Explained with ayahs 49–54
صالحین کے لئے اجر۔
نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
سورة صٓ 53
ہم سِن بیویوں کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–64
وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔
زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے
اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ھذا وان للطغین لشرماب (55)
لاغیوں کی سزا
یعنی ایک طرف متقیوں کے لئے یہ نعمتیں اور نوازشیں ہوں گی اور دوسری طرف طاغیوں اور سرکشوں کے لئے نہایت برا ٹھکانا ہوگا۔ طاغیوں سے مراد ہی لوگ ہیں جن کا ذکر شروع سورة میں ببل الذین کفروافی عذۃ و شقاق سے ہوا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ کی یاد دہانی سے خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور اللہ کے رسول سے جھگڑتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52۔ 1 یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے حد سے بڑھنے والی نہیں ہونگی۔ اَتْرَاب تِرْب کی جمع ہے، ہم عمر لا زوال حسن و جمال کی حامل (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–61
24: حضرت الیسع ؑ کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة انعام : 86 میں۔ دونوں جگہ آپ کا صرف نام مذکور ہے، کوئی مفصل واقعہ بیان نہیں فرمایا گیا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنو اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے، اور حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 19 میں آپ کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل ؑ کا بھی دو جگہ صرف ذکر آیا ہے، ایک یہاں اور دوسرے سورة انبیاء : 85 میں۔ بعض مفسرین نے انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نبی نہیں تھے، ولی اللہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
درس نمبر 213 تشریح آیات
آیت نمبر 49 تا 64
درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1 یعنی غیر منقطع اور لازوال نعمتیں ہیں جن کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ " رزقنا اللہ منہا یفضلہ وکرمہ فانہ اکرم الاکرمین وارحم الراحمین "
Read the full tafseer →آیت 53 { ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ } ”یہ کچھ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے حساب کے دن کے لیے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
58 غساق کا لغوی مفہوم :۔ غساق کا معنی عموما پیپ یا بہتی پیپ کرلیا جاتا ہے جس میں خون کی بھی آمیزش ہو جبکہ صاحب منجد، فقہ اللغہ اور منتہی الارب سب نے اس کے معنی انتہائی ٹھنڈا اور بدبودار پانی بتائے ہیں۔ قرآن میں دو مقامات پر غساق کا لفظ حمیم کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ایک اس مقام پر اور دوسرے سورة نبا کی آیت نمبر 25 میں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار پانی ہی کرنا زیادہ مناسب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
52۔ (آیت) ” لرزقنا “۔ میں رزق کی اضافت اپنی جانب کرنا اظہار تکریم و فضائل کیلئے ہے، یعنی یہ خاص ہمارا عطیہ ہوگا۔ جسے کسی طرح فنا وزوال نہیں۔ جتنا چاہوکھاؤ پیو۔ جس قدر چاہوصرف کرو، اڑاؤ، ان نعمتوں کے ذخیرے کم ہی نہ ہونے پائیں گے تو ان کین ختم ہونے کا ذکر ہی کیا، جنت کی نعمتیں جس طرح مقدار میں بےنہایت اور تعداد میں بیشمار وعدد ہوتی ہیں، اسی طرح ہر نعمت ابدی دائمی اور غیر منقطع بھی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →ھذا ما تو عدون لیوم الحساب (اے مسلمانو ! ) یہ وہ (نعمت) ہے جس کا روز حساب آنے پر تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
قٰصِرٰتُ الطَّرْف یعنی ایسی عورتیں جن کی نگاہیں شوہروں کے سوا دوسروں پر نہ پڑیں گی (یعنی ان کی نگاہ آوارہ نہ ہوگی) ۔
اَتْرَاب یہ ترب کی جمع ہے ‘ ہم عمر ‘ سب کی عمر 33 سال کی ہوگی۔ مجاہد نے کہا : سب آپس میں بہنوں بہنوں کی طرح ہوں گی ‘ یہاں کی سوکنوں کی طرح ان میں جلن نہ ہوگی نہ حسد ہوگا۔
لِیَوْمِ الْحِسَاب لام اجلیہ ہے ‘ حساب کے دن کی وجہ سے ہی تو مذکورہ نعمتوں تک رسائی ہوگی یا لام بمعنی فِیْ ہے یعنی روز حساب میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(52۔ 53) اور جنت میں ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی ہم عمر حوریں ہوں گی اور یہ وہ نعمتیں ہیں جس کا تم سے دنیا میں قیامت کے آنے پر وعدہ کیا جارہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ : یعنی جن کی نظریں اپنے خاوندوں سے آگے بڑھنے والی نہیں ہوں گی۔ ”اَتْرَابٌ“ ”تِرْبٌ“ کی جمع ہے جو ”تُرَابٌ“ (مٹی) سے مشتق ہے، ہم عمر جو بچپن میں مل کر مٹی کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں۔ یعنی وہ بیویاں خاوندوں کی ہم عمر اور ہم مزاج ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔
حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔
2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔…
Read the full tafseer →ھٰذَا مَا [یہ وہ ہے جو ] تُوْعَدُوْنَ [تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ] لِيَوْمِ الْحِسَابِ [حساب کتاب کے دن کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ) (ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ انعام و اکرام جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ حساب کے دن یعنی قیامت کے روز تمہیں یہ چیزیں دی جائیں گی اہل جنت کو خوش کرنے کے لیے یہ بھی کہا جائے گا کہ (اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَہٗ مِنْ نَّفَادٍ ) (بلاشبہ یہ ہمارا رزق ہے جس کے لیے ختم ہونا نہیں ہے یعنی یہ رزق ہمیشہ رہے گا کبھی چھینا نہ جائے گا اور کم نہ ہوگا۔ سورة ہود میں فرمایا (عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ) (بخشش ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے) اور اہل ایمان کے لیے (فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ) بھی فرمایا ہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کٹنے والا یعنی ختم ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔
گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–54
39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–64
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل…
Read the full tafseer →ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ 53
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ ۔ مُتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ۔ وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۔ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ ۔ (صٓ: 50 تا 54)
(ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی۔ یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ )
حسن مآب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
فہم القرآن
ربط کلام : متقین کو جہاں رکھا جائے گا اس کی سہولیات اور انعامات کا مختصر بیان۔
متقین کے لیے ہمیشہ ہمیش کے باغات اور محلات ہوں گے۔ جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جنت کی حوریں اور نعمتیں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ یہ ہر زبان میں ایک محاورہ بھی ہے۔ جو مہمان کے لیے میزبان کی طرف سے بولا جاتا ہے کہ آپ جب آنا چاہیں ہمارے دروازے ہر وقت آپ کے لیے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جنتی جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے اور ان کے کھانے پینے کے لیے کثیر تعداد میں ہر قسم کے پھل اور مشروبات ہوں گے جس میں شراب طہور بھی ہوگی، جنہیں جنتی طلب فرمایں گے جو فی الفور…
Read the full tafseer →53: ھٰذَا مَاتُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ (یہ وہ ہے جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا ہے)
قراءت : مکی اور ابوعمرو نے یوعدون یاء سے پڑھا ہے۔ یوم حساب سے مراد جس دن ہر نفس کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر 53۔ ، ھذاماتوعدون، ابن کثیر نے یوعدون یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة ق میں بھی ۔ ابوعمر ونے اس سورت میں ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی آپ کہہ دیجئے مؤ منین سے ، یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ، لیوم الحساب ، یعنی حساب کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–64
49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
آیت 50
( جنت عدن) یعنی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہنے والے باغات ‘ جن کے کمال اور جن کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا۔ (مفتحۃ لھم الابواب) یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے ‘ ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہوگی ‘ بلکہ انکی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن وامان ہوگا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہوگی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
(متکئین فیھا) وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے (یدعون فیھا) یعنی وہ اپنے خدام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
70 جنت کی نعمتیں دائمی اور ابدی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک یہ ہماری وہ بخشش و عطا ہوگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی "۔ سو یہ جنت کی اور دنیا کی نعمتوں کا ایک بنیادی فرق ہے کہ وہاں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی جب کہ یہاں کی نعمتیں سراسر فانی اور زوال پذیر ہیں۔ بہرکیف اہل جنت کے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے اس روز ان سے کہا جائے گا کہ " یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " کہ وہ حساب کے دن تم لوگوں کو عطا کی جائیں گی۔ سو وہ اب تمہارے لیے حاضر و موجود ہیں۔ اللہ نے تم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے اور یہ جو کچھ تم لوگوں کو دیا جا رہا ہے اس میں کسی طرح کی کمی یا زوال کا کوئی خدشہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے
تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ف 9 یہ فرشتوں کا کلام ہے جو وہ دوزخیوں کے سرداروں سے اس وقت کہیں گے جب وہ دوزخ میں داخل ہو رہے ہوں گے اور باہران کے تابعدار کھڑے ہوں گے۔
10 یہ دوزخیوں کے سرداروں کا کلام ہے جو وہ اپنے تابعداروں کے متعلق کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(38:53) ھذا۔ اشارہ ہے ان نعمتوں کی طرف جو اوپر بیان ہوئیں۔
توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر وعد (باب ضرب) مصدر سے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ لیوم الحساب میں لام اجلیہ ہے حساب کے دن کی وجہ سے ہی تو مذکورہ نعمتوں تک رسائی ہوی۔ یا لام بمعنی فی ہے یعنی روز حساب میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔
(ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–68
[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔
[20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
اہل جنت
2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ…
Read the full tafseer →(53) یہ ہے وہ انعام جس کا تم سے یوم حساب کے لئے وعدہ کیا گیا تھا۔ یعنی یوم حساب کے سلسلے میں جن نعمتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا یہ وہ نعمتیں یہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
ف 7۔ مراد قصص انبیاء ہے کہ مکذبین کے لئے اس میں اثبات ہے مسئلہ نبوت کا، اور مصدقین کے لئے اس میں تعلیم ہے۔ اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی۔
Read the full tafseer →یہ وہی چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ حساب کے روز تم کو ملیں گے
53۔ اہل جنت کو جنت میں یہ سارے انعامات ان کی خواہشات کے مطابق دینے کے بعد ان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ تم کو جو دیا گیا ہے اس وعدہ کے مطابق ہے جو وعدہ تم سے دنیوی زندگی میں دینے کا کیا گیا تھا مطلب یہ ہے کہ جو وعدہ ہم نے تم سے کیا تھا وہ پورا ہوا یا نہیں ہوا ؟ یقینا پورا ہوا اور اس وعدہ کے مطابق یہ سارے انعامات تم پر کیے گئے اور اس وعدہ کے پورا کیے جانے کی خبر بھی تم کو اس زندگی میں دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–64
In verse 52, it was said: وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ (and in their company there will be females restricting their glances ] to their husbands, and[ of matching ages.). Meant by these are the Hurs or Houris of Jannah (referred to, fondly enough for some people, even as 'nymphs of Paradise' ). Being of matching ages could mean that they will be of the same age as among themselves. And it could also mean that they will be of the same age as their spouses. In the first situation, if they were of the same age, the good thing. about it would be that they would be relating to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
53 "Wives of equal age" may mean that they will be of equal age among themselves, and also that they will be of the same age as their husbands.
Read the full tafseer →