Saad 38:59

Saad · from ayah 59

38:59

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ ۚ— لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ؕ— اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ ۟هٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ‌ۚ لَا مَرۡحَبًۢـا بِهِمۡ‌ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Its inhabitants will say], "This is a company bursting in with you. No welcome for them. Indeed, they will burn in the Fire."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:59

(وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے) "یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آ رہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(جب وہ اپنے پیروکاروں کو آتا دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے کہیں گے) یہ ایک اور لشکر ہے جو تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، پھٹکار ہو ان پر، یہ سب آگ میں جلنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(دوزخ کے داروغے یا پہلے سے موجود جہنمی کہیں گے:) یہ ایک (اور) فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) گھستی چلی آرہی ہے، انہیں کوئی خوش آمدید نہیں، بیشک وہ (بھی) دوزخ میں داخل ہونے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ایک گروہ ہے جو تمہارے ساتھ گھستا چلا آنے والا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقینا یہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(دیکھو) یہ ایک اور لشکر (تمہارے پیرو وں کا) تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے انہیں کوئی خوش آمدید نہیں یہ بھی دوزخ میں آرہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ بھیڑ بھی تمہارے ساتھ ہی جہنم میں پڑنے والی ہے۔ ان پر خدا کی مار ! یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(وہ اپنے پیرؤوں کو جہنم کی طرف آتا دیکھ کر آپس میں کہیں گے کہ لو) یہ ایک اور لشکر ہے جو تمہارے ساتھ گھسنے چلا آ رہا ہے ان پر خدا کی مار انہوں نے بھی اب گھسنا ہے اس آگ میں

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اور ان کی جماعت جو تمہارے ساتھ گھس رہے ہیں ان پر خدا کی مار یہ بھی دوزخ ہی میں گھس رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ دھنسی چلی آرہی ہے ان کے لیے کوئی کشادگی نہ ہو ! یہ ہیں آگ میں گھسے آنے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی کوئی خوش آمدید نہیں انہیں یہ ضرور آگ تاپنے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

(Observing their followers advancing to Hell they will say, among themselves: “This is a troop rushing in to you. There is no welcome for them. They are destined to roast in the Fire.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(When the leaders of the infidels will see their followers entering the Hell after them, they will say to each other,) :This is a multitude rushing into (the Hell) with you - they are not welcome - they are to burn in the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani

(When the leaders of the infidels will see their followers entering the Hell after them, they will say to each other,) :This is a multitude rushing into (the Hell) with you - they are not welcome - they are to burn in the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Here is an army rushing blindly with you. (Those who are already in the Fire say): No word of welcome for them. Lo! they will roast at the Fire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Its inhabitants will say], "This is a company bursting in with you. No welcome for them. Indeed, they will burn in the Fire."

— Saheeh International

Their leaders will be told, "This band will also be thrown headlong with you into hell." Their leaders will exclaim, "May condemnation fall upon them! Let them suffer the torment of fire".

— Muhammad Sarwar

This is an army plunging in without consideration along with you; no welcome for them, surely they shall enter fire.

— Muhammad Habib Shakir

This is a crowd rushing in along with you; no welcome for them; verily they are to roast in the Fire.

— Abdul Majid Daryabadi

Here is a troop rushing headlong with you! No welcome for them! truly, they shall burn in the Fire!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–64

اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–61

سورة صٓ 54 اصل میں لفظ غَسَّاق استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ایک معنی جسم سے نکلنے والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو وغیرہ کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں۔ دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں۔ اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے۔ لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے ہی معنی میں ہوتا ہے، اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–64

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔ زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھذا فوج مفتحم معکم لا مرحبا بھم انھم صالوا النار (59) اہل دوزخ کی توتکار اوپر کی آیت میں لفظ طاغین دلیل ہے کہ یہ کفر کے سرغنوں اور لیڈروں کا بیان ہے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے پیروئوں کی بھیڑ بھی ان کے سامنے لائی جائے گی اور ان کو خبر دی جائے گی کہ یہ لوگ بھی تمہارے ساتھ ہی جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ وہ فوراً کہیں گے کہ یہ دفع ہوں، آخر یہ بھی تو جہنم ہی میں پڑنے والے بنے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59۔ 1 جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے ائمہء کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے یا ائمہ کفر و ضلالت آپس میں یہ بات، پیروکاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔ 59۔ 2 یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے رَحْبَۃ کے معنی وسعت و فراخی کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–61

24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–60

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 58–60

5 یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی، جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لا لا کر دوزخ کے کنارے پر جمع کریں گے۔ پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا بعدہ ان کے مقلدین و اتباع کی جماعت آئے گی۔ اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لو ! یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی ہوئی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لیے چلی آرہی ہے۔ خدا کی مار ان پر۔ یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے۔ خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے۔ اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو ! تمہی پر خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی کہیں آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواء واضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی۔ اب بتاؤ کہاں جائیں۔ جو کچھ ہے یہی جگہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 { ہٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ } ”یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ دھنسی چلی آرہی ہے۔“ جہنم میں پہلے سے موجود لوگ ہر نئے آنے والے گروہ کے بارے میں یوں کہیں گے کہ ہم تو پہلے ہی یہاں انتہائی مصیبت میں ہیں۔ جگہ بھی تنگ ہے ‘ گرمی اور حبس بھی بہت ہے اور اوپر سے تم بھی ہمارے اوپر دھنسے چلے آرہے ہو۔ { لَا مَرْحَبًام بِہِمْ } ”ان کے لیے کوئی کشادگی نہ ہو !“ یعنی یہ جو نئی کھیپ آرہی ہے ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔ ”مرحبا“ کے لغوی معنی فراخی اور کشادگی کے ہیں۔ یہ کسی کو خوش آمدید کہنے کا کلمہ greeting ہے۔ یعنی آئیے آئیے ! آپ کے لیے یہاں بہت جگہ اور ہر قسم کی سہولت موجود ہے چشم ِما روشن دل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 58–59

59 یہاں ازواج کا لفظ ہم مثل چیزوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اسی طرح کی اور بھی کئی گندی اور ناگوار چیزیں انہیں کھانا یا پینا پڑیں گی یا ایسی چیزوں سے انہیں عذاب دیا جائے گا۔ 60 اہل جہنم کا باہمی مکالمہ اور ایک دوسرے پر الزام :۔ یہ اہل دوزخ کے دوزخ میں داخل ہونے کے وقت کا ایک مکالمہ پیش کیا گیا ہے پہلا گروہ تو بڑے لوگوں اور سرداروں اور پیشواؤں کا ہوگا۔ انہیں فرشتے جہنم کے کنارے لا کھڑا کریں گے۔ پھر ان کے بعد ان کے پیروکاروں کی عظیم جماعت کو لایا جائے گا۔ سردار حضرات اس عظیم جماعت کو دیکھتے ہی کہنے لگیں گے۔ یہ ایک اور جماعت جہنم میں داخل ہونے کے لئے بیتابی سے آگے بڑھتی چلی آرہی ہے۔ ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

55۔ یہ کافروں کے سرغنہ اور سردار کہیں گے، جب وہ جہنم میں اپنے پیرو وں کی کسی ٹکڑی کو آتے دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا فوج مقتحم معکم یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کیلئے دوزخ میں بے تابانہ) گھس رہے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ دوزخ کے کارندوں کا کلام ہوگا ‘ جو جہنمی لیڈروں سے وہ کہیں گے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ کافروں کے پیشوا اور لیڈر جب دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کے بعد ان کے پیرو بھی آکر دوزخ میں داخل ہوجائیں گے ‘ اس وقت دوزخ کے کارندے ان پیشواؤں سے یہ بات کہیں گے۔ بعض علماء نے کہا : یہ پیشواؤں کا کلام ہوگا جو ایک دوسرے سے کہے گا کہ یہ لو تمہارے متبعین کی جماعت بھی تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کو) دوزخ میں گھس رہی ہے۔ اقتحام کا معنی ہے بیتابی کے ساتھ (یعنی اضطراری طور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ ان کو ترتیب وار دوزخ میں داخل کرے گا جس وقت ایک جماعت دوزخ میں داخل ہوگی تو اس سے پہلے اس کے ہمراہ جو جماعت داخل ہوچکی ہوگی وہ اس پر لعنت کرے گی اللہ تعالیٰ پہلی جماعت سے فرمائے گا وہ تو دوزخ میں داخل ہوئی تو ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہورہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ : ابن کثیر نے فرمایا، یہاں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی ایک دوسرے سے کی جانے والی باتوں کا ذکر فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا) [ الأعراف : 38 ] ”جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی۔“ یعنی وہ سلام کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ایک دوسرے کو جھوٹا اور کافر کہیں گے۔ چناچہ وہ جماعت جو دوسری جماعت سے پہلے داخل ہوگی جب اس کے بعد والی جماعت جہنم کے دربان فرشتوں کے ساتھ داخل ہوگی تو پہلے والی جماعت فرشتوں سے کہے گی، یہ ایک گروہ ہے جو تمہارے ساتھ گھستا چلا آ رہا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 55–61

55 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–61

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا فَوْجٌ [یہ ایک گروہ ہے ] مُّقْتَحِمٌ [گھس جانے والا ہے ] مَّعَكُمْ ۚ [تمہارے ساتھ ] لَا مَرْحَبًۢا [کوئی کشادگی کی جگہ نہیں ہے ] بِهِمْ ۭ [ان کے ساتھ ] اِنَّهُمْ [بیشک وہ سب ] صَالُوا النَّارِ [آگ سیکنے والے ہیں ] ۔ ق ح م (ن) فحما بلا سوچے سمجھے داخل ہونا۔ بلا قامل کود پڑنا۔ (افتعال) اقتحاما کسی تکلیف وہ جگہ میں گھس جانا۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (تو وہ بلا تامل نہیں کود اس گھاٹی میں) 90/11 ۔ مقتحم اسم الفاعل ہے۔ گھس جانے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔ 59 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–61

سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–64

بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء : قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔ قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ، فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–60

41:۔ ” ھٰذَا فَوْج الخ “۔ جب رؤسائے مشرکین اور داعیانِ شرک جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو ان کے بعد ان کے اتباع و اذناب کی فوج جہنم میں داخل کی جائے گی اور ان کے متبوعین سے کہا جائے گا یہ فوج بھی تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہوگی تو وہ کہیں گے ان پر خدا کی مار وہ بھی دوزخ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ” قالوا بل انتم الخ “ اس کے جواب میں اتباع اپنے سرداروں سے کہیں گے بلکہ تم پر خدا کی مار ہو تم ہی نے ہمیں گمراہ کیا اور تمہاری وجہ ہی سے ہم اس برے انجام کو پہنچے ہیں۔ ” ھٰذَا فَوْجٌ مّقْتَحِمٌ“ کلام الخزنۃ لرؤساء الکفرۃ فی اتباعہم و ” لا مرحبا بہم انہم صالوا النار “ کلام الرؤساء (مدارک) ۔ ” اَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–64

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ۝ 0 ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِہِمْ۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ صَالُوا النَّارِ۝ 59 فوج الفَوْجُ : الجماعة المارّة المسرعة، وجمعه أَفْوَاجٌ. قال تعالی: كُلَّما أُلْقِيَ فِيها فَوْجٌ [ الملک/ 8] ، هذا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ [ ص/ 59] ، فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً [ النصر/ 2] . (و ج ) الفوج کے معنی تیزی سے گزر نیوالی جماعت کے ہیں اس کی جمع افواج ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّما أُلْقِيَ فِيها فَوْجٌ [ الملک/ 8] جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی ۔ هذا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ [ ص/ 59] ایک فوج ( ہے تماہرے ساتھ ) داخل ہوگی ۔ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً [ النصر/ 2] غول کے غول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–64

ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔ تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ ج لاَ مَرْحَبًا م بِہِمْ ط اِنَّھُمْ صَالُوا النَّارِ ۔ (صٓ: 59) (یہ ایک لشکر تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، خدا کی مار ان پر، یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔ ) اہلِ جہنم کی توتکار کفر کے سرغنوں اور لیڈروں کا حال بیان کرنے کے بعد اب بتایا جارہا ہے کہ انھیں بتایا جائے گا کہ جو لوگ ہمیشہ تمہارے پیروکار بنے رہے اور تمہاری لیڈری بھی ان کے بل بوتے پر چلتی رہی وہ بھی تمہاری طرف بڑھے چلے آرہے ہیں، ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو تمہارا انجام ہونے والا ہے۔ چناچہ جیسے ہی ان کی نظر ان پر پڑے گی تو بجائے ان سے کسی ہمدردی کے اظہار کے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ خدا غارت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–65

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے عذابوں میں ایک عذاب یہ بھی ہوگا کہ جہنمی آپس میں لڑتے رہیں گے۔ جہنمیوں کا ایک گروہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوگا تو دوسرا گروہ پہنچ جائے گا۔ آنے والا گروہ پہلے کھڑے ہوئے گروہ کو طعنہ دے گا کہ اگر تم ٹھیک ہوتے تو ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ تمہاری وجہ سے جہنم کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بد ترین ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے فریاد کریں گے کہ اے اللہ ! ہم سے پہلے آنے والوں کو جہنم میں دوگنا عذاب دیجیے۔ پھر کہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ ہمیں یہاں نظر نہیں آتے جن کو ہم شرارتی سمجھا کرتے تھے۔ کیا ہم نے انہیں مذاق سمجھا یا ہماری آنکھوں کو ان سے پھیر دیا گیا ہے۔ جہنمیوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہنمیوں کی باہمی چپقلش : 59: ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ (یہ ایک جماعت) اور آئی جو تمہارے ساتھ گھس رہی ہے) یہ اکٹھی جماعت ہے جو تمہارے ساتھ دوزخ میں گھسنا چاہتی ہے یعنی تمہارے ساتھ ہی دوزخ میں داخل ہورہی ہے۔ الاقتحام کسی چیز میں زبردستی داخل ہونا۔ القحمہ سختی کو کہتے ہیں۔ یہ سرکش سرداروں کو باہمی کلام ہے۔ فوجؔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ گمراہی میں گھس گئے پس وہ ان کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہونگے۔ لَامَرْحَبًام بِھِمْ (ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ! ) یہ اپنے پیروکاروں کے متعلق بددعا ہے تم دعا کیلئے کہو گے مرحبًا ای اتیت رحبًا من البلاد لا ضیقًا (تو کھلی جگہ میں آیا نہ کہ تنگی میں)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

59، ھذافوج مقتحم معکم، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ دوزخ کے کارندوں کا کلام ہوگا جو جہنمی لیڈروں سے وہ کہیں گے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ کافروں کے پیشوا اور لیڈرجب دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کے بعد ان کے پیروکار بھی آکردوزخ میں داخل ہوجائیں گے۔ اس وقت دوزخ کے کارندے ان پیشواؤں سے یہ بات کہیں گے۔ کلبی کا بیان ہے کہ ان کو ہتھوڑوں کے ساتھ ماریں گے۔ اس مار سے بچنے کے لیے وہ اپنے آپ کو آگ میں ڈال دیں گے، لامرحبابھم، ان کی اتباع میں۔ ، انھم صالوا النار، وہ اس میں داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–64

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 59–63

73 اہل دوزخ کی اہل حق کے انجام کے بارے میں جستجو : سو اہل دوزخ اہل حق کے انجام کو جاننے اور ان سے متعلق جستجو کے سلسلے میں آپس میں کہیں گے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا اور آج وہ کہاں اور کس حال میں ہیں جن کو ہم دنیا میں اشرار کہا کرتے تھے۔ کیا وہ کہیں اور ہیں یا وہ نہیں۔ یعنی دوزخی لوگ خود اپنے آپ کو لعنت و ملامت کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا وہ لوگ جنہیں ہم برا سمجھا کرتے تھے فی الواقع کوئی بڑے اچھے اور اونچے لوگ تھے جو ہمارے ساتھ اس انجام سے دوچار نہیں ہوئے اور یا ہماری نظریں ایسی پھری ہوئی ہیں کہ ہم انہیں یہاں موجود ہونے کے باوجود دیکھ نہیں پا رہے۔ اور حقیقت میں ان کی نگاہیں تو واقعی پھری ہوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–64

سرکشوں کا انجام تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–59

ف 9 یہ فرشتوں کا کلام ہے جو وہ دوزخیوں کے سرداروں سے اس وقت کہیں گے جب وہ دوزخ میں داخل ہو رہے ہوں گے اور باہران کے تابعدار کھڑے ہوں گے۔ 10 یہ دوزخیوں کے سرداروں کا کلام ہے جو وہ اپنے تابعداروں کے متعلق کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:59) مقتحم۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ہولناک مقام میں گھس پڑنے والا۔ اقتحام (افتعال) مصدر۔ فعل لازم۔ کسی خوفناک مقام میں یا چیز میں گھس پڑنا۔ قحم الفرس فارسہ۔ تقحیم (تفعیل) مصدر سے متعدی۔ گھوڑا سوار کو لے کر خطر ناک مقام میں گھس پڑا۔ قحم نفسہ۔ قحم (فتح) مصدر۔ فعل متعدی۔ اس نے اپنے آپ کو بغیر سوچے سمجھے کسی کام میں ڈال دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلا اقتحم العقبۃ (90:11) مگر وہ شخص بےدھڑک اور جوش کے ساتھ (دین کی) گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا۔ مرحبا۔ خوش آمدید۔ لامرحبا بھم۔ ان کو کوئی خوش آمدید نہیں ۔ دور ہوں یہ۔ صالوا النار مضاف مضاف الیہ۔ آگ میں گھسنے والے۔ آگ میں داخل ہونے والے۔ آگ میں جلنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–64

اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا۔ (ف 1) یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لالاکردوزخ کے کنارے جمع کریں گے ، پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا، بعد انکے مقلدین واتباع کی جماعت آئے گی اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لویہ ایک اور جماعت داخل ہوگی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے ک لیے چلی آرہی ہے خدا کی مار ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے ، اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو، تم پر ہی خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواواضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی ، اب بتاؤ کہاں جائیں جو کچھ ہے یہی ٹھہرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–62

اہل جہنم کی غلط فہمی 2: قیامت میں جب یہ لوگ دیکھیں گے ۔ کہ جنہوں نے مسلمانوں کو بیحد تکلیفیں پہنچائی تھیں ۔ ہمارے ساتھ جہنم میں نہیں ہیں ۔ تو ازراہ تعجب وحیرت ایک دوسرے سے دریافت کرینگے کہ وہ لوگ جنہیں ہم دنیا میں مفسد اور شریر کہتے تھے ۔ اور جن سے ہم مذاق کرتے تھے ۔ آج کہاں ہیں ۔ حل لغات :۔ نفاذ ۔ کم ہوجانا ۔ ختم ہوجانا المھاد ۔ جگہ حمیم ۔ گرم پانی غشاق گدلا اور غیر مصفی پانی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(59) یہ ایک اور جماعت تمارے ساتھ عذاب میں شریک ہونے کے اوپر تلے گھسی چلیآتی ہے ان کا برا ہو یہ بھی جہنم ہی میں آرہے ہیں۔ یعنی جب اس گروہ کو آتا دیکھیں گے تو کہیں گے یہ ایک گروہ ہے جو تم میں گھسا چلا آتا ہے ان کو خدا کی مار اور ان کا برا ہو یہ بھی سب جہنم میں ہی آرہے ہیں یعنی ان کے آنے سے کوئی خوشی نہیں بلکہ یہ تو ہماری طرح عذاب میں ہی داخل ہونے کو آرہے ہیں یہ سن کر وہ آنے والے یعنی تابع کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ اور اس کے بعد دوسری ایک اور فوج جو دوزخ میں داخل ہو گی 59۔ (مقتحم) کی اصل ق ح م ہے اور (مقتحم) اسم فاعل واحد مذکر ہے جس کے معنی ہیں ہولناک مقام میں گھس پڑنے والا۔ پہلا گروہ جو دوزخ میں گرایا جائے گا بلاشبہ وہی ہوگا جو پہلے داخل ہونے کے قابل ہے عام طور پر تو مفسرین نے اس سے سرداروں ہی کا گروہ مراد لیا ہے اور ییج صحیح ہے گویا سب سے پہلے بدکاروں اور بدکاروں کے سرداروں کو دوزخ میں پھینکا جائے گا ان کے پیچھے پیچھے ان کے مریدوں ، چیلوں اور جیالوں کو قطار اندر قطار یوں کہیں کہ فوج در جو ج جہنم میں جھونکا جائے گا اور جب ایک فوج ان مریدوں ، چیلون اور جیالوں کی گرائی جا رہی ہوگی تو دوزک کے درمیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–64

In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ أَتْرَ‌ابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–61

54 Several meanings of the word ghassaq, as used in the original, have been given by the lexicographers: (1) Any moisture that is discharged by the body in the forth of pus, blood, or mixture of pus and blood, etc. and this includes tears as well; (2) something extremely cold; and (3) something stinking and giving out offensive smell. However, the word is generally used in the first meaning only, though the other two meanings also are correct lexically.

Read the full tafseer →