Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة صٓ 64
یہ الفاظ تخلیق انسانی کے شرف پر دلالت کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ بادشاہ کا اپنے خدام سے کوئی کام کرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک معمولی کام تھا جو خدام سے کرا لیا گیا۔ بخلاف اس کے بادشاہ کا کسی کام کو بنفس نفیس انجام دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک افضل و اشرف کام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جسے میں نے خود بلا واسطہ بنایا ہے اس کے آگے جھکنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟
" دونوں ہاتھوں " کے لفظ سے غالباً اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کے دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
(آیت) لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۔ یہاں حضرت آدم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا کیا۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ”ہاتھوں“ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ہاتھ ہیں جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعضاء وجوارح کی احتیاج سے منزہ ہے۔ لہٰذا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور عربی زبان میں لفظ ”ید“ بکثرت قدرت کے معنی میں مستعمل ہے، مثلاً ارشاد ہے(آیت) بیدہ عقدة النکاح۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ اور یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرت خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن جب باری تعالیٰ کسی…
Read the full tafseer →قال یا بلیس مامنعک ان تسجدبما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالین (75)
انسان قدرت کا ایک شاہکار ہے
ابلیس کے سجدہ نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اس سے بانداز عتاب سوال فرمایا کہ جس چیز کو میں نے خاص اپنے اتھ سے پیدا کیا آخر اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہوئی، کیا یہ محض تیرا غرور ہے یا تو کوئی برتر مخلوق ہے ! خلقت بیدی سے اس خاص اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے لئے فرمایا۔ انسان اپنی صالحیتوں کے اعتبار سے قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ اگر یہ اپنی صلاحیتیں صحیح طور پر استعمال کرے تو جنوں کو مسخر کرلینا تو معمولی بات ہے، یہ فرشتوں سے بھی بازی لے جاتا ہے۔ تمام جہان اس کے…
Read the full tafseer →75۔ 1 یہ بھی انسان کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 75
میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ؟ اللہ تو سب مخلوقات کا خالق ہے۔ لہٰذا انسان کی تخلیق میں کوئی امتیازی بات ہے ' اس لیے یہاں اللہ نے اپنے دست قدرت کا ذکر کیا ۔ وہ خصوصیت یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے اس مخلوق پر مخصوص عنایات کی ہیں ، اس میں اپنی مخصوص روح پھونکی ہے اور اس پر بہت کچھ عنایات کی ہیں۔
تو نے میرے حکم کے مقابلے میں سرکشی کی ہے یا تو کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ہے۔ (ام کنت من العالین (38:
75) یعنی ان لوگوں میں سے ہے جو میری بغاوت پر تلے ہوئے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے اور روح کو غیب (باطن) کے ہاتھ سے۔ اللہ غیب کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں دوسری طرح کی قدرت سے بناتا ہے اس انسان میں دونوں طرح کی قدرت خرچ کی۔ " ( سورة " مائدہ " میں پارہ ششم کے ختم کے قریب "ۘبَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ " کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے) ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعوت وصفات میں سلف کا مسلک ہی اقوی و احوط ہے۔
6 یا جان بوجھ کر اپنے کو بڑا بنانا چاہا۔ یا واقعے میں تو اپنا مرتبہ ہی اونچا سمجھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 75 { قَالَ یٰٓاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ } ”اللہ نے فرمایا : اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کو سجدہ کرتا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے ؟“
یہاں پر آدم علیہ السلام کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کا اپنے دونوں ہاتھوں سے نسبت دینا بہت اہم اور قابل غور ہے۔ قرآن کریم میں اللہ کی قدرت کے استعارے کے طور پر اللہ کے ہاتھوں کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ جیسے سورة یٰـسٓ کی آیت 71 میں فرمایا گیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں اَیدِینَا سے ان کے لیے چوپائے بنائے ہیں ‘ لیکن آیت زیر مطالعہ میں ”دونوں ہاتھوں“ کا ذکر خصوصی اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ میرے نزدیک اس سے دو عالم…
Read the full tafseer →70 اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پاؤ : اللہ تعالیٰٰ نے بڑی صراحت سے فرمایا کہ آدم کے پتلے کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔ اس سے کائنات کی تمام اشیاء پر آدم اور بنی آدم کا شرف اور فضیلت ثابت ہوئی۔ دوسرے اس سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا رد ہوا۔ تیسرے ان لوگوں کا جو اللہ کے ہاتھ، آنکھیں اور پاؤں وغیرہ ہونے کے یکسر منکر ہیں۔ ان کی بنائے استدلال یہ ہے کہ اللہ کی ذات ہر جگہ موجود ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں کیسے ہوسکتے ہیں لامحالہ ایسی آیات اور ایسے الفاظ کی تاویل کرنا ضروری ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اپنی صفات علم اور قدرت وغیرہ کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کی ذات عرش پر ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ خود…
Read the full tafseer →65۔ یعنی اس کی ایجاد کی طرف خاص عنایت ربانی متوجہ ہوئی، یہ تو اس کا شرف فی نفسہ ہوا۔ اور پھر اس کے روبرو سجدہ کرنے کا حکم بھی مل چکا (تھانوی (رح) (آیت) ” بیدی “۔ ید کے معنی یہاں قدرت کے بھی کیے گئے ہیں اور نعمت کے بھی، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ جب کوئی سلطان اعظم کسی عمل کو اپنے دست خاص کی جانب منسوب کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد عنایت خاص ہوتی ہے، تخلیق آدم براہ راست اور بلاواسطہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ قیل لما خلقت بغیر واسطۃ (قرطبی) یدی کے صیغہ تثنیہ کی توجیہ میں بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ مراد صفات جمال و جلال ہیں، اور یہ ام الصفات ہیں، صفات لطف وقہر ہی کی ایک تعبیر قوائے ملکوتی وقوائے حیوانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →قال یا بلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالمین اللہ
نے فرمایا : اے ابلیس ! جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ‘ اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس بات نے روکا ؟ کیا تو غرور میں آگیا یا (واقع میں) تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے ؟
خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ‘ یَدَیَّکا لفظ متشابہات میں سے ہے۔ علماء سلف اس کی کوئی (مرادی) تاویل نہیں کرتے ‘ بس اتنا ایمان رکھتے ہیں کہ یدیّ کا ترجمہ ہے : میرے دونوں ہاتھ۔ لیکن ہاتھوں سے کیا مراد ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو نہیں معلوم ‘ اللہ ہی جانے۔ علماء متاخرین کہتے ہیں : اپنے ہاتھوں سے پیدا کرنے سے یہ مراد ہے کہ میں نے براہ راست ‘ ماں باپ کے توسط کے بغیر اس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کہ اے خبیث جس چیز کو میں نے اپنے (قدرت کے) ہاتھوں سے بنایا اس کو سجدہ کرنے سے تو غرور میں آگیا یا یہ کہ تو میرے حکم کی مخالفت کرنے والوں میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ : اس آیت سے آدم ؑ کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تفصیل سورة مائدہ کی آیت (64) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : (بل یدہ مبسوطتن) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ : ”اَسْتَكْبَرْتَ“ اصل میں ”أَ اِسْتَکْبَرْتَ“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
75 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
1:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے…
Read the full tafseer →قَالَ [(اللہ تعالیٰ نے) کہا ] يٰٓـاِبْلِيْسُ [اے ابلیس ] مَا مَنَعَكَ [کس چیز نے منع کیا تجھ کو ] اَنْ تَسْجُدَ [کہ تو سجدہ کرے ] لِمَا [اس کے لئے جسے ] خَلَقْتُ [میں نے پیدا کیا ] بِيَدَيَّ ۭ [اپنے دونوں ہاتھوں سے ] اَسْتَكْبَرْتَ [کیا تو نے بڑائی اختیار کی ] اَمْ كُنْتَ [یاتو تھا (ہی)] مِنَ الْعَالِيْنَ [بلند (سر چڑھے) لوگوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔
ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ 0ۭ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ 75
بلس
الإِبْلَاس : الحزن المعترض من شدة البأس، يقال : أَبْلَسَ ، ومنه اشتق إبلیس فيما قيل . قال عزّ وجلّ : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] ، وقال تعالی:
أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] ، وقال تعالی: وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] . ولمّا کان المبلس کثيرا ما يلزم السکوت وينسی ما يعنيه قيل : أَبْلَسَ فلان : إذا سکت وإذا انقطعت حجّته، وأَبْلَسَتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →قَالَ یٰٓـاِبْلِیْسُ مَامَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَلِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ط اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ۔ (صٓ: 75)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابلیس ! کس چیز نے تجھے اس چیز کو سجدہ کرنے سے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، یہ تو نے تکبر کیا یا تو اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ہے۔ )
ابلیس پر عتاب اور استفسار
اللہ تعالیٰ نے ابلیس پر عتاب فرماتے ہوئے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا اور ساتھ ہی یہ بات بھی واضح فرمائی کہ جس ذات کو تمہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تم نے صرف اس کی ذات کو دیکھا اور ان بنیادی عناصر پر توجہ کی جس سے اس کا قالب تیار ہوا تھا۔ لیکن تم نے یہ نہ دیکھا کہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کا کام لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو لوگ برے انجام سے بےخوف ہوں گے ان کا انجام ابلیس جیسا ہوگا۔
نبی آخر الزمان ﷺ نے کفار اور مشرکین کو بار بار برے انجام سے متنبہ فرمایا مگر وہ لوگ دعوت قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے اس پر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ انہیں سنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملائکہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے لیکن ہر موقعہ پر جدا گانہ الفاظ اور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے اللہ…
Read the full tafseer →75: قَالَ یٰٰٓاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ (فرمایا اے ابلیس کونسی چیز تجھ کو سجدہ کرنے سے مانع بنی) تمہیں کس چیز نے سجدہ سے روکا۔ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ (جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا) یعنی بلاواسطہ کے میرے حکم کو مانتے ہوئے اور میرے خطاب کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے۔
نادرتحقیق :
یہ بات گزری ہے کہ دو ہاتھوں والا اعمال کو چونکہ براہ راست ہاتھوں سے انجام دیتا ہے۔ اس لئے تمام اعمال پر ہاتھوں کا عمل اس قدر غالب آیا کہ تمام اعمال کی تعبیر یدین سے کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اعمال قلبیہ کیلئے بھی کہتے ہیں ھو ما عملت یداک بلکہ جس آدمی کے ہاتھ بالکل نہ ہوں اس کو بھی کہتے ہیں۔ یداک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
75، قال یا ابلیس مامنعک ان لا تسجد لما خلقت بیدی استکبرت، الف استفہام کا ہے۔ الف وصل کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ ، ام کنت من العالین، اس سے مراد متکبرین ہیں ۔ یہ استفہام تو بیخ اور انکار کے طور پر ہے۔ اس نے سجدہ کرنے سے تکبر کیا اور سجدہ سے انکار کیا یا اس نے ایسی قوم کی طرح تکبر کیا جو سجدہ سے تکبر کرنے کی بناء پر سجدہ نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–88
آیت 74، 88
(قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →86 انسان کی تخلیق قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو ابلیس کے انکار پر اس سے بطور عتاب فرمایا گیا کہ " تو نے اس چیز کو آخر سجدہ کیوں نہیں کیا جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ؟ "۔ یعنی تخلیق کے ظاہری اسباب کے بغیر براہ راست و بلاواسطہ اپنی خاص عنایت و اہتمام سے۔ اور پھر مزید تعظیم اور اظہار شان کے لئے { یَدِیْ } مفرد نہیں فرمایا بلکہ { یَدَیَّ } تثنیہ کا صیغہ اختیار فرمایا گیا ہے۔ ورنہ اس سے مراد دونوں ہاتھوں سے اس طرح کے کام کرنا نہیں جس طرح ہم مخلوق میں سے کوئی کرتا ہے کہ وہ خالق ومالک اس طرح کے ہر تصور سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس خاص اہتمام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی بلا واسطہ خود بنایا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے ” دونوں ہاتھوں “ کی تاویل بعض لوگوں نے قدرت سے کی ہے مگر صفات الٰہی میں تاویل جائز نہیں اور سلف (رح) کے مسلک کے خلاف ہے۔13 یعنی کیا اس مرتبہ کو پہنچ گیا ہے کہ میرا حکم نہ مانے
Read the full tafseer →(38:75) قال ای قال اللّٰہ تعالیٰ ۔
ما منعک ان تسجد : ما موصولہ ہے اور ان مصدریہ ای من السجود۔
لما خلقت بیدی۔ میں ما موصولہ ہے ای للذی خلقتہ۔ جسے میں نے پیدا کیا۔ بیدی (میرے دونوں ہاتھوں سے) میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یعنی اپنی قدرت کاملہ سے بلا توسط ماں باپ کے۔ تثنیہ کا استعمال تاکید کے لئے۔
استکبرت۔ اصل میںء استکبرت تھا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے آنے سے ہمزہ وصل ساقط ہوگیا۔ ای أتکبرت میں غیر استحقاق کیا بغیر استحقاق کے تو تکبر میں آگیا یعنی فی الواقع تو بڑا نہیں تھا لیکن اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا۔ اپنے آپ ہی بڑا بن رہا ہے۔
ام کنت من العالین : ام بمعنی۔ یا۔ عالین اسم فاعل جمع مذکر عالی واحد علو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–88
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
اللہ کے نائب کا عہدہ
1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند…
Read the full tafseer →(75) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابلیس جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا اور باز رکھا تو نے اپنے کو بڑا سمجھا اور غرور کیا یا تو واقعی بلند مرتبہ والوں میں سے ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دو ہاتھوں سے یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے اور روح کو غیب کے ہاتھ سے غیب کی چیزیں بناتا ہے ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اس انسان میں دونوں طرح قدرت خرچ کی۔
مطلب تو ہم سورة بقر میں عرض کرچکے ہیں یہاں اتنا سمجھ لیجئے کہ جس مخلوق کو ہم نے صفت جلال اور صفت جمال سے آراستہ کیا اور جس کو متضاد قوتیں عطا کیں تو اس کے سامنے سجدہ کرنے سے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی جس کے ایجاد کی طرف خاص عنایت ربانیہ متوجہ ہوئی، یہ تو اس کا شرف فی نفسہ ہے اور پھر اس کے سامنے سجہد کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
Read the full tafseer →ابلیس کی طف سے جواب اور ( انا خیر منہ ) کی بےجا بڑا اور بکواس
75۔ بعینہ یہی الفاظ سورة الاعراف کی آیت 16 میں گزر چکے ہیں اور سورة الاعراف عروہ الوثقی کی تیسری جلد میں ملے گی وہاں سے وضاحت دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
In verse 75, it was said: لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (what I created with My hands...):
Here, it is about Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) that Allah Ta’ ala has said that it is He who had created him with His hands. There is a consensus among the majority of the Muslim Ummah that "hands" do not mean that Allah Ta’ ala has hands as human being do. The reason is that Allah Ta’ ala is absolutely pure and free from the need of body or its active limbs. Therefore, it means the power and control of Allah Ta’ ala and that the word: یَد (yad: hand) is commonly used in the Arabic language in the sense of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
64 These words have been used to point out the honour, rank and glory bestowed on man by his Creator. In other words, Allah did not get man created through his angels but created him Himself because his creation was a highly noble task. Therefore, what is meant to be said is: "What has prevented you from prostrating yourself before him whom I have made directly Myself?" The words "both hands" probably are meant to refer to the fact that this new creation combines in itself two important aspects of Allah's power of creation: (1) That man has been given an animal body on account of which he…
Read the full tafseer →