38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsانوار البیان

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)

(38:1) ص : حرف مقطعات میں سے ہے۔ والقران : واؤ قسمیہ ہے۔ القران مقسم بہ ہے۔ ذی۔ بمعنی والا۔ صاحب۔ اسم ہے ۔ یہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ یعنی ان چھ اسموں میں سے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان پر پیش کی حالت میں واؤ اور زبر کی حالت میں الف اور زیر کی حالت میں ی آتی ہے جیسے ذوا ذا ۔ ذی۔ یہ ہمیشہ مضاف ہوکرہی استعمال ہوتے ہیں۔ اور اسم ظاہری کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں اس کا تثنیہ بھی آتا ہے اور جمع بھی۔ الذکر۔ نصیحت۔ ذکر۔ پند۔ بیان۔ ذکر یذکر کا مصدر ہے۔ والقران ذی الذکر۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی۔ یہ جملہ قسمیہ ہے اس کا جواب محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ والقران ذی الذکر ما الامر کما تقول الکفار۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی امر یوں نہیں جیسا کہ کفار کہتے ہیں۔
Ayah 38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

(38:2) بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق : بل حرف اضراب ہے۔ عزۃ۔ عزت ۔ غلبہ۔ زور۔ بزرگی۔ اقبال۔ عز یعز کا مصدر ہے بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ کبھی عزت کے ذریعہ مدح کیا جاتی ہے جیسے رب العزۃ (37:180) صاحب عزت و قدرت یا فان العزۃ للّٰۃ جمیعا (4:139) سو عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے کبھی اس کے ذریعہ مذمت بھی ہوتی ہے مثلاً آیہ ہذا۔ جہاں عزت بطور گھمنڈ و تکبر مراد ہے۔ اسی طرح ملاحظہ ہو۔ واذا قیل لہ اتق اللّٰہ اخذتہ العزۃ بالاثم (2:206) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے نخوت گناہ پر (اور زیادہ) آمادہ کردیتی ہے۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی (بات یوں نہیں جیسا یہ کفار کہہ رہے ہیں) بلکہ (خود) یہ کافر تعصب اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا

(38:3) کم اہلکنا من قبلہم من قرن : ای کم من قرن اہلکنا من قبلہم۔ کم کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔ (1) استفہام کے لئے۔ کتنی مدت ۔ کتنی تعداد۔ اس صورت میں اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے مثلاً کم درھما کتنے درہم۔ (2) خبر یہ۔ جو مقدار کی کمی بیشی اور تعداد کی کثرت کا ظاہر کرتا ہے۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ مثلاً کم شیء ترکت فی البیت۔ میں نے گھر میں بہت ساری چیزیں چھوڑیں۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں :۔ کم من قرن بہت سی امتوں کو۔ کتنی ہی امتوں کو۔ قرن زمانہ۔ ایک ہی زمانے کے آدمی۔ وہ قوم جو ایک زمانے میں ہو۔ ایک زمانے کے لوگ۔ ان سے پہلے ہم کتنی ہی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ نادوا ماضی جمع مذکر غائب ندی مادہ سے باب مفاعلہ۔ نادی ینادی مناداۃ ونداء پکارنا۔ فنادوا سو انہوں نے (عذاب کے وقت فریاد رسی کے لئے بڑا) پکارا۔ ولات حین مناص۔ واؤ حالیہ ہے اور جملہ حالیہ۔ لات حین مناص میں نحویوں کے مختلف اقوال ہیں لیکن مشہور قول یہ ہے کہ لات میں لالیس کے مشابہ ہے خاص طور پر اس کا داخلہ وقت پر ہونے لگا اور اسم اور خبر میں سے ایک کا حذف کرنا ضروری ہوگیا۔ خلیل اور سیبویہ کے نزدیک یہاں اسم محذوف ہے ای لیس الحین حین مناص اور وہ وقت بچ نکلنے کا وقت نہ تھا۔ اس میں الحین اسم محذوف ہے اور حین مناص خبر ہے۔ حین۔ وقت۔ زمانہ۔ مدت۔ مضاف۔ مناص۔ مادہ نوص۔ اجوف وادی۔ باب نصر۔ سے مصدر میمی ہے۔ اور یہ اسم ظرف مکان بھی ہے۔ جائے فرا۔ پناہ گاہ۔ ناص ینوص نوصا دمناص ومنیص ، عن قرنہ اپنے مقابل سے بھاگنا یا بچنا۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

(38:4) منذر : اسم فاعل واحد مذکر۔ انذار (افعال) سے ڈرانے والا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جاء ہم اور منھم میں کفار مکہ کی طرف راجع ہوسکتی ہے کیونکہ عجبوا میں ضمیر فاعل بھی کفار کے لئے ہے لیکن یہ جنس بشر کے لئے بھی ہوسکتی ہے کیونکہ کسی نبی کا جنس بشر سے ہونا ان کے نزدیک بعید از فہم تھا۔ اس لئے ان کو حیرت تھی کہ یہ ڈرانیوالا ان میں سے یا جنس بشر میں سے کیسے ہوسکتا ہے ؟ ساحر کذاب : معطوف علیہ و معطوف واؤ عطف محذوف، ساحر ہے اور بڑا جھوٹا ہے۔ کذاب مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اسنے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے

(38:5) اجعل ہمزہ استفہامیہ ہے یہ سوال بطور تعجب ہے۔ اجعل الالہم الھا واحدا۔ کیا بنادیا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا۔ صاحب تفسیر ماجدی اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں :۔ ” پیغمبر حق کا اصلی جرم ان کج فہموں کے نزدیک یہی تلقین توحید تھی۔ وہ کہتے تھے کہ عالم میں قدم قدم پر تو تنوع ، تعدد کا اختلاف ہے اس کثرت کا مصدر و حدت کو فرض ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ رات الگ ہے دن آگے ہے آگ اور شے ہے پانی اور زمین الگ مخلوق ہیں ۔ آسمان الگ۔ ان میں سے ہر ایک کے کاروبار کے لئے ایک مستقل حاکم، متصرف فرماں رواء کی ضرورت ہے اور یہی دیوی دیوتا ہیں۔ سب کو مٹا کر صرف ایک مؤثر حقیقی و فاعل اصلی کو ماننے کے کوئی معنی ہی نہیں “۔ شی عجاب۔ موصوف و صفت۔ عجاب عجب سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے بہت عجیب، اچنبھے کی بات۔ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ :۔ وہ انوکھی بات جس کی نظیر ہو عجیب کہلاتے ہے اور بےنظیر ہو تو اس کو عجاب کہتے ہیں۔ فائدہ : آیت ہذا اور اگلی آیت کو سمجھنے کے لئے ان کا پس منظر ذہن میں رکھنا ضروری ہے جب حضرت عمر ؓ مسلمان ہوگئے تو قریش کو آپ کا مسلمان ہوجانا شاق گزرا۔ ولید بن مغیرہ نے سرداران قریش کی ایک جماعت کو جو تعداد میں پچیس تھے جمع کرکے کہا کہ چلو ابو طالب کے پاس چلیں۔ حسب مشورہ سب لوگ ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ سردار ہیں اور ان لوگوں (مسلمانوں) کی حرکتوں سے واقف ہیں آپ ہمارا اپنے بھتیجے سے تصفیہ کرا دیجئے۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوایا اور کہا :۔ میرے بھتیجے یہ تمہاری قوم والے تم سے کچھ درخواست کرنا چاہتے ہیں تم اپنی رائے بالکل ہی ان کے خلاف نہ کرلینا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ قریش نے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کا ذکر چھوڑ دو ، اور ہم تم کو تمہارے معبود سے نہیں روکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرتے ہو جس کی وجہ سے تم عرب کے حاکم بن جاؤ گے۔ اور عجمی بھی تمہارے فرمانبردار بن جائیں گے۔ ابوجہل بولا۔ اگر ایسی بات ہے تو ہم ایک نہیں اس جیسی دس باتیں مان لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تو لا الہ الا اللّٰہ کہہ دو ۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہتے ہوئے چلتے بنے اجعل الالہۃ ۔۔ ء انزل علیہ الذکر من بیننا۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے

(38:6) انطلق ماضی واحد مذکر غائب (صیغہ واحد جمع کے لئے آیا ہے) وہ چل کھڑا ہوا۔ انطلاق (انفعال) مصدر سے جس کے معنی چھوڑ کر چل کھڑے ہونے کے ہیں۔ منہم۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب وفد کے ممبران کی طرف راجع ہے ان میں سے کئی سردار ان چل کھڑے ہوئے (یہ کہتے ہوئے کہ) چلو اور اپنے دیوتاؤں پر قائم رہو۔ امشوا۔ امر جمع مذکر حاضر مشی (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی چلنے کے ہیں چلو۔ اصبروا علی۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ صبر مصدر باب ضرب سے جس کے معنی صبر کرنا کے ہیں۔ علی کے صلہ کے ساتھ معنی ہوں گے استقلال سے قائم رہو۔ شیء یراد۔ یہ ان کی خبر ہے۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ارادۃ (افعال) سے مصدر۔ شیء یراد۔ ایسی شے جس کا ارادہ کیا گیا ہو۔ مقصود ۔ مراد۔ (بےشک اس میں کوئی خاص امر مقصود ہے)
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے

(38:7) الملۃ الاخرۃ۔ موصوف وصفت۔ پچھلا مذہب۔ پچھلا دین۔ اس سے مراد ان کا آبائی مذہب بھی ہوسکتا ہے اور عیسائیت بھی۔ ان ھذا الا اختلاق : ان نافیہ ہے۔ ھذا یعنی دین توحید۔ اختلاق بروزن افتعال مصدر ہے بمعنی افترائ، بہتان طرازی۔ من گھڑت بات۔ خلق مادہ۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

(38:8) علیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ الذکر : ای القران۔ پندنامہ۔ نصیحت نامہ۔ ذکری۔ میری وحی۔ لما بمعنی لم ہے ای لم یذوقوا۔ عذاب : ای عذابی۔ (انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ چکھا ہی نہیں) آیت ہذا میں بل دو دفعہ استعمال ہوا ہے اور دونوں صورتوں میں بطور اضراب آیا ہے۔ بل ھم فی شک من ذکری میں اس بات سے اعراض ہے جو جملہ ما قبلء انزل علیہم الذکر من بیننا میں پائی جاتی ہے یعنی حسد۔ سرداران قریش حسدا یہ کہتے تھے کہ خدا نے اگر کوئی کلام نازل کرنا ہی تھا۔ تو سارے عرب اور مکہ و طائف میں اس نے آپ جناب کو کوئی منتخب کرلیا۔ جن کے پاس نہ مال و زر ہے نہ کوئی یارومدد گار ۔ ان میں سے ہی کسی سردار کو کیوں نہ چن لیا۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (43:31) اور کہتے ہیں کیوں نہ اترا یہ قرآن کسی بڑے مرد ان دو بستیوں میں سے۔ بل کے استعمال سے پہلے امر کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس پر اور زیادہ کردیا گیا ہے یعنی نہ صرف یہ حسد کے شکار ہیں بلکہ مزید برآں اس کلام کو منزل من اللہ ہونے پر بھی شک کرتے ہیں۔ دوسرے بل کو بھی اسی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ بل لما یذوقوا عذاب یعنی حسد اور شک کو بحال رکھتے ہی نہیں۔ (جب وہ اس عذاب کا مزہ چکھیں گے تو حسد اور کینہ کے جذبات اور تمام شکوک و شبہت دور ہوجائیں گے۔ مگر بےسود۔ بعض علماء کے نزدیک بل دونوں جملوں میں ابتدائیہ ہے۔ اضراب و اعراض کے لئے نہیں پہلا جملہ کافروں کے کلام کا جواب ہے اور دوسرا جمہ پہلے جملہ کی تاکید ہے۔ ام عندھم ۔۔ الوھاب : یہ جملہ سابقہء انزل علیہ الذکر من بیننا۔ کے مقابلہ میں ہے یعنی یہ جو کہتے ہیں کہ ہم سب میں سے اس پر قرآن کیوں اتارا گیا ہے (تو یہ بتائیں) کیا ان لوگوں کے قبضہ میں آپ کے فیاض غالب کل پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں (کہ جس کو یہ چاہیں دیں اور جس کو نہ دینا چاہیں نہ دیں) ۔ یہاں ام منقطعہ مقدرہ بہ بل والہمزۃ الاستفہام آیا ہے ای بل أیملکون خزائن۔
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

(38:9) خزائن رحمۃ ربک ترکیب اضافی ہے۔ تیرے رب کی رحمت کے خزانے۔ رب کی اضافت واحد مذکر حاضر۔ (حضرت رسول کریم کی طرف) شرف و لطف الٰہی کی مظہر ہے۔ العزیز۔ زبردست ، غالب، قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الوھاب ۔ وھب وھبۃ مصدر۔ باب فتح سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت عطا کرنے والا۔ دونوں ربک کی صفت ہیں۔ رحمۃ ربک تعالیٰ ویتصرفون فیہا حسبما یشاء ون۔ (بلکہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے خزانے ان کی ملکیت ہیں کہ جیسے چاہیں تصرف میں لاویں) ۔ یہاں اضراب کے ساتھ استفہام انکاری بھی شامل ہے۔ اس کی مثال قرآن مجید میں اور جگہ ہے :۔ ام لہ البنات ولکم النبون ۔ (52:39) ای بل الہ البنات ولکم البنون۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر انہیں ہی کی حکومت ہے تو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں پر) چڑھ جائیں

(38:10) ام لہم۔ یہاں بھی ام مثل ام مذکورہ بالا کے ہے ای بل ألہم۔ آیت 9 میں رحمت کے خزانوں کا ذکر تھا۔ جس سے مراد نبوت و رسالت کی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نعمت روحانی ہے۔ اب اس آیۃ میں رحمت رب کے ایک ادنی اجزاء یعنی عالم مادی کا ذکر ہے یعنی روحانی نعمتوں کا ان کی ملکیت میں ہونا تو کجا ان کو تو اللہ کی ادنی سی نعمت ارض و سماء کے امور پر بھی تصرف حاصل نہیں۔ فلیرتقوا فی الاسباب : یہ جملہ جواب شرط میں ہے اور شرط محذوف ہے۔ ای ان کان لہم ما ذکر من الملک فلیصعدوا فی المعارج و المناھج الذی یتوصل بھا الی السموت فلیدبروھا ولیصرفوا فیہا فانھم لاطریق لہم الیٰ تدبیرھا والتصرف فیہا۔ اگر ارض و سماء اور مابین کے امور پر ان کا کوئی عمل دخل ہے تو سیڑھیاں لگا کر آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہاں سے ان امور کا انتظام چلائیں اور ان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کریں۔ لیکن ایسا نہیں ہے ان امور میں تصرف و تدبر کا ان کو ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ جواب شرط کے لئے ہے لیرتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ ارتقاء (افتعال) سے مصدر۔ تو ان کو چڑھ جانا چاہیے۔ ترقی (تفعل) زینہ زینہ چڑھنا۔ اسباب جمع سبب کی۔ سبب اصل میں اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے درخت پر چڑھا جاتا ہے اس مناسبت سے ہر اس شے کا نام سبب ہوا کہ جو کسی دوسری شے کے توصل کا ذریعہ ہو۔ فلیرتقوا فی الاسباب تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں (یہ زجر وتوبیخ کے طور پر کہا گیا ہے اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں)
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے

(38:11) جند ما۔ ای ہم جند ۔۔ ما تقلیل و تحقیر کے لئے ہے جیسے کہ کہتے ہیں اکلت شیئا ما میں نے تھوڑا سا کھایا۔ جند مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ھناک ظرف مکان و زمان، وہاں، اس جگہ، اس وقت۔ یہاں مراد بعض کے نزدیک مکہ ہے اور بعض نے اس سے بدر مراد لیا ہے مھزوم اسم مفعول واحد مذکر ھزم (باب ضرب) مصدر سے، شکست خوردہ۔ الاحزاب۔ گروہ۔ ٹولیاں۔ جماعتیں۔ قبیلے۔ عبارت یوں ہوگی :۔ ہم جند من الاحزاب مھزوم ھنالک یہ کفار کی ایک حقیر سی جماعت ہے (جو انبیاء کے مخالف) مختلف قبیلوں سے (جمع کردہ شدہ) ہے جیسے وہاں (بمقام بدر یا مکہ) شکست دی جائے گی۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں

(38:12) قبلہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ ذوالاوتاد۔ مضاف مضاف الیہ۔ میخوں والا۔ وتد کی جمع ہے، فرعون کا لقب تھا۔
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی یہی وہ گروہ ہیں

(38:13) وثمود۔ میں واؤ عطف کا ہے ای وکذبت ثمود۔ اصحب الایکۃ۔ جنگل کے رہنے والے۔ ایکہ کے لوگ، وہ قوم جس کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) بھیجے گئے۔ اولئک الاحزاب۔ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ الاحزاب میں الف لام عہدی ہے یعنی وہی احزاب جن کا ذکر آیت جند ما ھنالک میں کردیا گیا ہے۔ یہ سب پیغمبروں کے خلاف اپنے اپنے زمانہ میں جتھ بند ہوگئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھی مشرکین مکہ نے اپنا ایک جتھ بنا لیا تھا۔ مترجم تفسیر مظہری مولانا سید عبد الدائم الجلالی لکھتے ہیں۔ ہیچمدان فقیر کی نظر میں اگر اولئک الاحزاب کو قوم نوح وثمود عاد الخ سے بدل یا ان کا بیان قرار دیا جائے تو ترجمہ بےمحاورہ اور نامناسب نہ ہوگا۔ ترجمہ اس طرح ہوگا :۔ ان کافروں سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) نے اور عاد نے اور فرعون نے اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور مدین والوں نے ان سب گروہوں نے تکذیب کی۔ تو اس صورت میں اولئک الاحزاب مبتدا خبر کا جملہ نہ ہوگا بلکہ اشارہ مشار الیہ کا ہوگا۔ اور مختلف اقوام مذکورہ سے بدل قرار پائے گا۔
Ayah 38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا

(38:14) ان کل میں ان نافیہ ہے ان کل الا کذب الرسل ای کل کذب الرسل۔ ہر جماعت نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ فحق : فاء سببیہ ہے۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حق مصدر سے باب ضرب جس کا معنی واجب ہونا ہے۔ حق واجب ہوا۔ حق ہوا۔ مطابق ہوا۔ عقاب ای عقابی۔ میرا عذاب، میری طرف سے سزا۔ عاقب یعاقب کا مصدر ہے اس باب میں معاقبۃ (مفاعلۃ) سے بھی مصدر ہے۔ عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں۔ جیسے عقب الثانی الاول دوسرا پہلے کے پیچھے ہو لیا۔ یا عقب الیل النھار۔ رات دن کے پیچھے ہولی۔ اس اعتبار سے عقاب سزا ہوئی جو جرم کے پیچھے ہولی۔ لہٰذا اس کا ترجمہ پاداش جرم ہوا۔ فحق عقاب۔ تو (ان پر) میرا عذاب لازم ہوگیا۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں

(38:15) ما ینظر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ واحد کا صیغہ جمع کے لئے ہے۔ نظر (نصر) مصدر سے بمعنی دیکھنا۔ لیکن یہاں معنی انتظار آیا ہے وہ انتظار نہیں کر رہے۔ ھؤلاء اسم اشارہ جمع۔ یہ سب۔ مشار الیہ کفار مکہ ہیں۔ صیحۃ واحدۃ۔ موصوف و صفت۔ ایک چیخ۔ ایک کڑک ، (مراد صور کے پھونکے جانے کی آواز ہے) منصوب بوجہ ینظر کے مفعول ہونے کے ہے۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع صیحۃ ہے۔ فواق۔ اسم مصدر۔ واحد ہے اس کی جمع افوقۃ اور افقۃ ہے چناچہ محاورہ ہے فاق المریض۔ جب مریض بیماری سے صحت کی طرف رجوع کرے۔ اسی بناء پر بعض نے تفسیر افاقہ اور استراحت سے کی ہے۔ اگر فواق (فاء کے ضمہ ساتھ) ہو تو اس کا معنی وہ وقفہ ہے جو دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان ہوتا ہے۔ دوہنے والا ایک مرتبہ دودھ دوھ لیتا ہے پھر بچے کو پینے کے لئے چھوڑ دیتا ہے بچے کے پینے سے جانور کے تھنوں میں دوبارہ دودھ اتر آتا ہے تو پھر دوہنے والا بچے کو ہٹا کر خود دوبارہ دوھ لیتا ہے۔ اس درمیانی وقفے کا نام فواق ہے۔ یہاں مراد سکون افاقہ۔ آرام ہے۔ یعنی جب یہ صور پھونکا جائے گا تو اس میں دم لینے کی بھی گنجائش نہ ہوگی۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے

(38:16) قالوا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع وہی کفار قریش ہیں جن کے لئے اوپر ھؤلاء استعمال ہوا ہے۔ ای قالوا بطریق الاستھزاء والسخریۃ مخول اور ٹھٹھا کے طور پر کہتے ہیں۔ عجل لنا۔ عجل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تعجیل (نفعیل) مصدر سے تو جلدی کر ہمارے لئے۔ تو ہمیں جلدی دیدے۔ قطنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ قط اصل میں س چیز کو کہتے ہیں جس کو عرض میں کاٹا گیا ہے ۔ جیسے قد اس چیز کو کہتے ہیں جو طول میں کو ٹی گئی ہو پھر جدا کردہ حصہ کو بھی قط کہنے لگے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک یہاں حصہ ہی مراد ہے یعنی ہمارا حصہ ہم کو جلدی دیدے۔ بعض کے نزدیک حصہ سے مراد عذاب کا حصہ ہے (یعنی کافر اسہزاء کہتے تھے کہ ہمیں قیامت کے جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے وہ ہمیں ابھی دے دیا جائے کہ ہم دیکھیں تو سہی کہ ہے بھی کہ نہیں) ۔ اور بعض نے اس سے حصہ جنت مراد لیا ہے (یعنی کافریہ کہتے کہ قیامت میں جو جنت دوزخ کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے ہمیں تو جنت کا حصہ جو ملنا ہے یہاں ہی مل جائے تاکہ ہم اپنی اس زندگی میں ہی اس کا خط اٹھالیں۔ یوم الحساب : روز قیامت۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

(38:17) ذا الاید۔ مضاف مضاف الیہ۔ بہت ہاتھوں والا۔ مراد بہت طاقتور بڑی قوی۔ حالت نصب میں ہے بوجہ داؤد کی صفت ہونے کے۔ داؤد منصوب بوجہ عبدنا میں عبد کا بدل ہونے کی وجہ سے ہے اور عبدنا منصوب بوجہ اذکر کے مفعول ہونے کی وجہ سے ہے اور داؤد بوجہ عجمیت اور معرفت ہونے کے غیر منصرف ہے۔ اواب۔ بہت رجوع کرنے والا۔ بہت تسبیح خوان۔ اوب سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 38:18

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے

(38:18) سخرنا ماضی جمع متکلم تسخیر (تفعیل) سے مصدر ۔ ہم نے تابع کردیا۔ ہم نے بس میں کردیا۔ معہ یسبحن : ای یسبحن معہ یعنی حضرت داؤد کے ساتھ اور ان کی موافقت و متابعت میں پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھے۔ العشی۔ زوال آفتاب سے طلوع فجر تک کا وقت۔ شام۔ العشائ۔ وتوندی تاریکی۔ جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعشی جسے رتوندی کی بیماری ہو۔ اس کی مؤنث عشواء آتی ہے۔ عشی عن کذا۔ کسی چیز سے آنکھیں بند کرلینا۔ اندھا ہوجانا۔ قرآن مجید میں ہے ومن یعش عن ذکر الرحمن (43:36) اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے۔ الاشراق۔ کا معنی ہے روشنی کی چمک کا انتہاء کو پہنچ جانا۔ یہاں بمعنی صبح ہے ای وقت الاشراق۔ معہ یسبحن بالعشی والاشراق۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ (یعنی پہاڑ) اس کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے۔
Ayahs 38:19–20

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے سب ان کے فرمانبردار تھے

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)

(38:19) والطیر محشورۃ۔ واؤ عاطفہ ہے ای وسخرنا الطیر محشورۃ۔ اور ہم نے (اسی طرح) پرندوں کو (بھی ان کا مطیع کردیا تھا) جو جمع ہوجاتے تھے (ان کے ہمرہ) محشورۃ اسم مفعول واحد مؤنث حشر مصدر۔ قرار گاہ سے نکال کر کہیں جمع کی ہوئی جماعت۔ ہر طرف سے آپ کے گرد جمع ہوجانے والے۔ ای محشورۃ الیہ من کل جانب۔ کل یعنی پہاڑ اور پرندے سب کے سب۔ لہ میں لام تعلیل کا ہے۔ اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داؤد (علیہ السلام) ہے ای کل واحد من الجبال والطیر لاجل تسبیحہ رجاع الی التسبیح۔ یعنی پہاڑوں اور پرندوں میں سے ہر ایک حضرت داؤد کی تسبیح خوانی کے باعث رجوع کرتا تھا۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے

(38:21) ہل۔ استفہامیہ ہے۔ تعجب تشویق الی السماع کے لئے ہے۔ جب کسی واقعہ کی اہمیت پر مخاطب کو متوجہ کرنا ہو تو اس کا آغاز اس قسم کے استفہام سے کیا جاتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش متوجہ ہوکر واقعہ کو سنے اور عبرت حاصل کرے۔ اتک : اتی ماضی۔ واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ تیرے پس آئی (خبر) نبؤا الخصم۔ مضاف مضاف الیہ۔ نبا خبر۔ الخصم مصدر ہے اسی لئے اس کا اطلاق ایک ، دو ، اور زیادہ پر بھی ہوتا ہے یہاں مراد دو جھگڑنے والے ہیں۔ اس کے جمع کی ضمیر خصم کی طرف راجع کی گئی ہے۔ دو کیطرف جمع کی ضمیر راجع کرنا عربی زبان میں درست ہے جیسے قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ان تتوبا الی اللّٰہ فقد صغت قلوبکما (66:4) اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تم دونوں کے دل کج ہوگئے ہیں۔ اس میں جمع کی (قلوب کی) اضافت تثنیہ کی طرف کی گئی ہے۔ جملہ وہل اتک نبوا الخصم کا عطف انا سخرنا ۔۔ پر ہے اور یہ عطف القصۃ علی القصۃ کے قبیل سے ہے بعض کے نزدیک اس کا عطف اذکر ۔۔ پر ہے۔ اذ : جب۔ اس کا تعلق الخصم کے مضاف سے ہے جو اس سے قبل محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ وہل اتک نبأ تحاکم الخصم اور کیا آپ کو دو مخالف فریق کا باہمی جھگڑے کا فیصلے کے لئے حاکم کے پاس لے جانے کا قصہ معلوم ہے ؟ تسوروا۔ ماضی جمع مذکر غائب تسور (تفعل) مصدر سے جس کے معنی دیوار یا شہر کے اردگرد بلند حفاظت کے لئے بنائی جائے شہر پناہ۔ فصیل، یہاں مراد وہ دیوار جو محروب کے اردگرد حفاظت کے لئے بنائی ہوئی تھی۔ المحراب اسم مفرد۔ محاریب جمع۔ بالاخانہ۔ کمرہ ۔ یہاں مراد عبادت خانہ ۔ کمرہ۔
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے گا اور ہم کو سیدھا راستہ دکھا دیجئے

(38:22) اذ۔ یہ اذ مذکورہ آیت نمبر 21 کا بدل ہے۔ ففزع۔سببیہ ہے فزع۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب فزع مصدر باب سمع مصدر سے۔ وہ ڈرگیا۔ وہ گھبرا گیا۔ لا تخف۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ مت ڈر۔ خوف نہ کھا۔ گھراؤ مت۔ خصمن۔ خبر مبتدا محذوف۔ ای نحن خصمان۔ ہم دو فریق معاملہ ہیں۔ بغی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ بغی مصدر (باب ضرب) اس نے زیادتی کی اس نے سرکشی کی۔ بغی بعضنا علی بعض۔ اس جملہ کی بناء فرض و تسلیم پر ہے اور تعریض مقصود ہے۔ یعنی ہم دونوں مدعی مدعا علیہ فریقین مقدمہ ہیں تو ضرور ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ (تفسیر مظہری) فاحکم : احکم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو حکم کر۔ تو فیصلہ کر۔ حکم باب نصر مصدر سے۔ ولا تشطط۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر اشطاط (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی ظلم کرنے۔ حد سے بڑھنے اور بات کو دور کرنے کے ہیں۔ تو زیادتی نہ کرنا۔ تو بےانصافی نہ کر۔ شط النھر دریا کا کنارہ جہاں سے پانی دور ہو۔ سواء الصراط۔ سواء مصدر بمعنی مستوی ہے یعنی وسط راہ۔ نہ ادھر نہ ادھر۔ سواء کی اضافت صراط کی طرف صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے سواء صفت ہے اور الصراط موصوف۔ فائدہ : تسوروا ۔ دخلوا ۔ منھم ۔ قالوا میں جمع کی ضمیر الخصم کی طرف راجع ہے۔ جس کا اطلق ایک یا دو یا زیادہ کی طرف بھی ہوتا ہے۔
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اسکے (ہاں) نناوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے یہ بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

(38:23) نعجۃ واحد نعاج جمع۔ ونبیاں ۔ واحد دنبی۔ اکفلنیھا ۔ اکفل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اکفال (افعال) مصدر سے جس کے معنی کفیل بنانا۔ دوسرے کا حصہ قرار دینا کے ہیں۔ یعنی اس کو میرا حصہ قرار دیدے۔ مجھے اس کا کفیل بنا دے۔ ن وقایہ ی متکلم کی ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نعجۃ کی طرف راجع ہے اس دنبی کو میرا حصہ قرار دیدے یا اس دنبی کو مجھے کفیل بنا دے۔ عزنی عز ماضی واحد مذکر غائب عز باب ضرب سے مصدر ۔ غلبہ کرنا۔ زبردستی کرنا ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم کی اس نے مجھ سے زبردستی کی۔ اس نے مجھ سے زبردستی کی۔ اس نے مجھ پر دباؤ ڈالا۔ عزنی فی الخطاب۔ اس نے مجھ پر گفتگو میں دباؤ ڈالا۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بیشک تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گرپڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا

(38:24) الخطائ : خلیط کی جمع ۔ شرکاء شریک۔ یبغی مضارع واحد مذکر غائب ۔ بغی (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ زیادتی کرتا ہے۔ وہ ظلم کرتا ہے۔ قلیل ماہم : قلیل خبر مقدم ہم مبتداء مؤخر۔ ما زائدہ۔ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ قلیل کی تنکیر۔ اور ما کی زیادتی سے مبالغہ کے معنی مقصود ہیں۔ فتنۃ : فتنا ماضی جمع متکلم فتنۃ باب ضرب سے مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کی آزمائش کی۔ ہم نے اسے آزمائش میں ڈالا۔ ضمیر جمع متکلم رب کے لئے ہے۔ خر ماضی واحد مذکر غائب خر (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی کسی چیز کا اوپر سے اس طرح گرنے کے ہیں کہ اس کے گرنے سیخریر (پانی کی روانی، ہوا کا سنانا) کی آواز پیدا ہو۔ وہ گرپڑا۔ راکعا : ای مصلیا۔ خر کا حال ہے۔ رکوع سے مراد یہاں صلوۃ استغفار ہے ۔ خرراکعا ای مصلیا نماز پڑھتے ہوئے (سجدہ میں) گرپڑے ایک شاعر کا شعر ہے :۔ فخر علی وجھہ راکعا وتاب الی اللّٰہ من کل ذنب وہ سجدہ میں گرا درآں حالیکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ یا راکعا سے مراد ساجدا ہے یا یہ اپنے اصلی معنوں میں ہے۔ الرکن کے اصلی معنی انحناء یعنی جھک جانے کے ہیں اور نماز میں خاص شکل میں جھکنے پر بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں رکوع اور سجود الگ الگ استعمال ہوئے ہیں مثلاً یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا (22:77) اے مومنو رکوع کرو۔ اور سجدہ کرو۔ یا والعکفین والرکع السجود (2:152) مجاوروں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے۔ یا الراکعون والسجدون (9:112) رکوع کرنے والے اور سجدہ کرنے والے۔ اس لحاظ سے خر راکعا کا ترجمہ ہوگا۔ وہ رکوع میں گرپڑے یا جھک پڑے۔ اناب : ماضی واحد مذکر غائب وہ رجو ع ہوا۔ انابۃ (افعال) الی متوجہ ہونا۔ رجوع ہونا۔ یہاں اناب سے مراد اناب الی اللہ وہ خدا کی طرف متوجہ ہوئے (توبہ کے لئے)
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

(38:25) فغفرنا لہ ذلک ای ما استغفرنا منہ جس کی اس نے ہم سے معافی مانگی ہم نے معاف کردیا۔ وان لہ عندنا : ای وان لہ بعد المغفرۃ اور بیشک ہماری اس معافی کے بعد ہمارے ہاں (ان کے لئے) قرب خاص ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داؤد ہے۔ زلفی۔ درجہ مرتبہ۔ قرب، مصدر ہے جیسے قربی مصدر ہے۔ زلفی کے وہی معنی ہیں جو زلفۃ کے ہیں۔ پاس۔ قربت۔ درجہ۔ منزلت۔ یوصف مصدریہ مذکر مؤنث واحد ۔ تثنیہ۔ جمع سب کو متضمن ہے۔ حسن ماب : حسن مصدر ہے حسن یحسن (کرم) کا مصدر ہے ۔ بمعنی اچھا ہونا۔ عمدہ ہونا۔ حسن ماب مضاف مضاف الیہ حسن کی اضافت ماب کی طرف صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے حسن صفت ہے اور مآب موصوف ۔ عمدہ لوٹنے یعنی جنت۔ اس کا عطف زلفی پر ہے۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی جو لوگ خدا کے راستے سے بھٹکتے ہیں انکے لئے سخت عذاب (تیار) ہے لہ انہوں نے حساب کے دن کو بھولا دیا

(38:26) یداود : ای قلنا یا داؤد لا تتبع : فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو اتباع نہ کر۔ تو پیروی نہ کر۔ اتباع (افتعال) مصدر ۔ الھوی۔ اسم ومصدر (باب سمع) ناجائز گفسانی خواہش، ناجائز رغبت۔ فیضلک۔سببیہ ہے۔ یضل مضارع واحد مذکر کا صیغہ ہے اضلال (افعال) مصدر سے۔ اس کا نصب بوجہ جواب نہی ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع الھوی ہے۔ ای فیکون الھوی سببا لضلالک کہ یہ خواہش نفسانی تیری گمراہی کا سبب بن جائے ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ یضلک وہ تجھے گمراہ کر دے گی۔ وہ تجھے بہکا دے گی۔ یضلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ضل (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ بھٹکتے ہیں۔ وہ بہکتے ہیں۔ راستہ کھو دیتے ہیں۔ بما میں باء سببیہ ہے اور ما مصدریہ۔ ای لہم عذاب شدید بنسیان یوم الحساب۔ یوم حساب کو بھلانے پر ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ نسوا ماضی جمع مذکر غائب نسیان (باب سمع) مصدر سے۔ وہ بھول گئے۔ انہوں نے بھلا دیا۔ یوم الحساب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ حساب کا دن۔ یوم قیامت۔ یہ نسوا کا مفعول ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے

(38:27) باطلا ای خلقا باطلہ۔ منصوب بوجہ نائب مفعول یا مفعول سے حال ہونے کے ہے۔ باطل۔ بمعنی بےحکمت۔ عبث، بےفائدہ، جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے :۔ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لاعبین (21:16) اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو اس طرح نہیں بنایا کہ ہم کھیل کر رہے ہیں۔ ذلک۔ یعنی آسمان اور زمین اور مابین کو عبث و بےحکمت پیدا کیا جانا۔ ظن۔ گمان۔ خیال۔ فویل اللذین کفروا۔ ویل۔ اسم ۔ ہلاکت۔ عذاب۔ دوزخ کی ایک وادی پس کافروں کے لئے بربادی ہے۔ من النار۔ میں من تعلیلہ ہے (سببیہ) ای فویل لہم بسبب النار المترتبۃ علی ظنھم وکفرہم پس بربادی ہے ان کے لئے اس آگ (یعنی عذاب دوزخ) کے جو ان کے ظن باطل اور کفر کے نتیجہ میں مرتب ہوئی۔ یا من بیانیہ ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ سو کافروں کے لئے بربادی ہے یعنی دوزخ ، النار۔ آگ مراد دوزخ۔ اس فقرہ میں کفروا کی دوبارہ صراحت کافروں کی مذمت اور برائی کو ظاہر کرنے کے لئے کی گئی ہے۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے کیا ان کو ہم انکی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے

(38:28) ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض۔ یہاں ام منقطعہ مقدرہ بہ بل والھمزۃ آیا ہے۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ ای بل انجعل المؤمنین المصلحین کالکفرۃ المفسدین فی الارض۔ بلکہ کیا ہم مصلح مؤمنوں کو ان کافروں کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں (نہیں یہ نہیں ہوگا) ۔ علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ ام نجعل میں ام بمعنی بل آیا ہے۔ عالم تخلیق کو اگر بےکار مانا جائے تو یہ تسلیم کرنا لازم ہوجائے گا کہ کافرو مومن میں کوئی فرق نہیں ۔ دونوں برابر ہیں اس مساوات کی نفی کے لئے انکاری سوال کیا گیا اور بل کے ذریعہ سے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے اعراض مستفاد ہوگیا۔ ام نجعل المتقین میں سوال انکاری ہے ۔ پہلے مؤمنوں اور کافروں کی مساوات کی نفی کی گئی تھی۔ اب اس جملہ میں مؤمنوں کے خاص درجہ والے لوگوں اور کفر کے اسفل درجہ میں گرنے والے لوگوں یعنی فاجروں کے درمیان برابر ہونے کا خصوصی انکار کیا گیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس انکار کو انکار اول کی تکرار قرار دیا جائے اور تقویٰ و فجور کو عدم تسویہ کی علت کہا جائے۔ المتقین۔ اسم فاعل جمع مذکر المتقی مفرد اتقاء (افتعال) سے مصدر ۔ پرہیزگار ۔ تقوی والے۔ الفجار۔ فاجر کی جمع۔ بدکار۔ نافرمان۔ کافر۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

(38:29) کتب۔ خبر مبتدا محذوف ای ھو کتاب (ای القران) انزلنا الیک۔ کتاب کی صفت ہے ک ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع نبی کریم ﷺ ہیں۔ مبارک خبر ثانی یا کتاب کی صفت۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے بڑی حکمت والی ہے۔ لیدبروا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یدبروا مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ تدبر (تفعل) سے مصدر اصل میں یتدبروا تھا۔ تاء کو دال سے بدل کر دال کر دال میں مدغم کیا۔ تاکہ وہ غور کریں ۔ تاکہ وہ سوچیں۔ ایتہ ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی آیات (کتاب کی آیات) ای فی ایتہ۔ لیتذکر۔ لام تعلیل۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر سے بمعنی نصیحت پکڑنا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اولوا الالباب۔ عقل والے۔ کامل فہم۔ اولوا۔ (والے) جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ الباب لب کی جمع ہے جس کے معنی عقل کے ہیں۔ لیدبروا۔ لیتذکر۔ فعل امر بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں لام لام امر ہوگا اور ترجمہ ہوگا :۔ چاہیے کہ وہ غور کریں۔ چاہیے کہ وہ نصیحت پکڑیں۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کے علماء سے ہے۔ ای انت و علماء امتک۔ آپ اور آپ کی امت کے علماء اس کی آیات پر غور کریں۔ اور نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے

(38:30) وھبنا۔ ماضی جمع متکلم وھب وھبۃ مصدر باب فتح ۔ ہم نے بخشا۔ ہم نے عطا کیا۔ وھب المال فلانا اولفلان۔ اس نے فلاں کو مال بخشا۔ عمومال کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ ھب لی۔ ھب لنا۔ وھب لہ۔ سلیمن۔ (نام پیغمبر) مفعول وھبنا کا۔ ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ نعم العبد ۔ نعم فعل ہے۔ مدح کے لئے آیا ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بمعنی بہت اچھا۔ بہت خوب آتا ہے جیسے فنعم اجر العلمین (3:136) اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے یا نعم المولی ونعم النصیر (8:40) وہ بہت خوب حمایتی اور بہت خوب مددگار ہے۔ نعم العبد بہت اچھا بندہ یہاں ممدوح محذوف ہے ای نعم العبد ھو۔ وہ بہت خوب بندے تھے یہ مدح حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بھی ہوسکتی ہے لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ یہ مدح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ہے۔ انہ اواب : اواب بہت رجوع کرنے والا۔ ملاحظہ ہو 38:17 متذکرہ بالا۔ یہ پہلے کلام کی علت ہے یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس لئے اچھے بندے تھے کہ وہ توبہ کی صورت میں یا تسبیح کی شکل میں بہر طور اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔
Ayah 38:31

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

(38:31) اذ۔ جب۔ جس وقت ظرف زمان ہے اواب کا۔ اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے ای اذکر ما صدر عنہ اذ عرض علیہ۔ یاد کرو اس نے نتیجہ کیا کیا جس وقت ان کے سامنے پیش کئے گئے۔ بالعشی۔ عشاء کے وقت۔ زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت۔ ملاحظہ ہو (38:18) یہاں مراد غروب آفتاب سے قبل کا وقت ہے۔ الصفنت الجیاد موصوف و صفت۔ عرض علیہ کا مالم یسلم فاعلہ ہے۔ الصفنت صافنۃ کی جمع ہے وہ گھوڑے جو تین پاؤں پر کھڑے ہوں اور چوتھے پاؤں کے سم کو موڑ کر اس پر ٹیک لگائے ہوں (جو گھوڑا اس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ نہایت فربہ اور توانا ہوتا ہے الجیاد جواد کی جمع ہے (تیز رفتار، عمدہ گھوڑا) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دے۔ الجود کے معنی ذخائر کو صرف کرنا عام اس سے کہ وہ ذخیرہ علم کا ہو یا ذخیرہ مال ہو۔ رجل جواد۔ سخی آدمی۔ الصفنت الجیاد۔ خاصے کے گھوڑے (تیز فرتار، عمدہ گھوڑے)
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

(38:32) انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی : احببت ماضی واحد متکلم میں نے دوست رکھا۔ میں نے پسند کیا۔ بعض کے نزدیک یہاں احببت بمعنی اثرت میں نے ترجیح دی ہے۔ حب الخیر۔ مضاف مجاف الیہ۔ مال کی محبت۔ الخیر بمعنی مال۔ اور جگہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے مثلا وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ (انسان مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے۔ عن حرف جر ہے اس کا استعمال مختلف معانی میں ہوتا ہے لیکن یہاں اس کتے وہ معانی تحریر کئے جاتے ہیں کو مختلف علماء کے نزدیک مختلف اقوال کا باعث بنے ہیں :۔ (1) عن کا استعمال تعلیل یا بیان سبب کے لئے۔ انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی میں نے اس مال (گھوڑوں) کی محبت کو پسند کیا ہے اپنے رب کی یاد کے لئے۔ اس کی مثال قرآن مجید میں موجود ہیں :۔ مثلا ما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ (9:114) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے رب کے حق میں دعاء مغفرت کرنا محض اس وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے اس سے کرلیا تھا۔ (2) عن کے مشہور معنی مجاوزۃ (تجاوز کرنا یا حد سے بڑھنا) کے ہیں جیسے قرآن مجید میں ہے فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ (24:62) سو ڈرتے رہیں وہ لوگ جو اس کے حکم سے تجاوز کرتے ہیں اور دور رہتے ہیں۔ اس صورت میں اس جملہ کا ترجمہ ہوگا میں نے مال کی محبت کو ترجیح دی (اور) اپنے پروردگار کی یاد سے دور ہوگیا۔ یا غافل ہوگیا ۔ حتی تورات بالحجاب : تورات صیغہ واحد مؤنث غائب ماضی معروف وہ چھپ گیا۔ وہ چھپ گئی۔ اس کے متعلق دو قول ہیں :۔ (1) اس کا فاعل شمس ہے جو یہاں مضمر ہے اور شمس عربی میں مؤنث ہی استعمال ہوتا ہے ای تورات الشمس (کشاف ، مدارک) ۔ ای تورات فی التفسیر ان التی تورات بالحجاب ہی الشمس (قرطبی) یہاں تک کہ آفتاب (مغرب کے پردہ میں) چھپ گیا (مظہری) تفسیر ابن کثیر۔ بیضاوی۔ ماجدی۔ بیان القرآن وغیرہ میں فاعل شمس ہی کو لیا گیا ہے۔ (2) تورات کا فاعل الصفنت الجیاد ہے اور ترجمہ یوں ہے :۔ یہاں تک کہ (گھوڑے) پردہ کے پیچھے چھپ گئے (نظروں سے اوجھل ہوگئے) عبد اللہ یوسف علی۔ مولانا مودودی۔ پیر کرم شاہ بھیروی اس طرف گئے ہیں۔
Ayah 38:33

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

(38:33) ردوھا : ای قال ردوھا : ردوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ رد باب نصر سے مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الصفنت الجیاد ہے۔ یعنی گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ۔ علی میرے سامنے۔ جیسا کہ عرض علیہ میں ہے (آیت 31: متذکرہ بالا) میں ہے۔ علی بمعنی مجھ پر بھی ہے۔ ای لہ علی حق اس کا مجھ پر حق ہے۔ فطفق مسحا بالسوق والاعباق : ای فلما ردوھا علیہ طفق یمسح سوقھا واعناقھا مسحا۔ یعنی جب وہ گھوڑے اس کے سامنے واپس لائے گئے تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ فطفق میں فاء فصیحت کے لئے ہے اور جملہ مقدرہ ماقبل کی وضاحت کے لئے ہے۔ نیز حکم کی بجا آوری کی سرعت پر دال ہے۔ یعنی ادھر حکم ہوا ادھر تعمیل ہوئی اور نتیجہ ظاہر ہوگیا۔ اس کی مثال اور جگہ قرآن مجید میں ہے فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا (2:60) ای فقلنا اضرب بعصاک الحجر فضرب فانفلق فالفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا۔ ہم نے (اس سے) کہا اپنے عصا کو پتھر پر مارو۔ پس اس نے (پتھر پر) مارا اور وہ پھٹ گیا تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ یعنی پتھر پر مارنے کا حکم دینا اور تعمیل میں پتھرکو مارنا (جھٹ پٹ) اس سے چشموں کا پھوٹ نکلنا سرعت عمل کو ظاہر کرتا ہے، اس سرعت کا ظاہر کرنے کے لئے عبارت میں بھی اختصار کیا گیا اور ایک جملہ حذف کردیا گیا۔ اسی طرح اس آیت میں حکم ہوا ردوھا فردوھا علیہ فطفق ۔۔ الخ مسحا مفعول مطلق ہے ای فطفق یمسح مسحا۔ سوق ساق کی جمع ہے پنڈلیاں۔ اعناق عنق کی جمع گردنیں۔ مسحا کے معنی میں دو قول ہیں :۔ (1) بعض نے طفق مسحا کا مفہوم تلوار سے کاٹنے کا لیا ہے ای شرع یمسح السیف بسوقھا واعناقھا۔ اس نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تلوار پھیرنی شروع کردی۔ راغب کے مطابقمسحتہ بالسیف الضرب سے کنایہ ہے۔ یعنی تلوار سے کاٹنے لگا۔ اسی طرح عربی میں مسح علی دریدۃ گردن مارنے کو کہتے ہیں ۔ (2) دوسرے علماء کے مطابق یہاں مسح سے مراد پیار سے ہاتھ پھیرنا ہے۔ یعنی جب گھوڑے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس واپس لائے گئے تو محبت سے وہ ان کی گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے اور ان کی پنڈلیاں ٹٹولنے لگے۔ بقول حضرت ابن عباس ؓ :۔ جعل یمسح اطراف الخیل وطراقیہا حبالہا۔
Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

(38:34) ولقد فتنا قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے فتنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تحقیق ہم نے آزمایا۔ القینا۔ ماضی جمع متکلم القاء (افعال) مصدر سے۔ ہم نے ڈالا۔ ہم نے ڈال دیا۔ کرسیہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی کرسی۔ اس کا تخت۔ جب کرسی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد علم حکومت ، فرما نروائی۔ سلطنت ہے۔ جسدا۔ بدن ، دھڑ۔ جسد کے معنی جسم ہی کے ہیں۔ مگر یہ اس سے اخص ہے۔ کیونکہ جسد وہ ہے جس میں رنگ ہو۔ اور جسم کا استعمال اس کے لئے بھی ہوتا ہے جس کا رنگ ظاہر نہ ہو۔ جیسے پانی ، ہوا۔ اس کی جمع اجساد ہے۔ اناب۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ انابۃ (افعال) سے وہ رجوع ہوا۔ انابت الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور توبہ کرنے کے ہیں۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

(38:35) ہب لی۔ ھب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وھب وھبۃ (باب فتح) مصدر سے۔ تو عطا کر۔ لی مجھے۔ تو مجھے عطا کر۔ تو مجھے بخش دے۔ لا ینبغی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ انبغاء (انفعال) مصدر سے۔ زیبا نہیں ہے۔ میسر نہ ہو۔ لائق۔ یا مناسب نہیں ہے ۔ شایاں نہیں ہے۔ ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی۔ مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد (سوا) کسی کو شایاں نہ ہو۔ (یعنی میرے بعد (سوائ) ویسی سلطنت کسی کو میسر نہ ہو) ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ (36:69) ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ ہی وہ ان کو شایاں ہے۔ یعنی مادہ۔ الوھاب۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ ھبۃ مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت عطا کرنے والا۔ بہت بخشش کرنے والا
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

(38:36) فسخرنا۔ فا سببیہ ہے (حضرت سلیمان نے دعا کی اور ہم نے وہ دعا قبول کرلی۔ اور بوجہ اس قبولیت کے) ہم نے (ہوا پر اس کو) مسخر کردیا۔ یا ہوا کو اس کے تابع کردیا۔ سخرنا فعل ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تسخیر (تفعیل) مصدر سے ہم نے تابع کردیا۔ ہم نے بس میں کردیا۔ الریح۔ ہوا۔ ریح اصل میں روح تھا۔ ماقبل کے مکسور ہونے کی بناء پر واؤ کو یاء سیبدل دیا۔ اصل میں اعتبار سے اس کی جمع ارواح اور کسرہ ماقبل کے اعتبار سے ریاح آتی ہے۔ تجعی بامرہ۔ تجری مضارع واحد مؤنث غائب جری وجریان (باب ضرب) سے وہ چلتی ہے وہ جاری ہے۔ بامرہ اس کے حکم سے۔ اس کے حکم کے مطابق۔ رخاء اسم ہے نرم رفتار والی ہوا۔ جو تند نہ ہو۔ رخاوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی نرم ہونے کے ہیں۔ اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ پہنچا۔ وہ آپڑا اس نے پالیا۔ یہاں مراد اراد۔ قصد۔ یعنی جہاں کا وہ ارادہ کریں ادھر کو ہی چلنے لگے۔
Ayah 38:37

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

(38:37) والشیطین۔ واؤ عاطفہ ہے الشیطین معطوف اس کا عطف الریح پر ہے۔ ای وسخرنا لہ الشیطین۔ اور ہم نے شیاطین (جنات) کو بھی ان کا تابع بنادیا۔ کل بناء وغواص۔ یہ جملہ بدل ہے شیاطین کا۔ کل بناء مضاف مضاف الیہ ہے۔ بناء عمارت بنانے والا۔ معمار۔ بناء (بمعنی چھت یا عمارت) سے مشتق ہے۔ فعال اگر چہ مبالغہ کا وزن ہے مگر یہاں بمعنی اسم فاعل ہے ۔ یعنی سب معماروں کو۔ غواص۔ ای کل غواص : غوص مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یہاں مراد نہ صرف پانی کے اندر سے موتی نکالنے والے عوظ خور ہی مراد نہیں بلکہ نادر کام کرنے والے اور عجیب و غریب صنعتیں ایجاد کرنے والے بھی ان میں شامل ہیں۔ غوص کے معنی پانی میں غوطہ لگا کر کوئی چیز نکال لانے کے ہیں۔ جو شخص کسی پیچیدہ مسئلہ کی تہ تک پہنچ جائے یا نیچے کی تہہ سے کوئی چیز نکال کر لائے اسے غائص کہتے ہیں اسی سے غواص مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (ہم نے اس کے تابع بنادیا) جنات کو بھی جو سب معمار اور غوطہ خور تھے۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

(38:38) واخرین مقرنین فی الاصفاد۔ واؤ عاطفہ ہے اخرین کا عطف الریح پر ہے۔ مقرنین اسم مفعول جمع مذکر ہے مقرن واحد۔ تقرین (تفعیل) مصدر سے۔ جکڑے ہوئے۔ کس کر باندھے ہوئے۔ قرنت البعیر مع البعیر میں نے اونٹ کو اونٹ سے باندھ دیا۔ جس رسی کے ساتھ ان کو باندھا جاتا ہے اسے قرن کہتے ہیں۔ اقتران کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا کسی معنی میں باہم مجتمع ہونا۔ ہم نشین کو قرین کہتے ہیں۔ الاصفاد جمع الصفد کی بمعنی و ہے کی زنجیر یا طوق۔ جس سے قیدیوں کو جکڑا جاتا ہے۔ اور (ہم نے اس کے تابع کردیا) دوسرے (جنات کو بھی) جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ یہاں یہ ضروری نہیں کہ ان کو سچ مچ لوہے کی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ نہ بھاگ سکیں اور نہ شرارت کرسکیں۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

(38:39) ھذا عطاؤنا ۔۔ الخ ای قلنا لسلیمن ۔۔ الآیۃ۔ ھذا۔ اسم اشارہ قریب واحد مذکر۔ یہ۔ اس کا مشار الیہ ملک و مال و اقتدار کی عطائگی ہے۔ جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یہ ہماری عطاء ہے (آپ کو) ۔ فامنن۔ من باب نصر مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو احسان کو تو خرچ کر۔ امساک۔ امساک (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو روک رکھ۔ بغیر حساب۔ بغیر حساب کے۔ اس آیت کے مندرجہ ذیل مطلب ہوسکتے ہیں :۔ (1) یہ عطاء ہماری بہت بڑی اور بیحد و حساب ہے اسے خرچ کرو یا رکھ چھوڑو۔ یعنی اس کو خود خرچ کرو یا رکھ چھوڑو۔ دوسروں کا دو یا نہ دو (تمہیں اختیار ہے) اس صورت میں بغیر حساب متعلق بہ عطاؤنا ہے۔ (2) یہ ہماری بخشش (عطائ) ہے اسے خرچ کرو۔ رکھ چھوڑو۔ دوسروں کو دو نہ دو ۔ خرچ کرنے نہ کرنے پر دوسرے کو دینے نہ دینے پر تم سے محاسبہ نہ ہوگا۔ (3) یہ ہماری عطاء ہے یعنی شیاطین پر تمہارا کلیۃ تصرف۔ ان میں سے جسے چاہو چھوڑ دو جسے چاہو روک رکھو۔ اس پر تم سے باز پرس نہ ہوگی۔