Saad 38:50

Saad · from ayah 50

38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ ۟ۚجَنّٰتِ عَدۡنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ‌ۚ‏

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Gardens of perpetual residence, whose doors will be opened to them.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:50

ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھلے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعنی ہمیشہ بسے رہنے کے لیے جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے پوری طرح کھلے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بھلا بسنے کے باغ ان کے لیے سب دروازے کھلے ہوئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو) دائمی اِقامت کے لئے باغاتِ عدن ہیں جن کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھلے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یعنی) ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہمیشہ کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھولے ہوئے ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں جن کے دروازے ان (کے استقبال) کے لئے پہلے سے ہی کھول کر رکھے گئے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یعنی) رہنے والے باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے رکھے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

-- everlasting Gardens with gates wide open for them

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

- everlasting gardens, with (their) doors opened for them.

— Muhammad Taqi Usmani

- everlasting gardens, with (their) doors opened for them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`Adn Paradise, whose doors will be opened for them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Gardens of Eden, whereof the gates are opened for them,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Gardens of perpetual residence, whose doors will be opened to them.

— Saheeh International

They will enter gardens of Eden with their gates open for them.

— Muhammad Sarwar

The gardens of perpetuity, the doors are opened for them.

— Muhammad Habib Shakir

Gardens Everlasting, whereof the portals remain opened for them.

— Abdul Majid Daryabadi

Gardens of Eternity, whose doors will (ever) be open to them;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–54

صالحین کے لئے اجر۔ نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 50–51

سورة صٓ 52 اصل الفاظ ہیں مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان جنتوں میں وہ بےروک ٹوک پھریں گے، کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہوگی بلکہ وہ مجرد ان کی خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے۔ تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے۔ یہ تیسرا مضمون قرآن مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے حَتّیٰ اِذَا جَآءُوْھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–51

حضرت الیسع ؑ والیسع (اور الیسع ؑ کو یاد کرو) حضرت الیسع ؑ بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہم السلام) میں سے ہیں اور قرآن کریم میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں۔ دونوں میں سے کسی جگہ آپ کے تفصیلی حالات مذکور نہیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں صرف آپ کا اسم گرامی شمار کرایا گیا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی ہیں اور حضرت الیاس ؑ کے نائب اور خلیفہ تھے، انہی کی رفاقت میں رہتے تھے، ان کے بعد آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 91 اور سلاطین دوم باب 2 وغیرہ میں آپ کے تفصیلی حالات بیان کئے گئے ہیں۔ وہاں آپ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–51

ھذا ذکر وان للمتقین لحن ماب (49) خلاصہ بحث یہ مذکورہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے کے دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ یاد دہانی ہے، یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موظت اور عظیم درس موعظت ہے اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانا خا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے، ان لوگوں کے لئے وہاں ذلت کی مار ہے جو خدا کی پر نصیحت کتاب کی باتیں سن کر اکڑتے اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں کلام کے تسلسل کو سمجھنے کے لئے پہلی آیت کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آیت متقیوں کا صلہ یہ اس بہترین ٹھکانے کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت ہیں حسن ماب کے الفاظ سے ہوا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–51

48۔ 1 یسع ؑ کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے ذوالکفل کے لئے دیکھئے (وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ) 21۔ الانبیاء :85) کا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–61

24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–55

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جب بہشت میں داخل ہوں گے ہر کوئی بدون بتائے اپنے گھر میں چلا جائے گا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 { جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ } ”یعنی رہنے والے باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے رکھے جائیں گے۔“ اہل ِجنت کے لیے جنت کے دروازے کھلے رکھے جانے کا ذکر سورة الزمر کے آخری رکوع میں بھی آیا ہے ‘ بلکہ وہاں اس حوالے سے اہل جنت اور اہل جہنم کے استقبال کا فرق اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ اہل جنت کے لیے تو جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ جیسے کسی مہمان کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یعنی جس مہمان کا باقاعدہ انتظار ہو اس کے لیے یوں نہیں ہوتا کہ پہلے دروازہ بند ہو اور اس کے آنے پر ہی اسے کھولا جائے۔ چناچہ جنتی مہمانوں کے لیے جنت کے دروازوں کو پہلے سے ہی کھول…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 جنت کے کھلے ہوئے دروازے :۔ یعنی اہل جنت بلاروک ٹوک اپنے اپنے گھروں میں آجاسکیں گے اور دروازوں کے کھلے ہونے یا رہنے کی تین صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ دروازے ہر وقت کھلے رہیں دوسری یہ کہ دروازے بند ہوں مگر جب اہل جنت گزرنا چاہیں تو وہ از خود کھل جائیں۔ اور تیسری یہ کہ جب اہل جنت گزرنا چاہیں تو فرشتے فوراً دروازے کھول دیں۔ سورة الزمر کی آیت نمبر 73 سے اسی تیسری صورت کی تائید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–50

50۔ جنتوں کے دروازے جنتیوں کے انتظارواشتیاق میں پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے، انہیں کسی انتظار یا تقاضہ کی نوبت نہ آئے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوں گے۔ عدن (دوامی قیام) یہ ایک جنت کا نام بھی ہے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : جَنّٰتِ عَدْنِ انِلَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنَ عِبَادَہٗ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–51

(48۔ 51) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجیے ذوالکفل ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک قوم کی ذمہ داری اور ضمانت لے لی تھی پھر اس کو پورا کیا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ایک چیز کا عہد کرلیا تھا پھر اس کو پورا کیا اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو انبیاء کرام کی ذمہ داری لے لی تھی ان کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے نجات دی اور یہ نیک آدمی تھے نبی نہیں تھے یہ سب اللہ کے نزدیک پسندیدہ لوگوں میں سے تھے نیک لوگوں کا تذکرہ تو ہوچکا یا یہ مطلب ہے کہ اس قرآن کریم میں اولین و آخرین کا ذکر ہے اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 50–51

جَنّٰتِ عَدْنٍ :”مَفْتُوْحَۃٌ“ کھولے ہوئے،”مُّفَتَّحَةً“ (تفعیل) میں مبالغہ کی وجہ سے ترجمہ ”پورے کھولے ہوئے“ کیا گیا ہے۔ متعدد صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ سورة زمر (71) میں ہے کہ جہنم کے دروازے کفار کے آنے پر کھولے جائیں گے اور آیت (73) میں ہے کہ جنت کے دروازے متقین کی آمد پر پہلے سے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ”مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ“ میں وہ بشارت بھی داخل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا : (یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ ، فَیُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَ النَّارِ ، فَیُقَصُّ لِبَعْضِہِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–54

48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–61

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

جَنّٰتِ عَدْنٍ [عدن کے باغات ہیں ] مُّفَتَّحَةً [کھولے ہوئے ہیں ] لَّهُمُ [ان کے لئے ] الْاَبْوَابُ [(ان کے) دروازے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–52

متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر ( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–54

تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔ گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–54

39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–64

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ۝ 50ۚ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–55

و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–54

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ ۔ مُتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ۔ وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۔ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ ۔ (صٓ: 50 تا 54) (ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی۔ یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ) حسن مآب کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–54

فہم القرآن ربط کلام : متقین کو جہاں رکھا جائے گا اس کی سہولیات اور انعامات کا مختصر بیان۔ متقین کے لیے ہمیشہ ہمیش کے باغات اور محلات ہوں گے۔ جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جنت کی حوریں اور نعمتیں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ یہ ہر زبان میں ایک محاورہ بھی ہے۔ جو مہمان کے لیے میزبان کی طرف سے بولا جاتا ہے کہ آپ جب آنا چاہیں ہمارے دروازے ہر وقت آپ کے لیے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جنتی جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے اور ان کے کھانے پینے کے لیے کثیر تعداد میں ہر قسم کے پھل اور مشروبات ہوں گے جس میں شراب طہور بھی ہوگی، جنہیں جنتی طلب فرمایں گے جو فی الفور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

50: جَنّٰتِ عَدْنٍ (ہمیشہ رہنے کے باغات ) نحو : یہ حسن مٰاب سے بدل ہے۔ مُّفَتَّحَۃً (اس حال میں کہ کھلے ہونگے) : یہ جنات سے حال ہے کیونکہ وہ عدن کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے۔ عدنؔ علم ہے اور اس کا عامل فعل کا وہ معنی ہے جو للمتقین میں عمل کر رہا ہے۔ لَّھُمُ الْاَبْوَابُ (ان کے لئے دروازے) فائدہ : ابواب مفتحۃ کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور ضمیرعائد محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے مفتحۃ لہم الابواب منھا۔ ضمیر اس میں اسی طرح حذف کی جیسا اس ارشاد میں حذف کی ہے فان الجحیمھی الماوٰی ] النازعات : 39 [ ای لھم۔ نمبر 2۔ یا تقدیر کلام اس طرح مانیں ابوابہا مگر اول وجہ عمدہ ہے۔ نمبر 3۔ یا مفتحۃ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–64

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–54

آیت 50 ( جنت عدن) یعنی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہنے والے باغات ‘ جن کے کمال اور جن کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا۔ (مفتحۃ لھم الابواب) یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے ‘ ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہوگی ‘ بلکہ انکی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن وامان ہوگا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہوگی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔ (متکئین فیھا) وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے (یدعون فیھا) یعنی وہ اپنے خدام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

66 پرہیزگاروں کے عظیم الشان صلے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جن کے لیے ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں ہونگی جن کے دروازے ان کے لیے پہلے سے ہی کھول کر رکھے گئے ہوں گے "۔ جس طرح کہ دنیا میں شاہی درباروں میں ہوتا ہے کہ شاہی مہمانوں کی آمد کے موقع پر ان کے لئے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ سو اس طرح ایک طرف تو یہ مظہر ہوگا حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی اس عظیم الشان رحمت و عنایت کا جس کا معاملہ وہ اپنے ایسے پاکیزہ بندوں سے فرمائے گا۔ اور دوسری طرف اس میں خاص اعزازو اکرام ہوگا اہل جنت کا کہ فرشتے جنت کے دروازے کھولے ان حضرات کے انتظار میں کھڑے ہوں گے اور سلام و تحیہ سے انکا استقبال کریں گے۔ (کبیر،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–55

اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–50

ف 5” عدن “ کے معنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت میں ایک محل کا نام بھی ہے اس لئے جنات عدن کا مطلب ہمیشہ رہنے کے باغ بھی ہوسکتا ہے اور عدن کے باغ بھی۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:50) جنت عدن : عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں۔ اور اس کو جنت میں ایک خاص مقامکا نام دیتے ہیں۔ اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (19:61) کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور بعض دوسرے اس کو جنت کی صفت بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عدن کے اصل معنی استقرار و ثبات کے ہیں۔ محاورہ ہے عدن بالمکان اس نے اس جگہ قیام کیا ۔ اور عدن سے مراد دائمی طور پر رہنا بسنا ہے۔ لہٰذا جنت عدن ہمیشہ رہنے کے باغات۔ پہلی صورت میں عدن کے باغات۔ منصوب حسن ماب کا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے۔ مفتحۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث کھولے گئے ۔ کھلے ہوئے ۔ تفتیح (تفعیل) سے فتح مادہ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–58

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–68

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–57

اہل جنت 2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) وہ اچھا ٹھکانا دائمی باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی ان یاغات کے دروازے پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ حتیٰ اذا جائوھا وفتحت ابوابھا یا گھروں کے دورازے کھلے ملیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–53

ف 7۔ مراد قصص انبیاء ہے کہ مکذبین کے لئے اس میں اثبات ہے مسئلہ نبوت کا، اور مصدقین کے لئے اس میں تعلیم ہے۔ اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں 50۔ گز شتہ آیات میں جن انبیاء ورسل کا بیان تفصیل سے یا بطور نام گزرا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو سدا بہار باغات میں ہوں گے اور ان کے لیے وہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی اور ان پر انعامات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوں گے ان کی دنیوی زندگی کی پاکیزگی کا نتیجہ ان کو اخروی زندگی میں دیا جائے گا کیونکہ اخروی زندگی دراصل دنیوی زندگی کا نتیجہ ہے کیونکہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء ہے۔ چونکہ انہوں نے دنیاوی زندگی احکام الہٰی کی پابندی کے ساتھ گزاری اور پیغاماتِ الہٰی لوگوں تک پہنچائے اب در الجزاء میں ان کے لیے کوئی روک روکاوٹ نہیں ہوگی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–51

The Prophet: (al-Yasa`: Elisha) (علیہ السلام) In verse 48, it was said: وَالْيَسَعَ (and [ remember ] al-Yasa`). Sayyidna al-Yasa (علیہ السلام) is a prophet from among the prophets of Bani Isra'il, peace be upon them all. He has been mentioned in the Qur'an only at two places, once in Surah Al-An` am and then, here in Surah Sad. No details have been mentioned at any of the two places, rather his name appears there as part of a list of the blessed prophets. Historical chronicles report that he is a cousin of Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) and was his deputy. He lived in his company and was made…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

52 The words mufattahat-al-lahum-ul-abwab may have several meanings: (1) They will go about in the Gardens (Paradise) freely without any hesitation; (2) no effort will have to be made to open the gates of Paradise: they will open automatically as soon as they will have the desire to enter them; (3) the angels appointed for keeping Paradise will open the gates for them as soon as they see them. This third meaning has been expressed more clearly at another place in the Qur'an, thus: "When they arrive there, and its gates shall already have been opened, its keepers will say: Peace be upon you:…

Read the full tafseer →