Saad 38:58

Saad · from ayah 58

38:58

وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌ ۟ؕوَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ اَزۡوَاجٌ

اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And other [punishments] of its type [in various] kinds.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:58

اور اسی قسم کی دوسری تلخیوں کا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے علاوه اور طرح طرح کے عذاب

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان طرح طرح کی چیزوں کا جو اسی جیسی (تکلیف دہ) ہوں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی شکل کے اور جوڑے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی شکل میں اور بھی طرح طرح کا (عذاب) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور دوسری اس کی ہم شکل کئی قسمیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایسی ہی کئی قسم کی دوسری چیزوں کا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی قبیل کی دوسری اور چیزیں بھی ہوں گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح کی اور بھی کئی قسم کی (تکلیف دہ) چیزیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اور بھی اس کی جنس سے طرح طرح کی چیزیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح کی کئی دوسری چیزیں بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی طرح کے اور بہت سے عذاب ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and other sufferings of the kind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and other things similar to it of various kinds.

— Muhammad Taqi Usmani

and other things similar to it of various kinds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And other of similar kind - all together!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And other (torment) of the kind in pairs (the two extremes)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And other [punishments] of its type [in various] kinds.

— Saheeh International

Taste the scalding water, pus, and other putrid things".

— Muhammad Sarwar

And other (punishment) of the same kind-- of various sorts.

— Muhammad Habib Shakir

And other torments, like thereof, conjoined.

— Abdul Majid Daryabadi

And other Penalties of a similar kind, to match them!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–64

اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–61

سورة صٓ 54 اصل میں لفظ غَسَّاق استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ایک معنی جسم سے نکلنے والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو وغیرہ کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں۔ دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں۔ اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے۔ لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے ہی معنی میں ہوتا ہے، اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–64

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔ زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–58

ھذا ولیذوقوہ حمیم وعاق واخرمن شکلۃ ازواج (58-57) ھذا ط فلیذوقوہ حمیم وغاق حمیم گرم کھولتے پانی کو کہتے ہیں اور غساق کے معنی پیپ کے ہیں یعنی انکو اشارے سے بتا دیا جائے گا کہ یہ چیزیں ہیں ان کو چکھیں اسکے بعد ان نفرت انگیز چیزوں میں سے دو کا ذکر کر کے یہ فرما دیا کہ اسی قبیل کی دوسری مختلف النوع نفرت انگیز چیزیں بھی ہوں گی جو ذکر کے لالئق نہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ چیزیں ان دوزخیوں کو نزل یعنی اولین سامان ضیافت کے طور پر ملیں ی۔ اصل عذاب کا دور اس کے بعد شروع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 57–58

57۔ 1 یہ ہے پینے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو، گرم کھولتا ہو پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا یا نہایت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–61

24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–60

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 58–60

5 یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی، جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لا لا کر دوزخ کے کنارے پر جمع کریں گے۔ پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا بعدہ ان کے مقلدین و اتباع کی جماعت آئے گی۔ اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لو ! یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی ہوئی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لیے چلی آرہی ہے۔ خدا کی مار ان پر۔ یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے۔ خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے۔ اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو ! تمہی پر خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی کہیں آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواء واضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی۔ اب بتاؤ کہاں جائیں۔ جو کچھ ہے یہی جگہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 { وَّاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖٓ اَزْوَاجٌ } ”اور اسی طرح کی کئی دوسری چیزیں بھی۔“ اور اسی طرح کی مزید خوفناک ‘ گندی اور بدذائقہ چیزیں بھی اہل جہنم کو کھانے اور پینے کے لیے دی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 58–59

59 یہاں ازواج کا لفظ ہم مثل چیزوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اسی طرح کی اور بھی کئی گندی اور ناگوار چیزیں انہیں کھانا یا پینا پڑیں گی یا ایسی چیزوں سے انہیں عذاب دیا جائے گا۔ 60 اہل جہنم کا باہمی مکالمہ اور ایک دوسرے پر الزام :۔ یہ اہل دوزخ کے دوزخ میں داخل ہونے کے وقت کا ایک مکالمہ پیش کیا گیا ہے پہلا گروہ تو بڑے لوگوں اور سرداروں اور پیشواؤں کا ہوگا۔ انہیں فرشتے جہنم کے کنارے لا کھڑا کریں گے۔ پھر ان کے بعد ان کے پیروکاروں کی عظیم جماعت کو لایا جائے گا۔ سردار حضرات اس عظیم جماعت کو دیکھتے ہی کہنے لگیں گے۔ یہ ایک اور جماعت جہنم میں داخل ہونے کے لئے بیتابی سے آگے بڑھتی چلی آرہی ہے۔ ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–58

54۔ یعنی ایسی ہی ناگوار وموجب آزار چیزیں فقرہ کی ترکیب اصل قاعدہ نحوی کے اعتبار سے یوں ہوگی۔ ھذا حمیم وغساق فلیذوقوہ۔ (آیت) ” غساق “۔ اس کا ترجمہ پیپ قول اکثریت کے مطابق درج کردیا گیا۔ لیکن اس کے ایک معنی ناقبال برداشت حد تک سرد کے بھی ہیں۔ غساق الزمھریر (ابوالبقاء) اور چونکہ معا قبل ذکر حمیم (انتہائی گرم) کا آچکا ہے، اس لئے یہاں چسپاں بھی انتہائی سرد، کے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ ؛ چناچہ ابن جریر نے بھی اس معنی کا ذکر کیا ہے، اور بعض تابعین سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ ھو البارد الذی لایستطاع من بردہ (ابن جریر) بارد لایستطاع اوبرد لایستطاع (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابرد البرد (ابن جریر۔ عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخر من شکلہ ازواج اور اسی قسم کی دوسری طرح طرح کی چیزیں (ان کیلئے) ہوں گی۔ ھٰذَایہ عذاب ہوگا ‘ یا ازطعام مہمانی یہ ہے۔ حَمِیْم گرم کھولتا ہوا پانی۔ غسّاقبروزن فعّال۔ غسّاق کا معنی مختلف طور پر کیا گیا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ایسی برفیلی سخت ٹھنڈک جو اس طرح دوزخیوں کو جلا دے گی ‘ جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائے گی۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : جس چیز کی برودت انتہائی درجہ کی ہو ‘ وہ غساق ہے۔ بعض نے کہا : یہ ترکی لفظ ہے ‘ ترکی زبان میں غساق انتہائی بدبودار چیز کو کہتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : غساق کا معنی ہے صبّاب یعنی سیال۔ غَسَقَتْوہ چیز بہہ گئی۔ اس جگہ مراد ہے : وہ پیپ اور کچ لہو جو دوزخیوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 56–58

(56۔ 58) یعنی دوزخ اس میں وہ قیامت کے دن داخل ہوں گے سو ان کے لیے یہ دوزخ بہت برا ٹھکانا اور بہت ہی بری آرام گاہ ہے۔ یہ کافر اس دوزخ کے عذاب کو چکھیں گے جہاں کھولتا ہوا پانی او آگ کی طرح جلا دینے والی پیپ ہوگی اور بھی اس طرح کا قسم قسم کا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖٓ اَزْوَاجٌ : ”وَّاٰخَرُ“ مبتدا ہے، ”مِنْ شَكْلِهٖٓ“ ”کَاءِنٌ“ کے متعلق ہو کر اس کی صفت ہے اور ”اَزْوَاجٌ“ خبر ہے۔ یعنی ان کا عذاب صرف حمیم و غسّاق ہی نہیں ہوگا، بلکہ حمیم و غسّاق سے ملتی جلتی کئی شکلوں کا اور عذاب بھی ہوگا، مثلاً زمہریر، سموم، زقّوم اور صعود وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 55–61

55 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–61

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّاٰخَرُ [اور دوسرے ] مِنْ شَكْلِهٖٓ [ان کے ملتے جلتے سے ] اَزْوَاجٌ [کچھ جوڑے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–61

سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–64

بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء : قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔ قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ، فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–58

40:۔ ” و ان للطاغین۔ تا۔ تخاصم اھل النار۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فرمانبردار مومنین کے مقابلے میں سرکشوں کا انجام ناہیت برا ہوگا۔ ” طاغین “ سے سرکش کفار و مشرکین کے سردار و رؤسا مراد ہیں جو ان کو شرک کی دعوت دیتے تھے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ دنیا میں تمہاری سرکشی کی سزا ہے۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ کھولتا ہوا پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ انہیں پینے کے لیے دی جائے گی۔ اور ان کے لیے اس سے ملتے جلتے عذاب اور مشروبات کی اور بھی کئی قسمیں تیار ہوں گی۔ الغساق ما یغسق من صدید اھل النار (مدارک) ۔ ولھم مذوقات او انواع عذاب اخر (روح ج 23 ص 215) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–64

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِہٖٓ اَزْوَاجٌ۝ 58ۭ شكل الْمُشَاكَلَةُ في الهيئة والصّورة، والنّدّ في الجنسيّة، والشّبه في الكيفيّة، قال تعالی: وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْواجٌ [ ص/ 58] ، أي : مثله في الهيئة وتعاطي الفعل، والشِّكْلُ قيل : هو الدّلّ ، وهو في الحقیقة الأنس الذي بين المتماثلین في الطّريقة، ومن هذا قيل : الناس أَشْكَالٌ وألّاف «3» ، وأصل الْمُشَاكَلَةُ من الشَّكْل . أي : تقييد الدّابّة، يقال شَكَلْتُ الدّابّةَ. والشِّكَالُ : ما يقيّد به، ومنه استعیر : شَكَلْتُ الکتاب، کقوله : قيدته، ودابّة بها شِكَالٌ: إذا کان تحجیلها بإحدی رجليها وإحدی يديها كهيئة الشِّكَالِ ، وقوله : قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–64

ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔ تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 57–58

ھٰذَا لا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ۔ وَّاٰخَرُمِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ۔ (صٓ: 57، 58) یہ ہے (اصل آرام گاہ، لیکن اب) وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو۔ اور اسی قبیل کی دوسری چیزوں کا۔ ) معلوم ہوتا ہے کہ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے پہلے ابتدائی مہمانی کے طور پر ان چیزوں کے چکھنے کا حکم دیا جائے گا، یعنی انھیں سیر ہو کر کھانا جہنم کے اندر ملے گا، لیکن ابھی نُزُلیعنی اولین مہمانی کے طور پر حمیم اور غساق کا مزہ چکھو۔ جس طرح گھر میں آنے والے مہمان کو ابتدائی مہمانی کے طور پر کوئی ٹھنڈا یا گرم مشروب اور ان کے لوازمات میں سے کچھ کھانے کو دیا جاتا ہے، لیکن اصل کھانا کھانے کے وقت پیش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–58

فہم القرآن ربط کلام : متقین کے مقابلے میں نافرمانوں اور باغیوں کا ٹھکانہ اور سزائیں۔ قرآن مجید کا تسلسل کے ساتھ یہ اسلوب ہے کہ جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پڑھنے والا اس بات پر غور کرے کہ اسے کونسا عقیدہ اور کیا کردار اختیار کرنا چاہے۔ لہٰذا جنتیوں کے انعامات کے بیان کے بعد جہنمیوں کی سزا کا ذکر ہوتا ہے۔ باغیوں اور نافرمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جو رہنے کے اعتبار سے بد ترین جگہ ہوگی۔ انہیں پینے کے لیے گرم ترین پانی اور پیپ دی جائے گی اس کے ساتھ ہی انہیں مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِنَّ الْحَمِیمَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

58: وَّ ٰاخَرُ (اور دوسری) یعنی دوسر اعذاب یا چکھائی گئی دوسری چیز مِنْ شَکْلِہٖٓ (اسی قسم کی) مذکور عذاب جیسی۔ قراءت : بصری قراء نے اُخَرُ پڑھا۔ یعنی مَذُوقات اُخَرُ من شکل ھذا المذوق فی الشدۃ والفظاعۃ۔ دوسری چکھنے کی چیزیں جو ذلت و سختی میں اس کی طرح ہونگی۔ اَزْوَاجٌ (طرح طرح کی چیزیں) یہ آخر کی صفت ہے کیونکہ جائز ہے۔ کہ اس کی اقسام ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58، وآخر، اہل بصرہ میں الف کے ضمہ کے ساتھ اخری کی جمع ہے جیسے کبری اور کبر۔ ابو عبیدہ نے کہا چونکہ یہ جمع کی صفت ہے۔ دوسرے قراء نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ واحد کے مشابہ پڑھا ہے۔ ، من شکلہ، گرم پانی اور پیپ کی طرح ہوں گے۔ ، ازاج، یہ ان پر عذاب قسم قسم کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–64

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–58

71 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل جنت کی ان سرفرازیوں کے مقابلے میں اہل دوزخ کا حال یہ ہوگا کہ ان کے لیے دوزخ کا وہ ہولناک ٹھکانا ہوگا جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا اور اس میں ان کے لیے طرح طرح کی ہولناک عذاب ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں پر گمراہ پیروکاروں کی طرف سے اپنے لیڈروں کیلئے دوہرے عذاب کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ عام ہے ہر گمراہ کرنے والے کو خواہ وہ کوئی کفر و شرک کا کھلا داعی ہو یا کوئی نام نہاد برخود غلط پیر ہو۔ یا اس کا تعلق علمائے سوء کے اس گروہ سے ہو جو لوگوں کو راہ حق سے پھیرتا اور شرک و بدعت کی راہ پر لگا تا ہو کہ الفاظ کا عموم ان سب ہی اقسام کو عام اور شامل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–64

سرکشوں کا انجام تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–59

ف 9 یہ فرشتوں کا کلام ہے جو وہ دوزخیوں کے سرداروں سے اس وقت کہیں گے جب وہ دوزخ میں داخل ہو رہے ہوں گے اور باہران کے تابعدار کھڑے ہوں گے۔ 10 یہ دوزخیوں کے سرداروں کا کلام ہے جو وہ اپنے تابعداروں کے متعلق کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:58) واخر ای عذاب اخر۔ من شکلہ ای من شکل ھذا العذاب اس عذاب کی مانند۔ اس عذاب کی طرح کا۔ ازواج ہم مثل۔ اور ایک اور عذاب ہوگا مذکورہ حمیم و غساق کی طرح کا (لیکن) قسم قسم کا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–58

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: ان آیات کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کو نہیں پہچانا ۔ اور سرکشی وبغاوت سے کام لیا ۔ جنہوں نے عقبیٰ پر اس متاع غرور کو ترجیح دی ۔ اور جنہوں نے ہمیشہ اللہ کے دین کو ٹھکرایا ۔ ان لوگوں کے لئے بدترین ٹھکانہ اور بدترین سزائیں ہیں ۔ انہوں نے دنیا میں عاجل کو مقدم جانا ۔ اور آجل سے غفلت اختیار کی ۔ اس لئے انہیں وہاں سب کچھ دیدیا گیا ہے ۔ جس کے یہ طالب تھے ۔ اور آخرت کی نعمتیں ان سے چھین لی گئیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) اور بھی اسی قسم کے عذاب کی مختلف چیزیں ہیں اور عذاب ہیں مانند اس کے طرح طرح کے۔ یعنی یہ گرم کھولتے ہوئے پانی اور کچلہہ کے علاوہ اور بھی اسی قسم کے مختلف عذاب ہیں اور طرح بطرح کے عذاب ہوں گے شاید یہ پہلے جو لوگ داخل ہوں گے یہ سردار اور متبوع ہوں گے ان کے بعد جب فوج درفوج بنا کر تابع جہنم کے کنارے پر پہنچیں گے تو دوزخ کے اندر سے ان کو دیکھ کر وہ متبوع کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوسری چیزیں بھی ان کے لیے اسی طرح کی ہوں گی 58۔ گزشتہ آیت میں دوزخیوں کے پینے کا ذکر تھا کہ ان کو پینے کے لیے کیا دیا جائے گا اس لیے کہ پینا بھی ضروریاتِ انسانی میں سے ایک اہم ضرورت ہے لیکن اس طرح کی دوسری ضروریات بھی بہر حال ہیں جیسے کھانا ہے ، لباس ہے ، ازدواجی زندگی ہے ، ایک دوسرے سے میل ملاپ ہے کہ انسان ان ساری چیزوں سے خوش بھی ہوتا ہے اور رنجیدہ خاطر بھی پھر ان چیزوں مین جو چیزیں کوش کرنے والی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور جن چیزوں میں انسان کو ناخوشی ہوتی ہے وہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور دوزخ میں ان میں سے ہر وہ چیز ملے گی جو ضروریاتِ انسانی میں سے ہے اور ہرچیز اس طرح کی ہوگی جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–64

In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ أَتْرَ‌ابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–61

54 Several meanings of the word ghassaq, as used in the original, have been given by the lexicographers: (1) Any moisture that is discharged by the body in the forth of pus, blood, or mixture of pus and blood, etc. and this includes tears as well; (2) something extremely cold; and (3) something stinking and giving out offensive smell. However, the word is generally used in the first meaning only, though the other two meanings also are correct lexically.

Read the full tafseer →