38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة ص : بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی سچائیوں کو جھٹلانے اور غرورو تکبر کرنے والوں سے فرمایا ہے کہ وہ جس تعصب ، بےجا ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اللہ کے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلاتے ہوئے ان کو ساحر ، کاہن ، مجنوں اور جھوٹا کہہ رہے ہیں ہر سچائی کا انکار کر کے رات دن اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کر رہے ہیں اور دین پر چلنے کا انکار کر رہے ہیں انہیں قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم فرعون ، قوم لوط اور قوم ایکہ کے بد ترین انجام کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جب اللہ نے ان کے مسلسل انکار اور برے اعمال کی سزا کے طور پر تباہ و برباد کیا تو کوئی ان کی مدد کے لئے نہ آسکا اور وہ صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیئے گئے کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے فرمایا کہ اصل میں تم نے ابھی تک عذاب الٰہی کا مزہ نہیں چکھا ورنہ ایسی فضول باتیں نہ کرتے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ مکہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور مال و دولت پر اترا رہے ہیں انہیں حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کی عبادت ، صبر و شکر اور عدل و انصاف کو سامنے رکھنا چاہیے کہ اللہ نے ان کو اتنی زبردست سلطنتیں عطاء کی تھیں کہ جو ان سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں لیکن انہوں نے حکومت و سلطنت ، مال و دولت اور کائنات کی ہزاروں نعمتوں پر غرور وتکبر اور نا شکری کرنے کے بجائے عاجزی و انکساری اور صبر و شکر کا عظیم مظاہرہ کیا ۔ جب ان کا امتحان لیا گیا تو اس میں پورے اترے ۔ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہے کی موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ زر ہیں ( جنگی سامان) بنا کر اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے انسان ، جنات ، چرند ، پرند اور ہوا تک کو ان کے تابع کردیا گیا تھا ۔ ہمیشہ وہ عاجزی و انکساری اختیار کرتے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے گزارا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب انہیں اپنی سواریوں اور مال و دولت پر کچھ ناز سا ہوگیا تھا اور ان کو اس کا احساس ہوا تو انہوں نے ہر چیز کو ختم کردیا جو اللہ کی محبت اور اطاعت میں آڑے آرہی تھی ۔ ( سورة ص میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک ، پرہیز گار اور صبر و شکر کرنے والے پیغمبر تھے جنہوں نے پوری زندگی اور اس کا ہر لمحہ اللہ کے دین کی سر بلندی میں لگا کر ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ عمل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے والوں کو دین و دنیا کی بھلائیاں اور عظمتیں عطاء فرمائیں اور جنہوں نے کفر و انکار کیا ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ ) (حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہر طرح کی مشکلات ، پریشانیوں اور بیماریوں میں گھر جانے کے باوجود صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس آزمائش میں وہ پورے اترے۔ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کا مشکلات پر صبر اور نعمتوں پر شکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو ایک سخت آزمائش میں ڈالا تو انہوں نے سخت اذیتیں اور تکلیفیں برداشت کیں لیکن تمام حالات پر آپ (علیہ السلام) نے اف تک نہ کیا اور تکلیفوں پر بھی صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ جب وہ اپنے امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اللہ نے ان پر بہت سی عنایتیں کیں اور ان کو پہلے سے بھی زیادہ نعمتوں سے نواز دیا ۔ اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ کرام (رض) کو تسلی دی گئی ہے کہ اس وقت وہ جن مشکلات میں مبتلا ہیں وہ بہت جلد دور ہوجائیں گی چونکہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اس کا یہی دستور ہے کہ اس کے راستے میں مصائب برداشت کرنے والوں کو وہ اجر عظیم سے نوازتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی جماعت ہے جس نے ساری زندگی دین اسلام کی سچائیوں کو پھیلانے میں گزار دی ۔ پھر اللہ کے راستے میں ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں لیکن صبر و برداشت کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطاء فرما دی اور ان کا انکار کرنے والوں اور نا شکری کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کی بنیادیں کھود کر رکھ دیں اور ان کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ آج ان کی زندگی افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطاعت و فرمانبرداری کی ان کو دنیا اور آخرت میں عزت و عظمت اور سر بلندیاں عطاء کی گئیں اور جن لوگوں نے نا فرمانیاں کی ہوں گی ان کو آخرت کی ابدی زندگی میں جہنم اور اس جہنم میں کھانے کے لئے ” زقوم کا جنت “ پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو ، پیپ دیا جائے گا اور جہنمی ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اعلان فرما دیں کہ مجھے تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی اجرت اور بدلہ نہیں چاہیے۔ میں تو صرف آخرت کے عذاب ، برے اعمال کے بد ترین انجام اور جہنم کی آگ سے آگاہ کرنے اور ڈرانے آیا ہوں اگر تم نے اللہ کے دین سے منہ پھیر کر شیطان کی طرح غرور وتکبر ، ہٹ دھرمی اور ضد کا اظہار کیا تو جو انجام شیطان کے غرور وتکبر کا ہوا تھا وہی تمہارا بھی ہوگا اگر تم نے میری بات نہ مانی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ساری حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آجائے گی۔

Ayahs 38:1–20

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

صاد ۔ قسم ہے نصیحت سے بھر پور قرآن کی

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

یہ کافر اپنے گھمنڈ اور مخالفت میں مبتلا ہیں

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ( ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے) ہلاک کیا وہ چیختے چلاتے فریاد کرتے رہے لیکن اب ( عذاب سے ) چھٹکارے کا وقت نہیں رہا تھا

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور وہ تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آگیا ۔ کافروں نے کہا کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیسے تعجب کی بات ہے کہ اس نے سارے معبودوں کو ( ملا کر) ایک ہی معبود بنا دیا ۔

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

ان کے ( قریشی ) سردار یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو بیشک اس میں اس شخص کی ضرور کوئی غرض (لالچ) شامل ہے۔

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

ہم نے تو اس سے پہلے مذہب و ملت میں ایسی بات نہیں سنی تھی ( ایسا لگتا ہے کہ) یہ محض ایک من گھڑٹ بات ہے۔

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کہنے لگے کہ کیا ہم میں سے صرف یہی شخص رہ گیا) تھا جس پر کلام نازل کیا گیا ہے۔ ( اے نبی ﷺ ! ) دراصل یہ میری طرف سے بھیجی گئی نصیحت سے شک میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا آپ کا وہ رب جو زبردست اور بہت عطاء کرنے والا ہے اس کی رحمت کے خزانے ( ان کفار) کے پاس ہیں ۔

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

اور کیا آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب چیزوں پر ان کو اختیار حاصل ہے تو ( وہ آسمانوں) پر چڑھ جائیں ۔

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

ان کا ایک معمولی سا لشکر ہے جو شکست دیاجائے گا ۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے بھی قوم نوح ، قوم عاد ، میخوں والے فرعون ،

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

قوم ثمود ، قوم لوط اور بن کے رہنے والوں نے ( انبیاء کرام کو جھٹلایا۔

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

انبیاء کی مخالف جماعتوں نے ان کو جھٹلایا پھر ان پر عذاب نازل ہوا ۔

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں ان کی مہلت نہ دی جائے گی ۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

وہ ( مذاق اڑاتے ہوئے) کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں یوم الحساب ( قیامت) سے پہلے ہی ہمارا حصہ دے دیا جائے ( عذاب نازل کردیا جائے) ۔

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے جو کچھ یہ کہتے ہیں۔ اور ہمارے بندے دائود کا ذکر کیجئے جو بہت قوت والا اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

جس کے لئے ہم نے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح ( حمد و ثنائ) کرتے رہتے تھے ۔

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندے جمع ہو کر سب اس کے ساتھ رجوع کرنے والے ( تسبیح پڑھنے والے) تھے۔

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

ہم نے اس کی سلطنت کو خوب مضبوط کردیا تھا۔ اس کو حکمت و دانائی اور معاملات کا بہترین فیصلہ کرنے کی

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے جو دنیا کے لالچ اور نفسانی خواہشات میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ جنہیں اپنی طاقت و قوت پر اس قدر گھمنڈ اور ناز ہے کہ اپنے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے ان کے اس غرور وتکبر اور گھمنڈ نے ان کو قرآن جیسی کتاب کے انکار پر مجبور کردیا ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ کفار جس قوت و طاقت کو بہت کچھ سمجھ رہے ہیں اگر انسانی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان سے پہلی قومیں بہت زبردست طاقت و قوت کی مالک تھیں مگر جب انہوں نے جاہلانہ عقائد ، ضد ، ہٹ دھرمی اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تو ان کو ہلاک کردیا گیا اور اس وقت کا ان کا رونا ، چلانا اور چیخنا ان کے کام نہ آسکا اور وہ عبرت ناک انجام سے دو چار ہوئے۔ قوم نوح ، قوم عاد ، زبردست طاقت و قوت والا فرعون ، قوم ثمود ، قوم لوط اور بن والے یہ سب کے سب طاقت ور حکومتوں ، سلطنتوں ، اونچی اونچی بلڈنگوں، مال، اولاد اور تجاریوں کے مالک تھے لیکن جب انہوں نے اللہ و رسول کی نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تب وہ اپنے غرور وتکبر اور نا فرمانیوں کے سمندر میں ڈوب دیئے گئے اور وہ تاریخ کے صفحات پر قصے کہانی بن کر رہ گئے ، چونکہ ان آیات کے پہلے مخاطب کفار عرب تھے اس لئے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب تمہارے اندر اللہ کے محبوب اور آخری نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ موجود ہیں اگر تم نے ان کے ساتھ وہی روش اور انداز اختیار کیا جس کی وجہ سے تم سے پہلی قوموں کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے تو تمہیں اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ مفسرین نے ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے جب مکہ کے تمام سردار مل کر نبی کریم ﷺ کے چچا ابو طالب کے پاس پہنچے اور انہوں نے یہ شکوہ کیا کہ اے ابو طالب تمہارا بھیجتا ہمارے بتوں اور رسموں کو براکہتا ہے تم کسی طرح ان کو سمجھائو کہ وہ اپنی بات کریں مگر ہمارے بتوں ، رسوم اور عبادات اور معاشرہ کی رسموں کی برائی کرنا چھوڑ دیں ۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو ابو طالب نے کہا کہ اے محمد ﷺ عرب کے سرداروں نے تمہاری شکایت کی ہے تم اپنا کام کرو کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ میں تو ان سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اس کو مان لیں تو عرب و عجم کی ساری طاقتیں ان کے قدموں میں ہوں گی۔ ابو طالب نے تمام سرداروں کو جمع کر کے یہ کہا کہ محمد ﷺ تو صرف ایک بات کہتے ہیں وہ سن لو ۔ سرداروں نے کہا کہ وہ کون سی بات یا کلمہ ہے جس کی وجہ سے ہم عرب و عجم پر غالب آجائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک کلمہ یہ ہے ” لا الہ الا اللہ ‘ ‘ اس کلمہ پر ایمان لے آئو ساری دنیا پر تمہاری حکومت ہوگی ۔ سرداروں نے بگڑ کر کہا کہ چلو اٹھو اور اپنے بتوں اور رسم و رواج پر ڈٹے رہو کیونکہ یہ محمد ﷺ تو یہ چاہتے ہیں کہ تین سو ساٹھ بتوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کی عبادت و بندگی کی جائے ۔ یہ ایسی انوکھی اور نئی بات ہے جو ہم نے آج تک کسی ملت اور قوم سے نہیں سنی ۔ سرداروں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے کچھ اور بات اور غرض ہے ۔ کہنے لگے کہ کس قدر تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسے شخص کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو ہم میں سے ہی جیسا بشر ہے۔ یہ سب جھوٹ ہے اور جادو گری ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے اتنے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کو مان لیں ۔ ہم تین سو ساٹھ بت رکھتے ہیں وہ سب مل کر ایک مکہ کا انتظام نہیں سنبھال سکتے وہ ایک معبود کی بات کرتے ہیں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اللہ تنہاء پورے نظام کائنات کو چلا سکتا ہے ۔ قریشی سردار اٹھ کر چل دیئے اور کہنے لگے کہ اٹھو اور چلو تم اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو اور کسی بات کی پرواہ نہ کرو ۔ وہ کہتے تھے کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ نے اپنا کلام نازل کیا ہے حالانکہ عرب میں بڑے بڑے صاحب بصیرت سردار لوگ موجود تھے جو اس بات کے مستحق تھے کہ اتنے بڑے کام کے لئے ان کو منتخب کیا جاتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے آپ کو خود مختار اور بڑا سمجھتے ہیں تو یہ ایسا کریں کہ کسی ذریعہ سے یہ عرش الٰہی تک پہنچ کر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں تا کہ وہاں سے اپنے من پسند لوگوں پر حمتیں نازل کریں ۔ فرمایا کہ یہ لوگ عرش الٰہی یا آسمانوں کی بلندیوں پر کیا پہنچیں گے یہ تو وہ لوگ ہیں جو اپنی اسی سر زمین پر شکست کھا جائیں گے اور اس وقت کوئی چیز ان کے کام نہ آسکے گی ۔ آج یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جس عذاب کی بات کی جاتی ہے وہ جلد از جلد آجائے تا کہ یہ روز روز کی باتیں ختم ہوں فرمایا کہ عذاب کی جلدی کرنے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جب ایک چنگھاڑ یا دھماکہ ہوگا یعنی صور پھونکے جانے کے بعد قیامت قائم ہوگی تو پھر کسی کو مہلت یا ڈھیل نہیں دی جائے گی ۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر کیجئے اور اپنی معمولی معمولی سرداریوں پر ناز کر کے سچائیوں کا انکار کرنے والوں کو حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کی سلطنت اور قوت و طاقت کا حال سنایئے اور ان کو بتادیجئے کہ اتنی بڑی سلطنت کے باوجود وہ اللہ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے اور ہر وقت اللہ کی طرف رجوع رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے اچھی مثال حضرت دائود (علیہ السلام) کی ہے جو (1) صبر سے کام لیتے تھے۔ (2) صرف اللہ کی طرف دھیان لگائے رہتے تھے۔ (3) وہ صبح شام اللہ کی حمد وثناء اور تسبیح میں لگے رہتے تھے۔ جب وہ زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ہم آواز ہوجاتے تھے۔ (4) ان کی سلطنت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تھی ، ہر طرف ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور سب پر ان کا حکم چلتا تھا۔ (5) ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی۔ (6) وہ نہایت ذہین و ذکی آدمی تھے اور وہ ہر بات کی تہہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ (7) جب کوئی مقدمہ قیش ہوتا تو وہ اس کا بہترین فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ (8) وہ ہر بات کو اس طرح سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں شک و شبہ نہ رہتا تھا۔ (9) سلطنت کا کاروبار نہایت دیانت ، امانت ، دانائی اور ہوشیاری سے کرتے تھے۔ (10) وہ ہر وقت اللہ کی عبادت و بندگی کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے اپنی روزی پیدا کرتے تھے۔ حضرت ابو دائود (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر آتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ وہ سب سے زیادہ عبادت کرنے والے شخص تھے۔ ( بخاری ، مسلم) ان آیات اور حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کے عظیم پہلوؤں کا ذکر کر کے کفار عرب کو شرم دلائی گئی ہے کہ وہ اسی مال و دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں پر اس قدر اچھل کود رہے ہیں جب کہ حضرت دائود (علیہ السلام) عظیم سلطنت کے فرماں روا ہونے کے باوجود ہر وقت اللہ کی مخلوق کی خدمت اور اللہ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو اور ان کی عبادت و بندگی کا انداز وہ بہترین نمونہ ہے جس پر عمل کرنے سے دنیا و آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں عطاء کی جاتی ہیں ، لیکن جو لوگ نا فرمانیوں میں لگے رہتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کا عبرت ناک انجام ہوا کرتا ہے۔
Ayahs 38:21–26

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے ( دو اہل مقدمہ) لوگوں کی خبر پہنچی ۔ جب وہ دیوار پھاند کر ( حضرت دائود (علیہ السلام) کی) عبادت گاہ میں داخل ہوئے۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب وہ دائود (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا ڈرو مت ۔ ہم دو اہل معاملہ ہیں ۔ ہم میں نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ہمارے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کیجئے۔

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے (99) دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک نبی ہے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنی دنبی میرے حوالے کر دے اور اس نے مجھے گفتگو میں دبا لیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

دائود (علیہ السلام) نے کہا واقعی اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کی درخواست کر کے بڑی زیادتی کی ہے اور اکثر شرکائ (Partners) ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ۔ لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہی ہیں ۔ اور جب دائود (علیہ السلام) نے سمجھا کہ یہ تو ہم نے اس کی آزمائش کی ہے تو اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور جھلک کر سجدے میں گر پڑے۔

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو معاف کردیا۔ اور بیشک اس کے لئے ہمارے پاس بہترین ٹھکانہ اور مقام ہے

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

(اللہ نے ارشاد فرمایا کہ) اے دائود بیشک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ (نائب) بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان حق ( و انصاف) کے ساتھ فیصلہ کر اور تو اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ وہ خواہش تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی ۔ بیشک جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا) تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل کرنے کے بعد وہ بنی اسرائیل کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ حضرت طالوت جن کی سربراہی میں جالوت کے زبردست لشکر کو مٹھی بھر مسلمانوں نے بد ترین شکست دے کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا انہوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی شجاعت و بہادری ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا تھا ۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) نے نظام حکومت کو سنبھالا اور بڑی تیزی سے کفار و مشرکین کو شکست پر شکست دے کر بنی اسرائیل کی عظیم مملکت کی بنیاد رکھ دی ۔ یہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی عظمت ہے کہ آپ نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصاف پسند حکمران ، بادشاہ اور ایک اصول پسند انسان تھے جن کی نبی کریم ﷺ نے بھی بہت تعریف فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت نہ ہوتا تھا جس میں حضرت دائود (علیہ السلام) اور آل دائود میں سے کوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول نہ ہوتا ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ انہوں نے رات کے اوقات کو بھی اسی طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ جس میں ایک تہائی رات عبادت کرتے اور بہت کم آرام فرماتے تھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے دنوں کو اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ ایک دن دربار عام ہوتا دوسرے دن آپ مقدمات کو سن کر عدل و انصاف سے لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے اور ایک دن آپ نے اپنے گھر والوں کے لئے مخصوص کر رکھا تھا ۔ آپ کے اصول اتنے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف کسی بات کو پسند نہ فرماتے تھے ۔ ایک رات آپ اپنے محل میں اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول تھے چاروں طرف پہرے دار موجود تھے آپ نے دیکھا کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر آگئے ہیں ۔ انہوں نے آتے ہی بڑی بےباکی سے کہا کہ آپ گھبرایئے مت ہم دونوں ایک مسئلہ میں فریق ہیں اگر آپ ہمارے درمیان فیصلہ کرا دیں اور ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے دیں گے تو ہماری مشکل حل ہو سکتی ہے ۔ حالانکہ حضرت دائود (علیہ السلام) ایک اصول پسند ، عبادت گزار تھے انہوں نے ان دونوں کے آنے پر حیرت تو کی مگر نہ تو ان دونوں کو سزا دی نہ ان کو برا بھلا کہا بلکہ ان کی بات کو نہایت توجہ سے سن کر جو بھی عدل و انصاف کا تقاضا تھا اس کے مطابق فیصلہ فرما دیا ۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ ایک دنبی مجھے دے دو چونکہ یہ طاقت ور ہے تو اس نے مجھے اس بات میں دبا رکھا ہے۔ اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ واقعی اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کی درخواست کر کے بڑی زیادتی کی ہے۔ آپ نے ایک اصول کی بات بھی فرما دی کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ آپس میں شریک لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کر جاتے ہیں ۔ البتہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اگرچہ وہ بہت تھوڑے سے ہیں لیکن وہ اس ظلم و زیادتی سے بچے رہتے ہیں ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے کے بعد وہ دونوں جیسے ہی گئے وہ سوچنے لگے کہ اتنے زبردست پہرے کے باوجود دو آدمیوں کا اچانک ان کی خلوت گاہ اور عبادت گاہ میں آجانا اور بڑی بےباکی سے انصاف کا طلب کرنا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ ایک دم حضرت دائود (علیہ السلام) کو احساس ہوا کہ شاید یہ دونوں اللہ کی طرف سے میری آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ممکن ہے مجھے اپنی سلطنت ، فوج ، مال و دولت اور عبادت پر فخر اور نازہو گیا تھا تو اللہ نے مجھے آگاہ کرنے کے لئے ان کو بھیجا ہوگا کہ ہزار پہروں کے باوجود یہ اللہ کی قدرت تھی کہ دو اجنبی اندر داخل ہوگئے تھے۔ جیسے ہی آپ اس نتیجے تک پہنچے تو نہایت عاجزی سے سجدہ میں گر پڑے اور اپنے قصور کی اللہ سے معافی مانگنے لگے اور سب چیزوں کی طرف سے اپنی طبیعت کو ہٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ جس کو بندوں کی عاجزی و انکساری بہت پسند ہے اس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی توبہ کو قبول کرلیا ان کے قصور کو معاف فرما دیا اور فرمایا کہ بلا شبہ ہمارے پاس ان کا بہترین مقام اور رتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے دائود (علیہ السلام) بیشک میں نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلے کرو ۔ اپنی خواہشات کی طرف نہ دیکھو کیونکہ اگر تم نے اپنی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تمہیں راستے سے بھٹکا دے گا اور جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کو سخت سزا دی جاتی ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دن کا بھلا دیا ہے جب تمام لوگوں کو ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا ۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں۔ (1) جو دو فریق معاملہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی محراب یعنی عبادت گاہ میں داخل ہوئے تھے وہ کون تھے اور کیا چاہتے تھے ؟ تو عرض ہے کہ غالباً یہ دونوں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے تھے جو ان کو کسی خاص واقعہ یا کسی خاص بات سے آگاہ اور خبردار کرنے آئے تھے۔ اس سلسلہ میں توریت یعنی اسرائیل روایات میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ایک افسانے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے کیونکہ ایک جلیل القدر پیغمبر اس سطح تک نہیں گر سکتا کہ وہ اپنی خواہش کے لئے دوسروں کے گھر برباد کر دے۔ یہودیوں کے سازشی ذہن نے یہ قصہ گھڑ کر توریت میں شامل کردیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کسی شادی شدہ عورت پر فریفتہ ہوگئے تھے اور انہوں نے اس کے شوہر سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنی بیوی کو آزاد کر دے تا کہ وہ اس سے نکاح کرسکیں ۔ ایسا ممکن تو ہو سکتا تھا کیونکہ بنی اسرائیل میں اس طرح کی خواہش کوئی عیب کی بات نہ تھی بلکہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص دوسرے کی خواہش کے احترام میں اپنی بیوی کو طلاق دے کر چھوڑ دیتا اور دوسرا اس سے نکاح کرلیا کرتا تھا ۔ ممکن ہے کسی درجہ میں حضرت دائود (علیہ السلام) نے سوچا ہو لیکن ان کے مقام اور رتبہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی اس ارادہ سے رک جانے کے لئے آگاہ کیا گیا ہو اور اسی لئے دو فرشتوں کو آدمیوں کی شکل میں بھیجا گیا ہوتا کہ ان کی آزمائش بھی کی جائے اور ان کو اس ارادے سے روک دیا جائے۔ (2) نناوے کے لفظ سے بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے گھر میں نناوے بیویاں تھیں اور ایک اور سے نکاح کرنے کی خواہش تھی ۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے کہ ان کے گھر نناوے بیویاں تھیں بلکہ ان کے گھر میں کثرت سے بیویوں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ (3) انبیاء کرام اور ان کے طریقے پر چلنے والوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگر غفلت میں ان سے کوئی کوتاہی ہوجائے تو وہ فوراً جھک کر عاجزی و انکساری سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگ لیتے ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کے قصور کو اسی وقت معاف فرما دیتا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جنہیں اللہ نے ایک بڑا مقام عطاء کیا تھا جب انہیں اس کا احساس ہوا کہ شاید مجھ سے کوتاہی ہوگئی ہے تو وہ فوراً ہی سجدہ میں گر گئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ اسی لئے سورة ص کی اس آیت پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ جس طرح حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ کے سامنے سجدہ کیا تھا۔ چناچہ حضرت سعید ابن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص کی اس آیت پر سجدہ فرمایا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کر رہے ہیں ۔ اسی طرح حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ میں سورة ص کی آیت سجدہ کو پڑھا تو آپ منبر سے نیچے اتر آئے جب آپ نے سجدہ کیا تو حضور ﷺ کو دیکھ کر تمام صحابہ کرام ؓ نے بھی سجدہ کیا ۔ (4) اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دو صاحب معاملہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کر جاتے ہیں ۔ طاقت ورکمزور کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے اور مال دار مفلس اور غر یب آدمی کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ پر ایمان لا کر اس کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کی عبادت کرتے ہیں وہ دوسروں پر ظلم و زیادتی سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگرچہ ایسے لوگ دنیا میں بہت تھوڑی سے ہوتے ہیں مگر وہ سچائی کو قائم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ (5) اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تم دنیا میں اللہ کے خلیفہ اور نائب ہو تمہارا کام یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف سے کام لو اور اپنی خواہشات کو بھلا دو کیونکہ اپنی خواہشات کے پیچھے وہی لوگ لگے رہتے ہیں جو گمراہ ہیں اور آخرت میں زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینے پر یقین نہیں رکھتے۔
Ayahs 38:27–29

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ایسے انکار کرنے والے کے لئے بربادی اور جہنم کی آگ ہے۔

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے برابر کردیں گے جو زمین میں فساد مچانے والے ہیں اور کیا ہم پرہیز گاروں کو اور بد کاروں کو برابر کردیں گے ( ہر گز نہیں) ۔

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(قرآن حکیم) ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے بڑی برکت والی کتاب ہے تا کہ لوگ ان آیات پر غور و فکر کریں اور عقل و دانش رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔

لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29 :۔ باطل (فضول ، بےکار) ظن ( گمان ، تصور ، خیال) ویل ( بربادی) ام ( کیا) لیدبروا ( تا کہ وہ غور و فکر کریں) ۔ تشریح آیت نمبر 27 تا 29 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی ہر چیز کو ایک مقصد سے کیا ہے کوئی چیز بےمقصد اور بےقیمت نہیں ہے۔ جس کا مقصد جتنا اعلیٰ اور بہتر ہے اس کی قیمت اور وزن بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے دنیا کی ہر چیز انسانوں کے لئے بنھائی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ شک دنیا تمہارے لئے بنائی گئی ہے لیکن تم آخرت کے لئے بنائے گئے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ انسان کے کام آئے لیکن خود انسان کی زندگی کا یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ صرف دنیا کا ہو کر رہ جائے اور اسی کو مقصد زندگی بنا لے بلکہ وہ اس دنیا کو کھیتی سمجھ کر اس میں نیکیوں کے بیج بوتا چلا جائے تا کہ یہ فصل اس کے آخرت میں کام آئے اور جب پیچھے پلٹ کر دیکھے تو وہ ایک لہلہاتا ہوا باغ نظر آئے۔ وہ لوگ بڑے بد قسمت ہیں جو زندگی بھر گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں اور نیکیوں سے دور دور رہتے ہیں اور اسی کائنات کو سب کچھ سمجھ کر دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ اپنے کفر کے ساتھ جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو سوائے ذلت و رسوائی کے ان کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے گا اور آخرت کی بربادی اور جہنم کی آگ ان کا مقدر بن کر رہ جائے گا ۔ یقینا اللہ و رسول پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی گزارنے والے اور زمین میں تباہی و بربادی مچا کر اپنی آخرت کو برباد کرنے والے انجام کے اعتبار سے برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس نے نیکی اور پرہیز گاری کی زندگی گزاری ہو وہ اس شخص کے برابر ہوجائے جس نے پوری زندگی گناہوں میں بسر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی کتاب قرآن کریم جس میں برکتیں اور رحمتیں ہیں اس لئے نازل کی ہے تا کہ ان آیتوں میں غور کیا جائے اور جو بھی علم ، عقل اور فہم و دانش رکھنے والے ہیں وہ ان آیات سے نصیحت حاصل کریں اور اس بات کو سمجھ لیں کہ اصل زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے جو شخص وہاں کامیاب و بامراد ہوگیا وہی خوش نصیب ہے لیکن جس نے یہ سمجھا کہ یہ دنیا ، زمین ، آسمان ، چاند ، سورج ، ستارے فضول اور بےکار پیدا کئے گئے ہیں یا ان کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے ہم جس طرح چاہیں زندگی بسر کریں نہ کوئی ہمیں دیکھنے والا ہے اور نہ حساب لینے والا ہے تو ایسے لوگ جب مرنے کے بعد آخرت میں پہنچیں گے تو ان کے اعمال کی نحوست ان کو آخرت میں ذلیل و رسوا کر کے چھوڑے گی ۔
Ayahs 38:30–40

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطاء کیا جو (اللہ کے) بہترین بندے اور ( اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ایک شام ان کے سامنے تیز رفتار اور عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار کے ذکر سے اس مال کی محبت میں لگ کر غافل ہوگیا تھا یہاں تک کہ وہ گھوڑے نظروں سے اوجھل ہو گئے

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(پھر سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ذرا) ان کو میرے پاس تو لائو۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ( یعنی ان کو پیار سے دیکھا)

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

پھر ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ہم نے ان کے تخت پر ایک ( ناقص الخلقت) دھڑ لاڈالا ۔ پھر انہوں نے ( اللہ کی طرف) رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اور عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے معاف کر دیجئے اور مجھے ایسی سلطنت عطاء کیجئے جو میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو ۔ بیشک آپ بہت زیادہ دینے والے ہیں

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) تو ہم نے اس طرح ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرم اور خوش گوار رفتار سے چلتی تھی ۔

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے جنات کو بھی ان کے تابع کردیا ۔ وہ جنات جو عمارت بنانے والے ( سمندروں میں) غوطے لگانے والے

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا کہ) یہ تمہارے لئے ہمارا عطیہ ہے آپ جس پر چاہیں احسان کریں یا اپنے ہی پاس روک کر رکھ لیں ، اس کا کوئی حساب ( نہ لیا جائے گا)

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور بہترین انجام ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ) تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پیغمبر ہیں جنہیں اللہ نے ایک عظیم الشان حکومت و سلطنت سے نوازا تھا ۔ جس کا مقصد ساری دنیا میں اللہ کا دین پہنچانا تھا ۔ اللہ نے ان کے خلوص کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر انہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا نیک ، پارسا بیٹا عطاء فرمایا جو اللہ کے نبی ، حسن انتظام کے مالک حکمران ، ہر بات میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور جذبہ جہاد سے سر شار تھے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ ایک دن جہاد کے لئے تیار کئے گئے بہترین پلے ہوئے ، سبک رفتار اصیل گھوڑوں کی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے تو آپ نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو تعلق ، انسیت اور محبت ہے وہ دنیا کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے پروردگار کی وجہ سے ہے۔ اس ارشاد کے درمیان جب وہ گھوڑے نظروں سے ذرا اوجھل ہوئے تو آپ نے ان کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ جب وہ گھوڑے دوبارہ قریب آئے تو آپ نے آگے بڑھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر چمکارنا شروع کردیا ( ابن جریر طبری ، امام رازی) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں نہایت عاجزی کے ساتھ یہ درخواست پیش کی ۔ الٰہی مجھے ایک ایسی حکومت و سلطنت عطاء فرما جو اس سے پہلے کسی کو نہ دی گئی ہو اور نہ آئندہ دی جائے گی ، چناچہ اللہ نے ان کی دعا کو قبول کر کے ایسی سلطنت عطاء کی جو اس سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھی اور آئندہ بھی نہ دی جائے گی ۔ ہوا کو ان کے حکم کے تابع کردیا ۔ طوفانی ہوا جب ان کے تخت کو لے اڑتی تو اس تخت پر بیٹھنے والوں کے لئے ایسی نرم اور خوش گوار رفتار سے چلنے والی ہوا ہوتی تھی کہ بیٹھنے والوں کو اس کی برق رفتاری کا احساس تک نہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمام جنات کو ان کے حکم کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے بڑی سے بڑی عمارتیں تعمیر کرتے تھے چناچہ بیت المقدس کی تعمیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نگرانی میں ان جنات ہی نے کی تھی ۔ وہ جنات بھی آپ کے تابع تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کر قیمتی موتی اور جواہرات نکالتے تھے۔ اگر ان جنات میں سے کسی سے کوئی غلطی اور کوتاہی ہوجاتی تو وہ ان کو قید کرلیا کرتے تھے اور پھر جب چاہتے ان سے کام لے لیتے تھے۔ غرضیکہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بن دائود (علیہ السلام) کو بیشمار نعمتوں سے نواز کر فرما دیا تھا کہ جو نعمتیں ہم نے تمہیں عطاء کی ہیں ان میں تمہیں پورا پورا اختیار ہے جس کو جتنا دینا چاہیں دیدیں روکنا چاہیں روک لیں ان سے اس کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا کیونکہ اللہ نے ان کو اپنا قرب اور ہر کام کے بہترین انجام سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطاء کیا لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا بیٹا ان کا جانشینی کا حق ادا نہ کرسکا بلکہ وہ تخت سلیمانی پر ایک بےجان لاشہ کی طرح سے تھا۔ تاریخ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا بیٹا ان کا جانشینی کا حق ادا نہ کرسکا اور اتنی عظیم سلطنت چند برسوں میں بکھر کر رہ گئی۔ ٭حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات زندگی بیان کرنے کے لئے اسرائیلی روایات کو جس طرح پیش کیا گیا ہے ان کو اس لئے یہاں نقل نہیں کیا گیا کہ جب ان واقعات کے پیچھے قرآن حکیم اور احادیث رسول اللہ ﷺ کی کوئی وضاحت نہیں ہے تو ان اسرائیلی روایات کو نقل کرنا ذہنوں کو منتشر کرنا ہے۔ ٭ان آیات سے ثابت ہوا کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا ہر کام محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے ۔ اس میں ان کی اپنی ذاتی غرض نہیں ہوتی۔ ٭جہاد انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ جہاد کے لئے اس کے اسباب کی تیاری اور اس میں دلچسپی کا اظہار حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جہاد کے لئے تیار کئے گئے گھوڑوں کو ایک دفعہ دیکھنے کے بعد دوبارہ طلب کیا در حقیقت عام لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ وہ بھی جذبہ جہاد زندہ و تابندہ رکھیں۔ بالکل اسی طرح نبی کریم ﷺ گھنٹوں کھڑے ہو کر نیزہ بازی اور جہاد کے لئے تیار کئے گئے گھوڑوں کی دوڑ کو دیکھا کرتے تھے۔ اصل میں جس چیز میں بڑے اور بزرگ دلچسپی لیتے ہیں اس میں ان کے بچے اور نوجوان بھی دلچسپی لیتے ہیں ۔ ہمارے دین نے یہ بتایا ہے کہ ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہنا اور اس کی تیاری کرتے رہنا بہت بڑی عبادت ہے ۔ جو قوم جہاد کا راستہ چھوڑ دیتی ہے وہ درحقیقت اپنی موت کے پروانے پر دستخط کردیتی ہے۔ جہاد کے جذبوں کو زندہ رکھنے سے ہی اس امت کی زندگی ہے ، آج کفار و مشرکین اس خوف سے سخت پریشان ہیں کہ کہیں ان میں پھر سے کوئی خالد بن ولید اور طارق بن زیاد پیدا نہ ہوجائے جو ان کی صفوں کو الٹ دے اور اپنی کشتیوں کو جلا کر جذبہ جہاد کو زندہ اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھتا چلا جائے ۔ اس خوف سے انہوں نے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے کر اسلامی جہاد کو بد نام کرنے کی بھر پور مہم شروع کر رکھی ہے تا کہ اقتدار سے چمٹی ہوئی طاقتیں خوف کے ما رے ” دین فروشی “ تک پر راضی ہوجائیں اور ہر اس طاقت کو کچل ڈالیں جہاں جذبہ جہاد کا شائبہ بھی موجود ہو ۔ ہمیں یقین ہے کہ کفر کی یہ طاقتیں جہاد کو اور اس کے جذبے کو تو مٹا نہ سکیں گی بلکہ خود ہی مٹ جائیں گی اور اللہ کا دین ہر مذہب پر غالب آ کر رہے گا ۔ انشاء اللہ۔