Saad 38:56

Saad · from ayah 56

38:56

جَهَنَّمَ ۚ— یَصْلَوْنَهَا ۚ— فَبِئْسَ الْمِهَادُ ۟جَهَـنَّمَ‌ ۚ يَصۡلَوۡنَهَا‌ ۚ فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ

(یعنی) دوزخ۔ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the resting place.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:56

جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے، بہت ہی بری قیام گاہ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) دوزخ۔ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعنی دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے۔ پھر وہ ان کا بدترین بستر بنے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جہنم کہ اس میں جائیں گے تو کیا ہی برا بچھونا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) دوزخ ہے، اس میں وہ داخل ہوں گے، سو بہت ہی بُرا بچھونا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جہنم، وہ اس میں داخل ہوں گے، سو وہ برا بچھونا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعنی دوزخ، جس میں وہ داخل ہوں گے جو بہت بری جگہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یعنی جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے۔ پس کیا ہی بری جگہ ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی جہنم (اور اس کی ہولناکیاں) جہاں ان کو بہرحال داخل ہونا ہوگا سو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی دوزخ اس میں وہ داخل ہوں گے سو وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یعنی) جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے پس وہ بہت ہی برا بچھونا ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرامگاہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Hell, where they will be roasted. An evil place to dwell!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Jahannam , in which they will enter. So, how evil is that place to rest?

— Muhammad Taqi Usmani

the Jahannam , in which they will enter. So, how evil is that place to rest?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hell, where they will burn, an evil resting-place.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the resting place.

— Saheeh International

They will suffer in hell. What a terrible dwelling!

— Muhammad Sarwar

Hell; they shall enter it, so evil is the resting-place.

— Muhammad Habib Shakir

Hell, wherein they roast: a wretched couch.

— Abdul Majid Daryabadi

Hell!- they will burn therein, - an evil bed (indeed, to lie on)!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–64

اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–56

سورة صٓ 53 ہم سِن بیویوں کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–64

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔ زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جھنم یصلونھا فبئس المھاد (56) یہ اس مشرماب کی تفصیل ہے یعنی یہ برا ٹھکانا جہنم ہے یصلونھا یعنی اس جہنم کی ان کو دو دور سے سیر نہیں کرائی جائے گی بلکہ ان کو اس میں داخل ہونا پڑے گا اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے جس میں یہ داخل ہوں گے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 55–56

55۔ 1 یعنی مذکورہ اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ 55۔ 2 طَاغِیْنَ جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کو جھٹلایا یَصْلُوْنَ کے معنی ہیں یَدْخُلُون داخل ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–61

24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–60

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 56–57

3 یعنی لو ! یہ حاضر ہے۔ اب اس کا مزہ چکھیں۔ 4 " غساق " سے بعض نے کہا دوزخیوں کے زخموں کی پیپ اور ان کی آلائش مراد ہیں۔ جس میں سانپوں بچھوؤں کا زہر ملا ہوگا۔ اور بعض کے نزدیک " غساق " حد سے زیادہ ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں جس کے پینے سے سخت اذیت ہو۔ گویا " حمیم " کی پوری ضد۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 { جَہَنَّمَج یَصْلَوْنَہَاج فَبِئْسَ الْمِہَادُ } ”یعنی جہنم ‘ جس میں وہ داخل ہوں گے ‘ پس وہ بہت ہی برا بچھونا ہوگا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–57

58 غساق کا لغوی مفہوم :۔ غساق کا معنی عموما پیپ یا بہتی پیپ کرلیا جاتا ہے جس میں خون کی بھی آمیزش ہو جبکہ صاحب منجد، فقہ اللغہ اور منتہی الارب سب نے اس کے معنی انتہائی ٹھنڈا اور بدبودار پانی بتائے ہیں۔ قرآن میں دو مقامات پر غساق کا لفظ حمیم کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ایک اس مقام پر اور دوسرے سورة نبا کی آیت نمبر 25 میں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار پانی ہی کرنا زیادہ مناسب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–58

54۔ یعنی ایسی ہی ناگوار وموجب آزار چیزیں فقرہ کی ترکیب اصل قاعدہ نحوی کے اعتبار سے یوں ہوگی۔ ھذا حمیم وغساق فلیذوقوہ۔ (آیت) ” غساق “۔ اس کا ترجمہ پیپ قول اکثریت کے مطابق درج کردیا گیا۔ لیکن اس کے ایک معنی ناقبال برداشت حد تک سرد کے بھی ہیں۔ غساق الزمھریر (ابوالبقاء) اور چونکہ معا قبل ذکر حمیم (انتہائی گرم) کا آچکا ہے، اس لئے یہاں چسپاں بھی انتہائی سرد، کے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ ؛ چناچہ ابن جریر نے بھی اس معنی کا ذکر کیا ہے، اور بعض تابعین سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ ھو البارد الذی لایستطاع من بردہ (ابن جریر) بارد لایستطاع اوبرد لایستطاع (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابرد البرد (ابن جریر۔ عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جھنم یصلونھا فبئس المھاد یعنی جہنم سو وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ طَاغِیْنَ سے مراد ہیں کافر۔ مآب لوٹنے کی جگہ ‘ لوٹ کر پہنچنے کا مقام۔ مہاد بستر ‘ بطور کنایہ جہنم کو بستر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 56–58

(56۔ 58) یعنی دوزخ اس میں وہ قیامت کے دن داخل ہوں گے سو ان کے لیے یہ دوزخ بہت برا ٹھکانا اور بہت ہی بری آرام گاہ ہے۔ یہ کافر اس دوزخ کے عذاب کو چکھیں گے جہاں کھولتا ہوا پانی او آگ کی طرح جلا دینے والی پیپ ہوگی اور بھی اس طرح کا قسم قسم کا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 55–56

ھٰذَا ۭ وَاِنَّ للطّٰغِيْنَ لَـشَرَّ مَاٰبٍ : ”ھٰذَا“ یعنی یہ تو متقین کی جزا ہوئی، اب کفار کا انجام سنو جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھنے والے اور اس کے احکام سے سرکشی کرنے والے ہیں کہ ان کے لیے ایک بدترین ٹھکانا ہے، جو جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 55–61

55 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–61

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

جَهَنَّمَ ۚ [جو جہنم ہے ] يَصْلَوْنَهَا ۚ [وہ لوگ کریں گے اس میں ] فَبِئْسَ [تو کیا ہی بری ہے ] الْمِهَادُ [یہ آرام گاہ ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–61

سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–64

بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء : قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔ قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ، فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–58

40:۔ ” و ان للطاغین۔ تا۔ تخاصم اھل النار۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فرمانبردار مومنین کے مقابلے میں سرکشوں کا انجام ناہیت برا ہوگا۔ ” طاغین “ سے سرکش کفار و مشرکین کے سردار و رؤسا مراد ہیں جو ان کو شرک کی دعوت دیتے تھے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ دنیا میں تمہاری سرکشی کی سزا ہے۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ کھولتا ہوا پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ انہیں پینے کے لیے دی جائے گی۔ اور ان کے لیے اس سے ملتے جلتے عذاب اور مشروبات کی اور بھی کئی قسمیں تیار ہوں گی۔ الغساق ما یغسق من صدید اھل النار (مدارک) ۔ ولھم مذوقات او انواع عذاب اخر (روح ج 23 ص 215) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–64

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَہَنَّمَ۝ 0 ۚ يَصْلَوْنَہَا۝ 0 ۚ فَبِئْسَ الْمِہَادُ۝ 56 جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–64

ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔ تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–56

ھٰذَا ط وَاِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّمَاٰبٍ ۔ جَھَنَّمَ ج یَصْلَوْنَھَا ج فَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ (صٓ: 55، 56) یہ ( تو ہے متقیوں کا انجام) اور بیشک سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہوگا۔ یعنی جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے، پس کیا ہی بری قیام گاہ ہے۔ ) سرکشوں کا انجام متقیوں کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد سرکشوں اور خودسروں کے انجام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ طاغیوں کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ اشرافِ قریش ہیں جو تکبر اور مخالفت میں بالکل اندھے ہوچکے تھے اور اس سورة کے آغاز ہی میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ بات بات پر آنحضرت ﷺ کا مذاق اڑاتے اور بات بات پر جھگڑا کرتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–58

فہم القرآن ربط کلام : متقین کے مقابلے میں نافرمانوں اور باغیوں کا ٹھکانہ اور سزائیں۔ قرآن مجید کا تسلسل کے ساتھ یہ اسلوب ہے کہ جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پڑھنے والا اس بات پر غور کرے کہ اسے کونسا عقیدہ اور کیا کردار اختیار کرنا چاہے۔ لہٰذا جنتیوں کے انعامات کے بیان کے بعد جہنمیوں کی سزا کا ذکر ہوتا ہے۔ باغیوں اور نافرمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جو رہنے کے اعتبار سے بد ترین جگہ ہوگی۔ انہیں پینے کے لیے گرم ترین پانی اور پیپ دی جائے گی اس کے ساتھ ہی انہیں مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِنَّ الْحَمِیمَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مجرمین کے ٹھکانہ جہنم اور اس کی تفاصیل : 56: جَھَنَّمَ (دوزخ) یہ بدل ہے یَصْلَوْنَھَا (وہ اس میں داخل ہونگے) فَبِئْسَ الْمِھَادُ (وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) سونے والا جو کپڑا سونے کیلئے نیچے بچھاتا ہے آگ کو اس بچھو نے سے تشبیہ دی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–64

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–73

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–58

71 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل جنت کی ان سرفرازیوں کے مقابلے میں اہل دوزخ کا حال یہ ہوگا کہ ان کے لیے دوزخ کا وہ ہولناک ٹھکانا ہوگا جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا اور اس میں ان کے لیے طرح طرح کی ہولناک عذاب ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں پر گمراہ پیروکاروں کی طرف سے اپنے لیڈروں کیلئے دوہرے عذاب کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ عام ہے ہر گمراہ کرنے والے کو خواہ وہ کوئی کفر و شرک کا کھلا داعی ہو یا کوئی نام نہاد برخود غلط پیر ہو۔ یا اس کا تعلق علمائے سوء کے اس گروہ سے ہو جو لوگوں کو راہ حق سے پھیرتا اور شرک و بدعت کی راہ پر لگا تا ہو کہ الفاظ کا عموم ان سب ہی اقسام کو عام اور شامل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–64

سرکشوں کا انجام تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–59

ف 9 یہ فرشتوں کا کلام ہے جو وہ دوزخیوں کے سرداروں سے اس وقت کہیں گے جب وہ دوزخ میں داخل ہو رہے ہوں گے اور باہران کے تابعدار کھڑے ہوں گے۔ 10 یہ دوزخیوں کے سرداروں کا کلام ہے جو وہ اپنے تابعداروں کے متعلق کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:56) جھنم۔ ماب کا بدل ہے۔ شرماب یعنی جہنم۔ یصلونھا : یصلون۔ مضارع جمع مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے۔ وہ داخل ہوں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ یعنی وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ فبئس المھاد۔ المھاد والمھد گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (19:29) ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیوں کر بات کریں۔ المھد والمھاد ہموار اور دست کی گئی زمین ہی کو کہتے ہیں اور فرش یا بچھونا کے معنی میں بھی آتا ہے مثلا الذی جعل لکم الارض مھدا (20:53) وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنادیا۔ یا الم نجعل الارض مھدا (78:6) کیا ہم نے زمین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–58

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–57

اہل جنت 2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(56) وہ برا ٹھکانا دوزخ ہے کہ جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے سو وہ جہنم بہت بری آرام گاہ اور بہت برا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس مقام کی مزید تشریح جو سرکشوں کا ٹھکانا ہو گا 56۔ ان بدبختوں کے لیے ہر وہ چیز بیان کی گئی ہے جس کا نام سن کر ہی انسان کراہت کرنے لگتا ہے۔ بلاشبہ دوزخ میں جانے والوں میں اکثریت ان ہی لوگوں کی ہوگئی جو سیاسی طور پر و ڈیرے ہیں یا مذہبی رہنما کہلاتے ہیں اور دنیا میں انہوں نے بہت عیش و عشرت میں وقت گزارا ہے اور اسی باعث وہ قیامت کے منکر ٹھہرے ہیں اور بعض جو اقراری ہیں وہ بھی اس دنیوی عیش و عشرت میں اس قدر مگن رہے ہیں کہ آخرت کا اقرار کرنے کے باوجود اس سے غفلت میں رہے یہاں تک کہ آخرت سے انکار کرنے والوں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہ رہا لہٰذا جب نتیجہ کا وقت آیا تو نتیجہ بھی ان کا ایک ہی جیسا ظاہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–64

In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ أَتْرَ‌ابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–56

53 "Wives of equal age" may mean that they will be of equal age among themselves, and also that they will be of the same age as their husbands.

Read the full tafseer →