38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 38:1–2

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

صٓ قسم ہے اس قرآن ذکر والے کی3

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

(اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں) مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر وہ تکبر اور ضد (وعناد کی دلدل) میں پڑے ہیں

2 عناد و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر وہ تکبر اور ضد میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ دولت ایمان سے محروم ہیں۔ سو قرآن حکیم کے اگر اسی ایک وصف کو دیکھا جائے یعنی اس کی شان ذکر کو تو اس کی تکذیب اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن منکرین نے جب آنکھوں پر ضد وعناد اور تعصب و ہٹ دھرمی کی سیاہ پٹی باندھ رکھی ہو تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت نظر آئے تو کس طرح اور کیونکر ؟ کہ ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ سو قرآن حکیم جن حقائق کی دعوت دیتا ہے وہ تو قطعی طور پر حق اور سچ ہیں مگر کافر لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پر ایمان نہیں لا رہے۔ پس عناد و استکبار اور ضد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی محرومی کی وجہ یہ نہیں کہ قرآن کی تذکیر میں کوئی کسر ہے بلکہ ان کی محرومی کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ منکر لوگ کبر و غرور گھمنڈ اور عناد میں مبتلا ہیں۔ سو خرابی قرآن میں نہیں بلکہ خود ان ہٹ دھرم لوگوں کے اندر ہے۔ قرآن اور اس کی دعوت تو ہر لحاظ سے صاف وصریح، مدلل و مبرہن اور موثر و دل پذیر ہے لیکن انانیت اور ہٹ دھرمی کے ماروں کے فساد باطن کی بنا پر حق و ہدایت کی یہ آواز انکے دلوں تک نہیں پہنچ سکتی اور اس کی تذکیر ان پر کارگر نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بندی کے لائق عبدیت وانابت الی اللہ ہے نہ کہ کبر و غرور۔ عبدیت وانابت کے اندر کمال پیدا کرنے ہی میں اس کی بہتری اور بھلائی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا پھر (شامت آنے پر) انہوں نے بہت کچھ چیخ و پکار کی مگر وہ وقت بچے (اور خلاصی پانے) کا نہیں تھا

3 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ دیکھو ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا۔ تو جو کچھ تکذیب و انکار حق کے باعث ان لوگوں کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اے دور حاضر کے منکرو ! کہ اللہ کا قانون عام، بےلاگ، اور سب کے لئے یکساں اور ایک برابر ہے۔ پس تم باز آجاؤ اپنی روش سے قبل اس سے کہ تم اسی انجام سے دوچار ہوجاؤ جس سے ماضی کی یہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں اور قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ کہ پھر اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ سو اس میں گزشتہ قوموں کے انجام سے سبق لینے اور عبرت پکڑنے کی تعلیم و تلقین ہے جو کہ اس کتاب حکیم کے " ذی الذکر " ہونے کا ایک اہم پہلو ہے۔ جیسا کہ اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گزرا۔ سو ماضی کی ان منکر اور ہٹ دھرم قوموں نے جب ناصح کی نصیحت پر کان نہ دھرا اور حق و ہدایت کی دعوت کو مان کر نہ دیا تو آخرکار وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں اور انکار و تکذیبِ حق کے نتیجے میں ان کو حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیا گیا۔ اور اس طور پر کہ یہ قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں ۔ { فَجَعَلْنَاہُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنَاہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ } ۔ (سبا : 19) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر وانکار اور تکذیبِ حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ - 4 بےوقت کے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان لوگوں نے بہت چیخ و پکار کی اور ایمان لانے کے بڑے دعوے کیے لیکن اسکا انکو کوئی فائدہ بہرحال نہ پہنچ سکا۔ کہ عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لانا ایمان بالمشاہدہ ہے جو نہ مطلوب ہے نہ مفید۔ کہ مطلوب اور مفید ایمان وہ ہے جو بن دیکھے ہو۔ یعنی ایمان بالغیب۔ اور اس کا موقع بہرحال ان لوگوں کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " لات " اصل میں " لا " ہے جس کے ساتھ " ت " کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس سے اس کے معنی میں مزید زور پیدا ہوجاتا ہے۔ اور " مناص " کے معنیٰ فرار کے ہیں۔ یعنی جب تم لوگوں کے انکار اور تکذیبِ حق کی بنا پر ان کو بالآخر عذاب نے آپکڑا تو ان کی چیخ و پکار کا ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ اور ان کے لیے گریز و فرار کی کوئی صورت ممکن نہ ہوسکی۔ سو یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَلَمَّا رَاَوْا بَاسَنَا قَالُوْا آمَنَّا باللّٰہِ وَحْدَہُ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہ مُشْرِکِیْنَ ، فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَآوْا بَاْسَنَا } ۔ (المومن : 84-85) ۔ سو عذاب کے آجانے کے بعد ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے اس بات پر کہ ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا خود انہی میں سے اور کافروں نے کہا یہ تو ایک جادوگر ہے بڑا جھوٹا

5 بشریت پیغمبر منکرین کے لیے باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ منکرین نے بشریت پیغمبر پر تعجب کا اظہار بھی کیا اور اس بنا پر حق کا انکار بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک منذر آگیا "۔ یعنی ان ہی میں سے ایک انسان و بشر کو نبی و رسول بنایا گیا تاکہ وہ ان کو زندگی کے ہر دائرے میں عملی نمونہ دکھا سکے۔ مگر اس پر ان لوگون نے خوش ہونے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ اعتراضات کئے اور بگڑ کر کہنے لگے کہ ایک بشر نبی رسول کیونکر ہوسکتا ہے۔ پس انہوں نے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا۔ اور یہی غلط فہمی دور حاضر کے بہت سے اہل زیغ و ضلال کو بھی لاحق ہے کہ یہ بھی بشریت اور نبوت کے درمیان منافات سمجھتے ہیں۔ سو کل کے ان بگڑے ہوئے انسانوں کا مرض بھی یہی تھا اور آج کا برخود غلط انسان بھی اسی مرض کا مریض اور اسی بیماری کا شکار ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے ان منکروں نے حضرات انبیاء و رسل کی بشریت کی بنا پر ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا جبکہ آج کا بھٹکا ہوا انسان ان کی نبوت و رسالت کے اقرار اور ان پر ایمان کا دعویدار بن کر ان کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتا اور کہتا ہے کہ نبی و رسول بشر نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جب کہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرات انبیاء و رسل بشر بھی ہوتے ہیں اور رسول بھی۔ بلکہ ان حضرات کی بشریت و عبدیت پہلے ہوتی ہے اور نبوت و رسالت کے شرف سے ان کو بعد میں نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ " عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ " میں بھی اس کی تعلیم دی گئی ہے کہ اس میں پہلے عبدیت کا ذکر و اقرار ہے اور پھر نبوت و رسالت کا ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بہرکیف پیغمبر اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے بندہ اور بشر ہوتا ہے لیکن شرف نبوت و رسالت سے مشرف ہونے کے بعد انکا درجہ سب سے بڑا ہوجاتا ہے۔ سو بشریت انبیاء و رسل منکرین کے لیے تعجب اور محرومی کا باعث رہا اور اسی بنا پر انہوں نے ان کی رسالت کا انکار کیا اور کہا کہ یہ تو ایک ساحر کذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے ان سارے خداؤں کی جگہ ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو واقعی ایک بڑی ہی عجیب بات ہے

6 منکرین کا عقیدئہ توحید پر اظہار تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں نے کہا کہ کیا اس شخص نے ان تمام خداؤں کو ایک ہی خدا بنادیا ؟ یہ تو یقینا ایک بڑی ہی عجیب بات ہے "۔ کہ ایک ہی خدا سب کام کرے۔ پوری کائنات کو تھامے اور اس کو چلائے۔ ہر کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کرے اور اس کا کوئی معاون و مددگار اور وزیر و مشیر نہ ہو۔ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اسی لئے ان لوگوں نے بیشمار چھوٹے چھوٹے خود ساختہ خدا تجویز کر رکھے تھے۔ کوئی اولاد دینے کے لئے، کوئی روزی عطا کرنے کے لئے، کوئی صحت و شفاء کے لئے اور کوئی عمومی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ اور بعینہ یہی حال آج کے بہت سے اہل زیغ و ضلال اور باطل پرستوں کا بھی ہے۔ انہوں نے بھی اسی طرح کی فلسفہ طرازیوں اور سخن سازیوں سے طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا تجویز کر رکھے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہیں وہ بچے مانگنے جاتے ہیں۔ کہیں نوکری مانگنے کے لیے۔ کہیں باؤلے کتے کے کاٹنے پر اور کہیں پیٹ اور سر درد کیلئے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور اٹھ کر چل دئیے ان کے سردار (یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور ڈٹے رہو تم لوگ اپنے معبودوں (کی پوجا پاٹ) پر بلاشبہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے پیچھے کوئی اور ہی غرض کار فرما ہے

7 مشرکوں کی طرف سے شرک پر اڑے رہنے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک سرداروں نے اپنے پیرؤوں کو تلقین کی کہ تم ڈٹے رہو اپنے ان ۔ خودساختہ ۔ معبودوں پر "۔ اور تم اپنے ان من گھڑت معبودوں کے خلاف کسی کی کوئی بات مت سنو اور مانو۔ بلکہ تم ان کی پوجا پاٹ اسی طرح کرتے رہو جیسا کہ اب تک کرتے چلے آ رہے ہو۔ قطع نظر اس سے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ؟ بس پوری طرح لکیر کے فقیر بن جاؤ اور بس۔ سو اس طرح صنادید قریش اور مشرکین مکہ لوگوں کو عقیدئہ توحید سے متنفر کرنے اور انکو ورغلاتے اور نور حق و ہدایت سے محروم کرنے اور محروم رکھنے کی تگ و دو کرتے۔ اور اس طرح ضلال اور اضلال دونوں کے مرتکب ہوتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ان کی بدبختی، ہٹ دھرمی اور سیاہ باطنی کا ایک کھلا مظہر تھا کہ اللہ کے رسول کو تو انہوں نے " ساحر " اور " کذاب " قرار دیا لیکن اپنے خود ساختہ، من گھڑت اور بےحقیقت بتوں کو خدا ماننے اور ان پر اڑے اور ان کے ساتھ چپکے رہنے کے لیے وہ اپنے چیلوں کو اس طرح تلقین کرتے تھے اور اس طرح وہ اپنی بدبختی اور سیاہ باطنی کی سیاہی کو اور پکا کرتے اور نور حق و ہدایت سے اور دور ہوتے جاتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 8 منکروں کی ہٹ دھرمی اور بدباطنی کا ایک اور نمونہ اور مظہر : کہ یہ بدبخت دعوت حق کو اپنانے کی بجائے الٹا اس کے بارے میں الزام تراشی کرتے کہ پیغمبر کی اس دعوت کے پیچھے کوئی اور ہی غرض کارفرما ہے۔ یعنی اصل مقصد اس بات سے یہ ہے کہ محمد تم کو اپنے آبائی دین سے پھیر کر اپنے پیچھے لگا دینا چاہتا ہے۔ تاکہ اس طرح اس کو سرداری اور سربراہی مل سکے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ } ۔ (المومنون : 24) (صفوۃ، محاسن، ابن کثیر اور ابن جریر وغیرہ) ۔ سو دعوت حق کے جواب میں ابنائے دنیا کا طریقہ و وطیرہ ہمیشہ یہی رہا۔ کل بھی ان کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اس ارشاد ربانی کی تفسیر میں اور بھی کئی احتمال ہیں ۔ والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ تعالیٰ ۔ بہرکیف ان ہٹ دھرم بدبختوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ شخص جو وعظ تم لوگوں کو سنا رہا ہے اس کا اصل مقصد تم کو اپنے آبائی دین سے پھیر کر اپنے پیچھے لگانا اور اپنی حکومت اور سربراہی قائم کرنا ہے۔ پس تم ہوشیار رہو اور اس کی تمام تر کوششوں کے علی الرغم اپنے ان من گھڑت معبودوں کے ساتھ چپکے اور جمے بیٹھے رہو۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہیں سنی یہ تو محض ایک من گھڑت بات ہے

9 منکرین کا عقیدئہ توحید پر اچنبھا اور اس کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے عقیدئہ توحید پر تعجب اور اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہیں سنی۔ جس پر ہمارے آباؤ و اجداد چلتے آئے ہیں۔ اس سے یا تو ان کی مراد وہی دین شرک اور بت پرستی ہے جس پر ان کے بڑے چل رہے تھے یا اس سے نصرانیت مراد ہے جو کہ نور اسلام کے طلوع اور آنحضرت ﷺ کی بعثت و تشریف آوری سے پہلے سب سے آخری سماوی دین تھا کہ اس میں بھی نصاریٰ کی تلبیس سے ایک کی بجائے تین خداؤں یعنی توحید کی بجائے تثلیث کا شرکیہ عقیدہ رواج پا چکا تھا۔ ورنہ اصل دین عیسوی بھی اسی طرح توحید کا قائل اور اس کا داعی و پیامبر تھا جس طرح کہ دین اسلام۔ اور حضرت نوح سے لیکر حضرت ابراہیم تک اور اس کے بعد کے تمام انبیائے کرام نے بھی اسی توحید اور دین حق کی دعوت دی۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل نے بیت اللہ کی تعمیر بھی اسی لیے کی تھی کہ وہ توحید کا مرکز ہو۔ اور انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس سرزمین میں اسی لیے بسایا تھا کہ وہ دین اسلام اور عقیدئہ توحید کی خدمت اور اس کی تبلیغ کریں۔ مگر قریش کے ان منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم تھا کہ یہ اس سب کے باوجود کہتے ہیں کہ ہم نے توحید کی یہ دعوت اپنے دین میں سنی ہی نہیں۔ بلکہ یہ ان صاحب کی طبعزاد اور من گھڑت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے یہ ذکر بس انہی پر اتارا جانا تھا (سو ان لوگوں کا یہ کہنا کسی اتباع کی نیت سے نہ تھا) بلکہ (اصل میں) ان کو تو سرے سے میرے ذکر ہی میں شک ہے (اور وہ کسی دلیل کی بناء پر نہیں) بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ابھی تک مزہ نہیں چکھا میرے عذاب کا

10 منکرین کے کبر و غرور کا ایک اور نمونہ و مظہر : کہ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم میں سے یہ ذکر بس انہی پر اتارا جاتا تھا ؟ یعنی اگر بالفرض یہ نصیحت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو کیا اس کے لئے ہم سب کے درمیان بس یہی ایک صاحب رہ گئے تھے جن کے پاس نہ کوئی مال و دولت ہے اور نہ کرسی و اقتدار اور نہ کوئی دنیوی منصب و مقام۔ اس کے لئے ہمارے دنیادار سرداروں میں سے کسی کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ۔ (الزخرف : 31) ۔ سو ان بدبختوں کے کبر و غرور کا یہ ایک اور مظہر تھا کہ یہ لوگ اپنے دنیاوی مال و دولت کی بنا پر اپنے آپ کو ایک بڑی چیز سمجھتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جب اس پوری دنیا کی حیثیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں تو پھر اس میں سے کچھ ٹکوں کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے ؟ اگرچہ وہ کروڑوں اور اربوں کی مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔ سو دنیاوی مال و دولت کا یہ پہلو بڑا ہی خطرناک اور نقصان دہ ہے کہ اس کی بنا پر انسان کبر و غرور میں مبتلا ہو کر پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ لیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ حق اور ہدایت کی دولت سے محروم ہو کر ہمیشہ کی ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ کبر و غرور سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی امان اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 11 منکرین کے اعراض و انکار کے اصل سبب کی تشخیص : سو منکرین کے اعراض و انکار کے اصل سبب کی تشخیص کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا نہیں جیسا کہ یہ کہتے ہیں بلکہ ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی ان کا یہ کفر و انکار کسی دلیل و حجت کی بنا پر مبنی نہیں کہ ایسی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے نہ واقع میں ہو ہی سکتی ہے کہ کفر و شرک کیلئے کوئی دلیل بھلا ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلَہًا اَخَرَ لَابُرَھَاْنَ لَہَ بہ } ۔ (المومنون : 117) ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت و لاپرواہی کا شکار ہیں کہ میرے عذاب کا مزہ انہوں نے ابھی تک چکھا نہیں۔ ورنہ اگر میرے عذاب کا تھوڑا سامزہ بھی یہ چکھ لیتے تو ان کے دماغ ٹھکانے لگ جاتے اور مزاج درست ہوجاتے۔ اور جب وہ عذاب اپنے وقت پر آئے گا تو ان کا یہ سب نشہ ہرن ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات کے مطابق جب ابوطالب بیمار ہوگئے تو کفار قریش کے کوئی بیس پچیس سردار جن میں ابوجہل، ابوسفیان، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، عتبہ بن ابی معیط اور عتبہ و شیبہ جیسے لوگ شامل تھے آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھا دیں کہ وہ اپنے اس نئے دین سے باز آجائے۔ تاکہ ہمارے درمیان بپا ہونے ولا یہ تشتت و انتشار ختم ہوجائے۔ وہ ہمارے خداؤں کو برا نہ کہے ہم اس کے خدا کو برا نہ کہیں گے۔ اس پر ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا کر اس کی فہمائش کی۔ تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ چچا جان میں ان سے صرف ایک ایسی بات کا مطالبہ کرتا ہوں جس سے تمام عرب ان کے مطیع فرمان ہوجائیں گے اور عجم ان کے باجگزار بن جائیں گے۔ ان لوگوں نے کہا وہ کیا بات ہے۔ ہم ایک چھوڑ دس مرتبہ ایسی بات کہنے اور ماننے کے لیے تیار ہیں۔ تو آپ نے فرمایا وہ ہے ۔ " لا اِلٰہَ الا اللّٰہُ " ۔ کا کلمہ۔ اس پر وہ سب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور بڑبڑاہٹ میں وہ باتیں کہنے لگے جو ان آیات میں ذکر فرمائی گئی ہیں۔ تو اس موقع پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن اور معالم وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ابھی تو ان کو دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر یہ اس سے باز نہ آئے تو پھر ان کیلئے عذاب کا تازیانہ بھی نمودار ہوجائے گا۔ مگر پھر ان کیلئے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی اور پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے بعد ان کو اپنے کیے کرائے کا نتیجہ ہمیشہ ہمیش کے لیے بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 38:9–10

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ جو کہ سب پر غالب سب کو دینے والا ہے

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا ان کے لئے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین اور اس (ساری کائنات) کی جو کہ ان دونوں کے درمیان میں ہے ؟ تو ان کو چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں (آسمان میں) رسیاں تان کر

12 منکرین کے دلوں پر ایک دستک : سو منکرین کے دلوں پر دستک دینے اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑنے کے لیے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو کہ سب پر غالب اور سب کو دینے بخشنے والا ہے ؟ یا انکے پاس آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہی ہے ؟ "۔ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو آپ ﷺ کے رب کی تقسیم و عطا پر سوال و اعتراض کا کیا حق ہوسکتا ہے ؟ وہ جس کو چاہے نبوت و رسالت کے شرف سے نوازے کہ وہی جانتا ہے کہ اس شرف عظیم اور منصب جلیل کا اہل کون ہوسکتا ہے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ (الانعام : 124) ۔ سو نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی جس جیسی دوسری کسی بادشاہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا وہ واہب مطلق جس کو چاہے عطا فرمائے۔ اس پر کسی کے لیے کسی طرح کے سوال و اعتراض کا کوئی حق بھلا کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ 13 منکرین کی تعجیز و تحقیر کے لیے ایک حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو اس طرح کا کوئی اختیار حاصل ہے تو یہ چڑھ جائیں آسمانوں میں رسیاں تان کر اور وہاں پہنچ کر یہ پیغمبر ﷺ پر ہونے والی وحی اور رحمتوں کی بارش کو بند کروا دیں۔ تو کیا یہ اس کا برتہ رکھتے ہیں ؟ سو یہ جب نہ تو آپ کے ربِّ عزیز و وہاب کے خزانوں کے مالک ہیں نہ آسمانوں اور زمین کی اس کائنات میں انکا کوئی حصہ یا عمل دخل ہے اور نہ ہی یہ اس برتے کے مالک ہوسکتے ہیں کہ یہ رسیاں تان کر آسمانوں میں چڑھ جائیں، تو انکو آخر اس بات کا کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش پر اعتراض کریں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کو نبوت و رسالت سے کیوں سرفراز فرمایا اور فلاں کو کیوں نہیں اس سے نوازا وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 38:11–12

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہ تو ایک ایسا حقیر سا جتھا ہے جس نے شکست کھانی ہے اسی مقام پر (یعنی مکہ میں) منجملہ ان لشکروں کے (جو حق کے منکر اور دشمن رہے ہیں)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

جھٹلایا ان سے پہلے (حق اور حقیقت کو) قوم نوح عاد اور فرعون میخوں والے نے

15 تکذیبِ حق کے مجرموں اور ان کے انجام کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور فرعون میخوں والے نے بھی جھٹلایا "۔ " ذوالاوتاد " ۔ " میخوں والا " کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے مخالفوں کو چومیخا کر کے عذاب دیا کرتا تھا۔ یا یہ کہ اس کی حکومت و سلطنت ایسی مضبوط و مستحکم تھی کہ گویا میخوں سے زمین پر ٹھوک دی گئی ہو۔ یا یہ کہ اس کے عساکر اور لشکر اتنے زیادہ تھے کہ جہاں وہ ٹھہرتے وہاں خیموں کی میخیں ہی میخیں نظر آتیں وغیرہ۔ (خازن، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ لفظ فرعون کی فوجوں کی کثرت اور اس کی قوت سے کنایہ ہے۔ جیسے " قدور راسیات " حضرت سلیمان کی سخاوت و فیاضی اور مہمان نوازی سے کنایہ ہے۔ سو تکذیبِ حق کے جرم میں یہ سب ہی لوگ شریک تھے اور آخرکار یہ سب ہی اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود قوم لوط اور ایکہ والوں نے بھی یہی ہیں وہ جھتے

16 " اصحاب الایکہ " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی " گھنے درختوں اور جنگلوں والے "۔ مراد ہیں قوم شعیب کے لوگ۔ معلوم ہوتا ہے کہ مدین والوں کے پاس کوئی جنگل بھی تھا۔ اسی کی نسبت سے یہ لوگ اس نام سے مشہور ہوئے۔ اور اس سے مراد قوم شعیب ہے۔ اور ان ہی کو اصحاب مدین بھی کہا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے بھی اپنے پیغمبر حضرت شعیب کی تکذیب کی اور ان کی دعوت و پیغام کو قبول نہ کیا۔ یہ بھی اپنے دور کی ایک بڑی ترقی یافتہ قوم تھی۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور ایک خاص تجارتی محلِّ وقوع پر واقع ہونے کے باعث یہ قوم خوب خوب کمایا کرتی تھی اور ہوس دنیا نے ان کو ناپ تول کی کمی کے جرم میں مبتلا کردیا تھا جو کفر و شرک کے علاوہ ان کا ایک اور قومی جرم بن گیا تھا۔ اور ان کے پیغمبر حضرت شعیب نے ان کو اس قومی جرم سے بھی روکا اور منع فرمایا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ۔ { فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَائَہُمْ } ۔ ( الاعراف : 85) مگر انہوں نے پیغمبر کی بات کو نہ مانا اور آخر کار اپنے ظلم کے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ کَانَ اَصْحَاب الاَیْکَۃَ لَظَالِمِیْنَ فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ } ۔ ( الحجر : 78 ۔ 79) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک نے جھٹلایا (اپنے تکبر و سرکشی کی بناء پر) میرے رسولوں کو سو آخرکار (ان میں سے ہر ایک پر) چسپاں ہو کر رہا میرا عذاب1

17 ہلاک و برباد ہونے والے جتھوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہیں وہ جھتے جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اس کو ماننے سے انکار کیا " اور یہ اس کی عداوت و دشمنی ہی پر کمربستہ رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جب عذاب الہی آیا تو ان جماعتوں اور گروہوں میں سے کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکا۔ سو اللہ کے عذاب سے وقت آنے پر کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ خواہ وہ کتنی ہی قوت اور جمعیت کیوں نہ رکھتا ہو۔ سو یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کی دعوت کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال دائمی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان بدبخت قوموں کی ہلاکت و تباہی اور ان کے اس ہولناک انجام کے اصل سبب کی تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں آخرکار ہمارا عذاب ان پر پکا ہو کر رہا "۔ سو ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنْ کُلٌّ الاَّ کَذَّبَ الرُّسَلَ فَحَقَّ عِقَاب } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تکذیبِ حق کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

یہ لوگ تو اب (اپنے آخری انجام کے لئے) ایک ہی مرتبہ کی ایسی ہولناک آواز کی انتظار میں ہیں جس میں دم لینے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوگی

18 منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اب یہ لوگ ایک ہی ہولناک آواز کے منتظر ہیں "۔ مراد ہے نفخ صور۔ یعنی حق کی وضاحت میں اب کوئی کسر و کمی باقی نہیں رہ گئی۔ اب یہ لوگ گویا اپنے آخری انجام اور قیامت ہی کے منتظر ہیں۔ سو انکے عذاب کا وہ وقت آجائے گا تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو منکرین جو اپنے کبر و غرور میں مبتلا ہو کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ عذاب آئے گا تو ایک جھڑکی ہی سے ان کا کام تمام ہوجائے گا۔ 19 منکرین کے لیے عذاب کی بےپناہی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے عذاب کے لیے ایک جھڑکی ہی کافی ہوگی۔ اس لیے عذاب مانگنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کی ضرورت ہے۔ " فواق " دراصل اس وقفے کو کہا جاتا ہے جو دودھ نکالتے وقت دو حلبوں کے درمیان میں پایا جاتا ہے۔ وہ چونکہ بہت ہی معمولی سا وقفہ ہوتا ہے اس لئے محاورے میں یہ قلت سے کنایۃ ہوتا ہے۔ یعنی قیامت کے آجانے اور اس ہولناک وقت کے پہنچ جانے کے بعد ایسے غفلت شعار لوگوں کو اتنا وقت بھی نہیں مل سکے گا جتنا کہ دو حلبوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کہ وہ بالکل اچانک آجائے گی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { لا تَأْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ " الفَوَاقُ مَابَیْنَ حَلْبَتَیْ حَالِبْ وَرَضْعَتَی الرَّاضع " ۔ (جامع البیان، المراغی وغیرہ) ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ یہ لوگ اس عذاب سے بچنے کی فکر کریں قبل اس سے کہ یہ اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہوجائیں۔ سو ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کے لیے خداوند قدوس کی ایک ہی جھڑکی اور ڈانٹ کافی ہوگی۔ پھر ایک لمحے کے لیے بھی ان کو کوئی فرصت نصیب نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 38:16–17

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب جلد ہی بھیج دے ہمارے لئے ہمارے حصے کا عذاب یوم حساب سے پہلے

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

(لہٰذا) آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں ایسے (ہٹ دھرم) لوگوں کی ان باتوں پر جو یہ (حق کے خلاف) بناتے ہیں اور یاد کرو ہمارے ایک خاص بندے داؤد (اور ان کی سبق آموز زندگی) کو جو کہ بری قوتوں والے تھے بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والا شخص تھا (اپنے رب کے حضور)2

21 حضرت داؤد کی زندگی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے مخالفین کی دلآزاریوں پر حضرت ِداؤد کی زندگی سے تسلی حاصل کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ " ایدی " جمع ہے " ید " کی۔ جس کے معنیٰ ہاتھ کے آتے ہیں۔ مگر یہاں یہ کنایہ ہے قوت سے۔ کیونکہ ہاتھ قوت کا ذریعہ اور مظہر ہوتا ہے۔ اور داؤد (علیہ السلام) کو واقعۃً اللہ پاک نے عقیدئہ و ایمان، عمل و اخلاق، دولت و سلطنت اور دین و دنیا کی بہت سی قوتوں سے خاص طور پر نوازا تھا۔ سو یہاں پر آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے توسط سے آپکی امت کے ہر داعی حق کو اپنے مخالفین کی دلآزار باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کیلئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حالات کو یاد کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو حضرت داؤد کے ذکر و تذکرہ اور آپ کی حیات طیبہ میں اہل حق کے لیے بھی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں اور اہل کفر و باطل کے لیے بھی۔ اہل حق کے لیے یہ کہ وہ اتنی قوت اور طاقت رکھنے کے باوجود کس طرح لوگوں کے ناگوار رویے کو برداشت کرتے۔ کس حلم وتحمل کے ساتھ ان سے برتاؤ کرتے اور کس طرح کمال عدل وانصاف اور لطف و عنایت سے کام لیتے۔ ان سے نرمی اور مہربانی کا معاملہ کرتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنے زندگی کے لیے سبق لیتے تھے۔ اور منکرین کے لیے آنجناب کی زندگی میں یہ درس عظیم ہے کہ حضرت داؤد اس قدر شان و شوکت عزت و عظمت اور دنیا و دولت سے سرفرازی کے باوجود ایسے عاجزی کرنے والے تھے تو تم لوگ اتنا تکبر کیوں اور کیسے کرتے ہو ؟۔ اللہ حق کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ 22 حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والے تھے اپنے رب کے حضور "۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) ہمیشہ اللہ پاک کی یاد اور اس کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے۔ جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں وارد و منقول ہے کہ سب سے بہتر نماز حضرت داؤد کی نماز ہے۔ اور سب سے بہتر روزہ حضرت داؤد کا روزہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) آدھی رات آرام فرماتے پھر ایک تہائی رات نماز میں گزارتے اور پھر آخری چھٹا حصہ آرام فرماتے۔ اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے۔ اسی لئے بخاری شریف کی روایت کے مطابق آپ کو " اَعْبَدُ الْبَشَر " ۔ یعنی " سب سے بڑا عبادت گزر انسان " فرمایا گیا۔ روایات کے مطابق آپ کے گھر کا نظام اس طرح تھا کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں وہاں پر لگاتار عبادت ہوتی رہتی تھی۔ سو بےمثال بادشاہی و حکمرانی میں عبادت کا ایسا عظیم الشان نظام قائم کرنا حضرت داؤد کی ایک عظیم الشان اور بےمثال امتیازی شان تھی جو اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ بہرکیف آنجناب کی شان اوابیت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے رب کی طرف بڑے ہی رجوع رہنے والے بندے تھے۔ دوسرے مختلف مقامات پر حضرت داؤد اور حضرت سلیمان دونوں کی شکر گزاری کے اس وصف خاص کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ۔ علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام -
Ayahs 38:18–19

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے مسخر کردیا تھا ان کے ساتھ پہاڑوں (جیسی اپنی سخت مخلوق) کو جو (ان کے ساتھ مل کر) تسبیح کرتے تھے صبح و شام (یعنی ہر وقت)

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی جو سمٹ آتے تھے یہ سب اسی (اللہ) کی طرف رجوع کرنے والے تھے

23 حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے مسخر کردیا تھا انکے ساتھ پہاڑوں کو "۔ یعنی یہ شرف و معجزہ ہم نے آپ کو بخشا اور عطا فرمایا تھا۔ آپ کے اپنے اختیار میں نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ بہرکیف حضرت داؤد کو اس خاص معجزہ سے نوازا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) جب اپنے خاص لحن میں زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ بھی آپکے ہمنوا ہوجاتے اور آپ کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگ جاتے۔ اور پہاڑوں کی یہ تسبیح صرف زبان حال سے نہیں بلکہ زبان قال سے تھی۔ کیونکہ زبان حال سے تو ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَاِنْ مِنْ شَیْ ئٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ وَلٰکِن لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ } ۔ (بنی اسرائیل : 44) ۔ نیز اس لیے کہ تسبیح حالی تو ہمیشہ ہوتی ہے کسی وقت کے ساتھ مختص نہیں ہوتی جبکہ یہاں پر " عشی " اور " اشراق " کی قید موجود ہے۔ اس لیے پہاڑوں کی یہ تسبیح زبان قال سے تھی۔ (روح، صفوہ اور جامع وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے کہ آپ شام اور صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے مخصوص انداز میں اپنے رب کی تسبیح کرتے اور اپنے ضرب المثل لحن داؤدی میں مزامیر زبور کے نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی آپ کی ہمنوائی کرتے اور پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ فضا میں جمع ہو کر آنجناب کے سر میں سر ملا دیتے۔ جس سے سوز و گداز اور تاثر و تاثیر کا ایک بےمثال کیف آور سماں بندھ جاتا۔ دشت و جبل، چرند و پرند اور گرد و پیش کی ساری چیزیں آپ کی شریک بزم ہوجاتیں۔ 24 سب ہی شان اوابیت کے نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب ہی اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے "۔ چناچہ روایات کے مطابق جب آنجناب زبور کی تلاوت کرتے تو ہوا میں اڑتے پرندے وہیں رک جاتے اور آپ کے ساتھ محو تلاوت ہوجاتے۔ اور اسی طرح پہاڑ بھی۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی وغیرہ) ۔ اور یہ سب کچھ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و عنایت سے تھا اور وہ جو چاہے کرے کہ اس کی شان ۔ { عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر } ۔ کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس نے پہاڑوں اور پرندوں کو اسکا حکم دے رکھا تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاؤدَ مِنَّا فَضْلاً یَّا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہُ وَالطَّیْر } ۔ (سبا : 10) ۔ سو یہ سب جبال و طیور حضرت داؤد کے ساتھ مل کر سب ہی اللہ کی طرف رجوع کرتے اور اس کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد میں مشغول ہوجاتے۔ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا اور جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 43-44 میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ لیکن ہمارے نہ سمجھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں سمجھتا۔ حضرت داؤد کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو موم کردینے والا اور پرندوں کو جذب کرلینے والا سوز و لحن بخشا تھا اسی طرح آنجناب کو ان گوش شنوا سے بھی سرفراز فرمایا گیا تھا جن سے آپ ان مختلف چیزوں کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے ۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم ۔ سو حضرت داؤد کے اس سوز و گداز کی بنا پر آپ کے گرد و پیش کی سب ہی چیزیں اوابیت کے رنگ میں رنگی جاتیں اور سب ہی پر اوابیت کی ایک بےمثال چادر تن جاتی اور سب ہی کچھ اوابیت کا مظہر بن جاتا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے مضبوط کردیا تھا ان کی بادشاہی کو اور ان کو نواز دیا تھا حکمت (کی دولت) اور فیصلہ کن بات (کے ملکے) سے

25 حضرت داؤد کے استحکام سلطنت کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے مضبوط کردیا تھا ان کی بادشاہی کو "۔ قدرتی رعب و دبدبے سے اور لشکروں و فوجوں کی کثرت سے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد روئے زمین پر سب سے بڑے زور اور قوت والے بادشاہ تھے۔ روایات میں وارد ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی حفاظت کے لئے ہر روز ہزار اور بعض روایات کے مطابق دس ہزار سپاہی کھڑے ہوتے تھے۔ اور بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار ایسے حراس اور سپاہی کھڑے ہوتے تھے جن کے دوبارہ کھڑے ہونے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ (روح، جامع البیان، ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ اور ان کی حکومت و سلطنت کے استحکام اور اس کی مضبوطی کیلئے انکو ہم نے حکمت کی دولت اور فصل خطاب کی قوت سے بھی نوازا تھا جو کہ ایسے استحکام کیلئے اہم اساس و بنیاد ہوتی ہے۔ سو آنجناب کی اس شان بےمثال سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اس کا ہوجاتا ہے ۔ من کان للہ کان اللہ لہ ۔ اور اللہ جس کا ہوجائے کائنات ساری اس کی ہوجاتی ہے ۔ اللہ ہمیں بھی اس شرف سے مشرف فرما دے اور محض اپنے لطف و کرم سے اس عنایت سے سرفراز فرما دے ۔ وما ذلک علیہ بعزیز وہو علی کل شیء قدیر۔ 26 حضرت داؤد کے لیے حکمت سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو نوازا تھا حکمت کی دولت سے "۔ یعنی فکر و فہم، اصابتِ رائے اور نبوت و رسالت کے شرف سے۔ اور حکم و امثال پر مشتمل محکم کلام سے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ وغیرہ) سو حکمت کا نور ایک ایسا عظیم الشان نور ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات ہی سے کسی کو نصیب ہوسکتا ہے۔ اور اس نور سے منور ہوجانے کے بعد انسان ہر چیز کو صحیح طور پر دیکھتا اور اس کو اس کے اس صحیح محل میں رکھتا ہے جس سے وہ ہر چیز کے فوائد وثمرات سے خود مستفید ہوتا اور دوسروں کو فیضیاب کرتا ہے۔ جبکہ علم و حکمت کے نور سے محرومی کی صورت میں انسان ایسا اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنے لیے اور دوسروں کیلئے عذاب بنا لیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے حضرت داؤد کو جب علم و حکمت کے اس نور سے بطور خاص نوازا تو ان کی حکومت و بادشاہی نہ صرف یہ کہ اس دور کے لوگوں کیلئے باعث خیر و برکت بن گئی بلکہ قیامت تک کے لوگوں کیلئے نمونہ اور مینارئہ رشد و ہدایت بن گئی۔ یہاں تک کہ حضرت امام الانبیائ ﷺ کی زبان حق ترجمان سے یہ تصریح فرمائی گئی کہ " سب سے اچھی نماز داؤد کی نماز اور سب سے اچھا روزہ داؤد کا روزہ ہے "۔ سو حکمت ایک عظیم الشان نعمت خداوندی ہے اور یہ حاصل اور نصیب ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے اور پکے تعلق سے۔ ورنہ اس تعلق سے محروم حکمران تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر باعث عذاب بن جاتا ہے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی جس کے مختلف مظاہر آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ موجود ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 27 حضرت داؤد کے لیے فصل خطاب کی نعمت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو نوازا فصل خطاب کی عنایت سے "۔ یعنی حق و باطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کا ملکہ جس کے ذریعے آپ عدل و انصاف قائم کرتے تھے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو حکمت اور فصل خطاب کی دولت سے سرفرازی کے بعد حضرت داؤد کی حکومت اور بادشاہی خلق خدا کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ اور قیامت تک کے حکمرانوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال اور نمونہ خیر وبرکت بن گئی۔ جبکہ اس سے محروم لوگوں کیلئے ان کی حکومت ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ حکومت و سلطنت کے استحکام اور اس کی مضبوطی و پختگی اور اس کے ذریعہ خیر و برکت لینے کے لیے اولین چیز جس کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے قلوب و بواطن نور حکمت سے منور و معمور ہوں۔ اور دوسری اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ فصل خصومات اور قضائے معاملات کے لیے قوت فیصلہ سے سرفراز ہوں۔ اگر یہ چیز حاصل اور میسر نہ ہو تو اس حکومت کی بنیاد ریت پر ہوتی ہے اگرچہ دوسرے اسباب و وسائل کتنی ہی مقدار میں میسر کیوں نہ ہوں۔ اور ایسے حکمرانوں کی حکومتیں باعث عذاب بن جاتی ہیں اور ان کے وہ وسائل رعایا کی بہتری کی بجائے ان کی ہلاکت و تباہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 38:21–23

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور کیا تمہارے پاس خبر پہنچی مقدمے کے ان دو فریقوں کی جو کہ دیوار پھلانگ کر گھس آئے تھے ان کے عبادت خانے میں ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب کہ وہ پہنچ گئے داؤد کے پاس (ان کے خلوت خانے میں) تو آپ گھبرا اٹھے ان (کے اس طرح آنے) کی وجہ سے جس پر انہوں نے کہا ڈریئے نہیں ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے پس آپ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیجئے حق کے ساتھ اور بےانصافی نہ کیجئے گا اور ہمیں راہنمائی کردیں سیدھی راہ کی

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

(پھر ایک نے صورت مقدمہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ تو وہ بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے مجھے دبا لیا گفتگو میں

30 فریقین کے جھگڑے کی تفصیل کا ذکر : سو ان دونوں فریقوں میں سے ایک نے جھگڑے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ " یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے۔ اور اس نے مجھے دبا لیا اپنی گفتگو میں "۔ اور اپنی چرب لسانی کی وجہ سے یہ میری ایک نہیں چلنے دیتا۔ آگے رہ جاتی ہے یہ بات کہ آیا یہ مقدمہ فرضی تھا یا واقعی۔ اور یہ دونوں شخص دو آدمی تھے یا آدمیوں کی صورت میں دو فرشتے ؟ اس بارے میں حضرات اہل علم سے دونوں قول منقول ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ دو انسان ہی تھے جو ایسا مقدمہ لے کر آئے تھے جو ان کے یہاں واقعتہً پیش آیا تھا۔ جبکہ بعض کے نزدیک یہ دو فرشتے تھے جو انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور یہی زیادہ مشہور ہے۔ سو یہ مقدمہ واقعتہً پیش نہیں آیا تھا بلکہ یہ ایک تمثیل تھی حق اور حقیقت کی توضیح کے لئے۔ (قرطبی، مدارک، خازن اور روح وغیرہ) ۔ سو انہوں نے یہ مقدمہ حضرت داؤد کی خدمت میں پیش کیا۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ اس زمانے میں اس علاقے کی اصل دولت بھیڑوں اور دنبیوں ہی سے عبارت تھی۔ اور خود حضرت داؤد کی زندگی بھی بادشاہی سے پہلے بھیڑسالے اور بھیڑوں کے چرانے ہی میں گزری تھی۔ یہاں تک کہ تاریخی روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے سکے پر بھی دنبی کی تصویر تھی۔ بہرکیف اس شخص نے اپنا مقدمہ پیش کردیا۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤد نے کہا کہ بیشک اس شخص نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملا لینے کا مطالبہ کر کے تجھ پر ظلم کیا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ زیادہ تر شریک لوگ ایک دوسرے پر زیادتیاں ہی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے ہیں اور وہ (ایمان کے مطابق) نیک کام بھی کرتے ہیں مگر ایسے لوگ تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور (یہ بات کرتے کرتے فوراً ) داؤد کو خیال آیا کہ یہ تو ہماری طرف سے اس کی آزمائش تھی سو اس پر وہ اپنے رب سے معافی مانگنے لگے سجدے میں گرپڑے اور توبہ کی1

31 حضرت داؤد کا فریقین کے درمیان فیصلہ : سو اس پر حضرت داؤد نے ان کے جھگڑے سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " بیشک اس شخص نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے تجھ پر ظلم کیا ہے " اور امر واقعہ یہی ہے کہ " زیادہ تر شریک لوگ ایک دوسرے پر زیادتیاں ہی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔ اور ایسے نیک بخت لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں "۔ اور زیادہ تر لوگ تو غلط کار اور برے ہی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ۔ { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ } ۔ سو اس سے پھر اس حقیقت کا پتہ چلا کہ عوام کی اکثریت کی تائید و حمایت کسی امر کے حق یا ناحق ہونے کا معیار نہیں ہوسکتی۔ بہرکیف حضرت داؤد نے مقدمے کی یہ روداد سنتے ہی اندازہ فرما لیا کہ زیادتی دولتمند یعنی ننانوے دنبیوں والے ہی کی ہے۔ سو اس پر آپ نے بلا کسی رو رعایت کے فوراً یہ فیصلہ سنا دیا کہ " اس شخص نے تمہاری ایک دنبی کو اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کرکے بلاشبہ تم پر زیادتی کی ہے "۔ اور اسی پر کیا موقوف ہے اکثر شرکاء ایسے ہی کرتے ہیں۔ اور وہ اپنے ننانوے کو سو بنانے کی فکر میں دوسروں پر اسی طرح کی زیادتیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اس سے وہی لوگ محفوظ ہوتے ہیں جو ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرشار ہوتے ہیں۔ اور وہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ " قلیل " کی تاکید کلمہ ما سے کر کے اس کے اندر مبالغے کا مفہوم پیدا کردیا گیا کہ ایمان و یقین اور عدل و انصاف والے لوگ تھوڑے اور بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔ 32 حضرت داؤد کی تنبیہ اور اس کی نوعیت : سو ارشاد فرمایا گیا " پس وہ سجدے میں گرپڑے اور انہوں نے توبہ کرلی "۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی شان عبدیت کا پتہ چلتا ہے کہ جب ان سے کوئی تقصیر ہوجاتی ہے تو وہ فوراً اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کرتے اور اسی کے حضور جھک جاتے ہیں۔ اور اس سے اپنی تقصیر و کوتاہی کی معافی مانگنے لگتے ہیں۔ تو ان کا قصور معاف کردیا جاتا ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ حضرت داؤد کی وہ تقصیر اور کوتاہی کیا تھی جس کی آپ نے اپنے رب سے معافی مانگی تھی ؟ تو اس بارے میں حضرات مفسرین کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ (علیہ السلام) نے ایک شخص کی مخطوبہ سے منگنی کرلی تھی۔ یا اس شخص سے اپنی بیوی کو طلاق دے دینے کو کہا تھا اور اس معاشرے میں اور ان لوگوں کے یہاں ایسا کہنا کوئی معیوب امر نہیں تھا۔ (روح المعانی وغیرہ) ۔ اور بیان فرمودہ تمثیل سے اس کا اشارہ نکلتا ہے مگر چونکہ یہ بات حضرت داؤد کی شان رفیع اور آپ کے مقام سامی کے لائق نہ تھی اس لئے آپ (علیہ السلام) کو اس پر تنبیہ فرمائی گئی۔ یا اس تقصیر و کوتاہی سے مراد حضرت داؤد کا وہ خیال ہے جو انہیں اپنی عبادت و بندگی کے بارے میں گزرا تھا۔ کیونکہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے گھر کا نظام اس طرح ترتیب دے رکھا تھا کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی وقت بھی ایسا نہیں گزرتا تھا کہ آپ (علیہ السلام) کے گھر میں خدائے پاک کی عبادت نہ ہو رہی ہو۔ تو اس واقعے سے جو خلل آپ (علیہ السلام) کی عبادت میں واقع ہوا اس سے آپ (علیہ السلام) کو یہ تنبیہہ فرما دی گئی کہ اس عبادت و بندگی کی توفیق وسعادت بھی اللہ پاک ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ لہذا اس میں اپنے ذاتی کمال کا کبھی خیال بھی نہ آنے پائے۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ۔ (رح) ۔ نے تفسیر عثمانی میں اس احتمال کی تائید میں بعض آثار کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اور بھی کئی اقوال و احتمال اس ضمن میں موجود و مذکور ہیں ۔ والتفصیل فی المطولات ۔ اور اگر اللہ پاک کے فضل و کرم سے مفصل تفسیر لکھنے کا ہمار ارادہ پورا ہوسکا تو انشاء اللہ مفصل کلام وہاں کیا جائے گا۔ البتہ یہ بات یہاں پر واضح رہنی چاہیئے کہ اسرائیلی روایات کے سہارے اس موقع پر عام طور پر مفسرین حضرات نے جو مختلف داستانوں، قصوں، کہانیوں، کے طومار جمع کئے ہیں اور یا حتی کی بیوی سے عشق کا جو افسانہ ذکر کیا گیا ہے وہ نہ تو اس مقام کی تفسیر کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ قصے اس قابل ہیں کہ ان کو ذکر کیا جائے۔ وہ تو ایک عام مسلمان کے بھی لائق نہیں ہوسکتے چہ جائیکہ ان کو حضرت داؤد جیسی عظیم الشان اور جلیل القدر ہستی کی طرف منسوب کیا جائے۔ اور ان میں سے بعض قصے اور افسانے تو ایسے ہیں کہ ان کی زد براہ راست حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی عصمت کے مسلمہ اور متفق علیہ عقیدے پر پڑتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے ایسے تمام قصے باطل اور مردود ہیں۔ اور علامہ ابن کثیر اور حافظ ابن حزم وغیرہ جیسے محققین نے ان کی سختی سے تردید فرمائی ہے۔ اور حضرت علی ۔ ؓ ۔ کے بارے میں مروی و منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کوئی حضرت داؤد (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بارے میں ایسا قصہ سنائے گا میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے لگاؤں گا جو کہ حضرات انبیائے کرام پر تہمت لگانے کی حد و سزا ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، زادالمسیر، ابوالسعود، کبیر، کشاف، روح، قرطبی، مراغی، بیضاوی، روح، صفوہ، خازن اور مدارک وغیرہ وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت داؤد کی وہ تقصیر و کوتاہی جس پر آپ (علیہ السلام) فوراً سجدے میں گرپڑے اور صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع ہوگئے اس کا ذکر نہ تو قرآن پاک کی کسی آیت میں فرمایا گیا ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں۔ اس لیے یہ معاملہ ایک راز تھا حضرت داؤد اور انکے رب کے درمیان۔ پس نہ تو اسکا کھوج لگانے کا کسی کو کوئی حق ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت۔ اور نہ ہی اس کی کوئی یقینی صورت ممکن ہوسکتی ہے۔ بلکہ ۔ " ابہموا ما ابہمہ القرآن " ۔ کے اصول کے مطابق اس کو مبہم ہی رہنے دیا جائے۔ اور اس سے جو اہم سبق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد عام دنیاوی بادشاہوں کی طرح کسی گھمنڈ اور استکبار میں مبتلاء ہونے والے شخص نہیں تھے۔ بلکہ آپ انابت و رجوع الی اللہ کے سلسلے میں ایک خاص شان اوابیت رکھتے تھے۔ اس لیے اس موقع پر آپ فوراً اپنے رب کے حضور سربسجود ہوگئے اور توبہ و استغفار میں مشغول ہوگئے۔ اور اگر کوئی صاحب اس امتحان کو کسی واقعہ کی شکل دینے ہی پر مصر ہوں تو حضرت داؤد کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو یوں فرض کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح دنیا میں بادشاہوں کو کسی شخصی یا اجتماعی ضرورت کیلئے کسی ملکیت سے تعرض کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے، شاید اسی طرح کی کوئی ضرورت حضرت داؤد کو بھی پیش آئی ہو۔ لیکن عام بادشاہ تو ایسے موقع پر کسی کی پروا نہیں کرتے۔ وہ اپنے اقتدار کے نشے کی بنا پر اور اپنے کبر و غرور میں مست جس پر چاہیں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ انکو اگر ضرورت پڑے تو اپنے قصر و ایوان کی سڑک سیدھی کرنے کیلئے بےدریغ غریبوں کے جھونپڑوں پر بلڈوزر پھروا دیتے ہیں۔ لیکن حضرت داؤد چونکہ ایک خدا ترس بادشاہ تھے۔ اس لیے وہ اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کرسکتے تھے۔ تو اگر اس طرح کی کسی ضرورت کے پیش نظر انکے دل میں ایسی کوئی خواہش رہی ہوگی تو اس واقعہ سے متنبہ ہو کر انہوں نے فوراً اس سے توبہ کرلی۔ اور یہی خوبی ہوتی ہے ایک صحیح الفطرت انسان کی کہ وہ دوسروں کے واقعات سے سبق لیتا ہے اور اپنی اصلاح کے لیے صدق دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو معاف کردیا ان کا وہ قصور اور یقینا ہمارے یہاں تو ان کے لئے ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی

33 حضرت داؤد کے لیے مغفرت و بخشش کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس پر ہم نے آپ کیلئے اس ۔ قصور۔ کو معاف کردیا "۔ یعنی جس کی آپ نے معافی مانگی تھی۔ خواہ وہ دوسرے کی مخطوبہ کی منگنی کا مسئلہ ہو یا اس کی بیوی کی طلاق کا مطالبہ۔ خواہ اپنی عبادت کا خیال و گھمنڈ ہو اور خواہ ان دو آدمیوں کے بارے میں یہ بدظنی کہ وہ اغتیال وغیرہ کسی برائی کے لئے آئے ہیں یا کوئی اور صورت وغیرہ کہ۔ " ذالک " کا عموم ان سب ہی مفاہیم کو عام اور شامل ہے۔ کیونکہ سچی توبہ پر سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اور توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ سو اس میں یہ درس عظیم پایا جاتا ہے کہ انسان سے جب اس کے بشری تقاضوں کی بنا پر کوئی کوتاہی سرزد ہوجائے تو وہ فورا توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔ اور رجوع بھی صحیح طور پر اور ظاہر اور باطن دونوں کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔ اور ظاہری طور پر رجوع الی اللہ کی سب سے بڑی اور واضح صورت رکوع و سجود ہے۔ اور باطنی رجوع دل کی انابت سے ہوتا ہے۔ یہاں پر ان تینوں چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ " راکعا " میں رکوع کا ذکر اور " خر " میں سجدے کا اور " اناب " میں رجوع قلبی کا۔ سو حضرت داؤد نے ایسا ہی کامل رجوع کیا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 34 توبہ و استغفار وسیلہ قرب و رفع درجات : سو حضرت ِداؤد کی نہ صرف یہ کہ بخشش فرمائی گئی بلکہ آنجناب کو مزید قرب و درجات سے نوازا گیا۔ سو ارشاد ہوتا ہے " اور بلاشبہ ہمارے یہاں ان کیلئے ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانہ بھی "۔ یعنی اس تقصیر سے آپ (علیہ السلام) کے مرتبہ و مقام میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ اور یہی شان ہوتی ہے اللہ پاک کے خاص اور مخلص بندوں کی کہ ان کی لغزش بھی ان کے لئے مزید ترقی اور عروج کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حضرت آدم کو بھی خلیفتہ اللہ فی الارض کا شرف و اعزاز اپنی کوتاہی اور غلطی کی سچی توبہ وانابت کے بعد ہی نصیب ہوا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَعَصٰی آٰدَمُ رَبَّہ فَغَوٰی، ثُمَّ اجْتَبٰہ فَتَابَ عَلَیْہِ وَہَدٰی } ۔ (طہ : 121- 122) ۔ اور ہر سچی توبہ سے آدمی کا مرتبہ و مقام اور بڑھ جاتا ہے اور ہر رجوع الی اللہ سے اس کو قرب حاصل ہوتا ہے۔ پس اس کی طرف رجوع صحیح طور پر ہونا چاہیے جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا کہ اس کی طرف رجوع ظاہر سے بھی ہو اور باطن سے بھی۔ جیسا کہ حضرت داؤد نے کیا کہ ظاہری طور پر رکوع و سجود بھی کیا اور باطن سے انابت بھی۔ اسی لیے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس مقام پر سجدہ کرنا لازم نہیں لیکن میں نے اللہ کے رسول کو یہاں پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ( صحیح بخاری، کتاب سجود القرآن، باب سجدہ ) ۔ اور دوسری روایت میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داؤد نے یہ توبہ کے طور پر کیا اور ہم شکر کے طور پر کرتے ہیں۔ ( نسائی، کتاب الافتتاح، باب سجود القرآن ) ۔