Saad 38:52

Saad · from ayah 52

38:52

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ ۟وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ اَتۡرَابٌ

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And with them will be women limiting [their] glances and of equal age.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:52

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے پاس وہ ہم عمر خواتین ہوں گی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں، ایک عمر کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم عمر (حوریں) ہوں گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے پاس نگاہ نیچے رکھنے والی ہم عمر عورتیں ہوں گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ان کے پاس نگاہیں جھکائے رکھنے والی ہم عمر بیویاں بھی ہوں گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن حوریں ہوں گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے پاس نگاہوں کو نیچی رکھنے والی ہم عمر عورتیں بھی ہوں گی

— مولانا اسحاق مدنی

اور انکے پاس نیچی نگاہ والیاں ہم سنیں ہوں گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے پاس ہوں گی (ان کی بیویاں) نیچی نگاہوں والی ان کی ہم عمر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی اور ہم عمر عورتیں ہوں گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and wherein there shall be with them well-matched, bashful mates.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and in their company there will be females restricting their glances (to their husbands, and) of matching ages.

— Muhammad Taqi Usmani

and in their company there will be females restricting their glances (to their husbands, and) of matching ages.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And with them are those of modest gaze, companions.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And with them will be women limiting [their] glances and of equal age.

— Saheeh International

They will have bashful wives of equal age with them.

— Muhammad Sarwar

And with them shall be those restraining their eyes, equals in age.

— Muhammad Habib Shakir

And with them will be virgins of refraining looks and of equal age.

— Abdul Majid Daryabadi

And beside them will be chaste women restraining their glances, (companions) of equal age.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–54

صالحین کے لئے اجر۔ نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–56

سورة صٓ 53 ہم سِن بیویوں کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–64

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔ زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وعندھم قصرت الطرف اتراب قصرت الطرف باحیا اور شرمیلی نازنینوں کو کہتے ہیں۔ عرب اور دنیا کے تمام شرفاء میں عورت کی سب سے اعلیٰ صفت یہی سمجھی گئی ہے۔ اتراب ع کے معنی ہم سن کے ہیں یعنی ان کی تکمیل مسرت کے لئے ان کے پہلو بہ پہلو شرمیلی اور ہم سن نازنین بھی ہوں گی۔ ھذا ماتوعدون … الایۃ یعنی یہ نعمتیں دے کر انکو باتیا جائے گا کہ جن نعمتوں کی بشارت آج کے دن کے لئے آپ لوگوں کو دی گئی تھی وہ یہ حاض رہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ جو کچھ آپ لوگوں کو ملا ہے اس میں برابر اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–53

52۔ 1 یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے حد سے بڑھنے والی نہیں ہونگی۔ اَتْرَاب تِرْب کی جمع ہے، ہم عمر لا زوال حسن و جمال کی حامل (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–61

24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–55

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی سب عورتیں نوجوان ایک عمر ہوں گی یا شکل و شمائل میں خوبو میں اپنے ازواج کی ہم عمر معلوم ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 { وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ} ”اور ان کے پاس ہوں گی ان کی بیویاں نیچی نگاہوں والی ‘ ان کی ہم عمر۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 51–52

57 اتراب کا لغوی : مفہوم۔ اتراب بمعنی ایسی ہم عمر عورتیں جن کے مزاج میں ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہو۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عورتیں باہم ہم عمر ہوں، دوسرے یہ کہ وہ اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں اور یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 51–52

51۔ یعنی حوریں، اور ہوسکتا ہے کہ اہل جنت کی بیویاں بھی مراد ہوں، غرض یہ کہ اہل جنت کیلئے مادی عیش و راحت کے بھی کل سامان موجود ہوں گے۔ اور اس پر عقل سلیم کو اعتراض کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔ مادی لذتوں سے لطف اٹھانا بجائے خود ہرگز شریعت اور قانون فطرت کی نظر میں معیوب نہیں۔ مذموم تو ان کی صرف ناجائز صورتیں ہیں۔ (آیت) ’ فاکھۃ “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا، کھانے پینے کی ہر لذیذ و مرغوب چیز مراد ہے۔ (آیت) ” قصرت الطرف “۔ یعنی بجز اپنے مردوں کے اور کسی پر نظر نہ ڈالنے والیاں، دنیا میں یہ وصف خاص طور پر محمود سمجھا جاتا ہے، اس لئے اس کا ذکر جنت کی نعمتوں کے سلسلہ میں بھی کردیا گیا۔ (آیت) ” اتراب “۔ محض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 52–53

(52۔ 53) اور جنت میں ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی ہم عمر حوریں ہوں گی اور یہ وہ نعمتیں ہیں جس کا تم سے دنیا میں قیامت کے آنے پر وعدہ کیا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 52–54

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ : یعنی جن کی نظریں اپنے خاوندوں سے آگے بڑھنے والی نہیں ہوں گی۔ ”اَتْرَابٌ“ ”تِرْبٌ“ کی جمع ہے جو ”تُرَابٌ“ (مٹی) سے مشتق ہے، ہم عمر جو بچپن میں مل کر مٹی کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں۔ یعنی وہ بیویاں خاوندوں کی ہم عمر اور ہم مزاج ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–54

48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–61

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعِنْدَهُمْ [اور ان کے پاس ہوں گے ] قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ [آنکھ کی پلک کو نیچا رکھنے والیاں ] اَتْرَابٌ [ہم جھولیاں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–52

متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر ( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–54

تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔ گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–54

39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–64

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۝ 52 عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ قصر القِصَرُ : خلاف الطّول، وهما من الأسماء المتضایفة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–55

و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–54

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ ۔ مُتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ۔ وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۔ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ ۔ (صٓ: 50 تا 54) (ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی۔ یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ) حسن مآب کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–54

فہم القرآن ربط کلام : متقین کو جہاں رکھا جائے گا اس کی سہولیات اور انعامات کا مختصر بیان۔ متقین کے لیے ہمیشہ ہمیش کے باغات اور محلات ہوں گے۔ جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جنت کی حوریں اور نعمتیں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ یہ ہر زبان میں ایک محاورہ بھی ہے۔ جو مہمان کے لیے میزبان کی طرف سے بولا جاتا ہے کہ آپ جب آنا چاہیں ہمارے دروازے ہر وقت آپ کے لیے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جنتی جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے اور ان کے کھانے پینے کے لیے کثیر تعداد میں ہر قسم کے پھل اور مشروبات ہوں گے جس میں شراب طہور بھی ہوگی، جنہیں جنتی طلب فرمایں گے جو فی الفور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

52: وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی) ان کی نگاہیں اپنے خاوندں تک محدود رہیں گی۔ اَتْرَابٌ (ہم عمر) دونوں کی عمریں یکساں ہونگیں کیونکہ ہم عمروں میں محبت زیادہ قائم رہنے والی ہوتی ہے۔ گویا ہم عمروں کو اتراب کہہ دیا کیونکہ ان کو مٹی نے ایک ہی مرتبہ چھوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52، وعندھم قاصرات الطرف اتراب، یعنی ہم عمر، اس وقت سب کی عمر 33 سال ہوگی ۔ مجاہدکاقول ہے کہ سب آپس میں بہنوں بہنوں کی طرح ہوں گی۔ یہاں کی سوکنوں کی طرح ان میں جلن نہیں ہوگی اور نہ حسد ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–64

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–54

آیت 50 ( جنت عدن) یعنی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہنے والے باغات ‘ جن کے کمال اور جن کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا۔ (مفتحۃ لھم الابواب) یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے ‘ ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہوگی ‘ بلکہ انکی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن وامان ہوگا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہوگی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔ (متکئین فیھا) وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے (یدعون فیھا) یعنی وہ اپنے خدام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 اہل جنت کی پاکیزہ اور بےمثال بیویوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکے پاس نگاہوں کو نیچی رکھنے والی عورتیں بھی ہونگی "۔ یعنی وہ شرم و حیا کی وجہ سے اپنی نگاہیں نیچی رکھے ہوں گی کہ وہ اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ نیز وہ حسن و جمال کے ایسے اعلیٰ درجے اور مرتبے پر ہوں گی کہ ان کے شوہروں کی نظریں بھی ان کے سوا اور کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی۔ اس طرح وہ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے شوہروں کی نگاہوں کو بھی محفوظ رکھنے کا باعث ہونگی۔ اور وہ ان کیلئے بھی اطمینان اور ان کی ٹھنڈک کا بھی ذریعہ اور سبب ہوں گی۔ اس طرح وہ اطاعت شعار اور فرمانبردار بھی اس قدر ہوں گی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–55

اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی دوسرے مرد کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں گی۔8 یعنی آپس میں ایک دوسرے کی ہم عمر یا اپنے شوہروں کی ہم عمر۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:52) قصرت الطرف۔ نگاہ کو نیچی رکھنے والیاں۔ بکز اپنے مرودوں کے اور کسی پر نظر نہ ڈالنے والیاں حوران جنت کی غایت عفت کی صفت ہے۔ قصرت الطرف مضاف مضاف الیہ۔ قصرت اسم فاعل جمع مؤنث۔ قصرۃ واحد نظر کو روکنے والیاں۔ الطرف۔ نگاہ ۔ نظر ۔ طرف العین کہتے ہیں آنکھ کی پلک کو اور طرف کے معنی ہیں پلک چھپکانے کے۔ پلک جھپکانے کو لازم ہے نگاہ۔ اس لئے خود نگاہ اور نظر کے لئے بھی طرف استعمال ہوتا ہے۔ اتراب۔ ترب کی جمع ہے ہم سن عورتیں۔ التراب مٹی کو کہتے ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ان خلقکم من تراب۔ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ اسی مادہ ترب سے تربیۃ (جمع ترائب) سینہ کی پسلی کو کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–58

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–57

اہل جنت 2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(52) اور ان متقیوں کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر عورتیں ہونگی۔ یعنی ہر قسم کی نعمتیں طلب کر رہے ہوں گے اور وہ نعمتیں وہاں ان کو میسر ہوں گی۔ نیچی نگاہ والی عورتیں یعنی شرمیلی اور باعفت ہم عمر کو مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ حوریں سب کی سب آپس میں ہم عمر ہوں گی یا مطلب یہ ہے کہ وہ حوریں اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–53

ف 7۔ مراد قصص انبیاء ہے کہ مکذبین کے لئے اس میں اثبات ہے مسئلہ نبوت کا، اور مصدقین کے لئے اس میں تعلیم ہے۔ اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم سن بیویاں ہوں گی 52۔ دنیوی زندگی میں مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر کامل انسان نہیں کہلا سکتے خواہ دنیا کی راحت و سامان کتنا اور کیسا ہو اور پھر جو مرد اور عورت شرعی لحاظ سے ایک دوسرے کے شریک زندگی ہونے کا عہد کرتے ہیں اس عہد کی پابندی لازم و ضروری ہوجاتی ہے اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی خیانت کرے گا تو وہ مستوجب سزا ہوگا اور دونوں ہی کا سکون بھی اس سے برباد ہوگا اس لیے ایک نیک خصال عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کی فرمانبردار اور اس کے دل کو موہ لینے والی ہو اور اس کی ساری نسوانی عادات و خصائل اپنے خاوند کے لیے مختص ہوجائیں اور اس طرح مرد کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–64

In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ أَتْرَ‌ابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–56

53 "Wives of equal age" may mean that they will be of equal age among themselves, and also that they will be of the same age as their husbands.

Read the full tafseer →