Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 65
یعنی اس مقام سے جہاں آدم کے آگے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا اور جہاں ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔
سورة صٓ 66
اصل میں لفظ " رَجِیْم " استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی ہیں " پھینکا ہوا " یا " مارا ہوا "۔ اور محاورے میں یہ لفظ اس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جسے مقام عزت سے گرا دیا گیا ہو اور ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا گیا ہو۔ سورة اعراف میں یہی مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ ، " پس تو نکل جا، تو ذلیل ہستیوں میں سے ہے "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
(آیت) لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۔ یہاں حضرت آدم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا کیا۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ”ہاتھوں“ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ہاتھ ہیں جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعضاء وجوارح کی احتیاج سے منزہ ہے۔ لہٰذا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور عربی زبان میں لفظ ”ید“ بکثرت قدرت کے معنی میں مستعمل ہے، مثلاً ارشاد ہے(آیت) بیدہ عقدة النکاح۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ اور یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرت خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن جب باری تعالیٰ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
شیطان کا چیلنج اور اس کا جواب
قال ماخرج منھا فانک وجیم وان علیک لعنتی انی یوم الدین (78-77)
منھا میں ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ اس لئے کہ یہ ماجرلو جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہے، جنت ہی میں پیش آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرکشی کے بعد اس کو ملعون قرار دے کر جنت سے نکل جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میری یہ لعنت تیرے اوپر قیامت کے دن تک کے لئے ہے۔ اس دن تو اپنے اس جرم کی سزا بھگتے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت نمبر 77 تا 78
یہ واضح نہیں ہے کہ منہا کی ضمیر کس طرف عائد ہوتی ہے۔ کیا یہ جنت کی طرف راجع ہے اور یہ خبیث جنت میں تھا۔ یا اس کا مرجع رحمت الہیہ ہے۔ دونوں کی طرف یہ ضمیر راجع ہوسکتی ہے۔ اس پر کسی مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ غرض شیطان راندۂ درگاہ ہوگیا اس پر اللہ کی لعنت ہوئی اور غضب ہوا کیوں ؟ اس لیے کہ اس نے امرالہٰی کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں جرات اور جسارت کا مظاہرہ کیا۔
Read the full tafseer →8 یعنی بہشت میں فرشتوں کی صحبت میں جانا تھا۔ اب نکالا گیا۔
Read the full tafseer →آیت 77 { قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ} ”اللہ نے فرمایا : نکل جائو یہاں سے ! اب تم مردود ہوگئے ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
72 یعنی قیامت تک تو اللہ، اس کے فرشتے، تمام انسان حتیٰ کہ ابلیس کی پیروی کرنے والے بھی اس پر لعنت پھٹکار کرتے رہیں گے پھر اس کے بعد ابدا لآباد ابلیس اور اس کی آل اولاد کو عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
68۔ (اور جو اس وقت تک ملعون رہا، اس کے لیے اس کے بعد مغفوریت کا احتمال ہی نہیں) (آیت) ” الی یوم الدین “۔ محاورۂ زبان میں دوام اور ہمیشگی کے اظہار کیلئے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ قیامت کے بعد ملعونیت مغفوریت سے بدل جائے گی، ولا یظن ان لعنتہ غایتھا یوم الدین ثم تنقطع لان معناہ ان علی اللعنۃ فی الدنیا وحدھا فاذا کان یوم الدین اقترن بھا العذاب (مدارک) (آیت) ” منھا “۔ ضمیر مؤنث غائب جنت کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور سماوات کی طرف بھی۔ اے من الجنۃ اومن السموت (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →قال فاخرج منھا فانک رجیم اللہ نے فرمایا : تو یہاں سے نکل جا ‘ بلاشبہ تو مردود ہے۔
منھا یعنی جنت سے یا آسمان سے نکل جا۔ حسن اور ابو العالیہ نے کہا : اس بناوٹ (اور خوبصورت تخلیق) سے نکل جا ‘ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا : یہ تشریح اچھی ہے ‘ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی ‘ بدصورتی سے بدل گئی۔
فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ5 رجیم ‘ مردود ‘ راندۂ درگاہ ‘ یعنی تو آدم سے افضل نہیں ہے۔ یہ جملہ حکم خروج کی علت ہے (یعنی تجھے نکل جانے کا حکم اسلئے دیا گیا کہ اب تو راندۂ درگاہ ہوگیا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(77۔ 78) ارشاد ہوا اچھا تو فرشتوں کے لباس سے اتر اور تو ملعون اور میری رحمت و عنایت سے مردود ہے اور حساب کے دن تک تجھ پر میرا عذاب اور غضب رہے گا۔
اور کہا گیا ہے کہ جزائر بحر کی طرف اس کو پھینک دیا کہ جہاں چوروں کی طرح یہ آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ : اس آیت سے آدم ؑ کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تفصیل سورة مائدہ کی آیت (64) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : (بل یدہ مبسوطتن) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ : ”اَسْتَكْبَرْتَ“ اصل میں ”أَ اِسْتَکْبَرْتَ“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
75 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
1:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے…
Read the full tafseer →قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے) کہا ] فَاخْرُجْ مِنْهَا [پس تو نکل اس سے ] فَاِنَّكَ [پھر بیشک تو ] رَجِيْمٌ [دھتکارا ہوا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔
ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ 77ۚۖ
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔
رجم
الرِّجَامُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّـکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْٓ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (صٓ: 77، 78)
(حکم ہوا، تو یہاں سے نکل جا، بیشک تو مردود ہے۔ اور بیشک تیرے اوپر جزاء کے دن تک میری لعنت ہے۔ )
رجیم کا معنی مردود، پھینکا ہوا اور دھتکارا ہوا کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے سورة الاعراف میں اسی مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ فَاخْرُجْ اِنَّـک مِنَ الصَّاغِرِیْنَ ” پس نکل جا، تو ذلیل ہستیوں میں سے ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے مردود ہونے میں ذلیل ہونا بھی شامل ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ملے جو ابلیس کو برا نہ کہتا ہو اور اس سے نفرت نہ کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کا کام لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو لوگ برے انجام سے بےخوف ہوں گے ان کا انجام ابلیس جیسا ہوگا۔
نبی آخر الزمان ﷺ نے کفار اور مشرکین کو بار بار برے انجام سے متنبہ فرمایا مگر وہ لوگ دعوت قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے اس پر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ انہیں سنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملائکہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے لیکن ہر موقعہ پر جدا گانہ الفاظ اور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے اللہ…
Read the full tafseer →77: قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو اس سے نکل) ھ اسے مراد جنت۔ نمبر 2۔ یا آسمان۔ نمبر 3۔ اس خلقت سے جس میں تو تھا کیونکہ وہ اپنی خلقت پر فخر کرنے لگا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو بدل دیا۔ سفید رنگت سے سیاہ ہوگیا خوبصورت سے بد صورت اور نورانی سے ظلمانی بن گیا۔ فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ (بیشک تو مردود ہے) دھتکارا ہوا ہے۔ ابلیس نے مٹی سے پیدا ہونے والی چیز کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور پھسل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا انہوں نے تعمیل میں ذرا توقف نہ کیا اللہ تعالیٰ کے خطاب اور حکم کی عظمت کے پیش نظر شیطان حکم الٰہی کو چھوڑ کر ملعون اور مردود ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
77، قال فاخرج منھا، اس جنت سے ان کو نکال دو ۔ بعض نے کہا کہ ان کو آسمان سے نیچے اتاردو۔ حسن اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس خوبصورت بناوٹ سے نکل جاؤ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا کہ یہ تشریح اچھی ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بد صورتی سے بدل گئی۔ ، فانک رجیم ، بیشک توراندہ درگاہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–88
آیت 74، 88
(قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →88 شیطان کو جنت سے نکل جانے کا حکم : سو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے جواب میں شیطان کی اس ابلیسی منطق پر اس لعین کو حکم ہوا کہ " نکل جا یہاں سے کہ تو راندئہ درگار ہوگیا "۔ پس تو راندئہ درگاہ اور محروم ہوگیا ہر خیر اور کرامت سے۔ اس بنا پر کہ تو نے اپنے رب کے حکم و ارشاد کی صاف وصریح طور پر نافرمانی اور خلاف ورزی کی۔ سو رب کے حکم کی مخالفت و خلاف ورزی کا انجام بڑا ہی ہولناک اور تباہ کن ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس حکم عدولی کی بنا پر ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور وہ ہمیشہ کیلئے راندئہ درگاہ ہوگیا کہ جنت میں ایسے متکبروں اور بدبختوں کی کوئی جگہ نہیں۔ سو اس کی سرکشی اور نافرمانی و حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →ف 15 یعنی جنت سے یا آسمان سے، یا ہماری درگاہ سے، یا فرشتوں کی جماعت سے نکل جا۔
Read the full tafseer →(38:77) قال : ای قال اللّٰہ تعالیٰ ۔
فاخرج منھا۔ الفاء للترتیب۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کی طرف راجع ہے جہاں وہ دوسرے ملائکہ کے ساتھ رہتا تھا ۔ ابن عباس ؓ سے ہے کہ وہ جنت عدن میں نہ کہ جنت خلد میں رہتا تھا۔
یا ھا ضمیر کا مرجع زمرۃ الملائکہ ہے جن کے ساتھ وہ رہتا تھا۔ یا جیسا کہ حسن اور ابو العالیہ نے کہا ہے :۔ اس بناوٹ (اور خوبصورت تخلیق سے) نکل جا جس میں تو بنایا گیا ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بدصورتی میں بدل گئی۔
فانک رجیم۔ یہ فقرہ حکم خروج کی علت ہے (یعنی تجھے نکل جانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اب تو راندہ درگاہ ہوگیا ہے)
رجیم۔ ملعون ۔ راندہ ہوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–88
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
اللہ کے نائب کا عہدہ
1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند…
Read the full tafseer →(77) ارشاد ہوا جانکل یہاں سے یقینا تو مردود ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
ف 2۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہی صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا، کہیں مادہ بعیدہ۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو پھٹکارا ہوا ہے
77۔ زیر نظر آیت میں لفظ ( رجیم) کا استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی پھینکا ہوا یا مارا ہوا کے ہیں اور محاورہ میں یہ لفظ اس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جسے مقام عزت سے گرایا گیا ہو اور اس طرح وہ ذلیل و خوار کردیا گیا ہو اس کی مزید تشریح سورة الاعراف کی آیت 13 ، 14 میں ملے گی وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
In verse 75, it was said: لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (what I created with My hands...):
Here, it is about Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) that Allah Ta’ ala has said that it is He who had created him with His hands. There is a consensus among the majority of the Muslim Ummah that "hands" do not mean that Allah Ta’ ala has hands as human being do. The reason is that Allah Ta’ ala is absolutely pure and free from the need of body or its active limbs. Therefore, it means the power and control of Allah Ta’ ala and that the word: یَد (yad: hand) is commonly used in the Arabic language in the sense of…
Read the full tafseer →65 "From here": from the place where Adam was created and where the angels were commanded to bow down before Adam, and where Iblis committed disobedience of Allah.
66 Lexically, the word rajim, as used in the original, means "cast off" or "smitten"; in common usage it is used for the person, who has been thrown down from a place of honour and humiliated. In Surah AI-A`raf, the same thing has been expressed thus: "Get out: you are indeed one of those who wish themselves ignominy." (v. 13).
Read the full tafseer →