Explained with ayahs 49–54
صالحین کے لئے اجر۔
نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة صٓ 50
قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام آیت 86 میں۔ دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء میں سے تھے۔ دریائے اُردُن کے کنارے ایک مقام ایبل محولہ (Abel Meholah) کے رہنے والے تھے۔ یہودی اور عیسائی ان کو اِلِیشَع (elisha) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت الیاس ؑ جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزیں تھے، ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس آنے کا حکم دیا گیا، جن میں سے ایک کام یہ تھا یہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ اس فرمان کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
حضرت الیسع ؑ
والیسع (اور الیسع ؑ کو یاد کرو) حضرت الیسع ؑ بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہم السلام) میں سے ہیں اور قرآن کریم میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں۔ دونوں میں سے کسی جگہ آپ کے تفصیلی حالات مذکور نہیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں صرف آپ کا اسم گرامی شمار کرایا گیا ہے۔
تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی ہیں اور حضرت الیاس ؑ کے نائب اور خلیفہ تھے، انہی کی رفاقت میں رہتے تھے، ان کے بعد آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 91 اور سلاطین دوم باب 2 وغیرہ میں آپ کے تفصیلی حالات بیان کئے گئے ہیں۔ وہاں آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ھذا ذکر وان للمتقین لحن ماب (49)
خلاصہ بحث
یہ مذکورہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے کے دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ یاد دہانی ہے، یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موظت اور عظیم درس موعظت ہے اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانا خا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے، ان لوگوں کے لئے وہاں ذلت کی مار ہے جو خدا کی پر نصیحت کتاب کی باتیں سن کر اکڑتے اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں کلام کے تسلسل کو سمجھنے کے لئے پہلی آیت کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
آیت
متقیوں کا صلہ
یہ اس بہترین ٹھکانے کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت ہیں حسن ماب کے الفاظ سے ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
48۔ 1 یسع ؑ کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے ذوالکفل کے لئے دیکھئے (وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ) 21۔ الانبیاء :85) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–61
24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
درس نمبر 213 تشریح آیات
آیت نمبر 49 تا 64
درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز…
Read the full tafseer →8 یعنی یہ مذکور تو انبیاء کا تھا۔ آگے عام متقین کا انجام سن لو۔
Read the full tafseer →آیت 49 { ہٰذَا ذِکْرٌط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”یہ ایک ذکر ہے ‘ اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے۔“
Read the full tafseer →55 یعنی اللہ کے انعامات صرف نبیوں اور پیغمبروں تک محدود نہیں بلکہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو اچھا ٹھکانا ملے گا۔ اگرچہ ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات میں فرق ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
50۔ جنتوں کے دروازے جنتیوں کے انتظارواشتیاق میں پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے، انہیں کسی انتظار یا تقاضہ کی نوبت نہ آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →ھذا ذکر وان للمتقین لحسن ماب یہ ایک نصیحت کا مضمون تو ہوچکا اور پرہیزگاروں کیلئے آخرت میں اچھا ٹھکانہ ہے۔
ھٰذَا یہ یعنی مقدم الذکر واقعات انبیاء ان کیلئے ایک شرف تھا ‘ یا یہ قرآن جو پڑھا جا رہا ہے ‘ ایک حسین یاد دہانی ہے۔
انبیاء اور ان کے راستہ پر چلنے والے تمام لوگوں کے متعلق آگے فرمایا کہ تقویٰ والوں کیلئے بہترین لوٹنے کا مقام (اور انجام) ہے ‘ یعنی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(48۔ 51) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجیے ذوالکفل ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک قوم کی ذمہ داری اور ضمانت لے لی تھی پھر اس کو پورا کیا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ایک چیز کا عہد کرلیا تھا پھر اس کو پورا کیا اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو انبیاء کرام کی ذمہ داری لے لی تھی ان کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے نجات دی اور یہ نیک آدمی تھے نبی نہیں تھے یہ سب اللہ کے نزدیک پسندیدہ لوگوں میں سے تھے نیک لوگوں کا تذکرہ تو ہوچکا یا یہ مطلب ہے کہ اس قرآن کریم میں اولین و آخرین کا ذکر ہے اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا…
Read the full tafseer →ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ : یعنی یہ تو ایک نصیحت انبیاء کے بیان میں ہوئی، اب عام متقین کا انجام سنو ! یقیناً ان کے لیے بہت اچھا ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔
حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔
2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…
Read the full tafseer →ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ [یہ ایک یاد دہانی ہے ] وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ [اور بیشک تقوی اختیار کرنے والوں کے لئے ] لَحُسْنَ مَاٰبٍ [یقینا ٹھکانے کا حسن ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ ایک یاد دہانی ہے۔ یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موعظت ہیں اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانہ خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ (تدبر قرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر
( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔
گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–64
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل…
Read the full tafseer →ھٰذَا ذِكْرٌ 0 ۭ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ 49ۙ
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ،
( ذک ر ) الذکر
۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…
Read the full tafseer →ھٰذَا ذِکْرٌ ط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 49)
(یہ یاد دہانی ہے، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے۔ )
ایک اہم بات کی طرف توجہ
چند عظیم القدر انبیائے کرام کے ذکر کے بعد نہایت اہم بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی کمزوری یہ ہے کہ عظیم شخصیتوں کے تذکروں سے وہ محظوظ تو ہوتا ہے لیکن سبق بہت کم سیکھتا ہے۔ بڑے لوگوں کے واقعات سن لینا بجائے خود ایسی نیکی ہے جس پر اکتفا کرلیا جاتا ہے۔ اور یا یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ بڑے لوگ تھے ان کی باتیں بھی بڑی ہیں، ان کے کارنامے بھی بڑے ہیں۔ ہم اگر ان کی نقل کرنا بھی چاہیں تو ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اس کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد ان کے جدّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور کچھ دوسری شخصیات کا مختصر بیان۔
سورة ہود کی آیت 71 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ جس طرح یہ حضرات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ان میں یکساں طور پر ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ یہ حضرات ہاتھوں اور آنکھوں والے…
Read the full tafseer →متقین کو ملنے والی جنت کی تفاصیل :
49: ھٰذَا ذِکْرٌ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ (یہ ایک نصیحت کا مضمون تو ہوچکا اور پرہیز گاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے) ھذا سے مراد مرتبہ اور اچھا تذکرہ جس سے ان کو یاد کیا جاتا رہے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ عمدہ لوٹنے کی جگہ ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اچھائی سے انکاتذکرہ جاری رہے گا اور آخرت میں وہ رب جلیل کی مغفرت کو پائیں گے۔
فائدہ : پھر اس لوٹنے کے مقام کی خوبی و حسن کو ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →49، ھذاذکر، یہ جو تمہارے اوپر تلاوت کیا جاتا ہے یہ مقدم الذکر واقعات انبیاء کے لیے ایک شرف ہے یا یہ قرآن جو پڑھا جارہا ہے ایک حسین یاددہانی ہے۔ ، وان للمتقین لحسن ماب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–64
49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…
Read the full tafseer →آیت 49
یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے ‘ کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا ‘ ان کو کامل ترین احوال ‘ بہترین اعمال و اخلاق ‘ قابل تعریف اوٹاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔ (ھذا) ” یہ “ یعنی انبیاء ومرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو (ذکر) ” نصیحت حاصل کریں ‘ اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف رکیہ اور ثنائے حسن کی مچرٹت حاصل ہو جن اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ا کی قسم ہے ‘ یعنی اہل خیر کا تذکرہ اہل خیر اور اہل شر کی جز او سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
65 ایک عظیم الشان ذکر اور یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک عظیم الشان ذکر اور یاددہانی ہے "۔ جو ان پاکیزہ ہستیوں کے تذکرے سے دنیا کو نصیب ہوئی ہے۔ سو یہ محض کوئی ماضی کے قصے نہیں جو یونہی سنا دیے گئے ہوں بلکہ یہ ان قدسی صفت حضرات کے تذکرے اور ان کی زندگیوں کے چشم کشا حالات ہیں جن میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اور جو اللہ پاک کی اس کتاب عظیم میں آجانے کے بعد ہمیشہ کے لئے باقی رہیں گے۔ اور دوسرا ذکر ان کی ان نعمتوں کا ہے جو ایسی پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کے لئے آخرت میں ہوں گی۔ اور جو ابدی اور سدا بہار ہوں گی۔ (جامع، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو یہ محض ماضی کے قصے نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے
تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 5” عدن “ کے معنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت میں ایک محل کا نام بھی ہے اس لئے جنات عدن کا مطلب ہمیشہ رہنے کے باغ بھی ہوسکتا ہے اور عدن کے باغ بھی۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(38:49) ھذا ذکر۔ (1) ھذا : اشارۃ الی ما تقدم من اموروہم یعنی یہ اشارہ ہے مقدم الذکر واقعات انبیاء کی طرف۔ ذکر۔ شرف لہم۔ (جو) ان کے لئے ایک شرف تھا۔ (بیضاوی۔ علامہ پانی پتی (رح))
(3) ھذا ذکر۔ یہ ہے ذکر۔ یعنی جو طریقہ مندرجہ بالا اخیار نے حرزجان بنا رکھا تھا شرف و عزت حاصل کرنے کا وہی طریقہ ہے۔
(4) ذکر کو تمام کرنے کے لئے عرب میں ھذا کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس بات کو یاد رکھو۔ یا اصل بات یہ ہے (تفسیر حقانی)
اسی معنی میں ہے ذلک للانتقال من نوع من الکلام الی اخر۔ (روح المعانی) ایک نوع کلام سے دوسری نوع کی طرف انتقال کے وقت یہ لکھ دیتے ہیں۔ اس کی مثال آگے چل کر اسی سورت کی آیت 55 میں ہے۔ متقین کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔
(ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
انبیاء سب سے بہتر ہوتے ہیں
1: قرآن حکیم نے منصب نبوت کو ان معنوں میں پیش فرمایا ہے ۔ کہ نام ہے فضیلت وخیر کے آخری نقطہ ارتقاء کا پیغمبر وہ ہے جو انسانیت کے لئے پورا پورا نمونہ ہو جو جسم وروح کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کا توازن پیش کرنے والا ہو جس میں انسان کو وہ سب کچھ مل جائے جس کا وہ خواستگار ہو جو کردار اور سیرت کے لحاظ سے دوسرے کے لئے لائق اطاعت وتقلید ہو ۔ اور جس کے چہرہ انور میں ہر نوع کی تابانی ہو یعنی کل من الانبیاء کا صاف مفہوم ہے کہ تمام پیغمبر خیر محض ہوتے ہیں ۔ ان میں ان جلو وں کی کثرت وفراوانی ہوتی ہے ۔ جن کا تعلق کمالات انسانی سے ہے ۔ اور یہ اپنے زمانے اور ماحول کی مناسبت سے تمام…
Read the full tafseer →(49) یہ ایک نصیحت کا مضون تھا جو ہوچکا اور یقینا متقیوں اور پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھرجانے کا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن کریم ایک نصیحت ہے یا یہ کہ انبیاء کا تذکرہ ایک نصیحت کا مضمون تھا جو ختم ہوا بلا شبہ جو لوگ متقی اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے ایک اچھی بازگشت ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
ف 7۔ مراد قصص انبیاء ہے کہ مکذبین کے لئے اس میں اثبات ہے مسئلہ نبوت کا، اور مصدقین کے لئے اس میں تعلیم ہے۔ اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی۔
Read the full tafseer →یہ تذکار بطور نصیحت ہیں کہ نیک لوگوں کا ٹھکانا بہت عمدہ ہے
49۔ ان سب انبیاء و رسل کا ذکر دنیا کے انسانوں کے لیے اور خصوصا مسلمانوں کے لیے ان کی پاکیزہ زندگیوں کی یاد کو تازہ کرتا ہے اور ان کے اسوہ حسنہ سے ان کو راہنمائی حاصل ہوتی ہے بلاشبہ یہ سب لوگ پرہیزگار تھے جن کا ٹھکانا بہت عمدہ ہے اور ان کی پاکیزہ زندگیاں انسانوں کی ہمیشہ راہنمائی کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں اگر کوئی شخص ان سے راہنمائی حاصل کرنا چاہے ان کے اخروی انعامات کا تذکرہ آنے والی آیتوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
The Prophet: (al-Yasa`: Elisha) (علیہ السلام)
In verse 48, it was said: وَالْيَسَعَ (and [ remember ] al-Yasa`). Sayyidna al-Yasa (علیہ السلام) is a prophet from among the prophets of Bani Isra'il, peace be upon them all. He has been mentioned in the Qur'an only at two places, once in Surah Al-An` am and then, here in Surah Sad. No details have been mentioned at any of the two places, rather his name appears there as part of a list of the blessed prophets.
Historical chronicles report that he is a cousin of Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) and was his deputy. He lived in his company and was made…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
50 The Prophet AI-Yas`a has been mentioned only twice in the Qur'an, in Surah Al-An'am: 86 and here, without any detail about him; only his name appears in the chain of the Prophets. He was one of the major Prophets of Israel, belonged to Abel Meholah, a place on the river Jordan, and is well known as Elisha among the Jews and Christians. When the Prophet Elijah (peace be upon him) had taken refuge in the Sinai peninsula, he was commanded to return to Syria and Palestine for some important works, one of which was to prepare the Prophet Elisha for his successorship. Accordingly, when the…
Read the full tafseer →