Explained with ayahs 55–64
اہل نار کے احوال۔
اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
سورة صٓ 54
اصل میں لفظ غَسَّاق استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ایک معنی جسم سے نکلنے والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو وغیرہ کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں۔ دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں۔ اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے۔ لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے ہی معنی میں ہوتا ہے، اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–64
وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔
زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے
اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…
Read the full tafseer →قالوا بل انتم لامرحبا بکم ط انتم قد ممتموہ لا فبئس القرار (60)
پیرو غصہ سے دانت پیس کر جواب دیں گے کہ یہ تم، تم پر خدا کی مار ہو، تم ہو جس نے ہمارے لئے اس عذاب کا سامان کیا۔ اس فقرے میں مبتداء کے اعادے اور دونوں مبتدائوں کے بیچ میں جملہ معترضہ پر نگاہ رہے۔ ایک ایک لفظ سے غصہ اہل رہا ہے فبئس القرار بطور حسرت ان کی زبان سے نکلے گا کہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے جس کا تم نے ہمارے لئے سامان کیا ! ویسے یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور استدراک بھی ہوسکتا یہ۔ لیکن مفہوم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی تم ہی کفر و ضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے پیروی کرنے والوں سے کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–61
24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔
ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
5 یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی، جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لا لا کر دوزخ کے کنارے پر جمع کریں گے۔ پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا بعدہ ان کے مقلدین و اتباع کی جماعت آئے گی۔ اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لو ! یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی ہوئی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لیے چلی آرہی ہے۔ خدا کی مار ان پر۔ یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے۔ خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے۔ اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو ! تمہی پر خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی کہیں آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواء واضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی۔ اب بتاؤ کہاں جائیں۔ جو کچھ ہے یہی جگہ…
Read the full tafseer →آیت 60 { قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْقف لَا مَرْحَبًامبِکُمْ } ”وہ نئے آنے والے کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایسے ہو ! تمہارے لیے نہ ہو کوئی کشادگی !“
تمہارے لیے کوئی ”مرحبا“ نہیں ‘ کوئی خیر مقدم اور خوش آمدید نہیں !
{ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَاج فَبِئْسَ الْقَرَارُ } ”تم نے ہی اسے ہمارے لیے پہلے بھیجا ہے ‘ تو یہ بہت ہی بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔“
تم نے ہی ہمارے لیے یہ سارا سامان فراہم کیا ہے۔ یہ سارا تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم ہماری پہلی نسل ہو اور تم نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے ہی ہمیں تمام غلط عقائد اور برے اعمال سکھائے تھے۔ تمہارے کرتوتوں کے باعث اور تمہاری پیروی کرنے کی وجہ سے ہی آج ہم یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
61 پھر یہ پیروی کرنے والا گروہ اپنے پیشواؤں سے توجہ ہٹا کر اپنے پروردگار سے درخواست کرے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری گمراہی اور ہمیں یہاں جہنم میں لانے کا باعث بنے تھے۔ لہذا اے پروردگار ! انہیں ہم سے دگنا عذاب دے لیکن ان کی یہ التجا محض ایک طفل تسلی اور دل کی حسرت مٹانے کے طور پر ہوگی۔ جس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →56۔ (اور تمہیں نے تو ہمیں بہکایا) یہ مقلدین اور عوام اپنے سرداروں سے کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →لا مرحبا بھم انہم صالوا النار۔ ان کیلئے مرحبا نہیں (یعنی ان پر خدا کی مار) یہ بھی دوزخ ہی میں داخل ہو رہے ہیں۔
Read the full tafseer →تو پہلی جماعت اس دوسری جماعت سے کہے گی ان پر اللہ کی مار یہ بھی دوزخ میں گھس رہے ہیں تو یہ بعد والی جماعت کہے گی بلکہ تمہارے ہی اوپر اللہ کی مار ہو تم نے ہی تو یہ بےدینی کا راستہ بنایا تھا جس کی وجہ سے ہم نے تمہاری پیروی کی سو یہ ہمارے لیے اور تمہارے لیے برا ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ ۣ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ : بعد میں داخل ہونے والے ان سے کہیں گے، بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، تمھی نے ہمیں اس کام کی دعوت دی جس نے ہمیں اس انجام تک پہنچایا، سو یہ ہمارا اور تمہارا بہت برا ٹھکانا ہے۔ یہ بات وہ محض دل ٹھنڈا کرنے کے لیے کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
55 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔
2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…
Read the full tafseer →قَالُوْا [وہ لوگ کہیں گے ] بَلْ اَنْتُمْ ۣ [بلکہ تم لوگ ] لَا مَرْحَبًۢا [کوئی کشادگی کی جگہ نہیں ہے ] بِكُمْ ۭ [تمہارے ساتھ ] اَنْتُمْ [تم لوگوں نے ہی ] قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا ۚ [آگے بھیجا اس کو ہمارے لئے ] فَبِئْسَ الْقَرَارُ [تو کتنا برا ہے یہ ٹھہرنا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا
اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء :
قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔
قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ،
فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
41:۔ ” ھٰذَا فَوْج الخ “۔ جب رؤسائے مشرکین اور داعیانِ شرک جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو ان کے بعد ان کے اتباع و اذناب کی فوج جہنم میں داخل کی جائے گی اور ان کے متبوعین سے کہا جائے گا یہ فوج بھی تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہوگی تو وہ کہیں گے ان پر خدا کی مار وہ بھی دوزخ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ” قالوا بل انتم الخ “ اس کے جواب میں اتباع اپنے سرداروں سے کہیں گے بلکہ تم پر خدا کی مار ہو تم ہی نے ہمیں گمراہ کیا اور تمہاری وجہ ہی سے ہم اس برے انجام کو پہنچے ہیں۔ ” ھٰذَا فَوْجٌ مّقْتَحِمٌ“ کلام الخزنۃ لرؤساء الکفرۃ فی اتباعہم و ” لا مرحبا بہم انہم صالوا النار “ کلام الرؤساء (مدارک) ۔ ” اَنْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–64
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل…
Read the full tafseer →قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ 0 ۣ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ 0 ۭ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا 0 ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ 60
رحب
الرُّحْبُ : سعة المکان، ومنه : رَحَبَةُ المسجد، ورَحُبَتِ الدّار : اتّسعت، واستعیر للواسع الجوف، فقیل : رَحْبُ البطن، ولواسع الصدر، كما استعیر الضيّق لضدّه، قال تعالی: ضاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِما رَحُبَتْ [ التوبة/ 118] ، وفلان رَحِيبُ الفناء : لمن کثرت غاشیته . وقولهم : مَرْحَباً وأهلا، أي : وجدت مکانا رَحْباً. قال تعالی: لا مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صالُوا النَّارِ قالُوا بَلْ أَنْتُمْ لا مَرْحَباً بِكُمْ [ ص/ 59- 60] .
ر ح ب ) الرحب ( اسم ) جگہ کی وسعت کو کہتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔
تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے…
Read the full tafseer →قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ قف لاَ مَرْحَبًا م بِکُمْ ط اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا ج فَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ (صٓ: 60)
(وہ سن کر) کہیں گے بلکہ تم، تم پر خدا کی مار، تمہیں نے ہمارے لیے یہ سامان کیا، کیسی بری ہے یہ جائے قرار )
ان لیڈروں کی بات جیسے ہی ان کے پیرو کاروں کے کانوں میں پڑے گی وہ غصے میں بےقابو ہوجائیں گے، دانت پیس کر جواب دیں گے کہ یہ تم، خدا کی مار تم پر، یہ بات کہہ رہے ہو، تمہیں نے یہ سب کچھ کیا۔ آج جس انجام سے ہم دوچار ہونے والے ہیں اس کا سامان تم نے آگے بھیجا۔ ذرا غور کیجیے، اس فقرے میں مبتداء کا اعادہ کیا گیا ہے اور دونوں مبتدائوں کے درمیان جملہ معترضہ لایا گیا ہے۔ پورے فقرے سے غصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے عذابوں میں ایک عذاب یہ بھی ہوگا کہ جہنمی آپس میں لڑتے رہیں گے۔
جہنمیوں کا ایک گروہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوگا تو دوسرا گروہ پہنچ جائے گا۔ آنے والا گروہ پہلے کھڑے ہوئے گروہ کو طعنہ دے گا کہ اگر تم ٹھیک ہوتے تو ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ تمہاری وجہ سے جہنم کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بد ترین ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے فریاد کریں گے کہ اے اللہ ! ہم سے پہلے آنے والوں کو جہنم میں دوگنا عذاب دیجیے۔ پھر کہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ ہمیں یہاں نظر نہیں آتے جن کو ہم شرارتی سمجھا کرتے تھے۔ کیا ہم نے انہیں مذاق سمجھا یا ہماری آنکھوں کو ان سے پھیر دیا گیا ہے۔ جہنمیوں…
Read the full tafseer →60: قَالُوْا (وہ کہیں گے) وہ پیروکار بَلْ اَنْتُمْ لَامَرْحَبًام بِکُمْ (بلکہ تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی پھٹکارہو) یعنی جو بددعا ہمیں دے رہے ہو وہ تمہارے لائق ہے اور پھر اس کی علت بتلائی اَنْتُمْ قَدَّ مْتُمُوْہُ لَنَا (بلکہ تمہیں تو یہ ہمارے سامنے لائے) ہٗ کی ضمیر عذاب کی طرف راجع ہے یا ان کے داخلے کی طرف لوٹتی ہے یعنی تم نے ہمیں اس کی طرف بلایا پس ہم نے تمہاری اتباع میں کفر اختیار کیا۔ فَبِئْسَ الْقَرَارُ (پس وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) یعنی آگ۔
Read the full tafseer →60، قالو ابل انتم لامرحبا بکم ، مرحب اور رجب کہتے ہیں کشادہ جگہ کو۔ عرب کا قول ہے، مرحباواھلاوسھلا،
آئیں خوشی کے ساتھ کشادہ جگہ میں اور اسی طرح کہتے ہیں، لامرحبابکم، یعنی تیرے لیے زمین کشادہ نہ ہو۔ ، انتم قلمتموہ لنا، اس عذاب کو یاداخلہ جہنم کو تم ہی ہمارے گھر آئے۔ بعض حضرات نے کہا کہ تم ہی یہ عذاب ہمارے لیے آگے لائے ہو کہ تم نے ہمیں کفر کی طرف دعوت دی جس کے باعث ہمیں جہنم میں جاناپڑا۔ ، فبئس القرار، جہنم تمہارے لیے برا ٹھکانہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–64
49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–73
آیت 55
(ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔
(ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
73 اہل دوزخ کی اہل حق کے انجام کے بارے میں جستجو : سو اہل دوزخ اہل حق کے انجام کو جاننے اور ان سے متعلق جستجو کے سلسلے میں آپس میں کہیں گے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا اور آج وہ کہاں اور کس حال میں ہیں جن کو ہم دنیا میں اشرار کہا کرتے تھے۔ کیا وہ کہیں اور ہیں یا وہ نہیں۔ یعنی دوزخی لوگ خود اپنے آپ کو لعنت و ملامت کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا وہ لوگ جنہیں ہم برا سمجھا کرتے تھے فی الواقع کوئی بڑے اچھے اور اونچے لوگ تھے جو ہمارے ساتھ اس انجام سے دوچار نہیں ہوئے اور یا ہماری نظریں ایسی پھری ہوئی ہیں کہ ہم انہیں یہاں موجود ہونے کے باوجود دیکھ نہیں پا رہے۔ اور حقیقت میں ان کی نگاہیں تو واقعی پھری ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
سرکشوں کا انجام
تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی تم ہی نے تو ہمیں دنیا میں بہکا یا ورنہ ہم اس آفت میں نہ پھنستے۔
Read the full tafseer →(38:60) قالوا بل انتم ای قالوا بل انتم لامرحبابکم۔ بل حرف اضراب ہے۔ جملہ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) قالوا بل انتم یعنی انتم پر وقف ہے۔ وہ کہیں گے ہم نہیں بلکہ تم آگ میں جھلس رہے ہو۔ ای قالوا بل انتم صالوا النار۔
(2) دوسری صورت میں اگر وقف بکم پر کیا جائے تو مطلب ہوگا۔ قالوا بل انتم احق بما قلتم لنا۔ وہ کہیں گے۔ یہ نہیں بلکہ جو تم ہمارے بارے میں کہتے ہیں تم خود اس کے زیادہ حقدار ہو۔ یعنی تم نے جو لامرحبا بہم کہہ کر ہمارے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے تم اس نفرت اور عدم خوش آمدید کے زیادہ مستحق ہو۔
قد متموہ لنا : قد متم ماضی جمع مذکر تقدیم (تفعیل) مصدر۔ آگے لانا۔ سامنے کرنا۔ سامنے لانا۔ واؤ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا۔
(ف 1) یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لالاکردوزخ کے کنارے جمع کریں گے ، پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا، بعد انکے مقلدین واتباع کی جماعت آئے گی اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لویہ ایک اور جماعت داخل ہوگی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے ک لیے چلی آرہی ہے خدا کی مار ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے ، اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو، تم پر ہی خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواواضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی ، اب بتاؤ کہاں جائیں جو کچھ ہے یہی ٹھہرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
اہل جہنم کی غلط فہمی
2: قیامت میں جب یہ لوگ دیکھیں گے ۔ کہ جنہوں نے مسلمانوں کو بیحد تکلیفیں پہنچائی تھیں ۔ ہمارے ساتھ جہنم میں نہیں ہیں ۔ تو ازراہ تعجب وحیرت ایک دوسرے سے دریافت کرینگے کہ وہ لوگ جنہیں ہم دنیا میں مفسد اور شریر کہتے تھے ۔ اور جن سے ہم مذاق کرتے تھے ۔ آج کہاں ہیں ۔
حل لغات :۔ نفاذ ۔ کم ہوجانا ۔ ختم ہوجانا المھاد ۔ جگہ حمیم ۔ گرم پانی غشاق گدلا اور غیر مصفی پانی ۔
Read the full tafseer →(60) وہ جواب دیں گے نہیں بلکہ تمہارا ہی برا ہو تم ہی تو یہ عذاب ہمارے آگے لائے ہو سو وہ عذاب برا ٹھکانا اور بری جگہ ہے ٹھہرائو کی یعنی یہ بھی لا مرحبا کا جواب لا مرحبا سے دیں گے۔ نہیں تم پر خدا کی مار ہو تمہاری بدولت تو ہم کو یہ عذاب پیش آیا ہے نہ تم ہم کو بہکاتے اور ن تم یہ بری رسمیں چھوڑ کرجاتے اور نہ تم مبتلا ہوتے ہم کو اس مصیبت میں تمہاری وجہ سے مبتلا ہونا پڑا سو یہ عذاب بہت ہی بری قرار گاہ ہے جس میں ہم تمہاری وجہ سے آرہے ہیں یہ آپس کی تو تو میں میں کے ساتھ یہ تابع اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–61
ف 1۔ یعنی نعمت دائمہ ابدیہ ہے۔
Read the full tafseer →بعد میں آنے والے اپنے پیروں اور راہنمائوں اور لیڈروں سے مخاطب ہوتے ہیں
60۔ بعد میں آنے والے مرید ، چیلے اور جیالے اس وقت اپنے پیروں ، رہنمائوں اور لیڈروں کو مخاطب کریں گے اور کہیں گے کہ تم پر اللہ کی پھٹکار ہو تم ہی تو ہم کو اس عذاب میں داخل کرنے والے ہو کیونکہ تمہارے باعث ہی ہم اس طرف کو آئے ہیں تم نے اپنے بیڑا بھی غرق کیا ہے اور ہمارا بھی یہ ایک ایسی برک جگہ ہے جہاں اب نہ تمہارے لیے آرام ہے اور نہ ہی ہمارے لیے گویا یہ وہی بات ہوئی کہ ” آپوی گلیوں باہمنا ججمانوی نالے “
دوزخ کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر کرچکے ہیں اور یہ بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ آخرت میں جزا و سزا سب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–64
In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
54 Several meanings of the word ghassaq, as used in the original, have been given by the lexicographers: (1) Any moisture that is discharged by the body in the forth of pus, blood, or mixture of pus and blood, etc. and this includes tears as well; (2) something extremely cold; and (3) something stinking and giving out offensive smell. However, the word is generally used in the first meaning only, though the other two meanings also are correct lexically.
Read the full tafseer →