Explained with ayahs 65–70
نبی ؑ کا خواب۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
سورة صٓ 56
اب کلام کا رخ پھر اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جس سے تقریر کا آغاز ہوا تھا۔ اس حصے کو پڑھتے ہوئے پہلے رکوع سے مقابلہ کرتے جائیے، تاکہ بات پوری سمجھ میں آسکے۔
سورة صٓ 57
آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا تھا کہ یہ لوگ اس بات پر بڑے اچنبھے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک خبردار کرنے والا خود ان کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ان سے کہو میرا کام بس تمہیں خبردار کردینا ہے۔ یعنی میں کوئی فوجدار نہیں ہوں کہ زبردستی تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے کی طرف کھینچوں۔ میرے سمجھانے سے اگر تم نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ بیخبر ہی رہنا اگر تمہیں پسند ہے تو اپنی غفلت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ (تم جو رسالت اور توحید کے مسئلہ میں تکذیب و انکار کرتے ہو تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کچھ ضرر نہیں، کیونکہ) میں تو (تم کو صرف عذاب خداوندی سے) ڈرانے والا (پیغمبر) ہوں۔ اور (جیسے میرا رسول اور منذر ہونا واقعی ہے اسی طرح توحید بھی برحق ہے، یعنی) بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت کے نہیں ہے، وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان میں ہیں (اور وہ) زبردست (اور گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ (اور چونکہ توحید کو تو کسی درجہ میں وہ لوگ مانتے بھی تھے اور رسالت کے بالکل ہی منکر تھے، اس لئے رسالت کی مزید تحقیق کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ…
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار (66)
خدا کے ہاں سفارشیوں کی کوئی گنجائش نہیں
یہ صفت قھار کی وضاحت ہے کہ وہی آسمانوں او زمین میں اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا مالک ہے اور وہ عزیز و غفار بھی ہے۔ عزیز یعنی ہر چیز پر غالب اور مقتدر، مجال نہیں کہ کوئی اس کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ ساتھ ہی وہ غفار بھی ہے۔ اس وجہ سے جو اس کی رحمت و مغفرت کے حقدار ہوں گے ان کو بڑا بخشنے والا بھی ہے۔ اس کی طرف سے کسی ظلم یا ناانصافی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تمہارے مفروضہ سفارشویں کی ضرورت پیش آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
64۔ 1 یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے جس میں تکلف نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
25: اس سے مراد مسلمان ہیں جن کو یہ کافر لوگ دنیا میں برا سمجھتے تھے، اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ ان کو جہنم میں نظر نہیں آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
درس نمبر 214 تشریح آیات
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور یہ ان مسائل کو دہراتا ہے جو اس سورت کے اغاز میں دہرائے گئے تھے۔ مسئلہ توحید ، مسئلہ وحی الہٰی ، مسئلہ جزاء وسزا ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصے کو ثبوت وحی کے لیے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کا بھیجنا اس وقت طے ہوگیا تھا جب اللہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتوں کو بتارہا تھا۔ نیز اسی دن یہ طے ہوگیا تھا کہ ہدایت وضلالت کی راہ اختیار کرنے کا حساب اللہ لے ھا اور جزاء وسزا ہوگی ۔ اس قصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ انسان کے ساتھ شیطان کو روزازل سے حسد اور کینہ ہے اس نے روزاول سے اپنے آپ کو انسانی سے افضل سمجھا۔ یوں معرکہ آدم وابلیس شروع ہوا اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
9 میرا کام تو اتنا ہی ہے کہ تم کو اس آنے والی خوفناک گڑھے سے ہوشیار کر دوں اور جو بھیانک مستقبل آنے والا ہے اس سے بیخبر نہ رہنے دوں۔ باقی سابقہ جس حاکم سے پڑنے والا ہے وہ تو وہ ہی اکیلا خدا ہے جس کے سامنے کوئی چھوٹا بڑا دم نہیں مار سکتا۔ ہر چیز اس کے آگے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو۔ جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھوڑ کر برابر کر دے۔ اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے۔ اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود و رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے، محدود کر دے۔
Read the full tafseer →آیت 66 { رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ } ”وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے ‘ اور وہ بہت زبردست ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →66 اس سے پہلی آیت میں اپنی صفت قہاری کا ذکر فرمایا۔ جبکہ مخاطب کافر تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دبا کر رکھنے والا ہے۔ کافر اس کی گرفت سے کسی وقت بھی بچ نہیں سکتے۔ اور اس آیت میں اپنی صفت غفاری کا ذکر فرمایا یعنی جو بندے ایمان لے آئیں اور اس کے بندے بن کر رہیں ان کے گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔
Read the full tafseer →60۔ وہ اپنے ہر ارادہ پر قادر ہے، نیز ہر ایک کی مغفرت پر کوئی قید، کوئی شرط، نہ اس کی قوت وقدرت پر عائد ہوتی ہے نہ اس کی صفت غفاری پر، یہ رد ہے ان گمراہ قوموں کا جنہوں نے خدا کی قدرت وقوت کو محدود سمجھا ہے۔ اور یہ عقیدہ پھیلا یا ہے کہ وہ ” کرم “ (مکافات) کے قاعدہ کے آگے خود مجبور ہے کسی کو اپنی طرف سے معاف کر ہی نہیں سکتا اور یہ کہ بغیرعوض وکفارہ کے وہ مغفرت سے معذور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار وہی یگانہ ‘ سب پر غالب ‘ آسمانوں کا ‘ زمین کا اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مالک و منتظم ہے ‘ زبردست (اور گناہوں کو) بہت بخشنے والا ہے۔
اِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌکا تعلق کافروں کے سابق مقولے سے ہے ‘ کافروں نے جو کہا تھا : ھٰذا ساحر کذّاب اس کا جواب دینے کیلئے فرمایا : آپ کہہ دیجئے کہ میں تو ڈرانے والا ہوں ‘ اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں ‘ یعنی میں ساحر و کذاب نہیں ہوں۔ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الاَّ اللّٰہُاس جملہ کا رخ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًاکی طرف ہے اور اس سے اس کا تعلق ہے۔ الواحد (بہمہ جات) ایک نہ اپنی ذات میں کسی کی شرکت رکھتا ہے ‘ نہ اپنی…
Read the full tafseer →وہ آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوق کا خالق ہے جو ایمان نہ لائے اس کو سزا دینے میں زبردست اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اس کی بڑی مغفرت فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں جو اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، پھر کسی اور کی عبادت کیوں، جو نہ واحد ہے نہ قہر اور دبدبے کا مالک، نہ آسمان و زمین اور ان کے مابین کا رب ہے، نہ ہی اس کے ہاتھ میں قوت و اقتدار ہے اور نہ ہی گناہوں کو بخشنے کا اختیار ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
65 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔
قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
1:۔ نسائی (رح) ومحمد بن نصر و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں کھڑے ہوتے تھے تو یہ فرماتے تھے (آیت ) ” لا الہ الا اللہ الواحد القھار (65) رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار “ (اور سوائے اللہ کے اور کوئی لائق عبادت نہیں وہی یگانہ سب پر غالب ہے آسمانوں کا زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کائنات کا مالک ومنتظم ہے زبردست ہے (اور گناہوں کو) بہت زیادہ بخشنے والا ہے) ۔
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [جو زمین اور آسمانوں کا مالک ہے ] وَمَا [اور اس کا جو ] بَيْنَهُمَا [ان دونوں کے درمیان ہے ] الْعَزِيْزُ [جو بالادست ہے ] الْغَفَّارُ [جو بار بار بخشنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے
ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
44:۔ ” قُلْ اِنَّمَا۔ تا۔ اَلْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ “۔ دلائل عقلی و نقلی اور وحی کے بعد دعوی سورت کا بصراحت ذکر ہے۔ دلائل سابقہ سے ثابت ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) تو بوقت مصائب خود اللہ کو پکارتے اور اس کے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہی ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق، کارساز، اپنی صفات میں یگانہ اور سب پر غالب ہے۔ ساری کائنات کا مالک اور سارے جہاں میں متصرف و مختار وہی ہ۔ جو چفاہتا ہے کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ربط آیات :
اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس…
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ 66
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ
تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو…
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَاالْعَزِیْزُالْغَفَّارُ ۔ (صٓ: 66)
(وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، غالب اور بخشنے والا۔ )
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مزید دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ وہی آسمانوں، زمینوں اور ان دونوں کے درمیان کی تمام مخلوقات کا خالق اور مالک اور روزی رساں ہے۔ ہر مخلوق کی ضرورتیں اس کے سامنے کھلی رہتی ہیں۔ وہ کسی مخلوق کی نہ کسی ضرورت سے بیخبر ہوتا ہے اور نہ اس کے احساسات سے۔ جو اسے پکارتا ہے اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہے۔ ایسی ذات جو پوری کائنات کی مالک ہو اور اس کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کو روزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار…
Read the full tafseer →66: رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا (وہ پروردگار آسمان و زمین کا ہے اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں) تمام جہاں میں بادشاہی و ربوبیت اسی ہی کیلئے ہے۔ الْعَزِیْزُ (زبردست) وہ ذات جب وہ سزا دے تو مغلوب نہیں ہوتا۔ الْغَفَّارُ (بخشش کرنے والا ہے) جو گناہوں سے اس کی پناہ میں آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65، قل، اے محمد ! ان مشرکین مکہ کو کہہ دیجئے۔ انما انا منذر، ڈرانے والا ہوں۔ ، وما من الہ الا اللہ الواحد القھار،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
65۔ 68۔ اوپر دوزخ کے عذاب کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں جو انسان کی برداشت سے باہر ہے اور اس عذاب سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تعظیم میں کسی دوسرے کو ہرگز شریک نہ کیا جاوے۔ کیونکہ وہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ ساری مخلوقات اس کی قدرت کے آگے عاجز اور اس کی قدرت کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔ زبردست وہ ایسا ہے کہ پچھلی بڑی بڑی قوموں کو اس نے اس شرک کے جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ گناہوں کے بخشنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–73
آیت 55
(ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔
(ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
77 کائنات ساری حضرت خالق کی وحدانیت ویکتائی کی شاہد عدل : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات ساری اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کا کھلا ثبوت اور اس کی صریح دلیل ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ نہایت زبردست انتہائی درگزر کرنے والا "۔ سو وہ وحدہ لاشریک زبردست ایسا ہے کہ کوئی بھی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی ہمت اور سکت نہیں رکھتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ درگزر کرنے والا اور غفار ایسا ہے کہ ایک ہی مرتبہ کی سچی توبہ کرنے پر عمر بھر کے سب گناہوں کو یکسر معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَاْیَّاکَ نَسْأَلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
رسول اللہ ﷺ جو بھی کہتے ہیں وحی کے مطابق کہتے ہیں
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ آچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو از خود غیب کی باتوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی نازل کردہ وحی کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے سب کچھ جانتا ہے اسی لیے لوگوں کو اس ہولناک دن یعنی قیامت سے ڈرانے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اس لیے آنے والے مشکل وقت کی سختی سے بچنے کی تیاری کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اسی لیے تو سیدنا محمد ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 5 یعنی یہ خبر جو میں تمہیں آخرت کے عذاب کی دے رہا ہوں بڑی ہولناک خبر ہے یا یہ قرآن کا اترنا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ واضح رہے کہ ” نبا “ کے معنی کسی اہم خبر یا واقعہ کے ہیں۔
Read the full tafseer →(38:66) اب السموت والارض ۔۔ الواحد ۔ القھار ۔ رب (السموت والارض وما بینھما) العزیز ۔ الغفار۔ سب اللہ کے صفاتی اسماء حسنی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو ، میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں تم مانو یہ نہ مانو میرا کام کہہ دینا ہے تم کو خوب سمجھاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے کوئی قابل عبادت نہیں نہ اس کا کوئی ساجھی نہ اولاد، وہ یکتا ہے قہار ہے سب مخلوق پر غلبہ والا ہے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھو ڑکربرابر کردے، اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے ، اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے محدود کردے اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں…
Read the full tafseer →(66) وہی آسمانوں کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے مابین ہیں سب کا پروردگار اور کمال قوت کا مالک اور بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ یعنی سب کا مالک ہے زبردست ہے اور بہت بخشش کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
ف 2۔ یعنی مسلمانوں کو بد راہ اور حقیر سمجھا کرتے تھے، وہ کیوں نظر نہیں آتے۔
Read the full tafseer →وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے عزت والا اور بخشنے والا ہے۔
66۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے اپنی تعلیم کا خلاصہ کھول کر رکھ دو جو یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے سب کے سب اللہ کے نیک بندے تھے ان میں سے ایک بھی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں سے کسی چیز میں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ہو وہ اپنی ذات میں اور اپنی جملہ صفات میں یکتا ہے اور سب پر غالب ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اس کا ہے کوئی اس کا شریک اور ساجھی نہیں اور کوئی اس سے زیادہ طافتور نہیں کوئی کتنا ہی برا اور کتنا ہی زیادہ گناہگار ہو جب سچے دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
Commentary
A Gist of the Subjects of the Surah
In verse 65, it was said: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ (Say, “ I am only a warner) At the beginning of the Surah, you have seen that the real objective of this Surah was the affirmation of the prophethood of the noble Prophet ﷺ refutation of what the disbelievers said. In this connection, events relating to blessed prophets of the past were mentioned for two reasons. Firstly, that they bring comfort to the Holy Prophet ﷺ and that he too observes patience against the absurd allegations leveled by those who disbelieved - the same patience as…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
56 Now the discourse turns to the same theme with which it began. One should read it with vv. 1-14 in order to understand the meaning fully.
57 In verse 4 it was said: "The people wonder that a warner from among themselves has come to them." Here it is being said: "Tell them: I am only a warner. ' That is, "I do not command an army that I may forcibly pull you from a wrong way and put you on the Right Way: If you do not listen to me and do not accept my message, you will only be causing a loss to yourselves. If you like to remain ignorant, you may continue to be heedless, for you will sec…
Read the full tafseer →