Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 59
یہ جھگڑے کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور جھگڑے سے مراد شیطان کا خدا سے جھگڑا ہے جیسا کہ آگے کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ " ملاء اعلیٰ " سے مراد فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطان کا مکالمہ دو بدو نہیں بلکہ کسی فرشتے ہی کے توسط سے ہوا ہے۔ اس لیے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بھی ملاء اعلیٰ میں شامل تھا۔ جو قصہ یہاں بیان کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے تفہیم القرآن جلد اول، ص 61 تا 69۔ جلد دوم، صفحات 10 تا 18۔ 504 تا 507۔ 627 تا 630۔ جلد سوم صفحات 29۔ 30۔ 129 تا 136۔
سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(آیت) اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ، (جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا، الخ) یہاں تخلیق آدم کا جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی مذکورہ بالا گفتگو کی طرف اشارہ کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح ابلیس نے محض حسد اور تکبر کی وجہ سے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا، اسی طرح مشرکین عرب بھی حسد اور تکبر کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مان رہے، اور جو انجام ابلیس کا ہوا وہی ان کا بھی ہونا ہے۔ (تفسیر کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
آیات
استکبار کا شجرہ نسب
یہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کرچکے ہیں۔ خاص طور پر اچھی طرح وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرہ نسب بیان کرنے کے لئے آیا ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتدا میں بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق کے ال فاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس پوری سورة میں رب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس ائٓینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اس نے آدم ؑ کو سجدہ…
Read the full tafseer →71۔ 1 یہ قصہ اس سے قبل سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة بنی اسرائیل اور سورة کہف میں بیان ہوچکا ہے اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔
71۔ 2 یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس لئے کہ وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت نمبر 71 تا 72
ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ مکالمہ کس انداز میں ہوا ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کے ساتھ مکالمے کی کیفیت کیا ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ فرشتے اللہ سے ہدایات کس طرح اخذ کرتے ہیں۔ نہ ہم فرشتوں کی حقیقت سے باخبر ہوں ۔ نہ ہمیں ان مسائل میں الجھنے کی ضرورت لاحق ہے اور نہ کوئی فائدہ متوقع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس قصے کا جو مطلب ہے اور اس کے اندر جو فلسفہ ہے اس پر بات کریں۔
اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ جس طرح زمین کی تمام ذی روح چیزوں کو مٹی سے بنایا۔ تمام زندہ مخلوقات کے عناصر ترکیبی مٹی میں موجود ہیں۔ صرف ایک چیز ابھی تک راز ہے کہ روح اور حیات اس کے اندر کہاں سے…
Read the full tafseer →1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ایک یہ بھی تکرار تھی فرشتوں کی جو بیان فرمایا۔ "
Read the full tafseer →آیت 71 { اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌم بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ } ”جب کہا تھا آپ ﷺ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں ایک بشر کو مٹی سے۔“
قصہ آدم و ابلیس کے ذکر کے حوالے سے یہ قرآن کریم کا ساتواں اور آخری مقام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
69 فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم :۔ اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ کا چوتھا رکوع، سورة حجر کی آیات 25 تا 43، سورة اعراف آیات 11 تا 15، سورة بنی اسرائیل آیات 61 تا 65، سورة کہف آیت نمبر 50، سورة طہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورة حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
63۔ خلق آدم، گفتگوئے ملائکہ وغیرہ پر تفصیلی حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے اور اس کے بعد بھی سورة الاعراف وغیرہ میں۔ (آیت) ” سجدین “۔ سجدہ کے معنی یہاں بطور تواضع محض کے بھی کیے گئے ہیں، اور سجدۂ تعظیمی کے بھی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا۔ قیل کان انحناء یدل علی التواضع وقیل کا سجدۃ للہ اوکان سجدۃ التحیۃ (مدارک) (آیت) ” من روحی “۔ میں اضافت یا تو تملی کی ہے، یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص یا اضافت تشریفی، یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مکرم ومشرف ہے۔ یا تخصیصی، یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا کوئی دوسرا تعلق نہیں امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ من روحی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشرا من طین جبکہ آپ کے رب نے ملائکہ سے فرمایا تھا کہ میں گارے
سے ایک انسان کو بنانے والا ہوں۔
اِذْ قَالَ ‘ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَکا بدل ہے ‘ اور تشریح سے سورة بقرہ میں ملائکہ اور ابلیس کی تخلیق آدم اور ان کے استحقاق خلافت کے متعلق گفتگو اور ان کا مسجود ملائکہ ہونا تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے ‘ یہاں اس مفصل قصہ کو مختصر طور پر بیان کردیا گیا ہے اور قصہ کا جو اصل مقصد تھا ‘ اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ حضرت آدم کے مقابلہ میں ابلیس نے غرور کیا اور راندۂ درگاہ ہوگیا۔ مشرک بھی رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے ‘ ان کا بھی ابلیس کی طرح خوار و ذلیل ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(70۔ 71) میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ اس وجہ سے آتی ہے کہ میں صاف عربی زبان میں ڈرانے والا پیغمبر ہوں اب اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس گفتگو کا ذکر کرتے ہیں اور آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اسے آپ ان لوگوں کے سامنے بیان کریں جبکہ آپ کے پروردگار نے فرمایا کہ میں آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : یہ ملأ اعلیٰ میں ہونے والی ایک بحث کا ذکر ہے جو آدم ؑ کی پیدائش کے متعلق ہوئی۔ اس مجلس میں فرشتوں کے ساتھ ابلیس بھی تھا اور اسے بھی آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تفصیل سورة اعراف (11) میں دیکھیے۔ مفسر رازی نے فرمایا : ”اس قصّے کے یہاں خاص طور پر ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے روکنے والی چیز ان کا حسد اور کبر تھا، ابلیس پر لعنت کا سبب بھی اس کا آدم ؑ پر حسد اور کبر تھا، اس لیے کفار کو یہ قصّہ سنایا۔“
اللہ تعالیٰ کے آدم ؑ کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے کا حکم دینے اور شیطان کے سجدے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
71 ۔ 74:۔ اذ کا تعلق یختصمون کے ساتھ معنی یہ ہے جب وہ جھگڑ رہے تھے تو مجھے ملا اعلی کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اذ قال یہ اذیختصمون سے بدل ہے تختصمون مخدوف کے متعلق ہے کیونکہ معنی ہے جس ملا اعلی والے جھگڑ رہے تھے تو مجھے ان کی گفتگو کا کچھ علم نہ تھا فاذا سویتہ اذا یہ ماضی کے فعل کو مستقل کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ یہ حروف شرط کے مشابہ ہے اس کا جواب حرف شرط کے جواب جیسا ہوتا ہے یعنی جب میں نے اسے پیدا کیا من روحی سے مراد ایسی روح ہے جس کا میں مالک ہوں میرے سوا کوئی اس کا مالک نہیں یہ اضافت کا معنی ہے سورة النساء آیت 171 میں و روح منہ کے ًضمن میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے۔
سجدین۔ حال کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ واذ قال ربک للملئکۃ “ (یہ میرے پاس کوئی علم نہیں اوپر والے معزز فرشتوں کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے جب تیرے رب نے کہا فرشتوں سے فرمایا اسی بارے میں فرشتے جھگڑ رہے تھے۔
ابلیس تکبر کی وجہ سے ذلیل ہوا :
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ رَبُّكَ [جب کہا آپ ﷺ کے رب نے ] لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ [فرشتوں سے ] اِنِّىْ خَالِقٌۢ [کہ میں پیدا کرنے والا ہوں ] بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ [ایک بشر گارے سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ابلیس کی حکم عدولی اور سرتابی، حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے مستحق لعنت ہونا اور بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھانا
ان آیات میں تخلیق آدم اور پھر فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم اور ان کے سجدہ کرنے کا واقعہ اور ابلیس کے انکار کا تذکرہ فرمایا ہے یہ مضمون سورة بقرہ رکوع 4 اور سورة اعراف رکوع 2 اور سورة حجر رکوع 3 اور سورة الاسراء رکوع 6 میں بھی گزر چکا ہے وہاں جو ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں طین یعنی کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کروں گا جب میں اسے پیدا کردوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
47:۔ ” اِذْ قَالَ الخ “۔ یہاں سے فرشتوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ بھی اللہ کے حکم کے بندے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ ” فَقَعُوْا “ ، قعوا، وقع یقع (فتح) سے جمع مذکر امر حاضر کا صیغہ ہے۔ ای فاسقطوا لہ (روح) ۔ اللہ نے تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں اور خلافت ارضی کو اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ لہذا جب میں اس کی شکل و صورت کو مکمل کر کے اس میں روح پھونک دوں اور وہ ایک کامل انسان کی صورت میں ظاہر ہوجائے تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ سجود لغیر اللہ کی پوری تحقیق سورة یوسف کی تفسیر حاشیہ نمبر ( 83) میں گذر چکی ہے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ 71
ملك ( فرشته)
وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102]
( م ل ک ) الملک
الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُـہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَـہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط اِسْتَـکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (صٓ: 71 تا 74)
(اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو درست کردوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ بجز ابلیس کے، اس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ )
اس بات کی تائید میں کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…
Read the full tafseer →تخلیق آدم ( علیہ السلام) کی فرشتوں کو اطلاع :
71: اِذْقَالَ رَبُّکَ (جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا) ۔
نحو : اذقال یہ اذیختصمون سے بدل ہے۔ آدم (علیہ السلام) کی شان میں فرشتے کی زبان پر فرمایا۔
لِلْمَلٰٓپکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌم بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ (کہ میں گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں) اور فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفۃ قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ] البقرۃ : 30 [
Read the full tafseer →71، اذ قال ربک للملائکۃ انی خالق بشرامن طین، اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–73
آیت 55
(ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔
(ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
82 تخلیق آدم کی تذکیر و یاددہانی : " بشراً " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایک عظیم الشان بشر و انسان۔ اور ظاہر ہے کہ جس کے بارے میں حق ۔ جل مجدہ ۔ خود فرمائے کہ میں نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے پھر اپنی خاص عنایت سے وہ اس میں اپنی طرف سے روح پھونک کر اسے زندگی بخشے اور اسے تاج خلافت سے سرفراز فرمائے اس سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کی عظمتوں کے کیا کہنے ؟ پھر سوچو کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی اور نمک حرامی ہے کہ یہ انسان اسی قادر مطلق رحمان و رحیم خداوند قدوس کو بھول جائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کے در اقدس کو چھوڑ کر یہ غیروں کے آگے جھک جائے۔ اور ان کے آگے سجدہ ریز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 9 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی آب و خاک کی نہیں بنی غیب سے آئی۔ ( موضح)
Read the full tafseer →(38:71) اذ قال : اذ یختصمون کا بدل ہے یہ اس اختصام کی تفصیل ہے جس کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اذ سے پہلے فعل اذکر محذوف ہے۔
طین۔ گارا۔ مٹی، پانی اور مٹی کا آمیزہ۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہیں صلصال من حما مسنون ان میں کوئی کچھ بھی توارض نہیں۔ کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا کہیں مادہ بعید۔ (حضرت تھانوی (رح) )
المادۃ البعیدۃ ھو التراب واقرب منہ الطین واقرب منہ الحماء مسنون واقرب منہ الصلصال فثبت انہ لامنافاۃ بین الکل (تفسیر کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
[21] جھگڑے سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس گفتگو کو یہاں '' اختصام '' کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں جھگڑا یا بحث و مباحثہ، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کا سوال کوئی اعتراض یا بحث مباحثہ کے نقطہ نظر سے نہ تھا بلکہ وہ محض تخلیق آدم کی حکمت معلوم کرنا چاہتے تھے لیکن سوال و جواب کا ظاہری پہلو کیونکر بحث کا سا ہوگیا تھا اس لئے اسے '' اختصام '' سے تعبیر کیا گیا۔ دوسرا جھگڑا اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…
Read the full tafseer →(71) اے پیغمبر وہ واقعہ یاد کیجئے جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والاہوں۔ یعنی اس کی ترکیب اور بناوٹ مٹی سے کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
ف 3۔ اللہ تعالیٰ سے ملائکہ کی گفتگو کو مجازا اختصام کہا گیا کہ ظاہرا مشابہ اختصام کے تھی۔
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بشر کو مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر کیا
71۔ اس جگہ انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے باعث لوگوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان اس بحث کر جھگڑا قرار دے دیا حالانکہ یہ ذکر قرآن کریم میں بیسیوں بار کیا جا چکا ہے اور اس کی تفاصیل بھی پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہیں لیکن ان میں سے کسی بات کو جھگڑا اور مخاصمت قرار نہیں دیا جاسکتا ہم قبل ازیں اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ صرف انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کو بیان کرنا مقصود ہے اور انسان کو اس کی اصلیت سمجھانا مقصود ہے اس کے لیے انسان کے اندر ودیعت کی گئی قوتوں کو الگ الگ مشخص قرار دیا ہے تاکہ اس کی حقیقت کو انسان جز بز کر کے سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
In verse 71, it was said: إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ (When your Lord said to the angels...):
Mentioned here is the event of the creation of 'Adam (علیہ السلام) . Not only that it alludes to the conversation between Allah Ta’ ala and the angels mentioned above, but also invites our attention towards the way Iblis had refused to prostrate himself before Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) just because of his envy and arrogance, very similarly, the Mushriks of Arabia were not willing to accept his advice because of their envy and arrogance - hence, they were going to meet the same fate as was…
Read the full tafseer →59 This is the explanation of the dispute referred to about, and the dispute implies Satan's dispute with God, as becomes evident from the verses that follow. In this regard, one should bear in mind the fact that "the exalted ones" implies the angels, and the dialogue between Allah and Satan was not direct but it took place through some angel. Therefore, no one should havc the misunderstanding that Allah also was included among the exalted ones. This story has already been narrated at the following places about: Al-Baqarah: 30-39, AI-A'raf: 11-25, Al-Hijr: 26-44, Bani Isra'il: 61-65, Al-Kahf:…
Read the full tafseer →