Explained with ayahs 45–48
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی…
Read the full tafseer →سورة صٓ 48
اصل الفاظ ہیں اولی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ (ہاتھوں والے اور نگاہوں والے)۔ ہاتھ سے مراد، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں، قوت وقدرت ہے۔ اور ان انبیاء کو صاحب قوت وقدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت با عمل لوگ تھے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے، اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں۔ نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔ وہ حق ہیں اور حقیقت شناس لوگ تھے۔ دنیا میں اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔ ان…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کو یاد کیجئے جو ہاتھوں (سے عام کرنے) والے اور آنکھوں (سے دیکھنے) والے تھے (یعنی ان میں قوت عملیہ بھی تھی اور قوت علمیہ بھی اور) ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا کہ وہ یاد آخرت کی ہے (چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ انبیاء میں یہ صفت سب سے زیادہ تام اور کامل ہوتی ہے، اور شاید یہ جملہ اس لئے بڑھا دیا ہے کہ اہل غفلت کے کان ہوں کہ جب انبیاء اس فکر سے خالی نہ تھے تو ہم کس شمار میں ہیں) اور وہ (حضرات) ہمارے یہاں منتخب اور سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں (یعنی منتخب لوگوں میں بھی سب سے بڑھ کر، چناچہ ظاہر ہے کہ انبیاء، دوسرے اولیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
وخذبیدک ضعثا فاصرب بہ ولاتحنث، انا وجدنہ صابراً نعم العبد انہ اداب (44)
حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس کی ذمہ داری سے بریت
اس دور ابتلاء میں معلوم ہوتا ہے حضرت ایوب کے دل میں کوئی ایسا خیال گزرا جو صبر اور انابت الی اللہ کے منافی تھا اس پر اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے انہوں نے یہ قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو اتنے کوڑے ماروں گا کوڑوں کی تعداد مذکورہ نہیں ہے۔ حضرت ایوب کا یہ عہد اگرچہ ان کی خشیت اور محبت الٰہی کا نتیجہ تھا لیکن بندوں کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ن اورا مصیبت میں ڈالیں اگرچہ وہ خدا کی خونشودی ہی کے لئے ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ذمہ داری سے ان کو بری…
Read the full tafseer →45۔ 1 یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی و علمی نصیرت میں ممتاز تھے بعض کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام و احسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
23: حضرت ایوب ؑ کی اہلیہ کو ایک مرتبہ شیطان نے اس طرح ورغلایا کہ وہ ایک طبیب کی شکل میں ان کے سامنے آیا، یہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، انہوں نے اس کو واقعی طبیب سمجھ کر اس سے کہا کہ میرے شوہر کا اعلاج کردو، وہ تو شیطان تھا، اس نے کہا کہ اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر تمہارے شوہر کو شفا ہوگئی تو تمہیں یہ کہنا ہوگا کہ اس طبیب نے انہیں شفا دی ہے۔ یہ خاتون چونکہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، اس لیے ان کے دل میں اس کی بات ماننے کا میلان پیدا ہوا، اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ؑ کو بڑا رنج ہوا کہ شیطان نے ان کی اہلیہ تک رسائی حاصل کرلی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 45 تا 48
یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص اور حضرت سلیمان سے قبل تھے لیکن حضرت ایوب کے دور کے بارے میں ہمیں یقینی معلومات نہیں ہیں۔ ذوالکفل کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بارے قرآن کریم میں صرف اشارات ہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ نبی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا نام عبرانی میں الشیع آتا ہے۔ یہی عربی میں السیع ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ترجیح دیتے ہیں۔ رہے ذوالکفل تو ان کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات نہیں ہیں۔
اولی الایدی والابصار (38: 45) ” بڑی قوت رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے عمل صالح کرنے والے اور نظریاتی اعتبار سے فکر…
Read the full tafseer →5 یعنی عمل اور معرفت والے جو ہاتھ پاؤں سے بندگی کرتے اور آنکھوں سے خدا کی قدرتیں دیکھ کر یقین و بصیرت زیادہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 45 { وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ } ”اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم علیہ السلام ‘ اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کا ‘ جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔“
Read the full tafseer →52 یعنی یہ تینوں پیغمبر اپنی پوری قوت سے دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور معصیت کے کاموں سے بچتے رہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات میں اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں غور و فکر کرتے اور بصیرت حاصل کرتے تھے وہ حقیقت شناس تھے۔ اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے۔ بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔
Read the full tafseer →46۔ یعنی قوت عملی کے بھی مالک تھے اور قوت علمی کے بھی ..... انبیاء کرام عموما اپنے تمام قوائے علمی ونظری، عملی، جسمی کے لئے ممتاز رہے ہیں۔ (آیت) ” عبدنا “۔ اضافت تشریف و تکریم کی ہے، اور عبدیت خالصہ وخاصہ پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” الایدی والابصار “۔ دونوں اپنے مطلق مفہوم میں ہیں، اور ہر قسم کی قدرت اور ہر قسم کی بینائی کو شامل ہیں، جو شایان بشر اور سزاوار پیغمبر ہو۔ بعض نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ صاحب قوت تھے، نفس اور شیطان اور شیطانی قوتوں کے مقابلہ میں، اور صاحب بصیرت تھے۔ نفس اور فعل اور قلب اور روح کے معاملات میں، اور بعض نے اعمال ظاہری وباطنی کی جامعیت مراد لی ہے۔ اے اولی الاعمال الظاہرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →واذکر عبدنا ابرھیم واسحق و یعقوب الی الایدی والابصار اور تذکرہ کرو ہمارے (خاص) بندوں
کا یعنی ابراہیم کا اور اسحاق و یعقوب کا ‘ جو ہاتھوں والے (بھی) تھے اور آنکھوں والے (بھی) ۔
ابراہیم و اسحاق و یعقوب ‘ عبادٰناکا عطف بیان ہے۔ اولی الایدی یعنی اطاعت خداوندی میں مستعد و طاقتور اور دین و معرفت الٰہیہ میں بصیرت مند تھے۔ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور مجاہد نے یہی تشریح کی ‘ اطاعت اور بدنی اعمال کی تعبیر لفظ ایدی (ہاتھ) سے کی ‘ کیونکہ ہاتھوں سے اکثر اعمال کئے جاتے ہیں اور ابصار سے معرفت خداوندی کی تعبیر کی ‘ کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی میں قوی ترین ذریعہ ہیں (خلاصہ یہ کہ تینوں حضرات عملی اور علمی قوتوں…
Read the full tafseer →اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) کو یاد کیجیے جو عبادت الہی میں بہت طاقت والے اور دین میں بہت بصیرت والے تھے۔
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ : پہلے تین انبیاء کے تفصیلی ذکر کے بعد چند انبیاء کا اجمالی ذکر فرمایا۔ ”الایدی“ ”یَدٌ“ کی جمع ہے، جو عربی زبان میں نعمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور قوت کے معنی میں بھی۔ اس لحاظ سے ان انبیاء کے ”اُولِي الْاَيْدِيْ“ (ہاتھوں والے) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بڑی قوت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے۔ ”وَالْاَبْصَارِ“ (آنکھوں) کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد دینی بصیرت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کے بارے میں یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سوکوڑے ماریں گے اس کے سبب کے بارے میں چار اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے حکامیت بیان کی ہے کی ابلیس ایک طبیب کی صورت میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا جس نے حضت ایوب علیہ السما کے علاج معالہ کے لئے اسے دعوت دی تو ابلیس نے کہا : میں اس کا اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب وہ صحت مند ہوجائے تو وہ یہ کہے : تو نے مجھے شفا دی ہے ‘ اس کے سوا میں اس سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا بیوی نے اس بارے میں حضرت ایوب (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ میں ضرور اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا پھر آپ کی اولاد کا ذکر فرمایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی جمع کا صیغہ اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے عبادت میں قوت والا ” والابصار “ سے…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ [اور آپ ﷺ یاد کریں ہمارے بندوں کو ] اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ [ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسحاق (علیہ السلام) کو اور یعقوب (علیہ السلام) کو ] اُولِي الْاَيْدِيْ [جو قوت والے تھے ] وَالْاَبْصَارِ [اور بصیرت والے تھے ] ۔
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں اول چند حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اجمالی تذکرہ فرمایا اس کے بعد متقیوں کا انعام بیان فرمایا جو باغوں اور ہم عمر بیویوں اور مطعومات اور مشروبات کی صورت میں دیا جائے گا۔
ارشاد فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کو یاد کیجیے یعنی ابراہیم اور ان کے بیٹے اسحاق اور ان کے بیٹے یعقوب کو یاد کیجیے ان حضرات کی نبوت کا تذکرہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آچکا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تو بہت جگہ آیا ہے توحید کی دعوت کے سلسلہ میں ان کا تکلیفیں اٹھانا آگ میں ڈالا جانا کافروں اور مشرکوں سے مباحثہ کرنا، اللہ تعالیٰ کا حکم ملنے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔
گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
38:۔ ” واذکر عبدنا الخ “۔ یہ چوتھی نقلی دلیل ہے ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کرو جو ظاہری اعمال طاعت اور باطنی علوم اوردینی بصیرت میں کامل تھے۔ ” اولی الایدی والابصار “ اولی القوۃ فی الطاعۃ والبصیرۃ فی الدین او اولی الاعمال الجلیلۃ والعلوم الشریفۃ (ابو السعود جلد 7 ص 209) ۔ ہم نے ان کو یاد آخرت کے لیے خاص کردیا اور ان کی تمام تر توجہ اللہ کی اطاعت اور عبادت اور اس کی رضا جوئی پر مرکوز تھی گویا وہ ہر وقت آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے تو جن کا اپنا یہ حال ہو بھلا وہ شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مقبول، برگزیدہ اور نیک بندے تھے لیکن شفیع غالب نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
(بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ)
گذشتہ درس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) ان کے صبر اور پھر ان کے انعامات کا ذکر ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں بعض دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ابرھیم واسحق ویعقوب “۔ اور آپ ذکر کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور یعقوب (علیہ السلام) آپ نے پوتے ہیں ، یہ سارے ہی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں گذشتہ آیات میں مذکورہ انبیاء کی طرح اس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ اُولِي الْاَيْدِيْ وَالْاَبْصَارِ 45
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ،
( ذک ر ) الذکر
۔ یہ کبھی تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…
Read the full tafseer →وَاذْکُرْ عِبٰـدَنَـآ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ۔ (صٓ: 45)
(اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو جو قوت اور بصیرت رکھنے والے تھے۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت کے لیے چند عظیم پیغمبروں کا تذکرہ
جس مقصد کو نمایاں کرنے کے لیے حضرت دائود، حضرت سلیمان اور حضرت ایوب (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا گیا، اسی حوالے سے چند عظیم پیغمبروں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اسرائیلی سلسلہ رشد و ہدایت کے اصلی ستون ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تو اپنے دور کی دنیا میں امامت کا منصب حاصل رہا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بیٹے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد ان کے جدّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور کچھ دوسری شخصیات کا مختصر بیان۔
سورة ہود کی آیت 71 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ جس طرح یہ حضرات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ان میں یکساں طور پر ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ یہ حضرات ہاتھوں اور آنکھوں والے…
Read the full tafseer →آخرت سے غافل بےبصیرت ہے :
45: وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ (اور ہمارے بندوں کا ذکر کرو)
قراءت : عبدنا مکی نے پڑھا ہے۔
اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ (ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا )
فائدہ : جنہوں نے جمع پڑھا انہوں نے ابراہیم اور مابعد کو عبادنا کا عطف بیان قرار دیا اور جنہوں نے واحد پڑھا انہوں نے صرف ابراہیم کو عطف بیان مان کر پھر ان کی اولاد کو عبدنا پر عطف بنا لیا۔
وجہ : اکثر اعمال کی انجام دہی ہاتھوں سے ہوتی ہے تو ان کو تغلیباً ذکر کردیا۔ ہر عمل کے متعلق کہا جاتا ہے ھذا مماعملت ایدیہم خواہ ایسا کام ہو جس میں براہ راست ہاتھ کا دخل نہ ہو۔ یا کام کرنے والے مجذوم ہوں کہ ان کے…
Read the full tafseer →45، واذ کرعبادنا، ابن کثیر نے عبدناپڑھا ہے۔ واحد کا صیغہ ہے اور دوسرے قراء نے عبادنا پڑھا۔ ، ابراھیم واسحاق و یعقوب اولی الا یدی، ابن عباس ؓ کا قول ہے قوت والے ہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں۔ ، والا بصار، اس سے مراد معرفت خداوندی کی تعبیر کی کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی میں قوی ترین ذریعہ ہیں۔ قتادہ اور مجاہد کا قول ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو عبادت میں قوت دی اور دین میں ان کو بصیرت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45۔ 47۔ اوپر ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے فرمایا تھا کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمان مشرکین مکہ کی ایذا دہی پر صبر کریں گے تو ان کا انجام بھی اچھا ہوگا۔ اسی مطلب کے لئے اب ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام یاد دلایا کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر لوگوں کی ہدایت اور عقبے کی نصیحت کے لئے چنا تھا۔ انہوں نے بھی دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلیں اور صبر کیا۔ اے رسول اللہ کے تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان صبر سے کام لیویں گے تو وقت مقررہ آنے پر ان مشرکوں کی ساری سرکشی خاک مل جاوے گی۔ اور جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور نسل ابراہیمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت 45
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذ کر عبدنا) ” ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے “ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا (ابرھیم) ” ابرھیم “ خلیل اللہ (و) ” اور “ ان کے بیٹے (اسحق و) ” اسحاق اور “ ان (ابراھیم) کے پوتے (یعقوب اولی الیدی) ” یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔ “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ( والالصار) اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا (انا اخلصنھم بخالصۃ) ” بیشک ہم نے نھیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔ “ یعنی بہت بڑی خالص صفت کیساتھ جو کہ (ذکری ادار) ” آخرت کی یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →62 حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ذکر کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا " ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا بھی ذکر کرو جو بڑی قوتوں والے اور دیدہ ور تھے "۔ کہ وہ حسی اور جسمانی قوتوں کے علاوہ ایمانی، اخلاقی اور ایقانی قوتوں کے بھی مالک تھے اور اپنی فکر و نظر کو اللہ پاک کی معرفت و اطاعت میں صرف کرنے والے۔ اور قدرت نے اپنی فیاضیوں سے انکو قوت اور بصیرت کی دونوں نعمتوں سے بطور خاص نوازا تھا۔ اور یہ بات اپنی جگہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ ظاہری قوت کے ساتھ اگر بصیرت اور باطن کی پاکیزگی شامل نہ ہو تو انسان ایک ایسا خطرناک جانور بن جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے بھی عذاب بن جاتا ہے اور دوسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے
تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →ف 2 ید ( جمع ایدی) کا لفظ عربی زبان میں نعمت اور طاقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ان انبیاء ( علیہ السلام) کے ہاتھوں والے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی بڑی طاقت رکھتے تھے یا ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے جن کے ذریعے وہ لوگوں پر احسان کیا کرتے تھے۔” آنکھوں “ کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان سے مراد دینی بصیرت اور معرفت الٰہی ہے۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(38:45) واذکر عبدنا ۔۔ الخ اس کا عطف واذکر عبد نا ایوب پر ہے۔ اور یاد کر ہمارے بندوں کو۔۔
ابراہیم واسحق و یعقوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا بدل ۔
اولی الایدی والابصار۔ ہاتھوں والے اور آنکھوں والے۔ الایدی القوۃ سے مجاز مرسل ہے۔ سبب کو ذکر کرکے مسبب مراد لیا گیا ہے (اکثر اعمال ہاتھوں ہی سے کئے جاتے ہیں اور مضبوط ہاتھ ہی قوت کا سبب بنتے ہیں)
ابصار جمع بصر کی ہے بمعنی آنکھ لیکن یہاں مراد بصیرت لی گئی ہے کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی کا بہترین ذریعہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ تینوں بندے اللہ کے خاص بندے اطاعت خداوندی میں مستعد اور طاقت ود اور دین و معرفت الٰہیہ میں صاحب بصیرت تھے یعنی عملی اور علمی قوتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–64
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی)
تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
(ف 2) اے محبوب ﷺ قرآن میں ہمارے مقبول بندوں، سچے رسولوں کا ذکر کرو، حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم کہ یہ لوگ اپنے زمانوں میں بڑے قوت والے اللہ کی عبادت میں اور بڑے عمدہ سمجھ والے امور دین ویقین میں گزرے ہیں ہم نے ان کو خاص ایک ہی بات کے لیے خالص کرلیا تھا، دوسری چیز کی طرف التفات ہی نہ کرتے تھے وہ ذکر آخرت اور ذکر خدا یعنی سوائے یاد خدا اور ذکر آخرت کے دنیا کی طرف توجہ ہی نہ رکھتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے اس لیے ان کے ہاتھ پیروں کی عبادت ان کے دلوں کا نور ایمانی سب کچھ اللہ کی مرضی کے موافق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔
حضرت ایوب (علیہ السلام)
قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور…
Read the full tafseer →(45) اور اے پیغمبر ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہاتھوں سے بندگی کرتے اور آنکھوں سے قدرتیں دیکھ کر یقین زیادہ کرتے۔ یعنی قوت عملیہ اور علمیہ میں کمال رکھتے تھے اور علم وعمل میں کامل تھے آگے اور ان کی خوبیاں فرمائیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی ان میں قوت عملیہ بھی تھی اور قوت علمیہ بھی۔
Read the full tafseer →ہمارے بندوں میں ابراہیم ، اسحٰق اور یعقوب کا ذکر کیجیے جو صاحب عمل تھے
45۔ زیر نظر آیت میں تین رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ تینوں باپ ، بیٹا اور پوتا ہیں اور تینوں کے بارے میں ایک ہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ وہ ہاتھوں والے اور صاحب بصیرت تھے۔ ہاتھ سے مراد ہماری زبان میں قوت وقدرت لی جاتی ہے اور ہاتھوں والا ہونے کا مطلب سب جانتے ہیں کہ صاحب قوت وقدرت ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو نبی و رسول بھی بنایا اور صاحب طاقت و قوت اور قدرت بھی کہ وہ اپنے دور میں صاحب جاہ و جلال تھے اور صاحب اولاد بھی۔ یہ تو ان کی دنیوی طاقت وقدرت تھی اور دینی لحاظ سے نبی و رسول ہونا خود اس بات کی دلل ہے کہ گناہوں سے…
Read the full tafseer →Commentary
The expression: أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ(translated as: men of strength and men of vision) literally means 'owners or possessors of hands and eyes.' The sense is that they devoted their physical and intellectual energies in remaining obedient to Allah Ta’ ala. When this is said, a hint is being released to the fact that the real end use of human body parts is no other but that they are spent or utilized in obedience to the Divine commands, and the those parts of the body that are not utilized in it, their existence or non-existence remains equal.
Read the full tafseer →48 The actual words in the Text mean "Those who possessed the hands and the insights." The hand, as we have explained above, implies power and capability. To describe these Prophets as "men of great power and insight" means that they were practical men: they possessed great power to obey Allah and to abstain from sin, and they had made great efforts for raising the Word of Allah in the world. "Insight" does not mean eye-sight but the vision of the heart and mind. They could sec and recognize the Truth: they did not live like the blind in the world, but they walked the straight path of…
Read the full tafseer →