے ہے اس صورت میں تاء حین کے ساتھ ہوگئی۔ بعض نے کہا : لات پھر وہ کلام کا آغاز کرتا ہے اور کہتا ہے : حین مناص مہدوی نے کہا : ابو عبیدہ نے زکر کیا ہے کہ مصحف میں تاء حین کے ساتھ متصل ہے جب کہ نحویوں کے نزدیک یہ علط ہے اور مفسرین کے قول کے خلاف ہے ‘ ابو عبید کی حجت یہ ہے کہ اس نے کہا : ہم عربوں کو نہیں پاتے کہ وہ اس تاء کو زائد کرتے ہوں مگر وہ ہیں ‘ اوان اور الان میں زائد کرتے ہیں ‘ ابو و جزہ سعدی کا شعر ذکر کیا :
العاطفون تحین ما من عاطب و المطعمون زمان این المطعم
وہ اس وقت مہربانی کرتے ہیں جب مہربانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ زمانے کو کھلاتے ہیں جب کھلانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ 0 ابوز بید طائی نے شعر ذکر کیا :
طلبوا صلحنا ولا تاوان فاجبنا ان لیس حین بقاء (1)
انہوں نے ہماری صلح کو طلب کیا جب کہ وہ صلح کا وقت نہ تھا تو ہم نے جواب دیا اب بقاء کا وقت نہیں۔
یہاں اوان میں تاء کو داخل کیا۔ ابو عبید نے کہا : الان میں تاء کو داخل کرنے کے بارے میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے ان سے ایک آدمی نے حضرت عثمان بن عفان کے بارے میں پوچھا تھا تو حضرت ابن عمر نے حضرت عثمان کے مناقب کا ذکر کیا پھر فرمایا : اذھب بھا تلان معک۔ اسے لے جا اب وہ تیرے ساتھ ہیں۔ اس قول میں تلان محل استدلال ہے۔ 0 اسی طرح شاعر نے کہا :
نول قبل نای داری جمانا و صلینا کما زعمت تلانا
ابو عبید نے کہا : اس سب بحث کے باوجود میں نے اس مصحف میں نطر کی جسے امام ” مصحف عثمان “ کہا جاتا ہے تو میں نے پایا کہ تاء حین کے ساتھ متصل ہے وہاں تحین لککھا ہوا ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : جہاں تک پہلے شعر کا تعلق ہے جو اس نے ابو وجزہ کا ذکر کیا ہے علماء لغت نے اسے چار طریقوں سے روایت کیا ہے سب اس کے برعکس ہیں جو اس نے کہا اس میں دو تقدیریں ہیں ابو العباس محمد بن یزید نے اسے روایت کیا ہے العاطفون ولات ماممن عاطف۔ دوسری روایت العاطفون ولات حین تعاطف۔ تیسری روایت جسے ابن کیسان نے روایت کیا ہے العاطفونۃ حین مامن عاطف۔ اس نے اسے وقف میں ھاء اور درمیان کلام میں تاء بنا دیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ یہ حرکت کے بیان کے لئے ہے اور اسے ہاء تانیث کے مشابہ قرار دیا ہے۔ چوتھی روایت العاطفونہ حین ما من عاطف۔ اس روایت میں دو تقدیریں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے اور وہی اسماعیل بن اسحاق کا مذہب ہے کہ ھاء نصب کے محل میں ہے جس طرح تم کہتے ہو الضاربون زیدا جب تو ضمیر ذکر کے گا تو تو کہے گہا الضاربوہ سیبویہ نے شعر میں الضار بونہ جائز قرار دیا ہے۔ اسماعیل ‘ سیبویہ کے مذہب کے مواقع تانیث کے ساتھ لایا ہے جس طرح اس نے اس کی مثل میں اجازت دی ہے۔
دوسری تقدیر یہ ہے کہ الغاطفونہ میں ھاء حرکت کو بیان کرنے کے لئے ہے جس طرح تو کہتا ہے : مرینا المسلمونہ یہ وقف کی صورت میں ہے پھر وصل میں بھی اسے اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح وقف میں رکھا گیا تھا جس طرح اہل مدینہ پڑھا : اغنی عنی مالیہ۔ ھلک عنی سلطنیہ۔ ) الحاقتہ (
جہاں تک دوسرے شعر کا تعلق ہے اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ ولات اورن پر وقف ہے مگر اس میں ایک مشکل ہی ہے کیونکہ اس میں ولات اوان مجرور مروی ہے ‘ جب کہ لات کے بعد جو چیز واقع ہے وہ مرفوع یا منصوب ہے اگرچہ عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے ولات حین مناص پڑھا ہے یعنی لات کی تاء اور حین کی نون پر کسرہ پڑھا ہے جب کہ ان سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے ولات حین مناص پڑھا ہے لات کو منبی برکسرہ اور حین کو نصب دی گئی جہاں تک ولات اوان کا تعلق ہے اس میں دو تقدیریں ہیں۔
اخفش نے کہا : اس مين لفظ مضمر ہے یعنی کلام یوں تھی ولات حین اوان۔ نحاس نے کہا : اس قول میں واضح خطا موجود ہے ابو اسحاق سے دوسری تقدیر مروی ہے ولات اواننا مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا تو ضروری ہوگیا کہ اس کو اعراب نہ دیا جائے اور اس پر کسرہ اجتماع ساکننم کی وجہ سے ہے۔ محمد بن یزید نے ولات اوان رفع کے ساتھ پڑھا ہے جہاں تک تیسرے شعر کا تعلق ہے یہ دور اسلام کے شاعر کا شعر ہے جس کے قائل کا کوئی پتہ نہیں اس کے ساتھ دلیل قائم کرنا صحیح نہیں کہ محمد بن یزد نے اسے روایت کیا ہے کمازعمت انت الان اور دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے کما زعمت انت الان اس نے انت سے ہمزہ اور نون کو حذف کردیا۔
جہاں تک ان کا حضرت ابن عجمر ؓ کی حدیث سے استدلال کہے جب آپ نے اس آدمی کے لئے حضرت عثمان ؓ کے مناقب کا ذکر کیا تو اسے کہا اذھب بھا تلان الی اصحابک تو اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ محدث اس حدیث کو بالمعنی روایت کر رہا ہے۔
اس پر دلیل یہ ہے کہ مجاہد حضرت ابن عمر ؓ سے اس ہدیچ کو روایت کرتا ہے اور اس میں ہے اذھب فاجھد جھدک ایک اور نے اسے روایت کیا ہے اذھب بھا الان معک جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے امام میں تحین پایا ہے تو اس میں بھی ان کی کوئی دلیل نہیں کو ین کہ امام کا معنی ہے کہ وہ مصاحف کا مام ہے اگر وہ مصاحف کے خلاف ہوگا تو وہ مصاحف کا امام تو نہ ہوا تمام مصاحف میں ولات ہے اگر اس میں صرف یہی استدلال کہوتا تو وہ کافی ہوتا مناص کی جمع ماوص ہے۔
Ayahs 38:4–54 ۔ 5:۔ ان جاء ھم میں ان محل نصب میں ہے اس کا معنی ہے من ان جاء ھم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا تعلق فی عزۃ فی شقاق کے ساتھ ہے تقدیر کلام یہ بنے گی فی عزۃ و شقاق و عجبوا اور کم اھلکنا جملہ معترضہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نہیں بلکہ یہاں سے کلام کا آغاز ہے یعنی ان کی جہالت میں سے یہ بات ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا۔
کافروں نے کہا : یہ جادو گر ہے یہ آراستہ کلام لاتا ہے جس کے ساتھ لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے جادو کے ذریعے والد اور اس کے بچے ‘ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے کذاب یعنی دعوی نبوب مییں جھوتا ہے۔
اجعل لا لھۃ الھا واحدا یہ دونوں مفعول ہیں یعنی اس نے بہت نے بہت سے معبوں کو ایک معبود بنا دیا ہے بےسک یہ تو عجیب و غریب چیز ہے سلمی نے عجاب پڑھا ہے عجاب ‘ عجاب اور عجب سب کا معنی ایک ہی ہے۔ خلیل نے عجیب اور عجاب میں فرق کیا ہے کہا عجیب ‘ عجب ہی ہے عجاب عجب کی حد کو تجاوز کرنا ہے۔ طویل جس میں طول ہو طوال اسے کہتے ہیں جس نے طول کی حد کو تجاوز کیا ہو۔
جوہر نے کہا : عجیب اس امر کو کہتے ہیں جس سے تعجب کا اظہار کیا جائے اسی طرح عجاب ضمہ کے ساتھ ہے عجاب جب شد کے ساتھ ہو تو وہ اس سے بڑھ کر ہے اسی طرح اعجوبہ ہے۔ مقاتل نے کہا : عجاب یہ از دشنوء کیلعت ہے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ابو طالب مریض ہوئے (1) تو قریش ان کے پاس ائے اور نبی کریم ﷺ بھی تشریف لائے جب کہ ابو طالب کے سر کی طرف ایک آدی کی بیٹھنے کی جگہ تھی ابو جہل اپنی جگہ سے اٹھا تاکہ آپ ﷺ کو اس جگہ سے روکے قریش نے ابو طالب کے پاس رسول اللہ ﷺ کی شکایت کی ‘ ابو طالب نے کہا : اے بھتیجے ! تو اپنی قوم سے کیا چاہتا ہے ؟ فرمایا اے میرے چچا جان ! میں ان سے ایک کلمہ کہنے کی خواہش کرتا ہوں جس کے باعث تمام عرب ان کی اطاعت کریں گے اور انہیں جزیہ دیں گے “ پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا : لا الہ الا اللہ قریشن نے کہا : کیا اس نے تمام معبوں کو ایک معبود بنایا دیا تو ان کے بارے میں قریش نازل ہوا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب ؓ اسلام لے آئے تو قریش پر ان کا اسلام بڑا شاق گذرا تو قریش ابو طالب کی کدمت میں جمع ہوئے کہا : ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کر دیجئے۔ ابو طالب نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا اور کہا۔ اے بھتیجے یہ تیری قوم مجھ سے انصاف کا تقاضا کرتی ہے اپنی قوم پر ظلم نہ کر۔ پوچھا وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں “ انہوں نے کہا : ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو اور ہمارے معبودوں کا ذکر چھوڑ دو ہم تجھے اور تیرے معبود کو چھوڑتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم مجھے ایک کلمہ دیتے ہو جس کے باعث تم عربوں کے مالک بن جائو گے اور عجمی تمہاری اطاعت کریں گے “ ابو جہل نے کہا : تیرا بھلا ہو ہم تجھے وہ کلمہ اور دس اس جیسے کلمات دینے کو تیار ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہو : لا الہ الا اللہ وہ اس سے بدک گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : کیا اس نے تمام خدائوں کو ایک خدا بنا دیا ہے اس تمام مخلوق کو ایک خدا کیسے پورا ہو سکتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق گذبت قبلھم قوم نوح تک آیات کو نازل فرمایا۔
Ayahs 38:6–116 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو طالب نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا اور کہا : تیری قوم تجھے انصاف کی طرف دعوت دیتی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں انہیں ایک بات کی دعوت دیتا ہوں “۔ ابو جہل نے کہا : ایک کیا دس۔ فرمایا : تم کہو لا الہ الا اللہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا : کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے۔
ان امشوا میں ان محل نصب میں ہے معنی بان امشوا یعنی باء حرف جار مخدوف ہے اور اس کے حذف کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان ای کی معنی میں ہے یعنی امشوا ‘ انطلق کی تفسیر ہے اس کا مطلب ہے یہ نہیں کہ انہوں نے یہ لفظ بولا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان میں سے معززین چلے اور انہوں نے عوام سے کہا : امشوا و اصبرو علی الھتکم یعنی اپنے بتوں کی عبادت پر صبر کرو ان ھذا یعنی جو حضرت محمد ﷺ لائے ہیں جس کے ساتھ اہل زمین کے بارے میں اس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے کہ قوم سے نعمتوں کا زوال ہو اور جو ان پر نازل ہوا ہے ان کی تبدیل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان ھذا الشیء یراد۔ کلمہ تخدیر ہے یعنی محمد ﷺ جو کہتے ہیں اس کے ساتھ وہ ہم سے اطاعت کے طالب ہیں تاکہ وہ ہم پر غالب آجائیں اور ہم اس کے پیرو کار بن جائیں تو اس طریقہ سے جو وہ چاہے اس پر حکم چلائے تو اس کی اطاعت کرنے سے بچو مقاتل نے کہا : حضرت عمر ؓ جب مسلمان ہوئے اور ان کے ذریعے سے اسلام کو قوت و شوکت نصیب ہوئی تو یہ امر قریش پر شاق گذرا تو انہوں نے کہا کہ حضرت عمر کے اسلام لانے سے اسلام کو ایسی قوت حاصل ہوئی ہے۔ جس کا ارادہ کیا جا رہا تھا (1) ۔
حضرت ابن عباس ‘ قرظی ‘ مقاتل ‘ کلبی اور سدی نے کہا : وہ ملۃ اخرہ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ملت مراد لیتے ہیں یہ ملتوں میں سے آخری ملت ہے ‘ نصاری بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الہ بناتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ نے یہ بھی کہا : وہ قریش کی ملت مراد لیتے تھے (2) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ہم نے یہ نہیں سنا تھا کہ یہ آخری زمانہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اہل کتاب سے یہ نہیں سنا تھا کہ حضرت محمد ﷺ رسول حق ہیں۔
یہ تو سراسر جھوٹ ہے۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے کہ یہ جملہ کہا جاتا ہے : خلق و اختلق یعنی اس نے نیا کام شروع کیا خلق اللہ الخلق اسی معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں بغیر مثال کے پیدا کیا۔
ء انزل علیہ الذکر من بیننا یہ کلام استفہام انکاری ہے ‘ ذکر سے یہاں مراد قرآن ہے یعنی انہوں نے آپ کی وحی کے ساتھ خاص کرنے کا انکار کیا من ذکری سے مراد میری وحی ہے وہ قرآن ہے یعنی وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سے ان کے درمیان سچے رہے ہیں میں نے جو آپ پر نازل کیا ہے اس کے بارے میں انہوں نے شک کیا کہا : وہ میری جانب سے ہے یا میری جانب سے نہیں۔
اصل میں لمبی مہلت کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہوئے اگر شرک کی بناء پر میرا عذاب چکھ لیتے تو ان سے شک شائل ہوجاتا ہے اور وہ یہ بات نہ کرتے لیکن اس وقت انہیں ایمان کوئی نفع نہ دے گا لما یہ لم کے معنی میں ہے اور ما زائدہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : عما قلیل) المومنون (40: اور فبما نقضھم) المائدہ (13:
کیا ان کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں تو وہ محمد ﷺ سے ان نعمتوں خصوصا نبوت کو روک لیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کی ہے۔ ام کا لفظ کبھی تقریع کے معنی میں آتا ہے جب کلام ماقبل کے ساتھ متصل ہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الم۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین۔ امر یقولون افترہ) السجدہ (
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ام عندھم خزآئن رحمۃ ربک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ متصل ہے و عجبوا ان جاء ھم منزرمنھم معنی اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے رسول بنا کر معبوث کرتا ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اسی کے ہیں یا زمین و آسمان کے خزانے ان کی ملکیت ہیں اگر وہ اس کا دعوی کرتے ہیں پس انہیں چاہیے آمسانوں کی طرف چڑھیں اور فرشتوں کو اس بات سے روک دیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ پر وحی لے کر آئیں۔ یہ کہا جاتا ہے : رقی برقی اور ارقی یعنی وہ بلند ہوگئے رقی ‘ یرقی اور رقاک یہ رمی یرمی اور رمیا کی طرح ہے یہ رقیۃ سے مشتق ہے ربیع بن انس نے کہا : اسباب بال سے باریک اور لوہے سے مضبوط ہیں لیکن وہ دکھائی نہیں دیتے۔ لغت میں سبب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو مطلوب تک پہنچانے والی ہو وہ رسی یا کوئی اور چیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسباب سے مراد آسمان کے ابواب یا اسباب ہیں جن سے فرشتے اترتے ہیں ‘ یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ زہیر نے کہا :
لورام اسباب السماء بسلم
کاش وہ سیڑھی کے ذریعے آسمان اسباب کا قصد کرتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسباب سے مراد آسمان ہیں یعنی نہیں چاہیے کہ وہ ایک ایک آسمان پر چڑھیں۔ سدی نے کہا : فی اسباب سے مراد فضل اور دین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسباب سے مراد رسیاں ہیں (1) یعنی اگر وہ رسیاں اور سبب پائیں جن میں وہ آسمان کی طرف بلند ہوں تو وہ چڑھیں۔ یہ امر تو بیخ اور تعجیز کے لئے ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے خلاف اپنی نبی کی مدد کا وعدہ کیا جندما ھنالک یہاں ما زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہوگی ہم جند پس جند مبتدا محذف کی خبر ہے مھزوم یعنی ذلیل اور رسول ہونگے ان کی دلیل ختم ہوجائے گی کو ن کہ اوہ اس مرحلہ تک نہیں پہنچیں گے کہ وہ یہ کہیں یہ ہمارے لئے ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : تھزمت القربۃ جب وہ مشکیزہ ٹوٹ جائے ‘ ھزمت الجیش نے لشکر کو شکست دے دی کلما ما قبل کے ساتھ مربوط ہے یعنی وہ شکست خوردہ لشکر ہیں تو ان کا تکبر اور قبول حق سے رکنا تجھے غم میں نہ ڈالے بیشک میں ان کی جمعتیوں کو شکست دے دونگا وران کی عزلت کو سلب کر دونگا یہ نبی کریم ﷺ کو انس عطا کرنا ہے بدر کے روز آپ کے ساتھ ساتھ ایسا کیا بھی گیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں شکست دے گا جب کہ وہ مکہ مکرمہ میں تھے تو ان کی تابیل بدر کے روز سامنے آئی ھنالک میں بدر کی طرف اشارہ ہے یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : احزاب سے مراد وہ گروہ ہیں جو مدینہ طبیہ آئے اور نبی کریم ﷺ سے برسرپیکار ہوئے۔ یہ بحث سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔ احزاب کا معنی لشکر ہے جس طرح کہا جاتا ہے : جند من قبائل شتی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ احزاب سے مراد کفار کی گذشتہ قومیں ہیں یعنی یہ لشکر ان کے طریقہ پر ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فمن شرب منہ فلیس منی و من لم یطعہ فانہ منی) البقرۃ (249 من سے مراد ہے وہ سیرے دین اور مذہب پر ہے۔ فراء نے کہا : وہ مغلوب لشکر ہیں یعنی انہیں اس چیز سے روک دیا گیا ہے کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوں۔ قتنبی نے کہا : یعنی وہ ان معبودوں کے شکست خوردہ لشکر ہیں وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے معبود ان باطلہ سے کسی چیز کا مطالبہ کرییں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں سے اپنے لئے کسی چیز کا دعوی کرسکتے ہیں اور نہ آسمانوں اور زمین سے کسی چیز کا دعوی کرسکتے ہیں۔
Ayahs 38:12–1412 ۔ 14:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر نبی کریم ﷺ کے لئے تعزیت اور آپ کی تسلی کے لئے کیا یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تیری قوم کے لوگ ہیں متقدمہ قوموں کے لشکر ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کے خلاف لشکر کشی کی وہ لوگ ان سے زیادہ طاقتور تھے پس انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم کو بانیث کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا (1) علماء عرب نے اس بارے میں دو قول نقل کئے ہیں :
(1) اس میں تذکیرو تانیث جائز ہے (2) یہ مذکر ہے اس کی تانیث جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ معنی عشیرہ اور قبیلہ پر واقع ہو تو لفظ میں اس معنی کا حکم غالب ہوگا جو معنی مضمر ہے مقصود اس پر تنیہ کرنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کلا انھا تزکرۃ۔ فمن شاء ذکرہ ‘۔ ) عبس ( یہاں اسے ذکر نہیں کیا کیونکہ جب اس پر مضمیر معنی مذکر تھا تو اسے مذکر ذکر کیا گیا اگرچہ لفظ تانیث کا تقاضا کرتا ہے۔
فرعون کی صفت ذوالا و تاد سے ذکر کی اس کی تاویل میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے مضبوط عمارتوں والا۔ ضحاک نے کہا : وہ بیشمار عمارتوں والا تھا اور عمارتوں کو اوتاد کہتے ہیں (2) ۔ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور عطا سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کے کیل ‘ رسیاں اور کھیل کے میدان تھے جن پر اس کے لئے کھیلا جاتا تھا۔ ضحاک سے یہ بھی مروی ہے کہ قوت پکڑ والا تھا۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : وہ لوگوں کو کیلوں کے ذریعے عذاب دیا کرتا تھا جب وہ کسی پر ناراص ہوتا تو زمین پر چار کیل گاڑھ کے ان کے درمیان چت لٹا دیتا تھا اور اس پر بچھو اور سانپ چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ مر جاتا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عذاب دیے جانے والے شخص کو چار ستونوں پر تان دیتا اس انسان کی ایک جانب ایک ستون کی طرف ہوتی جس میں لوہے کا ایک کیل گڑھا ہوتا اور اسے چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ مر جاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذوالا وتاد سے مراد کثیر لشکروں والا ہے۔ جنود کو اوتاد کہا گیا ہے کیونکہ وہ اس امر کو قوی بناتا ہے جس طرح کیل گھر کو قوی بناتا ہے۔ ابن قیتبہ نے کہا : عرب کہتے ہیں : ھم فی عزثابت الاو تاد وہ ارادہ کرتے ہیں ان کے لئے دائمی اور قوی عزت ہے۔ اس کی اصل گھر بالوں کے خیمے ہوتے وہ میخوں کے ساتھ ہی مضبوط اور قوی ہوتے۔ اسود بن یعلر نے کہا :
و لقد عنوا فیھا با نعم عیشۃ فی ظل ملک ثابت الاو تاد (1)
وہ زندگی کی نعمتوں کے ساتھ اس میں مستغنی ہوئے ایسے کے سایہ میں جو مضبوط ہے۔
اوتاد کی واحد و تد ہے یہ تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے اور و تد بھی اس میں ایک لغت ہے۔ اصمعی نے کہا : یہ کہا یہ کہا جاتا ہے و تدو اتد جس طرح یہ کہا جاتا ہے : شعل شاغل۔ کہا : بعض اوقات آدمی کو جذل سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
اصحت لیکۃ سے مراد اصحاب غیضہ ہیں اس کا ذکر سورة شعرا میں گذر چکا ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر اور ابن عامر نے اسے لی کہ ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا ذکر بھی پہلے گذر چکا ہے۔
یہی لوگ قوت اور کثرت اور متصف تھے جس طرح تو کہتا ہے : فلان ھو الرجل ‘ ان کل یہاں ان ‘ ما کے معنی ہے فحق عقاب یعنی اس جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا یععقوب نے عذابی اور عقابی میں یاء کو دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے اور باقی قراء نے اسے دونوں حالتوں میں حذف کیا ہے اس آیت کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و قال الذی امن یقوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب۔ مثل داب قوم نوح و عادو ثمود) غافر ( ان امتوں کو احزاب کا نام دیا گیا۔
Ayahs 38:15–1615 ۔ 16: یہاں ینظر ینتظر کے معنی میں ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انظرونا نقتبس من نور کم ۔ الحدید (13: ھولا سے مراد کفار مکہ ہیں الا صیحۃ واحدہ سے مراد قیامت کا نفخہ ہے بعنی عزوہ بدر میں جو مصیبت انہیں پہنچی اس کے بعد وہ قیامت کے نفخہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مرادصور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مراد صور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذہم و ھم یجصمون۔ فلا یستطیعون توصیۃ) یس ( یہ قیات اور موت کے قریب ہونے کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس امت کے آخر کے کفار جو لوگوں کے طریقہ کو اپنائے ہوئے ہونگے وہ انتظار نہیں کرتے ہونگے مگر ایک صیحہ کا انتظار کر رہے ہونگے نو نسخہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا : آسمان میں صیحہ نہیں ہوتا مگر اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی زمین پر غضبناک ہوتا ہے۔ مالھا من فواق۔ جس کو لوٹا یا نہیں جاسکتے گا (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس کے لئے لوٹنا۔ قتادہ نے کہا : اس کے لئے واپس آنا نہیں ہوگا۔ سدی نے کہا : اس سے افاقہ کی مورت نہ ہوگی۔ حمزہ اور کسائی نے اسے مالھا من فواق پڑھا ہے باقی قراء نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
جوہری نے کہا : فواق اور فواق سے مراد دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا جو عرصہ ہوتا ہے کیونکہ جانور کو دوہا جاتا ہے پھر اسے تھوڑا ترک کیا جاتا ہے تاکہ بچہ دودھ پیئے تاکہ جانور دودھ اتارے پھر اسے دوبارہ دوہا جاتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ما اقام عندہ الا فواقا یعنی وہ گھڑی بھر اس کے پاس ٹھہرا۔ حدیث طیبہ میں ہے العبادۃ قدر فواق الناقۃ (1) عیاوت اونٹنی دوہنے کے وقت تک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مالھا من فواق اسے فتحہ اور ضمہ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے یعنی اس کے واقع ہونے پر رحمت اور افاقہ کی صورت نہ ہوگی۔ الفیقۃ اس دودھ کو کہتے ہیں جو دو دفعہ دوہنے کے درمیان جمع ہوجاتا ہے وائو یاء ہوگئی ہے کیونکہ اس کا ما قبل مکسور ہے۔ اعشی گائے کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے :
حتی اذا فیقۃ فی ضرعھا اجتعمت جاءت لترضع شق النفس النفس لورضعا
یہاں تک کہ اس کی کھیری میں دودھ جمع ہوتا وہ آئی تاکہ نفس کے حصہ کو دودھ پلائے۔
فیقۃ کی جمع فیق ہے پھر اس کی جمع افواق ہے جس طرح شبر کی جمع اشبار ہے پھر اس کی جمع افاویق ہوتی ہے ‘ ابن ہماری سلوی نے کہا :
و ذموالنا الدنیا و ھم یرضعونھا افاویق حتی ما یدرلھا ثعل
وہ ہمارے سامنے دنیا کی مذمت کرتے ہیں جب کہ وہ خود اس کے جمع شدہ دودھ چوستے ہیں یہاں تک کہ ثعل اس کے لئے دودھ نہیں دیتا۔
افاویق اس پانی کو بھی کہتے ہیں جو بادل میں جمع ہوجاتا ہے وہ یکے بعد دیگرے بارش برساتا ہے افاقت الفاقۃ افاقۃ اونٹی کی کھیری میں دودھ جمع ہوگیا اس سے اسم فاعل مفیق اور مفیۃ ہے۔ ابو عمرو سے مروی ہے کہ اس کی جمع مفاویق ہے فراء ابوعبیدہ اور دوسرے علماء نے کہا : من فواق ہے یعنی فاء کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی راحمت ہے۔
میں کہتا ہوں : اس کا معنی یہ طویل ہوگا جو ختم نہیں ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا جب کہ ہم آپ کے صحابہ کے ایک طائفہ میں تھے اس مين ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو نفخہ اولی کا حکم دے گا ارشاد فرمائے گا : نفخہ فزع پھونکو تو تمام آسمان و زمین والے خوف زدہ ہوجائیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہیے گا اللہ تعالیٰ اسے حکم دے گا وہ اسے پھیلائے گا ‘ اسے دو ام دے گا اور اسے طویل کرے گا اللہ تعالیٰ ارشاد فرمتا ہے : وما ینظر ھئولاء الا صیحۃ واحدۃ مالھا من فواق۔ اور حدیث کو ذکر کیا اسے علی بن معبد اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے جس طرح ہم نے کتاب التذکرہ میں ذکر کیا ہے۔
مجاہد نے کہا قطنا کا معنی ہے ہمارا عذاب ‘ قتادہ نے بھی یہی کہا ہے یعنی عذاب میں سے ہمارا حصہ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جنت میں ہمارا حصہ تاکہ دنیا میں اس سے لطف اندوز ہوں یہی سعید بن جبیر نے کہا : لغت میں یہ معروف ہے کہ نصیب) حصہ ( کو قط کہتے ہیں اور وہ کتاب جو انعما کے لئے لکھی گئی ہوا سے بھی قط کہتے ہیں۔ فراء نے کہا : کلام عرب میں قط سے مراد حصہ ہے اسی معنی میں رجسٹری کو قط کہتے ہیں۔ ابو عبید اور کسائی نے کہا : قط سے مراد وہ تحریر ہے جو انعامات کے لئے لکھی گئی ہو اس کی جمع قطوط ہے۔ اعشی نے کہا :
ولا الملک النعمان یوم لقیمتہ بغبتہ یعطی القطوط و یافق (1)
قطوط سے مراد انعامات کی تحریر ہیں۔ بغبطتہ کی جگہ بنعطتہ کی جگہ بنعمتہ کے الفاظ ہیں یعنی اپنے احسان کے ساتھ جلیل القدر حالت کے ساتھ یا فق یعنی اصلاح احوال کرتا ہے قط کی جمع میں قططہ کہتے ہیں اور جمع قلت اقط اور اقطاط ہے ‘ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ سدی نے کہا : انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ جنت میں ان کی جو منازل ہیں ان کی مثالی شکل دکھائی جائے تاکہ انہیں علم ہوجائے کہ جو ان سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔
اسماعیل بن ابی خالد نے کہا : معنی ہے ہمارے رزق ہمیں جلدی دیئے جائیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہمیں وہ چیز جلدی دی جائے جو ہماری ضروریات کے لئے کافی ہو یہ عربوں کے قول قطی سے ماخوذ ہے یعنی یہ میرے لئے کافی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے یہ بات ان کتابوں کے بارے میں کی تھی جوان کے دائیں اور بائیں ہاتھوں میں دی جانی تھیں ان پر یہ قرآن پڑھا گیا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے فاما من اوتی کتابہ بیمینہ۔ و اما من اوتی کتابہ وراء ظہرہ۔ قط کا اصل معنی کاٹنا ہے اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے قط القلم قط کسی شے کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں جس طرح قسم اور قسم ہے اس کا اطلاق ‘ نصیب ‘ کتاب اور رزق پر ہوتا ہے کیونکہ وہ غیر سے الگ ہوتا ہے مگر اس کا اطلاق کتاب) تحریر ( میں زیادہ استعمال ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے قوی ہے ‘ امیہ بن ابی صلت نے اسی معنی میں یہ سعر کہا ہے :
قوم لھم ساحۃ العراق وما یجبی الیہ والقط والقلم (2)
وہ ایسی قوم ہیں جن کے لئے عراق کا علاقہ اور جو اس کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہے اور ان کے لئے تحریر اور قلم ہے۔
قبل یوم الحساب۔ یعنی دنیا میں ہی قیامت سے قبل اگر معاملہ اس طرح ہے جس طرح محمد ﷺ کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کی جانب سے استہزاء کے طور پر تھا۔
Ayah 38:17اصبر علی ما یقولون واذکر عبدنا داود ذا الاید انہ اواب۔
”) اے حبیب ! ( صبر کرو ان کی نامعقول باتوں پر اور یاد فرمائیے ہمارے بندے دائود کو جو برا طاقتور تھا وہ ہماری طرف بہت رجوع کرنے والا تھا “۔
جب کفار نے مذاق کیا تو نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہ آیت آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے واقعات اور ان کی دشمنی کا ذکر کیا اور سابقہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر کر کے انہیں خبردار کیا تو نبی کریم ﷺ کو ان کی اذیتوں پر صبر کا حکم دیا اور جو کچھ پہلے مذکور ہوا اس کے ساتھ آپ ﷺ کو تسلی دی ‘ پھر حضرت دائود (علیہ السلام) اور انبیاء کا ذکر شروع کیا تاکہ جن لوگوں نیصبر کیا ان کے صبر سے آپ بھی تسلی پائیں اور آپ کو یہ علم ہوجائے کہ آخر میں آپ کے لئے کئی گنا اجر ہوگا اس اجر کی بنسبت جو حضرت دائود (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کو عطا کیا گیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ان کے قول پر صبر کیجئے اور ان کے لئے انبیاء کے قصے بیان کیجئے تاکہ وہ قصے آپ کی نبوت کی صحت پر دلیل بن جائیں۔
ذالاید سے مراد ” عبادت میں قوی “ ہے۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔ یہ روزہ سب سے مشکل اور سب سے فضیلت والا ہے۔ آپ نصف رات نماز پڑھا کرتے تھے جب دشمن سے ملاقات ہوتی تو نہیں بھاگا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنے میں بڑے قوی تھے۔ عبدنا کا قول اضافت کے ساتھ شرف کو ظاہر کرنیکے لئے ہے۔
اسے الاید اور الاد بھی کہا جاتا ہے جس طرح کہا جاتا ہے : العیب والعاب شاعر نے کہا :
لم یک یناد فامسی انا دا۔ وہ لکڑی ٹیڑھی نہیں تھی وہ اب ٹیڑھی ہوگئی۔
اسی سے رجل اید ہے یعنی قوی آدمی۔ تاید الشی شی قوی ہوگئی اس معنی میں شاعر نے کہا :
اذا القوس و ترھا اید رمی فاصاب الکلی والزرا۔
شاعر کہتا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے اس کی کمان کی تانت کو کسا جو بادلوں میں ہے اور اسے پھینکا تو وہ اونٹوں کے گردوں کو جالگا اور انہیں چربی کے ساتھ موٹا کردیا۔ مراد اس سے نباتات ہے جو بارش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
انہ اواب ضحاک نے کہا : اس کا معنی توبہ کرنے والا (1) ۔ اور دوسروں سے مروی ہے کہ جب بھی وہ کسی لغزش کو یاد کرتے یا ان کے دل میں ان کے بارے میں کھٹکا پیدا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے بخشش کے طالب ہوتے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں دن اور رات میں سو دفعہ استغفار کرتا ہوں ‘ آب ئیوب اس وقت کہتے ہیں جب وہ لوٹ آئے “ جس طرح شاعر نے کہا :
و کل ذی غیبۃ یئوب و غائب الموت الایئوب
ہر غائب لوٹ آتا ہے اور موت کی وجہ سے غائب ہونے والا نہیں لوٹتا۔
حضرت دائود (علیہ السلام) ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی طرف لوٹنے والے تھے وہ اس لائق تھے کہ ان کی اقتدا کی جائے۔
Ayah 38:18اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 یسبحن حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے جو وہ برہان اور معجزہ لائے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا وہ پہاڑوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا ہے۔ مقاتل نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) پہاڑوں کی تسبیح کو سمجھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یسبحن کا معنی ہے وہ نماز پڑھتے تھے ہر چیز معجزہ ہوگئی جب لوگوں نے اسے دیکھا اور اسے پہچانا۔
محمد بن اسحاق نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) کو خوبصورت آواز دی گئی تھی پہاڑوں میں اس کی وجہ سے جو ہلکی آواز پیدا ہوتی ہے اور پرندے اس کی طرف جو کان لگاتے اور اس کے ساتھ آوازیں نکالتے جو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو مسخر کیا تھا کہ آپکے ساتھ چلیں تو یہ ان پہاڑوں کی تسبیح ہوگی کیونکہ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة سبا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : و ان من شی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیھم) الاسراء (44: میں گزر چکی ہے۔ اقوال میں سے صحیح ترین قول وہ ہے ‘ جو قوی تسبیح ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
اشراق سے مراد سورج کے طلوع ہونے کے بعد اس کا سفید ہونا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : شرقت الشمس جب وہ طلوع ہو اشرقت جب وہ خوب روشن ہوجائے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کے بعد اللہ تعالیٰ تسبیح بیان کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر -2 حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہا : میں اس آیت بالعثی والا شراق کے پاس سے گذرتا تھا میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا ہے یہاں تک کہ حضرت ام ہانی ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے آپ نے پانی منگوایا وضو کیا پھر چاشت کی نماز پڑھی فرمایا : ” ام ہانی یہ اشراق کی نماز ہے “ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : صلاۃ الضحی کے بارے میں میرے ذہن میں الجھن سی تھی یہاں تک کہ میں نے اسے قرآن میں پایا یسبحن بالعشی ولاشراق۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے پھر اسے بعد میں پڑھنے لگے۔ روایت کی گئی ہے کہ کعب الاحبار نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : میں تجھے قرآن دکھاتا ہوں وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے یسبحن بالعشی ولاشراق۔
مسئلہ نمبر -3 چاشت (1) کی نماز نفل اور مستحب ہے (2) یہ دن کے پہلے پہر میں اسی طرح ہے جس طرح دن کے دن کے پچھلے پہر میں عصر ہے۔ نماز پڑھنا مناسب نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے بعد سفید ہوجائے جس طرح عصر کی نماز اس وقت پڑھنا مناسب نہیں جب سورج زرد ہوجائے۔
صحیح مسلم میں زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : صلاۃ الاوابین حین ترمض الفصال اوا بین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچے گرمی محسوس کرنے لیں۔ فصال اور فصاں ‘ فصیل کی جمع ہے اس سے مراد اونٹ کا وہ بچہ ہوتا ہے جسے دودھ چھھڑا دیا گیا ہو۔ رمضاء سے مراد زمین میں گرمی کی شدت ہے۔ یہاں فصال کا خصوصا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اس وقت گرمی محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ابھی گرمی کی شدت انتہاء کو نہیں پہنچتی جس وقت ان کی مائیں گرمی محسوس کرتی ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان میں قوت برداشت کم ہوتی ہے یہ چاشت کے وقت اور اس کے تھوڑا وقت بعد ہوتا ہے ‘ یہ سورج کے طلوع ہونے اور زوال کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ‘ یہ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : لوگوں میں سے اس سے کچھ تھوڑا پہلے نماز پڑھتے ہیں کیونکہ انہیں جلدی ہوتی ہے کیونکہ انہیں کوئی مصروفیت ہوتی ہے پس اس وجہ سے عمل میں کچھ واقع ہوجائے گی کیونکہ وہ ممنوع وقت میں نماز پڑھتا ہے اور وہ ایسا بھی کرتا ہے جو اس کے خلاف چلا جاتا ہے وہ اس کے حق نہیں ہوتا۔
مسئلہ نمبر -4 امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من صلی الضحی ثنتی عشرۃ رکعۃ بنی اللہ لہ قصرا من ذھب فی الجنۃ (1) جو چاشت کے بارہ نوافل پڑھے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے سونے کا ایک محل بنا دے گا۔ کہا یہ حدیث غریب ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ ” تمہاری ہڈیوں میں سے چھوٹی ہڈی پر صدقہ ہے پس ہر تسبیح) سبحان اللہ ( صدق ہے ہر تہلیل) لا الہ الا اللہ ( صدق ہے ہر تکبیر) اللہ اکبر ( صدقہ ہے نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے نہی عن المنکر صدقہ ہے دو رکعتیں ان کے قائم مقام ہوجاتی ہیں جو آدمی چاشت کے وقت پڑھتا ہے “ (2) ۔
ترمذی نے کہا : حضرت ابوہریرہ ؓ ‘ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے چاشت کے دو نفلوں میں مواظہت اختیار کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں “ (3) ۔
امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے : ” میرے خلیل نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ‘ میں اپنی موت تک انہیں نہیں چھوڑوں گا ہر ماہ تین روزے ‘ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا “ (4) الفاظ بخاری کے ہیں۔ امام مسلم نے یہ روایت کیا ہے : چاشت کے دو نفل ہیں۔ انہوں نے حضرت ابو وراداء سے روایت نقل کی ہے جس طر امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے۔ یہ سب بحث اس پر دلالت کرتی ہے کہ چاشت کی نماز کم سے کم رکعتیں دو ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
سلامی کا اصل معنی انگلیوں ‘ ہتھیلیوں اور پائوں کی ہڈیاں ہیں پھر اس کا استعمال جسم کی تمام ہڈیوں اور جوڑوں میں ہونے لگا۔ حضرت عائشہ صدیقیہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بنی آدم میں ہر انسان تین سو ساٹھ جوروں پر پیدا کیا گیا ہے جس نے اللہ اکبر ‘ الحمد للہ ‘ لا الہ الا اللہ ‘ سبحان اللہ ‘ استغفر اللہ کہا ‘ راستہ سے کوئی پتھر ‘ کوئی کانٹا یا رستہ سے کوئی ہڈی ہٹائی ‘ نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اس نے یہ عمل تین سو ساٹھ کی تعداد کے برابر کیا تو وہ اس روز چلے گا جب کہ اس نے اپنے آپ کو آگ سے محفوظ کرلیا ہوگا (1) “ ابو توبہ نے کہا : بعض اوقات یمشی کا لفظ زکر کیا۔ امام مسلم نے اسی طرح نقل کیا ہے ان کے قول ہے ویجزی من ذلک رکعتان یعنی ان اعضاء کی جانب سے ان صدقات کے لئے دو رکعتیں کافی ہوجائیں گی اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس کو جسم کے تمام اعضاء کے ساتھ کیا جاتا ہے جب وہ نماز پڑھتتا ہے تو جس کا ہر عضو وہ فریضہ سرانجام دیتا ہے جو اس پر لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔