Saad 38:68

Saad · from ayah 68

38:68

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ ۟اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ

جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

From which you turn away.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:68

جس کو سن کر تم منہ پھیرتے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس سے تم منہ موڑے ہوئے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم اس سے غفلت میں ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس سے تم منہ پھیر نے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم اس سے اعراض کئے ہوئے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس سے تم لوگ (اس لاپرواہی کے ساتھ) منہ موڑے ہوئے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

جس سے تم (بالکل) بےپروا ہورہے ھو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم اس سے اعراض کر رہے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

from which you are turning away.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

to which you are averse.

— Muhammad Taqi Usmani

to which you are averse.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"From which you turn away!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

From which you turn away.

— Saheeh International

but you have turned away from it.

— Muhammad Sarwar

(And) you are turning aside from it:

— Muhammad Habib Shakir

Ye are therefrom averting.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 38:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–70

نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–70

سورة صٓ 58 یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 5 میں گزری ہے کہ " کیا اس شخص نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے "۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے کتنی ہی ناک بھوں چڑھاؤ، مگر یہ ہے ایک حقیقت جس کی خبر میں تمہیں دے رہا ہوں، اور تمہارے ناک بھوں چڑھانے سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی۔ اس جواب میں صرف بیان حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے حقیقت ہونے کی دلیل بھی اسی میں موجود ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت سے ہیں جن میں سے ایک اللہ بھی ہے، تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے بس ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے، کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–68

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ (تم جو رسالت اور توحید کے مسئلہ میں تکذیب و انکار کرتے ہو تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کچھ ضرر نہیں، کیونکہ) میں تو (تم کو صرف عذاب خداوندی سے) ڈرانے والا (پیغمبر) ہوں۔ اور (جیسے میرا رسول اور منذر ہونا واقعی ہے اسی طرح توحید بھی برحق ہے، یعنی) بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت کے نہیں ہے، وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان میں ہیں (اور وہ) زبردست (اور گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ (اور چونکہ توحید کو تو کسی درجہ میں وہ لوگ مانتے بھی تھے اور رسالت کے بالکل ہی منکر تھے، اس لئے رسالت کی مزید تحقیق کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–68

قل ھو بنوآء عظیم، انتم عنہ معرضون (68-67) یعنی ان کو آگاہ کر دو کہ جس چیز سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ بڑا ہی اہم حادثہ ہے لیکن تم اس سے بےپروا ہو اور میرے انذار کا مذاق اڑا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

67۔ 1 یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

26: پیغمبروں کے واقعات اور قیامت کے حالات بیان کرنے کے بعد حضور رسول کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ ان منکرین سے فرما دیجئے اگر غور کرو تو ان واقعات سے تمہیں میری نبوت پر ساتدلال کرنا چاہیے، کیونکہ ان باتوں کے معلوم ہونے کا میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں تھا، میں جو یہ باتیں بتارہا ہوں، وہ یقیناً وحی کے ذریعے مجھے معلوم ہوئی ہیں، مگر تم وحی کی اس نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 67–68

آیت نمبر 67 تا 68 کہہ دو ' قرآن کریم اپنے موجودہ زمانے اور مستقبل قریب کی بہ نسبت آگے چل کر بہت ہی عظیم نتائج پیدا کرنے والا ہے۔ اس کائنات میں یہ امر الہٰی ہے۔ اور اس کا تعلق اس پوری کائنات کے عظیم معاملات میں سے ہے۔ یہ اس کائنات میں جاری وساری نظام قضاو قدر سے متعلق ہے۔ یہ قرآن اور اس کا نزول زمین و آسمانوں کے معاملات سے کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے ماضی (ان سے کہو) ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا۔ بعید کے امور بھی متعلق ہیں اور مستقبل کی تبدیلیاں بھی اس کے نتیجے میں ہوں گی۔ یہ تو ایک عظیم شہ سرخی ہے۔ یہ عظیم خبر قریش سے بھی آگے بڑھنے والی ' یہ مدین اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–68

10 یعنی قیامت اور اس کے احوال کوئی معمولی چیز نہیں۔ بڑی بھاری اور یقینی خبر ہے جو میں تم کو دے رہا ہوں (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ ۙ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ۝ۭ ) 78 ۔ النبأ :2-1) مگر افسوس ہے کہ تم اس کی طرف سے بالکل بےفکر ہو۔ جو کچھ تمہاری خیر خواہی کو کہا جاتا ہے دھیان نہیں لاتے۔ بلکہ الٹا مذاق اڑاتے ہو کہ کب آئے گی۔ کیونکر آئے گی اور اتنی دیر کیوں ہی ہو رہی ہے اسے جلد کیوں نہیں بلا لیتے۔ وغیرہ ذالک۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68 { اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ”تم اس سے اعراض کر رہے ہو۔“ دیکھو ! ہمارے یہ رسول ﷺ تمہارے پاس بہت بڑی اور فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں ‘ لیکن تم لوگ ہو کہ مسلسل اس سے اعراض کیے جا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

67 یعنی قیامت کی خبر کوئی معمولی خبر نہیں جس کا تم مذاق اڑاتے اور بار بار پوچھتے رہتے ہو کہ کب آئے گی، آ کیوں نہیں جاتی ؟ ہمارا حساب کتاب ابھی ہمیں کیوں نہیں دے دیا جاتا ؟ اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھ لو۔ اور اس دن کے ہولناک مناظر کو اپنے سامنے لاؤ تو یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ تمہارے طرز زندگی کا رخ موڑ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 67–68

61۔ (اور یہ بےپروائی تمہارے ہی آگے آئے گی) (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہی مضمون توحید و رسالت یمکن ان یکون المراد ان القول بان الالہ واحد نباعظیم ویمکن ان یقال المراد القولبالنبوۃ نبا عظیم (کبیر) بعض نے ھو سے مراد قرآن بھی لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انتم عنہم معرضون جس سے تم کترا رہے ہو۔ بعض کے نزدیک ھو سے مراد ہے روز قیامت۔ دوسری آیت میں آیا ہے : عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ - عَنِ النَّبَأِ الْعَظِیْمِاس آیت میں نباء عظیم سے مراد روز قیامت ہی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : مطلب یہ ہے کہ میں جو تم کو اطلاع سے رہا ہوں اور اس خدا کے عذاب سے جس کی یہ یہ صفات ہیں ‘ ڈرا رہا ہوں ‘ وہ عظیم الشان خبر ہے ‘ اس صورت میں آیت کا تعلق آیت اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الاَّ اللّٰہ الْوَاحِدُ سے ہوگا۔ اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ یعنی اہل دانش کو مناسب نہیں کہ ایسی خبر سے اعراض کریں ‘ مگر تم غفلت میں ایسے سرگرداں ہو کہ اس کی طرف سے کترا رہے ہو۔ توحید…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 67–69

(67۔ 69) آپ ان سے فرما دیجیے کہ یہ قرآن کریم ایک معزز و مکرم مضمون ہے جس میں اولین و آخرین کے واجبات ہیں اور تم اس کی تکذیب کر کے بالکل ہی اسے پس پشت ڈال رہے ہو جبکہ میں رسول نہیں تھا تو مجھے تو فرشتوں کی گفتگو کی جو کہ وہ تخلیق آدم اور فساد انسان کے بارے میں کر رہے ہیں کچھ بھی خبر نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 67–68

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ ﷺ انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی ؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–70

65 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔ قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نصرالسنجری نے الابانہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ (فرما دیجئے وہ ایک بڑی خبر ہے) یعنی قرآن مجید۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے الابانہ میں محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ یعنی تم نباعظیم کے بارے میں بحث کرتے رہتے ہو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ (مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے یعنی اس سے فرشتے مراد ہیں۔ جو آدم (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–70

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–68

45:۔ ” قُلْ ھُوَ الخ “۔ ضمیر ” ھُوَ “ آیات سابقہ کے مضمون یعنی دعوت توحید سے کنایہ ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ایک نہایت اہم اور عظیم الشان امر ہے جس کی میں تمہیں بامر الٰہی خبر دے رہا ہوں اور وہ اس لائق ہے کہ اسے دل و جان سے قبول کیا جائے۔ اور اس سے تغافل نہ کیا جائے لیکن تم اپنی کم عقلی اور بدبختی سے اس کو پس پشت ڈال رہے ہو (ھُوَ ) ای ھذا الذی انباتکم بہ من کونی رسولا منذرا وان اللہ واحد لا شریک لہ (روح، مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–70

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ۝ 68 اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–70

ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 67–68

قُلْ ھُوَ نَبَـؤٌا عَظِیْمٌ۔ اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ۔ (صٓ: 67، 68) (اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ وہ ایک عظیم خبر ہے۔ اور تم اس سے اعراض کررہے ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت نبی کریم ﷺ کی حیثیت اور آپ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں جس بات سے انذار کررہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اس کے اقرار و انکار پر تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ کیونکہ جیسے پہلے رکوع میں کہا گیا کہ تمہارے لیے یہ بات نہایت اچنبھے کی ہے کہ تمہیں یہ کہا جائے کہ تم نے جو متعدد معبود اور اِلٰہ بنا رکھے ہیں، یہ سب غلط ہیں،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–74

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ (کہ اس سے تم بےپروائی اختیار کرنے والے ہو) غافل ہونے والے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 67–68

67، قل ، اے محمد ! ، ھو، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، نبؤاعظیم ، ابن عباس ؓ ، قتادہ، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک عظیم الشان خب رہے جس سے تم کترا رہے ہو۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، عم یتساء لون عن النباء العظیم، ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–68

65۔ 68۔ اوپر دوزخ کے عذاب کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں جو انسان کی برداشت سے باہر ہے اور اس عذاب سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تعظیم میں کسی دوسرے کو ہرگز شریک نہ کیا جاوے۔ کیونکہ وہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ ساری مخلوقات اس کی قدرت کے آگے عاجز اور اس کی قدرت کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔ زبردست وہ ایسا ہے کہ پچھلی بڑی بڑی قوموں کو اس نے اس شرک کے جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ گناہوں کے بخشنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

79 غفلت و لاپرواہی محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ایک عظیم الشان خبر ہے جس سے تم لوگ منہ موڑے ہوئے ہو "۔ اور اتنی اہم خبر۔ { نباء عظیم } ۔ سے منہ پھیرنا اور غفلت برتنا تمہاری اپنی ہی تباہی کا باعث ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر تم لوگ ہو کہ اس سب کے باوجود اتنی بڑی خبر۔ { نباء عظیم } ۔ سے اعراض برتتے اور اس بارے انذار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہو۔ اور تمہیں احساس نہیں کہ اس طرح تم لوگ کس قدر ہولناک انجام کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو غفلت و لاپرواہی اور اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–70

رسول اللہ ﷺ جو بھی کہتے ہیں وحی کے مطابق کہتے ہیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ آچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو از خود غیب کی باتوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی نازل کردہ وحی کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے سب کچھ جانتا ہے اسی لیے لوگوں کو اس ہولناک دن یعنی قیامت سے ڈرانے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اس لیے آنے والے مشکل وقت کی سختی سے بچنے کی تیاری کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اسی لیے تو سیدنا محمد ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:68) معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر اعراض (افعال) ۔ مصدر سے منہ پھیرنے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ (تم اس سے منہ موڑے ہوئے ہو) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–68

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو ، میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں تم مانو یہ نہ مانو میرا کام کہہ دینا ہے تم کو خوب سمجھاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے کوئی قابل عبادت نہیں نہ اس کا کوئی ساجھی نہ اولاد، وہ یکتا ہے قہار ہے سب مخلوق پر غلبہ والا ہے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھو ڑکربرابر کردے، اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے ، اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے محدود کردے اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–72

ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(68) جس خبر سے تم بےپروائی برت رہے ہو۔ یہ مضمون جو میں نے اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان کیا یہ بہت اہم مضمون ہے مگر افسوس کہ تم اس مضمون سے غفلت برتتے اور اس سے تم اعراض کرتے ہو، ہوسکتا ہے کہ ا س خبر سے مراد قیامت کی خبرہو، جیسا کہ بعض علما نے کا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت کے احوال یا اس دین کا نازل ہونا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–68

ف 2۔ یعنی مسلمانوں کو بد راہ اور حقیر سمجھا کرتے تھے، وہ کیوں نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حالانکہ تم ہو کہ اس سے منہ پھیر رہے ہو کہ گویا ایسا ممکن نہیں 68۔ تم اس خبر عظیم سے منہ موڑتے ہو اور کہتے ہو کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا لیکن تم جس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اس بات پر تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے کہ اللہ وحد لا شریک لہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے اس لیے تم اس کو مانو یا نہ مانو بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے اور اگر کوئی شخص ایک حقیقت کو حقیقت تسلیم نہ کرے تو کیا اس سے وہ حقیقت حقیقت نہیں رہتی ؟ مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت ہٰن جن میں سے ایک اللہ بھی ہے پھر تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے صرف اور صرف ایک معبود کیسے بنا ڈالا ؟ ان سے کہا جا رہا ہے کہ معبود حقیقی صرف ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–68

Commentary A Gist of the Subjects of the Surah In verse 65, it was said: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ‌ (Say, “ I am only a warner) At the beginning of the Surah, you have seen that the real objective of this Surah was the affirmation of the prophethood of the noble Prophet ﷺ refutation of what the disbelievers said. In this connection, events relating to blessed prophets of the past were mentioned for two reasons. Firstly, that they bring comfort to the Holy Prophet ﷺ and that he too observes patience against the absurd allegations leveled by those who disbelieved - the same patience as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–70

58 This is the answer to what the disbelievers said in verse 5: "Has he made just One God in place of all the gods? This is indeed a strange thing." It means: "You may frown and scowl as you like, but this is a reality of which I am informing you, and your frowning and scowling cannot change it." This answer not only contains the statement of the truth, but it also contains the argument for it. The mushriks said: "Deities are many of whom one is Allah also. How is it that you have done away with all other deities and kept only One Allah?" In answer it was said: "Thc real Deity is One Allah…

Read the full tafseer →