Saad 38:43

Saad · from ayah 43

38:43

وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ ۟وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ رَحۡمَةً مِّنَّا وَذِكۡرٰى لِاُولِى الۡاَلۡبَابِ

اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We granted him his family and a like [number] with them as mercy from Us and a reminder for those of understanding.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:43

ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اس طرح) ہم نے انہیں ان کے گھر والے بھی عطا کردیے۔ اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی۔ تاکہ ان پر ہماری رحمت ہو، اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار نصیحت۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے برابر اور عطا فرمادیے اپنی رحمت کرنے اور عقلمندوں کی نصیحت کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اُن کو اُن کے اہل و عیال اور اُن کے ساتھ اُن کے برابر (مزید اہل و عیال) عطا کر دیئے، ہماری طرف سے خصوصی رحمت کے طور پر، اور دانش مندوں کے لئے نصیحت کے طور پر،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کردیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی، ہماری طرف سے رحمت کے لیے اور عقلوں والوں کی نصیحت کے لیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کئے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے اور بھی دیئے اور یہ اہل عقل و خرد کے لئے ایک نصیحت ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو بخشے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی اپنا فضل کرنے اور اہل عقل کی یاد دہانی کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ بھی عطا کیا اور ان ہی کے برابر ان کے ساتھ اور بھی اپنی خاص رحمت سے اور ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) کے طور پر عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا کیا اور ان کے ساتھ انہیں کے اتنے (اور بھی) اپنے رحمت خاصہ کے سبب سے اور اہل عقل کے لئے یادگار ہنے کے سبب سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے اس کے اہل و عیال بھی عطا کردیے اور ان کے ساتھ ویسے ہی (اہل و عیال) مزید بھی دیے یہ سب ہماری طرف سے رحمت کا مظہر تھا اور یاددہانی تھی ہوش مند لوگوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بھی بخشے یہ ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لیے نصیحت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We granted to him his family and also the like of them, as a mercy from Us, and as a reminder to people of understanding,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We let him have his family and the like of them besides, as a mercy from Us, and a reminder for the people of understanding.

— Muhammad Taqi Usmani

And We let him have his family and the like of them besides, as a mercy from Us, and a reminder for the people of understanding.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We bestowed on him (again) his household and therewith the like thereof, a mercy from Us, and a memorial for men of understanding.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We granted him his family and a like [number] with them as mercy from Us and a reminder for those of understanding.

— Saheeh International

We gave him back his family and doubled their number as a blessing from Us and as a reminder to the people of understanding.

— Muhammad Sarwar

And We gave him his family and the like of them with them, as a mercy from Us, and as a reminder to those possessed of understanding.

— Muhammad Habib Shakir

And We bestowed on him his household and along with them the like thereof, out of mercy from us, and a remembrance Unto men of understanding.

— Abdul Majid Daryabadi

And We gave him (back) his people, and doubled their number,- as a Grace from Ourselves, and a thing for commemoration, for all who have Understanding.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 44 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری میں حضرت ایوب کی بیوی کے سوا اور سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا حتیٰ کہ اولاد تک ان سے منہ موڑ گئی تھی۔ اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرما رہا ہے کہ جب ہم نے ان کو شفا عطا فرمائی تو سارا خاندان ان کے پاس پلٹ آیا، اور پھر ہم نے ان کو مزید اولاد عطا کی۔ سورة صٓ 45 یعنی اس میں ایک صاحب عقل آدمی کے لیے یہ سبق ہے کہ انسان کو نہ اچھے حالات میں خدا کو بھول کر سرکش بننا چاہیے اور نہ برے حالات میں اس سے مایوس ہونا چاہیے۔ تقدیر کی بھلائی اور برائی سراسر وحدہ لاشریک کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے تو آدمی کے بہترین حالات کو بدترین حالات میں تبدیل کر دے، اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–43

خلاصہ تفسیر اور آپ ہمارے بندہ ایوب ؑ کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسرین کے مطابق وہ ہے جو امام احمد نے کتاب الزہد میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب کی بیوی کو ملا تھا۔ اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب ؑ سے ذکر کیا، انہوں نے فرمایا کہ بھلی مانس وہ تو شیطان تھا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ووھبنالہ اھلہ ومتلھم معھم رحمۃ مناد ذکری الاولی الالباب (43) جسمانی آزاروں سے نجات دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال بھی ان کو پھر دیے اور ان کے ساتھ انہی کے برابر خدم و حشم بھی۔ اس ابتلاء کے دور میں ان کے آل و اولاد اور اقرباء میں سے کچھ تو بچھڑ گئے تھے، کچھ وفات پا گئے تھے۔ غلام اور خدام بھی سب تتر بتر ہوگئے تھے۔ آزمائش کا دور ختم ہونے کے بعد بچھڑے ہوئے اعزہ پھر مجتمع ہوئے جو وفات پا چکے اللہ نے ان کے بدل عنایت فرمائے اور مال کے ساتھ ساتھ خدم و حشم بھی ان کو پھر مل گئے۔ رحمۃ منا وذکری لاولی الالباب یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ اپنے ایک راستباز اور کامل العیار بندے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کردیا گیا تھا، اسے زندہ کردیا گیا اور اس کی مثل اور مذید کنبہ عطا کردیا گیا۔ لیکن یہ بات کسی مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہے، زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے پہلے سے زیادہ مال و اولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دگنا تھا۔ 43۔ 2 یعنی ایوب ؑ کو سب کچھ دوبارہ عطا کیا، تو اپنی رحمت خاص کے اظہار کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں اور وہ بھی ابتلاء و شدائد پر اسی طرح صبر کریں جس طرح ایوب ؑ نے کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

22: بیماری میں ان کی وفادار اہلیہ کے سوا سب ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ صحت کے بعد نہ صرف واپس آگئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید پوتے پوتیاں عطا فرمائیں، اور اس طرح ان کے خاندان کی تعداد دوگنی ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ووھبنا۔۔۔ الالباب (38: 43) ” اور ہم نے اسے اہل و عیال واپس کردیئے اور اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ان کے ساتھ اتنے ہی اور دیئے اور عقل وفکر رکھنے والوں کے لئے درس کے طور پر “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے ان کے وہ بچے زندہ کردیئے جو فوت ہوگئے تھے اور اسی تعداد میں اور اولاد بھی دے دی۔ قرآن کریم اس بات کی صراحت نہیں کرتا کہ مردوں کو زندہ کیا گیا۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ان کو چھوڑ کر غایب ہوگئے تھے ، وہ اور ان کے اہل خانہ واپس کردیئے گئے اور پھر مزید اولاد دی گئی۔ مزید انعام اور رحمت و رعایت کے طور پر۔ اور یہ انعامات اس لیے کیے گئے کہ اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں۔ ان تمام قصص سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–43

3 جب اللہ نے چاہا کہ ان کو چنگا کرے، حکم دیا کہ زمین پہ پاؤں ماریں۔ پاؤں مارنا تھا کہ قدرت نے وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکال دیا۔ اسی سے نہایا کرتے اور پانی پیتے۔ وہ ہی ان کی شفاء کا سبب ہوا۔ اور ان کے گھرانے کے لوگ جو چھت کے نیچے دب کر مرگئے تھے اللہ نے اپنی مہربانی سے ان سے دگنے عطا کیے تاعقلمند لوگ ان واقعات کو دیکھ کر سمجھیں کہ جو بندہ مصائب میں مبتلا ہو کر صبر کرتا اور خدائے واحد کی طرف رجوع ہوتا ہے حق تعالیٰ اس کی کس طرح کفالت و اعانت فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 { وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ } ”اور ہم نے اسے اس کے اہل و عیال بھی عطا کردیے اور ان کے ساتھ ویسے ہی اہل و عیال مزید بھی دیے“ یعنی آپ علیہ السلام کے اہل و عیال آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مزید اولاد سے بھی نوازا۔ { رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”یہ سب ہماری طرف سے رحمت کا مظہر تھا ‘ اور یاددہانی تھی ہوش مند لوگوں کے لیے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی جو بیویاں اور بچے بیماری کی حالت میں آپ کا ساتھ چھوڑ گئے وہ واپس آگئے۔ پھر اللہ نے مزید اولاد بھی عطا فرما دی۔ اور یہ بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے عطا فرمایا ہو، اولاد بھی اور مال و دولت بھی اور جس معجزانہ طریقے سے اللہ نے آپ کو مال و دولت عطا فرمایا اس کا اندازہ کچھ درج ذیل حدیث سے بھی ہوتا ہے۔ سیدنا ایوب پر اللہ کے انعامات :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب ایوب ننگے نہا رہے تھے تو آپ پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش ہوئی جنہیں آپ اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا کہ اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں ان ٹڈیوں سے بےنیاز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ یعنی تاکہ اہل عقل یاد رکھیں کہ حق تعالیٰ صابروں کو کیسی جزا دیتا ہے۔ (آیت) ” ووھبنا لہ اھلہ ومثلھم معھم “۔ توریت میں آتا ہے :” اور خداوند نے ایوب کو آگے کی نسبت سے دونی دولت عنایت کی اور اس کے بھائی اور سب بہن اور اس کے اگلے سب جان پہچان کے اس کے پاس آئے، اور اس کے گھر میں انہوں نے اس کے ساتھ کھانا کھایا، اور اس پر افسوس کیا۔ اور ان ساری بلاؤں کے لیے جو خداوند نے اس پر نازل کی تھیں تسلی دی، اور ان میں سے ہر ایک نے اسے ایک قسیط اور ہر ایک نے اسے سونے کا ایک کرن پھول بخشا۔ اور خداوند نے ایوب کے آخرعمر میں ابتداء کی نسبت سے بہت برکت عطا کی، اور وہ چودہ ہزار بھیڑوں اور چھ ہزار اونٹوں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ووھبنا لہ اھلہ ومثلھم معھم رحمۃ منا وذکری لاولی الالباب اور ہم نے ان کو ان کے گھر والے (بھی) عطا کر دئیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی اپنی رحمت کے طور پر اور عقل والوں کی یادگار کیلئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے ان کا وہ کنبہ جو ہلاک ہوگیا تھا وہ بھی اور اس کے برابر اور بھی آخرت میں اور کہا گیا ہے کہ دنیا میں ان کو دیا یہ ہماری طرف سے ان پر خصوصی فضل تھا اور عقل والوں کے لیے ایک نصیحت کی چیز تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 41–44

وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ : اس کا عطف اس سے پہلے پر ہے۔ لفظ ”عَبْدَنَآ“ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے تعلق کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سورت میں مذکور قصّوں میں سے یہ تیسرا قصّہ ہے کہ داؤد اور سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور دونوں کی آزمائش کا ذکر فرمایا اور ایوب ؑ پر آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور انھیں دور کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، مقصد سب سے عبرت دلانا ہے۔ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ : ”نُصْبٌ“ تھکاوٹ اور مشقت کو کہتے ہیں اور ”وَّعَذَابٍ“ شدید بدنی تکلیف کو۔ یعنی مجھے دو قسم کی تکلیف پہنچی ہے، ایک شدید دکھ جو مال و اولاد اور عافیت نہ رہنے کی وجہ سے تھا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–43

واذکر عبدنا ایوب یہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ مشکلات میں صبر پر ان کی اقتدا کریں ایوب یہ عبدنا سے بدل ہے۔ اذا نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ عیسیٰ بن عمر نے ان ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : قراء نے بنصب پر اتفاق کیا ہے یعنی نون مضموم اور صاد ساکن ہے شد نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ علط ہے ا کے بعد مناقض ہے اور وہ بھی غلط ہے کیونکہ اس نے کہا : قراء نے اس پر اجماع کیا اس کے بعد یہ حکایت کی کہ قراء نے یزید بن قعقاع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے بنصب پڑھا ہے اور ابو جعفر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے ‘ ابو جعفر نے بنصب پڑھا ہے ‘ اب عبید اور ددوسرے قراء نے اسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–44

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا امتحان : 1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب، اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “ (اور ہمارے بندہ ایوب کا تذکرہ کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) یعنی آپ کے اہل و عیال اور مال سب پر چھا گئے اور وہ تکلیف جو ان کو ان کے جسم میں پہنچی فرمایا اسی تکلیف میں سات سال اور کچھ مہینے مبتلا رہے آخر کو بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ پر ڈالدیا گیا، مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے آپ کے جسم میں پھرتے رہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ تکلیف دور کردی اور ان کے لئے اجر کو عظیم بنایا اور آپ کو خوبصورتی بھی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَوَهَبْنَا [اور ہم نے عطا کئے ] لَهٗٓ اَهْلَهٗ [اس کو اس کے گھر والے ] وَمِثْلَهُمْ [اور ان کے جیسے ] مَّعَهُمْ [ان کے ساتھ ] رَحْمَةً مِّنَّا [ہماری طرف سے رحمت ہوتے ہوئے ] وَذِكْرٰى [اور یاد دہانی ہوتے ہوئے ] لِاُولِي الْاَلْبَابِ [خالص عقل والوں کے لئے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–44

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور دعا اور شفایابی کا تذکرہ ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء اور امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کا ذکر ہے سورة الانبیاء رکوع نمبر 6 میں بھی ان کا یہ تذکرہ گزر چکا ہے قرآن مجید میں ان کے واقعہ کا اجمالی ذکر ہے تفصیلی حالات جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں گریں تو انہیں جمع کرنے لگے (جیسا کہ ہم عنقریب ہی پوری حدیث ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دکھ تکلیف کے تفصیلی حالات اور مدت ابتلاء اور دیگر امور سے متعلق بعض چیزیں حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

قصہ سوم حضرت ایوب (علیہ السلام) ومناجات ببارگاہ رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب ...... الی ....... نعم العبد انہ اواب “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ابتلا وآزمائش کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک قصہ بیان کیا جارہا ہے جس میں ان کے ابتلا اور آزمائش میں صبر و استقامت کا بیان ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر بیماری و تکلیف اور فقر وفاقہ میں بھی کیسے صابر رہے اور جب انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو کسی طرح رحمت خداوندی سے انکی تمام تکالیف دور کرکے انعامات اور رحمتوں سے نوازا گیا اس واقعہ کا ذکر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–43

36:۔ ” اُرْکُضْ الخ “۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ فورًا ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگا۔ اس سے غسل کرو اور اس سے پیو۔ چناچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا اس ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اس میں غسل کیا اور اس میں سے پیا تو فورًا تندرست ہوگئے گویا بیمارے تھے ہی نہیں۔ “ وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہٗ الخ “ ابتلا میں ان کی جو اولاد فوت ہوگئی تھی اس کو دوبارہ زندہ کردیا اور اس کے علاوہ بھی اولاد عطا فرمائی یہ سب اللہ کی مہربانی تھی۔ نیز اس میں عقلمند لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ مصائب و شدائد میں صبر کرنے کا یہ ثمرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات : حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔ (ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ۝ 43 وهب الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی: وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ( و ہ ب ) وھبتہ ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–44

ترکیب : واذکر جملۃ مستانفۃ بنصب قرء الجمہور بضم النون و سکون الصاد فقیل ھو جمع نصب بفتحتین کا سدوا سد وقیل لا وقال ابو عبیدۃ ان النصب بفتحتین التعب و الاعیاء و علی بقیۃ القرأت الشر و البلاء۔ واذکر عبدنا ایوب یہ تیسرا قصہ صبر دلانے کے لیے حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ہے۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوئے تو شیطان نے ان کی بیوی سے کہا میں طبیب ہوں، اگر ایوب کو شفا ہوجاوے تو کہنا میں نے شفا دی۔ (احمد) اس بات کی ایوب ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتے ہیں کہ اس نے مجھے دکھ دیا۔ حکم ہوا کہ پائوں مار اس کے مارنے سے سرد چشمہ نمودار ہوا جس میں نہانے سے وہ تندرست ہوگئے اور ان کی مردہ اولاد زندہ ہوگئی اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَوَھَبْنَا لَـہٗٓ اَھْلَـہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَھُمْ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ۔ (صٓ: 43) (اور ہم نے بخشے اسے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ ) دولت و ثروت کی بہتات ہو اور حالات اچھے ہوں تو اجنبی بھی اپنے ہوجاتے ہیں اعزہ و اقرباء کا بھی ہجوم رہتا ہے۔ اور احباب کی بھی رونق لگی رہتی ہے۔ لیکن جب دن پھرجاتے ہیں اور حالات بگڑ جاتے ہیں تو آہستہ آہستہ اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اہلِ دانش کے لیے سبق حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےسروسامانی جب حد سے بڑھ گئی اور صحت نے جواب دے دیا تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–44

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا شان و شکوہ بیان کرنے کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےبسی اور تکلیف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ایوب ہمارا پسندیدہ بندہ تھا۔ اے نبی ﷺ ! ان کی بیماری اور کمزوری کا لوگوں کے سامنے تذکرہ کریں کہ انتہا درجہ کی بیماری اور کمزوری کے باوجود اس نے اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کی رضا پر راضی رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) اس قدر بیمار ہوئے کہ چلنے پھرنے سے بھی عاجز آگئے۔ مفسرین نے لکھا کہ اس دوران ان کا مال بھی تباہ ہوا اور ایک بیوی کے سوا باقی بیویاں ان سے الگ ہوگئیں۔ شدید بیماری اور شدید ترین آزمائشوں کے باوجود ایوب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَھُمْ (اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عنایت فرمایا اور ان کے برابر اور بھی) ایک قول : اللہ تعالیٰ نے انہی کو زندہ کردیا اور اتنے اور بھی دے دیئے۔ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ (اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور اہل عقل کے یادگار رہنے کے سبب سے) دونوں کیلئے۔ مفعول ہے ای الھبۃ کانت للرحمۃ لہ و لتذکیر اولی الالباب (یہ ہبہ ان پر رحمت کیلئے اور عقلاء کو یاد دلانے کیلئے تھا) کیونکہ جب وہ سنیں گے کہ ہم نے صبر کی وجہ سے ان پر انعام فرمایا تو تکالیف پر صبر کرنے میں ان کو اس سے رغبت حاصل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 42–43

42، ارکض برجلک، اپنے پاؤں کو زمین پر ماریں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس سے چشمہ جاری ہوا۔ ، ھذامغتسل، اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس پانی سے غسل کریں۔ پھر وہ چالیس قدم چلے۔ حکم ہوا کہ دوسراپاؤں زمین پر ماریں، اس سے دوسرا چشمہ نکل آیا اس سے انہوں نے پانی پیا، بارد، یعنی اس ٹھنڈے پانی سے، وشراب، اور اس سے پئیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–43

41۔ 43۔ بعضے علما کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی آئے ہیں۔ قرآن شریف کی اس سورة میں اور سورة الانبیاء میں ایوب (علیہ السلام) کا قصہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے۔ اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے۔ لیکن ابن عساکر میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیا میں ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) بہت صاحب اولاد اور صاحب مال تھے۔ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–44

آیت 41 (واذکر) ” اور یاد کرو “ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر (عبدنا ایوب) ” ہمارے بندے ایوب کا “ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدممح و ثنا کیجیے۔ جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچتی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سابنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا (اذنادٰی ربہ) جب ایوب ( علیہ السلام) نے غیر اللہ کے پاس نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا : اے میرے رب : (انی مسنی الشطن بنصب و عذاب) یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–43

گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

59 حضرت ایوب کے لیے اہل و عیال کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو انکا کنبہ بھی عطا کردیا اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی "۔ سو عطا کرنے والے سب کو ہم ہی ہیں۔ حضرات انبیا و رسل تک بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ پھر اور کوئی کسی کا حاجت روا و مشکل کشا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ سب اسی وحدہ لاشریک کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی اور اسی کے کرم و عطا کے منتظر ہیں۔ سو جسمانی امراض و عوارض کے خاتمے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو انکے اہل و عیال بھی لوٹا دیئے اور انکے ساتھ انہی کے برابر انکے خدام و حشم بھی۔ ابتلاء و آزمائش کے دور میں آنجناب کے آل و اولاد اوراقرباء میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–44

سیدنا ایوب (علیہ السلام) کے حالات تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً سورة ٔانبیاء میں گزر چکا ہے۔ یہاں صبر، شکر اور استغفار کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے ان کے حالات کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ آپ کو بیماری نے گھیر لیا تمام مال و اولاد برباد ہوگیا تو بھی آپ نے اللہ سے نہ گلا کیا نہ شکوہ کیا۔ بس دعا کی اور وہ بھی یوں ” کہ یا الہ ا لعٰلمین شیطان نے مجھے ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے “۔ آپ کی یہ ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ آپ کے لیے چشمہ نکال دیا جس سے نہائے اور پانی پیا اور شفایاب ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں یہ انعام دیا کہ پہلے سے زیادہ اچھی صحت پہلے سے زیادہ مال و دولت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی علاوہ پہلے اہل و عیال کے ہم نے انہیں مزید اولادعطا فرمائی۔11 کہ وہ بھی تکلیف و بیماری میں ان کی طرح صبر کریں اور ہماری رحمت و مہربانی کے متوقع رہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:43) وھبنا لہ۔ وھبنا ماضی جمع متکلم۔ وھب وھبۃ (باب فتح) سے مصدر ۔ ہم نے اسے بخشا۔ مثلہم معہم۔ ان کی طرح۔ ان کی مانند۔ یعنی ہم نے ان کو ان کے گھر والے بھی واپس کر دئیے (جو اگر مرچکے تھے تو دوبارہ زندہ کرکے واپس کر دئیے یا اگر وہ ان کی طویل علالت کی وجہ سے ان کو چھوڑ کر چلے گئے تھے تو ان کی صحت یابی پر واپس پلٹ آئے) اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کئے۔ یعنی پہلی آل و اولاد کے علاوہ اتنے ہی اور بھی عطا کئے۔ اہلہ ومثلہم میں اہل اور مثل بوجہ مفعول ہے منصوب ہے۔ رحمۃ منا۔ ہماری طرف سے بطور رحمت (حضرت ایوب (علیہ السلام) پر رحمت کے طور پر) مفعول لہ ہے۔ اسی طرح ذکری مفعول لہ ہے۔ اور اہل عقل کی نصیحت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نصب ( بیماری ، تکلیف ، مشقت) ارکض (ہلا کر زور سے مارو) رجل ( پاؤں) مغتسل ( نہانے کا پانی) شراب ( پینے کی چیز ، مشروب) اول الالباب ( عقل و فہم والے) ضغثا (تیلیوں یا سینکوں کا مٹھا) لاتحنث (قسم نہ توڑ) تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ ” واصبر علی مایقولون “ یعنی جو کچھ لوگ باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے ان کی مثال بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے خوش حالی کے زمانہ میں شکر اور شدید مشکلات اور بیماریوں میں صبر کا دامن تھا مے رکھا ۔ شیطان نے ہر طرح وسوسے ڈالنے اور ان کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–43

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں نبی ﷺ فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق حضرت ایوب کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کی سب اولاد مرگئی سارامال برباد ہوگیا خود ایسے بیمارے ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا، سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ رہا، تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لیے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–47

[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–47

ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) اور ہم نے اس کے اہل و عیال اور اس اہل و عیال کے ہمراہ اتنے ہی اور عیال اس کو عطا کئے یہ عطا ہم نے اپنی رحمت خاص کے سبب سے کی اور اس سب سے اور مقصد سے کہ اہل عقل و دانش کے لئے ایک یادگار ہے - یعنی اہل عقل غور کریں کہ صبر کرنے والوں کو اس طرح بدلا دیا جاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے چاہا کہ ان کو چنگا کرے ایک چشمہ نکالا ان کے لات مارنے سے اسی سے نہایا کرتے اور پیتے رہے ان کو شفا ہوئی اور ان کے بیٹے بیٹیاں چھت کے نیچے دب مرے تھے ان کو چلایا اور اتنی اولاد اور دی۔ خلاصہ : یہ کہ ان کی اولاد فوت ہوچکی تھی بیوی ہر وقت خاوند کی خدمت میں رہتی مکان ا اور بچوں کا کوئی نگراں نہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

43۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ آپ جب اس علاقہ سے ہجرت کر گئے اور جہاں ہجرت کر کے گئے وہاں کے لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا ، آپ کی نبوت تسلیم کی اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا ذمہ لیا اور اس دوران آپ کے وہ لوگ جن کو مقام ہجرت ہی پر چھوڑ آئے تھے سب ہجرت کر کے آپ کے پاس پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا اور آپ کی دعا کو اس طرح قبولیت بخشی کہ گزشتہ تکلیف اور دکھ آپ کو یاد بھی نہ رہا اور آپ پر جو اللہ تعالیٰ نے رحمت و مہربانی فرمائی اس میں اہل عقل کے لیے بھی بہت سی نصیحتیں موجود ہیں بشرطیکہ ان نصائح کو کوئی حاسل کرنے والا بھی ہو لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–43

Commentary The event relating to Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) has been introduced here to comfort and prompt the Holy Prophet (علیہ السلام) ، so that he would also observe patience. This event has appeared with details in our commentary on Surah Al-Anbiya' (Ma’ ariful-Qur’ an, Volume V1). A few significant notes are being added here. In the opening verse (41), it was said: مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ : (The Shaitan has inflicted weariness and pain upon me). Some early commentators have given details as to how the Shaitan had caused this affliction and pain. They say that the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 Traditions show that during this illness everyone except his wife had deserted the Prophet Job; even his children had turned away. To this Allah has alluded, saying: "When We granted him health, the whole family returned to him, and then We granted him even more children." 45 That is, in it there is a lesson for an intelligent man: "Neither should man forget God and become arrogant in good times nor despair of Him in bad times: Good fortune and misfortune are entirely in the Power of AIlah, the One. If He wills He can change the best times of man into the worst times and the worst into the…

Read the full tafseer →