Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
سورة صٓ 61
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم ص 504۔ 505۔ جلد چہارم، السجدہ حاشیہ 16۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(آیت) اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ، (جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا، الخ) یہاں تخلیق آدم کا جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی مذکورہ بالا گفتگو کی طرف اشارہ کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح ابلیس نے محض حسد اور تکبر کی وجہ سے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا، اسی طرح مشرکین عرب بھی حسد اور تکبر کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مان رہے، اور جو انجام ابلیس کا ہوا وہی ان کا بھی ہونا ہے۔ (تفسیر کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
آیات
استکبار کا شجرہ نسب
یہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کرچکے ہیں۔ خاص طور پر اچھی طرح وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرہ نسب بیان کرنے کے لئے آیا ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتدا میں بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق کے ال فاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس پوری سورة میں رب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس ائٓینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اس نے آدم ؑ کو سجدہ…
Read the full tafseer →72۔ 1 یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کے تمام اجزا درست اور برابر کرلوں۔
72۔ 2 یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کے پھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہوجائے گا۔ انسان کے شرف و عظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دیا ہے۔
72۔ 3 یہ سجدہ تحیہ یا سجدہ تعظیم ہے، سجدہ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لئے اللہ نے آدم ؑ کے لئے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، اگر یہ جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت نمبر 71 تا 72
ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ مکالمہ کس انداز میں ہوا ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کے ساتھ مکالمے کی کیفیت کیا ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ فرشتے اللہ سے ہدایات کس طرح اخذ کرتے ہیں۔ نہ ہم فرشتوں کی حقیقت سے باخبر ہوں ۔ نہ ہمیں ان مسائل میں الجھنے کی ضرورت لاحق ہے اور نہ کوئی فائدہ متوقع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس قصے کا جو مطلب ہے اور اس کے اندر جو فلسفہ ہے اس پر بات کریں۔
اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ جس طرح زمین کی تمام ذی روح چیزوں کو مٹی سے بنایا۔ تمام زندہ مخلوقات کے عناصر ترکیبی مٹی میں موجود ہیں۔ صرف ایک چیز ابھی تک راز ہے کہ روح اور حیات اس کے اندر کہاں سے…
Read the full tafseer →2 یعنی ڈھانچہ ٹھیک تیار کر کے اپنی طرف سے ایک روح پھونکوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " کہ " روحی " (اپنی جان) اس لیے فرمایا کہ آب و خاک سے نہیں بنی۔ عالم غیب سے آئی۔ " کچھ مضمون روح کے متعلق سورة " بنی اسرائیل " میں گزرا ہے۔ وہاں روح کی اس اضافت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 72 { فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ } ”تو جب میں اس کو پوری طرح درست کر دوں“
”تسویہ“ کے معنی کسی تخلیق کو ہر لحاظ سے درست کر کے اس کی تکمیل کردینے کے ہیں۔ انگریزی میں اسے finishing touch دینا کہا جاتا ہے۔ چناچہ ”تسویہ“ کا مرحلہ بنیادی تخلیق کے بعد آتا ہے ‘ جیسا کہ سورة الاعلیٰ میں فرمایا گیا : { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ ”آپ ﷺ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی ‘ جس نے تخلیق کیا ‘ پھر تسویہ کیا“۔ سورة الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران اس موضوع پر ان شاء اللہ تفصیل سے گفتگو ہوگی۔
{ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ } ”اور میں اس میں اپنی روح میں سے پھونک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
69 فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم :۔ اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ کا چوتھا رکوع، سورة حجر کی آیات 25 تا 43، سورة اعراف آیات 11 تا 15، سورة بنی اسرائیل آیات 61 تا 65، سورة کہف آیت نمبر 50، سورة طہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورة حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
63۔ خلق آدم، گفتگوئے ملائکہ وغیرہ پر تفصیلی حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے اور اس کے بعد بھی سورة الاعراف وغیرہ میں۔ (آیت) ” سجدین “۔ سجدہ کے معنی یہاں بطور تواضع محض کے بھی کیے گئے ہیں، اور سجدۂ تعظیمی کے بھی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا۔ قیل کان انحناء یدل علی التواضع وقیل کا سجدۃ للہ اوکان سجدۃ التحیۃ (مدارک) (آیت) ” من روحی “۔ میں اضافت یا تو تملی کی ہے، یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص یا اضافت تشریفی، یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مکرم ومشرف ہے۔ یا تخصیصی، یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا کوئی دوسرا تعلق نہیں امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ من روحی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین۔ سو جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس کے اندر اپنی جان ڈال دوں تو تم (سب کے سب) اس کے آگے سجدہ میں گرپڑنا۔
Read the full tafseer →سو جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں جان ڈال دوں تو تم سب اس کے رو برو سجدہ میں گر پڑنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : یہ ملأ اعلیٰ میں ہونے والی ایک بحث کا ذکر ہے جو آدم ؑ کی پیدائش کے متعلق ہوئی۔ اس مجلس میں فرشتوں کے ساتھ ابلیس بھی تھا اور اسے بھی آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تفصیل سورة اعراف (11) میں دیکھیے۔ مفسر رازی نے فرمایا : ”اس قصّے کے یہاں خاص طور پر ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے روکنے والی چیز ان کا حسد اور کبر تھا، ابلیس پر لعنت کا سبب بھی اس کا آدم ؑ پر حسد اور کبر تھا، اس لیے کفار کو یہ قصّہ سنایا۔“
اللہ تعالیٰ کے آدم ؑ کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے کا حکم دینے اور شیطان کے سجدے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
71 ۔ 74:۔ اذ کا تعلق یختصمون کے ساتھ معنی یہ ہے جب وہ جھگڑ رہے تھے تو مجھے ملا اعلی کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اذ قال یہ اذیختصمون سے بدل ہے تختصمون مخدوف کے متعلق ہے کیونکہ معنی ہے جس ملا اعلی والے جھگڑ رہے تھے تو مجھے ان کی گفتگو کا کچھ علم نہ تھا فاذا سویتہ اذا یہ ماضی کے فعل کو مستقل کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ یہ حروف شرط کے مشابہ ہے اس کا جواب حرف شرط کے جواب جیسا ہوتا ہے یعنی جب میں نے اسے پیدا کیا من روحی سے مراد ایسی روح ہے جس کا میں مالک ہوں میرے سوا کوئی اس کا مالک نہیں یہ اضافت کا معنی ہے سورة النساء آیت 171 میں و روح منہ کے ًضمن میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے۔
سجدین۔ حال کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ واذ قال ربک للملئکۃ “ (یہ میرے پاس کوئی علم نہیں اوپر والے معزز فرشتوں کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے جب تیرے رب نے کہا فرشتوں سے فرمایا اسی بارے میں فرشتے جھگڑ رہے تھے۔
ابلیس تکبر کی وجہ سے ذلیل ہوا :
Read the full tafseer →فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ [پھر جب نوک پلک درست کرلوں اس کی ] وَنَفَخْتُ فِيْهِ [اور پھون کہ دوں اس میں ] مِنْ رُّوْحِيْ [اپنی روح میں سے ] فَقَعُوْا لَهٗ [تو تم لوگ گرپڑنا اس کے لئے ] سٰجِدِيْنَ [سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ابلیس کی حکم عدولی اور سرتابی، حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے مستحق لعنت ہونا اور بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھانا
ان آیات میں تخلیق آدم اور پھر فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم اور ان کے سجدہ کرنے کا واقعہ اور ابلیس کے انکار کا تذکرہ فرمایا ہے یہ مضمون سورة بقرہ رکوع 4 اور سورة اعراف رکوع 2 اور سورة حجر رکوع 3 اور سورة الاسراء رکوع 6 میں بھی گزر چکا ہے وہاں جو ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں طین یعنی کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کروں گا جب میں اسے پیدا کردوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
47:۔ ” اِذْ قَالَ الخ “۔ یہاں سے فرشتوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ بھی اللہ کے حکم کے بندے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ ” فَقَعُوْا “ ، قعوا، وقع یقع (فتح) سے جمع مذکر امر حاضر کا صیغہ ہے۔ ای فاسقطوا لہ (روح) ۔ اللہ نے تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں اور خلافت ارضی کو اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ لہذا جب میں اس کی شکل و صورت کو مکمل کر کے اس میں روح پھونک دوں اور وہ ایک کامل انسان کی صورت میں ظاہر ہوجائے تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ سجود لغیر اللہ کی پوری تحقیق سورة یوسف کی تفسیر حاشیہ نمبر ( 83) میں گذر چکی ہے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →فَاِذَا سَوَّيْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِيْنَ 72
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُـہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَـہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط اِسْتَـکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (صٓ: 71 تا 74)
(اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو درست کردوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ بجز ابلیس کے، اس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ )
اس بات کی تائید میں کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…
Read the full tafseer →72: فَاِذَا سَوَّ یْتُہٗ (پس جب میں اس کو پورا بنا چکوں) جب میں اس کی خلقت کی تکمیل کردوں اور درست کردوں۔ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (اور اس میں اپنی طرف سے جان ڈالدوں) وہ جس کو میں نے بنایا۔ روح کی اضافت تخصیص کیلئے ہے جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ۔ مطلب یہ ہے اس کو زندہ کردوں اور حسن والا بنا دوں اور جاندار کردوں۔ فَقَعُوْا (پس تم سب گر جانا) یہ وقع یقع سے امر ہے یعنی سقطوا علی الارض معنی سجدہ کرو۔ لَہٗ سٰجِدِیْنَ (اس کے روبرو سجدہ میں) ایک قول یہ ہے۔ یہ جھکنا تھا جو کہ تواضع پر دلالت کرتا ہے ایک قول یہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کو تھا یا سجدئہ سلام و تعظیم تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
72، فاذا سویتہ، جب ہم نے اس کی خلقت کو پورا کیا۔ ، نفخت فیہ من روحی فقعوالہ ساجدین،۔۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–73
آیت 55
(ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔
(ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →83 { من روحی } سے مقصود و مراد ؟ : { من روحی } یعنی " اپنی روح " سے مراد ہے اپنی طرف سے روح پھونکنا۔ اور یہ اضافت تعظیم و تشریف کے لئے ہے۔ جیسے " بیت اللہ " اور " ناقۃ اللہ " وغیرہ میں ہے۔ (روح، خازن، کبیر وغیرہ) ۔ سو آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو بعض روایات میں ۔ " نُوْرٌ مِّنَ اللّٰہِ " ۔ یا ۔ " مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ " ۔ کی قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، تو اولاً تو وہ سند و ثبوت کے اعتبار سے پایہ صحت و ثبوت کو نہیں پہنچتے۔ اور بصورت تسلیم اس کے معنیٰ بھی یہی ہوں گے کہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف سے اور اپنے نور علم و ہدایت سے خاص طور پر نوازا۔ اور آج دنیا میں ایمان و یقین کی جو بھی کوئی روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 9 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی آب و خاک کی نہیں بنی غیب سے آئی۔ ( موضح)
Read the full tafseer →(38:72) سویتہ : سویت ماضی واحد متکلم تسویۃ (تفعیل) مصدر سے برابر کرنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس کا مرجع بشرا ہے۔ (جب) میں اس کو برابر کر دوں یعنی مکمل کر چکوں (ماضی بمعنی مستقبل)
نفخت ماضی واحد متکلم نفخ (باب نصر) مصدر۔ پھونکنا۔ پھونک مارنا۔ (جب) میں (اس میں) پھونک دوں (ماضی بمعنی مستقبل) ۔ ونفخت فیہ من روحی : ای احیینہ بنفخ الروح فیہ اور اس میں جان پھونک کر اسے زندہ کردوں۔ یعنی جب میں اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں۔
من روحی میں یا تو اضافت تملی کی ہے یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص۔ یا اضافت تشریفی یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مشرف و مکرم ہے یا تنصیصی یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–88
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…
Read the full tafseer →(72) پھرجب میں اس کو پوری پوری درست کردوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک یہ بھی فرشتوں کی تکرار تھی جو بیان فرمایا۔ اور فرمایا ایک اپنی جان یعنی آب وخاک سے نہیں بنی غیب سے آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
ف 3۔ اللہ تعالیٰ سے ملائکہ کی گفتگو کو مجازا اختصام کہا گیا کہ ظاہرا مشابہ اختصام کے تھی۔
Read the full tafseer →فرشتوں سے کہا گیا کہ جب اس میں روح پھونک دوں تو تم فرمانبرداری کا اظہار کرنا
72۔ جب اس انسان کو میں صحیح سالم اور ہر لحاظ سے درست کردوں تو تم اس کے لیے فرمانبرداری کا اظہار کرنا اور اس کو علت ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ ادا کرنا کہ اس نے انسان کو عقل و فکر سے ہرچیز پر فوقیت بخش دی ہے اور اس کائنات کی ہرچیز کو اس کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
In verse 71, it was said: إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ (When your Lord said to the angels...):
Mentioned here is the event of the creation of 'Adam (علیہ السلام) . Not only that it alludes to the conversation between Allah Ta’ ala and the angels mentioned above, but also invites our attention towards the way Iblis had refused to prostrate himself before Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) just because of his envy and arrogance, very similarly, the Mushriks of Arabia were not willing to accept his advice because of their envy and arrogance - hence, they were going to meet the same fate as was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
61 For explanation, see Al-Hijr: 29-30, and E.N. 16 of Surah As-Sajdah.
62 For explanation, sec AI-Baqarah: 34, Al-A'raf :11 and the E.N.'s thereof.
Read the full tafseer →