Ayah 38:11۔ دوسرے مقطعات کی طرح اس حرف ” ص “ کے اصل معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ البتہ امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں متعدد اقول نقل کردیئے ہیں۔ مثلا :۔
1۔ آ، مخفف ہے کسی اسم الہی کا، مثلا صمد یا صادق الوعد، یا صانع المصنوعات۔
2۔ ص، مخفف ہے اس فقرہ کا، کہ صد الکفار عن قبول ھذا الدین ،۔ اور محمد بن کعب القرظی سے روایت ہے ” ص “ اسم الصمد اور صادق الوعد کا سر ہے۔ (معالم)
2۔ مطلب یہ کہ قرآن کی اعلی تعلیمات خود اس کی صداقت پر گواہ ہیں، اور یہ کافر جو اس کے کلام الہی ہونے اور آپ کی حالت سے انکار کررہے ہیں۔ سو اس کی بنیاد کسی دلیل یا وجہ عقلی پر ہرگز نہیں۔ (آیت) ” ذی الذکر “۔ یعنی یہ وعظ ونصیحت والا قرآن، یا عزت و عظمت والا قرآن۔ والمراد بالذکر العظمۃ او الشرف والشھرۃ (بیضاوی) ذی الشرف اے ذی الشان والمکانۃ (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ و سعید بن جبیر وغیرہما)
Ayah 38:23۔ (اور اس تعصب وعناد کا وبال بھی ایک روز ان پر پڑے گا) یہاں یہ بتادیا کہ مخالفت حق کا سبب کوئی اشتباہ عقلی ہرگز نہی، محض ان لوگوں کی ضد، ہٹ دھرمی اور نخوت پسندی ہے۔ (آیت) ” عزۃ وشقاق “۔ دونوں کا تنوین نکرہ کے ساتھ آنا ان صفات کی شدت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی یہ لوگ پرلے سرے کی ہٹ دھرمی سے کام لے رہے ہیں۔ والتنکیر فی عزۃ وشقاق لدلالۃ علی شد تھا (کشاف)
Ayah 38:34۔ (چنانچہ ان کا شور وواویلا انہیں کچھ بھی نفع نہ دے سکا، اور یہی حشر ان کافروں کا بھی ہونا ہے) (آیت) ” لات “۔ لات لیس کی ایک غیر منصرف صورت ہے، تقدیر کلام خلیل وسیبویہ کے نزدیک یہ ہوگی، لیس الحین حین مناص (کبیر، بیضاوی) اور اخفش کے نزدیک یوں، ولا حین مناص (کبیر، بیضاوی) (آیت) ” مناص “۔ جائے خلاص یا جائے گریز۔
Ayah 38:45۔ (کوئی فوق البشر نہیں، بلکہ انہیں جیسا بشر و انسان) مشرکوں کی سمجھ میں یہی تو نہیں آتا کہ ایک بشر مرتبہ رسالت پر کیسے پہنچ سکتا ہے، دیوتا پرستی ان کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اوتار، مظہریت، عینیت، حلول کے عقیدے عین ان کے مذاق طبیعت کے موافق ہیں۔ بس ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات یہی مسئلہ سفارت الہی و رسالت ہے۔ بار بار اسی پر الجھتے تھے۔ ضمیر ھم جنس بشر کی جانب ہے۔ رسول من جنسھم اے بشرا (روح) یعنی استبعدوا ان یکون النبی من البشر (مدارک)
6۔” اس کے لائے ہوئے کلام میں اثر اور اس کے پیش کیے ہوئے معجزات تو نتیجہ ہیں، اس کے کمال ساحری کا اور اس کا دعوی نبوت و رسالت تمامتر بےبنیاد ہے “۔ جب نقطہ آغاز یہ ہوا کہ دعوائے نبوت صحیح ہو ہی نہیں سکتا، تو اب اس سے چارہ نہیں کہ مدعی نبوت کے وعظ وتبلیغ کے اثر کو سحر پر محمول کیا جائے، ساحر قرار دیتے ہوئے یہ احمق اتنا نہ سوچے کہ ساحر بھی کبھی دعوت توحید دیتا رہتا ہے ؟ تزکیہ اخلاق کی طرف بلاتا رہتا ہے ؟ عقائد صحیحہ و اعمال صالحہ کی تبلیغ کرتارہتا ہے ؟ بات کچھ نہ کچھ کہہ دینی ہی تھی، تو ایسی تو کہتے جو کچھ لگتی ہوئی ہوتی، یہ تشخیص تو سراسر الٹی اور بالکل ہی بےتکی تھی، امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ آیت میں کام محض قالوا سے بھی نکل سکتا تھا، لیکن بجائے اس کے (آیت) ” قال الکفرون “۔ کی صراحت میں اشارہ ان لوگوں کی کمال بدعقلی کی طرف کرنا ہے کہ ایسے مہمل ولا یعنی قول کا مصدر ومنشا کفر محض ہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 38:57۔ پیغمبر برحق کا اصلی جرم ان کج فہموں کے نزدیک یہی تلقین توحید تھی، وہ کہتے تھے عالم میں قد م قدم پر توتنوع، تعدد، اختلاف ہے، اس کثرت کا مصدر وحدت کو فرض ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ رات الگ ہے، دن الگ، آگ اور شے ہے پانی اور۔ زمین الگ مخلوق ہے آسمان الگ، انمیں سے ہر ایک کے کاروبار کے لیے ایک مستقل حاکم، متصرف فرماں روا کی ضرورت ہے، اور یہی دیوی دیوتا ہیں، سب کو مٹا کر صرف ایک مؤثر حقیقی وفاعل اصلی کو ماننے کے کوئی معنی ہی نہیں۔ (آیت) ” عجاب “ عجاب مرادف ہے عجیب کا، البتہ اس میں زور عجیب سے زیادہ ہے۔ ھو العجیب الا انہ ابلغ من العجیب (کبیر) اے بلیغ فی العجب (روح)
Ayah 38:68۔ یہ شخص بھی بہکا کر اپنا کوئی نہ کوئی کام ہم سے نکالنا چاہتا ہے۔ لوگ ہرگز اس کے کہے میں نہ آنا۔ اپنے دیوتاؤں کی نصرت میں لگے رہنا، قریش کے ائمہ وسردار کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ کی تقریر سننے کھڑے ہوجاتے تو اس کے بعد ذکر توحید کی تاب نہ لا کر اپنے پیرو وں سے یہ کہنے لگتے۔
Ayah 38:79۔ (آیت) ” ملۃ الاخرۃ “۔ سے مراد وہی ملت عرب ہے، یعنی ہم نے کبھی اپنے پیروں کے مذہب، اپنے باپ دادوں کے دین میں تو یہ عقیدہ پایا نہیں۔ دوسرے معنی ” آخری مذہب “ کے دین عیسوی کے بھی کیے گئے ہیں، یہ تفسیر بھی چسپاں ہوسکتی ہے، نصاری اپنے نقطہ نظر سے بالکل صحیح طور پر کہہ سکتے تھے، کہ یہ توحید خالص جس کی دعوت اسلام دے رہا ہے ہم نے تو کہیں آبائے کلیسا سے سنی نہیں تھی ؟
Ayah 38:810۔ یعنی بالفرض نبوت یا پیغمبری کی کچھ اصلیت ہوتی بھی، تو پیغمبری ہمارے ہاں کے رؤسا وامراء کے ہوتے ہوئے آخر یتیم ونادار شخص کو کیوں ملی ! اہل لطائف نے کہا ہے کہ منشاء اس قول کا کبر تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبرایسی بری چیز ہے جو کبھی کفر تک بھی پہنچا دیتی ہے۔
11۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ انکار کا باعث محمد ﷺ کی شخصی تکذیب نہیں، بلکہ یہ اصل مسئلہ وحی میں بھٹک رہے ہیں، اور خود اس کی بنیاد عذاب الہی سے غفلت پر ہے۔
Ayah 38:912۔ (اور نبوت بھی کیا ان کے قبضہ قدرت میں ہے، کہ جسے چاہیں اسے اس سے نواز دیں ؟ ) نبوت کی عظمت واہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ اسلامی عقیدہ میں اسی پر تکوینی حیثیت سے دارومدار نظام عالم کا ہے۔ چناچہ جس وقت کوئی مومن یعنی نبی پر ایمان رکھنے والاسطح زمین پر نہ رہے گا، اس کائنات کا نظم بھی ختم ہوجائے گا، اور قیامت آجائے گی۔
Ayah 38:1013۔ (اپنی قدرت تصرف دکھانے کو) (آیت) ” ام ..... بینھما “۔ سوال گویا دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ آیا انہیں ارضیات وسماویات کے مصالح کا علم ہے، جو یہ نبوت کی تقسیم کے بھی ذمہ دار بنتے ہیں۔
Ayah 38:1114۔ مراد وہی اہل مکہ ہیں۔ پر قوت اہل مکہ کی بربادی کی پیشگوئی قطعیت کے ساتھ کردینا بجائے خود ایک قرآنی معجزہ ہے۔ اس پیش خبری کا تحقق میدان بدر میں ہو کر رہا۔ قال قتادۃ ھنالک اشارۃ الی یوم البدر فاخبر اللہ تعالیٰ بمکۃ انہ سیھزم جند المشرکین فجاء تاویلھا یوم بدر (کبیر)
Ayahs 38:12–1415۔ متعین طور پر نام بھی قرآن نے پرانی پر قوت، پرشوکت قوموں کے بتا دیئے، کہ تکذیب انبیاء وتکذیب شریعت الہی ہی کی پاداش میں یہ لوگ ہلاک ہوتے تھے۔ وہی صورت آج کے منکرین کو بھی پیش آنی ہے۔ (آیت) ” نوح، عاد، فرعون، ثمود، لوط، اصحب الیکۃ “۔ ان سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ (آیت) ” اصحب الئیکۃ “۔ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت ہے۔ (آیت) ” ذوالاوتاد “۔ محاورہ میں اس سے مراد شوکت و حشمت والے سے ہوتی ہے۔ استعیر لثبات العز والملک واستقامۃ الامر (کشاف) اصل ھذہ الکلمۃ من ثبات البیت المطنب باوتادہ ثم استعیر لاثبات العز والملک (کبیر) پرانی قوموں میں تعذیب کی ایک صورت مجرم کو چومیخا کردینے (یعنی لٹا کر ہاتھ پیروں میں میخیں ٹھونک دینے) کی جاری تھی، اور روایات میں ملتا ہے کہ فرعون کے دور میں بھی یہ سزا جاری تھی۔
Ayahs 38:15–1616۔ منکرین بطور استہزاء کہتے تھے کہ جو کچھ عذاب ہم پر ہونا ہے وہ ابھی لے آؤ کل پر کیوں اٹھا رکھا ہے ! اعلم ان الکفار لما بالغوا فی السفاھۃ علی رسول اللہ ﷺ حیث قالوا انہ ساحر کذاب وقالوا لہ علی سبیل لاستھزاء عجل لنا قطنا امرہ اللہ بالصبر علی سفاھتھم (کبیر)
Ayah 38:1717۔ (اور ان کی مثال ونظیر سے صبر میں تقویت حاصل کیجئے) اس کے بعد آپ کی تقویت قلب کے لیے نو پیغمبروں کی مثالیں درج ہو رہی ہیں، ان میں سے تین کے قصے مفصل بیان ہوں گے اور چھ کا ذکر صرف اجمالا آئے گا۔ (آیت) ” ذالاید “۔ یعنی بڑی قوت والے، ہمت والے، دین وتقوی کی راہ میں بڑے بڑے مجاہدے کر ڈالنے والے، اے ذالقوۃ فی الدین المضطلع بمشاقہ وتکالیفہ (کشاف) اے ذالقوۃ علی اداء الطاعۃ والاحتراز عن المعاصی (کبیر) (آیت) ” اواب “۔ اللہ کی طرف بڑے رجوع کرنے والے۔ اواب رجاع الی مرضاۃ اللہ (کشاف) حضرت داؤد، نبی وسلطان کی قوت و حشمت ونیز زہد وتقوی پر ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” عبدنا “۔ لفظ عبد کو ضمیر متکلم کی طرف مضاف کرکے قرآن مجید نے اس سے کام اظہار تخصیص وتشریف ہی کا لیا ہے۔
Ayahs 38:18–1918۔ (آیت) ” سخرنا الجبال ...... والطیر “۔ تسبیح جبال وطیور پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ (آیت) ” محشورۃ “۔ یعنی ہر طرف سے آپ کے گرد جمع ہوجانے والے۔ اے محشورۃ الیہ من کل جانب (بیضاوی) (آیت) ” لہ اواب “۔ یعنی ان کی تسبیح کے باعث یہ بھی اواب ہوگئے تھے۔ اے کل واحد من الجبال والطیر لاجل تسبیحہ رجاع الی التسیبح (بیضاوی) (آیت) ” بالعشی والاشراق “۔ صبح وشام، کہ یہی ذکر و عبادت کے اوقات خصوصی ہوتے ہیں۔
Ayah 38:2019۔” فلسطین کی سب سے بڑی حکومت وہی تھی جو داود (علیہ السلام) کے عہد میں قائم ہوئی تھی “۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 7 صفحہ 78) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” الحکمۃ وفصل الخطاب “۔ اس کے معنی علم قضا کے بھی کیے گئے ہیں، اور فریقین کے درمیان فیصلہ صحیح کے بھی۔ الفصل بین الخصوم بالحق (جصاص) العلم بالقضاء (جصاص۔ عن الحسن)
Ayahs 38:21–2220۔ (کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بجائے دروازہ سے آنے کے عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آگئے ہیں، دروازہ سے پہرہ داروں نے انہیں غالبا اس لیے آنے نہیں دیا تھا کہ وہ وقت آپ کی عبادت کا تھا، مقدمات فیصل کرنے کا نہ تھا۔ (آیت) ” ففزع منھم “۔ یعنی اس مجمع کے یوں بےاجازت اور ناوقت آنے سے آپ کو قدرۃ ہر اس پیدا ہوا کہ کہیں یہ کوئی خونی اور ڈاکو تو نہیں، طبعی جذبات و کیفیات (غصہ، غم، خوف، اندیشہ وغیرہ) کے طاری ہونے کو جو لوگ مرتبہ ولایت کے منافی سمجھتے ہیں، وہ حضرات انبیاء کے ان تاثرات طبعی کی مثالوں کو سامنے رکھ لیں۔ قرآن مجید نے یہ ساری تفصیلات بلاضرورت اور بےمصلحت تھوڑے ہی بیان کردی ہیں۔ (آیت) ” الخصم “۔ خصم کا اطلاق شخص واحد اور جماعت دونوں پر ہوتا ہے۔ الخصم اسم یقع علی الواحد وعلی الجماعۃ (جصاص) اطلق علی الجماعۃ (بیضاوی) واستعمل للواحد والجمع (راغب) (آیت) ” المحراب “۔ محراب یہاں حجرہ کے معنی میں ہے۔ قیل المحراب الغرفۃ (جصاص)
21۔ (ہمارے اس طرح بےقاعدہ اور بےوقت چلے آنے سے۔ ہم دشمن نہیں دوست، خیرخواہ ہیں، آپ کی رعایا ہیں، ایک مقدمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں)
22۔ (صورت معاملہ سے متعلق) حضرت داؤد (علیہ السلام) نبی تو تھے ہی۔ بحیثیت حاکم وفرمانروابھی اپنے عادلانہ اور جنچے فیصلوں کے لیے خاص شہرت و امتیاز رکھتے تھے۔ (آیت) ” خصمن “۔ کے صیغہ تثنیہ سے یہ خیال نہ گزرے کہ یہ دو فرد تھے یہ دو فریق تھے، اور آج بھی مستغیث اور ملزم دونوں کا یہ عام معمول ہے کہ اپنے ساتھ کئی کئی ہمدردوں کو لے کر عدالت جایا کرتے ہیں، تسوروا، دخلوا منھم سب کے صیغہ جمع سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ دو نہیں کئی آدمی تھے۔ اے نحن فوجان متخا صمان (بیضاوی)
Ayah 38:2323۔ (اور اپنے آگے میری بات نہیں چلنے دیتا) (آیت) ” اخی “۔ اخ سے لازمی طور پر بھائی ہی مراد نہیں ہوتا، دوست یا دینی بھائی بھی مراد ہوسکتا ہے۔ بالدین او بالصحبۃ (بیضاوی) والمراد اخوۃ الدین اواخوۃ الصداقۃ والالفۃ اواخوۃ الشرکۃ والخلطۃ (مدارک) (آیت) ” فاحکم ...... لاتشطط “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ فریق مقدمہ کے لیے جائز ہے کہ حاکم سے اس لہجہ میں خطاب کرے۔ یدل علی ان اللخصم ان یخاطب الحاکم بمثلہ (جصاص) (آیت) ” لہ ..... اکفلنیھا “۔ عہد داؤدی میں فلسطین میں بھیڑوں، دنبوں کی گلہ بانی کا عام رواج تھا۔
Ayah 38:2424۔ حضرات انبیاء کوئی ضمنی اور اتفاقی موقع بھی تبلیغ کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یوسف (علیہ السلام) نے جیل خانہ میں ایک قیدی کے تعبیر خواب پوچھ لینے پر ان لوگوں کے سامنے ایک مستقل وعظ رد شرک واقرار توحید میں فرماڈالا تھا۔ (آیت) ” ان ..... بعض “۔ یہ سارا فقرہ مسلک شرک پر ایک تعریض ہے۔ (آیت) ” وقلیل ماھم “۔ مازائدہ ان کی قلت پر اظہار تعجب کے لیے ہے۔ وما مزیدۃ للابھام والتعجب من قلتھم (بیضاوی)
25۔ (اپنے پروردگار کی طرف خاص طور سے) (آیت) ” وظن داؤد “۔ آپ کی اپنے نفس سے یہ بدظنی غایت خشیت وتقوی کی بنا پر تھی۔ ظن کا لفظ خاص طور پر نظر میں رہے۔ قرآن مجید خود کسی واقعہ کا اثبات نہیں کرتا صرف آپ کے اس خیال کو بیان کررہا ہے۔ (آیت) ” انما فتنہ “۔ یعنی یہ مقدمہ بھیج کر خود ان کے صبر و تحمل کا امتحان لیاہو۔ ان مقدمہ والوں کے یوں بےمحابا چلے آنے، پھر اپنی گفتگو میں آپ کا مرتبہ سلطانی ملحوظ نہ رکھنے سے متعدد پہلو آپ کے لیے ناگواری اور اشتعال طبع کے نکلتے تھے، امتحان اس کا مقصود تھا کہ آیا آپ ان گستاخیوں پر داروگیر کرتے ہیں، یا غلبہ نور نبوت سے عفودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ (آیت) ” فاستغفر “۔ یہ استغفار ہر اس لغزش یا کوتاہی سے تھا، جو نبی معصوم سے ہوگئی ہو۔ (آیت) ” خرراکعا “۔ رکوع کو یہاں سجدہ کے معنی میں بھی سمجھا گیا ہے۔ روی ان معناہ خرساجدا فعبر بالرکوع عن السجود (جصاص) لاخلاف بین العلماء ان الرکوع ھاھنا السجود (ابن العربی)
Ayah 38:2526۔ (ان کے مرتبہ نبوت کے شایان شان) موجودہ بائبل میں حضرات انبیاء کی عجیب مٹی پلید کی گئی ہے اور اس میں کچھ کو رکسر رہ گئی تھی وہ تالمود وغیرہ یہود کے دوسرے مذہبی نوشتوں نے پوری کردی، قرآن مجید انبیاء (خصوصا انبیاء اسرائیل) کی مقبولیت وصالحیت کا پرزور اثبات بار بار انہیں اتہامات کی تردید کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” فغفرنالہ “۔ یعنی ہم نے ان سے اس کمی کا بھی ازالہ کردیا، جو ان کے مرتبہ ومعیار کے مطابق ان کے اجر کمال صبر پر مرتب ہوتا۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ خفیف سی غفلت اور ان کے مرتبہ نبوت کے لحاظ سے لغزش۔ اے زلۃ (مدارک) یہاں بعض لوگوں نے ایک بےسروپارروایت اسرائیلیات سے لے کر نقل کردی ہے۔ لیکن محققین کا فیصلہ یہی ہے کہ ایسی روایت کسی عام مرد صالح کے حق میں بھی قابل قبول نہیں، چہ جائیکہ ایک نبی برحق کے حق میں۔
Ayah 38:2627۔ (اور چونکہ آپ یوم حساب کو خوب یاد رکھے ہوئے ہیں، اس لیے آپ کے لئے ان وعیدوں کا احتمال ہی نہیں۔ (آیت) ” خلیفۃ “۔ اور ملک کے درمیان محققین نے یہی فرق کیا ہے کہ خلیفہ ہمیشہ عدل اور شفقت خلق ہی کو اپنا شعار بنائے رکھتا ہے، اور یہ جو بعض بدمذہبوں سے منقول ہے کہ خلیفہ وقت کا کوئی گناہ ہی نہیں لکھا جاتا، اور تکلیف شرعی اس سے ساقط ہوجاتی ہے، اسے محققین اہل سنت نے کفر صریح قرار دیا ہے۔ ویح کی عن بعض الزنادقۃ ان الخلیفۃ لایکتب علیہ خطیءۃ ولا ھو داخل فی رتبۃ التکلیف لان مرتبتہ مرتبۃ مستخلفۃ وھو کفر صراح (روح)
Ayah 38:2728۔ یہاں مومن و کافر کے اساسی نقطہ نظر کا فرق بیان کردیا ہے۔ مومن کی نظر میں تکوینی مصلحتوں اور حکمتوں کا جلوہ حوادث کائنات کے ایک ایک جزئیہ سے نمایاں رہتا ہے، بخلاف اس کے جس کا ایمان توحید پر نہیں، وہ اس سارے کارخانہ کو بس مادی ہی قوانین کا محکوم وتابع سمجھتا ہے، اور اس کی نظر سے مقصدی حکمتیں بالکل گم ہوتی ہیں۔ اور جو فلاسفہ مادیئین کہلاتے ہیں، ان کا تو کھلا ہوا یہی مسلک ہے۔ (آیت) ” من النار “۔ میں یہاں بیانیہ یا تشریحی ہے۔ اس لیے ترجمہ یعنی سے کیا گیا ہے۔ (آیت) ” وما خلقنا ..... بینھما “۔ متکلمین اہل سنت نے آیت کے اس جزو سے متعزلہ کے مقابلہ میں استدلال کیا ہے کہ حق تعالیٰ ہی بندوں کے افعال کا بھی خالق ہے۔ واحتج اصحابنا بان ھذہ الایۃ تدل علی کونہ تعالیٰ خالقا لاعمال العباد فقالوا ھذہ الایۃ تدل علی کونہ خالقا لکل ما بین السموت والارض و اعمال العباد حاصلۃ بین السمآء والارض فوجب ان یکون اللہ تعالیٰ خالقالھا (کبیر) (آیت) ” باطلا “۔ یعنی بےمقصد، بلاحکمت، یوں ہی بلاکسی غرض صحیح کے۔
Ayah 38:2829۔ مطلب یہ ہوا کہ وقوع قیامت کی تو خود ایک بڑی حکمت وغایت یہی ہے کہ جزاوسزا کامل ہو، اور مفسدوں، بدکاروں، منکروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اب جو نادان وقوع قیامت کے منکر ہیں، وہ اس حکمت کو بھی ناقابل اعتناء سمجھ رہے ہیں۔ (آیت) ” کالمفسدین فی الارض “۔ یہ مفسدین فی الارض وہی لوگ ہیں، جو قانون شریعت سے بغاوت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، اور جس کا ایک لازمی نتیجہ فساد فی الارض ہے۔
Ayah 38:2930۔ (اور استذکر یا نصیحت حاصل کرنے میں اعتقاد رسالت اور سب کچھ آگیا) (آیت) ” لیدبروا ایتہ “۔ یعنی اس کی آیتوں میں غور کرکے یہ دیکھیں کہ اس کا قانون کیسا جامع اور کامل ہے۔
Ayah 38:3031۔ (اللہ کی طرف، اور اس کے بڑے سچے پرستار اور موحد تھے، نہ کہ معاذ اللہ مشرک، جیسا کہ بائبل اور دوسرے اسرائیلی نوشتوں میں آپ کو ظاہر کیا گیا ہے) حضرت سلیمان (علیہ السلام) (990 ق ، م تا 930 ق، م) حضرت داؤد کے فرزند و جانشین، علاوہ پیغمبر برحق ہونے کے شام و فلسطین کے عظیم الشان بادشاہ بھی تھے۔ آپ پر مفصل حاشیہ سورة البقر (پ 1) آیت وما کفر سلیمن کے تحت میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” نعم العبد “ یہ وصف حضرت داؤد (علیہ السلام) کا بھی ہوسکتا ہے، لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ یہ وصف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ارشاد ہوا ہے۔ المخصوص بالمدح فی نعم العبد محذوف فقیل ھو سلیمان وقیل داؤد والاول اولی (کبیر)
Ayah 38:3132۔ (اور ان کے ملاحظہ کرنے میں اتنی دیر لگ گئی کہ کچھ معمولات عبادت چھوٹ گئے) (آیت) ” الصفنت الجیاد “ یہ گھوڑے بھی غزوہ جہاد کے عین دینی اغراض ہی کے لیے رکھے جاتے تھے، آپ کے بارہ ہزار سواروں اور آپ کے گھوڑوں کے لیے 40 ہزار تھانوں کا ذکر توریت میں بھی آتا ہے۔” اور سلیمان کی گاڑیوں کے گھوڑوں کے لیے چالیس ہزار تھان تھے اور بارہ ہزار سوار تھے۔ “ (1۔ سلاطین۔ 4: 26)
Ayah 38:3233۔ (پھر جب آپ کو خود ہی تنبہ ہوا تو آپ اپنے اوپر نفریں وملامت کے لیے یہ کلمات زبان پر لانے لگے) کاملین اہل اللہ یوں ہی اپنی خفیف غفلتوں کے تدارک میں اہتمام عظیم کیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” تو ارت “۔ تقدیر کلام یوں ہے، تو ارت الشمس (کشاف، مدارک) والاکثر فی التفسیر ان التی تو ارت بالحجا بھی الشمس (قرطبی)
Ayah 38:3334۔ یعنی غیرت دینی کے جوش میں ان گھوڑوں ہی کو ذبح کرڈالا، کہ جو چیز کچھ دیر کے لیے بھی یاد الہی سے غفلت کا باعث ہوئی وہ اس قابل نہیں کہ باقی رکھی جائے۔ (آیت) ” ردوھا “۔ ضمیر مؤنث گھوڑوں کی جانب ہے۔ والھاء فی ردوھاللخیل (قرطبی) بعض نے یہ معنی بھی لیے ہیں کہ آپ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے لگے، جب جہاد محبوب ومقصود تھا تو جو چیزیں آلات واسباب کا کام دے رہی تھیں قدرۃ وہ بھی آپ کے التفات کی پوری مستحق تھیں۔ (آیت) ” فطفق ..... الاعناق “۔ مراد ان گھوڑوں کے ذبح کر ڈالنے سے ہے قال الاکثرون معناہ انہ مسح السیف بسوقھا واعنا قھا اے قطعھا (کبیر) بعض مشائخ اور صوفیہ نے جامہ دری وغیرہ کی سند اسی فعل سلیمانی سے نکالی ہے۔ وقد استدل الشبلی وغیرہ من الصوفیۃ فی تقطیع ثیابھم وتخریقھا بفعل سلیمان ھذا (قرطبی)
Ayah 38:3435۔ ہمارے بعض مفسرین نے (اللہ ان کی اجتہادی غلطیوں کو معاف فرمائے) اس مقام پر بعض عجیب عجیب قصے یہود کی کتابوں سے نقل کردیئے ہیں، جو کسی طرح بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے پیغمبر برحق کے شایان شان نہیں، لیکن محققین نے ان کے قبول کرنے سے قطعی انکار کردیا ہے۔ چناچہ امام المفسرین امام رازی (رح) لکھتے ہیں۔
اقول انا شدید التعجب من الناس کیف قبلوا ھذہ الوجوہ السخیفۃ مع ان العقل والنقل یردھا ولیس فی اثباتھا شبھۃ فضلا عن حجۃ (کبیر)
مجھے بڑی حیرت ان لوگوں پر ہے کہ انہوں نے ایسی رکیک حکایات کو قبول ہی کیسے کرلیا، جبکہ عقل ونقل دونوں ان کی تردید کررہے ہیں، اور ان کی تائید میں کوئی دلیل تو کیا ہوتی، احتمالات تک بھی نہیں۔
اور مفسر ابوحیان نے لکھا ہے۔
نقل المفسرون فی ھذہ الفتنۃ والقاء الجسد اقوالا یجب براءۃ الانبیاء منھا یوقف علیھا فی کتبھم وھی منھا لایحل نقلھا وھی اما من اوضاع الیھود اوالزنادقۃ (بحر)
مفسرین نے اس فتنہ اور القاء جسد کے سلسلہ میں ایسی باتیں نقل کردی ہیں، جن سے حضرات انبیاء کی تبری کرنا واجب ہے ان روایتوں کو ان کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے، یہاں نقل کرنا بھی جائز نہیں وہ یا تو یہود کی گڑھی ہوئی ہیں یا ملحدین کی۔ اور اس کی تائید صاحب روح المعانی نے بھی کی ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے محل میں 70 کی تعداد میں حرم تھے۔ اولاد کی خواہش خصوصا غزوہ جہاد کے اغراض سے دل میں پیدا ہونی قدرتی تھی، ایک روز آپ کے دل میں آیا کہ ایک شب میں اگر کل حرم حمل سے رہ جائیں، تو سوکڑیل جوان غزوہ جہاد کے لیے ہاتھ آسکتے ہیں۔.... یہ روایت جس صورت میں کہ بیان ہورہی ہے عقلا ذرا مستعبد ہے۔ لیکن اس پر کلی یا جزئی عمل ناممکن نہیں، بہرحال حسب روایت آپ نے ارادہ پر عمل بھی فرمایا لیکن نتیجہ حسب مرادنہ نکلا، صرف ایک خاتون کے حمل رہا اور ان سے بھی اولاد ناقص الخلقت پیدا ہوئی۔ جس کا جسم لاکر کرسی پر ڈال دیا گیا۔ (آیت) ” ثم اناب “۔ آپ کو اپنی اس غفلت پر، کہ حق تعالیٰ پر بھروسہ کے بجائے اپنی تدبیر پر اعتماد کیا، معا تنبہ ہوا، اور آپ نے فورا توبہ و استغفار کیا۔ یہ لغزش کوئی معصیت کے درجہ کی چیزہرگز نہ تھی، جیسا کہ ظاہر ہے۔ لیکن آپ کے مرتبہ نبوت سے اتنی غفلت بھی فروترتھی۔ بعض قصے اس سلسلہ میں سرتاسر مہمل، ہماری کتابوں میں بھی نقل ہوگئے ہیں، محققین انکے یکسر منکر ہیں۔ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے۔ واعلم ان اھل التحقیق استبعدواھذا الکلام من وجوہ محققین نے اس کلام کو دلائل کے ساتھ رد کردیا ہے۔ اور ابن کثیر نے لکھا ہے :۔ وکلھا متلقاۃ من قصص اھل الکتاب۔ یہ روایت ساری کی ساری اہل کتاب کے ہاں سے آئی ہے۔ اور یہ اہل کتاب وہی ہیں۔ وفیھم طائفۃ لایعتقدون نبوۃ سلیمان (علیہ السلام) والظاھر انھم یکذبون علیہ۔ جن کا ایک گروہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نبوت ہی کا منکر ہے۔ اور یہ کھلی بات ہے کہ ان لوگوں نے آپ کے خلاف یہ گڑھ لیا ہے۔
Ayah 38:3536۔ حضرت کو احساس اس کا ہوا ہے کہ یہ جو یاد الہی میں غفلت کسی درجہ میں بھی واقع ہوئی، اس کا منشاء سامان جہاد وغیرہ میں انہماک تھا اور خود کثرت اولاد کی تمنا جو آپ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، اس کا منشاء بھی یہی خیال جہاد تھا۔ لیکن اگر کسی معاصر کے پاس زیادہ قوت واقتدار ہی نہ ہو، تو اس سے مقابلہ ومقاتلہ کے لئے بھی زیادہ سازوسامان کی ضرورت ہی باقی نہ رہے اور یہ سازوسامان خود میری نبوت پر ایک مستقل دلیل بن جائے۔ لیصیر اقتداری علیھا معجزہ تدل علی صحۃ نبوتی ورسالتی (کبیر) (آیت) ” من بعدی “۔ بعد ہمیشہ تاخر زمانی ہی کے لئے نہیں آتا ہے، علاوہ اور سوا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خود قرآن مجید ہی میں ہے۔ فمن یھدیہ من بعد اللہ۔ یہاں بعد صاف غیر کے معنی میں ہے۔ چناچہ یہاں بھی من بعد، من غیرہ کے مرادف ہے۔ اے سوائی (جلالین) اے لایصح لا حد غیری (روح) اے دونی (مدارک) (آیت) ” رب اغفرلی “۔ یہ عین سنت انبیاء ہے کہ رب العزت کے حضور میں کوئی حاجت عرض کرنے سے قبل استغفار بھی کرلیتے ہیں۔ دلت ھذہ الایۃ علی انہ یجب تقدیم مھم الدین علی مھم الدنیا لان سلیمان طلب المغفرۃ اولا ثم بعدہ طلب الملک (کبیر)
Ayahs 38:36–3837۔ (کسی جرم کی بنا پر) مطلب یہ ہوا کہ ہم نے یہ سامان کثیر انہیں دے کر معاصر سلاطین کو ان سے پست ومغلوب کردیا۔ (آیت) ” فسخرنا ..... اصاب “۔ آپ کی تسخیر ہوائی پر حاشیے اوپر گزر چکے۔ (آیت) ” والشیطین “۔ آپ کی تسخیر جنات خبیث کا ذکر سورة الانبیاء (پ 17) کے حاشیوں میں آچکا۔ (آیت) ” بنآء ..... الاصفاد “۔ بعض جنات تعمیرات کے ماہرین میں تھے اور بعض غواصی کرکے موتی وغیرہ نکال لاتے تھے۔ اور انہیں میں سے جو مجرم ہوتے تھے، وہ بطور سزازنجیروں میں جکڑدیئے جاتے تھے۔
Ayah 38:3938۔ یعنی تم اس سارے سازوسامان، مال وجاہ کے محض خازن یا امین نہیں ہو۔ مالک ہو اور ہر طرح تصرف کے مجاز ومختار، تم سے حساب کتاب نہ دینے پر ہوگا اور نہ نہ دینے پر۔ اے لاحساب علیک فی ذلک (مدارک) اے مھما فعلت فھو جائز لک احکم بما شئت فھو صواب (ابن کثیر) آیت سے یہ ظاہر ہوگیا کہ شریعت اسلامی میں بادشاہ ہمیشہ اور لازمی طور پر خزائن ملک کا محض امین ومتولی ہی نہیں ہوتا مالک ومختار مطلق بھی ہوسکتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سالک کا بڑا سرمایہ جمیعت قلب ہے۔ اسی لیے محققین صوفیہ کو اس کا بڑا اہتمام رہتا ہے۔
Ayah 38:4039۔ اوپر سازوسامان دنیوی کا بیان تھا، اب مقبولیت عند اللہ واجر اخروی کا بیان ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مقبولیت وبرگزیدگی کی یہ تصریحات بار بار اس لیے اور بھی آئی ہیں کہ یہود ونصاری نے اپنے نوشتوں میں آپ کو دل کھول کر بدنام کیا ہے، اور ہر طرح کی بدعقیدگی برگشتگی وغیرہ کے الزامات آپ پر تھوپ دیئے ہیں۔