Explained with ayahs 49–54
صالحین کے لئے اجر۔
نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة صٓ 52
اصل الفاظ ہیں مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان جنتوں میں وہ بےروک ٹوک پھریں گے، کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہوگی بلکہ وہ مجرد ان کی خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے۔ تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے۔ یہ تیسرا مضمون قرآن مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے حَتّیٰ اِذَا جَآءُوْھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
حضرت الیسع ؑ
والیسع (اور الیسع ؑ کو یاد کرو) حضرت الیسع ؑ بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہم السلام) میں سے ہیں اور قرآن کریم میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں۔ دونوں میں سے کسی جگہ آپ کے تفصیلی حالات مذکور نہیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں صرف آپ کا اسم گرامی شمار کرایا گیا ہے۔
تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی ہیں اور حضرت الیاس ؑ کے نائب اور خلیفہ تھے، انہی کی رفاقت میں رہتے تھے، ان کے بعد آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 91 اور سلاطین دوم باب 2 وغیرہ میں آپ کے تفصیلی حالات بیان کئے گئے ہیں۔ وہاں آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ھذا ذکر وان للمتقین لحن ماب (49)
خلاصہ بحث
یہ مذکورہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے کے دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ یاد دہانی ہے، یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موظت اور عظیم درس موعظت ہے اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانا خا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے، ان لوگوں کے لئے وہاں ذلت کی مار ہے جو خدا کی پر نصیحت کتاب کی باتیں سن کر اکڑتے اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں کلام کے تسلسل کو سمجھنے کے لئے پہلی آیت کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
آیت
متقیوں کا صلہ
یہ اس بہترین ٹھکانے کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت ہیں حسن ماب کے الفاظ سے ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
48۔ 1 یسع ؑ کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے ذوالکفل کے لئے دیکھئے (وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ) 21۔ الانبیاء :85) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–61
24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
درس نمبر 213 تشریح آیات
آیت نمبر 49 تا 64
درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز…
Read the full tafseer →10 یعنی قسم قسم کے میوے، پھل اور پینے کی چیزیں حسب خواہش غلمان حاضر کریں گے۔
Read the full tafseer →آیت 51 { مُتَّکِئِیْنَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ } ”اس میں وہ تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے ‘ طلب کریں گے اس میں میوے بہت سے اور مشروبات بھی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
57 اتراب کا لغوی : مفہوم۔ اتراب بمعنی ایسی ہم عمر عورتیں جن کے مزاج میں ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہو۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عورتیں باہم ہم عمر ہوں، دوسرے یہ کہ وہ اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں اور یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ یعنی حوریں، اور ہوسکتا ہے کہ اہل جنت کی بیویاں بھی مراد ہوں، غرض یہ کہ اہل جنت کیلئے مادی عیش و راحت کے بھی کل سامان موجود ہوں گے۔ اور اس پر عقل سلیم کو اعتراض کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔ مادی لذتوں سے لطف اٹھانا بجائے خود ہرگز شریعت اور قانون فطرت کی نظر میں معیوب نہیں۔ مذموم تو ان کی صرف ناجائز صورتیں ہیں۔ (آیت) ’ فاکھۃ “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا، کھانے پینے کی ہر لذیذ و مرغوب چیز مراد ہے۔ (آیت) ” قصرت الطرف “۔ یعنی بجز اپنے مردوں کے اور کسی پر نظر نہ ڈالنے والیاں، دنیا میں یہ وصف خاص طور پر محمود سمجھا جاتا ہے، اس لئے اس کا ذکر جنت کی نعمتوں کے سلسلہ میں بھی کردیا گیا۔ (آیت) ” اتراب “۔ محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →متکئین فیھا یدعون فیھا بفاکھۃ کثیرۃ و شراب ان باغوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہاں (جنت
کے خادموں سے) بہت سے لذیذ پھل اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے۔
شراب میں تنوین تکثیر سے مراد ہے کثیر نوشیدنی شربت۔ پہلے فاکھۃ کثیرۃ کہا جا چکا ‘ اسلئے دوبارہ شراب کے ساتھ لفظ کثیر ذکر کرنے کی ضرورت نہیں (مطاعم اور مآکل کی بجائے) صرف فاکہہ کا ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اہل جنت کا کچھ کھانا محض لذت اندوزی کیلئے ہوگا ‘ حصول غذائیت کیلئے نہیں ہوگا۔ غذا کی ضرورت تو اسلئے ہوتی ہے کہ اجزاء جسم کو تحلیل شدہ قوت کو بدل جائے (اور جنت کے اندر قوت کے تحلیل ہونے اور کمزور پڑجانے کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(48۔ 51) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجیے ذوالکفل ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک قوم کی ذمہ داری اور ضمانت لے لی تھی پھر اس کو پورا کیا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ایک چیز کا عہد کرلیا تھا پھر اس کو پورا کیا اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو انبیاء کرام کی ذمہ داری لے لی تھی ان کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے نجات دی اور یہ نیک آدمی تھے نبی نہیں تھے یہ سب اللہ کے نزدیک پسندیدہ لوگوں میں سے تھے نیک لوگوں کا تذکرہ تو ہوچکا یا یہ مطلب ہے کہ اس قرآن کریم میں اولین و آخرین کا ذکر ہے اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
جَنّٰتِ عَدْنٍ :”مَفْتُوْحَۃٌ“ کھولے ہوئے،”مُّفَتَّحَةً“ (تفعیل) میں مبالغہ کی وجہ سے ترجمہ ”پورے کھولے ہوئے“ کیا گیا ہے۔ متعدد صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ سورة زمر (71) میں ہے کہ جہنم کے دروازے کفار کے آنے پر کھولے جائیں گے اور آیت (73) میں ہے کہ جنت کے دروازے متقین کی آمد پر پہلے سے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ”مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ“ میں وہ بشارت بھی داخل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا : (یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ ، فَیُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَ النَّارِ ، فَیُقَصُّ لِبَعْضِہِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔
حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔
2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ [ٹیک لگا کر بیٹھے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا [ان میں ] يَدْعُوْنَ [وہ لوگ طلب کریں گے ] فِيْهَا [ان میں ] بِفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ [بہت سے میوے ] وَّشَرَابٍ [اور مشروبات ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر
( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔
گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–64
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ فِيْہَا يَدْعُوْنَ فِيْہَا بِفَاكِہَۃٍ كَثِيْرَۃٍ وَّشَرَابٍ 51
تكأ
المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله،
( ت ک ء ) التکاء
( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ ۔ مُتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ۔ وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۔ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ ۔ (صٓ: 50 تا 54)
(ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی۔ یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ )
حسن مآب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
فہم القرآن
ربط کلام : متقین کو جہاں رکھا جائے گا اس کی سہولیات اور انعامات کا مختصر بیان۔
متقین کے لیے ہمیشہ ہمیش کے باغات اور محلات ہوں گے۔ جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جنت کی حوریں اور نعمتیں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ یہ ہر زبان میں ایک محاورہ بھی ہے۔ جو مہمان کے لیے میزبان کی طرف سے بولا جاتا ہے کہ آپ جب آنا چاہیں ہمارے دروازے ہر وقت آپ کے لیے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جنتی جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے اور ان کے کھانے پینے کے لیے کثیر تعداد میں ہر قسم کے پھل اور مشروبات ہوں گے جس میں شراب طہور بھی ہوگی، جنہیں جنتی طلب فرمایں گے جو فی الفور…
Read the full tafseer →51: مُتَّکِئِیْنَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ (وہ ان باغوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے وہ وہاں بہت سے میوے) کَثِیْرَۃٍ وَّ شَرَابٍ (اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے)
نحو : متکئین یہ لھم کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اس کا عامل مفتحۃ ہے۔ فاکھۃؔ کے بعد کثیرۃ کی صفت یہ شراب کی بھی صفت ہے عطف اس کا متقاضی ہے پہلے پر اکتفاء کرکے دوسرے سے حذف کردی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
50، جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب، ان کیلئے ابواب کھلے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–64
49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
آیت 50
( جنت عدن) یعنی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہنے والے باغات ‘ جن کے کمال اور جن کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا۔ (مفتحۃ لھم الابواب) یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے ‘ ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہوگی ‘ بلکہ انکی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن وامان ہوگا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہوگی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
(متکئین فیھا) وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے (یدعون فیھا) یعنی وہ اپنے خدام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →67 اہل جنت کی خوشحالی اور فارغ البالی کی ایک تصویر : سو اہل جنت کی خوشحالی اور ان کی فارغ البالی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور سکون و اطمینان کے ساتھ طلب کر رہے ہوں گے قسما قسم کے پھل اور طرح طرح کے مشروبات۔ عربی زبان میں " شراب " کا لفظ اس معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا ہے جس معنیٰ میں ہماری زبان اور محاورے میں ہوتا ہے۔ بلکہ عربی زبان میں " شراب " ہر مشروب کو کہا جاتا ہے ۔ " کل ما یشرب " ۔ اور پھر وہاں پر مشروب ایک نہیں ہوگا قسما قسم کے ہوں گے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمے میں اس کے اسی مفہوم کے اظہار کی کوشش کی ہے کہ اہل جنت وہاں پر حسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے
تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ان کے پہنچتے ہی جنت کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔ دیکھئے سورة ٔ زمر ( آیت 73)
Read the full tafseer →(38:51) متکئین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب مت کی واحد۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے کو گاؤ تکیہ کا سہارا لگائے ہوئے۔ یہ حال ہے ضمیر لہم سے۔
یدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ دعوۃ ودعاء مصدر باب نصر۔ وہ طلب کرتے ہیں۔ وہ بلاتے ہیں۔ وہ بلائیں گے۔
یدعون فیہا بفاکہۃ کثیرۃ وشراب۔ یہ جملہ بھی لہم کی ضمیر سے حال ہے درآں حالیکہ وہ ان باغات میں بہت سے میوے اور پینے کی خبریں منگوائیں گے۔ شراب کے بعد کثیر محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔
(ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
اہل جنت
2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ…
Read the full tafseer →(51) ان باغات میں یہ متقی تکیے لگائے ہوئے ہوں گے وہ وہاں بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں منگواتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
ف 7۔ مراد قصص انبیاء ہے کہ مکذبین کے لئے اس میں اثبات ہے مسئلہ نبوت کا، اور مصدقین کے لئے اس میں تعلیم ہے۔ اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی۔
Read the full tafseer →باغات میں وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور جس پھل کو طلب کریں گے وہ پیش کردیا جائے گا
51۔ باغات میں ان کے لیے ایک طرح کے پھل نہیں بلکہ طرح طرح اور قسم قسم کے پھل ہوں گے۔ وہ اس طرح بیٹھے ہوں گے جو آرام دہ بیٹھنا ہوتا ہے چونکہ جس بیٹھنے سے ہم اس دنیا میں متعارف ہیں ، وہی بیٹھنا سب سے زیادہ آرام دہ بیٹھنا ہے جو تکیہ لگا کر بیٹھنا ہوتا ہے اس لیے اس جگہ اس طرح بیٹھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تکیہ لگا کر انسان بیٹھا ہوا اور پھر اس طرح بیٹھ کر جو وہ طلب کرے اس کے سامنے حاضر کردیا جائے تو اس کی انا کو نہایت تسکین ہوتی ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ وہ وہاں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور جس پھل کی طلب کریں گے وہ حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
The Prophet: (al-Yasa`: Elisha) (علیہ السلام)
In verse 48, it was said: وَالْيَسَعَ (and [ remember ] al-Yasa`). Sayyidna al-Yasa (علیہ السلام) is a prophet from among the prophets of Bani Isra'il, peace be upon them all. He has been mentioned in the Qur'an only at two places, once in Surah Al-An` am and then, here in Surah Sad. No details have been mentioned at any of the two places, rather his name appears there as part of a list of the blessed prophets.
Historical chronicles report that he is a cousin of Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) and was his deputy. He lived in his company and was made…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
52 The words mufattahat-al-lahum-ul-abwab may have several meanings: (1) They will go about in the Gardens (Paradise) freely without any hesitation; (2) no effort will have to be made to open the gates of Paradise: they will open automatically as soon as they will have the desire to enter them; (3) the angels appointed for keeping Paradise will open the gates for them as soon as they see them. This third meaning has been expressed more clearly at another place in the Qur'an, thus: "When they arrive there, and its gates shall already have been opened, its keepers will say: Peace be upon you:…
Read the full tafseer →