Explained with ayahs 41–44
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔
حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد…
Read the full tafseer →سورة صٓ 43
یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر پاؤں مارتے ہی ایک چشمہ نکل آیا جس کا پانی پینا اور اس میں غسل کرنا حضرت ایوب ؑ کے مرض کا علاج تھا۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت ایوب ؑ کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔ بائیبل کا بیان بھی یہی ہے کہ سر سے پاؤں تک ان کا سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
خلاصہ تفسیر
اور آپ ہمارے بندہ ایوب ؑ کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسرین کے مطابق وہ ہے جو امام احمد نے کتاب الزہد میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب کی بیوی کو ملا تھا۔ اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب ؑ سے ذکر کیا، انہوں نے فرمایا کہ بھلی مانس وہ تو شیطان تھا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اراکعن برجبلک ج ھذا مغتسل بارد وشراب (42)
امتحان کے بعد حضرت ایوب پر اللہ تعالیٰ کا فضل
اللہ تعالیٰ ایک خاص حد سے زیادہ اپنے بندے کو آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ چناچہ جب حضرت ایوب کا امتحان پورا ہوگیا تو ان کی دعا بلاتاخیر قبول ہوگئی۔ ان کو کسی خاص جگہ کی طرف اشارہ کر کے ہدایت ہوئی کہ فلاں جگہ اپنے پائوں سے ٹھوکر ماور، وہیں ایک چشمہ جاری ہوجائے گا جو تمہارے نہان کے لئے بھی نہایت ٹھنڈا ہے اور پینے کے لئے بھی یہ ان کو علاج بتایا گیا ان جلدی امراض کا جن میں وہ مبتلا ہوگئے تھے اور جن کے سبب سے ان کا یہ حال تھا کہ دن رات راکھ کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ٹھیکروں سے اپنا سارا بدن کھجلاتے رہتے۔
پائوں کی ٹھوکر…
Read the full tafseer →42۔ 1 اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب ؑ کی دعا قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ زمین پر پاؤں مارو، جس سے ایک چشمہ جاری ہوگیا۔ اس کے پانی پینے سے اندرونی بیماریاں اور غسل کرنے سے ظاہری بیماریاں دور ہوگئیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دو چشمے تھے، ایک سے غسل فرمایا اور دوسرے سے پانی پیا۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے پہلی بات کی تائید ہوتی ہے، یعنی ایک ہی چشمہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
21: جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے، حضرت ایوب ؑ کو ایک طویل بیماری لاحق ہوگئی تھی۔ وہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے جس کے بعد انہیں شفا حاصل ہوئی۔ آیت نمبر 42 میں شفا کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اپنا پاؤں زمین پر ماریں۔ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس پانی سے نہائیں، اور اسی کو پئیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان کی بیماری جاتی رہی۔
Read the full tafseer →جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ سچے اور صابر ہیں اور وہ شیطانی وسوسہ اندازیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں اور اس سے انکی اذیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ تو اب اللہ کی رحمت انکو ڈھانپ لیتی ہے۔ آزمائش کے دن بیت جاتے ہیں ۔ انکی صحت لوٹ آتی ہے۔ رب تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے قدموں کو زمین پر ماریں۔ ٹھنڈا پانی نکل آئے گا اس سے وہ پئیں اور غسل کریں صحت لوٹ آئے گی
ارکض برجلک ھٰذا مغتسل بادو شراب (38: 43) ” اپنا پاؤں زمین پر مار ' یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے “۔ مزید رحمتیں یوں آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
3 جب اللہ نے چاہا کہ ان کو چنگا کرے، حکم دیا کہ زمین پہ پاؤں ماریں۔ پاؤں مارنا تھا کہ قدرت نے وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکال دیا۔ اسی سے نہایا کرتے اور پانی پیتے۔ وہ ہی ان کی شفاء کا سبب ہوا۔ اور ان کے گھرانے کے لوگ جو چھت کے نیچے دب کر مرگئے تھے اللہ نے اپنی مہربانی سے ان سے دگنے عطا کیے تاعقلمند لوگ ان واقعات کو دیکھ کر سمجھیں کہ جو بندہ مصائب میں مبتلا ہو کر صبر کرتا اور خدائے واحد کی طرف رجوع ہوتا ہے حق تعالیٰ اس کی کس طرح کفالت و اعانت فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 42 { اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّشَرَابٌ} ”ذرا اپنا پائوں زمین پر مارو ‘ یہ چشمہ جو جاری ہوا ہے ٹھنڈا پانی ہے غسل کے لیے ہے اور پینے کے لیے۔“
آپ علیہ السلام کے ایڑی مارنے پر زمین سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا۔ اس پانی میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے ایسی شفا رکھ دی کہ اس سے نہانے اور اس کو پینے سے آپ علیہ السلام صحت یاب ہوگئے۔ ممکن ہے اس پانی میں گندھک کے اثرات ہوں۔ ایسے چشمے بعض مقامات پر آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں جن میں نہانے سے جلدی امراض کے مریض شفایاب ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →48 سیدنا ایوب کا واقعہ پہلے سورة انبیاء کی آیت نمبر 83، 84 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہ ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Read the full tafseer →42۔ دعا جو غایت تضرع وابتہال کے ساتھ کی گئی تھی، قبول ہوئی، حکم ملا کہ زمین پر ٹھوکر لگاؤ، چشمہ شفا یہیں جاری ہوجائے گا، آپ اس پانی سے نہائے بھی اور اسے پیا بھی۔ بالکل اچھے ہوگئے، روایتوں میں آتا ہے کہ یہ دو چشمے تھے۔ پہلا چشمہ امراض جلدی کے حق میں شافی تھا۔ دوسرا چشمہ چند قدم آگے بڑھ کر تھا۔ اس کا پانی امراض اندرونی کے حق میں آب حیات تھا۔ (آیت) ” ارکض برجلک “۔ یہ جو ایک سخت مریض کو پیر زمین پردے پٹخنے کا حکم مل رہا ہے، اس سے (جیسا کہ تفسیر قرطبی میں نقل ہوا ہے) بعض جاہل صوفیہ نے جواز رقص نکالا ہے ! اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ دین و شریعت کے ساتھ تلاعب و تمسخر کوئی چودھویں صدی ہجری کی نئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
آیت نمبر 41 تا 64
ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…
Read the full tafseer →ارکض برجبلک ھذا مختسل بارد و شراب اپنا پاؤں مارو ‘ یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا۔
اُرْکُضْیعنی ہم نے ایوب سے کہا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ انہوں نے پاؤں مارا ‘ فوراً ایک چشمہ نکل آیا۔ ہم نے کہا : یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے ‘ اس میں غسل کرو اور یہ پینے کا پانی ہے ‘ اس کو پیو۔ انہوں نے غسل کرلیا تو ظاہر جلد کے سارے روگ دور ہوگئے اور پانی پیا تو اندرونی بیماریاں زائل ہوگئیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ایوب نے دو مرتبہ زمین پر پاؤں مارا ‘ ایک بار مارنے سے سرد چشمہ نکل آیا اور دوسری بار پاؤں مارنے سے گرم چشمہ برآمد ہوگیا۔ ایک سے وہ نہائے اور دوسرے کا پانی پیا۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر…
Read the full tafseer →تو جبریل امین نے ان سے فرمایا اے ایوب اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ انہوں نے مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پیدا ہوگیا حضرت جبریل امین نے فرمایا اس سے غسل کرو۔ چناچہ انہوں نے اس سے غسل کیا تو ظاہری بیماری سب ختم ہوگئی تو پھر ان سے فرمایا کہ دوسری مرتبہ زمین پر پیر مارو انہوں نے مارا تو وہاں سے دوسرا چشمہ نکل آیا تو فرمایا یہ ٹھنڈا پینے کا میٹھا پانی ہے اس میں سے پیو چناچہ ایوب نے اس میں سے پیا تو ان کے پیٹ میں جو کچھ تکلیف تھی وہ دور ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ : اس کا عطف اس سے پہلے پر ہے۔ لفظ ”عَبْدَنَآ“ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے تعلق کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سورت میں مذکور قصّوں میں سے یہ تیسرا قصّہ ہے کہ داؤد اور سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور دونوں کی آزمائش کا ذکر فرمایا اور ایوب ؑ پر آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور انھیں دور کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، مقصد سب سے عبرت دلانا ہے۔
اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ : ”نُصْبٌ“ تھکاوٹ اور مشقت کو کہتے ہیں اور ”وَّعَذَابٍ“ شدید بدنی تکلیف کو۔ یعنی مجھے دو قسم کی تکلیف پہنچی ہے، ایک شدید دکھ جو مال و اولاد اور عافیت نہ رہنے کی وجہ سے تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
واذکر عبدنا ایوب یہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ مشکلات میں صبر پر ان کی اقتدا کریں ایوب یہ عبدنا سے بدل ہے۔
اذا نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ عیسیٰ بن عمر نے ان ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : قراء نے بنصب پر اتفاق کیا ہے یعنی نون مضموم اور صاد ساکن ہے شد نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ علط ہے ا کے بعد مناقض ہے اور وہ بھی غلط ہے کیونکہ اس نے کہا : قراء نے اس پر اجماع کیا اس کے بعد یہ حکایت کی کہ قراء نے یزید بن قعقاع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے بنصب پڑھا ہے اور ابو جعفر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے ‘ ابو جعفر نے بنصب پڑھا ہے ‘ اب عبید اور ددوسرے قراء نے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا امتحان :
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب، اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “ (اور ہمارے بندہ ایوب کا تذکرہ کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) یعنی آپ کے اہل و عیال اور مال سب پر چھا گئے اور وہ تکلیف جو ان کو ان کے جسم میں پہنچی فرمایا اسی تکلیف میں سات سال اور کچھ مہینے مبتلا رہے آخر کو بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ پر ڈالدیا گیا، مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے آپ کے جسم میں پھرتے رہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ تکلیف دور کردی اور ان کے لئے اجر کو عظیم بنایا اور آپ کو خوبصورتی بھی…
Read the full tafseer →اُرْكُضْ [آپ (علیہ السلام) رگڑیں ] بِرِجْلِكَ ۚ [اپنے پیر سے ] ھٰذَا [یہ ] مُغْتَسَلٌۢ [نہانے کی جگہ ہے ] بَارِدٌ [ٹھنڈا کرنے والی ہے ] وَّشَرَابٌ [اور پینے کی چیز ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور دعا اور شفایابی کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء اور امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کا ذکر ہے سورة الانبیاء رکوع نمبر 6 میں بھی ان کا یہ تذکرہ گزر چکا ہے قرآن مجید میں ان کے واقعہ کا اجمالی ذکر ہے تفصیلی حالات جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں گریں تو انہیں جمع کرنے لگے (جیسا کہ ہم عنقریب ہی پوری حدیث ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دکھ تکلیف کے تفصیلی حالات اور مدت ابتلاء اور دیگر امور سے متعلق بعض چیزیں حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
قصہ سوم حضرت ایوب (علیہ السلام) ومناجات ببارگاہ رب العالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب ...... الی ....... نعم العبد انہ اواب “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ابتلا وآزمائش کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک قصہ بیان کیا جارہا ہے جس میں ان کے ابتلا اور آزمائش میں صبر و استقامت کا بیان ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر بیماری و تکلیف اور فقر وفاقہ میں بھی کیسے صابر رہے اور جب انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو کسی طرح رحمت خداوندی سے انکی تمام تکالیف دور کرکے انعامات اور رحمتوں سے نوازا گیا اس واقعہ کا ذکر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
36:۔ ” اُرْکُضْ الخ “۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ فورًا ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگا۔ اس سے غسل کرو اور اس سے پیو۔ چناچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا اس ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اس میں غسل کیا اور اس میں سے پیا تو فورًا تندرست ہوگئے گویا بیمارے تھے ہی نہیں۔ “ وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہٗ الخ “ ابتلا میں ان کی جو اولاد فوت ہوگئی تھی اس کو دوبارہ زندہ کردیا اور اس کے علاوہ بھی اولاد عطا فرمائی یہ سب اللہ کی مہربانی تھی۔ نیز اس میں عقلمند لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ مصائب و شدائد میں صبر کرنے کا یہ ثمرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات :
حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔
(ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا…
Read the full tafseer →اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ 0ۚ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ 42
ركض
الرَّكْضُ : الضّرب بالرِّجْل، فمتی نسب إلى الرّاكب فهو إعداء مرکوب، نحو : رَكَضْتُ الفرسَ ، ومتی نسب إلى الماشي فوطء الأرض، نحو قوله تعالی: ارْكُضْ بِرِجْلِكَ [ ص/ 42] ، وقوله : لا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلى ما أُتْرِفْتُمْ فِيهِ [ الأنبیاء/ 13] ، فنهوا عن الانهزام .
( ر ک ض ) الرکض
اس کے اصل معنی ٹانگ کو حرکت دینے کے ہیں اگر سوار کے متعلق بولا جائے جیسے : ۔ رکضت الفرس تو اس کے معنی گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لئے ایڑھ لگانا کے ہوتے ہیں اور پیادہ پا آدمی کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی پاؤں کے ساتھ زمین کو روندنا کے ہوتے ہیں جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ترکیب : واذکر جملۃ مستانفۃ بنصب قرء الجمہور بضم النون و سکون الصاد فقیل ھو جمع نصب بفتحتین کا سدوا سد وقیل لا وقال ابو عبیدۃ ان النصب بفتحتین التعب و الاعیاء و علی بقیۃ القرأت الشر و البلاء۔
واذکر عبدنا ایوب یہ تیسرا قصہ صبر دلانے کے لیے حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ہے۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوئے تو شیطان نے ان کی بیوی سے کہا میں طبیب ہوں، اگر ایوب کو شفا ہوجاوے تو کہنا میں نے شفا دی۔ (احمد) اس بات کی ایوب ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتے ہیں کہ اس نے مجھے دکھ دیا۔ حکم ہوا کہ پائوں مار اس کے مارنے سے سرد چشمہ نمودار ہوا جس میں نہانے سے وہ تندرست ہوگئے اور ان کی مردہ اولاد زندہ ہوگئی اور…
Read the full tafseer →اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ج ھٰذَا مُغْتَسَلٌ م بَارِدٌ وَّشَرَابٌ۔ (صٓ: 42)
(ہم نے اسے حکم دیا) کہ زمین پر اپنا پائوں مارو، یہ نہانے کا بھی ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا بھی۔ )
صبر پر اللہ تعالیٰ کا فضل
جب آپ نے آزمائشوں میں ثابت قدمی دکھائی اور مایوس ہونے کی بجائے برابر اپنے رب کو پکارتے رہے اور ادھر شیطان کے ایجنٹوں کا پر اپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا اور لوگوں میں یہ بات نہ چل سکی کہ ایوب (علیہ السلام) اس لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ نہایت تنومند اور خوشحال آدمی ہیں۔ آپ نے جب نادار اور بیمار ہو کر بھی اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا تو لوگوں کو اس حقیقت کا یقین آگیا۔ تب اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا شان و شکوہ بیان کرنے کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےبسی اور تکلیف کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ایوب ہمارا پسندیدہ بندہ تھا۔ اے نبی ﷺ ! ان کی بیماری اور کمزوری کا لوگوں کے سامنے تذکرہ کریں کہ انتہا درجہ کی بیماری اور کمزوری کے باوجود اس نے اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کی رضا پر راضی رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) اس قدر بیمار ہوئے کہ چلنے پھرنے سے بھی عاجز آگئے۔ مفسرین نے لکھا کہ اس دوران ان کا مال بھی تباہ ہوا اور ایک بیوی کے سوا باقی بیویاں ان سے الگ ہوگئیں۔ شدید بیماری اور شدید ترین آزمائشوں کے باوجود ایوب (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →ایڑی سے چشمہ ابلنے لگا :
42: اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ (اپناپائوں مارو) یہ اس کی حکایت ہے جو ایوب (علیہ السلام) کو جواب دیا گیا یعنی ہم نے ان کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا ارکض برجلک تم اپنا پائوں زمین پر مارو۔ یہ جابیہ شام کا علاقہ تھا۔ آپ نے پائوں مارا تو چشمہ ابل پڑا۔ پس ان کو کہا گیا۔ ھٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ (یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا) یعنی یہ وہ پانی ہے جس سے تو غسل کرے گا اور پیئے گا اور تیرا ظاہر و باطن سب درست و صحت یاب ہوجائے گا۔
ایک قول :
دو چشمے جاری ہوئے ایک سے غسل کیا اور دوسرے سے پانی نوش فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42، ارکض برجلک، اپنے پاؤں کو زمین پر ماریں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس سے چشمہ جاری ہوا۔ ، ھذامغتسل، اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس پانی سے غسل کریں۔ پھر وہ چالیس قدم چلے۔ حکم ہوا کہ دوسراپاؤں زمین پر ماریں، اس سے دوسرا چشمہ نکل آیا اس سے انہوں نے پانی پیا، بارد، یعنی اس ٹھنڈے پانی سے، وشراب، اور اس سے پئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
41۔ 43۔ بعضے علما کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی آئے ہیں۔ قرآن شریف کی اس سورة میں اور سورة الانبیاء میں ایوب (علیہ السلام) کا قصہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے۔ اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے۔ لیکن ابن عساکر میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیا میں ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) بہت صاحب اولاد اور صاحب مال تھے۔ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت 41
(واذکر) ” اور یاد کرو “ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر (عبدنا ایوب) ” ہمارے بندے ایوب کا “ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدممح و ثنا کیجیے۔ جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچتی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سابنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا (اذنادٰی ربہ) جب ایوب ( علیہ السلام) نے غیر اللہ کے پاس نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا : اے میرے رب : (انی مسنی الشطن بنصب و عذاب) یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم
قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔
ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…
Read the full tafseer →58 حضرت ایوب کے لیے نیے دور کا ذکر وبیان : سو اس سے ابتلا کے بعد حضرت ایوب کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نیے دور کے آغاز کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ابتلاء کے دور کے خاتمے کے بعد سب سے پہلے حضرت ایوب کیلئے ٹھنڈے صحت بخش پانی کے چشمے کا انتظام کیا گیا۔ سو اس طرح آپ (علیہ السلام) کی انابت الی اللہ کے صلے میں آپ کو اس شرف سے بھی نواز دیا گیا اور ازالہ مرض کا طریقہ بھی تعلیم و ارشاد فرمایا گیا۔ پاؤں کا مارنا تھا کہ نیچے سے ایسے صاف ستھرے اور صحت بخش پانی کا چشمہ ابل پڑا جس کے پینے اور اس میں نہانے سے صحت و شفا کی دولت نصیب ہوگئی اور ابتلاء و آزمائش کا دور ختم ہوا۔ سو انابت اور رجوع الی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
سیدنا ایوب (علیہ السلام) کے حالات
تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً سورة ٔانبیاء میں گزر چکا ہے۔ یہاں صبر، شکر اور استغفار کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے ان کے حالات کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ آپ کو بیماری نے گھیر لیا تمام مال و اولاد برباد ہوگیا تو بھی آپ نے اللہ سے نہ گلا کیا نہ شکوہ کیا۔ بس دعا کی اور وہ بھی یوں ” کہ یا الہ ا لعٰلمین شیطان نے مجھے ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے “۔ آپ کی یہ ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ آپ کے لیے چشمہ نکال دیا جس سے نہائے اور پانی پیا اور شفایاب ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں یہ انعام دیا کہ پہلے سے زیادہ اچھی صحت پہلے سے زیادہ مال و دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–64
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64:
اسرار و معارف :
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ اپنا پائوں زمین پر مار۔9 یعنی زمین پر پائوں مارتے ہی ٹھنڈے پانی کا ایک چشمہ نمودار ہوا جس کا پانی پینا اور اس میں غسل کرنا حضرت ایوب ( علیہ السلام) کی بیماری کا علاج تھا چناچہ وہ اس سے پانی پینے اور غسل کرنے سے بالکل تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →(38:42) ارکض : ای فقلنا لہ ارکض۔ ہم نے اس کو کہا ارکض۔ رکض باب نصر مصدر سے جس کے معنی اصل میں ٹانگ کو حرکت دینے کے ہیں۔
اگر سوار کے متعلق بولا جائے تو رکضت الفرس کے معنی ہوں گے۔ میں نے گھوڑے کو تیز دوڑنے کے لئے ایڑ لگائی۔ پیادہ آدمی کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی پاؤں کے ساتھ زمین کو روندنا کے ہی۔ جیسے لا ترکضوا (21:13) مت بھاگو۔
ارکض امر کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ تو اپنی ٹانگ زمین پر مار۔
ھذا مغتسل باردو شراب۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ فقلنا لہ ارکض فرکض فنبعت عین فقلنا لہ ھذا مغتسل بارد تغتسل بہ وتشرب منہ فیبرأ ظاھرک وباطنک۔
جب ہم نے اسے حکم دیا کہ زمین پر پاؤں مارو تو اس نے زمین پر پاؤں مارا پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نصب ( بیماری ، تکلیف ، مشقت) ارکض (ہلا کر زور سے مارو) رجل ( پاؤں) مغتسل ( نہانے کا پانی) شراب ( پینے کی چیز ، مشروب) اول الالباب ( عقل و فہم والے) ضغثا (تیلیوں یا سینکوں کا مٹھا) لاتحنث (قسم نہ توڑ)
تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ ” واصبر علی مایقولون “ یعنی جو کچھ لوگ باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے ان کی مثال بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے خوش حالی کے زمانہ میں شکر اور شدید مشکلات اور بیماریوں میں صبر کا دامن تھا مے رکھا ۔ شیطان نے ہر طرح وسوسے ڈالنے اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں نبی ﷺ فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق حضرت ایوب کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کی سب اولاد مرگئی سارامال برباد ہوگیا خود ایسے بیمارے ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا، سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ رہا، تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لیے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔
حضرت ایوب (علیہ السلام)
قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور…
Read the full tafseer →(42) زمین پر اپنا پائوں مار یہ غسل کرنے اور پینے کے لئے ٹھنڈا پانی ہے۔ حضرت ایوب کی دعا قبول ہوئی حضرت جبرئیل آئے اور کہا ابو تم اپنا پائوں زمین پر مارو پائوں مارنے سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ جبرئیل نے کہا اس چشمے کے پانی سے نہائو اور اسی کا پانی پیتے رہو۔
بعض حضرات کہتے ہیں دو چشمے جاری ہوئے ایک گرم اس سے نہانے کا حکم دیا۔ اور دوسرا ٹھنڈا اس سے پینے کا حکم دیا چناچہ ان کا دکھ اور بیماری دور ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 3۔ چناچہ نہائے اور پیا اور بالکل اچھے ہوگئے۔
Read the full tafseer →ایڑی اپنی سواری کو لگائو اور ایسے مقام پر پہنچ جائو جہاں رہائش کی سہولت موجود ہے
42۔ الرکض ضرب الدابۃ بالرجل ( جامع البیان) سواری کے جانور کو ایڑی مار کر دوڑاتا ہے اور یہی ہم نے اس جگہ مراد لیا ہے۔ جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب ! مجھ کو شیطان یعنی مخالفت گروہ کے لیڈر و سرغنہ کی طرف سے بہت ہی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) ہجرت کی اجازت دے کر فرمایا کہ فلاں جگہ کی طرف آپ اپنے سواری کے جانور کو ایڑی لگا کر نکل جائیے وہاں آپ کے رہنے سہنے کے سارے سامان موجود ہیں ، پینے کے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے اور جانوروں کو چرانے کی کھلی چراگاہیں ہیں اور ہر طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
Commentary
The event relating to Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) has been introduced here to comfort and prompt the Holy Prophet (علیہ السلام) ، so that he would also observe patience. This event has appeared with details in our commentary on Surah Al-Anbiya' (Ma’ ariful-Qur’ an, Volume V1). A few significant notes are being added here.
In the opening verse (41), it was said: مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ : (The Shaitan has inflicted weariness and pain upon me). Some early commentators have given details as to how the Shaitan had caused this affliction and pain. They say that the…
Read the full tafseer →43 That is, "As soon as he stamped his foot on the ground, a spring gushed forth by Allah's Command, drinking from which and washing with which was the remedy of the Prophet Job's disease." Most probably he was suffering from some skin disease. According to the Bible also: "Satan smote Job with sore boils from the sole of his foot unto his crown. " (Job, 2: 7).
Read the full tafseer →