Saad 38:69

Saad · from ayah 69

38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۟مَا كَانَ لِىَ مِنۡ عِلۡمٍۢ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰٓى اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ

مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

I had no knowledge of the exalted assembly [of angels] when they were disputing [the creation of Adam].

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:69

(ان سے کہو) "مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

مجھے عالم بالا کی باتوں کا کچھ علم نہیں تھا جب وہ (فرشتے) سوال و جواب کر رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مجھے تو (اَزخود) عالمِ بالا کی جماعتِ (ملائکہ) کی کوئی خبر نہ تھی جب وہ (تخلیقِ آدم کے بارے میں) بحث و تمحیص کر رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مجھے سب سے اونچی مجلس کے متعلق کبھی کچھ علم نہیں، جب وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مجھے تو عالم بالا کے متعلق کچھ علم نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

مجھے عالم بالا کی باتوں کی کچھ خبر نہ تھی جب کہ وہ گجھڑ رہے ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(نیز ان سے یہ بھی کہہ دو کہ) مجھے تو عالم بالا کے بارے میں کچھ بھی خبر نہ تھی جب کہ ان کا آپس میں جھگڑا ہو رہا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

مجھ کو عالم بالا کی کچھ خبر نہ تھی جبکہ وہ (یعنی فرشتے) گفتگو کررہے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

مجھے کچھ علم نہیں ملااعلیٰ کے بارے میں جب وہ باہم بحث و تکرار کر رہے ہوتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مجھے اوپر کی مجلس والوں کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

(Tell them): “I had no knowledge of the High Council when they were disputing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I had no knowledge of the Heavenly Beings when they were debating (about the creation of ‘Adam).

— Muhammad Taqi Usmani

I had no knowledge of the Heavenly Beings when they were debating (about the creation of ‘Adam).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I had no knowledge of the Highest Chiefs when they disputed;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

I had no knowledge of the exalted assembly [of angels] when they were disputing [the creation of Adam].

— Saheeh International

I have no knowledge of the dispute among the angels (concerning their attitude towards Adam).

— Muhammad Sarwar

I had no knowledge of the exalted chiefs when they contended:

— Muhammad Habib Shakir

I had no knowledge of the chiefs on high when they disputed;

— Abdul Majid Daryabadi

"No knowledge have I of the Chiefs on high, when they discuss (matters) among themselves.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–70

نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–70

سورة صٓ 58 یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 5 میں گزری ہے کہ " کیا اس شخص نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے "۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے کتنی ہی ناک بھوں چڑھاؤ، مگر یہ ہے ایک حقیقت جس کی خبر میں تمہیں دے رہا ہوں، اور تمہارے ناک بھوں چڑھانے سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی۔ اس جواب میں صرف بیان حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے حقیقت ہونے کی دلیل بھی اسی میں موجود ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت سے ہیں جن میں سے ایک اللہ بھی ہے، تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے بس ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے، کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

(آیت) مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ۔ (مجھ کو عالم بالا کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) یعنی یہ میری رسالت کی واضح دلیل ہے کہ میں تم سے عالم بالا کی ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جو وحی کے سوا کسی بھی ذریعہ سے معلوم نہیں ہو سکتیں۔ ان باتوں سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی، اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آ چکا ہے۔ فرشتوں نے کہا تھا کہ (آیت) اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء۔ (کیا آپ زمین میں ایسے انسان کو پیدا کر رہے ہیں جو وہاں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے ؟) اس گفتگو کو یہاں ”اختصام“…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 69–70

(آیت) یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ میں یوں ہی تم پر دھونس جمانے کے لئے ایک نذیر مبین بن بیٹھا ہوں اور تمہیں مرعوب کرنے کے لئے اہل دوزخ کی باہمی توتکار کا افسانہ سنا رہا ہوں۔ بھلا عالم بالا کی ان باتوں کی مجھے کیا خبر ہو سکتی تھی ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ سے مجھے اس لئے آگاہ فرما رہا ہے کہ میں ایک کملے ہوئے ڈرانے والے کی طرح اس پیش آنے والے دن کی ہولناکی سے آگاہ کر دوں۔ ورنہ میں کوئی غیب دان نہیں ہوں، میں تو بس ایک نذیر مبین ہں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہو کوئی غیب دان نہیں ہوں میں تو بس ایک نذیر مبین ہوں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

69۔ 1 ملاء اعلٰی سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں ؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث و تکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم ؑ کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–80

27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–70

آیت نمبر 69 تا 70 یہاں پھر قصہ انسانیت شروع ہوتا ہے کہ اس بناء عظیم میں انسان کا کیا مقام ہے ۔ اس وقت عالم بالا میں وہ مکالمہ ہوا جس سے انسانی تاریخ کی لائن متعین ہوتی ہے۔ اور انسانی قدریں متعین ہوتی ہیں اور اسی نظریہ اور فلسفہ کی تبلیغ کے لیے حضرت محمد ﷺ بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 69–70

11 ملاء اعلیٰ (اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین وغیرہم کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ اور تصریفات کونیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ یعنی ملاء اعلیٰ میں نظام عالم کے فناء وبقاء کے متعلق جو تدبیریں یا بحثیں اور قیل و قال ہوتی ہے۔ مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرما دیا وہ بیان کردیے۔ جو کچھ کہتا ہوں اسی کی وحی و اعلام سے کہتا ہوں۔ مجھ کو یہ ہی حکم ملا ہے کہ سب کو اس آنے والے خوفناک مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کروں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی ؟ نہ اندازے کے لیے اس کی ضرورت ہے نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ چند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 69 { مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍم بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ } ”مجھے کچھ علم نہیں ملااعلیٰ کے بارے میں ‘ جب وہ باہم بحث و تکرار کر رہے ہوتے ہیں۔“ یہ مضمون سورة الزمر کی آخری آیت میں بھی آئے گا۔ فرشتے چونکہ عاقل ہستیاں ہیں اس لیے تکوینی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً ممکن ہے کسی وقت کوئی فرشتہ کسی ملک یا قوم کے بارے میں کہتا ہو کہ اب تو ان لوگوں پر عذاب آجانا چاہیے اور اس کے جواب میں کوئی دوسرا کہتا ہو کہ نہیں ابھی انہیں کچھ مزید مہلت ملنی چاہیے۔ آخری فیصلہ تو ہر کام میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہوتا ہے ‘ لیکن فرشتے بھی مختلف امور کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 عالم بالا میں فرشتوں کی بحثیں :۔ عالم بالا سے مراد فرشتوں کا مستقر ہے۔ ان میں بھی کبھی کبھار کوئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ انہیں میں سے ایک بحث وہ ہے جو سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ہوئی تھی اور جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اور رسول اللہ سے یہ خطاب ہے۔ کہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عالم بالا میں جو کچھ بحثیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ مجھے ان کا قطعاً کچھ علم نہیں ہوتا صرف اسی بات کا علم ہوتا ہے۔ جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں چونکہ لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کرنے والا ہوں لہذا مجھے صرف انہی بحثوں کے متعلق وحی کی جاتی ہے جن کا تعلق انسانوں کی ہدایت سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 69–70

62۔ (اور مجھے اب جو اس کی خبر ہوئی ہے وہ محض وحی کے ذریعہ سے) (آیت) ” یختصمون “۔ اللہ سے فرشتوں کی گفتگو میں سوال و جواب تو بہرحال واقع ہوا ہی تھا اس کی اختصام سے تعبیر ای ظاہری مشابہت کی بناء پر ہے۔ لاشک ان جری ھناک سوال و جواب وذلک یشابہ المخاصمۃ والمناظرۃ والمشابھۃ علۃ لجواز المجاز فلھذا السبب حسن اطلاق لفظ المخاصمۃ علیہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما کان لی من علم بالملا الا علی اذ یختصمون۔ مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہیں تھی ‘ جبکہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 67–69

(67۔ 69) آپ ان سے فرما دیجیے کہ یہ قرآن کریم ایک معزز و مکرم مضمون ہے جس میں اولین و آخرین کے واجبات ہیں اور تم اس کی تکذیب کر کے بالکل ہی اسے پس پشت ڈال رہے ہو جبکہ میں رسول نہیں تھا تو مجھے تو فرشتوں کی گفتگو کی جو کہ وہ تخلیق آدم اور فساد انسان کے بارے میں کر رہے ہیں کچھ بھی خبر نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 69–70

مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ : سب سے اونچی مجلس سے مراد آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس ہے۔ ”كَانَ“ ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے، یعنی فرشتوں کی مجلس میں جو بحث ہوتی ہے مجھے اس کا کبھی کچھ علم نہیں ہوتا، میں عالم الغیب نہیں، اس کے متعلق میں جو کچھ تمہیں بتاتا ہوں وہ وحی الٰہی کے ذریعے سے مجھے معلوم ہوتا ہے اور وہ بھی صرف ان بحثوں کے متعلق کہ جن کا تعلق لوگوں کی ہدایت اور انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے سے ہوتا ہے۔ یہ وحی الٰہی میری نبوت کی بھی دلیل ہے، کیونکہ اگر وحی نہ ہوتی تو میں ملأ اعلیٰ میں ہونے والی کوئی بات تمہیں نہ بتاسکتا۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ملأ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–70

65 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔ قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نصرالسنجری نے الابانہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ (فرما دیجئے وہ ایک بڑی خبر ہے) یعنی قرآن مجید۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے الابانہ میں محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ یعنی تم نباعظیم کے بارے میں بحث کرتے رہتے ہو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ (مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے یعنی اس سے فرشتے مراد ہیں۔ جو آدم (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا كَانَ لِيَ [نہیں تھا میرے لئے ] مِنْ عِلْمٍۢ [کوئی بھی علم ] بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي [(فرشتوں کی) اعلیٰ مجلس کا ] اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ [جب وہ بحث کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: ملأ اعلیٰ مقربین کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں یعنی ملأ اعلیٰ میں نظام عالم کے فنا وبقا کے متعلق جو تدبییں یا بحثیں ہوتی ہیں مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرمادیا وہ بیان کردیئے۔ جو کہتاہوں اسی کی وحی سے کہتاہوں۔ مجھ کو یہی حکم لا ہے کہ سب کو آنے والے مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کردوں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی، نہ انذار کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–70

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 69–70

46:۔ ” مَا کَانَ لِیَ الخ “۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے اگر تو واقعی خدا کا پیغمبر ہے اور تمہارے پاس وحی آتی ہے تو ہمیں بتاؤ جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ کب آئے گا۔ جواب دیا گیا کہ بیشک میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے لیکن ملا اعلی میں جو کچھ ہو رہا ہے مجھے اس کا کوئی علم نہیں . اس لیے میں نہیں بتا سکتا کہ عذاب کب آئے گا۔ اور اللہ کی طرف سے مجھ پر وحی اسی لیے نازل ہوتی ہے کہ میں اس کا پیغمبر اور بشیر و نذیر ہوں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–70

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍؚبِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ۝ 69 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ، وقالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ [ الأعراف/ 60] ، إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ [ القصص/ 20] ، قالَتْ يا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتابٌ كَرِيمٌ [ النمل/ 29] ، وغیر ذلک من الآیات . يقال : فلان مِلْءُ العیونِ. أي : معظّم عند من رآه، كأنه ملأ عينه من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–70

ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍ م بِالْمَلَاِالْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلاَّ ٓاَنَّمَـآ اَنَا نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (صٓ: 69، 70) (مجھے ملائِ اعلیٰ کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے۔ یہ تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک نذیرمبین ہوں۔ ) آپ ﷺ کے نذیر ہونے پر دلیل آپ کے نذیر مبین ہونے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جو تمہیں ایسی بڑی بڑی خبریں دے رہا ہوں جس پر تمہاری دنیا و آخرت میں کامیابی کا دارومدار ہے تو اس سے تمہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میں یہ سب باتیں اپنی طرف سے بنا کر تمہیں مرعوب کرنے کے لیے ایسا کررہا ہوں۔ اس سے پہلے اہل دوزخ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–74

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

69: مَاکَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍم بِالْمَلَاِ الْاَ عْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (مجھے عالم بالا کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) اس سے آپ کی نبوت کے صحیح ہونے پر استدلال کیا گیا کہ آپ ملا ٔ اعلی کی باہمی گفتگو کی اطلاع دے رہے ہیں۔ جس کا آپ کو پہلے بالکل علم نہ تھا۔ پھرا سکو جان لیا اور جاننے کیلئے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو لوگ اختیار کرتے ہیں کہ جس کو نہیں جانتے اس کو اس علم کے جاننے والوں سے اخذ کرتے اور لیتے ہیں اور کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جب یہاں ان میں سے کوئی ذریعہ ثابت نہیں تو ثابت ہوا کہ وحی سے ہی معلوم ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

69، ماکان لی من علم بالملاء الا علی، اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ، اذ یختصمون ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی شان میں جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ، انی جاعل فی الارض خلیفۃ قالوا اتجعل فیھامن یفسد فیھا،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–70

69۔ 70۔ ترمزی 2 ؎ مسند امام احمد مسند عبد بن حمید وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور معاذ (رح) بن حبل کی معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آج کی رات اللہ تعالیٰ کو میں نے خواب میں دیکھا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے محمد ﷺ تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ آسمان پر فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ مجھ کو معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے بیچ میں رکھا۔ جس کی خنکی میرے سینہ تک پہنچی اور اس اثر سے تمام زمین و آسمان کا حال مجھ پر کھل گیا اور پھر میں نے بتلا دیا۔ کہ جاڑے کے موسم میں وضو کرنے اور مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80 پیغمبر کی صداقت و حقانیت ایک کھلا اور واضح ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ مجھے تو کچھ خبر نہ تھی عالم بالا کے بارے میں جبکہ انکا آپس میں جھگڑا ہورہا تھا۔ یعنی تخلیق آدم کے بارے میں ۔ وَفِیْہِ اَقُّوْالٌ اُخْریٰ ۔ تو اس بارے میں کوئی پیشگی علم نہ ہونے کے باوجود میں تم لوگوں کو ان قطعی اور بنیادی حقائق سے اس صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اس قدر تفصیل و تحقیق سے آگاہ کر رہا ہوں تو یہ ایک واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے میری نبوت و رسالت کی۔ اور میری صداقت و حقانیت کی۔ کہ وحی کے سوا ان حقائق کو جاننے کا میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہ تھا نہ ہوسکتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–70

رسول اللہ ﷺ جو بھی کہتے ہیں وحی کے مطابق کہتے ہیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ آچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو از خود غیب کی باتوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی نازل کردہ وحی کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے سب کچھ جانتا ہے اسی لیے لوگوں کو اس ہولناک دن یعنی قیامت سے ڈرانے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اس لیے آنے والے مشکل وقت کی سختی سے بچنے کی تیاری کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اسی لیے تو سیدنا محمد ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی اگر وحی نہ ہوتی تو مجھے کچھ بھی پتہ نہ چلتا کہ ” ملاء اعلی “ کیا تدبیریں کرتے ہیں۔ یہاں اختصام سے مراد وہ اختصام ہے جو آدم (علیہ السلام) کی فضلیت اور ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کے بارے میں فرشتوں کے درمیان ہوا۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں اس مجلس میں جھگڑا نہیں مگر ہر کوئی اپنے کام کے تکرار کرتا ہے۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:69) الملا الاعلی : م ل ء مادہ۔ الملا وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ ملا یملا ملا وملاۃ مصدر (باب فتح) کسی چیز کو کسی چیز سے بھرنا۔ مل پیمانہ یا برتن بھرنے کی مقدار ۔ مثلا قرآن مجید میں ہے فلن یقبل من احدھم مل الارض ذھبا (3:91) سو ان میں سے کسی سے بھی ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا زمین بھر سونا۔ قوم کے سردار اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں۔ اسی لئے ان کو ملا کہتے ہیں۔ الملا الاعلی موصوف و صفت الملا اسم جمع ہے اس لئے اس کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–70

(ف 1) اے محبوب ﷺ کہہ دو کہ مجھ کو کیا علم تھا کہ عالم بالا کے ملائکہ کس بات میں گفتگو کرتے تھے میری طرف خدا سے وحی بھیجی گئی اس کے ذریعہ سے مجھ کو اخبار غیب معلوم ہوئے وہ وحی یہ کہ میں تم کو قرآن کے قصص عبرت خیز سنا کر ڈراؤں کہ میں خدا کا نذیر مبین تمہارے لیے آیا ہون جو تم کو تمہاری صاف فصیح بامحاورہ زبان میں ڈراتا ہوں ، یعنی اگر رسول نہ ہو تو مجھ کو وہ خبر جو عرب والوں نے کبھی نہ سنی تھی کیونکرمعلوم ہوتی یہ ایک سچی یقینی دلیل نبوت ہے بغیر تعلیم ظاہر اسرار غیبی ظاہر کردیے۔ عظمت حبیب خدا۔ ترمذی، مسندامام احمد ، مسند عبد بن حمید اور دارمی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس اور معاذ بن جبل ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–71

[21] جھگڑے سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس گفتگو کو یہاں '' اختصام '' کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں جھگڑا یا بحث و مباحثہ، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کا سوال کوئی اعتراض یا بحث مباحثہ کے نقطہ نظر سے نہ تھا بلکہ وہ محض تخلیق آدم کی حکمت معلوم کرنا چاہتے تھے لیکن سوال و جواب کا ظاہری پہلو کیونکر بحث کا سا ہوگیا تھا اس لئے اسے '' اختصام '' سے تعبیر کیا گیا۔ دوسرا جھگڑا اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–72

ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(69) مجھے تو عالم بالا کے رہنے والے فرشتوں کی جب وہ آپس میں بحث کررہے تھے اور گفتگو کررہے تھے کچھ بھی خبر نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 69–74

ف 3۔ اللہ تعالیٰ سے ملائکہ کی گفتگو کو مجازا اختصام کہا گیا کہ ظاہرا مشابہ اختصام کے تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس وقت کوئی خبر نہ تھی جب فرشتے جھگر رہے تھے 69۔ ارشاد الہٰی ہے کہ ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہیں جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا “ یہ بات کون کہہ رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کہہ رہے ہیں۔ کس سے کہہ رہے ہیں ؟ اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب کر کے آپ فرما رہے ہیں کہ مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہیٰں جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ یہ جھگڑا کس بات میں تھا ؟ کہا گیا ہے کہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتے آپس میں جھگرا کر رہے تھے۔ ہم ان ساری باتوں میں کسی ایک کو بھی صحیح نہیں سمجھتے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ شیطان کا اور اللہ تعالیٰ کے کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

In verse 69, it was said: مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ (I had no knowledge of the Heavenly Beings when they were debating (about the creation of 'Adam). Means: 'It is a clear proof of my prophethood that I am telling you these things from such a high assembly, things that cannot be found out through any medium other than wahy (revelation).' The words 'these things' refer to the conversation between Allah Ta’ ala and the angels at the time of the creation of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and which finds mention in Surah Al-Baqarah where the angels had…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–70

58 This is the answer to what the disbelievers said in verse 5: "Has he made just One God in place of all the gods? This is indeed a strange thing." It means: "You may frown and scowl as you like, but this is a reality of which I am informing you, and your frowning and scowling cannot change it." This answer not only contains the statement of the truth, but it also contains the argument for it. The mushriks said: "Deities are many of whom one is Allah also. How is it that you have done away with all other deities and kept only One Allah?" In answer it was said: "Thc real Deity is One Allah…

Read the full tafseer →