Saad 38:67

Saad · from ayah 67

38:67

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌ ۟ۙقُلۡ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌۙ‏

کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "It is great news

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:67

اِن سے کہو "یہ ایک بڑی خبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : یہ ایک عظیم حقیقت کا اظہار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ وہ بڑی خبر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: وہ (قیامت) بہت بڑی خبر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے وہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : یہ ایک بہت بڑی خبر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ وہ ایک عظیم خبر ہے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو (کہ لوگو ! تم مانو یا نہ مانو) یہ بہرحال ایک بہت بڑی خبر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے یہ ایک عظیم الشان مضمون ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ کہہ دیجیے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ یہ ایک (بڑی ہولناک) چیز کی خبر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “This is a tiding of tremendous import

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :It is a great news

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :It is a great news

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "That is a great news,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say, "It is great news

— Saheeh International

Say, "It (facts about the supremacy of God) is the greatest message,

— Muhammad Sarwar

Say: It is a message of importance,

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: it is a tiding mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "That is a Message Supreme (above all),-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–70

نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–67

سورة صٓ 56 اب کلام کا رخ پھر اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جس سے تقریر کا آغاز ہوا تھا۔ اس حصے کو پڑھتے ہوئے پہلے رکوع سے مقابلہ کرتے جائیے، تاکہ بات پوری سمجھ میں آسکے۔ سورة صٓ 57 آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا تھا کہ یہ لوگ اس بات پر بڑے اچنبھے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک خبردار کرنے والا خود ان کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ان سے کہو میرا کام بس تمہیں خبردار کردینا ہے۔ یعنی میں کوئی فوجدار نہیں ہوں کہ زبردستی تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے کی طرف کھینچوں۔ میرے سمجھانے سے اگر تم نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ بیخبر ہی رہنا اگر تمہیں پسند ہے تو اپنی غفلت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–68

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ (تم جو رسالت اور توحید کے مسئلہ میں تکذیب و انکار کرتے ہو تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کچھ ضرر نہیں، کیونکہ) میں تو (تم کو صرف عذاب خداوندی سے) ڈرانے والا (پیغمبر) ہوں۔ اور (جیسے میرا رسول اور منذر ہونا واقعی ہے اسی طرح توحید بھی برحق ہے، یعنی) بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت کے نہیں ہے، وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان میں ہیں (اور وہ) زبردست (اور گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ (اور چونکہ توحید کو تو کسی درجہ میں وہ لوگ مانتے بھی تھے اور رسالت کے بالکل ہی منکر تھے، اس لئے رسالت کی مزید تحقیق کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–68

قل ھو بنوآء عظیم، انتم عنہ معرضون (68-67) یعنی ان کو آگاہ کر دو کہ جس چیز سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ بڑا ہی اہم حادثہ ہے لیکن تم اس سے بےپروا ہو اور میرے انذار کا مذاق اڑا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

67۔ 1 یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

25: اس سے مراد مسلمان ہیں جن کو یہ کافر لوگ دنیا میں برا سمجھتے تھے، اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ ان کو جہنم میں نظر نہیں آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 67–68

آیت نمبر 67 تا 68 کہہ دو ' قرآن کریم اپنے موجودہ زمانے اور مستقبل قریب کی بہ نسبت آگے چل کر بہت ہی عظیم نتائج پیدا کرنے والا ہے۔ اس کائنات میں یہ امر الہٰی ہے۔ اور اس کا تعلق اس پوری کائنات کے عظیم معاملات میں سے ہے۔ یہ اس کائنات میں جاری وساری نظام قضاو قدر سے متعلق ہے۔ یہ قرآن اور اس کا نزول زمین و آسمانوں کے معاملات سے کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے ماضی (ان سے کہو) ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا۔ بعید کے امور بھی متعلق ہیں اور مستقبل کی تبدیلیاں بھی اس کے نتیجے میں ہوں گی۔ یہ تو ایک عظیم شہ سرخی ہے۔ یہ عظیم خبر قریش سے بھی آگے بڑھنے والی ' یہ مدین اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–68

10 یعنی قیامت اور اس کے احوال کوئی معمولی چیز نہیں۔ بڑی بھاری اور یقینی خبر ہے جو میں تم کو دے رہا ہوں (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ ۙ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ۝ۭ ) 78 ۔ النبأ :2-1) مگر افسوس ہے کہ تم اس کی طرف سے بالکل بےفکر ہو۔ جو کچھ تمہاری خیر خواہی کو کہا جاتا ہے دھیان نہیں لاتے۔ بلکہ الٹا مذاق اڑاتے ہو کہ کب آئے گی۔ کیونکر آئے گی اور اتنی دیر کیوں ہی ہو رہی ہے اسے جلد کیوں نہیں بلا لیتے۔ وغیرہ ذالک۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 { قُلْ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌ } ”آپ کہہ دیجیے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

67 یعنی قیامت کی خبر کوئی معمولی خبر نہیں جس کا تم مذاق اڑاتے اور بار بار پوچھتے رہتے ہو کہ کب آئے گی، آ کیوں نہیں جاتی ؟ ہمارا حساب کتاب ابھی ہمیں کیوں نہیں دے دیا جاتا ؟ اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھ لو۔ اور اس دن کے ہولناک مناظر کو اپنے سامنے لاؤ تو یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ تمہارے طرز زندگی کا رخ موڑ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 67–68

61۔ (اور یہ بےپروائی تمہارے ہی آگے آئے گی) (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہی مضمون توحید و رسالت یمکن ان یکون المراد ان القول بان الالہ واحد نباعظیم ویمکن ان یقال المراد القولبالنبوۃ نبا عظیم (کبیر) بعض نے ھو سے مراد قرآن بھی لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ھو نبؤا عظیم۔ (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ وہ (یعنی قرآن۔ ایک عظیم الشان خبر (یعنی مضمون) ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 67–69

(67۔ 69) آپ ان سے فرما دیجیے کہ یہ قرآن کریم ایک معزز و مکرم مضمون ہے جس میں اولین و آخرین کے واجبات ہیں اور تم اس کی تکذیب کر کے بالکل ہی اسے پس پشت ڈال رہے ہو جبکہ میں رسول نہیں تھا تو مجھے تو فرشتوں کی گفتگو کی جو کہ وہ تخلیق آدم اور فساد انسان کے بارے میں کر رہے ہیں کچھ بھی خبر نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 67–68

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ ﷺ انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی ؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–70

65 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔ قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نصرالسنجری نے الابانہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ (فرما دیجئے وہ ایک بڑی خبر ہے) یعنی قرآن مجید۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے الابانہ میں محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ یعنی تم نباعظیم کے بارے میں بحث کرتے رہتے ہو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ (مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے یعنی اس سے فرشتے مراد ہیں۔ جو آدم (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–70

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–68

45:۔ ” قُلْ ھُوَ الخ “۔ ضمیر ” ھُوَ “ آیات سابقہ کے مضمون یعنی دعوت توحید سے کنایہ ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ایک نہایت اہم اور عظیم الشان امر ہے جس کی میں تمہیں بامر الٰہی خبر دے رہا ہوں اور وہ اس لائق ہے کہ اسے دل و جان سے قبول کیا جائے۔ اور اس سے تغافل نہ کیا جائے لیکن تم اپنی کم عقلی اور بدبختی سے اس کو پس پشت ڈال رہے ہو (ھُوَ ) ای ھذا الذی انباتکم بہ من کونی رسولا منذرا وان اللہ واحد لا شریک لہ (روح، مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–70

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ ہُوَنَبَؤٌا عَظِيْمٌ۝ 67ۙ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–70

ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 67–68

قُلْ ھُوَ نَبَـؤٌا عَظِیْمٌ۔ اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ۔ (صٓ: 67، 68) (اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ وہ ایک عظیم خبر ہے۔ اور تم اس سے اعراض کررہے ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت نبی کریم ﷺ کی حیثیت اور آپ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں جس بات سے انذار کررہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اس کے اقرار و انکار پر تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ کیونکہ جیسے پہلے رکوع میں کہا گیا کہ تمہارے لیے یہ بات نہایت اچنبھے کی ہے کہ تمہیں یہ کہا جائے کہ تم نے جو متعدد معبود اور اِلٰہ بنا رکھے ہیں، یہ سب غلط ہیں،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–74

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

توحید کا عظیم الشان مضمون : 67: قُلْ ھُوَ (آپ کہہ دیجئے یہ) یعنی جو میں نے اپنے رسول منذر ہونے کی خبر دی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک ہے نَبَؤٌا عَظِیْمٌ ایک عظیم الشان مضمون ہے) شدید ترین غافل ہی اس سے اعراض کرسکتا ہے۔ پھر تمہارا حال یہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 67–68

67، قل ، اے محمد ! ، ھو، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، نبؤاعظیم ، ابن عباس ؓ ، قتادہ، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک عظیم الشان خب رہے جس سے تم کترا رہے ہو۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، عم یتساء لون عن النباء العظیم، ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–68

65۔ 68۔ اوپر دوزخ کے عذاب کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں جو انسان کی برداشت سے باہر ہے اور اس عذاب سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تعظیم میں کسی دوسرے کو ہرگز شریک نہ کیا جاوے۔ کیونکہ وہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ ساری مخلوقات اس کی قدرت کے آگے عاجز اور اس کی قدرت کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔ زبردست وہ ایسا ہے کہ پچھلی بڑی بڑی قوموں کو اس نے اس شرک کے جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ گناہوں کے بخشنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 ایک بہت بڑی خبر سے آگہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو یہ ایک بہت بڑی خبر ہے جس سے میں تم لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں "۔ یعنی اللہ پاک کی توحید و وحدانیت۔ اور یہ قرآن کریم اور قیام قیامت اور میری نبوت و رسالت کے " ہو " کے مرجع میں یہ سب داخل ہیں۔ (المدارک، المحاسن، المراغی ) ۔ اور یہ سب ہی امور دراصل آپس میں لازم و ملزوم ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار سب کے انکار کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس انجام سے میں تم لوگوں کو خبردار کر رہا ہوں وہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ مگر تم لوگ ہو کہ اس سے منہ موڑ کر غفلت میں پڑے ہو اور تم نہیں سمجھتے کہ اس طرح اپنے لیے کتنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–70

رسول اللہ ﷺ جو بھی کہتے ہیں وحی کے مطابق کہتے ہیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ آچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو از خود غیب کی باتوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی نازل کردہ وحی کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے سب کچھ جانتا ہے اسی لیے لوگوں کو اس ہولناک دن یعنی قیامت سے ڈرانے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اس لیے آنے والے مشکل وقت کی سختی سے بچنے کی تیاری کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اسی لیے تو سیدنا محمد ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

ف 5 یعنی یہ خبر جو میں تمہیں آخرت کے عذاب کی دے رہا ہوں بڑی ہولناک خبر ہے یا یہ قرآن کا اترنا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ واضح رہے کہ ” نبا “ کے معنی کسی اہم خبر یا واقعہ کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:67) قل کو مکرریہ بتانے کے لیے لایا گیا ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ ایک عظیم الشان اور جلیل القدر امر ہے۔ ھو : ای ما انباتکم بہ من کوئی رسولا منذرا وان اللہ تعالیٰ واحدا لا شریک لہ۔ یعنی جو میں اپنے رسول من اللہ ہونے اور ڈرانے والا ہونے کیء متعلق اور اللہ کے واحد لاشریک ہونے کے متعلق تم کو بتارہا ہوں وہ (ایک عظیم خبر ہے) یعنی یہ مضمون رسالت و توحید ۔ بعض کے نزدیک ھو کا مرجع قرآن کریم ہے۔ نبؤ اعظیم موصوف وصفت۔ ای خبر ذو فائدہ عظمیۃ جدا لاریب فیہ اصلا ایک بہت بڑے فائدہ کی خبر میں ہرگز کوئی شک نہیں۔ بعض کے نزدیک ھو سے مراد روز قیامت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے عم یتساء لون عن النبا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–68

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو ، میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں تم مانو یہ نہ مانو میرا کام کہہ دینا ہے تم کو خوب سمجھاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے کوئی قابل عبادت نہیں نہ اس کا کوئی ساجھی نہ اولاد، وہ یکتا ہے قہار ہے سب مخلوق پر غلبہ والا ہے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھو ڑکربرابر کردے، اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے ، اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے محدود کردے اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–72

ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–68

ف 2۔ یعنی مسلمانوں کو بد راہ اور حقیر سمجھا کرتے تھے، وہ کیوں نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ یہ خبر بہت بڑی خبر ہے 67۔ (ھو) کا مرجع کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ قرآن کریم ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے لیکن ہمارے خیال میں خدا لگتی بات یہ ہے کہ شروع میں سورت میں کفار نے تعجب کیا تھا کہ ” یہ رسول عجیب رسول ہے جس سارے معبودوں کی جگہ صرف ایک اللہ کو معبود بنا ڈالا ہے یہ تو بڑی عجیب خبر ہے “ اس جگہ مضمون جب پیچھے کی طرف پھیرا گیا ہے اور مضمون کو پیچھے پھیرتے ہی یہ فرما دیا گیا ہے کہ ” اللہ ایک ہے اور وہ سب پر غالب ہے “ تو اس (ھو) کا مرجع بھی وہی ہے (نبوء عظیم) بھی اسی کو کہا گیا ہے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہونے پر تم کو تعجب ہے تو ہوا کرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–68

Commentary A Gist of the Subjects of the Surah In verse 65, it was said: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ‌ (Say, “ I am only a warner) At the beginning of the Surah, you have seen that the real objective of this Surah was the affirmation of the prophethood of the noble Prophet ﷺ refutation of what the disbelievers said. In this connection, events relating to blessed prophets of the past were mentioned for two reasons. Firstly, that they bring comfort to the Holy Prophet ﷺ and that he too observes patience against the absurd allegations leveled by those who disbelieved - the same patience as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

56 Now the discourse turns to the same theme with which it began. One should read it with vv. 1-14 in order to understand the meaning fully. 57 In verse 4 it was said: "The people wonder that a warner from among themselves has come to them." Here it is being said: "Tell them: I am only a warner. ' That is, "I do not command an army that I may forcibly pull you from a wrong way and put you on the Right Way: If you do not listen to me and do not accept my message, you will only be causing a loss to yourselves. If you like to remain ignorant, you may continue to be heedless, for you will sec…

Read the full tafseer →