Explained with ayahs 45–48
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة صٓ 50
قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام آیت 86 میں۔ دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء میں سے تھے۔ دریائے اُردُن کے کنارے ایک مقام ایبل محولہ (Abel Meholah) کے رہنے والے تھے۔ یہودی اور عیسائی ان کو اِلِیشَع (elisha) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت الیاس ؑ جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزیں تھے، ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس آنے کا حکم دیا گیا، جن میں سے ایک کام یہ تھا یہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ اس فرمان کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
حضرت الیسع ؑ
والیسع (اور الیسع ؑ کو یاد کرو) حضرت الیسع ؑ بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہم السلام) میں سے ہیں اور قرآن کریم میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں۔ دونوں میں سے کسی جگہ آپ کے تفصیلی حالات مذکور نہیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں صرف آپ کا اسم گرامی شمار کرایا گیا ہے۔
تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی ہیں اور حضرت الیاس ؑ کے نائب اور خلیفہ تھے، انہی کی رفاقت میں رہتے تھے، ان کے بعد آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 91 اور سلاطین دوم باب 2 وغیرہ میں آپ کے تفصیلی حالات بیان کئے گئے ہیں۔ وہاں آپ کا…
Read the full tafseer →واذاکرا اسمعیل والیسع وذا لکفل وکل من الاخیار (48)
ذو اکفل کا ذکر سورة انبیاء آیت 85 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ان کا ذکر حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کے ساتھ آیا ہے اور ان تمام انبیاء کا مشترک وصف صبر مذکور ہوا ہے۔ یہاں حضرت اور دین کی جگہ، لیسع کا نام ہے۔ السیع سے ملتے جلتے تو رات میں دو نبیوں کے نام ہیں۔ ایک الشیع جن کا زمانہ 713 قبل مسیح باتیا جاتا ہے، دوسرے ایسیاہ جن کا زمانہ 620 قبل مسیح مذکو رہے۔ ذو الکفل سے متعلق ہم سورة انبیاء میں اپنیی رائے عرض کر چیک ہیں۔ سیاق کلام یہاں بھی صبری کے ذکر کا ہے یہ وصف یوں تو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا مشترک وصف ہے لیکن یہ انبیاء اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
48۔ 1 یسع ؑ کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے ذوالکفل کے لئے دیکھئے (وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ) 21۔ الانبیاء :85) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–61
24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وانھم۔۔۔ الاخیار (38: 47) ” اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے “۔ نیز اللہ تعالیٰ تصریح فرماتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تم لوگ ان کی روحانی صحبت میں رہو۔ ان کے صبر ومصابرت کو یاد کرو ، اور آخر کار ان پر جو فضل وکرم ہوا ، اس کی امید رکھو۔ اور تمہاری قوم کی طرف سے جو تکذیب ہو رہی ہے اور اس پر تمہیں جو اذیت ہورہی ہے اس کو برداشت کرو۔ کیونکہ تمام رسولان کرام کا طریقہ صبر اور مصابرت کا ہے۔ اور رسولوں کے بعد بھی تمام دعوتوں کا طریقہ بھی صبر کا ہے اور ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صبر کرنے والے بندوں پر رحم وکرم کرتا ہے۔ ان کو قوت اور اقتدار عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
7 حضرت اسماعیل اور ذوالکفل کا ذکر پہلے گزر چکا اور " الیسع " کہتے ہیں کہ حضرت الیاس کے خلیفہ تھے ان کو بھی اللہ نے نبوت عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →آیت 48 { وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِط وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ } ”اور ذکرکیجیے اسماعیل علیہ السلام الیسع علیہ السلام اور ذوالکفل علیہ السلام کا ‘ یہ سب بھی بہت عمدہ لوگوں میں سے تھے۔“
حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل ﷺ کے بارے میں آج ہمیں یقینی معلومات میسر نہیں۔ سورة الانبیاء آیت 85 کی تشریح کے ذیل میں مولانا مناظر احسن گیلانی رح کا یہ خیال نقل کیا گیا تھا اور مجھے اس سے کسی حد تک اتفاق ہے کہ قرآن میں ذو الکفل علیہ السلام کے نام سے جس پیغمبر کا ذکر ہوا ہے وہ دراصل گوتم بدھ تھے۔ ان کا اصل نام سدھارتا تھا۔ ”گوتم بدھ“ یا ”گو تمابدھا“ ان کا لقب تھا جو بعد میں مشہور ہوا۔ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
54 الیسع اور ذوالکفل کا ذکر :۔ سیدنا اسماعیل تو معروف ہیں اور ان کا ذکر قرآن میں بہت جگہ آیا ہے۔ الیسع سیدنا الیاس کے نائب اور خلیفہ تھے ان کا سلسلہ نسب چوتھی پشت پر جاکر سیدنا یوسف سے جا ملتا ہے۔ بعد میں آپ کو نبوت بھی عطا ہوئی تھی۔ آپ کا حلقہ تبلیغ شام کا علاقہ تھا۔ اور ذوالکفل ان کے خلیفہ کا لقب ہے نام نہیں۔ اور ذوالکفل کا معنی صاحب نصیب ہے۔ آپ کا نام بشیر ہے اور سیدنا ایوب کے بیٹے تھے۔ آپ الیسع کے خلیفہ تھے بعد میں نبی ہوئے شام کا علاقہ ہی آپ کی تبلیغ کا مرکز رہا۔ عمالقہ شاہ وقت بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ آپ نے اس سے بنی اسرائیل کو آزاد کرایا پھر وہ بادشاہ بھی مسلمان ہوگیا اور حکومت آپ…
Read the full tafseer →49۔ (نہ کہ جیسا ان کے دشمنوں نے انہیں بدنام کرکے اسرائیلی نوشتوں میں لکھ دیا ہے) اسمعیل (علیہ السلام) پر حاشیہ سورة البقر (پ 1) میں اور الیسع پر سورة الانعام (پ 7) میں اور ذوالکفل پر سورة الانبیاء (17) میں گزر چکا۔ الیسع میں ال تعریف کا ہے اصل اسم یسع پر داخل ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →واذکر اسمعیل والیسع و ذا الکفل وکل من الاخیار اور ذکر کرو اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کا ‘ سب سے اچھے لوگوں میں سے تھے۔ الیسع ‘ اخطوب کے بیٹے تھے ‘ بنی اسرائیل نے ان کو اپنا سردر بنا لیا تھا (سب پر حکومت کرتے تھے) پھر اللہ نے نبی بھی بنا دیا۔
ذوالکفل حضرت الیسع کے چچا زاد بھائی تھے ‘ یا بشر بن ایوب کے بیٹے تھے ‘ آپ کی نبوت کے متعلق اختلاف ہے (کوئی آپ کو نبی کہتا ہے ‘ کوئی صرف مرد صالح اور اللہ کا ولی۔ مترجم) ذوالکفل لقب ہوجانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے سو آدمی ان کے پاس آگئے ‘ آپ نے ان کو پناہ دی اور ان کی ذمہ داری لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک نیک آدمی تھا ‘ روزانہ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(48۔ 51) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجیے ذوالکفل ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک قوم کی ذمہ داری اور ضمانت لے لی تھی پھر اس کو پورا کیا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ایک چیز کا عہد کرلیا تھا پھر اس کو پورا کیا اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو انبیاء کرام کی ذمہ داری لے لی تھی ان کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے نجات دی اور یہ نیک آدمی تھے نبی نہیں تھے یہ سب اللہ کے نزدیک پسندیدہ لوگوں میں سے تھے نیک لوگوں کا تذکرہ تو ہوچکا یا یہ مطلب ہے کہ اس قرآن کریم میں اولین و آخرین کا ذکر ہے اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ : ”الْمُصْطَفَيْنَ“ ”مُصْطَفٰی“ کی جمع ہے، جو باب افتعال سے اسم مفعول ہے اور اصل میں ”مُصْتَفٰی“ ہے، صاد کی وجہ سے تاء کو طاء میں بدل دیا ”چُنے ہوئے۔“ ”الْاَخْيَارِ“ ”خَیْرٌ“ کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اصل میں ”أَخْیَرُ“ ہے، اس لیے اس کی جمع ”الْاَخْيَارِ“ آئی ہے ”سب سے بہتر لوگ۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔
حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا پھر آپ کی اولاد کا ذکر فرمایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی جمع کا صیغہ اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے عبادت میں قوت والا ” والابصار “ سے…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ [اور آپ ﷺ یاد کریں ] اِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ [اسمعیل (علیہ السلام) کو اور الیسع (علیہ السلام) کو اور ذوالکفل (علیہ السلام) کو ] وَكُلٌّ [اور وہ سب ] مِّنَ الْاَخْيَارِ [بہت خیر والوں میں سے تھے ] ۔
Read the full tafseer →حضرت اسماعیل حضرت الیسع اور ذوالکفل کا تذکرہ
ان کے بعد حضرت اسماعیل اور حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل کا تذکرہ کرنے کا حکم فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ سب اچھے بندے تھے، ان حضرات کا تذکرہ سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے نیز سورة الانعام کے رکوع (وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَآ اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ) کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے۔
(ھٰذَا ذِکْرٌ) یعنی یہ جو کچھ بیان ہوا ایک نصیحت کی چیز ہے جس کو یاد رکھنا چاہیے اور اس کے مقتضاء پر عمل کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔
گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–64
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ اِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ 0 ۭ وَكُلٌّ مِّنَ الْاَخْيَارِ 48ۭ
ذو
ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ
[ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…
Read the full tafseer →وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْـکِفْلِ ط وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ ۔ (صٓ: 48)
(اور ذکر کرو اسماعیل، الیسع اور ذوالکفل کا، ان میں سے ہر ایک اخیار میں سے تھے۔ )
مزید انبیاء کا تذکرہ اور تعارف
جس سلسلۃ الذہب کی عظیم کڑیاں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) تھے، اسی سلسلہ کے قابل فخر ارکان حضرت اسماعیل، حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل (علیہم السلام) بھی تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تو معروف شخصیت تھے۔ البتہ باقی دو بزرگ شخصیتوں کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو مرتبہ آیا ہے لیکن کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ صاحب تفہیم القرآن نے ان پر دو مختصر نوٹ لکھے ہیں ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد ان کے جدّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور کچھ دوسری شخصیات کا مختصر بیان۔
سورة ہود کی آیت 71 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ جس طرح یہ حضرات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ان میں یکساں طور پر ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ یہ حضرات ہاتھوں اور آنکھوں والے…
Read the full tafseer →48: وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ (اور تذکرہ کریں اسماعیل اور یسع (علیہما السلام) کا) الف لام جو کہ حرف تعریف ہے معلوم ہوتا ہے۔ کہ وہ یسع پر داخل کیا گیا ہے۔ وَذَا الْکِفْلِ وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ (اور ذوالکفل کا بھی یہ سب اچھے لوگوں میں سے تھے)
نحو : کُلٌّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے ای کُلّھمْ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
46، انا اخلصناھم، ہم نے آپ کو ان کے لیے چنا۔ ، بخالصۃ ذکری الدار، قراء اہل مدینہ نے ، بخالصۃ، اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات اس کو اضافت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں وہ اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے آخرت کے گھر کو خالص کردیا کہ اسی کے لیے ہم خالص کریں۔ وذکری بمعنی ذکر کے ہے۔ مالک بن دینا کا قول ہے کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور یا دنکال دی اور آخرت کی یاد محبت کے لیے ان کر مخصوص کردیا۔ قتادہ نے ان کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ وہ آخرت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف تبلیغ دیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ آخرت کا ڈررکھنے کے لیے ان کو مخصوص…
Read the full tafseer →48۔ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ الیسع حضرت الیاس کو کہتے ہیں لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کس لئے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس اور الیسع کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔ اور بعضے مفسروں نے یہ لکھا کہ الیسع خضر کو کہتے ہیں یہ قول بھی کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں ہوتا صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے جس کو شاہ عبد القادر صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے کہ الیسع حضرت الیاس کے خلفیہ تھے یہ قول حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور وہب بن منبہ تابعی کا ہے یہ وہب بن منبہ حسن بصری کے رتبہ کے ثقہ تابعیون میں ہیں ذوالکفل کے نبی ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف ہے یہاں تک کہ حضرت ابوموسیٰ 3 ؎ اشعری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت 45
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذ کر عبدنا) ” ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے “ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا (ابرھیم) ” ابرھیم “ خلیل اللہ (و) ” اور “ ان کے بیٹے (اسحق و) ” اسحاق اور “ ان (ابراھیم) کے پوتے (یعقوب اولی الیدی) ” یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔ “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ( والالصار) اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا (انا اخلصنھم بخالصۃ) ” بیشک ہم نے نھیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔ “ یعنی بہت بڑی خالص صفت کیساتھ جو کہ (ذکری ادار) ” آخرت کی یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
65 ایک عظیم الشان ذکر اور یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک عظیم الشان ذکر اور یاددہانی ہے "۔ جو ان پاکیزہ ہستیوں کے تذکرے سے دنیا کو نصیب ہوئی ہے۔ سو یہ محض کوئی ماضی کے قصے نہیں جو یونہی سنا دیے گئے ہوں بلکہ یہ ان قدسی صفت حضرات کے تذکرے اور ان کی زندگیوں کے چشم کشا حالات ہیں جن میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اور جو اللہ پاک کی اس کتاب عظیم میں آجانے کے بعد ہمیشہ کے لئے باقی رہیں گے۔ اور دوسرا ذکر ان کی ان نعمتوں کا ہے جو ایسی پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کے لئے آخرت میں ہوں گی۔ اور جو ابدی اور سدا بہار ہوں گی۔ (جامع، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو یہ محض ماضی کے قصے نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے
تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 4 حضرت بسع ( علیہ السلام) کا ذکر سورة ٔ انعام ( آیت 86) میں اور حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا ذکر سورة انبیاء ( آیت 85) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
(38:47) المصطفین الاخیار۔ المصطفین اسم مفعول جمع مذکر المصطفی واحد۔ اصطفاء (افتعال) مصدر ص کے بعد کے تاء کو طاء سے بدل دیا گیا ہے۔ صفو مادہ۔ برگزریدہ۔ منتخب۔ الاخیار خیر کی جمع ۔ خیر صفت مسبہ کا صیغہ ہے۔ نیک لوگ : یونی (یہ ہمارے نزدیک) بہترین برگزیدہ (بندوں) میں سے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →(ف 1) یہ قرآن شریف جس میں پہلے انبیاء اور پہلی امتوں کے قصے ہیں ان سے لوگوں کی نصیحت پکڑنی چاہے تاکہ نیکی اور بدی کا انجام لوگوں کی سمجھ میں آئے، اور حضرت اسماعیل اور ذوالکفل کا ذکر پہلے گذرچکا ہے اور الیسع حضرت الیاس کے خلیفہ تھے ان کو بھی اللہ نے نبوت عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
انبیاء سب سے بہتر ہوتے ہیں
1: قرآن حکیم نے منصب نبوت کو ان معنوں میں پیش فرمایا ہے ۔ کہ نام ہے فضیلت وخیر کے آخری نقطہ ارتقاء کا پیغمبر وہ ہے جو انسانیت کے لئے پورا پورا نمونہ ہو جو جسم وروح کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کا توازن پیش کرنے والا ہو جس میں انسان کو وہ سب کچھ مل جائے جس کا وہ خواستگار ہو جو کردار اور سیرت کے لحاظ سے دوسرے کے لئے لائق اطاعت وتقلید ہو ۔ اور جس کے چہرہ انور میں ہر نوع کی تابانی ہو یعنی کل من الانبیاء کا صاف مفہوم ہے کہ تمام پیغمبر خیر محض ہوتے ہیں ۔ ان میں ان جلو وں کی کثرت وفراوانی ہوتی ہے ۔ جن کا تعلق کمالات انسانی سے ہے ۔ اور یہ اپنے زمانے اور ماحول کی مناسبت سے تمام…
Read the full tafseer →(48) اور اے پیغمبر آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب بھی اچھے اور بہترین لوگوں میں سے تھے - حضرت الیسع (علیہ السلام) حضرت الیاس (علیہ السلام) کے خلیفہ اور نائب ہیں پھر بعد کو نبی ہوئے اور حضرت الیسع کے چچا زاد بھائی ذوالکفل ہیں ان کی نبوت میں اہل علم کو اختلاف ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مشہور اور اولوالعزم نبی ہیں ان سب کو اس لئے یاد دلایا کہ یہ سب بڑے صابر اور ضابط تھے اور اصبر علی مایقولون کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا، یا دوسری مصلحتوں کی بنا پر ان کا ذکر فرمایا ہو کہ اس قدر بڑے مرتبے والے بھی دارآخرت کی یاد میں منہمک تھے تو عرب کے منکر اس سے کیوں غفلت برت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 6۔ یعنی منتخب لوگوں میں سے بھی سب سے بڑھ کر۔
Read the full tafseer →اسماعیل ، الیسع اور ذو الکفل بھی پسندیدہ لوگوں میں سے تھے
48 ۔ اسماعیل (علیہ السلام) تو وہی ہیں جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادے اور اسحٰق (علیہ السلام) کے بھائی تھے جس طرح اسحٰق (علیہ السلام) بنو سارہ کہلائے اسماعیل (علیہ السلام) بنو حاجرہ کہلائے اور الیسع (علیہ السلام) کے نسب نامہ کو اس طرح بیان کیا گیا کہ الیسع بن عدی بن شوتم بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب بن اسٰحق بن ابراہیم اور یہ وہی ہیں جن کا نام تورات میں یسعیاہ کہا گیا ہے لیکن تورات میں ان کو عمومی کا بیٹا لکھا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیسع حضرت الیاس (علیہ السلام) کے نائب تھے اول عمر میں انہی کے ساتھ رہے اور الیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
The Prophet: (al-Yasa`: Elisha) (علیہ السلام)
In verse 48, it was said: وَالْيَسَعَ (and [ remember ] al-Yasa`). Sayyidna al-Yasa (علیہ السلام) is a prophet from among the prophets of Bani Isra'il, peace be upon them all. He has been mentioned in the Qur'an only at two places, once in Surah Al-An` am and then, here in Surah Sad. No details have been mentioned at any of the two places, rather his name appears there as part of a list of the blessed prophets.
Historical chronicles report that he is a cousin of Sayyidna Ilyas (علیہ السلام) and was his deputy. He lived in his company and was made…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
50 The Prophet AI-Yas`a has been mentioned only twice in the Qur'an, in Surah Al-An'am: 86 and here, without any detail about him; only his name appears in the chain of the Prophets. He was one of the major Prophets of Israel, belonged to Abel Meholah, a place on the river Jordan, and is well known as Elisha among the Jews and Christians. When the Prophet Elijah (peace be upon him) had taken refuge in the Sinai peninsula, he was commanded to return to Syria and Palestine for some important works, one of which was to prepare the Prophet Elisha for his successorship. Accordingly, when the…
Read the full tafseer →