Ayah 38:1سورة صٓ 1
اگرچہ تمام حروف مقطعات کی طرح ص کے مفہوم کا تعین بھی مشکل ہے، لیکن ابن عباس اور ضحاک کا یہ قول بھی کچھ دل کو لگتا ہے کہ اس سے مراد ہے صادقٌ فی قولِہٖ ، یا صَدَق محمد یعنی محمد ﷺ صادق ہیں، جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں۔ صاد کے حروف کو ہم اردو میں بھی اسی سے ملتے جلتے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں میں اس پر صادر کرتا ہوں، یعنی اس کی تصدیق کرتا ہوں، یا اسے صحیح قرار دیتا ہوں۔
سورة صٓ 2
اصل الفاظ ہیں ذی الذکر۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک ذی شرف، یعنی قرآن بزرگ۔ دوسرے ذی التذکیر، یعنی نصیحت سے لبریز قرآن، یا بھولا ہوا سبق یاد دلانے والا اور غفلت سے چونکانے والا قرآن۔
Ayahs 38:2–3سورة صٓ 3
اگر ص کی وہ تاویل قبول کی جائے جو ابن عباس اور ضحاک نے بیان کی ہے تو اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ " قسم ہے اس قرآن بزرگ، یا اس نصیحت سے لبریز قرآن کی کہ محمد ﷺ سچی بات پیش کر رہے ہیں، مگر جو لوگ انکار پر جمے ہوئے ہیں وہ دراصل ضد اور تکبر میں مبتلا ہیں۔ " اور اگر ص کو ان حروف مقطعات میں سے سمجھا جائے جن کا مفہوم متعین نہیں کیا جاسکتا، تو پھر قسم کا جواب محذوف ہے جس پر " بلکہ " اور اس کے بعد کا فقرہ خود روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی پوری عبارت پھر یوں ہوگی کہ " ان منکرین کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جو دین ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی خلل ہے۔ یا محمد ﷺ نے ان کے سامنے اظہار حق میں کوئی کوتاہی کی ہے، بلکہ اس کی وجہ صرف ان کی جھوٹی شیخی، ان کی جاہلانہ نحوست اور ان کی ہٹ دھرمی ہے، اور اس پر یہ نصیحت بھرا قرآن شاہد ہے جسے دیکھ کر ہر غیر متعصب آدمی تسلیم کرے گا کہ اس میں فہمائش کا حق پوری طرح ادا کردیا گیا ہے "
Ayahs 38:4–5سورة صٓ 4
یعنی یہ ایسے احمق لوگ ہیں کہ جب ایک دیکھا بھالا آدمی خود ان کی اپنی جنس، اپنی قوم اور اپنی ہی برادری میں سے ان کو خبردار کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی۔ حالانکہ عجیب بات اگر ہوتی تو یہ ہوتی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے آسمان سے کوئی اور مخلوق بھیج دی جاتی، یا ان کے درمیان یکایک ایک اجنبی آدمی کہیں باہر سے آکھڑا ہوتا اور نبوت کرنا شروع کردیتا۔ اس صورت میں تو بلاشبہ یہ لوگ بجا طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ عجیب حرکت ہمارے ساتھ کی گئی ہے، بھلا جو انسان ہی نہیں ہے وہ ہمارے حالات اور جذبات اور ضروریات کو کیا جانے گا کہ ہماری رہنمائی کرسکے، یا جو اجنبی آدمی اچانک ہمارے درمیان آگیا ہے اس کی صداقت کو آخر ہم کیسے جانچیں اور کیسے معلوم کریں کہ یہ بھروسے کے قابل آدمی ہے یا نہیں، اس کی سیرت و کردار کو ہم نے کب دیکھا ہے کہ اس کی بات کا اعتبار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکیں۔
Ayah 38:6سورة صٓ 6
اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی ﷺ کی بات سن کر ابو طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے۔
سورة صٓ 7
یعنی حضور ﷺ کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہوجائیں گے۔
سورة صٓ 8
ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے، دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد ﷺ کے تابع فرمان ہوجائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں۔
Ayah 38:7سورة صٓ 9
یعنی قریب کے زمانے میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں، عیسائی اور یہودی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں، اور مجوسیوں سے ایران و عراق اور مشرقی عرب بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ رب العالمین کو مانے اور دوسرے کسی کو نہ مانے۔ آخر ایک اکیلے خدا پر کون اکتفا کرتا ہے۔ اللہ کے پیاروں کو تو سب ہی مان رہے ہیں۔ ان کے آستانوں پر جا کر ماتھے رگڑ رہے ہیں۔ نذریں دے رہے ہیں۔ دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کہیں سے اولاد ملتی ہے۔ کہیں سے رزق ملتا ہے۔ کسی آستانے پر جو مراد مانگو بر آتی ہے۔ ان کے تصرفات کو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے لوگوں کی کس کس طرح مشکل کشائی و حاجت روائی ہوتی ہے۔ اب اس شخص سے ہم یہ نرالی بات سن رہے ہیں، جو کبھی کسی سے نہ سنی تھی، کہ ان میں سے کسی کا بھی خدائی میں کوئی حصہ نہیں اور پوری کی پوری خدائی بس ایک اکیلے اللہ ہی کی ہے۔
Ayahs 38:8–9سورة صٓ 10
با الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ یہ لوگ دراصل تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تمہاری صداقت پر تو پہلے کبھی انہوں نے شک نہیں کیا تھا۔ آج یہ شک جو کیا جا رہا ہے یہ دراصل میرے " ذکر " کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب تمہارے سپرد کی تو یہ اسی شخص کی صداقت میں شک کرنے لگے جس کی راستبازی کی پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ یہی مضمون سورة انعام آیت 33 میں بھی گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 534)۔
Ayah 38:10سورة صٓ 11
یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ " کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا۔ " اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ نبی ہم کس کو بنائیں اور کسے نہ بنائیں، اس کا فیصلہ کرنا ہمارا اپنا کام ہے۔ یہ لوگ آخر کب سے اس فیصلے کے مختار ہوگئے۔ اگر یہ اس کے مختار بننا چاہتے ہیں تو کائنات کی فرمانروائی کے منصب پر قبضہ کرنے کے لیے عرش پر پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں اس پر وہ نازل نہ ہو۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، کیونکہ کفار قریش بار بار کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ کیسے نبی بن گئے، کیا خدا کو قریش کے بڑے بڑے سرداروں میں سے کوئی اس کام کے لیے نہ ملا تھا (ملاحظہ ہو سورة بنی اسرائیل، آیت 100۔ الزخرف، آیات 31۔ 32)
Ayah 38:11سورة صٓ 12
" اسی جگہ " کا اشارہ مکہ معظمہ کی طرف ہے۔ یعنی جہان یہ لوگ یہ باتیں بنا رہے ہیں، اسی جگہ ایک دن یہ شکست کھانے والے ہیں اور یہیں وہ وقت آنے والا ہے جب یہ منہ لٹکائے اسی شخص کے سامنے کھڑے ہوں گے جسے آج یہ حقیر سمجھ کر نبی تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
Ayahs 38:12–14سورة صٓ 13
فرعون کے لیے " ذی الا وتاد " (میخوں والا) یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ پر ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھوک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ میخوں سے مراد اہرام مصر ہوں جو زمین کے اندر میخ کی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:15سورة صٓ 14
یعنی عذاب کا ایک ہی کڑکا انہیں ختم کردینے کے لیے کافی ہوگا۔ کسی دوسرے کڑکے کی حاجت پیش نہ آئے گی۔ دوسرا مفہوم اس فقرے کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد پھر انہیں کوئی افاقہ نصیب نہ ہوگا، اتنی دیر کی بھی مہلت نہ ملے گی جتنی دیر اونٹنی کا دودھ نچوڑتے وقت ایک دفعہ سونتے ہوئے تھن میں دوبارہ سونتنے تک دودھ اترنے میں لگتی ہے۔
Ayah 38:16سورة صٓ 15
یعنی اللہ کے عذاب کا حال تو ہے وہ جو ابھی بیان کیا گیا، اور ان نادانوں کا حال یہ ہے کہ یہ نبی سے مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ جس یوم الحساب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس کے آنے تک ہمارے معاملے کو نہ ٹالو بلکہ ہمارا حساب ابھی چکوا دو ، جو کچھ بھی ہمارے حصے کی شامت لکھی ہے وہ فوراً ہی آجائے۔
Ayahs 38:17–18سورة صٓ 16
اشارہ ہے کفار مکہ کی ان باتوں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے، یعنی نبی ﷺ کے متعلق ان کی یہ بکواس کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے، اور ان کا یہ اعتراض کہ اللہ میاں کے پاس رسول بنانے کے لیے کیا بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا۔ اور یہ الزام کہ اس دعوت توحید سے اس شخص کا مقصد کوئی مذہبی تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کی نیت کچھ اور ہی ہے۔
سورة صٓ 17
اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔ " پہلے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے۔ اور دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ اس قصے کی یاد خود تمہیں صبر کرنے میں مدد دے گی۔ چونکہ یہ قصہ بیان کرنے سے دونوں ہی باتیں مقصود ہیں، اس لیے الفاظ ایسے استعمال کیے گئے ہیں جو دونوں مفہوموں پر دلالت کرتے ہیں (حضرت داؤد کے قصے کی تفصیلات اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکی ہیں تفہیم القرآن جلد اول، صفحہ 191۔ جلد دوم، صفحات 597 و 624۔ جلد سوم، صفحات 173 تا 176 و 560۔ 561۔ جلد چہارم، حواشی سورة صفحہ نمبر 14 تا 16)
سورة صٓ 18
اصل الفاظ ہیں ذالْاَیْد، " ہاتھوں والا "۔ ہاتھ کا لفظ صرف عربی زبان ہی میں نہیں، دوسری زبانوں میں بھی وقت وقدرت کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ حضرت داؤد کے لیے جب ان کی صفت کے طور پر یہ فرمایا گیا کہ وہ " ہاتھوں والے " تھے تو اس کا مطلب لازماً یہی ہوگا کہ وہ بڑی قوتوں کے مالک تھے۔ ان قوتوں سے بہت سی قوتیں مراد ہوسکتی ہیں۔ مثلاً جسمانی طاقت، جس کا مظاہرہ انہوں نے جالوت سے جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ فوجی اور سیاسی طاقت، جس سے انہوں نے گرد و پیش کی مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کردی تھی۔ اخلاقی طاقت، جس کی بدولت انہوں نے بادشاہی میں فقیری کی اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے اور اس کے حدود کی پابندی کرتے رہے۔ اور عبادت کی طاقت، جس کا حال یہ تھا کہ حکومت و فرمانروائی اور جہاد فی سبیل اللہ کی مصروفیتوں کے باوجود، صحیحین کی روایت کے مطابق، وہ ہمیشہ ایک دن بیچ روزہ رکھتے تھے اور روزانہ ایک تہائی رات نماز میں گزارتے تھے۔ امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوالدّرداء کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت داؤد کا ذکر آتا تھا تو نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کان اَعْبَدَ الْبَشَرِ ، " وہ سب سے زیادہ عبادت گزار آدمی تھے۔ "
Ayah 38:19سورة صٓ 19
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحات 174۔ 175۔
Ayah 38:20سورة صٓ 20
یعنی ان کا کلام الجھا ہوا نہ تھا کہ ساری تقریر سن کر بھی آدمی نہ سمجھ سکے کہ کہنا کیا چاہتے ہیں، بلکہ وہ جس معاملہ پر بھی گفتگو کرتے، اس کے تمام بنیادی نکات کو منقح کر کے رکھ دیتے، اور اصل فیصلہ طلب مسئلے کو ٹھیک ٹھیک متعین کر کے اس کا بالکل دو ٹوک جواب دے دیتے تھے۔ یہ بات کسی شخص کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک وہ عقل و فہم اور قادر الکلامی کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا ہوا نہ ہو۔
Ayah 38:21سورة صٓ 21
حضرت داؤد کا ذکر جس غرض کے لیے اس مقام پر کیا گیا ہے اس سے مقصود دراصل یہی قصہ سنانا ہے جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ان کی جو صفات عالیہ بطور تمہید بیان کی گئی ہیں ان کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ داؤد ؑ ، جن کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے، کس مرتبے کے انسان تھے۔
Ayah 38:22سورة صٓ 22
گھبرانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی فرمانروائے وقت کے پاس اس کی خلوت گاہ میں سیدھے راستے سے جانے کے بجائے یکایک دیوار چڑھ کر جا پہنچے تھے۔
سورة صٓ 23
بھائی سے مراد حقیقی بھائی نہیں بلکہ دینی اور قومی بھائی ہے۔
Ayah 38:23سورة صٓ 24
آگے کی بات سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی ضروری ہے کہ استغاثہ کا یہ فریق یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ اس شخص نے میری وہ ایک دنبی چھین لی اور اپنی دنبیوں میں ملا لی، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ مجھ سے میری دنبی مانگ رہا ہے، اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا ہے، کیونکہ یہ بڑی شخصیت کا آدمی ہے اور میں ایک غریب آدمی ہوں، میں اپنے اندر اتنی سکت نہیں پاتا کہ اس کا مطالبہ رد کر دوں۔
Ayah 38:24سورة صٓ 25
یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ حضرت داؤد نے ایک ہی فریق کی بات سن کر اپنا فیصلہ کیسے دے دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مدعی کی شکایت پر مدعا علیہ خاموش رہا اور اس کی تردید میں کچھ نہ بولا تو یہ خود ہی اس کے اقرار کا ہم معنی تھا۔ اس بنا پر حضرت داؤد نے یہ رائے قائم کی کہ واقعہ وہی کچھ ہے جو مدعی بیان کر رہا ہے۔
سورة صٓ 26
اس امر میں اختلاف ہے کہ اس مقام پر سجدہ تلاوت واجب ہے یا نہیں۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ یہاں سجدہ واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔ اور امام ابوحنیفہ وجوب کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں ابن عباس سے تین روایتیں محدثین نے نقل کی ہیں۔ عکرمہ کی روایت یہ ہے کہ ابن عباس نے فرمایا " یہ ان آیات میں سے نہیں ہے جن پر سجدہ لازم ہے مگر میں نے اس مقام پر نبی ﷺ کو سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ " (بخاری، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد)۔ دوسری روایات جو ان سے سعید بن جبیر نے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ " سورة ص میں نبی ﷺ نے سجدہ کیا اور فرمایا داؤد ؑ نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں " یعنی اس بات پر کہ ان کی توبہ قبول ہوئی (نسائی)۔ تیسری روایت جو مجاہد نے ان سے نقل کی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اُلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللہُ فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہ، " یہ وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے راہ راست دکھائی تھی، لہٰذا تم ان کے طریقے کی پیروی کرو "۔ اب چونکہ حضرت داؤد بھی ایک نبی تھے اور انہوں نے اس موقع پر سجدہ کیا تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کے اقتدا میں یہاں سجدہ فرمایا (بخاری)۔ یہ تین بیانات تو حضرت ابن عباس کے ہیں۔ اور حضرت ابوسعید خدری کا بیان یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ خطبہ میں سورة ص پڑھی اور جب آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے تو آپ ﷺ نے منبر پر سے اتر کر سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ سب حاضرین نے بھی سجدہ کیا۔ پھر ایک دوسرے موقع پر اسی طرح آپ ﷺ نے یہی سورة پڑھی تو اس آیت کو سنتے ہی لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا " یہ ایک نبی کی توبہ ہے، مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہوگئے ہو " ــــــ یہ فرما کر آپ ﷺ منبر سے اترے اور سجدہ کیا اور سب حاضرین نے بھی کیا (ابوداؤد)۔ ، ان روایات سے اگرچہ وجوب سجدہ کی قطعی دلیل تو نہیں ملتی، لیکن کم از کم اتنی بات تو ضرور ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ نے اس مقام پر اکثر سجدہ فرمایا ہے، اور سجدہ نہ کرنے کی بہ نسبت وجوب کے حکم کا پلڑا جھکا دیتی ہے۔
ایک اور مضمون جو اس آیت سے نکلتا ہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں خَرَّ رَاکِعاً (رکوع میں گر پڑا) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں، مگر تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد خَرَّ سَاجِداً (سجدہ میں گر پڑا) ہے۔ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے یہ رائے ظاہر فرمائی ہے کہ نماز یا غیر نماز میں آیت سجدہ سن کر یا پڑھ کر آدمی سجدے کے بجائے صرف رکوع بھی کرسکتا ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رکوع کا لفظ استعمال کر کے سجدہ مراد لیا ہے تو معلوم ہوا کہ رکوع سجدے کا قائم مقام ہوسکتا ہے۔ فقہائے شافعیہ میں سے امام خَطَّابی کی بھی یہی رائے ہے۔ یہ رائے اگرچہ بجائے خود صحیح اور معقول ہے، لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے عمل میں ہم کو ایسی کوئی نظیر نہیں ملی کہ آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کے بجائے رکوع ہی کرلینے پر اکتفا کیا گیا ہو۔ لہٰذا اس رائے پر عمل صرف اس صورت میں کرنا چاہیے جب سجدہ کرنے میں کوئی امر مانع ہو۔ اسے معمول بنا لینا درست نہیں ہے، اور خود امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا منشا بھی یہ نہیں ہے کہ اسے معمول بنایا جائے، بلکہ وہ صرف اس کے جواز کے قائل ہیں۔
Ayah 38:25سورة صٓ 27
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت داؤد سے قصور ضرور ہوا تھا، اور وہ کوئی ایسا قصور تھا جو دنبیوں والے مقدمے سے کسی طرح کی مماثلت رکھتا تھا اسی لیے اس کا فیصلہ سناتے ہوئے معاً ان کو یہ خیال آیا کہ یہ میری آزمائش ہوئی ہے، لیکن اس قصور کی نوعیت ایسی شدید نہ تھی کہ اسے معاف نہ کیا جاتا، یا اگر معاف کیا بھی جاتا تو وہ اپنے مرتبہ سے بلند سے گرا دیے جاتے۔ اللہ تعالیٰ یہاں خود تصریح فرما رہا ہے کہ جب انہوں نے سجدے میں گر کر توبہ کی تو نہ صرف یہ کہ انہیں معاف کردیا گیا، بلکہ دنیا اور آخرت میں ان کو جو بلند مقام حاصل تھا اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا۔
Ayah 38:26سورة صٓ 28
یہ وہ تنبیہ ہے جو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنے اور بلندی درجات کی بشارت دینے کے ساتھ حضرت داؤد کو فرمائی۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوجاتی ہے کہ جو فعل ان سے صادر ہوا تھا اس کے اندر خواہش نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرمانروا کو زیب نہ دیتا تھا۔
یہاں پہنچ کر تین سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اول یہ کہ وہ فعل کیا تھا ؟ دوسرے یہ کہ اس سیاق وسباق میں اس کا ذکر کس مناسبت سے کیا گیا ہے ؟
جن لوگوں نے بائیبل (عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب مقدس) کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس کتاب میں حضرت داؤد پر اور یاہ حِتّی (Orian theHittite) کی بیوی سے زنا کرنے، اور پھر اور یاہ کو ایک جنگ میں قصداً ہلاک کروا کر اس کی بیوی سے نکاح کرلینے کا صاف صاف الزام لگایا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی عورت، جس نے ایک شخص کی بیوی ہوتے ہوئے اپنے آپ کو داؤد کے حوالے کیا تھا، حضرت سلیمان ؑ کی ماں تھی۔ یہ پورا قصہ بائیبل کی کتاب سموئیل دوم، باب 11۔ 12 میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ نزول قرآن سے صدیوں پہلے یہ بائیبل میں درج ہوچکا تھا۔ دنیا بھر کے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو بھی اپنی کتاب مقدس کی تلاوت کرتا، یا اسے سنتا تھا، وہ اس قصے سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اس پر ایمان بھی لاتا تھا۔ انہی لوگوں کے ذریعہ سے یہ دنیا میں مشہور ہوا اور آج تک حال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں بنی اسرائیل اور عبرانی مذہب کی تاریخ پر کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جاتی جس میں حضرت داؤد کے خلاف اس الزام کو دہرایا نہ جاتا ہو۔ اس مشہور قصے میں یہ بات بھی ہے کہ
" خداوند نے ناتن کو داؤد کے پاس بھیجا۔ اس نے اس کے پاس آ کر اس سے کہا کسی شہر میں دو شخص تھے۔ ایک امیر، دوسرے غریب۔ اس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلے تھے۔ پر اس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا تھا۔ اور وہ اس کے اور اس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اسی کے نوالے میں کھاتی اور اسکے پیالہ سے پیتی اور اس کی گود میں سوتی تھی اور اس کے لیے بطور بیٹی کے تھی۔ اور اس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اس نے مسافر کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلے میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اس غریب کی بھیڑ لے لی اور اس شخص کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکائی۔ تب داؤد کا غضب اس شخص پر بشدت بھڑکا اور اس نے ناتن سے کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم، وہ شخص جس نے یہ کام کیا واجب القتل ہے۔ اس شخص کو اس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ایسا کام کیا اور اسے ترس نہ آیا۔ تب ناتن نے داؤد سے کہا کہ وہ شخص تو ہی ہے ـــــــ تو نے حتّی اور یاہ کو تلوار سے مارا اور اس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اس کو بنی غمّون کی تلوار سے قتل کروایا۔ " (2۔ سموئیل، باب 12۔ فقرات 1 تا 11)
اس قصے اور اس کی اس شہرت کی موجودگی میں یہ ضرورت باقی نہ تھی کہ قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی تفصیلی بیان دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے بھی نہیں کہ وہ اپنی کتاب پاک میں ایسی باتوں کو کھول کر بیان کرے۔ اس لیے یہاں پردے پردے ہی میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا اور اہل کتاب نے اسے بنا کیا دیا ہے۔ اصل واقعہ جو قرآن مجید کے مذکورہ بالا بیان سے صاف سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اور یاہ (یا جو کچھ بھی اس شخص کا نام رہا ہو) سے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ اور چونکہ یہ خواہش ایک عام آدمی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک جلیل القدر فرمانروا اور ایک زبردست دینی عظمت رکھنے والی شخصیت کی طرف سے رعایا کے ایک فرد کے سامنے ظاہر کی گئی تھی، اس لیے وہ شخص کسی ظاہری جبر کے بغیر بھی اپنے آپ کو اسے قبول کرنے پر مجبور پا رہا تھا۔ اس موقع پر قبل اس کے کہ وہ حضرت داؤد کی فرمائش کی تعمیل کرتا، قوم کے دو نیک آدمی اچانک حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ایک فرضی مقدمے کی صورت میں یہ معاملہ ان کے سامنے پیش کردیا۔ حضرت داؤد ابتداء میں تو یہ سمجھے کہ یہ واقعی کوئی مقدمہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اسے سن کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن زبان سے فیصلہ کے الفاظ نکلتے ہی ان کے ضمیر نے تنبیہ کی کہ یہ تمثیل پوری طرح ان کے اور اس شخص کے معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے، اور جس فعل کو وہ ظلم قرار دے رہے ہیں اس کا صدور خود ان سے اس شخص کے معاملہ میں ہو رہا ہے۔ یہ احساس دل میں پیدا ہوتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور توبہ کی اور اپنے اس فعل سے رجوع فرما لیا۔
بائیبل میں اس واقعہ کی وہ گھناؤنی شکل کیسے بنی ؟ یہ بات بھی تھوڑے سے غور کے بعد سمجھ میں آجاتی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت داؤد کو اس خاتون کی خوبیوں کا کسی ذریعہ سے علم ہوگیا تھا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ایسی لائق عورت ایک معمولی افسر کی بیوی ہونے کے بجائے ملک کی ملکہ ہونی چاہیے۔ اس خیال سے مغلوب ہو کر انہوں نے اس کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے طلاق دے دے۔ اس میں کوئی قباحت انہوں نے اس لیے محسوس نہ کی کہ بنی اسرائیل کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کے ہاں یہ ایک معمولی بات تھی کہ ایک شخص اگر کسی کی بیوی کو پسند کرتا تو بےتکلف اس سے درخواست کردیتا تھا کہ اسے میرے لیے چھوڑ دے۔ ایسی درخواست پر کوئی برا نہ مانتا تھا۔ بلکہ بسا اوقات دوست ایک دوسرے کے پاس خاطر سے بیوی کو خود طلاق دے دیتے تھے تاکہ دوسرا اس سے شادی کرلے۔ لیکن یہ بات کرتے وقت حضرت داؤد کو اس امر کا احساس نہ ہوا کہ ایک عام آدمی کی طرف سے اس طرح کی خواہش کا اظہار تو جبر و ظلم کے عنصر سے خالی ہوسکتا ہے، مگر ایک فرمانروا کی طرف سے جب ایسی خواہش ظاہر کی جائے تو وہ جبر سے کسی طرح بھی خالی نہیں ہو سکتی۔ اس پہلو کی طرف جب اس تمثیلی مقدمہ کے ذریعہ سے ان کو توجہ دلائی گئی تو وہ بلا تامل اپنی اس خواہش سے دست بردار ہوگئے اور بات آئی گئی ہوگئی۔ مگر بعد میں کسی وقت جب ان کی کسی خواہش اور کوشش کے بغیر اس خاتون کا شوہر ایک جنگ میں شہید ہوگیا، اور انہوں نے اس سے نکاح کرلیا، تو یہودیوں کے خبیث ذہن نے افسانہ تراشی شروع کردی، اور یہ خبیث نفس اس وقت اور زیادہ تیزی سے کام کرنے لگا جب بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت سلیمان ؑ کا دشمن ہوگیا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ 582)۔ ان محرکات کے زیر اثر یہ قصہ تصنیف کر ڈالا گیا کہ حضرت داؤد نے معاذاللہ اور یاہ کی بیوی کو اپنے محل کی چھت پر سے اس حالت میں دیکھ لیا تھا کہ وہ برہنہ نہا رہی تھی۔ انہوں نے اس کو اپنے ہاں بلوایا اور اس سے زنا کا ارتکاب کیا جس سے وہ حاملہ ہوگئی۔ پھر انہوں نے اور یاہ کو بنی عمون کے مقابلہ پر جنگ میں بھیج دیا اور فوج کے کمانڈر ہوآب کو حکم دیا کہ اسے لڑائی میں ایسی جگہ مقرر کر دے جہاں وہ لازماً مارا جائے۔ اور جب وہ مارا گیا تو انہوں نے اس کی بیوی سے شادی کرلی، اور اسی عورت کے پیٹ سے سلیمان ؑ پیدا ہوئے۔ یہ تمام جھوٹے الزامات ظالموں نے اپنی " کتاب مقدس " میں ثبت کردیے ہیں تاکہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے رہیں اور اپنی قوم کے ان دو بزرگ ترین انسانوں کی تذلیل کرتے رہیں جو حضرت موسیٰ کے بعد ان کے سب سے بڑے محسن تھے۔
قرآن مجید کے مفسرین میں سے ایک گروہ نے تو ان افسانوں کو قریب قریب جوں کا توں قبول کرلیا ہے جو بنی اسرائیل کے ذریعہ سے ان تک پہنچے ہیں۔ اسرائیلی روایات کا صرف اتنا حصہ انہوں نے ساقط کیا ہے جس میں حضرت داؤد پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور عورت کے حاملہ ہوجانے کا ذکر تھا۔ باقی سارا قصہ ان کی نقل کردہ روایات میں اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح وہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا۔ دوسرے گروہ نے سرے سے اس واقعہ ہی کا انکار کردیا ہے کہ حضرت داؤد سے کوئی ایسا فعل صادر ہوا تھا جو دنبیوں والے مقدمہ سے کوئی مماثلت رکھتا ہو۔ اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے اس قصے کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو بالکل بےبنیاد ہیں، جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور خود قرآن کے سیاق وسباق سے بھی وہ کوئی مناسبت نہیں رکھتیں۔ لیکن مفسرین ہی میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک بات تک پہنچا ہے اور قرآن کے واضح اشارات سے قصے کی اصل حقیقت پا گیا ہے۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں
مسروق اور سعید بن جبیر، دونوں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ " حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس عورت کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اپنی بیوی کو میرے لیے چھوڑ دے "۔ (ابن جریر)
علامہ زمخشری اپنی تفسیر کشامیں لکھتے ہیں کہ " جس شکل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کا قصہ بیان فرمایا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس شخص سے صرف یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ ان کے لیے اپنی بیوی کو چھوڑ دے۔ "
علامہ ابوبکر جصاص اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ عورت اس شخص کی منکوحہ نہیں بلکہ صرف مخطوبہ یا منسوبہ تھی، حضرت داؤد نے اسی عورت سے نکاح کا پیغام دے دیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہوا کیونکہ انہوں نے اپنے مومن بھائی کے پیغام پر پیغام دیا تھا حالانکہ ان کے گھر میں پہلے سے کئی بیویاں موجود تھیں (احکام القرآن)۔ بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے۔ لیکن یہ بات قرآن کے بیان سے پوری مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن مجید میں مقدمہ پیش کرنے والے کے جو الفاظ نقل ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ لِیْ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا۔ " میرے پاس بس ایک ہی دنبی ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسے میرے حوالہ کر دے "۔ یہی بات حضرت داؤد نے بھی اپنے فیصلہ میں ارشاد فرمائی کہ قَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ۔ " اس نے تیری دنبی مانگنے میں تجھ پر ظلم کیا۔ " یہ تمثیل حضرت داؤد اور اور یاہ کے معاملہ پر اسی صورت میں چسپاں ہو سکتی ہے جبکہ وہ عورت اس شخص کی بیوی ہو۔ پیغام پر پیغام دینے کا معاملہ ہوتا تو پھر تمثیل یوں ہوتی کہ " ایک دنبی لینا چاہتا تھا اور اس نے کہا کہ یہ بھی میرے لیے چھوڑ دے۔ "
قاضی ابوبکر ابن العربی احکام القرآن میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں " اصل واقعہ بس یہی ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص سے کہا کہ میرے لیے اپنی بیوی چھوڑ دے، اور سنجیدگی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا ــــــ قرآن میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ شخص ان کے اس مطالبہ پر اپنی بیوی سے دست بردار ہوگیا اور حضرت داؤد نے اس عورت سے اس کے بعد شادی بھی کرلی اور حضرت سلیمان ؑ اسی بطن سے پیدا ہوئے ــــــ جس بات پر عتاب ہوا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انہوں نے ایک عورت کے شوہر سے یہ چاہا کہ وہ ان کی خاطر اسے چھوڑ دے ــــــــ یہ فعل خواہ فی الجملہ جائز ہی ہو مگر منصب نبوت سے بعید تھا، اسی لیے ان پر عتاب بھی ہوا اور ان کو نصیحت بھی کی گئی۔ "
یہی تفسیر اس سیاق وسباق سے بھی مناسبت رکھتی ہے جس میں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے۔ سلسلہ کلام پر غور کرنے سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں اس مقام پر یہ قصہ دو اغراض کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ پہلی غرض نبی ﷺ کو صبر کی تلقین کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ " جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو "۔ یعنی تمہیں تو ساحر اور کذاب ہی کہا جا رہا ہے، لیکن ہمارے بندے داؤد پر تو ظالموں نے زنا اور سازشی قتل تک کے الزامات لگا دیے، لہٰذا ان لوگوں سے جو کچھ بھی تم کو سننا پڑے اسے برداشت کرتے رہو۔ دوسری غرض کفار کو یہ بتانا ہے کہ تم لوگ ہر محاسبے سے بےخوف ہو کر دنیا میں طرح طرح کی زیادتیاں کرتے چلے جاتے ہو، لیکن جس خدا کی خدائی میں تم یہ حرکتیں کر رہے ہو وہ کسی کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا، حتیٰ کہ جو بندے اس کے نہایت محبوب و مقرب ہوتے ہیں، وہ بھی اگر ایک ذرا سی لغزش کے مرتکب ہوجائیں تو خداوند عالم ان سے سخت مواخذہ کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نبی ﷺ سے فرمایا گیا کہ ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو ایسی اور ایسی خوبیوں کا مالک تھا، مگر جب اس سے ایک بےجا بات سرزد ہوگئی تو دیکھو کہ ہم نے اسے کس طرح سرزنش کی۔
اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی اور باقی رہ جاتی ہے جسے رفع کردینا ضروری ہے۔ تمثیل میں مقدمہ پیش کرنے والے نے یہ جو کہا ہے کہ اس شخص کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے جسے یہ مانگ رہا ہے، اس سے بظاہر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید حضرت داؤد کے پاس 99 بیویاں تھیں اور وہ ایک عورت حاصل کر کے 100 کا عدد پورا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن دراصل تمثیل کے ہر ہر جز کا حضرت داؤد اور اور یاہ حتّی کے معاملے لفظ بہ لفظ چسپاں ہونا ضروری نہیں ہے۔ عام محاورے میں دس، بیس، پچاس وغیرہ اعداد کا ذکر صرف کثرت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ ٹھیک تعداد بیان کرنے کے لیے۔ ہم جب کسی سے کہتے ہیں کہ دس مرتبہ تم سے فلاں بات کہہ دی تو اس کا مطلب یہ نہی ہوتا کہ دس بار گن کر وہ بات کہی گئی ہے، مطلب یہ ہوتا ہے بارہا وہ بات کہی جاچکی ہے۔ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے۔ تمثیلی مقدمہ میں وہ شخص حضرت داؤد کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ آپ کے پاس متعدد بیویاں ہیں، اور پھر بھی آپ دوسرے شخص کی بیوی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی بات مفسر نیسابوری نے حضرت حسن بصری ؒ سے نقل کی ہے کہ لم یکن لداؤد تسع وتسعون امرأۃ وانما ھٰذا مثل، " حضرت داؤد کی 99 بیویاں نہ تھیں بلکہ یہ صرف ایک تمثیل ہے۔ "
(اس قصے پر تفصیلی بحث ہم نے اپنی کتاب تفہیمات حصہ دوم میں کی ہے۔ جو اصحاب ہماری بیان کردہ تاویل کی ترجیح کے مفصل دلائل معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کتاب کے صفحات 29 تا 44 ملاحظہ فرمائیں۔)
Ayah 38:27سورة صٓ 29
یعنی محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کردیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف نہ ہو، اور کسی اچھے یا برے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان یہاں شتر بےمہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے، نہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پرس نہ ہو۔ آگے کے مضمون کی تمہید کے طور پر اس فقرے سے کلام کا آغاز کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص جزا و سزا کا قائل نہیں ہے اور اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھا رہے کہ نیک و بد سب آخر کار مر کر مٹی ہوجائیں گے، کسی سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا، نہ کسی کو بھلائی یا برائی کا کوئی بدلہ ملے گا، وہ دراصل دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا بنا کر اور اس میں انسان کو پیدا کر کے ایک فعل عبث کا ارتکاب کیا ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُم عَبَثاً وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (المومنون 115)
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کردیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے جانے والے نہیں ہو ؟
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ مَا خَلَقْنٰھُمَا اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُھُمْ اَجْمَعِیْنَ (الدُّخان 38۔ 40)
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کو جو ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے۔ ہم نے ان کو بر حق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ درحقیقت فیصلے کا دن ان سب کے لیے حاضری کا وقت مقرر ہے۔
Ayah 38:28سورة صٓ 30
یعنی کیا تمہارے نزدیک یہ بات معقول ہے کہ نیک اور بد دونوں آخر کار یکساں ہوجائیں ؟ کیا یہ تصور تمہارے لیے اطمینان بخش ہے کہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ اور کسی بد آدمی کو اس کی بدی کا کوئی بدلہ نہ ملے ؟ ظاہر بات ہے کہ اگر آخرت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی محاسبہ نہ ہو اور انسانی افعال کی کوئی جزا و سزا نہ ہو تو اس سے اللہ کی حکمت اور اس کے عدل دونوں کی نفی ہوجاتی ہے اور کائنات کا پورا نظام ایک اندھا نظام بن کر رہ جاتا ہے۔ اس مفروضے پر تو دنیا میں بھلائی کے لیے کوئی محرک اور برائی سے روکنے کے لیے کوئی مانع سرے سے باقی ہی نہیں رہ جاتا ہے۔ خدا کی خدائی اگر معاذاللہ ایسی ہی اندھیر نگری ہو تو پھر وہ شخص بیوقوف ہے جو اس زمین پر تکلیفیں اٹھا کر خود صالح زندگی بسر کرتا ہے اور خلق خدا کی اصلاح کے لیے کام کرتا ہے، اور وہ شخص عقلمند ہے جو ساز گار مواقع پا کر ہر طرح کی زیادتیوں سے فائدے سمیٹے اور ہر قوم کے فسق و فجور سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
Ayah 38:29سورة صٓ 31
برکت کے لغوی معنی ہیں " افزائش خیر وسعادت "۔ قرآن مجید کو برکت والی کتاب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ انسان کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ اس کی زندگی کو درست کرنے کے لیے بہترین ہدایات دیتی ہے، اس کی پیروی میں آدمی کا نفع ہی نفع ہے، نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
Ayah 38:30سورة صٓ 32
حضرت سلیمان کا ذکر اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے تفہیم القرآن جلد اول، ص 97۔ جلد دوم، ص، 597۔ 598۔ جلد سوم، ص 173 تا 178۔ 560 تا 582۔ سورة سبا، آیات 12۔ 14۔
Ayah 38:31سورة صٓ 33
اصل الفاظ ہیں الصَّافِنَاتُ الْجِیَادُ۔ اس سے مراد ایسے گھوڑے ہیں جو کھڑے ہوں تو نہایت سکون کے ساتھ کھڑے رہیں، کوئی اچھل کود نہ کریں، اور جب دوڑیں تو نہایت تیز دوڑیں۔
Ayah 38:32سورة صٓ 34
اصل میں لفظ خَیْر استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں مال کثیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور گھوڑوں کے لیے بھی مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ نے ان گھوڑوں کو چونکہ راہ خدا میں جہاد کے لیے رکھا تھا، اس لیے انہوں نے " خیر " کے لفظ سے ان کو تعبیر فرمایا۔
Ayahs 38:33–34سورة صٓ 35
ان آیات کے ترجمہ اور تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
ایک گروہ ان کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ گھوڑوں کے معاینے اور ان کی دوڑ کے ملاحظہ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ نماز عصر بھول گئے، یا بقول بعض اپنا کوئی خاص وظیفہ پڑھنا بھول گئے جو وہ عصر و مغرب کے درمیان پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انہوں نے حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ، اور جب وہ واپس آئے تو حضرت سلیمان ؑ نے تلوار لے کر ان کا ٹنا، یا بالفاظ دیگر، اللہ کے لیے ان کو قربان کرنا شروع کردیا کیونکہ وہ ذکر الٰہی سے غفلت کے موجب بن گئے تھے۔ اس مطلب کے لحاظ سے ان آیات کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے۔ " تو اس نے کہا، میں نے اس مال کی محبت کو ایسا پسند کیا کہ اپنے رب کی یاد (نماز عصر، یا وظیفہ خاص) سے غافل ہوگیا، یہاں تک کہ (سورج پردۂ مغرب میں) چھپ گیا۔ (پھر اس نے حکم دیا کہ) واپس لاؤ ان (گھوڑوں) کو (اور جب وہ واپس آئے) تو لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار کے) ہاتھ چلانے "۔ یہ تفسیر اگرچہ بعض اکابر مفسرین نے کی ہے، لیکن یہ اس وجہ سے قابل ترجیح نہیں ہے کہ اس میں مفسر کو تین باتیں اپنی طرف سے بڑھانی پڑتی ہیں جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔ اوّلاً وہ فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان کی نماز عصر اس شغل میں چھوٹ گئی، یا ان کا کوئی خاص وظیفہ چھوٹ گیا جو وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ قرآن کے الفاظ صرف یہ ہیں، اِنِّی اَحْبَیْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّی۔ ان الفاظ کا ترجمہ یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ " میں نے اس مال کو اتنا پسند کیا کہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا، " لیکن ان میں نماز عصر یا کوئی خاص وظیفہ مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے۔ ثانیاً وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ سورج چھپ گیا، حالانکہ وہاں سورج کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ حَتّیٰ تَوَارَتْ بالْحِجَاب کے الفاظ پڑھ کر آدمی کا ذہن بلا تامُّل الصَّافِنَاتُ الْجِیَاد کی طرف پھرتا ہے جن کا ذکر پچھلی آیت میں ہوچکا ہے۔ ثانیاً وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان نے گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر خالی مسح نہیں کیا بلکہ تلوار سے مسح کیا، حالانکہ قرآن میں مَسْحاً بالسَّیْفِ کے الفاظ نہیں ہیں، اور کوئی قرینہ بھی ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر مسح سے مسح بالسیف مراد لیا جاسکے۔ ہمیں اس طریق تفسیر سے اصولی اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن کے الفاظ سے زائد کوئی مطلب لینا چار ہی صورتوں میں درست ہوسکتا ہے۔ یا تو قرآن ہی کی عبارت میں اس کے لیے کوئی قرینہ موجود ہو، یا قرآن میں کسی دوسرے مقام پر اس کی طرف کوئی اشارہ ہو، یا کسی صحیح حدیث میں اس اجمال کی شرح ملتی ہو، یا اس کا اور کوئی قابل اعتبار ماخذ ہو، مثلاً تاریخ کا معاملہ ہے تو تاریخ میں اس اجمال کی تفصیلات ملتی ہوں، آثار کائنات کا ذکر ہے تو مستند علمی تحقیقات سے اس کی تشریح ہو رہی ہو، اور احکام شرعیہ کا معاملہ ہے تو فقہ اسلامی کے مآخذ اس کی وضاحت کر رہے ہوں۔ جہاں ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو وہاں محض بطور خود ایک قصہ تصنیف کر کے قرآن کی عبارت میں شامل کردینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
ایک گروہ نے مذکورہ بالا ترجمہ و تفسیر سے تھوڑا سا اختلاف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حَتّیٰ تَوَارَتْ بالْحِجَاب اور رُدُّوْھَا عَلَیَّ ، دونوں کی ضمیر سورج ہی کی طرف پھرتی ہے۔ یعنی جب نماز عصر فوت ہوگئی اور سورج پردۂ مغرب میں چھپ گیا تو حضرت سلیمان ؑ نے کارکنان قضا و قدر سے کہا کہ پھیر لاؤ سورج کو تاکہ عصر کا وقت واپس آجائے اور میں نماز ادا کرلوں، چناچہ سورج پلٹ آیا اور انہوں نے نماز پڑھ لی۔ لیکن یہ تفسیر اوپر والی تفسیر سے بھی زیادہ ناقابل قبول ہے۔ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ سورج کو واپس لانے پر قادر نہیں ہے، بلکہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا قطعاً کوئی ذکر نہیں فرمایا ہے، حالانکہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے اتنا بڑا معجزہ صادر ہوا ہوتا تو وہ ضرور قابل ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اور اس لیے بھی کہ سورج کا غروب ہو کر پلٹ آنا ایسا غیر معمولی واقعہ ہے کہ اگر وہ در حقیقت پیش آیا ہوتا تو دنیا کی تاریخ اس کے ذکر سے ہرگز خالی نہ رہتی۔ اس تفسیر کی تائید میں یہ حضرات بعض احادیث بھی پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورج کا غروب ہو کر دوبارہ پلٹ آنا ایک ہی دفعہ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ کئی دفعہ پیش آیا ہے۔ قصہ معراج میں نبی ﷺ کے لیے سورج کے واپس لائے جانے کا ذکر ہے۔ غزوہ خندق کے موقع پر بھی حضور ﷺ کے لیے وہ واپس لایا گیا۔ اور حضرت علی ؓ کے لیے جبکہ حضور ﷺ کی گود میں سر رکھے سو رہے تھے اور ان کی نماز عصر قضا ہوگئی تھی، حضور ﷺ نے سورج کی واپسی کی دعا فرمائی تھی اور وہ پلٹ آیا تھا۔ لیکن ان روایات سے استدلال اس تفسیر سے بھی زیادہ کمزور ہے جس کی تائید کے لیے انہیں پیش کیا گیا ہے۔ حضرت علی ؓ کے متعلق جو روایت بیان کی جاتی ہے اس کے تمام طُرُق اور رجال پر تفصیلی بحث کر کے ابن تیمیہ نے اسے موضوع ثابت کیا ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور ابن جوزی کہتے ہیں کہ وہ بلا شک و شبہ موضوع ہے۔ غزوہ خندق کے موقع پر سورج کی واپسی والی روایت بھی بعض محدثین کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک موضوع ہے، رہی قصہ معراج والی روایت، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب نبی ﷺ کفار مکہ سے شب معراج کے حالات بیان فرما رہے تھے تو کفار نے آپ سے ثبوت طلب کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیت المقدس کے راستے میں فلاں مقام پر ایک قافلہ ملا تھا جس کے ساتھ فلاں واقعہ پیش آیا تھا۔ کفار نے پوچھا وہ قافلہ کس روز مکہ پہنچے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا فلاں روز۔ جب وہ دن آیا تو قریش کے لوگ دن بھر قافلہ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ شام ہونے کو آگئی۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے دعا کی کہ دن اس وقت تک غروب نہ ہو جب تک قافلہ نہ آجائے۔ چناچہ فی الواقع سورج ڈوبنے سے پہلے وہ پہنچ گیا۔ اس واقعہ کو بعض راویوں نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس روز دن میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کردیا گیا اور سورج اتنی دیر تک کھڑا رہا۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کی روایات کیا اتنے بڑے غیر معمولی واقعہ کے ثبوت میں کافی شہادت ہیں ؟ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، سورج کا پلٹ آنا، یا گھنٹہ بھر رکا رہنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایسا واقعہ اگر فی الواقع پیش آگیا ہوتا تو دنیا بھر میں اس کی دھوم مچ گئی ہوتی۔ بعض اخبار آحاد تک اس کا ذکر کیسے محدود رہ سکتا تھا ؟
مفسرین کا تیسرا گروہ ان آیات کا وہی مفہوم لیتا ہے جو ایک خالی الذہن آدمی اس کے الفاظ پڑھ کر اس سے سمجھ سکتا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق واقعہ بس اس قدر ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے سامنے جب اعلیٰ درجے کے اصیل گھوڑوں کا ایک دستہ پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، یہ مال مجھے کچھ اپنی بڑائی کی غرض سے یا اپنے نفس کی خاطر محبوب نہیں ہے بلکہ ان چیزوں سے دلچسپی کو میں اپنے رب کا کلمہ بلند کرنے کے لیے پسند کرتا ہوں۔ پھر انہوں نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے ان کو واپس طلب فرمایا اور جب وہ آئے تو بقول ابن عباس، جعل یمسح اعراف الخیل و عراقیبھا حُبًّا لھا، " حضرت ان کی گردنوں پر اور ان کی پنڈلیوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے لگے "۔ یہی تفسیر ہمارے نزدیک صحیح ہے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے الفاظ سے پوری مطابقت رکھتی ہے اور مطلب کی تکمیل کے لیے اس میں ایسی کوئی بات بڑھانی نہیں پڑتی جو نہ قرآن میں ہو، نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں۔
یہ بات بھی اس موقع پر نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس واقعہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے حق میں نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّہ اَوَّابٌ (بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والا) کے تعریفی کلمات ارشاد فرمانے کے معاً بعد کیا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقصود دراصل یہ بتانا ہے کہ دیکھو، وہ ہمارا ایسا اچھا بندہ تھا، بادشاہی کا سر و سامان اس کو دنیا کی خاطر نہیں بلکہ ہماری خاطر پسند تھا، اپنے شاندار رسالے کو دیکھ کر دنیا پرست فرمانرواؤں کی طرح اس نے ڈینگیں نہ ماریں بلکہ اس وقت بھی ہم ہی اسے یاد آئے۔