Explained with ayahs 41–44
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔
حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد…
Read the full tafseer →سورة صٓ 46
ان الفاظ پر غور کرنے سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر کسی کو مارنے کی قسم کھالی تھی، (روایات یہ ہیں کہ بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی) اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرما دی اور حالت مرض کا وہ غصہ دور ہوگیا جس میں یہ قسم کھائی گئی تھی، تو ان کو یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ قسم پوری کرتا ہوں تو خواہ مخواہ ایک بےگناہ کو مارنا پڑے گا، اور قسم توڑتا ہوں تو یہ بھی ایک گناہ کا ارتکاب ہے۔ اس مشکل سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح نکالا کہ انہیں حکم دیا، ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے…
Read the full tafseer →(آیت) وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا۔ (تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو) اس واقعہ کا پس منظر اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ یہاں اس واقعہ سے متعلق چند مسائل درج کئے جاتے ہیں۔
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کو سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور بعد میں سو قمچیاں الگ الگ مارنے کے بجائے تمام قمچیوں کا ایک گٹھا بنا کر ایک ہی مرتبہ مار دے تو اس سے قسم پوری ہوجاتی ہے۔ اسی لئے حضرت ایوب ؑ کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہی امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ لیکن جیسا کہ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ اس کے لئے دو شرطیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس شخص کے بدن پر ہر قمچی طولاً یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
وخذبیدک ضعثا فاصرب بہ ولاتحنث، انا وجدنہ صابراً نعم العبد انہ اداب (44)
حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس کی ذمہ داری سے بریت
اس دور ابتلاء میں معلوم ہوتا ہے حضرت ایوب کے دل میں کوئی ایسا خیال گزرا جو صبر اور انابت الی اللہ کے منافی تھا اس پر اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے انہوں نے یہ قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو اتنے کوڑے ماروں گا کوڑوں کی تعداد مذکورہ نہیں ہے۔ حضرت ایوب کا یہ عہد اگرچہ ان کی خشیت اور محبت الٰہی کا نتیجہ تھا لیکن بندوں کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ن اورا مصیبت میں ڈالیں اگرچہ وہ خدا کی خونشودی ہی کے لئے ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ذمہ داری سے ان کو بری…
Read the full tafseer →44۔ 1 بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب ؑ نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائیگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
23: حضرت ایوب ؑ کی اہلیہ کو ایک مرتبہ شیطان نے اس طرح ورغلایا کہ وہ ایک طبیب کی شکل میں ان کے سامنے آیا، یہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، انہوں نے اس کو واقعی طبیب سمجھ کر اس سے کہا کہ میرے شوہر کا اعلاج کردو، وہ تو شیطان تھا، اس نے کہا کہ اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر تمہارے شوہر کو شفا ہوگئی تو تمہیں یہ کہنا ہوگا کہ اس طبیب نے انہیں شفا دی ہے۔ یہ خاتون چونکہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، اس لیے ان کے دل میں اس کی بات ماننے کا میلان پیدا ہوا، اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ؑ کو بڑا رنج ہوا کہ شیطان نے ان کی اہلیہ تک رسائی حاصل کرلی…
Read the full tafseer →وخذبیدک ضغثا فاضرب به ولا تحنث (38: 44) ” تنکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے ماردے ، اپنی قسم بہ توڑ “۔ یہ سہولت ان کو اس لیے دی گئی کہ اس عظیم امتحان میں انہوں نے اللہ کی منشاء کے مطابق صبر کیا اور اطاعت شعار بندے کے طور پر رہے اور آخر میں اللہ ہی سے التجا کی۔
انا وجدنه۔۔۔ اواب (38: 44) ” ہم نے اسے صابر پایا۔ بہترین بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا “۔
یہ تین قصص تو قدرے تفصیل سے ذکر ہوئے۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی موجود مشکلات پر صبر کریں۔ اب رسولوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ انکے قصص میں بھی آزمائشیں اور صبر کے واقعات ہیں اور ان پر بھی اللہ کے انعامات اور فضل…
Read the full tafseer →4 حضرت ایوب نے حالت مرض میں کسی بات پر خفا ہو کر قسم کھائی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی عورت کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ وہ بی بی اس حالت کی رفیق تھی اور چنداں قصور وار بھی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے قسم سچی کرنے کا ایک حیلہ ان کو بتلا دیا جو ان ہی کے لیے مخصوص تھا۔ آج اگر کوئی اس طرح کی قسم کھا بیٹھے تو اس کے پورا کرنے کے لیے اتنی بات کافی نہ ہوگی (تنبیہ) جس حیلہ سے کسی حکم شرعی یا مقصد دینی کا ابطال ہوتا ہو وہ جائز نہیں۔ جیسے اسقاط زکوٰۃ وغیرہ کے حیلے لوگوں نے نکالے ہیں۔ ہاں جو حیلہ حکم شرعی کو باطل نہ کرے بلکہ کسی معروف کا ذریعہ بنتا ہو اس کی اجازت ہے۔ والتفصیل یطلب من مظانہ۔
Read the full tafseer →آیت 44 { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ } ”اور تم لے لو اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک ُ مٹھا ‘ تو اس سے ایک ضرب لگا دو ‘ اور قسم نہ توڑو !“
حضرت ایوب علیہ السلام کسی موقع پر اپنی بیوی سے ناراض ہوئے تو آپ علیہ السلام نے غصے میں قسم کھالی کہ آپ علیہ السلام انہیں سو کوڑے ماریں گے۔ اب جب کہ آپ علیہ السلام صحت مند ہوگئے تو آپ علیہ السلام فکر مند تھے کہ اب قسم پوری کرنے کی کیا ترکیب کریں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی راہنمائی کرتے ہوئے ایک طریقہ بتادیا کہ آپ علیہ السلام سو تنکے لے کر ان کو باندھ کر ایک جھاڑو سا بنا لیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح آپ…
Read the full tafseer →51 سیدنا ایوب کا اپنی بیوی کو سزا دینا :۔ آپ کی طویل بیماری (جو صحیح روایات کے مطابق 13 سال پر محیط ہے) کے دوران آپ کی سب بیویاں اور اولاد آپ کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ کیونکہ تنگدستی بھی تھی اور بیماری بھی۔ آپ کی صرف ایک بیوی نے اس طویل عرصہ میں آپ کا ساتھ دیا۔ اس بیوی نے بھی ایک دن کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے اللہ کی ناشکری ظاہر ہوتی تھی۔ سیدنا ایوب کو بیوی کی اس بات پر طیش آگیا اور کہنے لگے کہ جب میں تندرست ہوگیا تو تمہاری اس ناشکری کی بات کی پاداش میں تمہیں سو لکڑیاں ماروں گا۔ اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ ہر دکھ درد میں آپ کی شریک بیوی سے اگر کوئی ایسی بات نکل بھی گئی ہو تو وہ اتنی قصور وار نہ تھی…
Read the full tafseer →44۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے حالت مرض میں، جوش غیرت دین میں آکر قسم کھالی تھی کہ بعد صحت اپنی نافرمان اور کمزور عقیدہ والی بیوی کو سو تازیانے لگائیں گے، اب آپ خاص رعایت وکرم کے مورد قرار پائے، اور حق تعالیٰ نے بطور خاص آپ کے لیے یہ راہ کشائش کی پیدا کردی۔ لیکن یہ خصوصیت تنہا حضرت ایوب (علیہ السلام) کی تھی۔ اس سے عامہ مومنین کے لیے قسم کے پوری طرح پوری نہ کرنے کا جواز نہیں نکل آتا۔ آئمہ سلف اور فقہاء مفسرین سب نے اس کی تصریح کردی ہے۔” اس طرح سے قسم پورا ہوجانا یہ مخصوص تنہا حضرت ابویوب (علیہ السلام) کے ساتھ، اب اگر کوئی قسم کھاوے تو بدون معنی متبادر کے واقع کیے ہوئے قسم پوری نہ ہوگی۔ البتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث اور تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو۔
ضغث مٹھی بھر درخت کی ٹہنیاں یا گھاس ‘ یعنی ایک مٹھا سینکوں کا ہاتھ میں لے کر اپنی بیوی کے مارو اور اپنی قسم پوری کرلو۔ حضرت ایوب نے قسم کھائی تھی کہ بیوی کے سو (100) کوڑے ماریں گے (ا اللہ نے قسم پوری کرنے کیلئے آپ کو یہ سہولت دی) آپ نے حسب الحکم اذخر (مرچیاگند) وغیرہ کی سو شاخیں لیں اور مٹھا بنا کر ایک بار بی بی کے مار دیا ‘ اس طرح آپ کی قسم پوری ہوگئی۔
انا وجدنہ صابرا (ان کب جو جانی ‘ مالی اور عیالی دکھ پہنچا تھا) ہم نے (اس دکھ پر) ان کو صابر پایا۔
یہ جملہ عطاء صحت اور موہبت مال و…
Read the full tafseer →اور یہ بھی کہا کہ اے ایوب ایک سو سینکوں کی جھاڑو لو اور اپنی بیوی رحمتہ بنت یوسف کو اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو کیونکہ ان کی بیوی نے ایک ایسی بات کہی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا تھا اس پر حضرت ایوب نے قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی تو میں اس کو سو کوڑے ماروں گا۔ بیشک ہم نے ان کو تکالیف پر بڑا صابر پایا بہت اچھے بندے تھے اور اللہ کی اطاعت کی طرف بہت رجوع کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ : اس کا عطف اس سے پہلے پر ہے۔ لفظ ”عَبْدَنَآ“ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے تعلق کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سورت میں مذکور قصّوں میں سے یہ تیسرا قصّہ ہے کہ داؤد اور سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور دونوں کی آزمائش کا ذکر فرمایا اور ایوب ؑ پر آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور انھیں دور کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، مقصد سب سے عبرت دلانا ہے۔
اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ : ”نُصْبٌ“ تھکاوٹ اور مشقت کو کہتے ہیں اور ”وَّعَذَابٍ“ شدید بدنی تکلیف کو۔ یعنی مجھے دو قسم کی تکلیف پہنچی ہے، ایک شدید دکھ جو مال و اولاد اور عافیت نہ رہنے کی وجہ سے تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کے بارے میں یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سوکوڑے ماریں گے اس کے سبب کے بارے میں چار اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے حکامیت بیان کی ہے کی ابلیس ایک طبیب کی صورت میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا جس نے حضت ایوب علیہ السما کے علاج معالہ کے لئے اسے دعوت دی تو ابلیس نے کہا : میں اس کا اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب وہ صحت مند ہوجائے تو وہ یہ کہے : تو نے مجھے شفا دی ہے ‘ اس کے سوا میں اس سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا بیوی نے اس بارے میں حضرت ایوب (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ میں ضرور اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا امتحان :
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب، اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “ (اور ہمارے بندہ ایوب کا تذکرہ کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) یعنی آپ کے اہل و عیال اور مال سب پر چھا گئے اور وہ تکلیف جو ان کو ان کے جسم میں پہنچی فرمایا اسی تکلیف میں سات سال اور کچھ مہینے مبتلا رہے آخر کو بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ پر ڈالدیا گیا، مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے آپ کے جسم میں پھرتے رہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ تکلیف دور کردی اور ان کے لئے اجر کو عظیم بنایا اور آپ کو خوبصورتی بھی…
Read the full tafseer →وَخُذْ بِيَدِكَ [اور آپ (علیہ السلام) پکڑیں اپنے ہاتھ میں ] ضِغْثًا [ایک مٹھی گھاس ] فَاضْرِبْ بِّهٖ [پھر آپ (علیہ السلام) ماریں اس سے ] وَلَا تَحْــنَثْ ۭ[اور آپ (علیہ السلام) قسم مت توریں ] اِنَّا وَجَدْنٰهُ [بیشک ہم نے پایا ان (علیہ السلام) کو ] صَابِرًا ۭ [صبر کرنے والا ] نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ [کیا ہی اچھا بندہ ] اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ [بیشک وہ بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔
ح ن ث
(س) حنثا (1) باطل کی طرف مائل ہونا۔ نافرمانی کرنا۔ (2) قسم توڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 44 ۔
حنث نافرمانی۔ گناہ۔ وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ (اور وہ لوگ اڑتے تھے اس بڑے گناہ پر) 56/46
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور دعا اور شفایابی کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء اور امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کا ذکر ہے سورة الانبیاء رکوع نمبر 6 میں بھی ان کا یہ تذکرہ گزر چکا ہے قرآن مجید میں ان کے واقعہ کا اجمالی ذکر ہے تفصیلی حالات جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں گریں تو انہیں جمع کرنے لگے (جیسا کہ ہم عنقریب ہی پوری حدیث ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دکھ تکلیف کے تفصیلی حالات اور مدت ابتلاء اور دیگر امور سے متعلق بعض چیزیں حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
قصہ سوم حضرت ایوب (علیہ السلام) ومناجات ببارگاہ رب العالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب ...... الی ....... نعم العبد انہ اواب “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ابتلا وآزمائش کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک قصہ بیان کیا جارہا ہے جس میں ان کے ابتلا اور آزمائش میں صبر و استقامت کا بیان ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر بیماری و تکلیف اور فقر وفاقہ میں بھی کیسے صابر رہے اور جب انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو کسی طرح رحمت خداوندی سے انکی تمام تکالیف دور کرکے انعامات اور رحمتوں سے نوازا گیا اس واقعہ کا ذکر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →37:۔ ” وَ خُذْ الخ “۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کی بیوی نے جب طبیب (شیطان) والا قصہ ان سے بیان کیا اور اپنی طبیعت کا رجحان ظاہر کیا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ناراض ہو کر قسم کھالی کہ اللہ نے اگر مجھے صحت عطا فرمائی تو میں تجھے ایک سو چھڑی ماروں گا لیکن ان کی بیوی کا جذبہ ایثار و خدمت، اس کی وفا داری اور مصیبت میں پیغمبر (علیہ السلام) کی مخلصانہ خدمت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھی اس لیے اللہ نے محض اپنی مہربانی سے قسم کو پورا کرنے کا یہ حیلہ بتایا کہ پتلی پتلی سو شاخوں کا ایک مٹھا اٹھا کر اس کے مار دو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی اور تم حانث نہیں ہوگے۔ تمثل الشیطان لھا فی صورۃ ناصحاو مداو وعرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات :
حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔
(ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا…
Read the full tafseer →وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْــنَثْ 0 ۭ اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا 0 ۭ نِعْمَ الْعَبْدُ 0 ۭ اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ 44
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ترکیب : واذکر جملۃ مستانفۃ بنصب قرء الجمہور بضم النون و سکون الصاد فقیل ھو جمع نصب بفتحتین کا سدوا سد وقیل لا وقال ابو عبیدۃ ان النصب بفتحتین التعب و الاعیاء و علی بقیۃ القرأت الشر و البلاء۔
واذکر عبدنا ایوب یہ تیسرا قصہ صبر دلانے کے لیے حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ہے۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوئے تو شیطان نے ان کی بیوی سے کہا میں طبیب ہوں، اگر ایوب کو شفا ہوجاوے تو کہنا میں نے شفا دی۔ (احمد) اس بات کی ایوب ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتے ہیں کہ اس نے مجھے دکھ دیا۔ حکم ہوا کہ پائوں مار اس کے مارنے سے سرد چشمہ نمودار ہوا جس میں نہانے سے وہ تندرست ہوگئے اور ان کی مردہ اولاد زندہ ہوگئی اور…
Read the full tafseer →وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلاَ تَحْنَثْ ط اِنَّا وَجَدْنٰـہُ صَابِرًا ط نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 44)
(اور ہم نے اس سے کہا) اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے، پھر اس سے مار دے اور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اس کو نہایت صابر پایا، بہت خوب بندہ، بیشک اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔ )
حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قسم اور اس کے کفارے کا مفہوم
اس آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کوئی قسم کھائی تھی۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ آپ کے دل میں کوئی ایسا خیال گزرا تھا جو صبر اور انابت الی اللہ کے خلاف تھا۔ اس پر پریشان ہو کر اپنے نفس کو سزا دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا شان و شکوہ بیان کرنے کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےبسی اور تکلیف کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ایوب ہمارا پسندیدہ بندہ تھا۔ اے نبی ﷺ ! ان کی بیماری اور کمزوری کا لوگوں کے سامنے تذکرہ کریں کہ انتہا درجہ کی بیماری اور کمزوری کے باوجود اس نے اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کی رضا پر راضی رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) اس قدر بیمار ہوئے کہ چلنے پھرنے سے بھی عاجز آگئے۔ مفسرین نے لکھا کہ اس دوران ان کا مال بھی تباہ ہوا اور ایک بیوی کے سوا باقی بیویاں ان سے الگ ہوگئیں۔ شدید بیماری اور شدید ترین آزمائشوں کے باوجود ایوب (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →بیوی کے متعلق حلف سے نکلنے کا طریقہ :
44: وَخُذْ (اور تم لو) اس کا ارکض پر عطف ہے۔ بِیَدِکَ ضِغْثًا (اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا) ضِغْثًاگھاس کے تنکوں کا ایک گٹھا یا ریحان کا مٹھا یا اور کسی چیز کا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ (پس اس سے مارلو اور قسم نہ توڑو ! ) انہوں نے ایام مرض میں حلف اٹھا لیا تھا کہ اپنی بیوی کو ایک سو کوڑے لگائیں گے اگر ان کو صحت یابی میسر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم سے حلال ہونے کا ایسا راستہ بتلایا جو ان کے اور ان کی بیوی کیلئے سہل ترین تھا۔ اس لئے کہ اس نے آپ کی ایام مرض میں بہت خوب خدمت کی تھی اور یہ رخصت باقی ہے۔ واجب یہ ہے کہ مضروب کو سو میں سے ہر ایک…
Read the full tafseer →44، وخذبیدک ضغثا، ایک مٹھی بھردرخت کی ٹہنیاں یاگھاس کے تنکوں کو۔ ، فاضرب بہ ولا تحنث، اپنے ہاتھ میں لیں۔ یہ جب ہوا تھا کہ جب انہوں نے اپنی زوجہ کو مارنے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ ایک مٹھی بھرگھاس لیں اور اس سے ایک مرتبہ اس کو ماریں ۔ ، انا وجدناہ صابرانعم العبدانہ اواب،
Read the full tafseer →44۔ اگرچہ علماء مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ حضرت ایوب اپنی اس بیماری میں اپنی بی بی سے کس بات پر خفا ہوگئے تھے جس خفگی میں انہوں نے اپنی بی بی کو اپنے تندرست ہوجانے کے بعد سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی لیکن صحیح سبب حضرت ایوب ؓ کی خفگی کا وہی ہے جس کی صراحت حدیث میں آئی ہے چناچہ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں چند روایتیں ہیں حضرت ایوب ؓ کی بیماری کے زمانہ میں شیطان ایک حکیم کا بھیس بدل کر ایک صندوق دواؤں کا سر راہ بیٹھا حضرت ایوب کی بی بی نے جو ایک روز اس فریبی حکیم کو دیکھا تو اس سے حضرت ایوب کا حال کہا۔ شیطان نے جواب دیا کہ اس شرط سے میں اس بیمار کا علاج کرتا ہوں کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت 41
(واذکر) ” اور یاد کرو “ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر (عبدنا ایوب) ” ہمارے بندے ایوب کا “ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدممح و ثنا کیجیے۔ جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچتی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سابنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا (اذنادٰی ربہ) جب ایوب ( علیہ السلام) نے غیر اللہ کے پاس نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا : اے میرے رب : (انی مسنی الشطن بنصب و عذاب) یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →60 حضرت ایوب (علیہ السلام) کی ایک قسم اور اس سے ان کی بریت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس سے ان کی بریت کی تعلیم و تلقین کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق اپنی بیماری کے دوران حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کسی بات پر خفا ہو کر اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھالی تھی۔ بعد میں مشکل یہ پیش آگئی کہ اگر سو کوڑے مارتے ہیں تو بلاوجہ ایک بےقصور و بےگناہ خاتون کو سزا ملتی ہے۔ اور نہیں مارتے تو حانث ہونا پڑتا ہے۔ اور ظاہر کہ یہ دونوں باتیں مشکل تھیں۔ تو اس کا حل قدرت کی طرف سے آپ (علیہ السلام) کو یہ بتلایا گیا کہ سو تنکوں کا ایک مٹھا لے کر ان کو یکبارگی ان پر مار دو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
سیدنا ایوب (علیہ السلام) کے حالات
تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً سورة ٔانبیاء میں گزر چکا ہے۔ یہاں صبر، شکر اور استغفار کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے ان کے حالات کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ آپ کو بیماری نے گھیر لیا تمام مال و اولاد برباد ہوگیا تو بھی آپ نے اللہ سے نہ گلا کیا نہ شکوہ کیا۔ بس دعا کی اور وہ بھی یوں ” کہ یا الہ ا لعٰلمین شیطان نے مجھے ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے “۔ آپ کی یہ ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ آپ کے لیے چشمہ نکال دیا جس سے نہائے اور پانی پیا اور شفایاب ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں یہ انعام دیا کہ پہلے سے زیادہ اچھی صحت پہلے سے زیادہ مال و دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت کی تاویل میں مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) نے ہماری کی حالت میں کسی وجہ سے اپنی بیوی پر ناراض ہو کر یہ قسم کھالی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں اسے سو کوڑے لگائوں گا۔ اب جو اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت یاب کیا اور بیماری کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہیں پریشانی لا حق ہوئی کہ قسم کیسے پوری ہو ؟ چناچہ اس مشکل سے اللہ تعالیٰ انہیں طرح نکالا کہ ” سو تنکوں کی ایک جھاڑو لو اور اس سے اپنی بیوی پر ایک ہی ضرب لگا دو “۔ اس طرح قسم پوری ہوجائے گی اور بیوی بھی ناروا تکلف سے بچ جائے گی۔ اس رعایت کو حضرت ابن عباس ؓ اور بعض ائمہ (رح) ( جیسے امام مالک (رح) حضرت ایوب ( علیہ…
Read the full tafseer →(38:44) ضغثا۔ خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجاویں۔ اس کی جمع اضغاث۔ وہ خواب جو ملتبس سا ہو اور اس کا مطلب واضح نہ ہو۔ اس کو اضغاث کہا جاتا ہے۔ جیسے قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ تنکوں کا مٹھا۔ جھاڑو۔
لاتحنث۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر تو قسم نہ توڑ۔ حیث یحنث حنثا قسم توڑنا۔
صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں :۔
ابتلاء و آزمائش کے اس طویل اور ہوشربا دور میں جب کہ سب لوگوں نے آپ سے منہ پھیرلیا آپ کی وفا شعار بیوی آپ کی خدمت میں سرگرم رہی۔ ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل گئی جو آپ کی غیرت ایمانی کے خلاف تھی۔ اور آپ کو سخت ناگوار گزری آپ نے فرمایا کہ میں تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نصب ( بیماری ، تکلیف ، مشقت) ارکض (ہلا کر زور سے مارو) رجل ( پاؤں) مغتسل ( نہانے کا پانی) شراب ( پینے کی چیز ، مشروب) اول الالباب ( عقل و فہم والے) ضغثا (تیلیوں یا سینکوں کا مٹھا) لاتحنث (قسم نہ توڑ)
تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ ” واصبر علی مایقولون “ یعنی جو کچھ لوگ باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے ان کی مثال بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے خوش حالی کے زمانہ میں شکر اور شدید مشکلات اور بیماریوں میں صبر کا دامن تھا مے رکھا ۔ شیطان نے ہر طرح وسوسے ڈالنے اور ان کی…
Read the full tafseer →(ف 1) حضرت ایوب (علیہ السلام) نے حالت مرض میں کسی بات پر خفا ہوکرقسم کھائی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی بی بی کو سولکڑیاں ماریں گے وہ بی بی اس حالت کی رفیق تھی اور چنداں قصور وار بھی نہ تھی ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے قسم سچا کرنے کی ایک تدبیر ان کو بتلادی کہ ایک سینکوں کا مٹھالے کر بی بی کو مارو اور قسم میں جھوٹے نہ بنو، جو ان ہی کے لیے مخصوص تھا، آج اگر کوئی اس طرح کی قسم کھابیٹھے تو اس کے پورا کرنے کے لیے اتنی بات کافی نہ ہوگی، حضرت ایوب کا صبر مشہور ہے اور ان کے صبر کی صداقت اس سے ہوتی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت ایوب (علیہ السلام) بہت اچھے بندے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلیف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔
حضرت ایوب (علیہ السلام)
قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور…
Read the full tafseer →(44) اور اے ایوب تو سینکوں کا ایک مٹھا لے لے اور اس سے اپنی بیوی کو مارلے اور اپنی قسم نہ توڑ بیشک ہم نے ایوب کو بڑا صبر کرنے والا پایا وہ ایوب اچھا بندہ تھا وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت رجوع ہونے والا تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مرض میں خفا ہوکر قسم ککھائی تھی کہ اپنی عورت کو سو لکڑیاں ماریں اگر چنگے ہوں وہ بی بی اس حال کی رفیق تھی اور بےتقصیر اللہ تعالیٰ نے قسم اس طرح سچ کروائی۔
مطلب یہ ہے کہ سو سینکوں کا مٹھ ہو یا ایک کھجور کی ٹہنی ہو کہ اس میں سو شاخیں ہوں وہ ماردو بہرحال قسم پوری ہوگئی اور نیک بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچی۔ یہ ایک حیلہ تھا جو ایوب (علیہ السلام) کو بتایا یہ ایوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 3۔ چناچہ نہائے اور پیا اور بالکل اچھے ہوگئے۔
Read the full tafseer →ہم نے کہا کہ پراگندہ لوگوں کو جمع کر کے مخالف گروہ پر اپ حملہ کردو
44۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ (ضغث) اور ( تحنث) کے آئے ہیں ان الفاظ کی بحث تو آپ کو ایوب (علیہ السلام) کی سرگزشت میں ملے گی جہاں ہم نے مفسرین کے مفہوم کی تردید کرتے ہوئے اصل اور صحیح مفہوم بھی بیان کردیا ہے اور اس آیت کا مطلب و مفہوم بھی واضح کردیا ہے۔ اس جگہ صرف وہ بات عرض کرنا ہے جو ہمارے مفسرین نے بیان کی ہے جس کا ملخص یہ ہے ” امام احمد (رح) نے کتاب الزید میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے زمانہ میں ایک بار شیطان ایک طبیب کے روپ میں ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا تھا اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر…
Read the full tafseer →In verse 44, it was said: خُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا (Take [ a bundle of ] thin twigs in your hand). This was said in the background when Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) intended to fulfill the oath he had taken. But, as his wife had taken good care of him, and had done nothing to deserve being chastised (with one hundred strokes of some stick as sworn by him), Allah Ta’ ala, in His mercy, showed him the way-out as to how he could do it symbolically and still fulfill his oath (as in khulasa-e-Tafsir of Bayan-ul-Qur’ an).
Some issues relating to legal aspects of this event are being identified…
Read the full tafseer →46 A careful study of these words shows that the Prophet Job during illness had been annoyed with somebody (according to traditions, his wife) and sworn to beat him or her by giving so many stripes. When AIlah restored him to health and the anger of the illness was gone, he became worried as how to fulfil the oath. For if he carried out the oath, he would be inflicting pain on an innocent person, and if he did not, he would be committing the sin of breaking the oath. Allah took him out of the difficult situation by the Command: "Take a broom • containing as many sticks of straw as the number…
Read the full tafseer →