38. Surah Saad
صThe letter Saad · 88 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة ص : بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی سچائیوں کو جھٹلانے اور غرورو تکبر کرنے والوں سے فرمایا ہے کہ وہ جس تعصب ، بےجا ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اللہ کے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلاتے ہوئے ان کو ساحر ، کاہن ، مجنوں اور جھوٹا کہہ رہے ہیں ہر سچائی کا انکار کر کے رات دن اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کر رہے ہیں اور دین پر چلنے کا انکار کر رہے ہیں انہیں قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم فرعون ، قوم لوط اور قوم ایکہ کے بد ترین انجام کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جب اللہ نے ان کے مسلسل انکار اور برے اعمال کی سزا کے طور پر تباہ و برباد کیا تو کوئی ان کی مدد کے لئے نہ آسکا اور وہ صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیئے گئے کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے فرمایا کہ اصل میں تم نے ابھی تک عذاب الٰہی کا مزہ نہیں چکھا ورنہ ایسی فضول باتیں نہ کرتے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ مکہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور مال و دولت پر اترا رہے ہیں انہیں حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کی عبادت ، صبر و شکر اور عدل و انصاف کو سامنے رکھنا چاہیے کہ اللہ نے ان کو اتنی زبردست سلطنتیں عطاء کی تھیں کہ جو ان سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں لیکن انہوں نے حکومت و سلطنت ، مال و دولت اور کائنات کی ہزاروں نعمتوں پر غرور وتکبر اور نا شکری کرنے کے بجائے عاجزی و انکساری اور صبر و شکر کا عظیم مظاہرہ کیا ۔ جب ان کا امتحان لیا گیا تو اس میں پورے اترے ۔ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہے کی موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ زر ہیں ( جنگی سامان) بنا کر اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے انسان ، جنات ، چرند ، پرند اور ہوا تک کو ان کے تابع کردیا گیا تھا ۔ ہمیشہ وہ عاجزی و انکساری اختیار کرتے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے گزارا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب انہیں اپنی سواریوں اور مال و دولت پر کچھ ناز سا ہوگیا تھا اور ان کو اس کا احساس ہوا تو انہوں نے ہر چیز کو ختم کردیا جو اللہ کی محبت اور اطاعت میں آڑے آرہی تھی ۔ ( سورة ص میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک ، پرہیز گار اور صبر و شکر کرنے والے پیغمبر تھے جنہوں نے پوری زندگی اور اس کا ہر لمحہ اللہ کے دین کی سر بلندی میں لگا کر ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ عمل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے والوں کو دین و دنیا کی بھلائیاں اور عظمتیں عطاء فرمائیں اور جنہوں نے کفر و انکار کیا ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ ) (حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہر طرح کی مشکلات ، پریشانیوں اور بیماریوں میں گھر جانے کے باوجود صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس آزمائش میں وہ پورے اترے۔ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کا مشکلات پر صبر اور نعمتوں پر شکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو ایک سخت آزمائش میں ڈالا تو انہوں نے سخت اذیتیں اور تکلیفیں برداشت کیں لیکن تمام حالات پر آپ (علیہ السلام) نے اف تک نہ کیا اور تکلیفوں پر بھی صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ جب وہ اپنے امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اللہ نے ان پر بہت سی عنایتیں کیں اور ان کو پہلے سے بھی زیادہ نعمتوں سے نواز دیا ۔ اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ کرام (رض) کو تسلی دی گئی ہے کہ اس وقت وہ جن مشکلات میں مبتلا ہیں وہ بہت جلد دور ہوجائیں گی چونکہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اس کا یہی دستور ہے کہ اس کے راستے میں مصائب برداشت کرنے والوں کو وہ اجر عظیم سے نوازتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی جماعت ہے جس نے ساری زندگی دین اسلام کی سچائیوں کو پھیلانے میں گزار دی ۔ پھر اللہ کے راستے میں ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں لیکن صبر و برداشت کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطاء فرما دی اور ان کا انکار کرنے والوں اور نا شکری کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کی بنیادیں کھود کر رکھ دیں اور ان کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ آج ان کی زندگی افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطاعت و فرمانبرداری کی ان کو دنیا اور آخرت میں عزت و عظمت اور سر بلندیاں عطاء کی گئیں اور جن لوگوں نے نا فرمانیاں کی ہوں گی ان کو آخرت کی ابدی زندگی میں جہنم اور اس جہنم میں کھانے کے لئے ” زقوم کا جنت “ پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو ، پیپ دیا جائے گا اور جہنمی ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اعلان فرما دیں کہ مجھے تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی اجرت اور بدلہ نہیں چاہیے۔ میں تو صرف آخرت کے عذاب ، برے اعمال کے بد ترین انجام اور جہنم کی آگ سے آگاہ کرنے اور ڈرانے آیا ہوں اگر تم نے اللہ کے دین سے منہ پھیر کر شیطان کی طرح غرور وتکبر ، ہٹ دھرمی اور ضد کا اظہار کیا تو جو انجام شیطان کے غرور وتکبر کا ہوا تھا وہی تمہارا بھی ہوگا اگر تم نے میری بات نہ مانی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ساری حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آجائے گی۔
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader
صاد ۔ قسم ہے نصیحت سے بھر پور قرآن کی
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader
یہ کافر اپنے گھمنڈ اور مخالفت میں مبتلا ہیں
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader
ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ( ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے) ہلاک کیا وہ چیختے چلاتے فریاد کرتے رہے لیکن اب ( عذاب سے ) چھٹکارے کا وقت نہیں رہا تھا
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader
اور وہ تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آگیا ۔ کافروں نے کہا کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader
کیسے تعجب کی بات ہے کہ اس نے سارے معبودوں کو ( ملا کر) ایک ہی معبود بنا دیا ۔
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader
ان کے ( قریشی ) سردار یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو بیشک اس میں اس شخص کی ضرور کوئی غرض (لالچ) شامل ہے۔
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader
ہم نے تو اس سے پہلے مذہب و ملت میں ایسی بات نہیں سنی تھی ( ایسا لگتا ہے کہ) یہ محض ایک من گھڑٹ بات ہے۔
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader
کہنے لگے کہ کیا ہم میں سے صرف یہی شخص رہ گیا) تھا جس پر کلام نازل کیا گیا ہے۔ ( اے نبی ﷺ ! ) دراصل یہ میری طرف سے بھیجی گئی نصیحت سے شک میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader
کیا آپ کا وہ رب جو زبردست اور بہت عطاء کرنے والا ہے اس کی رحمت کے خزانے ( ان کفار) کے پاس ہیں ۔
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader
اور کیا آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب چیزوں پر ان کو اختیار حاصل ہے تو ( وہ آسمانوں) پر چڑھ جائیں ۔
جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader
ان کا ایک معمولی سا لشکر ہے جو شکست دیاجائے گا ۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader
ان سے پہلے بھی قوم نوح ، قوم عاد ، میخوں والے فرعون ،
وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader
قوم ثمود ، قوم لوط اور بن کے رہنے والوں نے ( انبیاء کرام کو جھٹلایا۔
اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader
انبیاء کی مخالف جماعتوں نے ان کو جھٹلایا پھر ان پر عذاب نازل ہوا ۔
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader
یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں ان کی مہلت نہ دی جائے گی ۔
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader
وہ ( مذاق اڑاتے ہوئے) کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں یوم الحساب ( قیامت) سے پہلے ہی ہمارا حصہ دے دیا جائے ( عذاب نازل کردیا جائے) ۔
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے جو کچھ یہ کہتے ہیں۔ اور ہمارے بندے دائود کا ذکر کیجئے جو بہت قوت والا اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader
جس کے لئے ہم نے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح ( حمد و ثنائ) کرتے رہتے تھے ۔
وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader
اور پرندے جمع ہو کر سب اس کے ساتھ رجوع کرنے والے ( تسبیح پڑھنے والے) تھے۔
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader
ہم نے اس کی سلطنت کو خوب مضبوط کردیا تھا۔ اس کو حکمت و دانائی اور معاملات کا بہترین فیصلہ کرنے کی
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader
کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے ( دو اہل مقدمہ) لوگوں کی خبر پہنچی ۔ جب وہ دیوار پھاند کر ( حضرت دائود (علیہ السلام) کی) عبادت گاہ میں داخل ہوئے۔
اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader
جب وہ دائود (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا ڈرو مت ۔ ہم دو اہل معاملہ ہیں ۔ ہم میں نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ہمارے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کیجئے۔
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader
یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے (99) دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک نبی ہے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنی دنبی میرے حوالے کر دے اور اس نے مجھے گفتگو میں دبا لیا ہے۔
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader
دائود (علیہ السلام) نے کہا واقعی اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کی درخواست کر کے بڑی زیادتی کی ہے اور اکثر شرکائ (Partners) ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ۔ لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہی ہیں ۔ اور جب دائود (علیہ السلام) نے سمجھا کہ یہ تو ہم نے اس کی آزمائش کی ہے تو اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور جھلک کر سجدے میں گر پڑے۔
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader
پھر ہم نے اس کو معاف کردیا۔ اور بیشک اس کے لئے ہمارے پاس بہترین ٹھکانہ اور مقام ہے
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader
(اللہ نے ارشاد فرمایا کہ) اے دائود بیشک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ (نائب) بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان حق ( و انصاف) کے ساتھ فیصلہ کر اور تو اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ وہ خواہش تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی ۔ بیشک جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader
اور ہم نے آسمان ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ایسے انکار کرنے والے کے لئے بربادی اور جہنم کی آگ ہے۔
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے برابر کردیں گے جو زمین میں فساد مچانے والے ہیں اور کیا ہم پرہیز گاروں کو اور بد کاروں کو برابر کردیں گے ( ہر گز نہیں) ۔
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader
(قرآن حکیم) ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے بڑی برکت والی کتاب ہے تا کہ لوگ ان آیات پر غور و فکر کریں اور عقل و دانش رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader
اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطاء کیا جو (اللہ کے) بہترین بندے اور ( اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader
جب ایک شام ان کے سامنے تیز رفتار اور عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader
تو انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار کے ذکر سے اس مال کی محبت میں لگ کر غافل ہوگیا تھا یہاں تک کہ وہ گھوڑے نظروں سے اوجھل ہو گئے
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader
(پھر سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ذرا) ان کو میرے پاس تو لائو۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ( یعنی ان کو پیار سے دیکھا)
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader
پھر ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ہم نے ان کے تخت پر ایک ( ناقص الخلقت) دھڑ لاڈالا ۔ پھر انہوں نے ( اللہ کی طرف) رجوع کیا
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader
اور عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے معاف کر دیجئے اور مجھے ایسی سلطنت عطاء کیجئے جو میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو ۔ بیشک آپ بہت زیادہ دینے والے ہیں
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader
(اللہ نے فرمایا) تو ہم نے اس طرح ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرم اور خوش گوار رفتار سے چلتی تھی ۔
وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader
اور اسی طرح ہم نے جنات کو بھی ان کے تابع کردیا ۔ وہ جنات جو عمارت بنانے والے ( سمندروں میں) غوطے لگانے والے
وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader
اور وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader
(اللہ نے فرمایا کہ) یہ تمہارے لئے ہمارا عطیہ ہے آپ جس پر چاہیں احسان کریں یا اپنے ہی پاس روک کر رکھ لیں ، اس کا کوئی حساب ( نہ لیا جائے گا)
وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader
اور ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور بہترین انجام ہے۔