Ayahs 38:1–23 یعنی یہ عظیم الشان، عالی مرتبہ قرآن (جو عمدہ نصیحتوں سے پر، اور نہایت موثر طرز میں لوگوں کو ہدایت و معرفت کی باتیں سمجھانے والا ہے) با آواز بلند شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ قرآنی صداقت اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم میں کچھ قصور ہے یا حضور ﷺ پر نور اس کی تبلیغ و تبیین میں معاذ اللہ مقصر ہیں۔ بلکہ انکار و انحراف کا اصلی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹی شیخی، جاہلانہ غرور و نخوت اور معاندانہ مخالفت کے جذبات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا اس دلدل سے نکلیں تو حق و صداقت کی صاف سڑک نظر آئے۔
Ayah 38:34 یعنی ان کو معلوم رہنا چاہیے کہ اسی غرور وتکبر کی بدولت انبیاء اللہ سے مقابلہ ٹھان کر بہت سی جماعتیں پہلے تباہ و برباد ہوچکی ہیں وہ لوگ بھی مدتوں خدا کے پیغمبروں سے لڑتے رہے۔ پھر جب برا وقت آکر پڑا اور عذاب الٰہی نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو گھبرا کر شور مچانے اور خدا کو پکارنے لگے۔ مگر اس وقت فریاد کرنے سے کیا بنتا۔ رہائی اور خلاصی کا موقع گزر چکا تھا، اور وقت نہیں رہا تھا کہ ان کے شوروبکاء کی طرف توجہ کی جائے۔
Ayah 38:45 یعنی آسمان سے کوئی فرشتہ آتا تو خیر ایک بات تھی۔ ہم ہی میں سے ایک آدمی کھڑا ہو کر ہم کو ڈرانے دھمکانے لگے اور کہے میں آسمان والے خدا کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ عجیب بات ہے اب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ ایک جادوگر نے جھوٹا ڈھونگ بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ جادو کے زور سے کچھ کرشمے دکھا کر انہیں معجزہ کہنے لگے اور چند قصے کہانیاں جمع کر کے جھوٹا دعویٰ کردیا کہ یہ اللہ کے اتارے ہوئے علوم ہیں۔ اور میں اس کا پیغمبر ہوں۔
Ayahs 38:5–66 یعنی اور لیجئے ! اتنے بیشمار دیوتاؤں کا دربار ختم کر کے صرف ایک خدا رہنے دیا۔ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات کیا ہوگی کہ اتنے بڑے جہان کا انتظام اکیلے ایک خدا کے سپرد کردیا جائے۔ اور مختلف شعبوں اور محکموں کے جن خداؤں کی بندگی قرنوں سے ہوتی چلی آتی تھی وہ سب یک قلم موقوف کردی جائے۔ گویا ہمارے باپ دادے نرے جاہل اور بیوقوف ہی تھے جو اتنے دیوتاؤں کے سامنے سر عبودیت خم کرتے رہے۔ روایات میں ہے کہ ابو طالب کی بیماری میں ابو جہل وغیرہ چند سرداران قریش نے ابو طالب سے آن کر حضرت ﷺ کی شکایت کی کہ یہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اور ہمیں طرح طرح سے احمق بناتے ہیں۔ آپ ان کو سمجھائیے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے چچا ! میں ان سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کی خدمت میں جزیہ پیش کرنے لگے۔ وہ خوش ہو کر بولے کہ بتلائیے وہ کلمہ کیا ہے، آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ فرمایا زیادہ نہیں بس ایک اور صرف ایک ہی کلمہ ہے ' لا الہ الا اللہ " یہ سنتے ہی طیش میں آکر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا اتنے خداؤں کو ہٹا کر اکیلا ایک خدا۔ چلو جی ! یہ اپنے منصوبے سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ یہ تو انہی ہمارے معبودوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ تم بھی مضبوطی سے اپنے معبودوں کی عبادت و حمایت پر جمے رہو۔ مباد ان کا پروپیگنڈا کسی ضعیف الاعتقاد کا قدم پرانے آبائی طریقہ سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائے۔ ان کی ان تھک کوشش کے مقابلہ میں ہم کو بہت زیادہ صبر و استقلال دکھانے کی ضرورت ہے۔
7 یعنی محمد ﷺ جو اس قدر زور و شور اور عزم و استقلال سے ہمارے معبودوں کے خلاف جہاد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ضرور اس میں ان کی کوئی غرض ہے، وہ یہ ہی کہ ایک خدا کا نام لے کر ہم سب کو اپنا محکوم اور مطیع بنالیں اور دنیا کی حکومت و ریاست حاصل کریں۔ سو لازم ہے کہ اس مقصد میں ہم ان کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ بعض مفسرین نے " ان ہذا لشیئً یراد " کا مطلب یہ لیا ہے کہ بیشک یہ وہ چیز ہے جس کا محمد ﷺ ارادہ ہی کرچکے ہیں۔ کسی طرح اس سے ہٹنے والے نہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ بات (معلوم ہوتا ہے) ہونے والی ہے۔ اللہ کو یہ ہی منظور ہے کہ دنیا میں انقلاب ہو۔ لہذا جہاں تک ہو سکے صبر و تحمل سے اپنے قدیم دین و آئین کی حفاظت کرتے رہو۔ یا ممکن ہے ازراہ تحقیر کہا ہو کہ بیشک محمد ﷺ کے ارادے سب کچھ ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ آدمی جو راہ اور تمنا کرے وہ پوری ہو۔ چاہیے کہ ہم ان کے مقابلہ میں قدم پیچھے نہ ہٹائیں۔
Ayah 38:78 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پچھلا دین کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو۔ یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔ پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ " اور ممکن ہے پچھلے دین سے عیسائی مذہب مراد ہو۔ جیسا کہ اکثر سلف کا قول ہے۔ یعنی نصاریٰ جو اہل کتاب ہیں ان کو بھی ہم نے نہیں سنا کہ سب خداؤں کو ہٹا کر ایک خدا رہنے دیا ہو۔ آخر وہ بھی تین خدا تو مانتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ اگر پہلی کتابوں میں کچھ اصل ہوتی تو وہ ضرور قبول کرتے۔ معلوم ہوا کہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 38:89 یعنی اچھا قرآن کو اللہ کا کلام ہی مان لو اور یہ بھی نہ سہی کہ آسمان سے کوئی فرشتہ نبی بنا کر بھیجا جاتا مگر یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا۔ کیا سارے ملک میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے ؟ اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا جس پر اپنا کلام نازل کرتا۔
10 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی نامعقول یادہ گوئی کا جواب ہوا۔ یعنی ان کی یہ خرافات کچھ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکا لگا ہوا ہے۔ وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا۔ کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ نہیں چکھا۔ جس وقت خدائی مار پڑے گی۔ تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے۔
Ayahs 38:9–102 یعنی رحمت کے خزانے اور آسمان و زمین کی حکومت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ زبردست ہے اور بڑی بخشش والا ہے جس پر جو انعام چاہے کرے کون روک سکتا ہے یا نکتہ چینی کرسکتا ہے۔ اگر وہ اپنی حکمت و دانائی سے کسی بشر کو منصب نبوت و رسالت پر سرفراز فرماتا ہے تو تم دخل دینے والے کون ہو کہ صاحب اس پر یہ مہربانی فرمائی ہم پر نہ فرمائی۔ کیا رحمت کے خزانوں اور زمین و آسمان کی حکومت کے تم مالک و مختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو۔ اگر ہو تو اپنے تمام اسباب و وسائل کو کام میں لے آؤ۔ اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ۔ تاکہ وہاں سے محمد ﷺ پر وحی کا آنا بند کرسکو اور علویات پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشاء کے موافق آسمان و زمین کے انتظام و تدبیر کا انجام دے سکو۔ اگر اتنا نہیں کرسکتے تو آسمان و زمین کی حکومت اور خزائن رحمت کی مالکیت کا دعویٰ عبث ہے۔ پھر خدائی انتظامات میں دخل دینا بجز بےحیائی یا جنون کے اور کیا ہوگا۔ ایاذ قدر خود بشناس۔
Ayah 38:113 یعنی کچھ بھی نہیں۔ زمین و آسمان کی حکومت اور خزانوں کے مالک تو یہ بیچارے کیا ہوتے۔ چند ہزیمت خوردہ آدمیوں کی ایک بھیڑ ہے جو اگلی تباہ شدہ قوموں کی طرح تباہ و برباد ہوتی نظر آتی ہے۔ چناچہ یہ منظر " بدر " سے لے کر " فتح مکہ " تک لوگوں نے دیکھ لیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگلی قومیں برباد ہوئیں۔ اگر چڑھ جائیں تو ان میں ایک یہ بھی برباد ہوں۔ " گویا اس آیت کا ربط ماقبل سے بتلا دیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 38:124 یعنی بہت زور و قوت اور لاؤ لشکر والا جس نے دنیا میں اپنی سلطنت کے کھونٹے گاڑ دیئے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو چومیخا کر کے مارتا تھا اس سے اس کا نام ذوالاوتاد (میخوں والا) پڑگیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 38:135 یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) جس کی طرف مبعوث ہوئے۔
Ayah 38:146 یعنی یہ بڑی بڑی طاقتور فوجیں اور رسولوں کو جھٹلا کر سزا سے نہ بچ سکیں۔ تمہاری تو حقیقت کیا ہے۔
Ayah 38:157 یعنی صور کی آواز کے منتظر ہیں۔ پوری سزا اس وقت ملے گی۔ اور ممکن ہے " صیحہ " سے یہیں کی ایک ڈانٹ مراد ہو۔
Ayah 38:168 یعنی جب وعدہ قیامت سنتے مسخرا پن سے کہتے کہ ہم کو تو اس وقت کا حصہ ابھی دے دیجئے ابھی ہم اپنا اعمالنامہ دیکھ لیں اور ہاتھ کے ہاتھ سزا جزاء سے فارغ ہوجائیں۔
Ayah 38:179 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس جگہ ان کو (داؤد کا قصہ) یاد دلوایا کہ انہوں نے بھی " طالوت " کے (عہد) حکومت میں بہت صبر کیا۔ آخر حکومت ان کو ملی اور (جالوت وغیرہ) مخالفوں کو جہاد سے زیر کیا۔ یہ ہی نقشہ ہوا ہمارے پیغمبر کا۔ " (تنبیہ) " ذالاید " کا ترجمہ حضرت شاہ صاحب نے " ہاتھ کے بل والا " کیا ہے۔ یعنی قوت سلطنت، یا ادھر اشارہ ہو کہ ان کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا۔ یا " ہاتھ کا بل ' یہ کہ سلطنت کا مال نہ کھاتے اپنے دس وبازو سے کسب کر کے کھاتے۔ اور " اواب ' یعنی ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع رہتے تھے۔
Ayah 38:1810 یعنی صبح و شام جب حضرت داؤد تسبیح پڑھتے، پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اس کے متعلق کچھ مضمون سورة " سبا " میں گزر چکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 38:1911 یا سب اس کے ساتھ مل کر اللہ کی طرف رجوع رہتے کما قال بعض المفسرین۔
Ayah 38:2012 یعنی دنیا میں اس کی سلطنت کی دھاک بٹھلا دی تھی اور اپنی اعانت و نصرت سے مختلف قسم کی کثیر التعداد فوجیں دے کر خوب اقتدار جما دیا تھا۔
13 یعنی بڑے مدبر و دانا تھے۔ ہر بات کا فیصلہ بڑی خوبی سے کرتے اور بولتے تو نہایت فیصلہ کن تقریر ہوتی تھی۔ بہرحال حق تعالیٰ نے ان کو نبوت، حسن تدبیر، قوت فیصلہ اور طرح طرح کے علمی و عملی کمالات عطا فرمائے تھے۔ لیکن امتحان و ابتلاء سے وہ بھی نہیں بچے۔ جس کا قصہ آگے بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 38:21–221 حضرت داؤد نے تین دن کی باری رکھی تھی۔ ایک دن دربار اور فصل خصومات کا، ایک دن اپنے اہل و عیال کے پاس رہنے کا، ایک دن خالص اللہ کی عبادت کا۔ اس دن خلوت میں رہتے تھے دربان کسی کو آنے نہ دیتے۔ ایک دن عبادت میں مشغول تھے کہ ناگاہ کئی شخص دیوار پھاند کر ان کے پاس آکھڑے ہوئے داؤد (علیہ السلام) باوجود اپنی قوت و شوکت کے یہ ناگہانی ماجرا دیکھ کر گھبرا اٹھے کہ یہ آدمی ہیں یا کوئی اور مخلوق ہے۔ آدمی ہیں تو ناوقت آنے کی ہمت کیسے ہوئی ؟ دربانوں نے کیوں نہیں روکا ؟ اگر دروازے سے نہیں آئے تو اتنی اونچی دیواروں کو پھاندنے کی کیا سبیل کی ہوگی خدا جانے ایسے غیر معمولی طور پر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں۔ غرض اچانک یہ عجیب و مہیب واقعہ دیکھ کر خیال دوسری طرف بٹ گیا اور عبادت میں جیسی یکسوئی کے ساتھ مشغول تھے، قائم نہ رہ سکی۔
2 آنے والوں نے کہا کہ آپ گھبرائیے نہیں اور ہم سے خوف نہ کھائیے۔ ہم دو فریق اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ آپ ہم میں منصفانہ فیصلہ کر دیجئے۔ کوئی بےراہی اور ٹالنے کی بات نہ ہو۔ ہم عدل و انصاف کی سیدھی راہ معلوم کرنے کے لیے آئے ہیں (شاید گفتگو کا یہ عنوان دیکھ کر حضرت داؤد زیادہ متعجب ہوئے ہوں)
Ayah 38:233 یعنی جھگڑا یہ ہے کہ میرے اس بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے ہاں صرف ایک دنبی ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بھی کسی طرح مجھ سے چھین کر اپنی سو پوری کرلے۔ اور مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جیسے مال میں یہ مجھ سے زیادہ ہے بات کرنے میں بھی مجھ سے تیز ہے۔ جب بولتا ہے تو مجھ کو دبا لیتا ہے اور لوگ بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ غرض میرا حق چھیننے کے لیے زبردستی کی باتیں کرتا ہے۔
Ayah 38:244 حضرت داؤد نے بقاعدہ شریعت ثبوت وغیرہ طلب کیا ہوگا۔ آخر میں یہ فرمایا کے بیشک (اگر یہ تیرا بھائی ایسا کرتا ہے تو) اس کی زیادتی اور ناانصافی ہے۔ چاہتا ہے کہ اس طرح اپنے غریب بھائی کا مال ہڑپ کر جائے (مطلب یہ کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے)
5 یعنی شرکاء کی عادت ہے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی، قوی حصہ دار چاہتا ہے کہ ضعیف کو کھاجائے۔ صرف اللہ کے ایماندار اور نیک بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر وہ دنیا میں بہت ہی تھوڑے ہیں۔
Ayah 38:256 یعنی اس قصہ کے بعد داؤد کو تنبہ ہوا کہ میرے حق میں یہ ایک فتنہ اور امتحان تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اپنی خطا معاف کرانے کے لیے نہایت عاجزی کے ساتھ خدا کے سامنے جھک پڑے۔ آخر خدا نے ان کی وہ خطا معاف کردی۔ داؤد (علیہ السلام) کی وہ خطا کیا تھی ؟ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے اس کے متعلق مفسرین نے بہت سے لمبے چوڑے قصے بیان کیے ہیں۔ مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر ان کی نسبت لکھتے ہیں۔ " قد ذکر المفسرون ھہنا قصۃً اکثرھا ماخوذ من الاسرائیلیات ولم یثبت فیہا عن المعصوم حدیث یجب اتباعہ۔ " اور حافظ ابو محمد ابن حزم نے کتاب الفصل میں بہت شدت سے ان قصوں کی تردید کی ہے باقی ابو حیان وغیرہ نے ان قصوں سے علیحدہ ہو کر آیات کا جو محمل بیان کیا ہے وہ بھی تکلف سے خالی نہیں۔ ہمارے نزدیک اصل بات وہ ہے جو ابن عباس سے منقول ہے۔ یعنی داؤد (علیہ السلام) کو یہ ابتلاء ایک طرح کے اعجاب کی بناء پر پیش آیا۔ صورت یہ ہوئی کہ داؤد (علیہ السلام) نے بارگا ایزدی میں عرض کیا کہ اے پروردگار ! رات اور دن میں کوئی ساعت ایسی نہیں جس میں داؤد کے گھرانے کا کوئی نہ کوئی فرد تیری عبادت (یعنی نماز یا تسبیح و تکبیر) میں مشغول نہ رہتا ہو۔ (یہ اس لیے کہا کہ انہوں نے روزو شب کے چوبیس گھنٹے اپنے گھر والوں پر نوبت بہ نوبت تقسیم کر رکھے تھے تاکہ ان کی عبادت خانہ کسی وقت عبادت سے خالی نہ رہنے پائے) اور بھی کچھ اس قسم کی چیزیں عرض کیں (شاید اپنے حسن انتظام وغیرہ کے متعلق ہوں گی) اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی، ارشاد ہوا کہ داؤد یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے۔ اگر میری مدد نہ ہو تو تو اس چیز پر قدرت نہیں پاسکتا۔ (ہزار کوشش کرے، نہیں نباہ سکے گا) قسم ہے اپنے جلال کی میں تجھ کو ایک روز تیرے نفس کے سپرد کر دوں گا۔ (یعنی اپنی مدد ہٹا لوں گا۔ دیکھیں اس وقت تو کہاں تک اپنی عبادت میں مشغول رہ سکتا اور اپنا نظام قائم رکھ سکتا ہے) داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار ! مجھے اس دن کی خبر کر دیجئے۔ بس اسی دن فتنہ میں مبتلا ہوگئے (اخرج ہذالاثر الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسنادو اقربہ الذہبی فی التلخیص) یہ روایت بتلائی ہے کہ فتنہ کی نوعیت صرف اسی قدر ہونی چاہیے کہ جس وقت داؤد عبادت میں مشتغل ہوں باوجود پوری کوشش کے مشتغل نہ رہ سکیں اور اپنا انتظام قائم نہ رکھ سکیں۔ چناچہ آپ پڑھ چکے کہ کس بےقاعدہ اور غیر معمولی طریقہ سے چند اشخاص نے اچانک عبادت خانہ میں داخل ہو کر حضرت داؤد کو گھبرا دیا اور ان کے شغل خاص سے ہٹا کر اپنے جھگڑے کی طرف متوجہ کرلیا۔ بڑے بڑے پہرے اور انتظامات ان کو داؤد کے پاس پہنچنے سے نہ روک سکے۔ تب داؤد کو خیال ہوا کہ اللہ نے میرے اس دعوے کی وجہ سے اس فتنہ میں مبتلا کیا۔ لفظ " فتنہ " کا اطلاق اس جگہ تقریباً ایسا سمجھو جیسے ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت حسن و حسین ؓ بچپن میں قمیص پہن کر لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے حضور ﷺ نے منبر پر سے دیکھا اور خطبہ قطع کر کے ان کو اوپر اٹھا لیا اور فرمایا صدق اللہ " انما اموالکم واولادکم فتنۃ " بعض آثار میں ہے کہ بندہ اگر کوئی نیکی کرے کہتا ہے کہ " اے پروردگار ! میں نے یہ کام کیا، میں نے صدقہ کیا، میں نے نماز پڑھی، میں نے کھانا کھلایا۔ " تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اور میں نے تیری مدد کی اور میں نے تجھ کو توفیق دی۔ " اور جب بندہ کہتا ہے کہ اے پروردگار تو نے مدد کی، تو نے مجھ کو توفیق بخشی اور تو نے مجھ پر احسان فرمایا۔ " تو اللہ کہتا ہے " اور تو نے عمل کیا تو نے ارادہ کیا تو نے یہ نیکی کمائی۔ " (مدارج السالکین، ج 1 ص 99) اسی سے سمجھ لو کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کا اپنے حسن انتظام کو جتلاتے ہوئے یہ فرمانا کہ اے پروردگار ! رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں جس میں میں یا میرے متعلقین تیری عبادت میں مشتغل نہ رہتے ہوں کیسے پسند آسکتا تھا۔ بڑوں کی چھوٹی چھوٹی بات پر گرفت ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک آزمائش میں مبتلا کردیے گئے تاکہ متنبہ ہو کر اپنی غلطی کا تدارک کریں۔ چناچہ تدارک کیا اور خوب کیا۔ میرے نزدیک آیت کی بےتکلف تقریر یہ ہی ہے۔ باقی حضرت شاہ صاحب نے اسی مشہور قصہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے وہ موضح القرآن میں دیکھ لیا جائے۔
7 یعنی بدستور مقرب بارگاہ ہیں اس غلطی سے تقرب اور مرتبہ میں فرق نہیں آیا۔ صرف تھوڑی سی تنبیہ کردی گئی۔ کیونکہ مقربین کی چھوٹی غلطی بھی بڑی سمجھی جاتی ہے۔ " حسنات الابرار سیأت المقربین
" گرچہ یک مو بدگنہ کو جستہ بود
لیک آں مودر دودیدہ راستہ بود
بود آدم دیدہ نور قدیم
موئے دردیدہ بود کوہ عظیم۔
Ayah 38:268 یعنی خدا نے تم کو زمین میں اپنا نائب بنا لیا۔ لہذا اسی کے حکم پر چلو اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو۔ کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنیٰ شائبہ بھی نہ آنے پائے۔ کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دینے والی ہے۔ اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکا تو پھر ٹھکانا کہاں۔
9 یعنی عموماً خواہشات نفسانی کی پیروی اسی لیے ہوتی ہے کہ آدمی کو حساب کا دن یاد نہیں رہتا۔ اگر یہ بات مستحضر رہے کہ ایک روز اللہ کے سامنے جانا اور ذرہ ذرہ عمل کا حساب دینا ہے تو آدمی کبھی اللہ کی مرضی پر اپنی خواہش کو مقدم نہ رکھے (تنبیہ) ممکن ہے کہ " یوم الحساب " کا تعلق " لہم عذاب شدید " کے ساتھ ہو۔ نسوا کے ساتھ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے احکام بھلا دینے کے سبب سے ان پر سخت عذاب ہوگا حساب کے دن۔
Ayah 38:271 یعنی جس کا آگے کچھ نتیجہ نہ نکلے۔ بلکہ اس دنیا کا نتیجہ ہے آخرت، لہذا یہاں رہ کر وہاں کے لیے کچھ کام نہ کرنا چاہیے، اور وہ کام یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق و عدل کے اصول پر کاربند ہو۔ اور خالق و مخلوق دونوں سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھے۔ یہ نہ سمجھے کہ بس دنیا کی زندگی ہے۔ کھا پی کر ختم کردیں گے۔ آگے حساب کتاب کچھ نہیں۔ یہ خیالات تو ان کے ہیں جنہیں موت کے بعد دوسری زندگی سے انکار ہے۔ سو ایسے منکروں کے لیے آگ تیار ہے۔
Ayah 38:282 یعنی ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ نیک ایماندار بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں یا ڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈر لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اسی لیے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب و کتاب اور جزاء سزا کا رکھا جائے۔ لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندار آدمی قسم قسم کی مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بےحیا مزے چین اڑاتے ہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کی جو خبر مخبر صادق نے دی ہے عین مقتضائے حکمت ہے۔ وہاں ہی ہر نیک و بد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ ملے گا۔ پھر " یوم الحساب " کی خبر کا انکار کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔
Ayah 38:293 یعنی جب نیک اور بد کا انجام ایک نہیں ہوسکتا تو ضرور تھا کہ کوئی کتاب ہدایت مآب حق تعالیٰ کی طرف سے آئے جو لوگوں کو خوب معقول طریقہ سے ان کے انجام پر آگاہ کر دے۔ چناچہ اس وقت یہ کتاب آئی جس کو قرآن مبین کہتے ہیں۔ جس کے الفاظ، حروف، نقوش اور معانی و مضامین ہر چیز میں برکت ہے۔ اور جو اسی غرض سے اتاری گئی ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل رکھنے والے اس کی نصیحتوں سے منتفع ہوں چناچہ اس آیت سے پہلے ہی آیت میں دیکھ لو، کس قدر صاف، فطری اور معقول طریقہ سے مسئلہ معاد کو حل کیا ہے کہ تھوڑی عقل والا بھی غور کرے تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ (تنبیہ) شاید " تدبر " سے قوت علمیہ کی اور " تذکر " سے قوت عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہو۔ یہ سب باتیں حضرت داؤد کے تذکرہ کے ذیل میں آگئی تھی۔ آگے پھر ان کے قصہ کی تکمیل فرماتے ہیں۔
Ayah 38:304 یعنی سلیمان بیٹا دیا جو انہی کی طرح نبی اور بادشاہ ہوا۔
Ayahs 38:31–335 یعنی نہایت اصیل، شائستہ اور تیز و سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی۔ حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ شاید اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے ہوں۔ اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ایک طرف ذکر اللہ (یاد خدا) سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے۔ جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آخرت اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہ دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت کیوں کرتے۔ اسی جذبہ جہاد کے جوش و افراط میں حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو پھر واپس لاؤ۔ چناچہ واپس لائے گئے اور حضرت سلیمان غایت محبت و اکرام سے ان کی گردنیں اور پنڈلیاں پونچھنے اور صاف کرنے لگے۔ آیت کی یہ تقریر بعض مفسرین کی ہے۔ اور لفظ " حب الخیر " سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ گویا خیر کا لفظ اسی مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو نبی کریم ﷺ نے۔ حدیث میں فرمایا۔ الخیل معقود فی نواصیہا الخیر الیٰ یوم القیامۃ " لیکن دوسرے علماء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضرت سلیمان کو گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول ہو کر اس وقت کی نماز یا وظیفہ سے ذہول ہوگیا (اور ذہول و نسیان انبیاء کے حق میں محال نہیں (فرمایا کہ دیکھو ! ) مال کی محبت نے مجھ کو اللہ کی یاد سے غافل کردیا حتی کہ غروب آفتاب تک میں اپنا وظیفہ ادا نہ کرسکا۔ یا مانا کہ اس مال کی محبت میں بھی ایک پہلو عبادت کا اور خدا کی یاد کا تھا۔ مگر خواص و مقربین کو یہ فکر بھی رہتی ہے کہ جس عبادت کا جو وقت مقرر ہے اس میں تخلف نہ ہو۔ اور ہوتا ہے تو صدمہ اور قلق سے بےچین ہوجاتے ہیں (گو عذر سے ہو)
گر زباغِ دل خلالے کم بود : بردل سالک ہزاراں غم بود۔ " غزوہ خندق " میں دیکھ لو نبی کریم ﷺ کی کئی نمازیں قضا ہوگئیں۔ باوجودیکہ کہ آپ ﷺ عین جہاد میں مشغول تھے اور کسی قسم کا ذنب آپ پر نہ تھا، لیکن جن کفار کے سبب سے ایسا پیش آیا، آپ ﷺ ان کے حق میں " ملا اللہ بیوتہم وقبورہم نارا " وغیرہ سے بددعا فرما رہے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی ایک موقت عبادت کے فوت ہوجانے سے بیتاب ہوگئے۔ حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ (جو یاد الٰہی کے فوت ہونے کا سبب بنے ہیں) جب لائے گے تو شدت غیرت اور غلبہ حب الٰہی میں تلوار لے کر ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کردیں۔ تاکہ سبب غفلت کو اپنے سے اس طرح علیحدہ کریں کہ وہ فی الجملہ کفارہ اس غفلت کا ہوجائے۔ شاید ان کی شریعت میں قربانی گھوڑے کی جائز ہوگی اور ان کے پاس گھوڑے وغیرہ اس کثرت سے ہوں گے ان چند گھوڑوں کے قربان کرنے سے مقصد جہاد میں کوئی خلل نہ پڑتا ہوگا۔ اور لفظ " فطفق مسحًا " سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ سب گھوڑوں کو قتل ہی کر گزرے ہوں۔ محض اتنا ہے کہ یہ کام شروع کردیا۔ واللہ اعلم۔ اس تقریر کلی تائید ایک حدیث مرفوع سے ہوتی ہے جو طبرانی نے باسناد حسن ابی بن کعب سے روایت کی ہے (راجع روح المعانی وغیرہ)
Ayah 38:346 حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام عورتوں کے پاس جاؤں گا (جو تعداد میں ستر یا نوے یا سو کے قریب تھیں) اور ہر ایک عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ فرشتہ نے القاء کیا کہ " انشاء اللہ " کہہ لیجئے۔ مگر (باوجود دل میں موجود ہونے کے) زبان سے نہ کہا خدا کا کرنا کہ اس مباشرت کے نتیجے میں ایک عورت نے بھی بچہ نہ جنا۔ صرف ایک عورت سے ادھورا بچہ ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دایہ نے وہ ہی ادھورا بچہ ان کے تخت پر لا کر ڈال دیا۔ کہ لو ! یہ تمہاری قسم کا نتیجہ ہے (اسی کو یہاں " جسد " (دھڑ) سے تعبیر کیا ہے) یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ اور " انشاء اللہ " نہ کہنے پر استغفار کیا۔ نزدیکاں رابیش بود حیرانی۔ حدیث میں ہے کہ اگر " انشاء اللہ " کہہ لیتے تو بیشک اللہ ویسا ہی کردیتا جو ان کی تمنا تھی۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر دوسری طرح کی ہے اور اس موقع پر بہت سے بےسروپا قصے سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری اور جنوں کے نقل کیے ہیں جسے دلچسپی ہو۔ کتب تفاسیر میں دیکھ لے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " ولقد رویت ہذہ القصتہ مطولۃ عن جماعۃ من السلف ؓ وکلہا متلقاہ من قصص اہل الکتاب۔ واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 38:357 یعنی ایسی عظیم الشان سلطنت عنایت فرما جو میرے سوا کسی کو نہ ملے، نہ کوئی دوسرا اس کا اہل ثابت ہو یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو حوصلہ نہ ہو کہ مجھ سے چھین سکے۔ (تنبیہ) احادیث میں ہے کہ ہر نبی کی ایک دعاء جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اجابت کا وعدہ فرما لیا ہے یعنی وہ دعا ضرور ہی قبول کریں گے۔ شاید حضرت سلیمان کی یہ وہ ہی دعا ہو۔ آخر نبی زادے اور بادشاہ زادے تھے۔ دعا میں بھی یہ رنگ رہا کہ بادشاہت ملے اور اعجازی رنگ کی ملے۔ وہ زمانہ ملوک اور جبارین کا تھا، اس حیثیت سے بھی یہ دعا مذاق زمانہ کے موافق تھی اور ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مقصد ملک حاصل کرنے سے اپنی شوکت و حشمت کا مظاہرہ کرنا نہیں۔ بلکہ اس دین کا ظاہر و غالب کرنا اور قانون سماوی کا پھیلانا ہوتا ہے جس کے وہ حامل بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ لہذا اس کو دنیاداروں کی دعا پر قیاس نہ کیا جائے۔
Ayahs 38:36–378 یعنی جن ان کے حکم سے بڑی بڑی عمارتیں بنانے اور موتی وغیرہ نکالنے کے لیے دریاؤں میں غوطے لگاتے تھے۔ ہوا اور جنات کے تابع کرنے کے متعلق پہلے سورة " سبا " وغیرہ میں کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 38:389 یعنی بہت سے جنات اور تھے جن کو سرکشی اور شرارت و تمرد کی وجہ سے قید کر کے ڈال دیا تھا۔
Ayah 38:3910 یعنی کسی کو بخشش دو یا نہ دو تم مختار ہو۔ اس قدر بےحساب دیا اور حساب و کتاب کا مواخذہ بھی نہیں رکھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ اور مہربانی کی کہ اتنی دنیا دی اور مختار کردیا۔ حساب معاف کر کے لیکن وہ کھاتے تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے ٹوکرے بنا کر۔ "
Ayah 38:401 یعنی بادشاہت کے باوجود جو روحانی تقرب اور مرتبہ ہمارے ہاں حاصل ہے اور فردوس بریں میں جو اعلیٰ سے اعلیٰ ٹھکانا تیار ہے وہ بجائے خود رہا۔