38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اور کہا کہ”اے میرے ربّ ، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بے شک تُو ہی اصل داتا ہے۔“ 36

سورة صٓ 36 سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس جگہ اصل مقصد یہی واقعہ بیان کرنا ہے اور پچھلی آیات اسی کے لیے بطور تمہید ارشاد ہوئی ہیں۔ جس طرح پہلے حضرت داؤد کی تعریف کی گئی، پھر اس واقعہ کا ذکر کیا گیا جس میں وہ مبتلائے فتنہ ہوگئے تھے، پھر بتایا گیا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے ایسے محبوب بندے کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہ چھوڑا، پھر ان کی یہ شان دکھائی گئی کہ فتنے پر متنبہ ہوتے ہی وہ تائب ہوگئے اور اللہ کے آگے جھک کر انہوں نے اپنے اس فعل سے رجوع کرلیا، اسی طرح یہاں بھی ترتیب کلام یہ ہے کہ پہلے حضرت سلیمان ؑ کے مرتبہ بلند اور شان بندگی کا ذکر کیا گیا ہے، پھر بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی آزمائش میں ڈالا گیا پھر ان کی یہ شان بندگی دکھائی گئی ہے کہ جب ان کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا گیا تو وہ فوراً ہی اپنی لغزش پر متنبہ ہوگئے اور اپنے رب سے معافی مانگ کر انہوں نے اپنی اس بات سے رجوع کرلیا جس کی وجہ سے وہ فتنے میں پڑے تھے۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ ان دونوں قصوں سے بیک وقت دو باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کے بےلاگ محاسبے سے انبیا تک نہیں بچ سکے ہیں، تابدیگراں چہ رسد۔ دوسرے یہ کہ بندے کے لیے صحیح رویہ قصور کر کے اکڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ جس وقت بھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اسی وقت وہ عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے۔ اسی رویہ کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی لغزشوں کو محض معاف ہی نہیں کیا بلکہ ان کو اور زیادہ الطاف و عنایات سے نوازا۔ یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے وہ فتنہ کیا تھا جس میں حضرت سلیمان ؑ پڑگئے تھے ؟ اور ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈال دینے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اس جَسَد کا لا کر ڈالا جانا ان کے لیے کس نوعیت کی تنبیہ تھی جس پر انہوں نے توبہ کی ؟ اس کے جواب میں مفسرین نے چار مختلف مسلک اختیار کیے ہیں۔ ایک گروہ نے ایک لمبا چوڑا افسانہ بیان کیا ہے جس کی تفصیلات میں ان کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہیں۔ مگر سب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے یا تو یہ قصور ہوا تھا کہ ان کے محل میں ایک بیگم چالیس دن تک بت پرستی کرتی رہی اور وہ اس سے بیخبر رہے، یا یہ کہ وہ چند روز تک گھر میں بیٹھے رہے اور کسی مظلوم کی داد رسی نہ کی۔ اس پر ان کو یہ سزا ملی کہ ایک شیطان کسی نہ کسی طرح ان کی وہ انگوٹھی اڑا لے گیا جس کی بدولت وہ جن و انس اور ہواؤں پر حکومت کرتے تھے۔ انگوٹھی ہاتھ سے جاتے ہی حضرت سلیمان ؑ کا سارا اقتدار چھن گیا اور وہ چالیس دن تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرے۔ اور اس دوران میں وہ شیطان سلیمان ؑ بنا ہوا حکمرانی کرتا رہا۔ سلیمان ؑ کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دینے سے مراد یہی شیطان ہے جو کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ بعض حضرات یہاں تک بھی کہہ گزرتے ہیں کہ اس زمانے میں اس شیطان سے حرم سلیمانی کی خواتین تک کی عصمت محفوظ نہ رہی۔ آخر کار سلطنت کے اعیان و اکابر اور علماء کو اس کی کاروائیاں دیکھ کر شک ہوگیا کہ یہ سلیمان نہیں ہے۔ چناچہ انہوں نے اس کے سامنے توراۃ کھولی اور وہ ڈر کر بھاگ نکلا۔ راستے میں انگوٹھی اس کے ہاتھ سے سمندر میں گر گئی، یا خود اسی نے پھینک دی، اور اسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ پھر اتفاق سے وہ مچھلی سلیمان کو مل گئی۔ اسے پکانے کے لیے انہوں نے اس کا پیٹ جو چاک کیا تو انگوٹھی نکل آئی اور اس کا ہاتھ آنا تھا کہ جن و انس سب سلام کرتے ہوئے ان کے سامنے حاضر ہوگئے ـــــــــــ یہ پورا افسانہ از سر تاپا خرافات پر مشتمل ہے جنہیں نو مسلم اہل کتاب نے تلمود اور دوسرے اسرائیلی روایات سے اخذ کر کے مسلمانوں میں پھیلا دیا تھا اور حیرت ہے کہ ہمارے ہاں کے بڑے بڑے لوگوں نے ان کو قرآن کے مجملات کی تفصیلات سمجھ کر اپنی زبان سے نقل کردیا۔ حالانکہ نہ انگشتری سلیمانی کی کوئی حقیقت ہے، نہ حضرت سلیمان کے کمالات کسی انگشتری کے کرشمے تھے، نہ شیاطین کو اللہ نے یہ قدرت دی ہے کہ انبیاء کی شکل بنا کر آئیں اور خلق خدا کو گمراہ کریں، اور نہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ کسی نبی کے قصور کی سزا ایسی فتنہ انگیز شکل میں دے جس سے شیطان نبی بن یر ایک پوری امت کا ستیاناس کر دے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن خود اس تفسیر کی تردید کر رہا ہے۔ آگے آیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب یہ آزمائش حضرت سلیمان کو پیش آئی اور انہوں نے ہم سے معافی مانگ لی تب ہم نے ہوا اور شیاطین کو ان کے لیے مسخر کردیا۔ لیکن یہ تفسیر اس کے برعکس یہ بتارہی ہے کہ شیاطین پہلے ہی انگشتری کے طفیل حضرت سلمان کے تابع فرمان تھے۔ تعجب ہے کہ جن بزرگوں نے یہ تفسیر بیان کی ہے انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ بعد کی آیات کیا کہہ رہی ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے ہاں 20 سال کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا۔ شیاطین کو خطرہ ہوا کہ اگر سلیمان ؑ کے بعد یہ بادشاہ ہوگیا تو ہم پھر اسی غلامی میں مبتلا رہیں گے، اس لیے انہوں نے اسے قتل کردینے کی ٹھانی۔ حضرت سلیمان ؑ کو اس کا علم ہوگیا اور انہوں نے اس لڑکے کو بادلوں میں چھپا دیا تاکہ وہیں اس کی پرورش ہوتی رہے۔ یہی وہ فتنہ تھا جس میں حضرت مبتلا ہوئے تھے کہ انہوں نے اللہ پر توکل کرنے کے بجائے بادلوں کی حفاظت پر اعتماد کیا۔ اس کی سزا ان کو دی گئی کہ وہ بچہ مر کر ان کی کرسی پر آ گرا ــــــــــــ یہ افسانہ بھی بالکل بےسرو پا اور صریح قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں بھی یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ہوائیں اور شیاطین پہلے سے حضرت سلیمان ؑ کے لیے مسخر تھے، حالانکہ قرآن صاف الفاظ میں ان کی تسخیر کو اس فتنے کے بعد کا واقعہ بتارہا ہے۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہوگا، مگر یہ بات کہتے ہوئے انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان سے بھی ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا جسے دائی نے لا کر حضرت سلیمان ؑ کی کرسی پر ڈال دیا۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے اور اسے بخاری و مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔ خود بخاری میں مختلف مقامات پر یہ روایت جن طریقوں سے نقل کی گئی ہے ان میں سے کسی میں بیویوں کی تعداد 60 بیان کی گئی ہے، کسی میں 70، کسی میں 90، کسی میں 99، اور کسی میں 100۔ جہاں تک اسناد کا تعلق ہے، ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے، اور با عتبار روایت اسکی صحت میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی ﷺ نے اس طرح ہرگز نہ فرمائی ہوگی جس طرح وہ نقل ہوئی ہے۔ بلکہ آپ نے غالباً یہود کی یا وہ گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی موقع پر اسے بطور مثال بیان فرمایا ہوگا، اور سامع کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ اس بات کو حضور ﷺ خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔ ایسی روایات کو محض صحت سند کے زور پر لوگوں کے حلق سے اتروانے کی کوشش کرنا دین کو مضحکہ بنانا ہے۔ ہر شخص خود حساب لگا کر دیکھ سکتا ہے کہ جاڑے کی طویل ترین رات میں بھی عشا اور فجر کے درمیان دس گیارہ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ اگر بیویوں کی کم سے کم تعداد 60 ہی مان لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ اس رات بغیر دم لیے فی گھنٹہ 6 بیویوں کے حساب سے مسلسل دس گھنٹے یا گیارہ گھنٹے مباشرت کرتے چلے گئے۔ کیا یہ عملاً ممکن بھی ہے ؟ اور کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ بات واقعے کے طور پر بیان کی ہوگی ؟ پھر حدیث میں یہ بات کہیں نہیں بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان کی کرسی پر جس جسد کے ڈالے جانے کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہی ادھورا بچہ ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ حضور ﷺ نے یہ واقعہ اس آیت کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا تھا۔ علاوہ بریں اس بچے کی پیدائش پر حضرت سلیمان ؑ کا استغفار کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انہوں نے استغفار کے ساتھ یہ دعا کیوں مانگی کہ " مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو۔ " ایک اور تفسیر جس کو امام رازی ترجیح دیتے ہیں یہ ہے کہ حضرت سلیمان کسی سخت مرض میں مبتلا ہوگئے تھے، یا کسی خطرے کی وجہ سے اس قدر متفکر تھے کہ گھلتے گھلتے وہ بس ہڈی اور چمڑا رہ گئے تھے۔ لیکن یہ تفسیر قرآن کے الفاظ کا ساتھ نہیں دیتی۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ " ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ " ان الفاظ کو پڑھ کر کوئی شخص بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس جسد سے مراد خود حضرت سلیمان ہیں۔ ان سے تو صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش میں ڈالے جانے سے مراد کوئی قصور ہے جو آنجناب سے صادر ہوا تھا۔ اس قصور پر آپ کو تنبیہ اس شکل میں فرمائی گئی کہ آپ کی کرسی پر ایک جسد لا ڈالا گیا، اور اس پر جب آپ کو اپنے قصور کا احساس ہوا تو آپ نے رجوع فرما لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے اور حتمی طور پر اس کی کوئی تفسیر بیان کرنے کے لیے ہمیں کوئی یقینی بنیاد نہیں ملتی۔ لیکن حضرت سلیمان کی دعا کے یہ الفاظ کہ " اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھ کو وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو "، اگر تاریخ بنی اسرائیل کی روشنی میں پڑھے جائیں تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں غالباً یہ خواہش تھی کہ ان کے بعد ان کا بیٹا جانشین ہو اور حکومت و فرمانروائی آئندہ انہی کی نسل میں باقی رہے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں " فتنہ " قرار دیا اور اس پر وہ اس وقت متنبہ ہوئے جب ان کا ولی عہد رَجُبعام ایک ایسا نالائق نوجوان بن کر اٹھا جس کے لچھن صاف بتا رہے تھے کہ وہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی سلطنت چار دن بھی نہ سنبھال سکے گا۔ ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈالے جانے کا مطلب غالباً یہی ہے کہ جس بیٹے کو وہ اپنی کرسی پر بٹھانا چاہتے تھے وہ ایک کندہ ناتراش تھا۔ تب انہوں نے اپنی اس خواہش سے رجوع کیا، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر درخواست کی کہ بس یہ بادشاہی مجھی پر ختم ہوجائے، میں اپنے بعد اپنی نسل میں بادشاہی جاری رہنے کی تمنا سے باز آیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے بعد کسی کے لیے بھی جانشینی کی نہ وصیت کی اور نہ کسی کی اطاعت کے لیے لوگوں کو پابند کیا۔ بعد میں ان کے اعیان سلطنت نے رجبعام کو تخت پر بٹھایا، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ بنی اسرائیل کے دس قبیلے شمالی فلسطین کا علاقہ لے کر الگ ہوگئے اور صرف یہوداہ کا قبیلہ بیت المقدس کے تخت سے وابستہ رہ گیا۔
Ayahs 38:36–37

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور

سورة صٓ 37 اس کی تشریح سورة انبیاء کی تفسیر میں گزر چکی ہے (تفہیم القرآن جلد سوم، ص 176۔ 177)۔ البتہ یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے۔ سورة انبیاء میں جہاں حضرت سلیمان ؑ کے لیے ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں الریح عاصفتۃً (باد تند) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور یہاں اسی ہوا کے متعلق فرمایا گیا ہے تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رُخَآءً (وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا بجائے خود تو باد تند تھی، جیسی کہ بادبانی جہازوں کو چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے، مگر حضرت سلیمان علی السلام کے لیے وہ اس معنی میں نرم بنادی گئی تھی کہ جدھر ان تجارتی بیڑوں کو سفر کرنے کی ضرورت ہوتی تھی اسی طرف وہ چلتی تھی۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دُوسرے جو پابندِ سلاسل تھے۔ 38

سورة صٓ 38 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحہ 176۔ 178۔ 562۔ 563۔ 566۔ 568۔ 575۔ 576۔ شیاطین سے مراد جن ہیں۔ اور " پابند سلاسل شیاطین " سے مراد وہ خدمت گار شیاطین ہیں جنہیں شرارت کی پاداش میں مقید کردیا جاتا تھا۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ بیڑیاں اور زنجیریں جن سے یہ شیاطین باندھے جاتے تھے، لوہے کی ہی بنی ہوئی ہوں اور قیدی انسانوں کی طرح وہ بھی لوگوں کو علانیہ بندھے ہوئے نظر آتے ہوں۔ بہرحال انہیں کسی ایسے طریقہ سے مقید کیا جاتا تھا جس سے وہ بھاگنے اور شرارت کرنے پر قادر نہ رہتے تھے۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے اُس سے کہا)”یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں۔“ 39

سورة صٓ 39 اس آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، تمہیں اختیار ہے کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہے نہ دو۔ دوسرے یہ کہ یہ ہماری بخشش ہے، جسے چاہو دو نہ دو ، دینے یا نہ دینے پر تم سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا۔ ایک اور مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ شیاطین کلیۃً تمہارے تصرف میں دے دیے گئے ہیں، ان میں سے جسے چاہو رہا کردو اور جسے چاہو روک رکھو، اس پر کوئی محاسبہ تم سے نہ ہوگا۔
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ 40

سورة صٓ 40 اس ذکر سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے کی اکڑ جتنی مبغوض ہے، اس کی عاجزی کی ادا اتنی ہی محبوب ہے۔ بندہ اگر قصور کرے اور تنبیہ کرنے پر الٹا اور زیادہ اکڑ جائے تو انجام وہ ہوتا ہے جو آگے آدم و ابلیس کے قصے میں بیان ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس ذرا لغزش بھی اگر بندے سے ہوجائے اور وہ توبہ کر کے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے تو اس پر وہ نوازشات فرمائی جاتی ہیں جو داؤد و سلیمان (علیہما السلام) پر فرمائی گئیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے استغفار کے بعد جو دعا کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کیا اور ان کو فی الواقع ایسی بادشاہی دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی تھی، نہ ان کے بعد آج تک کسی کو عطا کی گئی۔ ہواؤں پر تصرُّف اور جنوں پر حکمرانی ایک ایسی غیر معمولی طاقت ہے جو انسانی تاریخ میں صرف حضرت سلیمان ہی کو بخشی گئی ہے، کوئی دوسرا اس میں ان کا شریک نہیں ہے۔
Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایّوبؑ کا ذکر کرو، 41 جب اس نے اپنے ربّ کو پُکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے۔ 42

سورة صٓ 41 یہ چوتھا مقام ہے جہاں حضرت ایوب ؑ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نساء آیت 163، سورة انعام آیت 84، سورة انبیاء آیات 83۔ 84 میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم تفسیر سورة انبیاء میں ان کے حالات کی تفصیل بیان کرچکے ہیں۔ (تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحات 178 تا 181) سورة صٓ 42 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیطان نے مجھے بیماری میں مبتلا کردیا ہے اور میرے اوپر مصائب نازل کردیے ہیں، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت، مال و دولت کے ضیاع، اور اعزہ و اقربا کے منہ موڑ لینے سے میں جس تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہوں اس سے بڑھ کر تکلیف اور عذاب میرے لیے یہ ہے کہ شیطان اپنے وسوسوں سے مجھے تنگ کر رہا ہے، وہ ان حالات میں مجھے اپنے رب سے مایوس کرنے کی کوشش کرتا ہے، مجھے اپنے رب کا ناشکرا بنانا چاہتا ہے، اور اس بات کے درپے ہے کہ میں دامن صبر ہاتھ سے چھوڑ بیٹھوں۔ حضرت ایوب کی فریاد کا یہ مطلب ہمارے نزدیک دو وجوہ سے قابل ترجیح ہے، ایک یہ کہ قرآن مجید کی رو سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو صرف وسوسہ اندازی ہی کی طاقت عطا فرمائی ہے، یہ اختیارات اس کو نہیں دیے ہیں کہ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو بیمار ڈال دے اور انہیں جسمانی اذیتیں دے کر بندگی کی راہ سے ہٹنے پر مجبور کرے۔ دوسرے یہ کہ سورة انبیاء میں جہاں حضرت ایوب علی السلام اپنی بیماری کی شکایت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں وہاں شیطان کا کوئی ذکر نہیں کرتے بلکہ صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ، " مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔ "
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے اُسے حکم دیا)اپنا پاوٴں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے۔ 43

سورة صٓ 43 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر پاؤں مارتے ہی ایک چشمہ نکل آیا جس کا پانی پینا اور اس میں غسل کرنا حضرت ایوب ؑ کے مرض کا علاج تھا۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت ایوب ؑ کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔ بائیبل کا بیان بھی یہی ہے کہ سر سے پاؤں تک ان کا سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا تھا۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اُتنے ہی اور 44 ، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ 45

سورة صٓ 44 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری میں حضرت ایوب کی بیوی کے سوا اور سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا حتیٰ کہ اولاد تک ان سے منہ موڑ گئی تھی۔ اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرما رہا ہے کہ جب ہم نے ان کو شفا عطا فرمائی تو سارا خاندان ان کے پاس پلٹ آیا، اور پھر ہم نے ان کو مزید اولاد عطا کی۔ سورة صٓ 45 یعنی اس میں ایک صاحب عقل آدمی کے لیے یہ سبق ہے کہ انسان کو نہ اچھے حالات میں خدا کو بھول کر سرکش بننا چاہیے اور نہ برے حالات میں اس سے مایوس ہونا چاہیے۔ تقدیر کی بھلائی اور برائی سراسر وحدہ لاشریک کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے تو آدمی کے بہترین حالات کو بدترین حالات میں تبدیل کر دے، اور چاہے تو برے سے برے حالات سے اس کو بخیریت گزار کر بہترین حالت پر پہنچا دے۔ اس لیے بندہ عاقل کو ہر حالت میں اسی پر توکل کرنا چاہیے اور اسی سے آس لگانی چاہیے۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

(اور ہم نے اس سے کہا)تِنکوں کا ایک مُٹّھا لے اور اُس سے مار دے، اپنی قسم نہ توڑ۔ 46 ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رُجوع کرنے والا۔ 47

سورة صٓ 46 ان الفاظ پر غور کرنے سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر کسی کو مارنے کی قسم کھالی تھی، (روایات یہ ہیں کہ بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی) اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرما دی اور حالت مرض کا وہ غصہ دور ہوگیا جس میں یہ قسم کھائی گئی تھی، تو ان کو یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ قسم پوری کرتا ہوں تو خواہ مخواہ ایک بےگناہ کو مارنا پڑے گا، اور قسم توڑتا ہوں تو یہ بھی ایک گناہ کا ارتکاب ہے۔ اس مشکل سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح نکالا کہ انہیں حکم دیا، ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے تم نے مارنے کی قسم کھائی تھی، اور اس جھاڑو سے اس شخص کو بس ایک ضرب لگا دو ، تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور اسے ناروا تکلیف بھی نہ پہنچے۔ بعض فقہاء اس رعایت کو حضرت ایوب ؑ کے لیے خاص سمجھتے ہیں، اور بعض فقہا کے نزدیک دوسرے لوگ بھی اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پہلی رائے ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اور ابوبکر جَصّاص نے مجاہد سے نقل کی ہے، اور امام مالک ؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ دوسری رائے کو امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام زُفَر اور امام شافعی رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مثلاً اپنے خادم کو دس کوڑے مارنے کی قسم کھا بیٹھا ہو اور بعد میں دسوں کوڑے ملا کر اسے صرف ایک ضرب اس طرح لگا دے کہ ہر کوڑے کا کچھ نہ کچھ حصہ اس شخص کو ضرور لگ جائے، تو اس کی قسم پوری ہوجائے گی۔ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے ایسے زانی پر حد جاری کرنے کے معاملے میں بھی اس آیت کا بتایا ہوا طریقہ استعمال فرمایا ہے جو اتنا بیمار یا اتنا ضعیف ہو کہ سو دروں کی مار برداشت نہ کرسکے۔ علامہ ابوبکر جصاص نے حضرت سعید بن عبادہ سے روایت نقل کی ہے کہ قبیلہ بنی ساعد میں ایک شخص سے زنا کا ارتکاب ہوا اور وہ ایسا مریض تھا کہ بس ہڈی اور چمڑا رہ گیا تھا۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ خذوا عثکالاً فیہ مأۃ شمراخ فاضربوہ بھا ضربۃ واحدۃ، " کھجور کا ایک ٹہنا لو جس میں سو شاخیں ہوں اور اس سے بیک وقت اس شخص کو ماردو " (احکام القرآن)۔ مسند احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی، عبدالرزاق اور دوسری کتب حدیث میں بھی اس کی تائید کرنے والی کئی حدیثیں موجود ہیں جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ نبی ﷺ نے مرض اور ضعیف پر حد جاری کرنے کے لیے یہی طریقہ مقرر فرمایا تھا۔ البتہ فقہاء نے اس کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ ہر شاخ یا ہر تنکا کچھ نہ کچھ مجرم کو لگ جانا چاہیے، اور ایک ہی ضرب سہی، مگر وہ کسی نہ کسی حد تک مجرم کو چوٹ لگانے والی بھی ہونی چاہیے۔ یعنی محض چھو دینا کافی نہیں ہے، بلکہ مارنا ضروری ہے۔ یہاں یہ بحث بھی پیدا ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بات کی قسم کھا بیٹھا ہو اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ نامناسب بات ہے تو اسے کیا کرنا چاہیے۔ نبی ﷺ سے ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اس صورت میں آدمی کو وہی کام کرنا چاہیے جو بہتر ہو اور یہی کفارہ ہے۔ دوسری روایت حضور ﷺ سے یہ ہے کہ اس نامناسب کام کے بجائے آدمی وہ کام کرے جو اچھا ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ یہ آیت اسی دوسری روایت کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ ایک نامناسب کام نہ کرنا ہی اگر قسم کا کفارہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت ایوب ؑ سے یہ نہ فرماتا کہ تم ایک جھاڑو مار کر اپنی قسم پوری کرلو، بلکہ یہ فرماتا کہ تم یہ نامناسب کام نہ کرو اور اسے نہ کرنا ہی تمہاری قسم کا کفارہ ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی نے جس بات کی قسم کھائی ہو اسے فوراً پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔ حضرت ایوب ؑ نے قسم بیماری کی حالت میں کھائی تھی اور اسے پورا تندرست ہونے کے بعد کیا، اور تندرست ہونے کے بعد بھی فوراً ہی نہیں کردیا۔ بعض لوگوں نے اس آیت کو حیلہ شرعی کے لیے دلیل قرار دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ایک حیلہ ہی تھا جو حضرت ایوب ؑ کو بتایا گیا تھا، لیکن وہ کسی فرض سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ ایک برائی سے بچنے کے لیے بتایا گیا تھا۔ لہٰذا شریعت میں صرف وہی حیلے جائز ہیں جو آدمی کو اپنی ذات سے یا کوئی دوسرے شخص سے ظلم اور گناہ اور برائی کو دفع کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ ورنہ حرام کو حلال کرنے یا فرائض کو ساقط کرنے یا نیکی سے بچنے کے لیے حیلہ سازی گناہ در گناہ ہے۔ بلکہ اس کے ڈانڈے کفر سے جا ملتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص ان کی ناپاک اغراض کے لیے حیلہ کرتا ہے وہ گویا خدا کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔ مثلاً جو شخص زکوٰۃ سے بچنے کے لیے سال ختم ہونے سے پہلے اپنا مال کسی اور کی طرف منتقل کردیتا ہے وہ محض ایک فرض ہی سے فرار نہیں کرتا۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اس ظاہری فعل سے دھوکا کھا جائے گا اور اسے فرض سے سبکدوش سمجھ لے گا۔ جن فقہاء نے اس طرح کے حیلے اپنی کتابوں میں درج کیے ہیں ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احکام شریعت سے جان چھڑانے کے لیے یہ حیلہ بازیاں کرنی چاہییں۔ بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گناہ کو قانونی شکل دے کر بچ نکلے تو قاضی یا حاکم اس پر گرفت نہیں کرسکتا، اس کا معاملہ خدا کے حوالے ہے۔ سورة صٓ 47 حضرت ایوب ؑ کا ذکر اس سیاق وسباق میں یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کے نیک بندے جب مصائب و شدائد میں مبتلا ہوتے ہیں تو اپنے رب سے شکوہ سنج نہیں ہوتے بلکہ صبر کے ساتھ اس کی ڈالی ہوئی آزمائشوں کو برداشت کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ ان کا یہ طریقہ نہیں ہوتا کہ اگر کچھ مدت تک خدا سے دعا مانگتے رہنے پر بلا نہ ٹلے تو پھر اس سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانوں پر ہاتھ پھیلانا شروع کردیں۔ بلکہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ملنا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملنا ہے، اس لیے مصیبتوں کا سلسلہ چاہے کتنا ہی دراز ہو، وہ اسی کی رحمت کے امیدوار بنے رہتے ہیں۔ اسی لیے وہ ان الطاف و عنایات سے سرفراز ہوتے ہیں جن کی مثال حضرت ایوب ؑ کی زندگی میں ملتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ کبھی مضطرب ہو کر کسی اخلاقی مخمصے میں پھنس بھی جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں برائی سے بچانے کے لیے ایک راہ نکال دیتا ہے جس طرح اس نے حضرت ایوب علی السلام کے لیے نکال دی۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو۔ بڑی قوّتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ 48

سورة صٓ 48 اصل الفاظ ہیں اولی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ (ہاتھوں والے اور نگاہوں والے)۔ ہاتھ سے مراد، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں، قوت وقدرت ہے۔ اور ان انبیاء کو صاحب قوت وقدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت با عمل لوگ تھے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے، اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں۔ نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔ وہ حق ہیں اور حقیقت شناس لوگ تھے۔ دنیا میں اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔ ان الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو لوگ بد عمل اور گمراہ ہیں وہ درحقیقت ہاتھوں اور آنکھوں، دونوں سے محروم ہیں۔ ہاتھ والا حقیقت میں وہی ہے جو اللہ کی راہ میں کام کرے اور آنکھوں والا دراصل وہی ہے جو حق کی روشنی اور باطل کی تاریکی میں امتیاز کرے۔
Ayahs 38:46–47

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔ 49

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے

سورة صٓ 49 یعنی ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا، ان کی ساری فکر و سعی آخرت کے لیے تھی، وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبے دیے جو دنیا بنانے کی فکر میں منہمک رہنے والے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں یہ لطیف نکتہ بھی نگاہ میں رہنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لیے صرف الدار (وہ گھر، یا اصل گھر) کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس سے یہ حقیقت ذہن نشین کرنی مطلوب ہے کہ یہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہے ہی نہیں، بلکہ یہ صرف ایک گزر گاہ ہے، ایک مسافر خانہ ہے، جس سے آدمی کو بہرحال رخصت ہوجانا ہے۔ اصل گھر وہی آخرت کا گھر ہے۔ جو شخص اس کو سنوارنے کی فکر کرتا ہے وہی صاحب بصیرت ہے اور اللہ کے نزدیک لامحالہ اسی کو پسندیدہ انسان ہونا چاہیے۔ رہا وہ شخص جو اس مسافر خانے میں اپنی چند روزہ قیام گاہ کو سجانے کے لیے وہ حرکتیں کرتا ہے جن سے آخرت کا اصل گھر اس کے لیے اجڑ جائے وہ عقل کا اندھا ہے اور فطری بات ہے کہ ایسا آدمی اللہ کو پسند نہیں آسکتا۔
Ayahs 38:48–49

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیلؑ اور اَلیَسیع 50 اور ذوالکِفل 51 کا ذکر کرو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک ذکر تھا (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے

سورة صٓ 50 قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام آیت 86 میں۔ دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء میں سے تھے۔ دریائے اُردُن کے کنارے ایک مقام ایبل محولہ (Abel Meholah) کے رہنے والے تھے۔ یہودی اور عیسائی ان کو اِلِیشَع (elisha) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت الیاس ؑ جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزیں تھے، ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس آنے کا حکم دیا گیا، جن میں سے ایک کام یہ تھا یہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ اس فرمان کے مطابق جب حضرت الیاس ان کی بستی پر پہنچے تو دیکھا کہ یہ بارہ جوڑی بیل آگے لیے زمین جوت رہے ہیں اور خود بارہویں جوڑی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر اپنی چادر ڈال دی اور یہ کھیتی باڑی چھوڑ کر ساتھ ہولیے (سلاطین، باب 19، فقرات 15۔ تا۔ 21)۔ تقریباً دس بارہ سال یہ ان کے زیر تربیت رہے پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا تو یہ انکی جگہ مقرر ہوئے۔ (2 سلاطین، باب 2)۔ بائیبل کی کتاب 2 سلاطین میں باب 2 سے 13 تک ان کا تذکرہ بڑی تفصیل کے ساتھ درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی فلسطین کی اسرائیلی سلطنت جب شرک و بت پرستی اور اخلاقی نجاستوں میں غرق ہوتی چلی گئی تو آخر کار انہوں نے یا ہو بن یہوسفط بن نمسی کو اس خانوادہ شاہی کے خلاف کھڑا کیا جس کے کرتوتوں سے اسرائیل میں یہ برائیاں پھیلی تھیں، اور اس نے نہ صرف بعل پرستی کا خاتمہ کیا، بلکہ اس بدکردار خاندان کے بچے بچے کو قتل کردیا۔ لیکن اس اصلاحی انقلاب سے بھی وہ برائیاں پوری طرح نہ مٹ سکیں جو اسرائیل کی رگ رگ میں اتر چکی تھیں، اور حضرت الیسع کی وفات کے بعد تو انہوں نے طوفانی شکل اختیار کرلی، یہاں تک کہ سامریہ پر اشوریوں کے پے در پے حملے شروع ہوگئے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، ص 597۔ اور تفسیر سورة صافات، 70۔ 71) سورة صٓ 51 حضرت ذوالکفل کا ذکر بھی قرآن مجید میں دو ہی جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انبیاء۔ دوسرے یہ مقام۔ ان کے متعلق ہم اپنی تحقیق سورة انبیاء میں بیان کرچکے ہیں۔ (تفہیم القرآن جلد سوم، ص 181، 182)
Ayahs 38:50–51

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنّتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے۔ 52

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے

سورة صٓ 52 اصل الفاظ ہیں مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان جنتوں میں وہ بےروک ٹوک پھریں گے، کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہوگی بلکہ وہ مجرد ان کی خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے۔ تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے۔ یہ تیسرا مضمون قرآن مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے حَتّیٰ اِذَا جَآءُوْھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ۔ " یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے تو جنت کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ سلام علیکم، خوش آمدید، ہمیشہ کے لیے اس میں داخل ہو جایئے "۔ (الزمر۔ 73)۔
Ayahs 38:52–56

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن بیویاں 53 ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ تو ہے متقیوں کا انجام اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے، بہت ہی بری قیام گاہ

سورة صٓ 53 ہم سِن بیویوں کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔
Ayahs 38:57–61

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے اُن کے لیے ، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہُو 54

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی قسم کی دوسری تلخیوں کا

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

(وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے) "یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آ رہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں"

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ اُن کو جواب دیں گے "نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جا رہے ہو، کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو، کیسی بری ہے یہ جائے قرار"

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پھر وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے"

سورة صٓ 54 اصل میں لفظ غَسَّاق استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ایک معنی جسم سے نکلنے والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو وغیرہ کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں۔ دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں۔ اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے۔ لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے ہی معنی میں ہوتا ہے، اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔
Ayahs 38:62–64

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ آپس میں کہیں گے ”کیابات ہے ، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں بُرا سمجھتے تھے؟ 55

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں؟"

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بے شک یہ بات سچی ہے، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں

سورة صٓ 55 مراد ہیں وہ اہل ایمان جن کو یہ کفار دنیا میں برا سمجھتے تھے۔ مطلب یہ کہ وہ حیران ہو ہو کر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں کرنے پر جن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اڑایا جاتا تھا۔
Ayahs 38:65–67

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

56 (اے نبیؐ)اِن سے کہو”میں تو بس خبر دار کردینے والا ہوں۔ 57 کوئی حقیقی معبُود نہیں مگر اللہ ، جو یکتا ہے، سب پر غالب

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں، زبردست اور درگزر کرنے والا"

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

اِن سے کہو "یہ ایک بڑی خبر ہے

سورة صٓ 56 اب کلام کا رخ پھر اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جس سے تقریر کا آغاز ہوا تھا۔ اس حصے کو پڑھتے ہوئے پہلے رکوع سے مقابلہ کرتے جائیے، تاکہ بات پوری سمجھ میں آسکے۔ سورة صٓ 57 آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا تھا کہ یہ لوگ اس بات پر بڑے اچنبھے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک خبردار کرنے والا خود ان کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ان سے کہو میرا کام بس تمہیں خبردار کردینا ہے۔ یعنی میں کوئی فوجدار نہیں ہوں کہ زبردستی تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے کی طرف کھینچوں۔ میرے سمجھانے سے اگر تم نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ بیخبر ہی رہنا اگر تمہیں پسند ہے تو اپنی غفلت میں سرشار پڑے رہو، اپنا انجام خود دیکھ لو گے۔
Ayahs 38:68–70

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس کو سُن کر تم منہ پھیرتے ہو۔“ 58

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

(ان سے کہو) "مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں"

سورة صٓ 58 یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 5 میں گزری ہے کہ " کیا اس شخص نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے "۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے کتنی ہی ناک بھوں چڑھاؤ، مگر یہ ہے ایک حقیقت جس کی خبر میں تمہیں دے رہا ہوں، اور تمہارے ناک بھوں چڑھانے سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی۔ اس جواب میں صرف بیان حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے حقیقت ہونے کی دلیل بھی اسی میں موجود ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت سے ہیں جن میں سے ایک اللہ بھی ہے، تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے بس ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے، کیونکہ وہ سب پر غالب ہے، زمین و آسمان کا مالک ہے، اور کائنات کی ہر چیز اس کی ملک ہے۔ اس کے ماسوا اس کائنات میں جن ہستیوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ہستی بھی ایسی نہیں ہے جو اس سے مغلوب اور اس کی مملوک نہ ہو۔ یہ مغلوب اور مملوک ہستیاں اس غالب اور مالک کے ساتھ خدائی میں شریک کیسے ہو سکتی ہیں اور آخر کس حق کی بنا پر انہیں معبود قرار دیا جاسکتا ہے۔
Ayah 38:71

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب تیرے ربّ نے فرشتوں سے کہا”59 میں مٹّی سے ایک بشر بنانے والا ہوں، 60

سورة صٓ 59 یہ جھگڑے کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور جھگڑے سے مراد شیطان کا خدا سے جھگڑا ہے جیسا کہ آگے کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ " ملاء اعلیٰ " سے مراد فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطان کا مکالمہ دو بدو نہیں بلکہ کسی فرشتے ہی کے توسط سے ہوا ہے۔ اس لیے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بھی ملاء اعلیٰ میں شامل تھا۔ جو قصہ یہاں بیان کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے تفہیم القرآن جلد اول، ص 61 تا 69۔ جلد دوم، صفحات 10 تا 18۔ 504 تا 507۔ 627 تا 630۔ جلد سوم صفحات 29۔ 30۔ 129 تا 136۔ سورة صٓ 60 بَشَر کے لغوی معنی ہیں جسم کثیف جس کی ظاہری سطح کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی نہ ہو۔ انسان کی تخلیق کے بعد تو یہ لفظ انسان ہی کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ لیکن تخلیق سے پہلے اس کا ذکر لفظ بشر سے کرنے اور اس کو مٹی سے بنانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ " میں مٹی کا ایک پتلا بنانے والا ہوں جو بال و پر سے عاری ہوگا۔ یعنی جس کی جلد دوسرے حیوانات کی طرح اون، یا صوف یا بالوں اور پروں سے ڈھکی ہوئی نہ ہوگی۔ "
Ayahs 38:72–73

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھر جب میں اسے پُوری طرح بناد وں اور اس میں اپنی رُوح پھُونک دوں 61 تو تم اس کے آگے سجدے میں گِر جاوٴ۔“ 62

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گر گئے

سورة صٓ 61 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم ص 504۔ 505۔ جلد چہارم، السجدہ حاشیہ 16۔
Ayah 38:74

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ 63

سورة صٓ 63 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 66۔ جلد سوم، ص 30۔