38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsبیان القرآن

Ayahs 38:1–6

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے۔ (ف 1)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور حق کی) مخالفت میں ہیں۔

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا۔

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے ایک (پیغمبر) ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ شخص (خوراق میں) ساحر (اور (دعوائے نبوت میں) جھوٹا ہے۔

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

(اور) کیا (یہ شخص سچا ہوسکتا ہے کہ) اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا واقعی یہ بہت عجیب بات ہے۔

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور (توحید کے مضمون کا سن کر) ان کفار میں کے رئیس یہ کہتے ہوئے چلے آئے کہ (یہاں سے) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر قائم رہو یہ کوئی مطلب کی بات ہے۔

ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

ہم نے تو یہ بات (اپنے) پچھلے مذہب میں نہیں سنی (ف 2) ہو نہ ہو یہ (اس شحص کی) گھڑت ہے۔

ف 2۔ پچھلے مذہب کا مطلب یہ کہ دنیا میں بہت سے طریقہ کے لوگ ہوئے، سب سے پیچھے ہم موجود ہیں اور حق پر ہیں، سو ہم نے اس طریقہ کے بزرگوں سے کبھی یہ بات نہیں سنی۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی شخص پر کلام الہٰی نازل کیا گیا بلکہ یہ لوگ (خود) میری وحی کی طرف سے شک (یعنی انکار) میں ہیں (ف 3) بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا۔

ف 3۔ یعنی نفسی مسئلہ نبوت ہی کے منکر ہیں، خصوص بشر کے لئے۔
Ayahs 38:9–10

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار زبردست فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں (جس میں نبوت بھی داخل ہے) ۔ (ف 4)

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

کیا ان کو آسمان و زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں ان کا اختیار حاصل ہے (اگر اختیار ہے) تو ان کو چاہئیے کہ سیڑھیاں لگا کر (آسمان پر) چڑھ جائیں۔

ف 4۔ یعنی نبوت ایک امر عظیم ہے، اس کے عطا کے لئے معطی کا مالک الخزائن اور شدید الغلبہ اور کثیر المواہب ہونا لازم ہے۔ سو اس طرح اگر یہ ان کے اختیار میں ہوتا تو ان کو اس کہنے کی گنجائش تھی کہ ہم نے بشر کو نبوت نہیں دی، پھر وہ نبی کیسے ہوگیا، یا ہم نے فلان بشر کو دی اور فلان کو نہیں دی، اس صورت میں یہ کہنا ان کا زیبا تھا۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

اس مقام پر (ف 5) ان لوگوں کی یوں ہی ایک بھیڑ ہے مجملہ (مخالفین رسل کے) گروہوں کے جو شکست دیے جائیں گے۔

ف 5۔ یعنی مکہ میں۔
Ayahs 38:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے بھی قوم نوح (علیہ السلام) نے بھی عاد اور فرعون نے جس (سلطنت) کے کھونٹے گڑ گئے تھے۔ (ف 6)

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود نے اور قوم لوط (علیہ السلام) نے اور اصحاب ایکہ نے تکذیب کی تھی (اور) وہ گروہ یہی لوگ ہیں۔

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان سب نے صرف رسولوں کو جھٹلایا تھا سو میرا عذاب (ان پر) واقع ہوگیا۔

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ بس ایک زور کی چیخ کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی (مراد اس سے قیامت ہے) ۔

ف 6۔ یعنی اس کی سلطنت مدید اور شدید تھی۔
Ayahs 38:16–23

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمارا حصہ ہم کو روز حساب سے پہلے دے دے۔ (ف 7)

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

آپ ان لوگوں کے اقوال پر صبر کیجیئے اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجیے جو بڑی قوت (اور ہمت) والے تھے وہ خدا کی طرف رجوع ہونے والے تھے۔

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں۔

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی جو (تسبیح کے وقت ان کے پاس) جمع ہوجاتے تھے سب ان کی (تسبیح کی) وجہ سے مشغول ذکر رہتے۔

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی اور ہم نے ان کو حکممت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا فرمائی تھی۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور بھلا آپ کو ان اہل مقدمہ کی خبر بھی پہنچی ہے جب کہ وہ لوگ (داؤد کے) عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر داؤد کے پاس آئے۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

تو وہ (ان کے اس طرح آنے سے) گھبرا گئے وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو اہل معاملہ ہیں کہ ایک نے دوسرے پر (کچھ) زیادتی کی ہے سو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی مت کیجیئے اور ہم کو (معاملہ) کی سیدھی راہ بتا دیجیئے۔

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

پھر ایک شخص بولا (صورت مقدمہ یہ ہے کہ) یہ شخص میرا بھائی ہے سو اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک دنبی ہے سو یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھ کو دے ڈال اور بات چیت میں مجھ کو دباتا ہے۔

ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔
Ayahs 38:24–25

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤد نے کہا جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کرتا ہے تو واقعی تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شرکاء کی عادت ہے کہ ایک دوسرے پر (یوں ہی) زیادتی کیا کرتے ہیں مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے ان کا امتحان کیا ہے سو انہوں نے اپنے رب کے سامنے توبہ کی اور سجدے میں گر پڑے اور رجوع ہوئے۔ (ف 1)

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو وہ (امر) معاف کردیا اور ہمارے یہاں ان کے لیے (خاص) قرب اور اعلیٰ درجہ کی نیک انجامی ہے۔

ف 1۔ ان کا مجموعہ اقوال و افعال نہایت درجہ گستاخی درگستاخی ہے، پس اس میں داود (علیہ السلام) کے تحمل وصبر کا امتحان ہوگیا کہ آیا زور سلطنت میں ان متواتر گستاخیوں پر داروگیر کرتے ہیں یا غلبہ نور نبوت سے عفو فرماتے ہیں۔ چناچہ امتحان میں صابر ثابت ہوئے، اور مقدمہ کو نہایت ٹھنڈے دل سے سماعت اور فیصل فرمایا لیکن عدل کے جس درجہ علیاء قصوی کو مقتضی ہے اس سے بظاہر ایک گونہ بعید اتنا خفیف سا یہ امر پیش آگیا کہ بعد قیام برہان شرعی بجائے اس کے کہ صرف ظالم سے یہ خطاب فرماتے کہ تو نے ظلم کیا اس مظلوم سے یہ خطاب فرمایا کہ تجھ پر ظلم کیا، جس سے ایک صورت طرفداری کی متوہم ہوتی ہے لیکن اس متوہم طرفداری کا بھی نہ ہونا اعدل و اکمل تھا۔ سو غایت تقوی سے اتنی بات کو بھی مخل کمال صبر و منافی ثبات فی الامتحان سمجھے۔
Ayahs 38:26–28

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تم کو زمین پر حاکم بنایا ہے سو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا اور آئندہ بھی نفسانی خواہش پر پیروی مت کرنا (اگر ایسا کرو گے تو) وہ خدا کے راستہ سے تم کو بھٹکا دے گی جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے۔ (ف 2)

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو چیزیں ان کے درمیان موجود ہیں ان کو خالی از حکمت نہیں پیدا کیا یہ (یعنی ان کا خالی از حکمت ہونا) ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لیے (آخرت میں) بڑی خرابی ہے یعنی دوزخ۔

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی برابر کردیں گے جو (کفر وغیرہ کر کے) دنیا میں فساد کرتے پھر تے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے۔

ف 2۔ یہ بات اوروں کو سنا جو ٹھیک رہی ہے۔
Ayahs 38:29–33

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر اس واسطے نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل فہم نصیحت حاصل کریں۔ (ف 3)

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان (علیہ السلام) عطا کیا بہت اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

چناچہ (وہ قصہ ان کا یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ شام کے وقت ان کے روبرو اصیل (اور) عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ افسوس میں اس مال کی محبت میں (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ آفتاب پر دہ (مغرب) میں چھپ گیا۔

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(پھر حشم و خدم کو حکم دیا کہ) ان گھوڑوں کو ذرا پھر تو میرے سامنے لاؤ سو انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے) ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔

ف 3۔ یعنی اس پر عمل کریں۔
Ayahs 38:34–39

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو (ایک اور طرح بھی) امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کے تخت پر (ایک ادھورا) دھڑ ڈالا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا۔ (ف 1)

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

دعا مانگی کہ اے میرے رب میرا (پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لیے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانے میں) کسی کو میسر نہ ہو آپ بڑے دینے والے ہیں۔

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

سو ہم نے انکی دعا قبول کی اور (نیز) ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تاکہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ (جانا) چاہتے نرمی سے چلتی۔

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور جنات کو بھی انکے تابع کردیا یعنی تعمیر بنانے والوں کو بھی اور غوطہ خوروں کو بھی۔

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

( اور ہم نے یہ سامان دے کر ارشاد فرمایا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے سو خواہ (کسی کو) دو یا نہ دو تم سے کچھ داروگیر نہیں۔

ف 1۔ حدیث شیخین میں ہے کہ ایک بار سلیمان (علیہ السلام) اپنے امراء لشکر پر ان کی کسی کوتاہی جہاد پر خفا ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں آج کی رات اپنی ستر بیبیوں سے ہمبستر ہوں گا اور ان سے ستر مجاہد پیدا ہوں گے، فرشتہ نے قلب میں القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے، آپ کو کچھ خیال نہ رہا۔ چناچہ صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اور اس سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا، جس کے ایک طرف کا دھڑ نہ تھا۔