38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 38:41–44

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بیماری اور تکلیف دینے کے لیے شیطان نے چھولیا 1 ؎ ہے۔

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے حکم دیا) کہ (زمین پر) لات مارو (جس سے چشمہ نکل آیا ہم نے فرمایا) تمہارے نہانے اور پینے کے لیے یہ سردچشمہ بہہ رہا ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

(جس میں نہانے سے ان کو شفا ہوئی) اور ہم نے ان کے اہل و عیال اور اتنے ہی اور بھی اپنی مہربانی سے عنایت فرمائے (تاکہ) عقلمندوں کے لیے یادگار رہے

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور (حکم دیا کہ) اپنے ہاتھ میں جھاڑو کا مٹھا لے کر مارو اور قسم میں جھوٹے نہ بنو اور ہم نے ایوب کو صابر پایا وہ بڑے اچھے بندے خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

ترکیب : واذکر جملۃ مستانفۃ بنصب قرء الجمہور بضم النون و سکون الصاد فقیل ھو جمع نصب بفتحتین کا سدوا سد وقیل لا وقال ابو عبیدۃ ان النصب بفتحتین التعب و الاعیاء و علی بقیۃ القرأت الشر و البلاء۔ واذکر عبدنا ایوب یہ تیسرا قصہ صبر دلانے کے لیے حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ہے۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوئے تو شیطان نے ان کی بیوی سے کہا میں طبیب ہوں، اگر ایوب کو شفا ہوجاوے تو کہنا میں نے شفا دی۔ (احمد) اس بات کی ایوب ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتے ہیں کہ اس نے مجھے دکھ دیا۔ حکم ہوا کہ پائوں مار اس کے مارنے سے سرد چشمہ نمودار ہوا جس میں نہانے سے وہ تندرست ہوگئے اور ان کی مردہ اولاد زندہ ہوگئی اور بھی پیدا ہوئے ایوب ( علیہ السلام) نے قسم کھائی۔ تفسیر : کہ تندرست ہو کر اس بیوی کو سو کوڑے ماروں گا، کس لیے اس نے شیطان کی بات سنی خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ تو قسم میں بھی جھوٹا نہ ہو اور عورت بھی بےخطا ہے، تیری خدمت گزار ہے، جھاڑو لے کہ جس میں سو تیلیاں ہوں، وہ ماردو قسم پوری ہوجاوے گی۔ خدا تعالیٰ ایوب کے صبر کی تعریف کرتا ہے اور ان کی مدح کرتا ہے کہ بڑے صابر تھے۔ 1 ؎ شیطان کی طرف نسبت کرنے کا یہ باعث کہ ایوب کے امتحان کا وہی باعث ہوا تھا کہ ایوب کا خالص بنہ ہونا جب معلوم ہو کہ اس پر بلا آوے اور نیز۔
Ayahs 38:45–55

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو بھی یاد کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے،

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک خاص بات کے لیے جو دار آخرت کا یاد کرنا ہے منتخب کرلیا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے نزدیک برگزیدہ (اور) نیک لوگوں میں سے تھے

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کرو اور (یہ) سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

نصیحت ہے اور البتہ پرہیز گاروں کے لیے عمدہ مقام ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

جنت عدن جس کے دروازے (پہلے ہی سے) ان کے لیے کھلے ہوئے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ وہاں تکیہ لگا کر بیٹھیں گے، وہاں بہت سے میوے اور شراب طلب کریں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم عمر عورتیں ہوں گی۔

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) جس کا تم سے قیامت کے لیے وعدہ کیا جاتا ہے

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ نعمتیں ہیں جو کبھی نبڑنے ہی کی نہیں

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ بات ہے۔ اور سرکشوں کا برا ٹھکانا ہے،

و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی الخلوص فیکون ذکری مرفوعابہ) یا یہ معنی کہ ان کو خالصہ خاص بات کے لیے مخصوص کیا تھا۔ (علی انھا اسم فاعل علی بابہ و ذکری مصدر الدار مفعول بہ او ظرف علی الاتساع او علیٰ اسقاط الخافض، ذکری الدار بدل من خالصۃ) وہ خاص بات کیا ہے یہ کہ وہ دار آخرت کو یاد رکھتے تھے، دنیا پر ان کی نظر نہ تھی۔ و انہم عند نا الخ اور وہ ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک تھے۔ با ایں ہمہ ان پر قوم سے کیا کیا تکلیفیں پڑیں اور انہوں نے صبر کیا ‘ دل میں تنگی پیدا نہ ہوئی، اس جملہ سے ثابت ہوا کہ حضرات انبیاء معصوم تھے، پس وہ جو بےہودہ قصے ان کی طرف منسوب ہیں، محض جھوٹ ہیں۔ و اذکر اسماعیل والیسع وذا الکفل پھر ان تین اور بزرگوار انبیاء کا ذکر کرتا ہے، اول حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کا دوسرے الیسع ( علیہ السلام) کا تیسرے ذی الکفل ( علیہ السلام) کا ان کا بھی سورة انبیاء میں ذکر ہوچکا ہے۔ کفار مکہ نے انکار حشر میں ربنا عجل لنا قطنا تمسخر کے طور پر کہا تھا، اس کے بعد خدا تعالیٰ نے چند انبیائِ او لو العزم کا ذکر کیا کہ آنحضرت ﷺ کو ان کے صبر کا حال سن کر تسلی ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ لوگ دار آخرت کے مستحق اور مشتاق تھے اور باوجود عقل و علم و ثروت کے وہ دار آخرت کے نہایت طالب رہے، پھر وہ کوئی احمق یا بیوقوف تو نہ تھے جو دار آخرت نہ ہو اور وہ اس کا فرضی شوق پیدا کرکے اس کے لیے دنیا میں بیشمار مصائب اٹھاویں۔ نہیں نہیں دار آخرت برحق ہے۔ گویا یہ دلیل نقلی تھی۔ اس کے بعد وان للمتقین سے لے کر من نفاد تک صاف صاف دار آخرت اور وہاں کی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور ذکر کو تمام کرنے کے لیے عرب میں ھذا کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس بات کو یاد رکھو یا یہ کہ اصل بات یہ ہے یا یہ کہ نیکوں کا انجام یہ ہے۔
Ayahs 38:56–64

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

جہنم کہ جس میں ان کو گرنا ہوگا۔ پھر کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے پھر وہ اس کو چکھیں جو کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اس شکل کی اور بھی طرح طرح کی چیزیں ہوں گی۔

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ (فرشتے کفار کے سرغنائوں سے کہیں گے تمہیں اکیلے نہیں بلکہ) تمہارے ساتھ تمہارے پیرو وں کا ایک گروہ ہے، ان پر خدا کی مار جو تمہارے ساتھ جہنم میں گھسنے والا ہے

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

(ان کے پیرو سرغنائوں سے) کہیں گے بلکہ تمہی پر خدا کی مار تمہیں تو اس بلا کو ہمارے سامنے لائے ہو جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پیرو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! جو اس بلا کو ہمارے آگے لایا اس کو آگ میں دوگنا عذاب دے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور (دوزخی جہنم میں جاکر) کہیں گے کہ جن لوگوں کو ہم دنیا میں برا سمجھا کرتے تھے، ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتے۔

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ان کو ہم نے (ناحق) ذلیل سمجھ رکھا تھا (جو جہنم میں نہیں آئے)

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یا ہماری آنکھیں ہی چوندھیا گئی ہیں (جو ان کو دیکھ نہیں سکتیں)

ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔ تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے کر مہاد فرمایا کہ وہ آگ کے بستر پر بیٹھیں گے۔ دنیا کی سرکشی اور شہوات آگ ہو کر سامنے آویں گے۔ (2) ھذا فلیذو قوہ الخ حمیم گرم کھولتا ہوا پانی غساق بالتشدید والتخفیف یقال غسقت العین اذا سال و معھا، ابن عمر ؓ کہتے ہیں۔ یہ دوزخیوں کے زخموں کی پیپ ہوگی جو گرم پانی کے ساتھ دوزخیوں کی غذا ہوگی۔ جیسا کہ مکان تھا ویسی ہی غذا۔ کہا جاوے گا کہ لو اس کو چکھو شکلہ ازواج جمہور نے آخر کو مفرد کا صیغہ پڑھا ہے اور بعض نے اس کو اخری کی جمع سمجھ کر آخر بضم ہمزہ پڑھا ہے، یعنی اس قسم کی یا ان اقسام کی ان کو اور بھی چیزیں ملیں گی جن کے کھانے پینے میں سخت تکلیف ہوگی۔ بدمزہ ‘ بدبو ‘ بداثر سب کچھ ہوگا۔ یہاں تک تو ان کے مکان اور کھانے پینے کا ذکر تھا، اب ان کے دنیاوی رفیقوں کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ (4) ھذا فوج مقتحم معکم ملائکہ دوزخ کے ان لوگوں سے کہیں گے جو دنیا میں گمراہوں کے سردار اور پیشوا تھے کہ تمہیں اکیلے نہیں تمہارے ساتھ یہ تمہاری فوج بھی داخل ہورہی ہے۔ الاقتحام در افگندن بسختی دھکا پیل ہو کر آنا۔ یہ سن کر وہ کہیں گے۔ لامرحبا بہم ان کو خوش وقتی نصیب نہ ہو یعنی یہ سردار اپنے متبعین کے لیے ناخوش ہو کر یہ بدعا کا کلمہ کہیں گے۔ محاورئہ عرب میں یہ کوسنا ہے، جس طرح ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں۔ خدا کی مار اور اچھے اور خوشی کے موقع پر مرحبا کہتے ہیں۔ برے موقع پر لامر حبا کہتے ہیں یا فرشتہ ہی کہیں گے۔ انہم صالوا النار یہ کمبخت بھی آگ میں آرہے ہیں۔ ان سرداروں کی یہ دلخراش بات سن کر ان کے پیرو جواب میں کہیں گے۔ بل انتم لامرحبا بکم الخ کہ تمہیں پر خدا کی مار تمہیں نے تو ہم کو اس بری جگہ پہنچایا، دنیا میں بری باتیں الحادو کفر کی تعلیم کرتے تھے، اس کے بعد خدا تعالیٰ سے التجا کرکے کہیں گے۔ من قدم لنا کہ خدایا جس نے ہم کو یہاں پہنچایا، اس کو دو چند عذاب دے۔ ایک اس کے گمراہ کرنے کا ایک خود اس کی گمراہی کا۔ (5) وقالوا ما لنا لانری رجالاً یہ ایک اور بڑی حسرت کی بات ہوگی کہ جن غریب مسلمانوں سے یہ متکبر ملحد تمسخر کیا کرتے اور ان کو احمق اور بدراہ کہتے تھے، ان کو اپنے ساتھ جہنم میں نہ دیکھیں گے تو آپس میں کہیں گے، وہ کہاں ہیں جو ہم کو نظر نہیں آتے، وہ جنت میں ہوں گے۔ ان کو کیوں نظر آنے لگے تھے، تب اور بھی رنج ہوگا۔ یہ روحانی جہنم ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان ذلک لحق کہ جہنم میں ان کا باہم جھگڑنا برحق ہے، قطعاً ہوگا۔
Ayahs 38:65–70

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

اے نبی ! کہہ دو میں جو ہوں تو ایک ڈر سنانے والا ہوں (اور اعلان کرنے والا) کہ خدا واحد قہار کے سوا کوئی معبود نہیں

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے سب کا زبردست بخشنے والا پروردگار ہے،

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

کہہ دو یہ ایک بڑی خبر ہے۔

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

تم ہو کہ اس سے منہ پھیرے لیتے ہو،

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

جبکہ عالم بالا کے لوگ آپس میں بحث کررہے تھے تو مجھے ان کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھے تو یہی وحی کیا گیا ہے کہ میں تم کو صاف صاف ڈر سنائوں۔

ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو کہ میں تو صرف خبردار کردینے والا ہوں، آگے تم کو اختیار ہے جیسا کرو گے ویسا بدلہ پاؤ گے، اس میں اثبات نبوت ہے اور اسی کے ضمن میں حشر کا بھی ثبوت ہے کہ جس دن کے لیے میں تمہیں خبردار کررہا ہوں وہ دن سر پر آنے والا ہے، رہی توحید اس کے لیے فرماتا ہے۔ ومامن الہ الا اللہ الواحد القہار کہ اس ایک اللہ کے سوا جو اکیلا اور زبردست ہے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ ہر ایک اس کے حکم وقدرت کے آگے سرنگوں ہے، پھر جب یہ ہے تو اور کوئی خدا بھی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے واحد ہونے پر اور نہ صرف وہ واحد قہار ہے بلکہ رب السمٰوٰت والارض و مابینہما جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور خود آسمانوں اور زمین کا بھی وہی رب یعنی پرورش کرنے والا ہے۔ موجودات میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کی ہر وقت دست نگر نہ ہو۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اور کوئی خالق نہیں نہ کوئی مربی و حاجت روا ہے کہ خدا تعالیٰ زبردستی سے اس کے ملک پر قبضہ کر بیٹھا ہو بلکہ وہی مالک و خالق اور پرورش کرنے والا بھی ہے، اس کی شان قہر و جبروت ہے۔ اسی کی صفت ربوبیت ہے کہ سامع کو ہیبت کے بعد اس کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔ برخلاف ادیان باطلہ کے کہ انہوں نے ان صفات کا ایک ذات میں مجتمع ہونا محال خیال کرکے تین شخص جدا جدا بنائے، برہما پیدا کرنے والا ‘ بشن پرورش کرنے والا ‘ مہیش مہادیو، قہار۔ یہ عام ہنود کا خیال ہے۔ خاص خاص فریق کا نہ ہو نہ سہی۔ عیسائیوں نے بھی تین اقنوم گھڑ کر ایک خدا بنایا ہے، اب ابن روح القدس بلکہ وہی عزیز اور غفار ہے۔ ستر برس بھی کوئی نافرمانی کرکے رجوع کرتا ہے تو وہ بخش دیتا ہے۔ اس کے بعد پھر دوسری طرح سے کلام شروع کرتا ہے۔ قل ھو نباء عظیم انتم عنہ معرضون ان سے کہہ دو کہ یہ کوئی ہلکی اور ذرا سی بات نہیں ہے بلکہ بڑی بھاری بات غور طلب ہے، یعنی نبوت و توحید و حشر کی خبر اور تم اس سے انکار کرتے ہو، کچھ بھی فکر و تامل نہیں کرتے۔ تقلیدِ آبائی میں لکیر کے فقیر بنے ہوئے انکار اور تکرار کرتے ہو۔ ماکان لی من علم الخ اب بتلاتا ہے کہ یہ بڑی خبر میں نے تم کو آپ سے بناکر نہیں دی ہے بلکہ مجھے وحی نے خبر دینے پر مجبور کیا ہے، کس لیے کہ جب ملائِ اعلی یعنی عالم بالا کے ملائکہ میں جو کچھ انسان کے بعد ہونے کی بابت اور اس کے اسباب سعادت و شقاوت کی بابت خصوصاً دنیا میں نبی آخر الزمان بھیجنے کی بابت جو کچھ گفتگو ہوئی تھی یا آیندہ امور پر ہونی ہے، اس کی مجھے کیا خبر ہے، البتہ مجھے وہاں سے وحی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کو کہہ دوں کہ میں خبردار کرنے والا نبی ہوں۔