38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 38:1–2

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

قسم ہے اس قرآن سمجھانے والے کی

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ جو لوگ منکر ہیں غرور میں ہیں اور مقابلہ میں3

3 یعنی یہ عظیم الشان، عالی مرتبہ قرآن (جو عمدہ نصیحتوں سے پر، اور نہایت موثر طرز میں لوگوں کو ہدایت و معرفت کی باتیں سمجھانے والا ہے) با آواز بلند شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ قرآنی صداقت اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم میں کچھ قصور ہے یا حضور ﷺ پر نور اس کی تبلیغ و تبیین میں معاذ اللہ مقصر ہیں۔ بلکہ انکار و انحراف کا اصلی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹی شیخی، جاہلانہ غرور و نخوت اور معاندانہ مخالفت کے جذبات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا اس دلدل سے نکلیں تو حق و صداقت کی صاف سڑک نظر آئے۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

بہت غارت کردیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں پھر لگے پکارنے اور وقت نہ رہا خلاصی کا4

4 یعنی ان کو معلوم رہنا چاہیے کہ اسی غرور وتکبر کی بدولت انبیاء اللہ سے مقابلہ ٹھان کر بہت سی جماعتیں پہلے تباہ و برباد ہوچکی ہیں وہ لوگ بھی مدتوں خدا کے پیغمبروں سے لڑتے رہے۔ پھر جب برا وقت آکر پڑا اور عذاب الٰہی نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو گھبرا کر شور مچانے اور خدا کو پکارنے لگے۔ مگر اس وقت فریاد کرنے سے کیا بنتا۔ رہائی اور خلاصی کا موقع گزر چکا تھا، اور وقت نہیں رہا تھا کہ ان کے شوروبکاء کی طرف توجہ کی جائے۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور تعجب کرنے لگے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے اور کہنے لگے منکر یہ جادوگر ہے جھوٹا5

5 یعنی آسمان سے کوئی فرشتہ آتا تو خیر ایک بات تھی۔ ہم ہی میں سے ایک آدمی کھڑا ہو کر ہم کو ڈرانے دھمکانے لگے اور کہے میں آسمان والے خدا کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ عجیب بات ہے اب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ ایک جادوگر نے جھوٹا ڈھونگ بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ جادو کے زور سے کچھ کرشمے دکھا کر انہیں معجزہ کہنے لگے اور چند قصے کہانیاں جمع کر کے جھوٹا دعویٰ کردیا کہ یہ اللہ کے اتارے ہوئے علوم ہیں۔ اور میں اس کا پیغمبر ہوں۔
Ayahs 38:5–6

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے کردی اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی بندگی یہ بھی ہے بڑے تعجب کی بات

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور چل کھڑے ہوئے کئی نیچ ان میں سے کہ چلو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر6 بیشک اس بات میں کوئی غرض ہے7

6 یعنی اور لیجئے ! اتنے بیشمار دیوتاؤں کا دربار ختم کر کے صرف ایک خدا رہنے دیا۔ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات کیا ہوگی کہ اتنے بڑے جہان کا انتظام اکیلے ایک خدا کے سپرد کردیا جائے۔ اور مختلف شعبوں اور محکموں کے جن خداؤں کی بندگی قرنوں سے ہوتی چلی آتی تھی وہ سب یک قلم موقوف کردی جائے۔ گویا ہمارے باپ دادے نرے جاہل اور بیوقوف ہی تھے جو اتنے دیوتاؤں کے سامنے سر عبودیت خم کرتے رہے۔ روایات میں ہے کہ ابو طالب کی بیماری میں ابو جہل وغیرہ چند سرداران قریش نے ابو طالب سے آن کر حضرت ﷺ کی شکایت کی کہ یہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اور ہمیں طرح طرح سے احمق بناتے ہیں۔ آپ ان کو سمجھائیے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے چچا ! میں ان سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کی خدمت میں جزیہ پیش کرنے لگے۔ وہ خوش ہو کر بولے کہ بتلائیے وہ کلمہ کیا ہے، آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ فرمایا زیادہ نہیں بس ایک اور صرف ایک ہی کلمہ ہے ' لا الہ الا اللہ " یہ سنتے ہی طیش میں آکر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا اتنے خداؤں کو ہٹا کر اکیلا ایک خدا۔ چلو جی ! یہ اپنے منصوبے سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ یہ تو انہی ہمارے معبودوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ تم بھی مضبوطی سے اپنے معبودوں کی عبادت و حمایت پر جمے رہو۔ مباد ان کا پروپیگنڈا کسی ضعیف الاعتقاد کا قدم پرانے آبائی طریقہ سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائے۔ ان کی ان تھک کوشش کے مقابلہ میں ہم کو بہت زیادہ صبر و استقلال دکھانے کی ضرورت ہے۔ 7 یعنی محمد ﷺ جو اس قدر زور و شور اور عزم و استقلال سے ہمارے معبودوں کے خلاف جہاد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ضرور اس میں ان کی کوئی غرض ہے، وہ یہ ہی کہ ایک خدا کا نام لے کر ہم سب کو اپنا محکوم اور مطیع بنالیں اور دنیا کی حکومت و ریاست حاصل کریں۔ سو لازم ہے کہ اس مقصد میں ہم ان کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ بعض مفسرین نے " ان ہذا لشیئً یراد " کا مطلب یہ لیا ہے کہ بیشک یہ وہ چیز ہے جس کا محمد ﷺ ارادہ ہی کرچکے ہیں۔ کسی طرح اس سے ہٹنے والے نہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ بات (معلوم ہوتا ہے) ہونے والی ہے۔ اللہ کو یہ ہی منظور ہے کہ دنیا میں انقلاب ہو۔ لہذا جہاں تک ہو سکے صبر و تحمل سے اپنے قدیم دین و آئین کی حفاظت کرتے رہو۔ یا ممکن ہے ازراہ تحقیر کہا ہو کہ بیشک محمد ﷺ کے ارادے سب کچھ ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ آدمی جو راہ اور تمنا کرے وہ پوری ہو۔ چاہیے کہ ہم ان کے مقابلہ میں قدم پیچھے نہ ہٹائیں۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ نہیں سنا ہم نے اس پچھلے دین میں اور کچھ نہیں یہ بنائی ہوئی بات ہے8

8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پچھلا دین کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو۔ یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔ پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ " اور ممکن ہے پچھلے دین سے عیسائی مذہب مراد ہو۔ جیسا کہ اکثر سلف کا قول ہے۔ یعنی نصاریٰ جو اہل کتاب ہیں ان کو بھی ہم نے نہیں سنا کہ سب خداؤں کو ہٹا کر ایک خدا رہنے دیا ہو۔ آخر وہ بھی تین خدا تو مانتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ اگر پہلی کتابوں میں کچھ اصل ہوتی تو وہ ضرور قبول کرتے۔ معلوم ہوا کہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا اسی پر اتری نصیحت ہم سب میں سے9 کوئی نہیں ان کو دھوکا ہے میری نصیحت میں کوئی نہیں ابھی انہوں نے چکھی نہیں میری مار10

9 یعنی اچھا قرآن کو اللہ کا کلام ہی مان لو اور یہ بھی نہ سہی کہ آسمان سے کوئی فرشتہ نبی بنا کر بھیجا جاتا مگر یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا۔ کیا سارے ملک میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے ؟ اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا جس پر اپنا کلام نازل کرتا۔ 10 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی نامعقول یادہ گوئی کا جواب ہوا۔ یعنی ان کی یہ خرافات کچھ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکا لگا ہوا ہے۔ وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا۔ کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ نہیں چکھا۔ جس وقت خدائی مار پڑے گی۔ تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے۔
Ayahs 38:9–10

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہیں خزانے تیرے رب کی مہربانی کے جو کہ زبردست ہے بخشنے والا

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا ان کی حکومت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے تو ان کو چاہیے کہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر2

2 یعنی رحمت کے خزانے اور آسمان و زمین کی حکومت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ زبردست ہے اور بڑی بخشش والا ہے جس پر جو انعام چاہے کرے کون روک سکتا ہے یا نکتہ چینی کرسکتا ہے۔ اگر وہ اپنی حکمت و دانائی سے کسی بشر کو منصب نبوت و رسالت پر سرفراز فرماتا ہے تو تم دخل دینے والے کون ہو کہ صاحب اس پر یہ مہربانی فرمائی ہم پر نہ فرمائی۔ کیا رحمت کے خزانوں اور زمین و آسمان کی حکومت کے تم مالک و مختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو۔ اگر ہو تو اپنے تمام اسباب و وسائل کو کام میں لے آؤ۔ اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ۔ تاکہ وہاں سے محمد ﷺ پر وحی کا آنا بند کرسکو اور علویات پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشاء کے موافق آسمان و زمین کے انتظام و تدبیر کا انجام دے سکو۔ اگر اتنا نہیں کرسکتے تو آسمان و زمین کی حکومت اور خزائن رحمت کی مالکیت کا دعویٰ عبث ہے۔ پھر خدائی انتظامات میں دخل دینا بجز بےحیائی یا جنون کے اور کیا ہوگا۔ ایاذ قدر خود بشناس۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

ایک لشکر یہ بھی وہاں تباہ ہوا ان سب لشکروں میں3

3 یعنی کچھ بھی نہیں۔ زمین و آسمان کی حکومت اور خزانوں کے مالک تو یہ بیچارے کیا ہوتے۔ چند ہزیمت خوردہ آدمیوں کی ایک بھیڑ ہے جو اگلی تباہ شدہ قوموں کی طرح تباہ و برباد ہوتی نظر آتی ہے۔ چناچہ یہ منظر " بدر " سے لے کر " فتح مکہ " تک لوگوں نے دیکھ لیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگلی قومیں برباد ہوئیں۔ اگر چڑھ جائیں تو ان میں ایک یہ بھی برباد ہوں۔ " گویا اس آیت کا ربط ماقبل سے بتلا دیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور فرعون میخوں والاف 4

4 یعنی بہت زور و قوت اور لاؤ لشکر والا جس نے دنیا میں اپنی سلطنت کے کھونٹے گاڑ دیئے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو چومیخا کر کے مارتا تھا اس سے اس کا نام ذوالاوتاد (میخوں والا) پڑگیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور لوط کی قوم اور ایکہ کے لوگ5 وہ بڑی بڑی فوجیں

5 یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) جس کی طرف مبعوث ہوئے۔
Ayah 38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

یہ جتنے تھے سب نے یہی کیا کہ جھٹلایا رسولوں کو پھر ثابت ہوئی میری طرف سے سزا6

6 یعنی یہ بڑی بڑی طاقتور فوجیں اور رسولوں کو جھٹلا کر سزا سے نہ بچ سکیں۔ تمہاری تو حقیقت کیا ہے۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور راہ نہیں دیکھتے یہ لوگ مگر ایک چنگھاڑ کی جو بیچ میں دم نہ لے گی7

7 یعنی صور کی آواز کے منتظر ہیں۔ پوری سزا اس وقت ملے گی۔ اور ممکن ہے " صیحہ " سے یہیں کی ایک ڈانٹ مراد ہو۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اے رب جلد دے ہم کو چھٹی ہماری پہلے حساب کے دن سے8

8 یعنی جب وعدہ قیامت سنتے مسخرا پن سے کہتے کہ ہم کو تو اس وقت کا حصہ ابھی دے دیجئے ابھی ہم اپنا اعمالنامہ دیکھ لیں اور ہاتھ کے ہاتھ سزا جزاء سے فارغ ہوجائیں۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

تو تحمل کرتا رہ اس پر جو وہ کہتے ہیں اور یاد کر ہمارے بندے داؤد قوت والے کو وہ تھا رجوع رہنے والاف 9

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس جگہ ان کو (داؤد کا قصہ) یاد دلوایا کہ انہوں نے بھی " طالوت " کے (عہد) حکومت میں بہت صبر کیا۔ آخر حکومت ان کو ملی اور (جالوت وغیرہ) مخالفوں کو جہاد سے زیر کیا۔ یہ ہی نقشہ ہوا ہمارے پیغمبر کا۔ " (تنبیہ) " ذالاید " کا ترجمہ حضرت شاہ صاحب نے " ہاتھ کے بل والا " کیا ہے۔ یعنی قوت سلطنت، یا ادھر اشارہ ہو کہ ان کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا۔ یا " ہاتھ کا بل ' یہ کہ سلطنت کا مال نہ کھاتے اپنے دس وبازو سے کسب کر کے کھاتے۔ اور " اواب ' یعنی ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع رہتے تھے۔
Ayah 38:18

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے تابع کئے پہاڑ اس کے ساتھ پاکی بولتے تھے شام کو اور صبح کو10

10 یعنی صبح و شام جب حضرت داؤد تسبیح پڑھتے، پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اس کے متعلق کچھ مضمون سورة " سبا " میں گزر چکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 38:19

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور اڑتے جانور جمع ہو کر سب تھی اس کے آگے رجوع رہتے11

11 یا سب اس کے ساتھ مل کر اللہ کی طرف رجوع رہتے کما قال بعض المفسرین۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور قوت دی ہم نے اس کی سلطنت کو12 اور دی اس کو تدبیر اور فیصلہ کرنا بات کا13

12 یعنی دنیا میں اس کی سلطنت کی دھاک بٹھلا دی تھی اور اپنی اعانت و نصرت سے مختلف قسم کی کثیر التعداد فوجیں دے کر خوب اقتدار جما دیا تھا۔ 13 یعنی بڑے مدبر و دانا تھے۔ ہر بات کا فیصلہ بڑی خوبی سے کرتے اور بولتے تو نہایت فیصلہ کن تقریر ہوتی تھی۔ بہرحال حق تعالیٰ نے ان کو نبوت، حسن تدبیر، قوت فیصلہ اور طرح طرح کے علمی و عملی کمالات عطا فرمائے تھے۔ لیکن امتحان و ابتلاء سے وہ بھی نہیں بچے۔ جس کا قصہ آگے بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 38:21–22

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور پہنچی ہے تجھ کو خبر دعوے والوں کی جب دیوار کود کر آئے عبادت خانہ میں

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب گھس آئے داؤد کے پاس تو ان سے گھبرایا1 وہ بولے مت گھبرا ہم دو جھگڑتے ہیں زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر سو فیصلہ کر دے ہم میں انصاف کا اور دور نہ ڈال بات کو اور بتلا دے ہم کو سیدھی راہ2

1 حضرت داؤد نے تین دن کی باری رکھی تھی۔ ایک دن دربار اور فصل خصومات کا، ایک دن اپنے اہل و عیال کے پاس رہنے کا، ایک دن خالص اللہ کی عبادت کا۔ اس دن خلوت میں رہتے تھے دربان کسی کو آنے نہ دیتے۔ ایک دن عبادت میں مشغول تھے کہ ناگاہ کئی شخص دیوار پھاند کر ان کے پاس آکھڑے ہوئے داؤد (علیہ السلام) باوجود اپنی قوت و شوکت کے یہ ناگہانی ماجرا دیکھ کر گھبرا اٹھے کہ یہ آدمی ہیں یا کوئی اور مخلوق ہے۔ آدمی ہیں تو ناوقت آنے کی ہمت کیسے ہوئی ؟ دربانوں نے کیوں نہیں روکا ؟ اگر دروازے سے نہیں آئے تو اتنی اونچی دیواروں کو پھاندنے کی کیا سبیل کی ہوگی خدا جانے ایسے غیر معمولی طور پر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں۔ غرض اچانک یہ عجیب و مہیب واقعہ دیکھ کر خیال دوسری طرف بٹ گیا اور عبادت میں جیسی یکسوئی کے ساتھ مشغول تھے، قائم نہ رہ سکی۔ 2 آنے والوں نے کہا کہ آپ گھبرائیے نہیں اور ہم سے خوف نہ کھائیے۔ ہم دو فریق اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ آپ ہم میں منصفانہ فیصلہ کر دیجئے۔ کوئی بےراہی اور ٹالنے کی بات نہ ہو۔ ہم عدل و انصاف کی سیدھی راہ معلوم کرنے کے لیے آئے ہیں (شاید گفتگو کا یہ عنوان دیکھ کر حضرت داؤد زیادہ متعجب ہوئے ہوں)
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ جو ہے بھائی ہے میرا اس کے یہاں ہیں ننانوے دنبیاں اور میرے یہاں ایک دنبی پھر کہتا ہے حوالہ کر دے میرے وہ بھی اور زبر دستی کرتا ہے مجھ سے بات میں3

3 یعنی جھگڑا یہ ہے کہ میرے اس بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے ہاں صرف ایک دنبی ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بھی کسی طرح مجھ سے چھین کر اپنی سو پوری کرلے۔ اور مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جیسے مال میں یہ مجھ سے زیادہ ہے بات کرنے میں بھی مجھ سے تیز ہے۔ جب بولتا ہے تو مجھ کو دبا لیتا ہے اور لوگ بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ غرض میرا حق چھیننے کے لیے زبردستی کی باتیں کرتا ہے۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

بولا وہ بےانصافی کرتا ہے تجھ پر کہ مانگتا ہے تیری دنبی ملانے کو اپنی دنبیوں میں4 اور اکثر شریک زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر مگر جو یقین لائے ہیں اور کام کئے نیک اور تھوڑے لوگ ہیں ایسے5 اور خیال میں آیا داؤد کے کہ ہم نے اس کو جانچا پھر گناہ بخشوانے لگا اپنے رب سے اور گرپڑا جھک کر اور رجوع ہوا

4 حضرت داؤد نے بقاعدہ شریعت ثبوت وغیرہ طلب کیا ہوگا۔ آخر میں یہ فرمایا کے بیشک (اگر یہ تیرا بھائی ایسا کرتا ہے تو) اس کی زیادتی اور ناانصافی ہے۔ چاہتا ہے کہ اس طرح اپنے غریب بھائی کا مال ہڑپ کر جائے (مطلب یہ کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے) 5 یعنی شرکاء کی عادت ہے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی، قوی حصہ دار چاہتا ہے کہ ضعیف کو کھاجائے۔ صرف اللہ کے ایماندار اور نیک بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر وہ دنیا میں بہت ہی تھوڑے ہیں۔
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

پھر ہم نے معاف کردیا اس کو وہ کام6 اور اس کے لیے ہمارے پاس مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا7

6 یعنی اس قصہ کے بعد داؤد کو تنبہ ہوا کہ میرے حق میں یہ ایک فتنہ اور امتحان تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اپنی خطا معاف کرانے کے لیے نہایت عاجزی کے ساتھ خدا کے سامنے جھک پڑے۔ آخر خدا نے ان کی وہ خطا معاف کردی۔ داؤد (علیہ السلام) کی وہ خطا کیا تھی ؟ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے اس کے متعلق مفسرین نے بہت سے لمبے چوڑے قصے بیان کیے ہیں۔ مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر ان کی نسبت لکھتے ہیں۔ " قد ذکر المفسرون ھہنا قصۃً اکثرھا ماخوذ من الاسرائیلیات ولم یثبت فیہا عن المعصوم حدیث یجب اتباعہ۔ " اور حافظ ابو محمد ابن حزم نے کتاب الفصل میں بہت شدت سے ان قصوں کی تردید کی ہے باقی ابو حیان وغیرہ نے ان قصوں سے علیحدہ ہو کر آیات کا جو محمل بیان کیا ہے وہ بھی تکلف سے خالی نہیں۔ ہمارے نزدیک اصل بات وہ ہے جو ابن عباس سے منقول ہے۔ یعنی داؤد (علیہ السلام) کو یہ ابتلاء ایک طرح کے اعجاب کی بناء پر پیش آیا۔ صورت یہ ہوئی کہ داؤد (علیہ السلام) نے بارگا ایزدی میں عرض کیا کہ اے پروردگار ! رات اور دن میں کوئی ساعت ایسی نہیں جس میں داؤد کے گھرانے کا کوئی نہ کوئی فرد تیری عبادت (یعنی نماز یا تسبیح و تکبیر) میں مشغول نہ رہتا ہو۔ (یہ اس لیے کہا کہ انہوں نے روزو شب کے چوبیس گھنٹے اپنے گھر والوں پر نوبت بہ نوبت تقسیم کر رکھے تھے تاکہ ان کی عبادت خانہ کسی وقت عبادت سے خالی نہ رہنے پائے) اور بھی کچھ اس قسم کی چیزیں عرض کیں (شاید اپنے حسن انتظام وغیرہ کے متعلق ہوں گی) اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی، ارشاد ہوا کہ داؤد یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے۔ اگر میری مدد نہ ہو تو تو اس چیز پر قدرت نہیں پاسکتا۔ (ہزار کوشش کرے، نہیں نباہ سکے گا) قسم ہے اپنے جلال کی میں تجھ کو ایک روز تیرے نفس کے سپرد کر دوں گا۔ (یعنی اپنی مدد ہٹا لوں گا۔ دیکھیں اس وقت تو کہاں تک اپنی عبادت میں مشغول رہ سکتا اور اپنا نظام قائم رکھ سکتا ہے) داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار ! مجھے اس دن کی خبر کر دیجئے۔ بس اسی دن فتنہ میں مبتلا ہوگئے (اخرج ہذالاثر الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسنادو اقربہ الذہبی فی التلخیص) یہ روایت بتلائی ہے کہ فتنہ کی نوعیت صرف اسی قدر ہونی چاہیے کہ جس وقت داؤد عبادت میں مشتغل ہوں باوجود پوری کوشش کے مشتغل نہ رہ سکیں اور اپنا انتظام قائم نہ رکھ سکیں۔ چناچہ آپ پڑھ چکے کہ کس بےقاعدہ اور غیر معمولی طریقہ سے چند اشخاص نے اچانک عبادت خانہ میں داخل ہو کر حضرت داؤد کو گھبرا دیا اور ان کے شغل خاص سے ہٹا کر اپنے جھگڑے کی طرف متوجہ کرلیا۔ بڑے بڑے پہرے اور انتظامات ان کو داؤد کے پاس پہنچنے سے نہ روک سکے۔ تب داؤد کو خیال ہوا کہ اللہ نے میرے اس دعوے کی وجہ سے اس فتنہ میں مبتلا کیا۔ لفظ " فتنہ " کا اطلاق اس جگہ تقریباً ایسا سمجھو جیسے ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت حسن و حسین ؓ بچپن میں قمیص پہن کر لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے حضور ﷺ نے منبر پر سے دیکھا اور خطبہ قطع کر کے ان کو اوپر اٹھا لیا اور فرمایا صدق اللہ " انما اموالکم واولادکم فتنۃ " بعض آثار میں ہے کہ بندہ اگر کوئی نیکی کرے کہتا ہے کہ " اے پروردگار ! میں نے یہ کام کیا، میں نے صدقہ کیا، میں نے نماز پڑھی، میں نے کھانا کھلایا۔ " تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اور میں نے تیری مدد کی اور میں نے تجھ کو توفیق دی۔ " اور جب بندہ کہتا ہے کہ اے پروردگار تو نے مدد کی، تو نے مجھ کو توفیق بخشی اور تو نے مجھ پر احسان فرمایا۔ " تو اللہ کہتا ہے " اور تو نے عمل کیا تو نے ارادہ کیا تو نے یہ نیکی کمائی۔ " (مدارج السالکین، ج 1 ص 99) اسی سے سمجھ لو کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کا اپنے حسن انتظام کو جتلاتے ہوئے یہ فرمانا کہ اے پروردگار ! رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں جس میں میں یا میرے متعلقین تیری عبادت میں مشتغل نہ رہتے ہوں کیسے پسند آسکتا تھا۔ بڑوں کی چھوٹی چھوٹی بات پر گرفت ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک آزمائش میں مبتلا کردیے گئے تاکہ متنبہ ہو کر اپنی غلطی کا تدارک کریں۔ چناچہ تدارک کیا اور خوب کیا۔ میرے نزدیک آیت کی بےتکلف تقریر یہ ہی ہے۔ باقی حضرت شاہ صاحب نے اسی مشہور قصہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے وہ موضح القرآن میں دیکھ لیا جائے۔ 7 یعنی بدستور مقرب بارگاہ ہیں اس غلطی سے تقرب اور مرتبہ میں فرق نہیں آیا۔ صرف تھوڑی سی تنبیہ کردی گئی۔ کیونکہ مقربین کی چھوٹی غلطی بھی بڑی سمجھی جاتی ہے۔ " حسنات الابرار سیأت المقربین " گرچہ یک مو بدگنہ کو جستہ بود لیک آں مودر دودیدہ راستہ بود بود آدم دیدہ نور قدیم موئے دردیدہ بود کوہ عظیم۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے تجھ کو نائب ملک میں سو تو حکومت کر لوگوں میں انصاف سے اور نہ چل جی کی خواہش پر پھر وہ تجھ کو بچلا دے اللہ کی راہ سے مقرر جو لوگ بچلتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کے لیے سخت عذاب ہے8 اس بات پر کہ بھلا دیا انہوں نے دن حساب کا9

8 یعنی خدا نے تم کو زمین میں اپنا نائب بنا لیا۔ لہذا اسی کے حکم پر چلو اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو۔ کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنیٰ شائبہ بھی نہ آنے پائے۔ کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دینے والی ہے۔ اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکا تو پھر ٹھکانا کہاں۔ 9 یعنی عموماً خواہشات نفسانی کی پیروی اسی لیے ہوتی ہے کہ آدمی کو حساب کا دن یاد نہیں رہتا۔ اگر یہ بات مستحضر رہے کہ ایک روز اللہ کے سامنے جانا اور ذرہ ذرہ عمل کا حساب دینا ہے تو آدمی کبھی اللہ کی مرضی پر اپنی خواہش کو مقدم نہ رکھے (تنبیہ) ممکن ہے کہ " یوم الحساب " کا تعلق " لہم عذاب شدید " کے ساتھ ہو۔ نسوا کے ساتھ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے احکام بھلا دینے کے سبب سے ان پر سخت عذاب ہوگا حساب کے دن۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو ان کے بیچ میں ہے نکما یہ خیال ہے کہ ان کو جو منکر ہیں سو خرابی ہے منکروں کے لیے آگ سے1

1 یعنی جس کا آگے کچھ نتیجہ نہ نکلے۔ بلکہ اس دنیا کا نتیجہ ہے آخرت، لہذا یہاں رہ کر وہاں کے لیے کچھ کام نہ کرنا چاہیے، اور وہ کام یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق و عدل کے اصول پر کاربند ہو۔ اور خالق و مخلوق دونوں سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھے۔ یہ نہ سمجھے کہ بس دنیا کی زندگی ہے۔ کھا پی کر ختم کردیں گے۔ آگے حساب کتاب کچھ نہیں۔ یہ خیالات تو ان کے ہیں جنہیں موت کے بعد دوسری زندگی سے انکار ہے۔ سو ایسے منکروں کے لیے آگ تیار ہے۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم دیں گے ایمان والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں برابر ان کے جو خرابی ڈالیں ملک میں کیا ہم کردیں گے ڈرنے والوں کو برابر ڈھیٹ لوگوں کے2

2 یعنی ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ نیک ایماندار بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں یا ڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈر لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اسی لیے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب و کتاب اور جزاء سزا کا رکھا جائے۔ لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندار آدمی قسم قسم کی مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بےحیا مزے چین اڑاتے ہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کی جو خبر مخبر صادق نے دی ہے عین مقتضائے حکمت ہے۔ وہاں ہی ہر نیک و بد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ ملے گا۔ پھر " یوم الحساب " کی خبر کا انکار کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تاکہ دھیان کریں لوگ اس کی باتیں اور تاکہ سمجھیں عقل والے3

3 یعنی جب نیک اور بد کا انجام ایک نہیں ہوسکتا تو ضرور تھا کہ کوئی کتاب ہدایت مآب حق تعالیٰ کی طرف سے آئے جو لوگوں کو خوب معقول طریقہ سے ان کے انجام پر آگاہ کر دے۔ چناچہ اس وقت یہ کتاب آئی جس کو قرآن مبین کہتے ہیں۔ جس کے الفاظ، حروف، نقوش اور معانی و مضامین ہر چیز میں برکت ہے۔ اور جو اسی غرض سے اتاری گئی ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل رکھنے والے اس کی نصیحتوں سے منتفع ہوں چناچہ اس آیت سے پہلے ہی آیت میں دیکھ لو، کس قدر صاف، فطری اور معقول طریقہ سے مسئلہ معاد کو حل کیا ہے کہ تھوڑی عقل والا بھی غور کرے تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ (تنبیہ) شاید " تدبر " سے قوت علمیہ کی اور " تذکر " سے قوت عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہو۔ یہ سب باتیں حضرت داؤد کے تذکرہ کے ذیل میں آگئی تھی۔ آگے پھر ان کے قصہ کی تکمیل فرماتے ہیں۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور دیا ہم نے داؤد کو سلیمان4 بہت خوب بندہ وہ ہے رجوع رہنے والا

4 یعنی سلیمان بیٹا دیا جو انہی کی طرح نبی اور بادشاہ ہوا۔
Ayahs 38:31–33

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب دکھانے کو لائے اس کے سامنے شام کو گھوڑے بہت خاصے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو بولا میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ سورج چھپ گیا اوٹ میں

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

پھیر لاؤ ان کو میرے پاس پھر لگا جھاڑنے ان کی پنڈلیاں اور گردنیں5

5 یعنی نہایت اصیل، شائستہ اور تیز و سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی۔ حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ شاید اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے ہوں۔ اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ایک طرف ذکر اللہ (یاد خدا) سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے۔ جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آخرت اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہ دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت کیوں کرتے۔ اسی جذبہ جہاد کے جوش و افراط میں حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو پھر واپس لاؤ۔ چناچہ واپس لائے گئے اور حضرت سلیمان غایت محبت و اکرام سے ان کی گردنیں اور پنڈلیاں پونچھنے اور صاف کرنے لگے۔ آیت کی یہ تقریر بعض مفسرین کی ہے۔ اور لفظ " حب الخیر " سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ گویا خیر کا لفظ اسی مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو نبی کریم ﷺ نے۔ حدیث میں فرمایا۔ الخیل معقود فی نواصیہا الخیر الیٰ یوم القیامۃ " لیکن دوسرے علماء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضرت سلیمان کو گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول ہو کر اس وقت کی نماز یا وظیفہ سے ذہول ہوگیا (اور ذہول و نسیان انبیاء کے حق میں محال نہیں (فرمایا کہ دیکھو ! ) مال کی محبت نے مجھ کو اللہ کی یاد سے غافل کردیا حتی کہ غروب آفتاب تک میں اپنا وظیفہ ادا نہ کرسکا۔ یا مانا کہ اس مال کی محبت میں بھی ایک پہلو عبادت کا اور خدا کی یاد کا تھا۔ مگر خواص و مقربین کو یہ فکر بھی رہتی ہے کہ جس عبادت کا جو وقت مقرر ہے اس میں تخلف نہ ہو۔ اور ہوتا ہے تو صدمہ اور قلق سے بےچین ہوجاتے ہیں (گو عذر سے ہو) گر زباغِ دل خلالے کم بود : بردل سالک ہزاراں غم بود۔ " غزوہ خندق " میں دیکھ لو نبی کریم ﷺ کی کئی نمازیں قضا ہوگئیں۔ باوجودیکہ کہ آپ ﷺ عین جہاد میں مشغول تھے اور کسی قسم کا ذنب آپ پر نہ تھا، لیکن جن کفار کے سبب سے ایسا پیش آیا، آپ ﷺ ان کے حق میں " ملا اللہ بیوتہم وقبورہم نارا " وغیرہ سے بددعا فرما رہے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی ایک موقت عبادت کے فوت ہوجانے سے بیتاب ہوگئے۔ حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ (جو یاد الٰہی کے فوت ہونے کا سبب بنے ہیں) جب لائے گے تو شدت غیرت اور غلبہ حب الٰہی میں تلوار لے کر ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کردیں۔ تاکہ سبب غفلت کو اپنے سے اس طرح علیحدہ کریں کہ وہ فی الجملہ کفارہ اس غفلت کا ہوجائے۔ شاید ان کی شریعت میں قربانی گھوڑے کی جائز ہوگی اور ان کے پاس گھوڑے وغیرہ اس کثرت سے ہوں گے ان چند گھوڑوں کے قربان کرنے سے مقصد جہاد میں کوئی خلل نہ پڑتا ہوگا۔ اور لفظ " فطفق مسحًا " سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ سب گھوڑوں کو قتل ہی کر گزرے ہوں۔ محض اتنا ہے کہ یہ کام شروع کردیا۔ واللہ اعلم۔ اس تقریر کلی تائید ایک حدیث مرفوع سے ہوتی ہے جو طبرانی نے باسناد حسن ابی بن کعب سے روایت کی ہے (راجع روح المعانی وغیرہ)
Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے جانچا سلیمان کو اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ پھر وہ رجوع ہوا6

6 حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام عورتوں کے پاس جاؤں گا (جو تعداد میں ستر یا نوے یا سو کے قریب تھیں) اور ہر ایک عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ فرشتہ نے القاء کیا کہ " انشاء اللہ " کہہ لیجئے۔ مگر (باوجود دل میں موجود ہونے کے) زبان سے نہ کہا خدا کا کرنا کہ اس مباشرت کے نتیجے میں ایک عورت نے بھی بچہ نہ جنا۔ صرف ایک عورت سے ادھورا بچہ ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دایہ نے وہ ہی ادھورا بچہ ان کے تخت پر لا کر ڈال دیا۔ کہ لو ! یہ تمہاری قسم کا نتیجہ ہے (اسی کو یہاں " جسد " (دھڑ) سے تعبیر کیا ہے) یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ اور " انشاء اللہ " نہ کہنے پر استغفار کیا۔ نزدیکاں رابیش بود حیرانی۔ حدیث میں ہے کہ اگر " انشاء اللہ " کہہ لیتے تو بیشک اللہ ویسا ہی کردیتا جو ان کی تمنا تھی۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر دوسری طرح کی ہے اور اس موقع پر بہت سے بےسروپا قصے سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری اور جنوں کے نقل کیے ہیں جسے دلچسپی ہو۔ کتب تفاسیر میں دیکھ لے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " ولقد رویت ہذہ القصتہ مطولۃ عن جماعۃ من السلف ؓ وکلہا متلقاہ من قصص اہل الکتاب۔ واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

بولا اے رب میرے معاف کر مجھ کو اور بخش مجھ کو وہ بادشاہی کہ مناسب نہ ہو کسی کے میرے پیچھے بیشک تو ہے سب کچھ بخشنے والاف 7

7 یعنی ایسی عظیم الشان سلطنت عنایت فرما جو میرے سوا کسی کو نہ ملے، نہ کوئی دوسرا اس کا اہل ثابت ہو یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو حوصلہ نہ ہو کہ مجھ سے چھین سکے۔ (تنبیہ) احادیث میں ہے کہ ہر نبی کی ایک دعاء جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اجابت کا وعدہ فرما لیا ہے یعنی وہ دعا ضرور ہی قبول کریں گے۔ شاید حضرت سلیمان کی یہ وہ ہی دعا ہو۔ آخر نبی زادے اور بادشاہ زادے تھے۔ دعا میں بھی یہ رنگ رہا کہ بادشاہت ملے اور اعجازی رنگ کی ملے۔ وہ زمانہ ملوک اور جبارین کا تھا، اس حیثیت سے بھی یہ دعا مذاق زمانہ کے موافق تھی اور ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مقصد ملک حاصل کرنے سے اپنی شوکت و حشمت کا مظاہرہ کرنا نہیں۔ بلکہ اس دین کا ظاہر و غالب کرنا اور قانون سماوی کا پھیلانا ہوتا ہے جس کے وہ حامل بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ لہذا اس کو دنیاداروں کی دعا پر قیاس نہ کیا جائے۔
Ayahs 38:36–37

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے تابع کردیا اس کے ہوا کو چلتی تھی اس کے حکم سے نرم نرم جہاں پہنچنا چاہتا

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور تابع کر دئیے شیطان سارے عمارت کرنے والے اور غوطے لگانے والے8

8 یعنی جن ان کے حکم سے بڑی بڑی عمارتیں بنانے اور موتی وغیرہ نکالنے کے لیے دریاؤں میں غوطے لگاتے تھے۔ ہوا اور جنات کے تابع کرنے کے متعلق پہلے سورة " سبا " وغیرہ میں کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

بہت سے اور جو باہم جکڑے ہوئے ہیں بیڑیوں میں9

9 یعنی بہت سے جنات اور تھے جن کو سرکشی اور شرارت و تمرد کی وجہ سے قید کر کے ڈال دیا تھا۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہے بخشش ہماری اب تو احسان کر یا رکھ چھوڑ کچھ حساب نہ ہوگا10

10 یعنی کسی کو بخشش دو یا نہ دو تم مختار ہو۔ اس قدر بےحساب دیا اور حساب و کتاب کا مواخذہ بھی نہیں رکھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ اور مہربانی کی کہ اتنی دنیا دی اور مختار کردیا۔ حساب معاف کر کے لیکن وہ کھاتے تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے ٹوکرے بنا کر۔ "
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور اس کا ہمارے یہاں مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا1

1 یعنی بادشاہت کے باوجود جو روحانی تقرب اور مرتبہ ہمارے ہاں حاصل ہے اور فردوس بریں میں جو اعلیٰ سے اعلیٰ ٹھکانا تیار ہے وہ بجائے خود رہا۔