Explained with ayahs 55–64
اہل نار کے احوال۔
اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
سورة صٓ 54
اصل میں لفظ غَسَّاق استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ایک معنی جسم سے نکلنے والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو وغیرہ کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں۔ دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں۔ اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے۔ لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے ہی معنی میں ہوتا ہے، اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–64
وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔
زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے
اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ھذا ولیذوقوہ حمیم وعاق واخرمن شکلۃ ازواج (58-57)
ھذا ط فلیذوقوہ حمیم وغاق حمیم گرم کھولتے پانی کو کہتے ہیں اور غساق کے معنی پیپ کے ہیں یعنی انکو اشارے سے بتا دیا جائے گا کہ یہ چیزیں ہیں ان کو چکھیں اسکے بعد ان نفرت انگیز چیزوں میں سے دو کا ذکر کر کے یہ فرما دیا کہ اسی قبیل کی دوسری مختلف النوع نفرت انگیز چیزیں بھی ہوں گی جو ذکر کے لالئق نہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ چیزیں ان دوزخیوں کو نزل یعنی اولین سامان ضیافت کے طور پر ملیں ی۔ اصل عذاب کا دور اس کے بعد شروع ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
57۔ 1 یہ ہے پینے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو، گرم کھولتا ہو پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا یا نہایت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–61
24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔
ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
3 یعنی لو ! یہ حاضر ہے۔ اب اس کا مزہ چکھیں۔
4 " غساق " سے بعض نے کہا دوزخیوں کے زخموں کی پیپ اور ان کی آلائش مراد ہیں۔ جس میں سانپوں بچھوؤں کا زہر ملا ہوگا۔ اور بعض کے نزدیک " غساق " حد سے زیادہ ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں جس کے پینے سے سخت اذیت ہو۔ گویا " حمیم " کی پوری ضد۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 57 { ہٰذَالا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ} ”یہ ہے ان کے لیے ‘ پس اس کو چکھیں ‘ کھولتا ہوا پانی اور پیپ !“
جہنم میں لے جا کر اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جگہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اب اس میں رہو اور اس کے عذاب کو برداشت کرو۔ اس میں ان کو کھولتے ہوئے پانی اور زخموں کے خون اور پیپ کا مزہ بھی چکھنا ہوگا۔ گویا انہیں کھانے اور پینے کے لیے ایسی چیزیں دی جائیں گی جن کو انسان کی طبیعت بہت ناگوار محسوس کرتی ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
58 غساق کا لغوی مفہوم :۔ غساق کا معنی عموما پیپ یا بہتی پیپ کرلیا جاتا ہے جس میں خون کی بھی آمیزش ہو جبکہ صاحب منجد، فقہ اللغہ اور منتہی الارب سب نے اس کے معنی انتہائی ٹھنڈا اور بدبودار پانی بتائے ہیں۔ قرآن میں دو مقامات پر غساق کا لفظ حمیم کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ایک اس مقام پر اور دوسرے سورة نبا کی آیت نمبر 25 میں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار پانی ہی کرنا زیادہ مناسب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
54۔ یعنی ایسی ہی ناگوار وموجب آزار چیزیں فقرہ کی ترکیب اصل قاعدہ نحوی کے اعتبار سے یوں ہوگی۔ ھذا حمیم وغساق فلیذوقوہ۔ (آیت) ” غساق “۔ اس کا ترجمہ پیپ قول اکثریت کے مطابق درج کردیا گیا۔ لیکن اس کے ایک معنی ناقبال برداشت حد تک سرد کے بھی ہیں۔ غساق الزمھریر (ابوالبقاء) اور چونکہ معا قبل ذکر حمیم (انتہائی گرم) کا آچکا ہے، اس لئے یہاں چسپاں بھی انتہائی سرد، کے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ ؛ چناچہ ابن جریر نے بھی اس معنی کا ذکر کیا ہے، اور بعض تابعین سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ ھو البارد الذی لایستطاع من بردہ (ابن جریر) بارد لایستطاع اوبرد لایستطاع (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابرد البرد (ابن جریر۔ عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →ھذا فلیذوقوہ حمیم وغساق یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ ان کو پینا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
(56۔ 58) یعنی دوزخ اس میں وہ قیامت کے دن داخل ہوں گے سو ان کے لیے یہ دوزخ بہت برا ٹھکانا اور بہت ہی بری آرام گاہ ہے۔ یہ کافر اس دوزخ کے عذاب کو چکھیں گے جہاں کھولتا ہوا پانی او آگ کی طرح جلا دینے والی پیپ ہوگی اور بھی اس طرح کا قسم قسم کا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ : ”ھٰذَا“ یعنی یہ ہے عذاب، سو وہ اسے چکھیں۔ ”حَمِيْمٌ“ انتہائی گرم پانی۔ ”غَسَّاقٌ“ جہنمیوں کے چمڑوں سے بہنے والی پیپ۔ (مفردات) ”غَسَقَ الْجُرْحُ (ض، س) غَسَقَانًا“ جب اس سے پیپ وغیرہ نکلے۔ قاموس اور لغت کی دوسری کتابوں میں ”غَسَّاقٌ“ کا معنی ”اَلْبَارِدُ وَ الْمُنْتِنُ“ لکھا ہے، نہایت ٹھنڈا اور بدبو دار۔ قرآن مجید میں دو مقامات پر یہ لفظ ”حَمِيْمٌ“ کے مقابلہ میں آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة نبا (25) میں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار کرنا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ جہنم میں گرمی (آگ) کا عذاب بھی ہے اور سردی (زمہریر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
55 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔
2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…
Read the full tafseer →ھٰذَا ۙ [یہ ہے (طاغین کے لئے)] فَلْيَذُوْقُوْهُ [پس چاہیے کہ وہ چکھیں اس کو ] حَمِيْمٌ [(یہ) کھولتا پانی ہے ] وَّغَسَّاقٌ [اور (یہ) پیپ ہے ] ۔
ترکیب : (آیت۔ 57) ۔ حمیم اور غساق کو ہم فلیذوقوہ کی ضمیر مفعولی ہُ کا بدل نہیں مان سکتے کیو کہ ایسی صورت میں یہ حالت نصب میں حمیم اور غساقا ہوتے۔ ان کی رفع بتارہی ہے کہ یہ خبریں ہیں۔ آیت کے شروع میں ہذا کو ان کا مبتدا مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ہذا کے بعد وقف نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حزا کو مستقل اشارہ مانا جائے۔ ایسی صورت میں ھذا کے بعد وقف ہوگا جیسے آیت 55 کے شروع میں ھذا پر وقف ہے۔ اور حمیم وغساق سے پہلے ان کے مبتدا ھذا کو محزوف مانا جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا
اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء :
قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔
قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ،
فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
40:۔ ” و ان للطاغین۔ تا۔ تخاصم اھل النار۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فرمانبردار مومنین کے مقابلے میں سرکشوں کا انجام ناہیت برا ہوگا۔ ” طاغین “ سے سرکش کفار و مشرکین کے سردار و رؤسا مراد ہیں جو ان کو شرک کی دعوت دیتے تھے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ دنیا میں تمہاری سرکشی کی سزا ہے۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ کھولتا ہوا پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ انہیں پینے کے لیے دی جائے گی۔ اور ان کے لیے اس سے ملتے جلتے عذاب اور مشروبات کی اور بھی کئی قسمیں تیار ہوں گی۔ الغساق ما یغسق من صدید اھل النار (مدارک) ۔ ولھم مذوقات او انواع عذاب اخر (روح ج 23 ص 215) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–64
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل…
Read the full tafseer →ھٰذَا 0 ۙ فَلْيَذُوْقُوْہُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57ۙ
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56]
( ذ و ق ) الذاق ( ن )
کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔
تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ھٰذَا لا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ۔ وَّاٰخَرُمِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ۔ (صٓ: 57، 58)
یہ ہے (اصل آرام گاہ، لیکن اب) وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو۔ اور اسی قبیل کی دوسری چیزوں کا۔ )
معلوم ہوتا ہے کہ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے پہلے ابتدائی مہمانی کے طور پر ان چیزوں کے چکھنے کا حکم دیا جائے گا، یعنی انھیں سیر ہو کر کھانا جہنم کے اندر ملے گا، لیکن ابھی نُزُلیعنی اولین مہمانی کے طور پر حمیم اور غساق کا مزہ چکھو۔ جس طرح گھر میں آنے والے مہمان کو ابتدائی مہمانی کے طور پر کوئی ٹھنڈا یا گرم مشروب اور ان کے لوازمات میں سے کچھ کھانے کو دیا جاتا ہے، لیکن اصل کھانا کھانے کے وقت پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
فہم القرآن
ربط کلام : متقین کے مقابلے میں نافرمانوں اور باغیوں کا ٹھکانہ اور سزائیں۔
قرآن مجید کا تسلسل کے ساتھ یہ اسلوب ہے کہ جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پڑھنے والا اس بات پر غور کرے کہ اسے کونسا عقیدہ اور کیا کردار اختیار کرنا چاہے۔ لہٰذا جنتیوں کے انعامات کے بیان کے بعد جہنمیوں کی سزا کا ذکر ہوتا ہے۔ باغیوں اور نافرمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جو رہنے کے اعتبار سے بد ترین جگہ ہوگی۔ انہیں پینے کے لیے گرم ترین پانی اور پیپ دی جائے گی اس کے ساتھ ہی انہیں مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِنَّ الْحَمِیمَ…
Read the full tafseer →57: ھٰذَا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ (یہ لوگ پس اس کو چکھیں یہ کھولتا ہوا پانی ہے) یعنی یہ گرم کھولتا پانی ہے پس اس کو چکھیں۔
نحو : ھذامبتدأ اور حمیمٌ اس کی خبر ہے اور غساق یہ خبر پر معطوف ہے فلیذوقوہ یہ جملہ معترضہ ہے۔ نمبر 2۔ العذاب مبتدأ ھذا اس کی خبر ہے۔ فلیذوقوہ جملہ معترضہ ہے پھر ھو مبتدأ محذوف اور حمیم و غساق اس کی خبر ہے۔
قراءت : حمزہ، علی، حفص نے غساق کو تشدید سے پڑھا ہے۔
اور تخفیف سے بھی ہے۔ غساقؔ وہ کچ لہو جو جہنم والوں کے زخموں سے بہے گا۔ کہا جاتا ہے غَسَقتِ العین آنکھ بہہ پڑی۔
ایک قول :
الحمیم : وہ گرم پانی جو اپنی حرارت سے جلائے۔ الغساقؔ وہ ٹھنڈا پانی جو ٹھنڈک سے…
Read the full tafseer →57، ھذا، یہ عذاب ہے۔ ، فلیذوقوہ حمیم وغساق، یہ گرم کھولتا ہواپانی اور پیپ ہے۔ لہٰذا تم اسی سے مزہ چکھو۔ نعیم گرم پانی کو کہاجاتا ہے جس کو آخری حدتک گرم کیا ہو۔ حمزہ ، کسائی اور حفص نے کہا (غساق) تشدید کے معنی میں ہے اور دوسرے قراء نے بغیر تشدید کے پڑھا ہے۔ جن حضرات نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہو تو وہ اس کو اسم فعال کے وزن پر لیتے ہیں جیسے خباز اور طباخ ہے اور جنہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس صورت میں فعال کا اسم ہوگا جیسے عذاب ، غساق کے معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، ایسی برفیلی سخت ٹھنڈک جو اس طرح دوزخیوں کو جلادے گی جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائے گی۔ مقاتل اور مجاہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–64
49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–73
آیت 55
(ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔
(ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
71 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل جنت کی ان سرفرازیوں کے مقابلے میں اہل دوزخ کا حال یہ ہوگا کہ ان کے لیے دوزخ کا وہ ہولناک ٹھکانا ہوگا جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا اور اس میں ان کے لیے طرح طرح کی ہولناک عذاب ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں پر گمراہ پیروکاروں کی طرف سے اپنے لیڈروں کیلئے دوہرے عذاب کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ عام ہے ہر گمراہ کرنے والے کو خواہ وہ کوئی کفر و شرک کا کھلا داعی ہو یا کوئی نام نہاد برخود غلط پیر ہو۔ یا اس کا تعلق علمائے سوء کے اس گروہ سے ہو جو لوگوں کو راہ حق سے پھیرتا اور شرک و بدعت کی راہ پر لگا تا ہو کہ الفاظ کا عموم ان سب ہی اقسام کو عام اور شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
سرکشوں کا انجام
تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ف 9 یہ فرشتوں کا کلام ہے جو وہ دوزخیوں کے سرداروں سے اس وقت کہیں گے جب وہ دوزخ میں داخل ہو رہے ہوں گے اور باہران کے تابعدار کھڑے ہوں گے۔
10 یہ دوزخیوں کے سرداروں کا کلام ہے جو وہ اپنے تابعداروں کے متعلق کہیں گے۔
Read the full tafseer →(38:57) ھذا۔ خبر ہے مبتدا محذوف کی۔ ای العذاب ھذا یہ ہے عذاب ۔
فلیذوقوہ۔تعقیب کا ہے۔ لیذوقوا فعل امر جمع مذکر غائب۔ چاہیے کہ وہ چکھیں ہ ضمیر واحد مذکر غائب العذاب محذوف کی طرف راجع ہے۔
حمیم کھولتا ہوا پانی۔ سخت گرم پانی۔ حمیم گہرے دوست کو بھی کہتے ہیں جو اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجائے۔ غساق بروزن فعال کے معنی مختلف طور پر کئے گئے ہیں :۔
(1) برفیلی ٹھنڈک جو کہ دوزخیوں کو اس طرح جلا دے گی جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائیگی ۔ (ابن عباس ؓ
(2) جس چیز کی برودت انتہائی درجہ کی ہو وہ غساق ہے۔ (مجاہد)
(3) غساق کے معنی صباب یعنی سیال۔ (بہنے والی چیز) جس طرح کہتے ہیں غسقت وہ چیز بہہ گئی۔ اور یہاں مراد وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔
(ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
اہل جنت
2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ…
Read the full tafseer →(57) یہ سخت کھولتا ہوا پانی اور کچلہو یعنی پیپ پس اب یہ سرکش اس کا مزہ چکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–61
ف 1۔ یعنی نعمت دائمہ ابدیہ ہے۔
Read the full tafseer →یہ جگہ ہے اور کھولتا ہوا پانی پیپ ہے جو پینے کے لیے ان کو دی جائے گی
57۔ اب ان کی مہمانی کا زکر کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ ان کو کھانے پینے کے لیے دیا جائے گا اس کو کھولتے ہوئے پانی اور زخمیوں کے پیپ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کیونکہ جس چیز کو (غساق) کہا گیا ہے اس کے متعلق مختلف بیان دیئے گئے ہیں جیسا کہ بدبودار پانی ( معجم القرآن و غریب القرآن ) دوزکیوں سے بہنے والا لہو اور پیپ (جلالین ، صاوی ، المفردات) روایات میں ہے کہ اگر غساق کا یک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والوں کے دماغ تعفن کی وجہ سے سڑ جائیں۔ (مجمع البحار) کہا گیا ہے کہ آنسو یا انتہائی ٹھنڈک یخ بنا دینے والی سردی۔ امام بخاری (رح) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–64
In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
54 Several meanings of the word ghassaq, as used in the original, have been given by the lexicographers: (1) Any moisture that is discharged by the body in the forth of pus, blood, or mixture of pus and blood, etc. and this includes tears as well; (2) something extremely cold; and (3) something stinking and giving out offensive smell. However, the word is generally used in the first meaning only, though the other two meanings also are correct lexically.
Read the full tafseer →