Ayahs 38:1–3ترکیب : ص قرء الجمہور باسکان الدال و قریٔ بکسر بالالتقاء الساکنین اولکونہ امرا من صادی الشیء قابلہ و عارضہ ای عارض بعملک القرآن و قریٔ بالفتح للتحریک والقرآن الواو للقسم وقیل معطوف علی القسم و ہو صاد و جواب القسم محذوف لقد جاء کم الحق او ما ینا سب المقام، ولات التاء زیدت علی لا کما تزاد علی رب و ثم ربۃ و ثمۃ و اکثر العرب تحرک ھذہ التاء بالفتح و اما فی حالۃ الوقف فبعضھم یقف بالتاء لان الحروف لیست موضع تغیر و بعضھم بالہاء حین علی مذہب سیبویہ خبر لات و اسمھا محذوف لانھا عملت عمل لیس ای الحین حین ھرب و عند الاخفشھی العاملۃ فی باب النفی فحین اسمھا و خبر ھا محذوف ای لاحین مناص لھم والجملۃ حال من فاعل نادوا ای استغاثوا والحال انہ لم یبق وقت الھرب۔
تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ (وقالہ القرطبی) ترمذی و نسائی و احمد و ابن ابی شیبہ و عبد بن حمیدوحاکم و بیہقی و ابن جریر و ابن المنذر وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ جب ابوطالب بیمار ہوئے تو کفار قریش کہ جن میں ابوجہل بھی تھا۔ آنحضرت ﷺ کی شکایت کرنے آئے کہ محمد ﷺ ہمارے معبودوں کی ہجو کیا کرتے ہیں۔ ابو طالب نے ان کے سامنے آپ سے پوچھا، آپ نے فرمایا کہ میں ایک ہی بات ان سے کہتا ہوں۔ اگر مان لیں تو عرب ان کا مطیع ہوجاوے اور عجم جزیہ دیوے لوگوں نے کہا ایک کیا دس بات ایسی ہوں تو مان لیتے ہیں۔ فرمایئے، وہ ایک بات کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ لا الہ الا اللہ یہ سننا تھا کہ کپڑے جھاڑتے ہوئے خفا ہو کر یہ کہتے ہوئے اٹھے کہ سب معبودوں کا ایک معبود کردیا۔ یہ عجیب بات ہے، اس پر یہ سورة ص نازل ہوئی، بل لما یذوقوا العذاب تک۔
ص حروف مقطعات میں سے ہے، ان کے متعلق ہم کئی جگہ بحث کرچکے ہیں۔ قرآن مجید کی قسم کھاکر اور اس کا معزز اور نصیحت ہونا (ذی الذکر) ثابت کرکے یہ فرماتا ہے کہ توحید ہی کا مسئلہ برحق ہے۔ بت پرستی باطل ہے۔ بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق توحید و خدا پرستی میں کوئی شک و تردد کی گنجائش نہیں بلکہ منکر لوگ تکبر اور ضد کی راہ سے نہیں مانتے اور تکبر اور ضد ہمارے مقابلہ میں کیا وجود رکھتی ہے۔ کم اھلکنا من قبلہم من قرن ان سے پہلے ہم بہت سی قوموں کو غارت کرچکے ہیں، جنہوں نے رسولوں سے مقابلہ کیا تھا۔ زور میں آکر پھر جب ان پر بلا آئی تو نادوا الغیاث الغیاث کے نعرے بلند کرنے لگے، چیخنے چلانے لگے مگر کیا فائدہ کوئی بھاگنے کا وقت نہ رہا تھا۔ آخر غارت ہوئے عاد وثمود و قوم لوط وغیرہم۔
Ayahs 38:4–8وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری اور قرآن اسی ایک پر نازل ہوا ؟
کفار نے جو آنحضرت ﷺ کو کاذب بلکہ کذاب ٹھہرایا تھا، ان کا تین شبہات پر مدار تھا، جن کو اللہ تعالیٰ نے نقل کیا ہے۔ (1) الوہیت کی بابت تھا وہ کہتے ہے، اجعل الالہۃ الہا واحدا ان ھذا لشیٌٔ عجاب یہ شبہ ان کو دو وجہ سے تھا۔ اول یوں کہ ان کو نظر و استدلال کی عادت نہ تھی، صرف ان کے اوہام محسوسات کے تابع تھے، محسوسات میں دیکھا کہ ایک شخص کی قدرت بہت سی خلقت کی محافظت و علم کے لیے کافی نہیں، اس پر انہوں نے اس کو بھی قیاس کرلیا جو ان کے حواس سے پرے اور اوہام سے باہر ہے۔ دوسرے یوں کہ ان کے اسلاف باوجودیکہ عاقل تھے اور ایک دو نہیں سینکڑوں تھے، سب شرک میں مبتلا تھے، پھر ان کے مقابلہ میں یہ ایک شخص کیونکر صادق ہوسکتا ہے، عجاب میں عجیب سے زیادہ مبالغہ ہے، جیسا کہ طوال میں طویل سے زیادہ مبالغہ ہے، اس طرح عریض و عراض و کبیر و کبار (2) نبوت کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ ان الفاظ میں نقل کرتا ہے۔ انزل علیہ الذکر من بیننا بل ھم فی شک من ذکری الخ یہ شبہ کئی ایک جگہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر یہ قوم صالح نے کہا تھا۔ ولو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم یہ حضرت کی نسبت کہا گیا۔
Ayahs 38:9–15ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔
تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب اس کو شاہی شوکت اور مارپیٹ دکھائی جاتی ہے تو ٹھیک ہوجاتا ہے یا کہو ذکر سے مراد وہ نصیحت ہے جو آنحضرت ﷺ ان کو کرتے تھے، وہ اس میں غور نہ کرتے تھے اور عذاب الٰہی سے بھی ڈراتے تھے، جب دنیا میں وہ ان پر ابھی نہیں آیا تو اور بھی دلیر ہوگئے، ام عندھم خزائن رحمۃ ربک العزیز الوھاب یہ دوسرا جواب ہے کہ خدا زبردست بڑے بخشنے والے کے خزائنِ رحمت ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں کہ جس کو وہ دنیاوی مال و اسباب کی وجہ سے معزز جانیں، اسی کو نبوت کا مرتبہ جلیلہ دیویں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو اس کے لائق دیکھتا ہے عطا کرتا ہے۔ خواہ غنی ہو خواہ فقیر، لفظ وہاب اور عزیز اس کی خود اختیاری اور بےانتہاء بخشش کی طرف اشارہ کرکے یہ بتلا رہا ہے کہ دنیا کی عزت اس کی بخشش کو احاطہ نہیں کرسکتی۔ ام لہم ملک السمٰوٰت والارض وما بینہما فلیرتقوا فی الاسباب یہ تیسرا جواب ہے کہ خزائن اگر ان کے پاس نہیں تو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی حکومت بھی ان کو نہیں کہ جس کو ان کی مرضی ہو یہ عہدہ ملے، اگر ان کو یہ بات حاصل ہے تو فلیرتقوا فی الاسباب تو ان سیڑھیوں پر چڑھ کر کہ جن کے ذریعہ سے پہنچنا ممکن ہو چڑ ہیں اور عرش تک پہنچیں اور تدبیر عالم اور ملکوت کریں اور جس کے پاس چاہیں وہاں سے وحی بھجوادیں بلکہ جند ما ھنالک الخ ان کے لشکروں کو شکست ہے۔ سلطنتِ آسمانی تو کیسی فتح مکہ یا فتح بدر کی طرف اشارہ ہے۔ کذبت الخ اس کے بعد اگلے لوگوں کی شکست اور ان کے انکار رسل سے پستی و ہلاکت یہاں فرماتا ہے، وما ینظر کہ یہ لوگ بھی عذاب اور ہلاکت کے منتظر ہیں، صیحۃ سے مراد ناگہانی ہلاکت کوئی شاعر کہتا ہے۔
صلاح الزمان بال برمک صحیۃً خرو اشد تھا علی الاذقان
بعض کہتے ہیں قیامت کے دن نفخ صور کی چیخ کے منتظر ہیں۔
Ayahs 38:16–26ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے چند انبیائِ الو العزم کا تذکرہ کرتا ہے کہ دنیا میں غموم و ہموم و مصائب پر وہ بھی برداشت کرتے آئے ہیں اور ان کو بھی اپنی امت کے بےسمجھ اور جاہلوں سے سابقہ پڑا ہے۔ منجملہ ان کے حضرت دائود ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرماتا ہے۔
واذکر عبدنا داؤد کہ ہمارے بندے دائود کو یاد کر جس کو یہ فضیلتیں حاصل تھیں۔ (1) وہ قوت والا تھا جسمانی قوت کے سوا سلطنت کی بھی قوت دی گئی تھی اور اس پر روحانی قوت بھی تھی۔ (2) باایں ہمہ وہ خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے، ان لوگوں جیسے نہ تھے جو ذرا سی دولت و قوت میں بےہوش ہوگئے۔ (3) پہاڑ اور پرند صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح میں شریک ہوتے تھے، اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔ (4) اس کی حکومت و سلطنت کو بھی ہم نے مستحکم کیا تھا، بہت سے بادشاہ فرات سے لے کر مصر تک اس کے مطیع تھے۔ (5) اس کو حکمت عطاء ہوئی تھی، ہر ایک قسم کے علوم نظریہ و عملیہ۔ (6) اس کو گویائی بھی بڑی دی گئی تھی۔ فصل الخطاب بڑے فصیح وبلیغ اور پر گو تھے۔ اس کے بعد ان پر جو ایک عجیب و غریب واقعہ گزرا ہے۔ اس کو بطور استفہام کے شوق دلانے کے لیے بیان فرماتا ہے۔ فقال و ھل اتاک نباء الخصم یہ واقع موافق عبارت قرآنیہ کے یوں ہے کہ دو شخص دائود کے پاس محراب یعنی خلوت خانہ میں دیوار پھاند کر آئے۔ ای قال تسورت تسورًا اذا علوتہ ای اتوہ من سورة و ھو اعلاہ و المحراب المرادمنہ البیت الذی کان داؤد یدخل فیہ و یشتغل بطاعۃ بہ وسمی بالمحراب لاشتمالہ علی المحراب کما یسمی الشیء باشرف اجزایۃ (کبیر 2) ففرع منہم دائود گھبرائے۔ یہ اس لیے کہ یہ دن کسی کے آنے کا نہ تھا دروازہ پر پاسبان تھے، اس سے سمجھے کہ دشمن نہ ہوں کیونکہ ان دنوں دائود ( علیہ السلام) سے فلسطانیوں کی لڑائی جاری تھی، اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ ہم دو شخص اہل مقدمہ ہیں، فیصلہ کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں۔ لاتخف آپ ہم کو دشمن جان کر نہ ڈریں، اس کے بعد مقدمہ شروع کیا چونکہ فرصت کا وقت جان کر خلاف قاعدہ شاہی دیوار پھاند کر آئے تھے، جس پر دائود کے دل میں خطرہ پیدا ہوا اور غصہ بھی آیا ہو، جس پر انہوں نے تسلی دی۔ تب ایک نے کہا میں اور یہ میرا دوست جھگڑتے ہوئے آئے ہیں، ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے… فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط آپ غصہ کو جانے دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے، یہ بات انہوں نے یا تو دائود کا غصہ دیکھ کر کہی یا جس طرح عام جاہل لوگ حکام سے مقدمات کے وقت اپنے خیالات کے بھروسہ پر ایسے بےباکانہ الفاظ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ظلم نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اب قضیہ بیان کرنے لگے، ان ھذا اخی الخ کہ اس بھائی کے پاس ننانویں دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک۔ پھر یہ اس کو بھی مجھ سے مانگتا ہے۔ وعزنی فی الخطاب اور سخت گوئی اور بدزبانی بھی کرتا ہے۔ دائود ( علیہ السلام) نے سن کر کہا اس نے تجھ پر اس خواہش میں ظلم کیا اور اکثر باہمی شریک ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں باہم شریک ہوں گے، اس ایک والے کا حصہ بہت کم ہوگا یا کوئی ایسی شرط ہوگی کہ جس سے بڑا حصہ دار اس کو ایک دنبی کا بھی مالک نہ خیال کرتا ہوگا، نوکر جانتا ہوگا۔ وظن داؤد انما فتناہ اور دائود سمجھ گئے کہ اس میں خدا نے میرے حلم و انصاف کا امتحان کیا ہے کہ ان دو شخصوں کے بےقاعدہ آنے اور سخت زبانی کرنے پر بھی انصاف کرتا ہوں یا شاہی زور میں غصہ کرکے ان کو نکلوا دیتا ہوں اور بادشاہوں کی عادت ہے کہ جو بےموقع اور گستاخانہ ان سے داد خواہی کے لیے آتا ہے تو گستاخی کی سزا دیتے ہیں۔ (کوئی شخص لاٹ صاحب کی بگھی تھام کر دیکھ لے) فاستغفر ربہ واناب اس پر دائود نے اپنے رب سے معافی مانگی اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ معافی اس پر مانگی کہ دل میں بےقاعدہ آنے اور بےباکانہ بات چیت کرنے پر کچھ جوش آیا ہوگا جو مقتضائے بشریت و حکومت ہے۔ فغفرنالہ ذلک ہم نے دائود کی یہ بات معاف کردی۔ وان لہ عندنا لزلفی وحسن مآب اور ان کے لیے ہمارے نزدیک مرتبہ اور عمدہ ٹھکانا ہے کہ ذرا سی بات پر بھی سجدہ میں گرپڑے اور اس کو بڑا گناہ سمجھ کر خدا سے معافی مانگی اور روئے۔ اچھے لوگ ذرا سی بات کو بھی پہاڑ سمجھا کرتے ہیں۔ اس امتحان میں پورا نکلنے کے سبب دائود ( علیہ السلام) نے ثابت کردیا کہ میں خلافت اور انصاف کی کرسی پر بیٹھنے کے لائق ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اس عہدہ کے لیے ممتاز فرمایا اور کہہ دیا یا داؤد و انا جعلناک خلیفۃ فی الارض کہ ہم نے تم کو زمین پر اپنی طرف سے خلیفہ حاکم یا نائب کیا ہے۔ فاحکم بین الناس بالحق پس آپ لوگوں کے انصاف سے فیصلے کیا کیجئے۔ ولا تتبع الہوی الخ اور اپنی خواہش پر نہ چلئے جو لازمہ سلطنت ہے، کیونکہ جو اپنی مرضی پر چلتے ہیں، قانونِ الٰہی کا اتباع نہیں کرتے، ان کو قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ یہ ہے وہ واقعہ اور قرآن مجید کے الفاظ اسی پر چسپاں ہیں اور اسی کے تمام اہل حق قائل ہیں۔ امام رازی و بیضاوی و صاحب شرح مواقف وغیرہ جمہور مفسرین اس میں آنحضرت ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ ان جاہلوں، سرکشوں کی بدزبانی اور بےہودہ گوئی کا خیال نہ کریں جو آپ کو ساحر کذاب وغیرہ کہتے ہیں۔ دائود کو دیکھو کہ باوجود سلطنت و شوکت کے ان سے جاہلوں نے کیا معاملہ کیا، جس پر انہوں نے صبر کیا، مگر دوسری کتاب صمویل کے گیارہویں باب میں یوں لکھا ہے کہ ایک روز دائود بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلتے تھے۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت عورت کو نہاتے دیکھا، اس کا نام بنت سبع انعام کی بیٹی اور حنی اور یاہ کی جورو تھی، اس کو بلوایا اور اس سے صحبت کی جس سے وہ حاملہ ہوگئی اور گھر چلے گئے، اس عرصہ میں اس کا خاوند بھی جنگ سے یروشلم میں آیا اور دائود نے اس کے ہاتھ اس کے افسر یواب کے لیے خط دے کر پھر لشکر میں بھیج دیا، اس میں یواب کو لکھ دیا تھا کہ اور یاہ کو جنگ میں ایسے موقع پر آگے کرنا کہ مخالف سے بچ کر نہ آوے، چناچہ یواب نے ایسا ہی کیا اور یاہ قتل ہوگیا۔ اس کی خبر دائود کو ملی چند روز عدت کے گزر جانے کے بعد دائود نے اس عورت کو اپنے گھر میں ڈال لیا۔ پھر اس کتاب کے بارہویں باب میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ناتن نبی کو دائود کے پاس بھیجا۔ اُنہوں نے جاکر دائود سے پوچھا کہ ایک شہر میں دو شخص تھے، ایک بڑا مالدار بیشمار بھیڑ بکری رکھتا تھا، دوسرا کنگال کہ جس کے پاس بجز ایک بھیڑ کے اور کچھ نہ تھا جو اس نے پالی تھی اور اس کی گود میں سوتی تھی، اس مالدار نے اپنے مہمان کے لیے اس کی بھیڑ کو لے کر ذبح کر ڈالا، دائود نے سن کر کہا وہ شخص واجب القتل ہے، تب ناتن نے کہا، وہ شخص تو ہی تو ہے۔ خدا فرماتا ہے، میں نے تجھ کو سب کچھ دیا اور بھی دیتا مگر تو نے اور یاہ کو قتل کردیا اور اس کی جورو کو لے لیا، خدا فرماتا ہے تیرے گھر پر سے تلوار نہ اٹھے گی اور تیری جو روئوں کو تیرے سامنے کھلے میدان میں تمام بنی اسرائیل کے سامنے تیرے ہمسایوں سے خراب کر ائوں گا۔ اس کے بعد دائود اپنے گناہ کے مقر ہوئے ناتن نے کہا تیرا گناہ خدا نے بخش دیا، پھر وہ لڑکا جو زنا سے پیدا ہوا تھا مرگیا اور اس کے بعد اس سے سلیمان پیدا ہوا انتہٰی ملخصًا۔
بعض بےہودہ گو قصہ خوانوں نے اس قصہ کو حضرت دائود ( علیہ السلام) کے اس واقعہ کی تفسیر میں چسپاں کردیا کہ جو آیات مذکورہ میں تھا مگر قدمائِ اسلام اس کے سخت منکر تھے اور ہیں، چناچہ سعید بن المسیب و حارث اعور نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص دائود ( علیہ السلام) کی نسبت اس قصہ کو نقل کرے گا، میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے ماروں گا جو انبیاء پر بہتان باندھنے کی سزا ہے۔ (ابن کثیر) قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس قصہ کا ہرگز اعتبار نہ کرنا چاہیے، کیونکہ نہ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے، نہ کسی صحیح حدیث میں۔ مؤرخین کی باتیں ہیں جن کو بعض مفسرین نے تفسیر میں لکھ دیا۔ انتہٰی۔
امام رازی فرماتے ہیں کہ آیات میں واقعہ کے اول بھی دائود ( علیہ السلام) کی مدح ہے اور بعد میں بھی پھر کیونکر عقل میں آسکتا ہے کہ جس نے ناحق ایک دیندار کو قتل کرایا اور اس کی جورو چھین لی جس سے بڑھ کر شرک کے بعد اور کیا گناہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ اس کی مدح کرے۔
اور اس پر طرہ یہ ہے کہ جو لوگ خصمان سے مراد دو فرشتے لیتے ہیں کہ وہ آدمیوں کی صورت میں آئے تھے، وہ معاذ اللہ فرشتوں کو بھی جھوٹ بولنے کا مرتکب بناتے ہیں۔ انبیاء سے ایسی باتوں کا ظہور میں آنا خلاف عقل و نقل ہے، وہ پاک دامن اور معصوم تھے۔ رہی کتاب صموئیل جس کی تقلید بعض حمقائِ اسلام نے کی ہے، سو آج تک پورا پتا اہل کتاب کو بھی نہیں ملتا کہ اس کا کون مصنف ہے ؟ وہ ایک تاریخ کی کتاب یہود میں مروج تھی جس کو یہود و نصاریٰ نے خواہ مخواہ الہامی فرض کرلیا۔
اس کے علاوہ خود انہی کی کتابوں میں کہ جن کو وہ الہامی مانتے ہیں۔ حضرت دائود ( علیہ السلام) کی بہت مواضع میں مدح اور پاکیزگی اور باخدا ہونا اور ان پر برکت نازل ہونا وغیرہ باتیں لکھی ہیں۔ پھر نہیں معلوم کہ ایسے شخص کی مدح کس نے لکھ دی اور جو مدح ٹھیک ہے تو قطعاً یہ قصہ کسی دشمن نے لکھ دیا۔
Ayahs 38:27–33کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔
پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے کہ وہ قادر ‘ فعل مختار ‘ حکیم ہے۔ حکیم کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا مگر جو کور باطن ہیں جن کو کافر کہا جاتا ہے۔ وہ ایسا گمان کرتے ہیں تو ان کی اس کوڑھ مغزی پر پھٹکار اور جہنم کی مار ہے۔ پس جب یہ ثابت ہوا تو دریافت کرنا چاہیے کہ اس مخلوق کے پیدا کرنے سے اس نے کیا غایۃ ٹھہرائی ہے وہ یہ کہ انسان جو عقل و ادراک کے لحاظ سے سب مخلوق میں اشرف ہے اور آسمان و زمین اس کے قیام و نفع کے لیے ہیں، اس کے بنانے سے یہ مقصود ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچان کرے اور اطاعت کرے۔ بری باتوں سے ڈرے اور یہ عالم نیکی اور بدی کی جزاء و سزائِ کامل کا گھر نہیں ہے، یہ بھی ظاہر ہے، کس لیے کہ سینکڑوں کفار خالق کے منکر بدکردار اور بدذات ظالم فریبی عمر بھر دنیا میں عیش و آرام سے رہے ہیں اور بہت سے نیک ہر قسم کی تکالیف میں مبتلا رہے ہیں، پھر اگر کوئی دوسری جگہ دار الجزا نہ ہو تو دونوں برابر ہوجاویں، بلکہ برے فائدہ میں رہیں اور ایسا کام اس حکیم کی شان سے بعید ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بیکار پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ ہر ایک کو نہایت حکمت اور مصلحتیں ملحوظ کہہ کر بنایا، پس ثابت ہوا کہ ایک اور جگہ دارالجزاء ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔ ام نجعل الذین آمنوا الخ میں خدا تعالیٰ اسی مطلب کو نہایت اختصار اور بلاغت کے ساتھ بیان فرماتا ہے۔ اس لیے اس قرآن مجید کی کہ جس میں ان خوبیوں کے ساتھ یہ مطالب نفیسہ بیان کئے گئے ہیں، خوبی بیان فرماتا ہے۔ کتاب انزلناہ الیک مبارک الخ کہ یہ کتاب جو ہم نے اے محمد ﷺ تجھ پر نازل کی ہے، بڑی بابرکت کتاب ہے، سمجھنے اور غور کرنے کے لیے بھیجی کہ دانشمند غور کرکے ہدایت پاویں۔ اس میں مسئلہ نبوت کو بھی دوسرے پہلو سے ثابت کردیا اور قرآن کا کتاب الٰہی ہونا ثابت کر دکھایا، اس کی خوبیوں سے۔
اولو الالباب کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ ایسے سمجھ اور عقل والوں پر خدا دنیا میں بھی فضل و کرم کرتا ہے۔ دائود ( علیہ السلام) جو بڑی عقل کامل رکھتے تھے جس کے سبب خدا پرستی کرتے تھے، ان کو فرزند بھی ایسا ہی لائق اور عقلمند عطاء کیا، یعنی سلیمان ( علیہ السلام) جو خدا کی طرف رجوع رہتے تھے۔ اس میں بتلایا گیا ہے کہ یہ لوگ اولو الالباب ہیں اور امت محمدیہ کے اولو الالباب قرآن سے فیض یاب ہوتے ہیں اور دائود ( علیہ السلام) کے تذکرہ کی تکمیل بھی ہے۔ سلیمان ( علیہ السلام) کو اوّاب فرمایا تھا۔ اب اس کا ایک تذکرہ بھی کرتا ہے جس سے ان کا اوّاب ہونا پایا جاوے۔ فقال اذ عرض علیہ ما بالعشی الخ عشی عصر کے وقت سے لے کر غروب تک کے زمانے کو کہتے ہیں۔ صافن اسپ برسہ پائے استادہ سرہم چہارم برزمین نہادہ۔ وایضاً القائم الذی یصف قدمیہ صفون بالضم مصدر منہ (صراح) قال المبرد الجیاد جمع جواد تیز رو گھوڑا یعنی وہ گھوڑے جو کھڑے ہوں تو بانکپن اور نزاکت اور خوبی سے اور چلیں تو ہوا سے باتیں کریں۔ تو ارت کی ضمیر شمس کی طرف پھرتی ہے جو العشی سے سمجھا جاتا ہے اور رودھا کی الصافنات کی طرف یعنی میں ان گھوڑوں کے ملاحظہ میں یہاں تک مصروف ہوا کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ یادِ الٰہی سے اس وقت غافل ہوگیا۔ ان گھوڑوں کو میرے سامنے پھر لاؤ اور ذبح کر ڈالو۔ عام مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ ان کو ذبح کروا ڈالا، کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صلوۃ عصر فوت ہونے کے بدلہ میں۔
مگر صحیح تر بیان اس واقعہ کا الفاظ قرآنیہ کے مطابق یہ ہے اور اس کو تفسیر سمجھنا چاہیے۔ وہ یہ کہ گھوڑوں کا پالنا اور تیار کرنا دشمنوں کے مقابلہ اور جہاد کے لیے جیسا کہ دین محمدی (علیہ الصلوۃ والسلام) میں عمدہ اور افضل کام ہے، ایسا ہی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں تھا کیونکہ فلسطی اور مصری اور بابل کے بت پرست بادشاہوں کا چاروں طرف سے نرغہ تھا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بیٹھ کر ایک بار ان کا جائزہ لینا چاہا اور پہلے یہ فرما دیا۔ انی احبیت حب الخیر عن ذکر رب کہ میں ان کو دنیا کے لیے نہیں دوست رکھتا ہوں بلکہ ذکررب اور دین کے لیے ان کو پسند اور محبوب رکھتا ہوں۔ عن ذکر ربی لاجل ذکر ربی پھر سامنے لانے کا حکم دیا اور ان کے سامنے سے وہ گھوڑے جن پر لوگ سوار تھے۔ دوڑاتے ہوئے نکلے، حتیٰ تو ارت بالحجاب یہاں تک کہ نظروں سے غائب ہوگئے۔ (التواری الاستتار عن الابصار و الحجاب یححبھا عن الابصار) پھر حکم دیا ردوھا علی کہ ان کو پھر لوٹ کر لائو، میرے پاس۔ گھوڑی کی روانگی دیکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ ایک بار دوڑاتے ہوئے لے جاتے ہیں۔ بارِدگر پھر لاتے ہیں، تاکہ آنے جانے میں سب حسن و قبح معلوم ہوجاوے۔ گھوڑے آپ کے پسند آئے۔ فطفق مسحابالسوق والاعناق (قال ابوعبیدۃ طفق یفعل لان خبرطفق لایکون الافعلا مضارعاو انتصاب مسحا علی المصدریۃ بفعل مقدر ای یمسح مسحاً ) والسوق جمع ساق ٹانگ۔ والاعناق جمع عنق (گردن) تو آپ پیار کی راہ سے ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ گردن اور پٹھے پر ہاتھ پھیرنے کا عام طریقہ ہے یا ان کے عیوب دیکھتے ہوں گے۔ اکثر ہاتھ پھرا کر دیکھا کرتے ہیں، جس طرح دوڑا کر دیکھا کرتے ہیں، اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ لوگوں کو خصوصاً سلیمان ( علیہ السلام) کے دشمنوں کو معلوم ہوجاوے کہ سلیمان کو لشکر اور سواروں کے بارے میں بڑی مستعدی ہے، یہ بھی دشمن پر اثر ڈالا کرتا ہے کہ وہ غافل نہیں ہے۔ ابن عباس ؓ نے بھی مسح کے یہی معنی بیان کئے ہیں، جیسا کہ اپنی تفسیر میں ابن جریر نے بروایت علی بن طلحہ نقل کیا ہے۔ امام رازی (رح) نے انہیں معنی کو جو ہم نے آیات کے بیان کئے ہیں، پسند کیا ہے اور یہ بھی فرمادیا کہ یہی معنی آیات کے الفاظ کے نہایت مطابق ہیں اور خوب موافق ہیں اور اس تقریر پر کوئی الزام بھی عائد نہیں ہوتا اور مجھ کو لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ کس لیے انہوں نے ان بےہودہ باتوں کو مان لیا کہ جن کو عقل و نقل رد کرتی ہے۔
Ayahs 38:34–38تفسیر : ولقد فتنا سلیمان یہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ پھر اس آزمائش کی قدرے تفصیل کرتا ہے۔
والقینا علی کرسیہ جسد اثم اناب اور اس کی کرسی یعنی تخت پر ہم نے ایک جسم ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا، بعض کہتے ہیں یہ دو واقعہ ہیں۔ ولقد فتنا ایک اور القینا دوسرا۔ قرآن مجید میں اور کسی حدیث میں جہاں تک کہ محدثین نے تلاش کیا ان دونوں واقعوں کی کوئی بھی تفصیل نہیں کہ آزمائش سلیمان ( علیہ السلام) کی کس بات میں تھی اور ان کے تخت پر جسم ڈالنے اور سلیمان ( علیہ السلام) کے رجوع ہونے سے کیا مراد ہے۔ ہاں مفسروں نے بعض اہل کتاب کے قصہ گوئوں سے دو قصہ ضرور نقل کئے ہیں، گو ان قصوں کو ان اہل کتاب کے قصہ گوئوں سے بعض محدثین نے احتیاط اور سند متصل سے نقل کیا ہے جس لیے بعض ناواقف مفسر اس کو صحیح حدیث سمجھ گئے، مگر پھر بھی وہ قصے ہی رہے جو قصہ گوئوں کے منہ سے نکلے ہوئے ہیں نہ کہ مشکوٰۃِ نبوت سے ظاہر ہوئے۔ پہلا قصہ یہ ہے کہ سلیمان کے محل میں شاہ مصر وغیرہ بت پرست قوموں کی بیٹیاں تھیں، جن کو بیویاں بنا رکھا تھا اور ان پر عاشق تھے۔ ان کی خاطر سے ان کی پرستش کے لیے بت خانہ بھی تعمیر کر ادیے تھے اور آپ بھی شریک ہوتے تھے۔ اس پر خدا نے ان کی سرزنش کی۔ یہ بات اول کتاب السلاطین کے گیارہویں باب میں لکھی ہوئی ہے۔ دوسرے قصہ کی بابت یوں نقل کیا ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس کے سبب اس کی سلطنت قائم تھی، حمام میں جاتے وقت اس کو اتار کر کسی خادمہ کو دے دیتے تھے جس کا نام بعض نے امینہ بتلایا ہے، ایک بار جو حمام میں گئے اور انگوٹھی اس کو دی تو ایک جن جس کو صخر کہتے تھے، سلیمان ( علیہ السلام) کی شکل میں نمودار ہوا اور امینہ سے انگوٹھی لے کر تخت پر آبیٹھا، سلیمان ( علیہ السلام) کو لوگوں نے دھکے دے کر نکال دیا پھر جو چند روز بعد اس کی کمینی باتوں سے پہچانا کہ یہ سلیمان ( علیہ السلام) نہیں تو وہ بھاگا اور سمندر میں انگوٹھی پھینک گیا ادھر سلیمان ( علیہ السلام) ماہی گیروں کے ہاں نوکر ہوگئے۔ ایک مچھلی کے پیٹ میں سے وہ انگوٹھی برآمد ہوئی، اس کو پہننا تھا کہ پھر اقبال لوٹ آیا، سب لوگ مطیع ہوگئے۔
اس خرافات کا کچھ ٹھکانا ہے، اگر یوں ہی جن و شیاطین انبیاء تو کیا اور بھی کسی کی شکل میں ظاہر ہوا کریں تو دنیا کے تمام کاروبار معطل ہوجاویں اور کچھ بھی کسی کا اعتبار نہ رہے۔ ہمارے نزدیک یہ دو قصے نہیں ہیں، ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ہرچند اہل کتاب کی الہامی کتابیں صحیح و غلط کا مجموعہ ہیں، مگر تاہم غور کرنے سے ان میں سے اصل بات بھی نکل آتی ہے۔ اصل بات اس قدر معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو دنیا کے بیشمار سامان و اسباب عطاء کئے تھے اور ان کی سلطنت کا زمانہ بنی اسرائیل اور آس
پاس کے بادشاہوں کے لیے بڑے امن و چین کا زمانہ تھا، ان کے عہد میں جنگ و جدل کی بھی بہت کم نوبت آتی تھی، سونا چاندی اور گھوڑے اور جواہرات بکثرت تھے۔ بادشاہوں کی بیٹیاں بھی آپ کے پاس آئیں۔ سباء کی شہزادی اور شاہ مصر کی بیٹی وغیرہ اور یہ عورتیں سب ایک مذہب کی نہ تھیں، ان میں سے بعض بت پرست بھی ہوں گی اور اسی مصلحت کے لیے خدا نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو غیر قوموں کی عورتوں کے رکھنے کی ممانعت کردی تھی، کچھ عجب نہیں کہ ان میں سے کسی نے کوئی بت ہی بنالیا ہو جس کی سلیمان ( علیہ السلام) کو بعد میں خبر ہوئی اور انہوں نے توڑ ڈالنے کا حکم دیا مگر ان کے گھر میں گو ان کی بیخبر ی سے ہوا ہو، ایسا ہونا بھی ان کی شان نبوت کے برخلاف ہے، البتہ یہ باتیں سلیمان کے حق میں آزمائش کی تھیں اور حقیقت میں کثرت مال و اسباب زن و فرزند انسان کے لیے بڑی آزمائش ہے اور بڑا فتنہ کما قال تعالیٰ ۔ انما اموالکم و اولادکم فتنۃ۔ سلیمان کی ذرا ہی غفلت ان کے لیے بڑی قابل عتاب بات تھی، جس پر متنبہ کرنے کے لیے خدا نے رودمی ہدہد کو سلیمان کے مقابلہ میں ابھارا جس نے شاہ مصر کی مدد سے سلیمان کا مقابلہ کیا اور خوب لڑتا رہا اور اسی طرح الیدع کے بیٹے رزوں کو ابھارا وہ بھی مخالف تخت ہوگیا۔ تیسرا شخص یربعام مخالف کھڑا ہوگیا جو سلیمان کا نوکر تھا۔ (الکتاب السلاطین الاسباب) تخت کے برخلاف ایسے شخصوں کا کھڑا ہونا جنہوں نے ملک کو تہ وبالا کردیا ہوگا۔ بیشک تخت پر جسم یعنی بوجھ پڑجانے کا باعث ہے۔ جسم ڈالنا محاورہ ہے، اس کے بوجھل اور کمزور ہونے سے ثم اناب مگر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) متنبہ ہوئے، خدا کے آگے گریہ وزاری کی خدا نے اس کے دشمنوں کو پامال کردیا۔ اس حادثہ کے بعد سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ دعا کی رب اغفرلی کہ میری غفلت کو معاف کردے۔ وھب لی ملکالا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوھاب۔
کہ مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد جو میرے جانشین ہوں ان سب سے بڑھ کر ہو اور ایسا ہوا بھی کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے بعد پھر کوئی بنی اسرائیل میں سے ایسا بادشاہ نہ ہوا بلکہ سب عہد سلیمانی کو یاد کرتے رہے۔ یہ حسد کے طور پر نہیں کہ مجھے ایسا دے اور کسی کو نہ دے بلکہ آپ سمجھ گئے کہ اس قسم کی سلطنت کا میرے بعد کوئی متحمل نہ ہوگا یا یہ معنی کہ میرے بعد اور کوئی اس پر دست تطاول دراز نہ کرے، یعنی پھر کوئی معارض نہ کھڑا ہو (ابو السعود) امام رازی اس واقعہ کے متعلق یوں تفسیر کرتے ہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) سخت بیمار ہوگئے تھے اور تخت پر گویا ان کا دھڑ بےجان کے بٹھایا جاتا اور عرب ضعیف کو کہتے ہیں۔ لحم علی وضم و جسم بلا روح یہ ان کی آزمائش تھی اور تخت پر جسم ڈالنے کے یہ معنی ہیں۔ ثم اناب ای رجع الی حال الصحۃ کہ پھر تندرست ہوگئے۔ تندرست ہو کر سمجھ گئے کہ دنیا سدا کسی کے پاس نہیں رہتی، ایک دوسری جگہ جانا ہے، اس لیے مغفرت کی دعا کی اور پھر سلطنت ابدی کی دعا مانگی۔ ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی ای ملکا لا یمکن ان ینتقل عنی الی غیری کہ وہ سلطنت جو مجھ سے کبھی غیر کی طرف منتقل ہو کر نہ جاوے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ الہام کے طور پر آپ کو وہ حوادث جو ان کے بعد غیروں سے پیش آنے والے تھے۔ بتلائے گئے جیسا کہ یربعام کا ان کے بعد ملک کے اکثر حصوں پر قابض ہونا اس لیے آپ نے دعا کی کہ کسی اور غیر کو میری سلطنت سزاوار نہ ہو وہ ملک عطا کر۔
فرماتا ہے فسخر نالہ الریح کہ ہم نے درحقیقت اس کو ایسی سلطنت عطا کی جو پھر اس کے بعد اور کسی کو نہ عطا کی کہ ہوا کو بھی اس کے تابع کردیا تھا اور شیاطین اس کے حکم کے مسخر تھے کہ کچھ ان میں سے کار تعمیر میں مصروف تھے اور کچھ غوطہ لگا کر موتی نکالا کرتے تھے اور باقی قید میں پڑے ہوئے تھے۔ اصفاد جمع صفد طوق
Ayahs 38:39–40ھذا عطاؤنا سلیمان ( علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا، یہ ہماری بےحساب نعمت ہے، خواہ آپ کسی کو دیں یا نہ دیں، ہر طرح سے آپ کو مختار کیا گیا اور اس پر موقوف نہیں، آخرت میں بھی سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے ہمارے پاس بلند مرتبہ اور عمدہ ٹھکانا ہے، یعنی جنت جسمانی و روحانی۔
جو لوگ وجود جن اور خرق عادات کے قائل نہیں وہ ہوا کے مسخر ہونے کے یہ معنے کہتے ہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے دریائِ قلزم کے کنارے پر جو ادوم کی سرزمین ہے، جہازوں کی بحر بنائی اور حیرام نے اس بحر میں اپنے جاکر ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے، ان کے ساتھ بھجوائے، وہ اوفیر جاکر سونا لاتے تھے۔ جہاز ہوا سے چلا کرتے تھے اور ہوا سلیمان ( علیہ السلام) کے ارادے کے موافق جہازوں کو لے کر آتی جاتی تھی اور شیاطین و جن وہ غیر قوموں کے لوگ جو تعمیر وغیرہ کاموں میں لگے ہوئے تھے اور سرکش قید میں پڑے تھے۔ استعارہ کے طور ان کی بددینی و سرکشی کی وجہ سے ان کو شیاطین و جن سے تعبیر کیا گیا۔ وفیہ ضعف ظاہر۔