Saad 38:70

Saad · from ayah 70

38:70

اِنْ یُّوْحٰۤی اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَىَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا۟ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ

میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It has not been revealed to me except that I am a clear warner."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:70

مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے پاس وحی صرف اس لیے آتی ہے کہ میں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مجھے تو (اﷲ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے مگر یہ کہ میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میری طرف اس کے سواوحی نہیں کی جاتی کہ میں تو صرف کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مجھے تو صرف اس لیے وحی کردی جاتی ہے کہ میں کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک نذیر مبین ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میری طرف تو (ان باتوں کی) و حی کی جاتی ہے میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں کھول کر

— مولانا اسحاق مدنی

میرے پاس وحی تو صرف اس لئے آتی ہے کہ میں بس ڈرانے والا (بنا کر بھیجا گیا) ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میری طرف تو بس یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں صرف واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میری طرف صرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

I am told (about matters) by means of revelation only because I am a clear warner.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Revelation is sent to me only because I am a plain warner.

— Muhammad Taqi Usmani

Revelation is sent to me only because I am a plain warner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is revealed unto me only that I may be a plain warner.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It has not been revealed to me except that I am a clear warner."

— Saheeh International

I have only received revelation to give you plain warning.

— Muhammad Sarwar

Naught is revealed to me save that I am a plain warner.

— Muhammad Habib Shakir

Naught is revealed Unto me except that I am a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

'Only this has been revealed to me: that I am to give warning plainly and publicly."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–70

نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–70

سورة صٓ 58 یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 5 میں گزری ہے کہ " کیا اس شخص نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے "۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے کتنی ہی ناک بھوں چڑھاؤ، مگر یہ ہے ایک حقیقت جس کی خبر میں تمہیں دے رہا ہوں، اور تمہارے ناک بھوں چڑھانے سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی۔ اس جواب میں صرف بیان حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے حقیقت ہونے کی دلیل بھی اسی میں موجود ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت سے ہیں جن میں سے ایک اللہ بھی ہے، تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے بس ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے، کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

(آیت) مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ۔ (مجھ کو عالم بالا کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) یعنی یہ میری رسالت کی واضح دلیل ہے کہ میں تم سے عالم بالا کی ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جو وحی کے سوا کسی بھی ذریعہ سے معلوم نہیں ہو سکتیں۔ ان باتوں سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی، اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آ چکا ہے۔ فرشتوں نے کہا تھا کہ (آیت) اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء۔ (کیا آپ زمین میں ایسے انسان کو پیدا کر رہے ہیں جو وہاں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے ؟) اس گفتگو کو یہاں ”اختصام“…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 69–70

(آیت) یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ میں یوں ہی تم پر دھونس جمانے کے لئے ایک نذیر مبین بن بیٹھا ہوں اور تمہیں مرعوب کرنے کے لئے اہل دوزخ کی باہمی توتکار کا افسانہ سنا رہا ہوں۔ بھلا عالم بالا کی ان باتوں کی مجھے کیا خبر ہو سکتی تھی ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ سے مجھے اس لئے آگاہ فرما رہا ہے کہ میں ایک کملے ہوئے ڈرانے والے کی طرح اس پیش آنے والے دن کی ہولناکی سے آگاہ کر دوں۔ ورنہ میں کوئی غیب دان نہیں ہوں، میں تو بس ایک نذیر مبین ہں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہو کوئی غیب دان نہیں ہوں میں تو بس ایک نذیر مبین ہوں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70۔ 1 یعنی میری ذمہ داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض و پیغام تمہیں بتادوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–80

27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–70

آیت نمبر 69 تا 70 یہاں پھر قصہ انسانیت شروع ہوتا ہے کہ اس بناء عظیم میں انسان کا کیا مقام ہے ۔ اس وقت عالم بالا میں وہ مکالمہ ہوا جس سے انسانی تاریخ کی لائن متعین ہوتی ہے۔ اور انسانی قدریں متعین ہوتی ہیں اور اسی نظریہ اور فلسفہ کی تبلیغ کے لیے حضرت محمد ﷺ بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 69–70

11 ملاء اعلیٰ (اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین وغیرہم کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ اور تصریفات کونیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ یعنی ملاء اعلیٰ میں نظام عالم کے فناء وبقاء کے متعلق جو تدبیریں یا بحثیں اور قیل و قال ہوتی ہے۔ مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرما دیا وہ بیان کردیے۔ جو کچھ کہتا ہوں اسی کی وحی و اعلام سے کہتا ہوں۔ مجھ کو یہ ہی حکم ملا ہے کہ سب کو اس آنے والے خوفناک مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کروں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی ؟ نہ اندازے کے لیے اس کی ضرورت ہے نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ چند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 { اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ} ”میری طرف تو بس یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں صرف واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–74

69 فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم :۔ اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ کا چوتھا رکوع، سورة حجر کی آیات 25 تا 43، سورة اعراف آیات 11 تا 15، سورة بنی اسرائیل آیات 61 تا 65، سورة کہف آیت نمبر 50، سورة طہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورة حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 69–70

62۔ (اور مجھے اب جو اس کی خبر ہوئی ہے وہ محض وحی کے ذریعہ سے) (آیت) ” یختصمون “۔ اللہ سے فرشتوں کی گفتگو میں سوال و جواب تو بہرحال واقع ہوا ہی تھا اس کی اختصام سے تعبیر ای ظاہری مشابہت کی بناء پر ہے۔ لاشک ان جری ھناک سوال و جواب وذلک یشابہ المخاصمۃ والمناظرۃ والمشابھۃ علۃ لجواز المجاز فلھذا السبب حسن اطلاق لفظ المخاصمۃ علیہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین میرے پاس جو وحی آتی ہے تو اس سبب سے آتی ہے کہ میں (منجانب اللہ) کھلا ہوا پیغمبر ہوں (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجمہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے ‘ اس میں زیادہ الفاظ مولانا تھانوی کے ہیں۔ مترجم) الْمَلَاِ الْاَعْلٰی یعنی فرشتے۔ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَجب ملائکہ بحث و گفتگو کر رہے تھے۔ ملائکہ کی گفتگو اور سوال و جواب کی کتب سابقہ کی صراحتوں کے موافق خبر ‘ جبکہ ملائکہ کی گفتگو نہ سنی ہو نہ کوئی آسمانی کتاب پڑھی ہو ‘ بغیر وحی کے ناممکن ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ملائکہ کی گفتگو جو تخلیق آدم کے سلسلے میں تھی ‘ یختصمون میں وہی مراد ہے۔ اللہ نے فرشتوں سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 70–71

(70۔ 71) میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ اس وجہ سے آتی ہے کہ میں صاف عربی زبان میں ڈرانے والا پیغمبر ہوں اب اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس گفتگو کا ذکر کرتے ہیں اور آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اسے آپ ان لوگوں کے سامنے بیان کریں جبکہ آپ کے پروردگار نے فرمایا کہ میں آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 69–70

مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ : سب سے اونچی مجلس سے مراد آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس ہے۔ ”كَانَ“ ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے، یعنی فرشتوں کی مجلس میں جو بحث ہوتی ہے مجھے اس کا کبھی کچھ علم نہیں ہوتا، میں عالم الغیب نہیں، اس کے متعلق میں جو کچھ تمہیں بتاتا ہوں وہ وحی الٰہی کے ذریعے سے مجھے معلوم ہوتا ہے اور وہ بھی صرف ان بحثوں کے متعلق کہ جن کا تعلق لوگوں کی ہدایت اور انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے سے ہوتا ہے۔ یہ وحی الٰہی میری نبوت کی بھی دلیل ہے، کیونکہ اگر وحی نہ ہوتی تو میں ملأ اعلیٰ میں ہونے والی کوئی بات تمہیں نہ بتاسکتا۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ملأ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–70

65 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔ قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نصرالسنجری نے الابانہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ (فرما دیجئے وہ ایک بڑی خبر ہے) یعنی قرآن مجید۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے الابانہ میں محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ یعنی تم نباعظیم کے بارے میں بحث کرتے رہتے ہو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ (مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے یعنی اس سے فرشتے مراد ہیں۔ جو آدم (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ [نہیں ] يُّوْحٰٓى اِلَيَّ [وحی کی جاتی میری طرف ] اِلَّآ [مگر (یہ کہ)] اَنَّمَآ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [میں ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–70

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 69–70

46:۔ ” مَا کَانَ لِیَ الخ “۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے اگر تو واقعی خدا کا پیغمبر ہے اور تمہارے پاس وحی آتی ہے تو ہمیں بتاؤ جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ کب آئے گا۔ جواب دیا گیا کہ بیشک میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے لیکن ملا اعلی میں جو کچھ ہو رہا ہے مجھے اس کا کوئی علم نہیں . اس لیے میں نہیں بتا سکتا کہ عذاب کب آئے گا۔ اور اللہ کی طرف سے مجھ پر وحی اسی لیے نازل ہوتی ہے کہ میں اس کا پیغمبر اور بشیر و نذیر ہوں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–70

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ يُّوْحٰٓى اِلَيَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 70 وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–70

ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍ م بِالْمَلَاِالْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلاَّ ٓاَنَّمَـآ اَنَا نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (صٓ: 69، 70) (مجھے ملائِ اعلیٰ کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے۔ یہ تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک نذیرمبین ہوں۔ ) آپ ﷺ کے نذیر ہونے پر دلیل آپ کے نذیر مبین ہونے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جو تمہیں ایسی بڑی بڑی خبریں دے رہا ہوں جس پر تمہاری دنیا و آخرت میں کامیابی کا دارومدار ہے تو اس سے تمہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میں یہ سب باتیں اپنی طرف سے بنا کر تمہیں مرعوب کرنے کے لیے ایسا کررہا ہوں۔ اس سے پہلے اہل دوزخ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–74

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میرے پاس وحی صرف اس سبب سے آتی ہے کہ میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں) یعنی اس لئے کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ میرے پاس وحی ڈر سنانے کے لئے ہوتی ہے۔ نحو : لام کو حذف کردیا گیا اور فعل کو اس تک پہنچا کر منصوب ہوا اور یہ بھی درست ہے کہ اس معنی کے لحاظ سے یہ مرفوع ہو مایوحی الی الا ھذا وھو أن انذروا بلغ ولا افرّط فی ذٰلک یعنی مجھے صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں ڈرائوں اور بلا کم وکاست پہنچا دوں۔ اس کے علاوہ اور کچھ میرے ذمہ نہیں۔ قراءت : اِنَّمَآ کو مکسور یزید نے حکایۃً پڑھا ہے۔ یعنی الا ھذا القول وھو ان اقول لکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70، ان یوحی الی الا انما انا نذیرمبین، فراء کا قول ہے اگر توچا ہے تو بنالے ۔ ، انما ، موضع رفع میں واقع ہے۔ میری طرف وحی صرف اسی وجہ سے کی گئی تا کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ڈراؤں ۔ ابو جعفر نے، انما، الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ وحی بھی ایک قول ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عائش حضرمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے میں نے اپنے رب کو نہایت ہی حسین شکل میں دیکھا۔ رب نے مجھ سے فرمایا محمد ﷺ عالم بالا والے کس بات میں بحث کررہے ہیں ، میں نے عرض کیا، اے میرے رب ! تو ہی خوب جانتا ہے ، یہ بات دومرتبہ فرمائی۔ میرے رب نے میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی رکھ دی جس کی خنکی مجھے سینے کے اگلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–70

69۔ 70۔ ترمزی 2 ؎ مسند امام احمد مسند عبد بن حمید وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور معاذ (رح) بن حبل کی معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آج کی رات اللہ تعالیٰ کو میں نے خواب میں دیکھا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے محمد ﷺ تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ آسمان پر فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ مجھ کو معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے بیچ میں رکھا۔ جس کی خنکی میرے سینہ تک پہنچی اور اس اثر سے تمام زمین و آسمان کا حال مجھ پر کھل گیا اور پھر میں نے بتلا دیا۔ کہ جاڑے کے موسم میں وضو کرنے اور مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 70–71

82 تخلیق آدم کی تذکیر و یاددہانی : " بشراً " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایک عظیم الشان بشر و انسان۔ اور ظاہر ہے کہ جس کے بارے میں حق ۔ جل مجدہ ۔ خود فرمائے کہ میں نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے پھر اپنی خاص عنایت سے وہ اس میں اپنی طرف سے روح پھونک کر اسے زندگی بخشے اور اسے تاج خلافت سے سرفراز فرمائے اس سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کی عظمتوں کے کیا کہنے ؟ پھر سوچو کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی اور نمک حرامی ہے کہ یہ انسان اسی قادر مطلق رحمان و رحیم خداوند قدوس کو بھول جائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کے در اقدس کو چھوڑ کر یہ غیروں کے آگے جھک جائے۔ اور ان کے آگے سجدہ ریز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–70

رسول اللہ ﷺ جو بھی کہتے ہیں وحی کے مطابق کہتے ہیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ آچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو از خود غیب کی باتوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی نازل کردہ وحی کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے سب کچھ جانتا ہے اسی لیے لوگوں کو اس ہولناک دن یعنی قیامت سے ڈرانے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اس لیے آنے والے مشکل وقت کی سختی سے بچنے کی تیاری کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اسی لیے تو سیدنا محمد ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” مجھے تو محض اس لئے وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلا ڈرانے والا پیغمبر ہوں اس کے سوا کچھ نہیں۔ آگے فرشتوں کا اختصام بیان فرمایا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ایک یہ بھی فرشتوں کے تکرار تھے جو بیان فرمایا۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:70) ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین : ان نافیہ ہے۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء افعال مصدر سے۔ وحی مادہ۔ وحی کی جاتی ہے۔ الا حرف استثناء انما میں ان حرف مشبہ بالفعل ہے ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔ بیشک ، تحقیق بجز اس کے نہیں۔ انا میں ضمیر واحد متکلم نذیر مبین موصوف و صفت۔ کھلا ڈرانے والا۔ انما انا نذیر مبین۔ یا تو یوحی کا نائب فاعل ہے یعنی نہیں آتی میرے پاس وحی مگر یہ کہ میں (تم کو اللہ کے عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یا یہ فقرہ مفعول لہ ہے اور علت ہے وحی کے آنے کی۔ یعنی نہیں آتی میرے پاس وحیہ مگر اس سبب (یا وجہ) سے کہ میں (تم کو اللہ کے عذاب سے)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–70

(ف 1) اے محبوب ﷺ کہہ دو کہ مجھ کو کیا علم تھا کہ عالم بالا کے ملائکہ کس بات میں گفتگو کرتے تھے میری طرف خدا سے وحی بھیجی گئی اس کے ذریعہ سے مجھ کو اخبار غیب معلوم ہوئے وہ وحی یہ کہ میں تم کو قرآن کے قصص عبرت خیز سنا کر ڈراؤں کہ میں خدا کا نذیر مبین تمہارے لیے آیا ہون جو تم کو تمہاری صاف فصیح بامحاورہ زبان میں ڈراتا ہوں ، یعنی اگر رسول نہ ہو تو مجھ کو وہ خبر جو عرب والوں نے کبھی نہ سنی تھی کیونکرمعلوم ہوتی یہ ایک سچی یقینی دلیل نبوت ہے بغیر تعلیم ظاہر اسرار غیبی ظاہر کردیے۔ عظمت حبیب خدا۔ ترمذی، مسندامام احمد ، مسند عبد بن حمید اور دارمی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس اور معاذ بن جبل ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–71

[21] جھگڑے سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس گفتگو کو یہاں '' اختصام '' کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں جھگڑا یا بحث و مباحثہ، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کا سوال کوئی اعتراض یا بحث مباحثہ کے نقطہ نظر سے نہ تھا بلکہ وہ محض تخلیق آدم کی حکمت معلوم کرنا چاہتے تھے لیکن سوال و جواب کا ظاہری پہلو کیونکر بحث کا سا ہوگیا تھا اس لئے اسے '' اختصام '' سے تعبیر کیا گیا۔ دوسرا جھگڑا اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–72

ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(70) میری جانب جو وحی کی جاتی ہے وہ محض اس سبب سے کی جاتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں اگر پیغمبر نہ ہوتا تو مجھے کیا خبر ہوتی کہ ملا اعلیٰ کے فرشتوں نے تخلیق آدم کے وقت کیا کہا اور اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا اور وہ آپس میں کیا بحث و تکرار کررہے تھے یا بعض دوسرے مسائل ہیں ان میں کیا بحث ہوتی ہے اور کیا تکرار ہوتی ہے مجھے ان معاملات کی کیا خبر ہوتی لیکن وحی کے ذریعہ سے وہ باتیں مجھے معلوم ہوتی ہیں اور مجھ پر جو وحی آتی ہے وہ محض اس سبب سے آتی ہے کہ میں کھلا اور آشکارا ڈرانے والا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اعلیٰ فرشتے جوت دبیریں کرتے ہیں مجھ کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 69–74

ف 3۔ اللہ تعالیٰ سے ملائکہ کی گفتگو کو مجازا اختصام کہا گیا کہ ظاہرا مشابہ اختصام کے تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میری طرف سوائے اس کے کچھ وحی نہیں کیا جاتا کہ میں ڈرانے والا ہوں 70۔ آپ نے فرمایا میں جو کچھ بیان کرتا ہوں وہ وہی ہے جو میری طرف وحی کیا گیا ہے اور یہ کہ میں غیب کی خبریں جو بیان کرتا ہوں تو خود بخود نہیں بیان کرتا بلکہ وہی کچھ بیان کرتا ہوں جو مجھے رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک ڈرانے والا ہوں تاکہ تم کفر وشرک سے باز آجائو اور ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہ کرو اور یہ ڈرانا میرا یہی ہے کہ تم وہ لوگ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بخشنا ہے اور فرشتے جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے ہو تمہارے خادم بنائے گئے ہیں تمہارا مقام فرشتوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

In verse 69, it was said: مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ (I had no knowledge of the Heavenly Beings when they were debating (about the creation of 'Adam). Means: 'It is a clear proof of my prophethood that I am telling you these things from such a high assembly, things that cannot be found out through any medium other than wahy (revelation).' The words 'these things' refer to the conversation between Allah Ta’ ala and the angels at the time of the creation of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and which finds mention in Surah Al-Baqarah where the angels had…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–70

58 This is the answer to what the disbelievers said in verse 5: "Has he made just One God in place of all the gods? This is indeed a strange thing." It means: "You may frown and scowl as you like, but this is a reality of which I am informing you, and your frowning and scowling cannot change it." This answer not only contains the statement of the truth, but it also contains the argument for it. The mushriks said: "Deities are many of whom one is Allah also. How is it that you have done away with all other deities and kept only One Allah?" In answer it was said: "Thc real Deity is One Allah…

Read the full tafseer →