Ayahs 38:1–31:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا ” آ “ کے بارے میں تو ان دونوں نے فرمایا ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ” ص ٓ“ سے مراد ہے کہ قرآن سے ہم کلام ہونا :۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” ص ٓ والقران “ یعنی صاد کی دال کے نیچے کندہ پڑھتے تھے اور اس کو مصدر مصاواۃ سے مشتق مانتے تھے اور فرماتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ یک سو ہوجا۔ عبد الوہاب نے کہا کہ اس کو اپنے عمل پر پیش کر پھر تو دیکھ کہ قرآن سے تیرا عمل کتنا مقابل ہے۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ“ سے مراد ہے بلاشبہ میں اللہ ہوں سچ کہنے والا۔
5:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ“ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔
6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ“ سے مراد ہے محمد ﷺ ۔
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ والقران ذی الذکر “ (قسم ہے قرآن کی جو نصیحتوں سے پر ہے) یعنی یہ قرآن ان کی مجلسوں میں نازل ہوا۔
8:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ والقران ذی الذکر “ سے مراد ہے کہ یہ قرآن شرف والا ہے۔
9:۔ عبد بن حمید وابن وابن الانباری نے المصاحف میں قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” بل الذین کفروا فی عزۃ (بلکہ یہ کافر تعصب میں پڑے ہوئے ہیں) یعنی یہ جواب قسم ہے (آیت ) ” فی عزۃ شقاق “ ‘ یعنی حمیت اور فراق میں پڑے ہوئے ہیں۔
10:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق “ یعنی غلبہ کے حاصل کرنے میں مقابلہ کرنے والے (آیت ) ” وشقاق “ اور گناہ کرنے والے (آیت ) ” فنادوا ولات حین مناص “ (انہوں نے بڑے ہائے پکار کی اور وقت ربائی کا نہ تھا) یعنی یہ وقت بھاگنے کا نہ تھا۔
11:۔ طیالسی (رح) وعبدالرزاق وفریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وحاکم (رح) (وصححہ) تمیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ وقت نہ جھوٹ کا اور نہ بھاگنے کا۔
عذاب کے وقت راہ فرار نہ ہوگا :
12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولات حین “ کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ وقت بھاگنے کا نہیں تھا، پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : ہاں : کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
تذکرت لیلی لات حین تذکر وقد تبت عنھا والمناض بعید :
ترجمہ : لیلیٰ نے یاد کیا جبکہ وہ وقت یاد کرنے کا نہ تھا اور میں نے اس سے توبہ کی جبکہ فرار کا وقت بہت دور ہے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی انہوں نے پکارا اور پکارنا اس وقت ان کو نفع نہیں دیتا پھر سابقہ شعر پڑھا۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے ابی ظبیان کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی یہ بھاگنے کا وقت نہیں۔
15:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی بن الحکم کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی یہ مدد کا وقت نہیں۔
16:۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی یہ وقت گھبراہٹ کا نہیں۔
17:۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی یہ وقت ندا کا نہیں۔
18:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی انہوں نے توحید اور عذاب کو اس وقت پکارا جب دنیا ان سے گزر چکی تھی پھر انہوں نے توبہ کو پکارا جبکہ دنیا ان سے جا چکی تھی۔
19:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی قوم نے اس وقت پکارا جب پکارنے کا وقت نہیں تھا اور انہوں نے اس وقت توبہ کا ارادہ کیا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھ لیا۔ تو (ان کو توبہ نے) ان کو نفع نہ دیا اور نہ ہی ان کی توبہ قبول ہوئی۔
20:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی یہ وقت انقلاب کا نہیں ہے۔
21:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ سے مراد ہے جب سریانی لیس کہنے کا ارادہ کرے تو کہتا ہے : ولات۔
Ayahs 38:4–16:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ وہ سردار ہیں اور یہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم “ تلاوت فرمائی۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم “ (قریش کے سرداران ان میں سے یہ کہتے ہوئے چل دیئے فرمایا (یہ آیت) نازل ہوئی جب قریش کے سردار ابوطالب کی طرف چلے تاکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ان سے بات کریں۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم “ سے مراد ہے ابوجہل۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم ان امشوا واصبروا “۔ (کہ قریش کے سردارن ان میں سے یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ چلو اور اپنے معبودوں کی پوجا پر جمے رہو) اس سے عقبہ بن ابی معیط مراد ہے (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ (یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے مذہب میں نہیں سنی) یعنی نصرانیوں سے اور انہوں نے کہا اگر یہ قرآن حق ہوتا تو ہم کو نصرانی اس بارے میں ضرور بتاتے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب والوں سے (ہم نے نہیں سنا) ۔
7:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی نصاری والوں سے۔
8:۔ فریا بی (رح) عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی نصاری والوں سے۔
9:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی یہ بات نہ ہم نے اس دین میں اور نہ اس زمانے میں اس بارے میں سنا (آیت ) ” ان ھذا الا اختلاق “ (نہیں ہے مگر یہ من گھڑت ہے) اور انہوں نے کہا یہ ایسی چیز ہے جس کو وہ خود گھڑتے ہیں (آیت ) ” ام عندھم خزآئن رحمۃ رب العزیز الوھاب “ (کیا ان کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے، عطا کرنے والا ہے) فرمایا نہیں اللہ کی قسم ان کے پاس اس میں سے کچھ بھی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ خاص کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے (آیت ) ” ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب “ (کیا ان کو آسمانوں کا اور اس کا یا ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مکمل اختیار ہے تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں) یعنی آسمان میں (چڑھ جائیں)
10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلیرتقوا فی الاسباب “ یعنی وہ چڑھ جائیں آسمان میں۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاسباب “ سے مراد ہے بال سے زیادہ باریک اور لوہے سے زیادہ مضبوط اور وہ ہر جگہ ہے (لیکن) اسے دیکھا نہیں جاتا۔
12:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلیرتقوا فی الاسباب “ کہ آسمان کے راستوں سے اس کے دروازے مراد ہیں (آیت ) ” جند ماھنالک “ (وہ یہاں ایک لشکر ہے) یعنی قریش کا (آیت ) ” من الاحزاب “ میں احزاب سے مراد ہے سابقہ قومیں۔
مشرکین کا لشکر بدر میں شکت کھا گیا :
13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جند ما ھنالک مھزوم من الاحزاب “ (یعنی وہاں ان کے لشکر شکست پائیں گے) یعنی مکہ میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ مشرکین کے لشکر شکست کھائیں گے اس کی تاویل بدر کے دن آئی (آیت ) ” و فرعون ذوالاوتاد “ (اور فرعون میخوں والا) یعنی اس کی میخیں اور رسیاں تھیں اور کھیل والے ساتھ تھے کہ ان پر اس کے لئے کھیلتے (آیت ) ” ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب “ (یعنی ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا سو یرا عذاب ان پر واقع ہوگیا) یعنی ان سارے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر واقع ہوگیا۔ (آیت ) ” وما ینظر ھولآء “ (اور یہ لوگ منتظر ہیں) یعنی محمد ﷺ کی امت (انتظار میں ہے) (آیت ) ” الا صیحۃ واحدۃ “ (صرف ایک چیخ کے) یعنی قیامت کے (آیت) ” مالھا من فواق “ (جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی) یعنی اس کے لوٹنے اور پلٹنے کی کوئی صورت نہیں (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ (اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہمارا صحیفہ ہم کو جلد دنیا ہی میں دیجئے یعنی ہمارا حصہ عذاب میں سے (ہم کو جلدی دیجئے) (آیت ) ”’ قبل یوم الحساب “ یعنی قیامت کے دن (سے پہلے) یہ ابوجھل نے کہا تھا : اے اللہ ! جو محمد کہتے ہیں اگر وہ حق ہے (آیت ) ” فامطرعلینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم (32) (الانفال آیت 32) (توہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آئے ) ۔
14:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالھا من فواق “ کہ اس سے لوٹنا نہیں ہوگا (جب اللہ کا عذاب آئے گا) (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ یعنی ہمارے لئے عذاب کی جلدی کیجئے۔
15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالھا من فواق “ یعنی اس سے لوٹنا نہیں ہوگا (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کے لئے (عذاب میں) جلدی کی جائے۔
16:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا ” القط “ سے مراد ہے بدلہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : ہاں ! کیا تو نے اعشی کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا :
ولا الملک النعمان یوم لقیتہ بنعمۃ یعطینی القطوط ویطلق :
ترجمہ : اور جس دن میں بادشاہ نعمان سے ملاقات کرتا ہوں وہ نعمت کے بدلے میں حزائن نہیں دیتا اور نہ چھوڑتا ہے۔
17:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ سے مراد ہے ہماری سزا۔
18:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ ہمارا اعمال نامہ (ہم کو جلدی دیجئے )
19:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ سے مراد ہے ہمارا حصہ۔
20:۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ سے مراد ہے نفرین حرث بن علقمہ بن کا لۃ جو بنوعبد اللہ سے تعلق رکھتا تھا اس نے کہا (آیت ) ” سال سآئل بعذاب واقع “ (المعارج آیت 1) یعنی اس نے عذاب کا سوال کیا جو ان پر واقع ہونے والا تھا اور اس نے یہ بات بھی کی تھی (آیت ) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم (32) ۔ اے اللہ اگر یہ حق ہے تیری طرف سے ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمارے پاس درد ناک عذاب لے آ) عطا (رح) سے روایت کیا کہ اس بارے میں دس آیات نازل ہوئیں اللہ کی کتاب میں۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے الزبیر بن عدی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ یعنی جنت میں سے ہمارا حصہ (ہم کو جلد عطا فرمائیے )
Ayah 38:171:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” داؤد ذا الاید “ (اور داؤدجو طاقتور تھے) یعنی اللہ کی اطاعت کرنے والے عمل میں قوت والے تھے۔
2:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذالاید “ یعنی عبادت میں قوت والے تھے۔
3:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا داؤد ذالاید “ یعنی ان کو عبادت میں قوت دی گئی، اور سلام میں سمجھ بوجھ دی گئی۔
4:۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ذالاید “ سے مراد ہے عبادت کرنے میں قوت اور ہدایت میں بصیرت۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) سب سے زیادہ عبادت گذار تھے :
5:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔
6:۔ دیلمی (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کو یہ لائق نہیں کہ یوں کہے کہ میں داؤد (علیہ السلام) سے زیادہ عبادت کرنے والا ہوں۔
7:۔ احمد نے الزھد میں ثابت ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) رات کو لمبی نماز پڑھتے تھے۔ ایک رکوع کرتے پھر اپنا سر اٹھاتے تھے تو آسمان کی طرف دیکھتے تھے پھر فرماتے تھے میں نے تیری طرف اپنے سر کو اٹھایا ہے۔ اے آسمان کے آباد کرنے والے جس طرح غلام اپنے مالک کی طرف دیکھتے ہیں۔
8:۔ احمد نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کون سارزق زیادہ پاکیزہ ہے فرمایا اے داؤد ! تیرے ہاتھ کا پھل (یعنی تیرے ہاتھ کی کمائی)
9:۔ احمد نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کھجور کے پتے سے ٹوکری بناتے تھے اور وہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے پھر اس کو بازار کی طرف بھیجتے اس کو بیچ کر اس کی قیمت میں سے کھانا کھاتے تھے۔
10:۔ احمد نے سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو کہتے تھے اے اللہ آنکھیں سو گئیں ستارے دور چلے گئے اور تو حی وقیوم ہے۔ اور آپ کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” الاواب “ سے مراد ہے تسبیح بیان کرنے والا۔
12:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ سے مراد ہے تسبیح بیان کرنے والا۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے عمر و بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ حبشہ کی لغت میں تسبیح بیان کرنے والے کو کہتے ہیں۔
خلوت میں استغفار :
14:۔ دیلمی (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے۔
15:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انہ الاواب “ سے مراد ہے اللہ کی طرف رجوع کرنے والے (اور) گناہوں سے لوٹ جانے والا۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ توبہ کرنے والا گناہوں سے لوٹنے والا۔
17:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انہ الاواب “ کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کرنے والے تھے کثرت سے نماز پڑھنے والے تھے۔
18:۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ سے مراد ہے یقین کرنے والے۔
Ayah 38:181:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ یسبحن “ (ہم نے پہاڑوں کو حکم دے رکھا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں) یعنی جب داؤد (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے (آیت ) ” بالعشی والاشراق “ (صبح شام تسبیح بیان کریں) اس میں الاشراق سے مراد ہے جب سورج چمکتا ہے۔
2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” بالعشی الاشراق “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا جب سورج چمک جائے تو نماز واجب ہوجاتی ہے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
لم ینم لیلۃ التمام لکی یصیخ حتی اضاء ۃ الاشراق۔
ترجمہ : وہ ساری رات نہیں سویا تاکہ سورج کے روشن ہونے تک آواز دیتا رہے۔
3:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میرے دل میں چاشت کی نماز کے بارے میں کوئی چیز (مانع) رہی یہاں تک کہ میں نے یہ (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق “ پڑھی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ قرآن میں کہاں ہے یہاں تک کہ بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ کہ یہ ہے اشراق اس کے بعد ابن عباس ؓ نے اس کو پڑھا۔
5:۔ ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ پر ایسا زمانہ آیا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس آیت کا معنی کیا ہے ؟ یعنی یہ (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ پھر فرمایا میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔
6:۔ طبرانی (رح) فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں اس آیت کے پڑھنے کا حکم دیتا تھا یعنی یہ (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ اور میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے یہاں تک کہ مجھے ام ھانی بنت ابی طالب نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن چاشت کی نماز آٹھ رکعات پڑھی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے گمان کرلیا کہ اس وقت کی نماز اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ کے مطابق ہے۔
چاشت واشراق کی نماز :
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ میں ام ہانی ؓ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی، میں باہر نکلا اور میں ابن عباس ؓ سے ملا اور میں نے ام ھانی کے پاس چلنے کو کہا، ہم دونوں ان کے پاس آئے تو میں نے اپنے چچا کے بیٹے سے کہا کہ نبی ﷺ کی چاشت کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے ؟ انہوں نے وہ حدیث بیان کی تو ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت کا معنی صلاۃ الاشراق ہے اور یہی چاشت کی نماز ہے۔
8:۔ ابن مردویہ (رح) نے مجاہد کے طریق سے ام ھانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر غبار چڑھا ہوا تھا تو آپ نے ایک بڑے پیالے (میں پانی لانے کا) حکم فرمایا میں نے آٹے کے اثر کی طرف دیکھا تو میں نے اس (جگہ) میں پانی ڈالا۔ آپ نے ایسے کپڑے کا حکم فرمایا جو میرے اور آپ کے درمیان تھا اور اسے پردہ کیا گیا آپ کھڑے ہوئے اور اپنے اوپر پانی ڈالنے لگے، پھر آپ کھڑے ہوئے اور چاشت کی آٹھ رکعات پڑھی۔ مجاہد (رح) نے کہا میں یہ حدیث ابن عباس ؓ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ اشراق کی نماز ہے۔
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن حرث ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عثمان ؓ کی خلافت میں چاشت کی نماز کے بارے میں پوچھا جبکہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ میں نے کسی کو نہ پایا جو میرے لئے رسول اللہ ﷺ کی نماز کو ثابت کردے۔ مگر ام ہانی ؓ نے (ثابت کردیا) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ اس کو پڑھتے ہوئے دیکھا جو آٹھ رکعات تھیں یہ فتح مکہ کا دن تھا اور آپ صرف ایک چادر پہنے ہوئے تھے اس چادر کی دونوں جانب ایک دوسری سمت پر ڈالی ہوئی تھی، میں نے آپ کو اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو پڑھتا ہوا نہیں دیکھا۔ میں نے ابن عباس ؓ کو یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا میں اس آیت کے مصداق کے بارے میں شک میں تھا یعنی (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ اور میں کہتا تھا کہ اشراق کی نماز کون سی نماز ہے تو یہی وہ اشراق کی نماز ہے۔
10:۔ ابن جریر وحاکم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ ہم ان کو ام ہانی ؓ کے پاس لے گئے۔ ہم نے ان سے کہا کہ ابن عباس کو بتائیے۔ جو آپ نے ہم کو خبر دی تھی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر داخل ہوئے تو آپ نے آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی۔ ابن عباس باہر نکلے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پڑھ لیا جو ہو تختیوں کے درمیان ہے (یعنی میں نے مکمل قرآن مجید پڑھا) مجھے یہ پتہ نہ چل سکا کہ اشراق کی نماز کیا ہے مگر اب پتہ چلا کہ (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ (یہ اشراق کی نماز مراد ہے۔ )
11:۔ سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے قرآن میں چاشت کی نماز کو تلاش کیا تو میں نے اس کو (اس آیت میں پایا) (آیت ) ” بالعشی والاشراق “
12:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و طبرانی (رح) نے الاوسط میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چاشت کی نماز کی نہیں حفاظت کرتے مگر اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے اور یہ اوبین کی نماز ہے۔
13:۔ اصہبانی (رح) نے الترغیب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میرے خلیل (یعنی محمد ﷺ نے مجھے نصیحت فرمائی اور فرمایا : اے انس ! چاشت کی نماز پڑھ کیونکہ یہ اوابین کی نماز ہے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومسلم (رح) و طبرانی (رح) نے زید بن ارقم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قباء والوں کے پاس تشریف لائے اور وہ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، اور دوسرے لفظوں میں یوں ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کہ یہ اس وقت اوابین کی نماز ہے جب فصال (اونٹ کے بچوں کے پاؤں) گرم ہوجائیں۔
15:۔ بیہقی (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چاشت کی نماز کی کوئی حفاظت نہیں کرتا مگر اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔
چاشت کی نماز کی فضیلت :
16:۔ ترمذی (رح) وابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے بارہ رکعت چاشت کی نماز پڑھی تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ جنت میں سونے کا ایک محل بنادیں گے۔
17:۔ ابونعیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چاشت کی نماز پڑھ کیونکہ یہ اوابین کی نماز ہے۔
18:۔ حمید بن زنجویہ نے فضائل الاعمال میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے فجر کی نماز پڑھی پھر اپنی جگہ پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا پھر اس نے اشراق کی دو رکعت پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کردیتا ہے کہ وہ اس کو جھلسائے یا اس کو کھائے۔
19:۔ حمید بن زنجویہ و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے عتبہ بن عبداللہ اور امامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صبح کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھی پھر اس میں بیٹھا رہا یہاں تک کہ اشراق کی نماز پڑھ لی تو اس کا اجر حج اور عمرہ کرنے والے کے برابر ہوگا۔ اور اس کا حج اور عمرہ ہوگیا۔
20:۔ ابوداؤد و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھا رہا جب وہ نماز سے فارغ ہوا یہاں تک کہ اس نے چاشت کی دو رکعت پڑھیں اور اس نے خیر کے علاوہ کوئی بات نہیں کی تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اگر وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں گے۔
21:۔ طبرانی (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دو رکعت پڑھی تو وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے چار رکعت پڑھی تو وہ عابدین میں لکھا جائے گا اور جس نے چھ رکعات پڑھیں تو اس دن اس کی کفالت کی جائے گی اور جس نے آٹھ رکعت پڑھیں تو قانتین میں لکھا جائے گا اور جس نے بارہ رکعت پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیں گے۔
22:۔ حمید بن زنجویہ والبزار و بیہقی (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو نے چاشت کی دو رکعت پڑھیں تو تجھے غافلین میں نہ لکھا جائے گا اور اگر چار رکعت پڑھیں تو تو محسنین میں سے ہوگا اگر چھ رکعت پڑھیں تو قانتین میں لکھا جائے گا اور اگر آٹھ رکعت پڑھیں تو فائزین میں رکھا جائے گا اور اگر دس رکعت پڑھیں تو اس دن تیرا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا اور اگر بارہ رکعت پڑھیں تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے ایک گھر جنت میں بنادیں گے۔
23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و ترمذی (رح) واحمد (رح) وابن ماجہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے چاشت کی نماز کی حفاظت کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگر وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں گے۔
Ayahs 38:19–201:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والطیر محشورہ “ (اور پرندے جمع کئے ہوئے) یعنی آپ کے لئے مسخر کردیئے گئے (آیت ) ” کل لہ اواب “ (سب ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوئے تھے) اواب کا معنی ہے مطیع (آیت ) ” وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ “ (اور ہم نے ان کو سلطنت کی بڑی قوت دی تھی اور ہم نے ان کو حکمت دی تھی) حکمت کا معنی ہے سنت (آیت ) ” وفصل الخطاب “ (اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی) سے مراد ہے کہ گواہ طالب پر اور قسم مطلوب پر۔
2:۔ عبد بن حمید وحاکم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشددنا ملکہ “ (ہم نے اس کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی) یعنی وہ دنیا کے بادشاہوں میں سے اللہ تعالیٰ کے لئے دلیل کے اعتبار سے سب سے قوی تھے (آیت ) ” واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب “ یعنی جو بات بھی کی اس کو نافذ کردیا اور فیصلہ کرنے میں انصاف کیا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے داؤد (علیہ السلام) کے پاس دعوی کیا کہ فلاں نے اس کا لڑکا مار ڈالا اور انہوں نے اس آدمی سے سوال تو اس نے اس بات کا انکار کردیا پھر دوسرے سے گواہ طلب کئے۔ تو اس کے پاس کوئی گواہ نہ تھا ان دونوں سے داوؤ (علیہ السلام) نے فرمایا تم دونوں چلے جاؤ یہاں تک کہ میں تمہارے معاملے میں غور وفکر کروں وہ دونوں ان کے پاس سے اٹھ گئے، داؤد (علیہ السلام) کو خواب آیا اور ان سے کہا گیا اس آدمی کو قتل کردو جس نے مدد طلب کی ہے۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا یہ خواب ہے اور میں جلدی نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں اس معاملے کو پوری طرح جان لوں پھر دوسری رات بھی آپ کو خواب آیا تو ان سے کہا گیا اس آدمی کو قتل کردو تو انہوں نے ایسا نہ کیا پھر تیسری رات خواب آیا تو اس سے کہا گیا اس آدمی کو قتل کردو ورنہ اللہ کی جانب سے آپ کو سزادی جائے گی۔ داؤد (علیہ السلام) نے اس آدمی کی طرف پیغام بھیجا۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو قتل کردوں تو اس نے کہا مجھے آپ بغیر گواہ اور بغیر دلیل کے قتل کریں گے۔ ہاں ! اللہ کی قسم میں ضرور اللہ کا حکم نافذ کروں گا تیرے میں اس آدمی نے ان سے کہا مجھ پر جلدی نہ کیجئے۔ یہاں تک کہ میں آپ کو بتادوں میں نے اس گناہ کو نہیں کیا لیکن میں نے اس کے باپ کو دھوکہ دے کر اچانک قتل کردیا تھا۔ اس وجہ سے میں پکڑا گیا۔ داؤد (علیہ السلام) نے حکم فرمایا اور اس کو قتل کردیا گیا (اس واقعہ سے) بنی اسرائیل میں بہت خوف ہوا اور آپ کی حکومت بڑی مستحکم ہوگئی۔
4:۔ ابن جریر وحاکم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وشددنا ملکہ “ سے مراد ہے کہ ہر دن اور رات چار ہزار سپاہی آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ (آیت ) ” اتینہ الحکمۃ “ یعنی ہم نے اس کو نبوت دی۔ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ یعنی ان کو علم الفظاء عطا فرمایا۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتینہ الحکمۃ “ سے مراد ہے کہ ان کو فہم عطا کیا گیا۔
6:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتینہ الحکمۃ “ میں ” الحکمۃ “ سے مراد ہے درست (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے ایمان اور گواہ مراد ہیں۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے درست فیصلہ کرنے اور اس کی ہے۔
8:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے فیصلہ کرنے والا سلیقہ۔
9:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے فیصلہ کرنے میں سمجھدار ی۔
10:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) و بیہقی (رح) نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے گواہ اور ایمان۔
11:۔ بیہقی (رح) نے ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ اس سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اگر آپ ان سے میرے نام کے ساتھ قسم لیں اور ان سے گواہوں کا پوچھیں یہی (آیت ) ” وفصل الخطاب “ ہے۔
12:۔ ابن جریر (رح) وبہیقی (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے کہ دعوی کرنے والے پر گواہ ہیں اور جس پر دعوی کیا گیا اس پر قسم ہے۔
13:۔ ابن جریر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے آدمی کا امابعد کہنا۔
14:۔ ابن ابی حاتم اور دیلمی نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے داؤد (علیہ السلام) نے امابعد فرمایا اور یہی (آیت ) ” وفصل الخطاب “ ہے۔
15:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن سعد وعبد بن حمید وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے زیادہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہوئے کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ جو داؤد (علیہ السلام) کو دیا گیا وہ امابعد ہے۔