Ayah 38:1صٓ بعض علماء کے نزدیک صٓ قسم ہے ‘ بعض نے سورت کا نام قرار دیا۔ حروف تہجی کے بیان میں اس کا تذکرہ آچکا ہے۔ محمد بن کعب کے قول پر ‘ اللہ کے نام یعنی صمد اور صادق الوعد کی کنجی ہے۔ ضحاک نے کہا : آ کا معنی ہے : صَدَقَ اللّٰہُ اللہ نے سچ فرمایا۔ حضرت ابن عباس کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ صٓ کا معنی ہے : صَدَقَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ بعض کے نزدیک صاد بالکسر مصادرت سے امر کا صیغہ ہے۔ صدٰی آواز بازگشت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے عمل سے قرآن کی آواز بازگشت پیش کرو۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں ہم نے کردی ہے۔
والقران ذی الذکر قسم ہے قرآن کی جو نصیحتوں سے پر ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ عقائد ‘ احکام ‘ وعد و وعید اور پند و نصائح کا واضح بیان قرآن میں مذکور ہے۔ ضحاک نے ذکر کا ترجمہ شرف کیا ہے ‘ جس طرح کی آیت وَاِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ میں ذکر بمعنی شرف ہے۔
اگر آ سے مراد حرف صاد ہو اور اس سے دعوت مقابلہ مراد ہو ‘ یا صدق اللہ ‘ یا صدق محمد ‘ یا اللہ کے اسم صمد وغیرہ کی طرف پوشیدہ اشارہ ہو تو والقران میں واؤ قسم کیلئے ہوگا ورنہ عطف کیلئے ہوگا۔
اخفش (نحوی ادیب مشہور) نے کہا : قسم کا جواب (یعنی جس مضمون کیلئے قسم کے ساتھ کلام کیا گیا ہے) اِنْ کُلٌّ الاَّ کذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ہے۔ اخفش کا یہ قول بعید از فہم ہے۔
ظاہر یہ ہے کہ جواب محذوف ہے جس پر صٓ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ صٓ کا لفظ دعوت مقابلہ پر دلالت کر رہا ہے ‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ قسم ہے قرآن کی کہ یہ ایک معجزہ ہے ‘ یا اس پر عمل واجب ہے ‘ یا محمد ﷺ سچے ہیں ‘ یہ بات وہ نہیں ہے جو کافر کہہ رہے ہیں۔ مؤخر الذکر قول پر آگے والی آیت دلالت کر رہی ہے۔
Ayah 38:2بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق بلکہ (خود) یہ کافر تعصب اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔
یعنی رسول اللہ ﷺ کی عداوت اور آپ کی مخالفت میں ڈوبے ہوئے ہیں ‘ اسی لئے ایمان نہیں یاتے ‘ یا شقاق سے مراد ہے عقل و نقل کی مخالفت اور عزت سے مراد ہے جاہلیت کا تعصب اور قبول حق سے مغرورانہ سرکشی۔ قتادہ نے کہا : بَلْ اس جگہ (اعراض کیلئے نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے اور یہ جملہ قسم کا جواب ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : قٓ والْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ- بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآءَھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْھُمْالخقتیبی نے کہا : بَلْ ایک کلام کے تدارک اور دوسرے کلام کی نفی کیلئے ہے ‘ کیونکہ اللہ نے آ والْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِکی قسم کھا کر فرمایا کہ (اہل مکہ میں سے) جو کافر ہیں ‘ وہ غرور اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:3کم اھلکنا منقبلھم من قرن فنادوا ولات حین مناص ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے)
ہلاک کرچکے ہیں ‘ سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت بڑی) ہائے پکار کی ‘ اور وہ وقت رہائی کا نہ تھا۔
لَمْ اَھْلَکْنَا الخ یہ مکہ کے کافروں کیلئے وعید ہے۔ فَنَادَوْا یعنی نزول عذاب کے وقت فریاد رسی کیلئے بہت چیخے چلائے ‘ یا توبہ و استغفار کا شور مچایا ‘ لیکن رہائی اور خلاصی کا وقت (نکل چکا تھا) باقی نہیں رہا تھا۔ کافروں کی حالت بیان کرنے کے بعد ان کے مآل کو (بطور کنایہ) بیان فرمایا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح سابق امتیں عذاب سے ہلاک کردی گئیں ‘ اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیا جائے گا۔
لات مناص میں لا لَیْسَ کے مشابہ ہے ‘ تاء تانیث تاکید کیلئے بڑھا دی گئی ہے جیسے ربّہ اور ثُمَّہ میں تاء برائے تاکید بڑھا دی گئی ہے۔ لا کے بعد تَ بڑھانے سے لا کا حکم بدل گیا اور خاص طور پر اس کا داخلہ وقت پر ہونے لگا اور اسم و خبر میں سے ایک کا حذف کرنے ضروری ہوگیا۔ خلیل اور سیبویہ اسم کو محذوف مانتے ہیں۔ اخفش کے نزدیک یہ لا نفی جنس کا ہے ‘ حین مناص لاَ کا اسم ہے اور خبر محذوف ہے ‘ یعنی خلاصی کا وقت نہیں رہا۔ بعض کے نزدیک لاَ کے بعد فعل محذوف ہے ‘ یعنی لاَ اَری حین مناصٍ حاصلاً ھم۔ زجاج کے نزدیک لات کی ت پر وقت ہے (لات) اور کسائی کے نزدیک حالت وقف میں لاَہْ پڑھا جائے گا۔ بعض کا خیال ہے کہ لاَ پر وقف ہے اور تَ کا تعلق حین سے ہے ‘ یعنی لاَ تَحِیْنَ ۔ ابوعبیدہ نے اسی کو اختیار کیا ہے ‘ ابوعبیدہ نے کہا : میں نے مصحف عثمانی میں اسی طرح لکھا پایا ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے
وَالْعَاطِفُوْنَ تَحِیْنَ مَا مِنْ عَاطِفٍ
وَالْمُطْمِعُوْنَ زَمَانَ مَا مِنْ مُّطْعِمٍ
وہ ایسے وقت مہربانی کرتے ہیں جب کوئی مہربان نہیں ہوتا اور ایسے وقت کھانا کھلاتے ہیں جب کوئی شخص کھانا کھلانے والا نہیں ہوتا۔
مناص (اجوف واوی) مصدر ہے ‘ اس کا معنی ہے چھوٹ جانا۔ قاموس میں ہے : نوصپیچھے رہ جانا۔ اور مناصجائے پناہ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : کفار مکہ جب جنگ کرتے تھے تو لڑائی میں سرمست ہوجاتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتا تھا : مناص۔ اس پر اللہ نے فرمایا : ولات حین مناص یعنی مناصکہنے کا وہ وقت نہ تھا ‘ یعنی نہ کوئی جائے پناہ تھی ‘ نہ بھاگ جانے کا مقام۔
Ayah 38:4وعجبوا ان جاء ھم منذرمنھم وقال الکفرون ھذا ساحر کذاب۔ اور انہوں نے (یعنی کفار مکہ نے) اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آگیا ‘ اور کہا : یہ شخص جادوگر ہے ‘
Ayah 38:5اجعل الالھۃ الھا واحدا ان ھذا الشیء عجاب جھوٹا ہے (جادوگروں جیسے کرشمے دکھاتا ہے اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے) کیا (ایسا شخص سچا ہوسکتا ہے کہ) اس نے سارے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دے دی ؟ واقعی یہ بہت بڑی عجیب بات ہے۔
منذرمنھم یعنی ایک انسان اور بھی انہی میں سے ‘ پیغمبرہو کر ان کو ڈرانے آیا ہے۔
وقال الکافرون اظہار غضب اور ندمت کیلئے اور اس بات پر تنبیہ کرنے کیلئے کہ کفر نے ہی ان کو ایسا کہنے کی جرأت دلائی ‘ بجائے ضمیر کے الکافرون صراحت کے ساتھ فرمایا۔
ھٰذا ساحرٌیعنی اس کے معجزے ‘ اس کے جادو کے کرشمے ہیں۔ کذَّابٌ یعنی نبوت کے دعوے میں پکا جھوٹا ہے۔ اَجَعَلَیہ سوال بطور تعجب ہے ‘ یعنی متعدد اور کثیر معبودوں کی جگہ اس نے ایک خدا کی معبودیت کو دے دی ‘ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ اِنَّ ھٰذَا یہ تو بڑی ہی انوکھی بات ہے ‘ ہمارے اسلاف کے اجماعی طریقہ کے خلاف ہے۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک کا علم اور قدرت اس قدر ہمہ گیر ہو جو کثیر تعداد کی جگہ پوری پوری لے لے۔
بغوی نے لکھا ہے : جب حضرت عمر بن خطاب مسلمان ہوگئے تو قریش کو آپ کا مسلمان ہوجانا بڑا شاق گذرا ‘ لیکن مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی۔ ولید بن مغیرہ نے سرداران قریش کی ایک جماعت کو جو تعداد میں پچیس تھے ‘ جمع کر کے کہا : چلو ‘ ابوطالب کے پاس چلیں۔ ولید بن مغیرہ کی عمر سب سے زیادہ تھی۔ حسب مشورہ سب لوگ ابو طالب کے پاس گئے اور ان سے کہا : آپ ہمارے بزرگ اور سردار ہیں اور ان بیوقوف لوگوں (یعنی مسلمانوں) کی حرکتوں سے آپ واقف ہیں۔ ہم آپ کے پاس اسلئے آئے ہیں کہ آپ ہمارا اپنے بھتیجے سے تصفیہ کرا دیجئے۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوایا۔ جب آپ تشریف لے آئے تو ابو طالب نے کہا : میرے بھتیجے ! یہ تمہاری قوم والے تم سے کچھ درخواست کرنا چاہتے ہیں ‘ تم اپنی رائے بالکل ہی ان کے خلاف نہ کرلینا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ قریش نے کہا : تم ہمارے معبودوں کا ذکر چھوڑ دو اور ہم تم کو تمہارے معبود سے نہیں روکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرتے ہو جس کی وجہ سے تم عرب کے حاکم بن جاؤ گے اور عجمی بھی تمہارے فرمانبردار ہوجائیں گے ؟ ابوجہل بولا : اگر ایسی بات ہے تو ہم ایک نہیں ‘ اس جیسی دس باتیں مان لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تو لا الٰہ الاّ اللہ کہہ دو ۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور منتشر ہوگئے اور کہنے لگے : اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًاساری مخلوق ایک خدا کا کلام کیسے سن سکتی ہے ؟ اِنَّ الَشَیْءٌ عُجَابٌ5۔
عجیب اور عُجَابٌ کا فرق بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ انوکھی بات جس کی نظیر ہو ‘ عجیب کہلاتی ہے اور بےنظیر ہو تو اس کو عجابکہتے ہیں۔
Ayah 38:6وانطلق الملامنھم ان امشوا واصبروا علی الھتکم اور قریش کے سردار ابوطالب کی مجلس سے (یہ کہتے
ہوئے اٹھ کر) چل دئیے کہ چلو (آپ سے بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں) اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر جمے رہو۔
بعض اہل تفسیر نے اِنْطَلَقَ کا ترجمہ کیا ہے : بات شروع کی اور امشوا کا ترجمہ کیا ہے : جمع ہوجاؤ۔ مَشِیَتِ الْمَرْأَۃُ وہ عورت کثیر الاولاد ہوگئی۔ مَاشیۃٌ کا لفظ بھی اسی مفہوم کا حامل ہے۔
ان ھذا لشیء یراد یہ کوئی مطلب کی بات ہے۔
اِنَّ ھٰذَابیشک یہ یعنی توحید کا اقرار یقیناً کوئی مطلب کی بات ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو ایک خاص قوت حاصل ہوگئی ‘ اس پر کافروں نے کہا : اِنَّ ھٰذَا الَشَیْءٌ یُّرَادُ ۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ سرداران قریش نے کہا : محمد ﷺ کے ساتھی جو پڑھتے جا رہے ہیں ‘ یقیناً یہ مقصود خداوندی ہے ‘ اس کو لوٹانا ممکن نہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محمد ﷺ جس توحید کا دعویٰ کر رہے ہیں ‘ یا عرب و عجم کی حکومت کے طلبگار ہیں ‘ اس کی خواہش اور تمنا تو ہر ایک کو ہوتی ہے۔
Ayah 38:7ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا اختلاق یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے مذہب میں نہیں سنی۔
ہو نہ ہو یہ (اس شخص کی) من گھڑت ہے۔
بِھٰذَا یعنی یہ حقیر دعوت توحید جس کے محمد ﷺ قائل ہیں۔ فی الملۃ الآخرۃ ‘ حضرت ابن عباس ‘ کلبی اور مقاتل نے کہا : الملۃ الآخرۃ سے مراد عیسائیت ہے ‘ آخری (سماوی) مذہب یہی تھا ‘ عیسائی بھی توحید کے قائل نہیں (رہے) تھے ‘ بلکہ خدا کو تین (اقانیم) میں کا تیسرا کہتے تھے۔ مجاہد نے کہا : الملۃ الآخرۃ سے قریش کا مذہب جس پر وہ چلتے تھے ‘ مراد ہے ‘ یعنی جس مذہب پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ‘ اس میں بھی یہ بات نہیں سنی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس مذہب کا انتظار کیا جا رہا تھا ‘ اس میں توحید کی تعلیم کا ہونا تو ہم نے اہل کتاب سے سنا ‘ نہ کاہنوں سے۔
اختلاق جھوٹی ‘ من گھڑت۔
Ayah 38:8ء انزل علیہ الذکر من بیننا کیا ہم سب میں سے اس پر یہ نصیحت نامہ (یعنی قرآن) اتارا گیا ؟
یعنی یہ شخص نہ تو ہمارا بزرگ اور شیخ ہے ‘ نہ مال و عزت میں ہم سے زائد ہے ‘ پھر اس پر نزول قرآن ہوا ؟ یہ عجیب بات ہے ‘ ہم نہیں مان سکتے۔
بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب بلکہ یہ لوگ خود میری وحی کی طرف سے شک (یعنی
انکار) میں ہیں ‘ بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔
یعنی قرآن کی طرف سے ان کو شک ہے ‘ کیونکہ قرآن لانے ولے کو یہ جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ بَلْ کا لفظ انکار سے اعراض اور شک کے اثبات کو ظاہر کر رہا ہے ‘ کیونکہ وہ لوگ تقلید اسلاف کی طرف جھکے ہوئے اور یقینی دلائل سے روگرداں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسی یقینی دلیل نہیں ہے کہ جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کا ساحر اور کذاب ہونا ثابت کرسکیں۔
بَلْ لَّمَّایَذُوْقُوْا بلکہ انہوں نے ابھی عذاب کا مزہ نہیں چکھا ‘ اگر چکھ لیتے تو ایسی بات نہ کہتے۔ لیکن عنقریب عذاب کا مزہ چکھ لیں گے اس وقت ان کا شک دور ہوجائے گا ‘ مگر بےفائدہ۔
اس جملہ میں بَلْ کا لفظ دو باتیں بتارہا ہے : (1) شک سے اعراض (2) قرآن کی حقانیت کی نفی کا اعتقاد اور یقین۔ اثبات شک کی بنیاد تو یہ ہے کہ کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور یقینی انکار کی بنیاد محض ان کی ضد ‘ ہٹ اور جہل مرکب ہے۔
بعض اہل علم کے نزدیک بَلْ دونوں جملوں میں ابتدائیہ ہے ‘ اضراب و اعراض کیلئے نہیں ہے۔ پہلا جملہ کافروں کے کلام کا جواب ہے اور دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہے۔
Ayah 38:9ام عندھم خزآئن رحمۃ ربک العزیز الوھاب کیا ان لوگوں کے قبضہ میں آپ کے فیاض غالب (کل)
پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں (کہ جس کو چاہیں ‘ دیں اور جس کو نہ دینا چاہیں ‘ نہ دیں) ۔
رحمت رب ‘ یعنی نعمت رب ‘ مراد نبوت کے خزانے یعنی ان کے پاس نبوت کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں۔ سوال انکاری ہے ‘ یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ نبوت ایک عطیہ خداوندی ہے ‘ جس بندہ کو چاہتا ہے ‘ اللہ اپنی مہربانی سے عطا فرماتا ہے ‘ اس کی عطا کو کوئی روک نہیں سکتا۔
العزیز سب پر غالب ‘ جس پر کوئی غالب نہیں۔
الوھّاب بڑا داتا کہ جس کو جو کچھ دینا چاہتا ہے ‘ دیتا ہے۔
Ayah 38:10ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب یا کیا ان کو آسمانوں اور زمین
کا اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مکمل اختیار حاصل ہے ؟ تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں۔
اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ خزائن رحمت یعنی نبوت (جو ایک روحانی عظیم الشان نعمت رب ہے) ان کے قبضے میں نہیں ہے ‘ اب اس آیت میں فرمایا کہ رحمت رب کے ایک ادنیٰ جزء یعنی اس عالم مادی میں بھی ان کا کوئی تصرف نہیں۔
فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِیعنی عالم سماوی و ارضی کے نظم میں ان کو کچھ دخل ہے تو سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ کر ‘ عرش تک پہنچ کر ‘ اس پر متمکن ہوں اور وہاں سے اس کائنات کا انتظام چلائیں اور جس پر چاہیں وحی نازل کریں۔
فَلْیَرْتَقُوْاسے امر کا مقصد زجر کرنا اور اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ تم ایسا کرنے سے عاجز ہو۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : اسباب سے مراد ہیں آسمان کے دروازے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچنے کا راستہ۔ کہیں تک پہنچنے کا جو ذریعہ اور سبب ہو ‘ خواہ راستہ ہو ‘ دروازہ ہو یا کچھ اور ہو ‘ اس کو سبب کہا جاتا ہے۔
Ayah 38:11جند ماھنالک مھزوم من الاحزاب (ان لوگوں کی) یہاں (یعنی مکہ میں) ایک شکست خوردہ حقیر بھیڑ ہے ‘
منجملہ (مخالفین انبیاء کے) گروہوں کے۔
مَا ھُنَالِکَمیں ماا ظہار قلت کیلئے ہے (ھُنَالِکَ سے مراد ہے مکہ) مہزوم شکست خوردہ ‘ یعنی عنقریب ان کو شکست ہوجائے گی۔ الاحزاب سے مراد ہیں کافروں کی وہ جماعتیں جو اپنے اپنے پیغمبروں کے زمانہ میں ان کے خلاف فرقہ بند ہوگئی تھیں۔ مطلب یہ کہ گذشتہ اقوام کو مغلوب کر کے ہلاک کردیا گیا تو ان کے پاس ایسی طاقت کہاں سے آسکتی ہے کہ اللہ کے انتظام عالم میں یہ دخل دے سکیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس حقیر جماعت کی آپ پروا نہ کیجئے۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے پہلے ہی فرما دیا تھا :
سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرُعنقریب کافروں کی جماعت کو شکست ہوجائے گی اور یہ پیٹھ موڑ کر بھاگ جائیں گے ‘ چناچہ اس کا ظہور بدر کے دن ہوگیا۔ ہنالک سے اشارہ بدر کی لڑائی میں کافروں کی قتل گاہوں کی طرف ہے۔
(مولٰنا اشرف علی تھانوی نے ہنالک سے مراد لیا ہے مکہ) حضرت مفسر نے فرمایا۔
میں کہتا ہوں کہ ہنالک سے مراد (کوئی مقام مخصوص نہیں ‘ بلکہ) وہ مقام ہے جہاں کافروں نے اپنے استقرار پسند کیا (یعنی مقام کفر) اور ایسی بیہودہ بات زبان سے نکالی اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔
Ayah 38:12کذبت قبلھم قوم نوح وعاد و فرعون ذوالاوتاد۔ ان سے پہلے قوم نوح نے اور عاد نے اور فرعون نے جس کی سلطنت کی میخیں گڑ گئی تھیں تکذیب کی
Ayah 38:13وثمود وقوم لوط واصحب الایکۃ اولئک الاحزاب اور ثمود اور لوط کی قوم نے اور مدین والوں نے (یعنی قوم شعیب نے اپنے اپنے زمانے کے نبیوں کی) تکذیب کی تھی ‘ وہ گروہ یہی امتیں تھیں (آخری آیت کا ترجمہ عام اہل تفسیر نے تقریباً یہی کیا ہے ‘ حضرت مفسر کی بھی یہی رائے ہے جو ذیل میں بیان کردی گئی ہے ‘ لیکن ہیچ مداں فقیر کی نظر میں اگر اولٰٓئک الاحزاب کو قوم نوحٍ وعادٌ الخ سے بدل یا ان کا بیان قرار دیا جائے تو ترجمہ بےمحاورہ اور نامناسب نہ ہوگا ‘ ترجمہ اس طرح ہوگا : ان کافروں سے پہلے قوم نوح نے اور عاد نے اور فرعون نے اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور مدین والوں نے ‘ ان سب گروہوں نے تکذیب کی ‘ اس صورت میں اولٰٓئک الاحزاب مبتداء خبر کا جملہ نہ ہوگا ‘ بلکہ اشارہ مشار الیہ کا ہوگا اور مختلف اقوام (مذکورہ) سے بدل قرار پائے گا ‘ وا اللہ اعلم۔ مترجم)
قبلھم یعنی مکہ والوں سے پہلے۔ قوم معنی کے لحاظ سے مؤنث ہے ‘ اسلئے کذبتمؤنث کا صیغہ استعمال کیا۔ حضرت ابن عباس اور محمد بن کعب نے ذوالاوتاد کا ترجمہ کیا : مضبوط عمارتوں والا۔ بعض علماء نے ترجمہ کیا : قوی ‘ پائیدار حکومت والا۔ قتیبی نے کہا : عرب بولتے ہیں : وہ لوگ گڑی ہوئی میخوں والی عزت کے مالک ہیں ‘ یعنی لازوال قوی عزت ان کو حاصل ہے۔ ضحاک نے کہا : مضبوط قوت اور گرفت والا۔ عطیہ نے کہا : کثیر لشکروں والا اور بڑے جتھوں والا۔ جس طرح کسی چیز کو مضبوط بنانے کیلئے اس میں کیلیں یا میخیں ٹھونک دی جاتی ہیں ‘ اسی طرح فرعون کی قوم نے اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط اور طاقتور بنا رکھا تھا۔
فوجوں کو میخیں (اوتاد) اسلئے کہا جاتا ہے کہ سفر کی حالت میں پڑاؤ پر وہ بہت سے ڈیرے ‘ خیمے لگاتے اور میخوں سے ان کو باندھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول عطیہ کی روایت میں یہی آیا ہے۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : اوتاد ‘ وتد کی جمع ہے۔ فرعون جب کسی پر عتاب کرتا تھا تو اس کو چت کر کے زمین سے کچھ اوپر ہر ہاتھ اور ٹانگ ایک ایک ستون میں ٹھونک دیتا تھا ‘ اس طرح وہ چت معلق رہتا تھا ‘ نہ اوپر جاسکتا تھا نہ نیچے زمین پر گر سکتا تھا ‘ اسی طرح مرجاتا تھا۔ مجاہد اور مقاتل کا (یہ بھی) بیان ہے کہ جس شخص کو سزا دینی ہوتی ‘ فرعون اس کو زمین پر چت لٹاتا ‘ پھر اس کے ہاتھ پاؤں علیحدہ علیحدہ پھیال کر چومیخا کردیتا تھا۔ سدی نے کہا : چومیخا مضبوط کر کے بچھو اور سانپ اس پر چھوڑ دیتا تھا۔ قتادہ نے کہا : فرعون کے پاس (کھلاڑیوں کی) کچھ پارٹیاں تھیں ‘ کھیل کے میدان تھے ‘ میخیں تھی ‘ اس کے سامنے کھلاڑی میخوں پر (اپنے کرتب دکھاتے اور) کھیلتے تھے۔
اصحاب الایکۃ مدین والے ‘ یعنی قوم شعیب۔ اولٰٓئک الاحزاب ‘ الاحزاب میں الف لام عہدی ہے ‘ یعنی وہی احزاب جن کا ذکر آیت جُنْدٌ مَّا ھُنَالِکَ مَھْزُوْمٌ مِّنْ الْاَحْزَاب میں کردیا گیا ہے۔ یہ سب لوگ پیغمبروں کے خلاف اپنے اپنے زمانہ میں جتھابند ہوگئے تھے ‘ رسول اللہ ﷺ نے خلاف مشرکین مکہ نے بھی ایک جتھا بنا لیا تھا۔
Ayah 38:14ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب (ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہ تھی کہ اس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو ‘
یعنی) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا ‘ سو میرا عذاب ان پر واقع ہوگیا۔ اِنْ نافیہ ہے ‘ یعنی ان میں سے کسی جماعت نے سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا اور سخت ترین عذاب کی مستحق بنی۔ کُلٌّ کے لفظ کو مبہم رکھ کر تکذیب کی اس کی طرف نسبت کرنے سے اس مقصد کے بیان میں پختگی پیدا ہوگئی گویا اس بات پر مہر لگ گئی کہ (تکذیب کی وجہ سے) وہ مستحق عذاب ہو ہی گئے ‘ اسی لئے آئندہ فقرہ حقّ عقاب فرمایا ‘ یعنی عذاب ان پر لازم ہوگیا اور (کفر کی وجہ سے) واقع ہوگیا۔
(کُلُّ کَذَّبَ الرُّسُلَاقوام گذشتہ کے ہر فرد نے یا ہر امت نے تمام پیغمبروں کی تو تکذیب نہیں کی ‘ البتہ اپنے زمانہ کے پیغمبروں کو ضرور جھوٹا قرار دیا ‘ پھر کل کذب الرسل کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ آیت کے مضمون پر یہ ایک شبہ پیدا ہوسکتا تھا ‘ اس کو دور کرنے کیلئے حصرت مفسر نے فرمایا) جمع کا تقابل جمع سے مراد ہے ‘ یعنی مجموعۂ اقوام نے مجموعۂ انبیاء کی تکذیب کی (اب یہ لازم نہیں آتا کہ ہر فرد یا ہر امت نے تمام انبیاء کی تکذیب کی ہو) یا یہ مراد ہے کہ اپنے زمانہ کے پیغمبر کی تکذیب ہر امت نے کی ‘ اور ایک پیغمبر کی تکذیب حقیقت میں سارے پیغمبروں کی تکذیب ہے (کیونکہ ہر پیغمبر نے دوسرے ہر پیغمبر کی تصدیق کی تھی ‘ اب جبکہ ایک پیغمبر کی تکذیب کی گئی تو یہ ہر پیغمبر کی تصدیق کی تکذیب ہوگئی) لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر امت نے تمام پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ کیونکہ بات سب نے ایک ہی کہی تھی (سب نے شرک سے روکا تھا اور صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیا تھا) ۔
Ayah 38:15وما ینظر ھولاء الا صیحۃ واحدۃ ما لھا من فواق اور یہ لوگ بس ایک چیخ کے (یعنی صور پھونکے جانے
کے) منتظر ہیں جس میں دم لینے کی بھی گنجائش نہ ہوگی۔
ھٰٓؤُلَآء یعنی قریش کے کافر۔ صحیۃ واحدۃً صور پھونکے جانے کی آواز۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ جب تک (قیامت کے) عذاب کو نہ دیکھ لیں گے ‘ نہیں مانیں گے لیکن اس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔
فَوَاق (لغت قریش) فُوَاق (لغت بنی تمیم) دونوں لفظ آئے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا : فواق کا معنی ہے : واپس ہونا۔ مجاہد نے ترجمہ کیا : مہلت۔ ضحاک نے کہا : فواق یعنی پھیرنا ‘ موڑنا۔ ابو عبیدہ اور فراء نے کہا : فواق کا معنی ہے آرام ‘ افاقہ (سکون اور ہوش) اور فواق اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کو دوہنے اور پھر دودھ اتارنے کیلئے چھوڑ دینے اور پھر دوہنے کے درمیان ہوتا ہے۔ قاعدہ ہے کہ جانور کو پہلے دوہ لیا جاتا ہے ‘ جب تھنوں میں موجودہ دودھ سب نکل آتا ہے تو بچہ کو تھنوں کے نیچے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ بچہ کو پلانے کیلئے جانور دودھ دوبارہ اتارے۔ چناچہ بچہ کیلئے جانور دودھ اتارتا ہے ‘ یہ دیکھ کر دوہنے والا بچہ کو ہٹا لیتا ہے اور دوبارہ دوہ لیتا ہے۔ دونوں مرتبہ کے دوہنے کے وقفہ کو فواق کہا جاتا ہے ‘ یہاں مراد ہے مہلت اور بہت ہی قلیل مہلت۔ بعض علماء نے کہا : فواق کا کوئی معنی مراد ہو ‘ بہرحال مجازی اور بطور استعارہ ہوگا۔ دودھ دوبارہ تھنوں میں اتر آتا ہے ‘ مریض صحت کی طرف لوٹتا ہے۔ یعنی نفخ صور کے بعد دنیا میں واپسی نہ ہوگی ‘ یا صور کی آواز نہ واپس کی جائے گی ‘ نہ پھیری جائے گی ‘ یا قلیل مہلت بھی نہیں ملے گی ‘ یا افاقہ اور آرام نہیں ملے گا۔
کلبی نے کہا : جب سورت الحاقّہ میں اللہ نے فرمایا : فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٗ 5 اور وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابِہٗ بِشِمَالِہٖ 5 تو مکہ کے کافروں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا : اے ہمارے رب ! ہمارا کاغذ تو ابھی دے دے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر کی روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔
Ayah 38:16وقالوا ربنا عجل لنا قطنا اے ہمارے رب ! ہمارا صحیفہ تو (ہم کو دنیا میں ہی) جلد دے دے۔ قِط وہ کاغذ جس میں ہر چیز کا اندارج ہو۔ حضرت ابن عباس نے یہی فرمایا۔ رواہ سعید بن جبیر عنہ۔
قبل یوم الحساب حساب کے دن سے پہلے۔ سعید بن جبیر نے کہا : کافروں کی مراد یہ تھی کہ محمد ﷺ جس جنت
کا ذکر کرتے ہیں ‘ اس کے اندر ہمارا جو نصیب اور حصہ ہو ‘ وہ ہم کو یہیں دے دے۔ حسن ‘ قتادہ ‘ مجاہد اور سدی نے کہا : ان کا مطلب یہ تھی کہ جس عذاب آخرت کی محمد ﷺ ہم کو دھمکی دیتے ہیں ‘ اس کا ہمارا مقررہ حصہ یہیں دنیا میں ہم کو دے دے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ مجاہد نے قِط کا ترجمہ حساب کیا۔
عطاء نے کہا : یہ قول نضر بن حارث کا تھا ‘ اس نے کہا تھا : اَللَّھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اے اللہ ! اگر یہی حق ہے (اور) تیری طرف سے (نازل ہوا) ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے۔
Ayah 38:17اصبر علی ما یقولون واذکر عبدنا داود یہ کافر جو کچھ (مذاق اڑانے اور جھٹلانے کیلئے) کہتے ہیں ‘ آپ صبر
کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کا ذکر کیجئے۔
انبیاء کا تذکرہ ایسے امور پر صبر کرنے پر آمادہ کرتا ہے جو طبیعت کو ناگوار ہوتی ہیں ‘ گناہوں سے بازداشت کرتا اور طاعت پر نفس کو قائم رکھتا اور ان کا پابند بناتا ہے۔
ذا الاید جو طاقتور اور سخت پکڑ والے تھے اور طاعت خداوندی میں بہت مضبوط تھے۔
انہ اواب وہ (مخلوق سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف اور گناہ کو چھوڑ کر طاعت کی طرف) بہت زیادہ لوٹنے والے تھے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اللہ کے بڑے اطاعت گذار تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اللہ کی بہت پاکی بیان کرنے والے تھے۔ حبشی زبان میں اوّاب کا معنی ہے : تسبیح کرنے والا۔
یہ جملہ دلالت کر رہا ہے کہ ذا الاید میں اید سے مراد دینی قوت ہے۔ شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و نسائی وابن ماجہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ اللہ کو پسند داؤد کا (نفل) روزہ رکھنے کا طریقہ ہے ‘ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے ‘ ایک دن ناغہ کرتے تھے اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز اللہ کے نزدیک داؤد کی ہے ‘ داؤد آدھی رات سوتے تھے ‘ ایک تہائی رات نماز پڑھتے تھے ‘ پھر آخر رات میں (بقیہ رات یعنی) پوری رات کا چھٹا حصہ سو جاتے تھے (اس طرح دو تہائی رات سونے کیلئے اور ایک تہائی رات عبادت کیلئے انہوں نے مقرر کر رکھی تھی) ۔
Ayah 38:18انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق ہم نے ہی پہاڑوں کو حکم دے رکھا تھا کہ شام و صبح ان
کے ساتھ تسبیح کیا کریں۔
یہاں سے فصل الخطاب تک اللہ کی طرف سے حضرت داؤد کی عزت افزائی کا بیان ہے۔
یسبحن پہاڑ حضرت داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے۔ یہ جملہ حالیہ ہے ‘ گذشتہ حالت کا استحضار اور مسلسل نو بہ نو تسبیح پڑھنے کا اظہار مقصود ہے۔ بالعشیّ والاشراق کا ترجمہ کلبی نے کیا : شام و صبح۔ اشراق کا مطلب ہے : روشنی کی چمک کا انتہا کو پہنچ جانا۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک اس سے چاشت کی نماز مراد ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے اس آیت کے سلسلہ میں فرمایا : اس آیت پر میرا ایمان تو تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا (مرادی) معنی کیا ہے ‘ یہاں تک کہ حضرت ام ہانی بنت ابو طالب نے فرمایا کہ (ایک روز) رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور وضو کا پانی طلب کیا ‘ پھر وضو کیا اور چاشت کی نماز (یعنی دن چڑھے) پڑھی اور نماز کے بعد فرمایا : ام ہانی ! یہ اشراق کی نماز ہے۔ اولاسط میں طبرانی نے اور ابن مردویہ ‘ اور ابن جریر و حاکم نے عبد اللہ بن حارث کے سلسلے میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے : مجھے چاشت کی نماز کا علم اسی آیت سے ہوا (اس سے پہلے نہیں جانتا تھا کہ چاشت کی نماز کونسی ہوتی ہے۔ سعید بن منصور نے بھی اس اثر کی تخریج کی ہے) ۔
Ayah 38:19والطیر محشورۃ اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی جو (تسبیح کے وقت ان کے پاس) جمع کر دئیے جاتے تھے۔
یعنی ہر طرف سے پرندے بھی جمع ہو کر حضرت داؤد کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔
کل لہ اواب سب (پہاڑ اور پرندے ان کی تسبیح کے وقت) ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوتے تھے۔ یعنی ان کی تسبیح کی وجہ سے وہ بھی تسبیح خداوندی کی طرف لوٹتے تھے۔ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ حضرت داؤد کے ساتھ اور ان کی موافقت و معیت میں پہاڑ تسبیح کرتے تھے اور لہٗ اوّابٌ کا مطلب یہ ہے کہ تسبیح میں برابر مشغول رہتے تھے۔
Ayah 38:20وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب اور ہم نے ان کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی اور ہم نے
ہی ان کو حکمت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی۔
وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ یعنی ان کی حکومت کے ڈر (کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا) اور اپنی طرف سے نصرت اور فوجوں کی کثرت سے ان کی حکومت کو مستحکم کردیا تھا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے تمام بادشاہوں سے بڑھ کر حضرت داؤدک اقتدار عطا فرمایا تھا ‘ ان کے قلعہ (اور شاہی محل) کی نگرانی ہر رات 36 ہزار سپاہی کرتے تھے۔
بغوی نے بروایت عکرمہ ‘ حضرت ابن عباس کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی نے کسی بڑے آدمی پر حضرت داؤد کے سامنے دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائیں چھین لی ہیں۔ حضرت داؤد نے مدعیٰ علیہ سے پوچھا ‘ اس نے انکار کردیا۔ آپ نے مدعی سے گواہ طلب کئے ‘ اس کے پاس گواہ نہ تھے۔ آپ نے فرمایا : اب چلے جاؤ ‘ میں تمہارے معاملہ میں غور کر کے فیصلہ کروں گا۔ اللہ نے خواب میں حضرت داؤد کے پاس وحی بھیجی کہ مدعیٰ علیہ کو قتل کردیا جائے۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے خیال کیا کہ یہ ایک خواب ہے ‘ میں فیصلہ میں جلدی نہیں کروں گا۔ دوسرے روز پھر یہی خواب دیکھا ‘ لیکن آپ نے خواب کی تعمیل نہیں کی۔ تیسری بار خواب میں وہی آئی کہ مدعیٰ علیہ کو قتل کر دو یا سخت سزا دو ۔ بیدار ہونے کے بعد حضرت داؤد نے مدعیٰ علیہ کو طلب کیا اور فرمایا : اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ میں تجھے قتل کرا دوں۔ اس نے کہا : کیا بغیر ثبوت کے آپ مجھے قتل کرا دیں گے ؟ حضرت داؤد نے فرمایا : ہاں ‘ اللہ کی قسم ! میں تیرے معاملہ میں اللہ کا حکم نافذ کر کے رہوں گا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ حضرت داؤد مجھے قتل ہی کرا دیں گے تو بولا : آپ عجلت سے کام نہ لیں ‘ میں آپ کو اصل واقعہ بتائے دیتا ہوں۔ میرے لئے اس جرم کی یہ سزا تجویز نہیں کی گئی ہے ‘ بلکہ میری یہ پکڑ ایک اور جرم میں ہوئی ہے۔ میں نے اس مدعی کے باپ کو دھوکا دے کر اچانک قتل کردیا تھا ‘ اس کی مجھے یہ سزا دی گئی ہے۔ حضرت داؤد نے (اس اقرار کے بعد) اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور قتل کرا دیا۔ اس واقعہ سے بنی اسرائیل کے دلوں پر حضرت داؤد کی ہیبت چھا گئی اور آپ کی حکومت بڑی مستحکم ہوگئی۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بھی اسی بیان کی حضرت ابن عباس کی طرف نسبت کی ہے۔
الحکمۃ حکمت سے مراد ہے نبوت ‘ کامل علم اور عمل کا استحکام۔
فصل الخطاب بغوی نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ فصل الخطاب الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِیْ وَالْیَمِیْنُ عَلٰی مَنْ اَنْکَرَہے (مدعی پر لازم ہے کہ گواہ پیش کرے اور گواہ نہ ہوں تو مدعیٰ علیہ سے حلف لیا جائے) یہ ضابطہ تمام جھگڑوں کو طے کردیتا ہے ‘ فریقین کی بات ہی ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت ابی بن کعب کا قول بھی یہی روایت میں آیا ہے ‘ حضرت ابی نے فرمایا : فصل الخطاب گواہ اور قسم ہے۔ مجاہد اور عطاء بن رباح کا یہی قول ہے۔
حضرت ابن مسعود ‘ حسن ‘ کلبی اور مقاتل کے نزدیک فصل الخطاب سے مراد ہے بصیرت فیصلہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : واضح کلام مراد ہے ‘ یعنی ایسا کلام جس سے مقصد واضح ہوجائے ‘ مخاطب کو مطلب سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہ رہے جس میں فصل ‘ وصل ‘ عطف ‘ اضمار ‘ اظہار وغیرہ تمام قواعد بلاغت کا لحاظ رکھا گیا ہو ‘ نہ اس میں اتنا اختصار ہو کہ مطلب سمجھنے میں خلل پیدا ہو ‘ نہ اتنا طول ہو جو سننے والوں کے دلوں کو اکتا دے۔ آیت فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَدْھَا کی تفسیر کے ذیل میں سورة توبہ میں ہم نے ہجرت کے واقعہ میں ام معبد کی ایک حدیث نقل کی ہے جس میں ام معبد نے رسول ان ﷺ کے کلام کے متعلق بیان کیا تھا کہ ان کا کلام نہ اتنا کم تھا کہ مطلب فہمی میں خلل انداز ہو ‘ نہ اتنا زیادہ تھا کہ طبیعت کو اکتا دے (لاَ نَزِرٌ وَلاَ ھَذِرٌ نہ ناقص نہ بیکار بکواس) ۔
شعبی نے کہا : حمد وثناء کے بعد جب آدمی مقصد بیان کرنا چاہتا ہے اور بیان مقصد سے پہلے امّا بعد کہتا ہے تو یہ فصل الخطاب ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ فصل الخطاب اسلئے ہے کہ یہ لفظ حمد وثناء کو بیان مقصد سے جدا کردیتا ہے۔
Ayah 38:21وھل اتاک نبأ الخصم اذ تسوروا المحراب اور بھلا ان اہل مقدمہ کی بھی خبر پہنچی ہے جبکہ وہ لوگ (داؤد
کے) عبادت خانہ کی دیوار پھلانگ کر داؤد کے پاس پہنچے تھے۔
آیت میں استفہام تعجب آگیں ہے جو واقعہ سننے کا شوق دلانے کیلئے ہے۔ الخصم اصل میں مصدر ہے ‘ اسی لئے اس کا اطلاق (ایک) دو اور زیادہ پر بھی ہوتا ہے ‘ یہاں مراد ہیں دو جھگڑنے والے۔ اس کی جمع کی ضمیر خصم کی طرف راجع کی گئی اور دو کی طرف جمع کی ضمیر راجع کرنا عربی زبان میں درست ہے ‘ جیسے ایک دوسرے آیت میں فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا کہا گیا ہے اور اس میں تثنیہ کی ضمیر اضافت کی گئی ہے۔
اِذْ تَسَوَّرُوْا ‘ تسور دیوار پر چڑھنا۔ یہ لفظ سور سے ماخوذ ہے جیسے تسَنُّم ‘ سنام (کوہان) سے ماخوذ ہے۔
المحرا بقلعہ۔ قلعہ کو محراب اسلئے کہا جاتا ہے کہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر (باہر والوں سے) جنگ لڑی جاتی ہے ‘ یا محراب سے عبادت خانہ مراد ہے ‘ عبادت خانہ بھی شیطان سے لڑنے کا مقام ہے۔
الخصم سے پہلے تحاکم کا لفظ محذوف ہے اور اِذْ کا تعلق تحاکم سے ہے یا نبأ سے ‘ مراد ہے حضرت داؤد کے زمانہ کا ایک واقعہ اور لفظ قصہ نبأ سے پہلے محذوف ہے ‘ اس صورت میں اِذْ کا تعلق نبأ سے ہوسکتا ہے۔ اہل مقدمہ کا دیوار پھاند کر آنا حقیقت میں حضرت داؤد کا امتحان تھا۔ یہ امتحان کیوں لیا گیا ‘ بغوی نے لکھا ہے : اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت داؤد نے ایک روز تمنا کی کہ ان کو بھی ان کے اسلاف ابراہیم ‘ اسحاق اور اسرائیل کا ہم مرتبہ بنا دیا جائے اور اللہ سے دعا کی کہ جس طرح میرے بزرگوں کا تو نے امتحان لیا اور امتحان کے بعد ان کو مراتب عنایت کئے ‘ اسی طرح مجھے بھی ان کی طرح مرتبہ میرا امتحان لینے کے بعد عطا فرما دیا جائے۔ سدی ‘ کلبی اور مقاتل نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اپنی اپنی اسناد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت داؤد نے وقت کے تین حصے کر رکھے تھے : ایک روز تو لوگوں کے فیصلوں کے کیلئے مخصوص کردیا تھا ‘ ایک دن اللہ کی عبادت کیلئے مخصوص تھا اور ایک روز اپنی عورتوں اور دوسرے مشاغل کیلئے۔
عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے حسن کے حوالے سے بیان کیا کہ داؤد نے اپنے وقت کو چار حصوں میں بانٹ دیا تھا ‘ چوتھا دن وعظ کیلئے مقرر کردیا تھا۔ حضرت داؤد جو (آسمانی) کتابیں پڑھتے تھے ‘ ان میں حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی فضیلت کا تذکرہ تھا۔ ایک روز انہوں نے دعا کی : اے رب ! میں سمجھتا ہوں کہ ساری خوبیاں تو میرے آباؤ اجداد لے گئے جو مجھ سے پہلے گذر چکے (مجھے بھی ان کا درجہ عنایت فرما) اللہ نے وحی بھیجی : ان کو تو (مختلف) آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا تھا اور ویسی آزمائشوں میں تم کو مبتلا نہیں کیا گیا۔ ابراہیم کا امتحان تو نمرود کی طرف سے ایذاؤں کی شکل میں اور بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دے کرلیا گیا اور اسحاق کا امتحان ذبح ہونے پر راضی ہونے کی صورت میں لیا گیا اور نابینا بھی ان کو بنایا گیا ‘ یہ بھی ان کا امتحان ہوا اور یعقوب کا امتحان یوسف کی جدائی کے غم کی شکل میں لیا گیا (اور سب نے مصائب پر صبر کیا) حضرت داؤد نے عرض کیا : اے میرے رب ! اگر تو میرا بھی ان کی طرح امتحان لے گا تو میں بھی ثابت قدم رہوں گا۔ اللہ نے وحی بھیجی : اچھا ‘ تمہارا امتحان فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو لیا جائے گا ‘ چوکنے رہنا۔ جب اللہ کی مقرر کردہ امتحانی تاریخ آئی تو حضرت داؤد اپنے عبادت خانے کے اندر جا کر زبور پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ دوران قراءت شیطان کبوتر کی شکل میں سامنے آیا ‘ وہ کبوتر سونے کا بنا ہوا تھا ‘ ہر خوبصورت رنگ اس میں موجود تھا۔ بعض اقوال میں آیا ہے : اس کے بازو موتی اور زمرد کے تھے۔ کبوتر آکر حضرت داؤد کے سامنے رک گیا۔ آپ کو اس کی خوبصورتی عجیب معلوم ہوئی ‘ پکڑنے کیلئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ بنی اسرائیل کو بھی دکھائیں اور وہ بھی اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کریں۔ جونہی پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا ‘ کبوتر اڑ کر اتنے فاصلہ پر جا بیٹھا کہ حضرت داؤد کو آگے بڑھ کر پکڑ لینے کا لالچ ہو ‘ زیادہ دور نہیں گیا۔ حضرت داؤد اس کی طرف بڑھے تو وہ کنارے تک پہنچ گیا ‘ حضرت داؤد نے وہاں بھی اس کا پیچھا کیا تو وہ اڑ کر روشندان میں جا بیٹھا۔ حضرت داؤد وہاں بھی پکڑنے کیلئے پہنچے تو وہ روشندان سے نکل کر اڑ گیا۔ حضرت داؤد روشندان سے دیکھتے رہے کہ یہ کہاں جا کر بیٹھتا ہے ‘ مقصد یہ تھا کہ کسی کو بھیج کر اس کو پکڑوا لیں۔ یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک حوض کے کنارے باغیچہ میں ایک عورت پر نظر پڑگئی جو غسل کر رہی تھی۔
یہ الفاظ کلبی کی روایت کے ہیں ‘ سدی کا بیان ہے کہ وہ عورت اپنی چھت پر غسل کر رہی تھی اور انتہائی حسین تھی۔ حضرت داؤد اس کے حسن کو دیکھ کر اچنبھے میں پڑگئے۔ اتفاقاً عورت کی نظر بھی پڑگئی اور اس نے (کسی مرد کی) پرچھائیں دیکھ لی تو فوراً اپنے بال بکھیر کر جسم کو چھپالیا ‘ حضرت داؤد کو اس پر اور بھی تعجب ہوا۔ آپ نے لوگوں سے اس عورت کی بابت معلومات کیں تو بتایا گیا کہ وہ شافع کی بیٹی تشایع ‘ اور یا بن حنانا کی بیوی ہے اور اس کا شوہر حضرت داؤد کے بھانجے ایوب بن صوریا کے ساتھ بلقاء کے جہاد پر گیا ہوا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت داؤد چاہتے تھے کہ اور یا جہاد میں شہید ہوجائے اور اس کی بیوی سے آپ نکاح کرلیں ‘ یہی آپ کا قصور تھا۔ بعض نے بیان کیا کہ حضرت داؤد نے اپنے بھانجے ایوب کو لکھا کہ اور یا کو فلاں جگہ (جہاد کیلئے) بھیج دو اور تابوت سے اس کو آگے رکھنا ‘ کیونکہ اس زمانہ میں یہی حکم تھا کہ جس شخص کو تابوت سے آگے بڑھا دیا جاتا اس کیلئے سوائے اس کے اور کوئی صورت جائز نہیں تھی کہ یا تو وہ فتح یاب ہو کر لوٹے یا شہید ہوجائے۔ ایوب نے اور یا کو آگے بھیج دیا ‘ لیکن وہ فتحیاب ہوگیا۔ ایوب نے حضرت داؤد کو اس کی اطلاع دے دی۔ حضرت داؤد نے ایوب کو دوسری تحریر بھیجی کہ فلاں فلاں دشمن کے مقابلہ پر اور یا کو بھیج دو ۔ ایوب نے حکم کی تعمیل کی ‘ لیکن اور یا پھر بھی فتحیاب ہوگیا۔ ایوب نے حضرت داؤد کو واقعہ لکھ دیا۔ حضرت داؤد نے تیسری بار لکھا کہ فلاں دشمن جو بڑا قوی اور جنگجو ہے ‘ اور یا کو اس کے مقابلہ پر بھیجو۔ اس مرتبہ اور یا شہید ہوگیا اور عدت گذرنے کے بعد حضرت داؤد نے اس کی بیوہ سے نکاح کرلیا ‘ یہی بی بی حضرت سلیمان کی ماں ہوئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : حضرت داؤد کا گناہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایک شخص سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے درخواست کی (تاکہ اس کی بیوی سے خود نکاح کرلیں) اہل تفسیر نے لکھا ہے : بنی اسرائیل کیلئے یہ بات گو جائز تھی ‘ لیکن اللہ کو یہ عمل پسند نہیں آیا ‘ کیونکہ اس عمل سے دنیا کی رغبت اور عورتوں سے زیادتی کی خواہش مترشح ہوتی ہے (جو پیغمبر کیلئے زیبا نہیں) اللہ نے تو حضرت داؤدکو اور عورتیں عطا فرما دی تھیں ‘ اس ایک عورت کی (مزید) ضرورت ہی نہیں تھی۔
بغوی نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کردیا تھا ‘ یہی قول عبد بن حمید کا بھی تھا۔ حسن کے بیان میں اتنا زیادہ ہے : ایک روز بنی اسرائیل کو وعظ کہنے کا آپ نے مقر کردیا تھا ‘ بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر آپ ذکر خدا کرتے ‘ خود بھی روتے اور ان کو بھی رلاتے تھے۔
ایک روز بنی اسرائیل نے کہا : کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کا کوئی دن ایسا بھی گذرتا ہے جس میں کوئی گناہ نہ کرتا ہو ؟ حضرت داؤد نے اپنے دل میں کہا : ہاں ‘ میں ایسا کرسکتا ہوں۔ بعض اہل روایت نے بیان کیا کہ ایک روز آپ کے سامنے عورتوں کا تذکرہ لوگوں نے کیا (کہ ان کے جال سے کوئی بچ نہیں سکتا) حضرت داؤد نے اپنے دل میں کہا : اگر میرا امتحان لیا گیا تو میں محفوظ رہوں گا۔ چناچہ جب آپ کی عبادت کا دن آیا تو آپ نے عبادت گاہ میں داخل ہو کر دروازے بند کرا دئیے اور حکم دے دیا کہ کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہ دی جائے ‘ پھر آپ توریت کی تلاوت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے ‘ اسی حالت میں ایک سونے کا بنا ہوا کبوتر آپ کے سامنے آگیا۔ اس سے آگے کا واقعہ سطور بالا میں ذکر کردیا گیا ہے۔
اور یا کے شہید ہوجانے کے بعد جب اس کی بیوہ سے آپ نے نکاح کرلیا تو کچھ ہی مدت گذری تھی کہ اللہ نے دو فرشتے دو آدمیوں کی شکل میں خاص عبادت کے دن بھیج دئیے اور انہوں نے عبادت خانے میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ پہرے داروں کے انکار پر دونوں شخص دیوار پھاند کر اندر حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نماز پڑھ رہے تھے ‘ آپ کو اس وقت علم ہوا جب وہ آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گئے۔ یہ دونوں فرشتے حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل تھے۔
Ayah 38:22اذ دخلوا علی داود ففزع منھم قالوا لا تخف خصمان بغی بعضنا علی بعض فاحکم بیننا
بالحق ولا تشطط واھدنا الی سوآء الصراط جب وہ داؤد کے پاس پہنچ گئے تو داؤد ان (کے اس طرح آنے) سے گھبرا گئے ‘ وہ کہنے لگے : آپ کچھ اندیشہ نہ کریں۔ ہم دونوں اہل مقدمہ ہیں (ایک مدعی ‘ دوسرا مدعیٰ علیہ) ایک نے دوسرے پر کچھ زیادتی کی ہے ‘ آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے (یعنی کسی کی رو رعایت نہ کیجئے) اور ہم کو (معاملہ کی) سیدھی راہ بتا دیجئے۔
فَفَزِعَ مِنْھُمْکسی شخض کے اندر آنے کی ممانعت تھی ‘ پہرے دار دروازوں پر موجود تھے جو کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ‘ پھر وہ دونوں شخص کیسے اندر آگئے ‘ اس سے حضرت داؤد کو اندیشہ ہوا۔
خَصْمَان یعنی ہم فریقین معاملہ ہیں۔
بَغٰی بعضنا علٰی بعض اس جملہ کی بناء فرض و تسلیم پر ہے اور تعریض مقصود ہے ‘ یعنی جب ہم دونوں مدعی ‘ مدعیٰ علیہ اور فریقین مقدمہ ہیں تو ضرور ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔
لاَ تُشْطِطْ یعنی حد عدل سے آپ نہ ہٹیں ‘ فیصلہ میں جور نہ کریں۔ شَطَّ شَطَطًا (مجرد ثلاثی) اور اَشَطَّ اِشْطَاطًا (ثلاثی مزید) دونوں ہم معنی آتے ہیں ‘ یعنی اس نے جور کیا ‘ حد عدل سے تجاوز کیا۔ شَطَطَ اور اِشْطَاط اصل میں مکان سے دور ہونے کو کہتے ہیں۔ شطّت الدّار اور اشططت الدّار کا معنی ہے : وہ مکان سے دور ہے۔
سواء الصراط ‘ سواء مصدر بمعنی مستوی ہے یعنی وسط راہ ‘ نہ ادھر ادھر۔ سواء کی اضافت صراط کی طرف ‘ اضافت صفت الی الموصوف ہے۔ صراط موصوف ہے اور سواء اس کی صفت ‘ جیسے اخلاق ثیاب (پرانے کپڑے) ۔
Ayah 38:23ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ فقال اکفلنیھا وعزنی فی الخطاب
(پھر ایک شخص بولا :) یہ میرا (دینی) بھائی ہے (ہم دونوں ایک ہی شریعت کو مانتے ہیں) اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک دنبی ہے۔ سوہ وہ کہتا ہے کہ وہ ایک بھی مجھے دے دے (میری دنبیوں کے ساتھ اس کو بھی ملا دے) اور بات چیت میں اس نے مجھ کو دبایا ہے۔ درپردہ نعجہ سے مراد اس کی عورت تھی۔ عرب لوگ بطور کنایہ نعجہ بول کر عورت مراد لیتے ہیں۔ حسن بن فضل نے کہا : یہ لفظ اس نے تنبیہ کرنے اور سمجھانے کیلئے کہا تھا ‘ واقع میں وہاں دنبیاں نہیں تھیں۔
اَکْفِلْنِیْھَا حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی وہ دنبی مجھے دے دے۔ مجاہد نے کہا : یعنی اس کو میرے لئے چھوڑ دے ‘ یعنی اس کو طلاق دے دے یا اس سے نکاح نہ کر۔ اس لفظ کا لغوی ترجمہ ہے : میری دنبیوں کے ساتھ اس کو بھی ملا دے۔ جیسے دوسری دنبیاں میری کفالت میں ہیں ‘ اسی طرح اس کو بھی میری کفالت میں دے دے۔ بعض اہل تفسیر نے ترجمہ کیا ہے : اس دنبی کو میرے حصے میں دے دے۔ کفل کا معنی ہے حصہ۔
عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِگفتگو میں یہ مجھ پر غالب آجاتا ہے (مجھے دباتا ہے) ضحاک نے کہا : مرادیہ ہے کہ یہ مجھ سے زیادہ زبان آور اور زور آور ہے ‘ بات چیت میں مجھے دبا لیتا ہے اور اگر میں اس سے لڑوں تو میری کمزوری کی وجہ سے یہ مجھ پر غالب آتا ہے ‘ لیکن میں حق پر ہوں ‘ حق میرا ہے۔
بعض علماء نے کہا : مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو پیام نکاح میں بھجوایا اور اس نے بھی میرے پیام پر پیام بھیج دیا ‘ پھر یہ مجھ پر غالب آیا اور اس نے اس عورت سے نکاح کرلیا۔