Saad 38:74

Saad · from ayah 74

38:74

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ؕ— اِسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ ۟اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اِسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ

مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except Iblees; he was arrogant and became among the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:74

مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا اور وه تھا کافروں میں سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ ابلیس نے نہ کیا، اس نے تکبر سے کام لیا اور کافروں میں شامل ہوگیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر ابلیس نے اس نے غرور کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سوائے ابلیس کے، اس نے (شانِ نبوّت کے سامنے) تکبّر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور کافروں سے ہوگیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سوائے ابلیس کے، جو اکڑ بیٹھا اور کافروں سے ہوگیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بجزابلیس کے اس نے گھمنڈ کیا اور انکار کرنے والوں میں سے بن گیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر ابلیس کہ اس نے گھمنڈ کیا اپنی (من گھڑت اور جھوٹی) بڑائی کا اور (وہ علم الہٰی میں) تھا ہی کافروں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

مگر ہاں ابلیس نے (نہ کیا) وہ غرور میں آگیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے ابلیس کے اس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر شیطان اکٹر بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا

— محترمہ رفعت اعجاز

except Iblis. He waxed proud and became one of the unbelievers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except Iblis (Satan). He waxed proud, and became one of the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

except Iblis (Satan). He waxed proud, and became one of the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Saving Iblis; he was scornful and became one of the disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except Iblees; he was arrogant and became among the disbelievers.

— Saheeh International

except Iblis who puffed himself up with pride and became a disbeliever.

— Muhammad Sarwar

But not Iblis: he was proud and he was one of the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

Not so lblis. He grew stiffnecked and became of the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

Not so Iblis: he was haughty, and became one of those who reject Faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–85

تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔ یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–74

(آیت) اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ، (جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا، الخ) یہاں تخلیق آدم کا جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی مذکورہ بالا گفتگو کی طرف اشارہ کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح ابلیس نے محض حسد اور تکبر کی وجہ سے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا، اسی طرح مشرکین عرب بھی حسد اور تکبر کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مان رہے، اور جو انجام ابلیس کا ہوا وہی ان کا بھی ہونا ہے۔ (تفسیر کبیر)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–74

آیات استکبار کا شجرہ نسب یہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کرچکے ہیں۔ خاص طور پر اچھی طرح وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرہ نسب بیان کرنے کے لئے آیا ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتدا میں بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق کے ال فاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس پوری سورة میں رب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس ائٓینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اس نے آدم ؑ کو سجدہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

74۔ 1 اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کردیا۔ 74۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہوگیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–80

27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 74 کیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا ؟ ظاہر یہ ہے کہ نہ تھا۔ کیونکہ اگر یہ فرشتوں میں سے ہوتا تو معصیت کیسے کرتا اس لیے کہ فرشتے تو اللہ کے اوامر سے معصیت نہیں کرتے اور ان کو جو بھی حکم دیا جاتا ہے۔ اسے وہ کر گزرتے ہیں۔ آئندہ یہ بات آئے گی یہ آگ سے پیدا شدہ مخلوق ہے۔ اور یہ بات معقول ہے کہ فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن وہ فرشتوں میں رہتا تھا۔ اور اسے بھی حکم دیا گیا تھا کہ سجدہ کرو۔ اور حکم دیتے وقت صرف فرشتوں کا تذکرہ ہوا۔ اور اس کا تذکرہ نہ ہوا یعنی ” یہ نہیں کہا اے فرشتو اور شیطان سجدہ کرو “۔ اس لیے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ نافرمانی کرے گا لہٰذا اسے نظر انداز کرنے کے لیے ایسا کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 73–74

3 یہ قصہ سورة " بقرہ "، " اعراف " وغیرہ کئی سورتوں میں گزر چکا اعراف کے فوائد میں ہم نے مفصل بحث کی ہے اسے ایک مرتبہ دیکھ لیا جائے۔ 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ (ابلیس اصل سے) جن تھا جو اکثر خدا کے حکم سے منکر ہے۔ لیکن اب (اپنی کثرت عبادت وغیرہ کے سبب سے) رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 74 { اِلَّآ اِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ } ”سوائے ابلیس کے ‘ اس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔“ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا۔ کفر اور تکبر اس کے اندر پہلے سے موجود تھا جو اس موقع پر کھل کر سامنے آگیا۔ جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر بہت سے منافقین کا نفاق واضح ہو کر ان کی زبانوں پر آگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–74

69 فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم :۔ اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ کا چوتھا رکوع، سورة حجر کی آیات 25 تا 43، سورة اعراف آیات 11 تا 15، سورة بنی اسرائیل آیات 61 تا 65، سورة کہف آیت نمبر 50، سورة طہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورة حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 73–74

64۔ (اس صریح نافرمانی کے نتیجہ کے طور پر) عزازیل جس کا لقب بعد کو ابلیس پڑا فرشتہ نہ تھا، جن تھا، جیسا کہ سورة الکہف میں بصراحت مذکور ہے۔ تعظیم آدم کا حکم جب فرشتوں کو ہوا جو اشرف واعلیٰ تھے تو جنات جو ان سے پست وفروتر تھے اس حکم کے مخاطب بدرجہ والی ہوئے۔ (آیت) ” ابلیس “۔ ابلیس پر مفصل حاشیے سورة البقر (پ 1) اور سورة الکہف (پ 16) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فسجد الملئکۃ “۔ حکم سجدہ سے ضروری نہیں کہ یہی متعارف واصطلاحی سجدہ مراد ہو۔ ہوسکتا ہے کہ مطلق انحناء اور محض تعظیم مراد ہو۔ حاشیے پہلے گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا ابلیس استکبر وکان من الکفرین سوائے ابلیس کے کہ وہ غرور میں آگیا اور منکرین (حکم) میں سے ہوگیا۔ اِذَا سَوَّیْتُہٗ جب میں اس کی بناوٹ پوری کر چکوں۔ اِسْتَکْبَرَ وہ بڑا بنا ‘ مغرور ہوگیا۔ کَانَ ہوگیا ‘ یعنی اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کے مقابلہ میں اس نے غرور کیا ‘ یا اطاعت حکم سے اس نے اپنے کو اونچا سمجھا۔ یا (کَانَکا اصل معنی ہی مراد ہے یعنی) اللہ کے علم میں وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 73–74

(73۔ 74) چناچہ سارے فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ وہ آدم کو سجدہ کرنے سے تکبر میں آگیا اور حکم الہی کا انکار کرنے کی وجہ سے کافروں میں سے ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 71–74

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : یہ ملأ اعلیٰ میں ہونے والی ایک بحث کا ذکر ہے جو آدم ؑ کی پیدائش کے متعلق ہوئی۔ اس مجلس میں فرشتوں کے ساتھ ابلیس بھی تھا اور اسے بھی آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تفصیل سورة اعراف (11) میں دیکھیے۔ مفسر رازی نے فرمایا : ”اس قصّے کے یہاں خاص طور پر ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے روکنے والی چیز ان کا حسد اور کبر تھا، ابلیس پر لعنت کا سبب بھی اس کا آدم ؑ پر حسد اور کبر تھا، اس لیے کفار کو یہ قصّہ سنایا۔“ اللہ تعالیٰ کے آدم ؑ کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے کا حکم دینے اور شیطان کے سجدے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–74

71 ۔ 74:۔ اذ کا تعلق یختصمون کے ساتھ معنی یہ ہے جب وہ جھگڑ رہے تھے تو مجھے ملا اعلی کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اذ قال یہ اذیختصمون سے بدل ہے تختصمون مخدوف کے متعلق ہے کیونکہ معنی ہے جس ملا اعلی والے جھگڑ رہے تھے تو مجھے ان کی گفتگو کا کچھ علم نہ تھا فاذا سویتہ اذا یہ ماضی کے فعل کو مستقل کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ یہ حروف شرط کے مشابہ ہے اس کا جواب حرف شرط کے جواب جیسا ہوتا ہے یعنی جب میں نے اسے پیدا کیا من روحی سے مراد ایسی روح ہے جس کا میں مالک ہوں میرے سوا کوئی اس کا مالک نہیں یہ اضافت کا معنی ہے سورة النساء آیت 171 میں و روح منہ کے ًضمن میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے۔ سجدین۔ حال کی حیثیت سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 71–74

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ واذ قال ربک للملئکۃ “ (یہ میرے پاس کوئی علم نہیں اوپر والے معزز فرشتوں کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے جب تیرے رب نے کہا فرشتوں سے فرمایا اسی بارے میں فرشتے جھگڑ رہے تھے۔ ابلیس تکبر کی وجہ سے ذلیل ہوا :

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ [سوائے ابلیس کے ] اِسْتَكْبَرَ [اس نے تکبر کیا ] وَكَانَ [اور وہ تھا ] مِنَ الْكٰفِرِيْنَ [انکار کرنے والوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–74

ابلیس کی حکم عدولی اور سرتابی، حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے مستحق لعنت ہونا اور بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھانا ان آیات میں تخلیق آدم اور پھر فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم اور ان کے سجدہ کرنے کا واقعہ اور ابلیس کے انکار کا تذکرہ فرمایا ہے یہ مضمون سورة بقرہ رکوع 4 اور سورة اعراف رکوع 2 اور سورة حجر رکوع 3 اور سورة الاسراء رکوع 6 میں بھی گزر چکا ہے وہاں جو ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں طین یعنی کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کروں گا جب میں اسے پیدا کردوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

48:۔ ” الا ابلیس الخ “ یہ جنات کا حال ہے کہ ابلیس جو بہت بڑے اور اونچے رتبے کا مالک تھا۔ بڑا عبادت گذار اور مقرب تھا۔ (شعر) صد ہزاراں سال ابلیس لعیں۔ بود از ابدال امیر المؤمنون۔ لیکن اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ملعون و مطرود ہوا۔ اس لیے وہ بھی شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ یا اس کا ربط یہ ہے کہ دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور دعوی توحید کو مان لو۔ ” اِسْتَکْبَرَ ۔ ابلیس نے تکبر کیا۔ اور آدم خاکی کو اپنے مرتبے سے کم جان کر حقیر سمجھا۔ وَکَانَ ، ای و صار منہم باستکبارہ و تعاظمہ علی امر اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 225) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں غرور و استکبار کی وجہ سے کافر ہوگیا یا ” کان “ اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–85

ربط آیات : گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝ 0ۭ اِسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ۝ 74 بلس الإِبْلَاس : الحزن المعترض من شدة البأس، يقال : أَبْلَسَ ، ومنه اشتق إبلیس فيما قيل . قال عزّ وجلّ : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] ، وقال تعالی: أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] ، وقال تعالی: وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] . ولمّا کان المبلس کثيرا ما يلزم السکوت وينسی ما يعنيه قيل : أَبْلَسَ فلان : إذا سکت وإذا انقطعت حجّته، وأَبْلَسَتِ الناقة فهي مِبْلَاس : إذا لم ترع من شدة الضبعة . وأمّا البَلَاس :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–84

ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔ تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–74

اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُـہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَـہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط اِسْتَـکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (صٓ: 71 تا 74) (اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو درست کردوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ بجز ابلیس کے، اس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ ) اس بات کی تائید میں کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–74

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

74: اِلَّآ اِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ (مگر ابلیس نے تکبر کیا) سجدہ کرنے سے بڑائی ظاہر کی وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ (اور کافروں میں سے ہوگیا) حکم کے انکار کی وجہ سے کافروں میں سے ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 72–74

72، فاذا سویتہ، جب ہم نے اس کی خلقت کو پورا کیا۔ ، نفخت فیہ من روحی فقعوالہ ساجدین،۔۔۔۔۔۔۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–81

71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–88

آیت 74، 88 (قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 73–74

85 شیطان کے استکبار کا باعث اس کا کفر و انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ تھا ہی کافروں میں سے "۔ یعنی کان کے صیغے میں یہاں پر دو احتمال ہیں اور وہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ اور دونوں ہی حضرات اہل علم سے مروی و منقول ہیں۔ ایک یہ کہ " کان " یہاں پر " صار " کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی اپنے اس انکار و استکبار کی بناء پر وہ ملعون کافر ہوگیا۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہاں پر " کان " کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جائے۔ یعنی یہ کہ علم الہٰی میں اور حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ کافر تو پہلے ہی سے تھا لیکن اس کے اس کفر کا ظہور اب جا کر اس واقعے کے ذریعے ہوا۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی احتمال کو اختیار کیا ہے۔ ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–88

شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے کافر ہوگیا۔ یا کافروں ہی میں سے تھا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ جن تھا وہ اکثر خدا کے حکم کے منکر تھے لیکن اب رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:74) الا ابلیس اسکتبر وکان من الکفرین : استکبر ماضی واحد مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر سے ۔ وہ بڑا مغرور ہوگیا ۔ یعنی کسی استحقاق کے گھمنڈ میں آگیا۔ کان کے دو معنی ہوسکتے ہیں :۔ (1) کان بمعنیصار۔ یعنی ہوگیا۔ یعنی اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اس نے غرور کیا اور اطاعت حکم سے اس نے اپنے آپ کو اونچا سمجھا اور اس طرح کافروں میں سے ہوگیا۔ (2) کان بمعنی تھا۔ یعنی اللہ کے علم میں وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا۔ اگر معنی نمبر (1) لئے جاویں تو الا ابلیس مستثنیٰ متصل ہوگا۔ اور وہ ملائکہ کے زمرہ میں (بحیثیت جنس کے نہیں بحیثیت مصاحبت) شمار ہوگا۔ اور اگر معنی نمبر (2) لئے جاویں تو استثناء منقطع ہوگا تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–81

(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–84

اللہ کے نائب کا عہدہ 1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(74) مگر ابلیس نے کہ اس نے اپنے کو بڑا سمجھا اور غرور کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ کلھم بھی فرمایا اور اجمعون بھی مطلب یہ ہے کہ سب نے مل کر بیک وقت ان کے سامنے سجدہ کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جن تھا وہ اکثر خدا کے حکم سے منکر تھے لیکن رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 69–74

ف 3۔ اللہ تعالیٰ سے ملائکہ کی گفتگو کو مجازا اختصام کہا گیا کہ ظاہرا مشابہ اختصام کے تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابلیسی طاقت و قوت کو مخاطب کر کے اس طرح سوال پوچھا گیا 74۔ ابلیسی طاقت و قوت کو مخاطب کرنے والا کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس طرح پوچھنا ہی انسانی شرف وعزت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر تخلیق آدم کوئی معمولی کام ہوتا تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعہ سے یہ بات پوچھتا لیکن قرآن کریم میں یہ خطاب ہر جگہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ رب کریم کا بنفس نفیس یہ استفسار کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی افضل و اشرف کام تھا اور اس بات کی ہم پہلے وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بنفس نفیس کسی کو خطاب اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–74

In verse 71, it was said: إِذْ قَالَ رَ‌بُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ (When your Lord said to the angels...): Mentioned here is the event of the creation of 'Adam (علیہ السلام) . Not only that it alludes to the conversation between Allah Ta’ ala and the angels mentioned above, but also invites our attention towards the way Iblis had refused to prostrate himself before Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) just because of his envy and arrogance, very similarly, the Mushriks of Arabia were not willing to accept his advice because of their envy and arrogance - hence, they were going to meet the same fate as was…

Read the full tafseer →