Saad 38:41

Saad · from ayah 41

38:41

وَاذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ ۘ— اِذْ نَادٰی رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ۟ؕوَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَۘ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍؕ

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہٰا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And remember Our servant Job, when he called to his Lord, "Indeed, Satan has touched me with hardship and torment."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:41

اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہٰا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہمارے بندے ایوب ؑ کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ : شیطان مجھے دکھ اور آزار لگا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہمارے بندے ایّوب ؑ کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے بڑی اذیّت اور تکلیف پہنچائی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے سخت دکھ اور آزاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہمارے بندے ایوب کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے پکارا اپنے رب کو (اور عرض کیا) کہ مجھے مبتلا کردیا شیطان نے ایک سخت قسم کی تکلیف اور عذاب میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ ہمارے بندے ایوب ؑ کو یاد کیجیے۔ جب کہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج وآزار پہنچایا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ذرا یاد کیجیے ہمارے بندے ایوب ؑ کو جبکہ اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ ”یا رب العٰلمین شیطان نے مجھے ایذ اور تکلیف دے رکھی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And remember Our servant Job: when he cried to his Lord: “Behold, Satan has afflicted me with much hardship and suffering.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And remember Our servant, Ayyub – when he called his Lord saying, :The ShaiTan (Satan) has inflicted weariness and pain upon me.

— Muhammad Taqi Usmani

And remember Our servant, Ayyub – when he called his Lord saying, :The ShaiTan (Satan) has inflicted weariness and pain upon me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And make mention (O Muhammad) of Our bondman Job, when he cried unto his Lord (saying): Lo! the devil doth afflict me with distress and torment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And remember Our servant Job, when he called to his Lord, "Indeed, Satan has touched me with hardship and torment."

— Saheeh International

(Muhammad), recall Our servant Job. When he prayed to his Lord saying, "Satan has afflicted me with hardship and torment,"

— Muhammad Sarwar

And remember Our servant Ayyub, when he called upon his Lord: The Shaitan has afflicted me with toil and torment.

— Muhammad Habib Shakir

And remember thou Our bondman Ayyub, what time he cried Unto his Lord: verily the Satan hath touched me with affliction and suffering.

— Abdul Majid Daryabadi

Commemorate Our Servant Job. Behold he cried to his Lord: "The Evil One has afflicted me with distress and suffering!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 41 یہ چوتھا مقام ہے جہاں حضرت ایوب ؑ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نساء آیت 163، سورة انعام آیت 84، سورة انبیاء آیات 83۔ 84 میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم تفسیر سورة انبیاء میں ان کے حالات کی تفصیل بیان کرچکے ہیں۔ (تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحات 178 تا 181) سورة صٓ 42 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیطان نے مجھے بیماری میں مبتلا کردیا ہے اور میرے اوپر مصائب نازل کردیے ہیں، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت، مال و دولت کے ضیاع، اور اعزہ و اقربا کے منہ موڑ لینے سے میں جس تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہوں اس سے بڑھ کر تکلیف اور عذاب میرے لیے یہ ہے کہ شیطان اپنے وسوسوں سے مجھے تنگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–43

خلاصہ تفسیر اور آپ ہمارے بندہ ایوب ؑ کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسرین کے مطابق وہ ہے جو امام احمد نے کتاب الزہد میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب کی بیوی کو ملا تھا۔ اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب ؑ سے ذکر کیا، انہوں نے فرمایا کہ بھلی مانس وہ تو شیطان تھا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 64-41 آگے نبی ﷺ کی تسلی کے لئے پہلے چند انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ہے جن کو بڑی بڑی آزمائش پیش آئیں لیکن وہ ان سے دلبرداشتہ اور میاوس نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے حالات کا صبر و عزیمت سے مقابلہ کیا، اپنی تکالیف میں اپنے رب ہی سے رجوع کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تکلیفیں دور فرما دیں اور ان کو اپنے فضل و انعام سے نوازا۔ پھر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ٹھکانا اس کے منفی بندوں ہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد متقیوں اور طاغیوں کے انجام کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجیے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حضرت ایوب کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 حضرت ایوب ؑ کی بیماری اور اس میں ان کا صبر مشہور ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اہل و مال کی تباہی اور بیماری کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جس میں وہ کئی سال مبتلا رہے۔ حتٰی کہ صرف ایک بیوی ان کے ساتھ رہ گئی جو صبح شام ان کی خدمت کرتی اور ان کو کہیں کام کاج کرکے بقدر کفالت رزق کا انتظام بھی کرتی۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے درآں حالیکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے، کہ ممکن ہے شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی یا پھر بطور ادب کے ہے کہ خیر کا اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–42

21: جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے، حضرت ایوب ؑ کو ایک طویل بیماری لاحق ہوگئی تھی۔ وہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے جس کے بعد انہیں شفا حاصل ہوئی۔ آیت نمبر 42 میں شفا کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اپنا پاؤں زمین پر ماریں۔ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس پانی سے نہائیں، اور اسی کو پئیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان کی بیماری جاتی رہی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 41 تا 44 حضرت ایوب کے صبر کا قصہ تو ایک مثال بن گیا ہے۔ اور بہت ہی معروف ومشہور ہے۔ صبر ایوبی ایک محاورہ ہے۔ لیکن اس قصے کے اوپر اسرائیلی روایات کی تہہ جم گئی ہے۔ اور حقیقت خرافات میں کھوگئی ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے جس طرح قرآن کریم تصریح کرتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بندۂ صالح اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ اللہ کی آزمائش ان پر آئی اور اس میں انہوں نے خوب صبر فرمایا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی آزمائش اس طرح تھی کہ مال چلا گیا ، صحت چلی گئی اور بیوی بھی ساتھ چھوڑ گئی۔ لیکن ان تمام جان لیوا تکالیف میں انہوں نے رب تعالیٰ کا دامن تھامے رکھا۔ اللہ پر ان کا بھروسہ رہا اور وہ راضی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 قرآن کریم کے تتبع سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شر یا ایذاء کا یا کسی مقصد صحیح کے فوت ہونے کا ہو ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں آیا۔ " وما انسانیہ الا الشیطان ان اذکرہ " (کہف، رکوع 9) کیونکہ اکثر اس قسم کی چیزوں کا سبب قریب یا بعید کسی درجہ میں شیطان ہوتا ہے۔ اسی قاعدہ سے حضرت ایوب نے اپنی بیماری یا تکلیف یا آزار کی نسبت شیطان کی طرف کی گویا تواضعاً وتأدباً یہ ظاہر کیا کہ ضرور مجھ سے کچھ تساہل یا کوئی غلطی اپنے درجہ کے موافق صادر ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں یہ آزار پیچھے لگا۔ یا حالت مرض و شدت میں شیطان القائے وساوس کی کوشش کرتا ہوگا اور یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 { وَاذْکُرْ عَبْدَنَآ اَیُّوْبَ 7 اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ } ”اور ذرا یاد کیجیے ہمارے بندے ایوب علیہ السلام کو ‘ جبکہ اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔“ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اور ان کا صبر مشہور ہے۔ آپ علیہ السلام کسی جلدی مرض میں مبتلا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کا سارا جسم گل گیا تھا۔ مال و دولت بھی سب جاتا رہا ‘ اعزہ و اقرباء منہ موڑ گئے ‘ آل و اولاد میں سے کچھ فوت ہوگئے اور کچھ آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ آخر کار ایک بیوی ساتھ رہ گئی تھی جو اس بیماری سے اکتانے لگی۔ واضح رہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 برے ایمان کی نسبت شیطان کی طرف :۔ ہر مسلمان کے عقیدہ میں یہ بات شامل اور اس کے ایمان بالغیب کا ایک جزء ہے کہ رنج ہو یا راحت، برائی ہو یا بھلائی سب کچھ اللہ کی مشیئت کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن اس مشیئت کا انحصار بھی بعض دفعہ انسان کے اپنے قصور یا شیطانی وساوس سے کسی نہ کسی درجہ میں ضرور ہوتا ہے۔ اور قرآن کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شر کا یا ایذا یا کسی صحیح مقصد کے فوت ہوجانے کا ہو ان کو اللہ کے مقرب بندے ادب کے نقطہ نظر اور تواضع کی خاطر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اسے اپنے نفس یا شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابراہیم نے اپنے مرض کو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

40۔ ایوب (علیہ السلام) کا وطن علاقہ عوض میں تھا، جو فلسطین کا مشرقی حصہ حدود عرب سے متصل ہے۔ روایات یہود سے معلوم ہوتا کہ آپ نے 210 سال کی عمر پائی، اور آپ کا زمانہ فرزند ان یعقوب کے خروج (یعنی مصر سے بنی اسرائیل کی رہائی) تک کا عہد ہے۔ توریت میں آتا ہے۔ ” عوض کی سرزمین میں ایوب نامی ایک شخص تھا اور وہ شخص کامل اور صادق تھا، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا (ایوب 10۔ 10) پھر خداوند نے شیطان سے کہا کہ کیا تو نے میرے بندے ایوب کے حال پر غور کیا کہ زمین پر اس سا کوئی شخص نہیں ہے۔ وہ کامل اور صادق ہے، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا ہے (1:۔ 8) آپ حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذکر عبدنا ایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب اور ہمارے بندے ایوب کا تذکر کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج و آزار پہنچایا ہے۔ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الخ حضرت ایوب کے کلام کی نقل ہے۔ بِنُصْبٍ ‘ نصب مشقت ‘ تکلیف ‘ عذاب ‘ علم (رنج) مقاتل اور قتادہ نے کہا : نصب سے مراد ہے جسمانی دکھ اور عذاب سے مراد ہے مالی تباہی۔ حضرت ایوب کے دکھ اور تکلیف کا مفصل ذکر اور ان کا پورا قصہ ہم نے سورة انبیاء میں بیان کردیا ہے اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کتنی مدت تک یہ آزمائش ہوتی رہی۔ غرض جب مدت ابتلاء ختم ہوگئی تو اللہ نے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ کفار مکہ کے سامنے ہمارے بندہ ایوب کا واقعہ بیان کیجیے کہ جس وقت انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ آپ نے مجھ پر شیطان مسلط کردیا ہے اس نے مجھے تکلیف اور بیماری میں مبتلا کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 41–44

وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ : اس کا عطف اس سے پہلے پر ہے۔ لفظ ”عَبْدَنَآ“ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے تعلق کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سورت میں مذکور قصّوں میں سے یہ تیسرا قصّہ ہے کہ داؤد اور سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور دونوں کی آزمائش کا ذکر فرمایا اور ایوب ؑ پر آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور انھیں دور کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، مقصد سب سے عبرت دلانا ہے۔ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ : ”نُصْبٌ“ تھکاوٹ اور مشقت کو کہتے ہیں اور ”وَّعَذَابٍ“ شدید بدنی تکلیف کو۔ یعنی مجھے دو قسم کی تکلیف پہنچی ہے، ایک شدید دکھ جو مال و اولاد اور عافیت نہ رہنے کی وجہ سے تھا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–43

واذکر عبدنا ایوب یہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ مشکلات میں صبر پر ان کی اقتدا کریں ایوب یہ عبدنا سے بدل ہے۔ اذا نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ عیسیٰ بن عمر نے ان ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : قراء نے بنصب پر اتفاق کیا ہے یعنی نون مضموم اور صاد ساکن ہے شد نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ علط ہے ا کے بعد مناقض ہے اور وہ بھی غلط ہے کیونکہ اس نے کہا : قراء نے اس پر اجماع کیا اس کے بعد یہ حکایت کی کہ قراء نے یزید بن قعقاع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے بنصب پڑھا ہے اور ابو جعفر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے ‘ ابو جعفر نے بنصب پڑھا ہے ‘ اب عبید اور ددوسرے قراء نے اسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–44

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا امتحان : 1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب، اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “ (اور ہمارے بندہ ایوب کا تذکرہ کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) یعنی آپ کے اہل و عیال اور مال سب پر چھا گئے اور وہ تکلیف جو ان کو ان کے جسم میں پہنچی فرمایا اسی تکلیف میں سات سال اور کچھ مہینے مبتلا رہے آخر کو بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ پر ڈالدیا گیا، مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے آپ کے جسم میں پھرتے رہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ تکلیف دور کردی اور ان کے لئے اجر کو عظیم بنایا اور آپ کو خوبصورتی بھی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاذْكُرْ [اور آپ ﷺ یاد کریں ] عَبْدَنَآ [ہمارے بندے ] اَيُّوْبَ ۘ [ایوب (علیہ السلام) کو ] اِذْ نَادٰى [جب انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] رَبَّهٗٓ [اپنے رب کو ] اَنِّىْ [کہ میں ہوں کہ ] مَسَّنِيَ [چھوا مجھ کو ] الشَّيْطٰنُ [شیطان نے ] بِنُصْبٍ [تکلیف سے ] وَّعَذَابٍ [اور عذاب سے ] نوٹ۔ 1: قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ بعض آثار صحابہ ؓ میں اس کی تفصیل ملتی ہے لیکن وہ قابل اعتماد نہیں۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–44

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور دعا اور شفایابی کا تذکرہ ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء اور امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کا ذکر ہے سورة الانبیاء رکوع نمبر 6 میں بھی ان کا یہ تذکرہ گزر چکا ہے قرآن مجید میں ان کے واقعہ کا اجمالی ذکر ہے تفصیلی حالات جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں گریں تو انہیں جمع کرنے لگے (جیسا کہ ہم عنقریب ہی پوری حدیث ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دکھ تکلیف کے تفصیلی حالات اور مدت ابتلاء اور دیگر امور سے متعلق بعض چیزیں حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

قصہ سوم حضرت ایوب (علیہ السلام) ومناجات ببارگاہ رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب ...... الی ....... نعم العبد انہ اواب “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ابتلا وآزمائش کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک قصہ بیان کیا جارہا ہے جس میں ان کے ابتلا اور آزمائش میں صبر و استقامت کا بیان ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر بیماری و تکلیف اور فقر وفاقہ میں بھی کیسے صابر رہے اور جب انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو کسی طرح رحمت خداوندی سے انکی تمام تکالیف دور کرکے انعامات اور رحمتوں سے نوازا گیا اس واقعہ کا ذکر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ” واذکر الخ “۔ یہ تیسری نقلی دلیل ہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قوم مسئلہ توحید کی وجہ سے ان کی مخالف ہوگئی اور اللہ کی طرف سے ایک شدید بیماری کی شکل میں ان پر ابتلاء آیا جس کی وجہ سے شہر والوں نے ان کو شہر سے نکال دیا آخر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے ان کو اس بیماری سے شفا عطا فرمائی۔ جس کا اپنا یہ حال ہو وہ کسی طرح شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ ” انی مسنی الشیطان الخ “ ” نصب “ شدت، تکلیف۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری طول پکڑ گئی اور وہ اٹھارہ سال اس میں مبتلا رہے اس بیماری کی وجہ سے انہوں نے سخت تکلیف اٹھائی۔ ایک دن ان کی بیوی کسی کام سے جا رہی تھیں۔ راستے میں ایک طبیب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات : حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔ (ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ۝ 0 ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّہٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ۝ 41ۭ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–44

ترکیب : واذکر جملۃ مستانفۃ بنصب قرء الجمہور بضم النون و سکون الصاد فقیل ھو جمع نصب بفتحتین کا سدوا سد وقیل لا وقال ابو عبیدۃ ان النصب بفتحتین التعب و الاعیاء و علی بقیۃ القرأت الشر و البلاء۔ واذکر عبدنا ایوب یہ تیسرا قصہ صبر دلانے کے لیے حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ہے۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوئے تو شیطان نے ان کی بیوی سے کہا میں طبیب ہوں، اگر ایوب کو شفا ہوجاوے تو کہنا میں نے شفا دی۔ (احمد) اس بات کی ایوب ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتے ہیں کہ اس نے مجھے دکھ دیا۔ حکم ہوا کہ پائوں مار اس کے مارنے سے سرد چشمہ نمودار ہوا جس میں نہانے سے وہ تندرست ہوگئے اور ان کی مردہ اولاد زندہ ہوگئی اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاذْکُرْ عَبْدَنَـآ اَیُّوْبَ م اِذْ نَادٰی رَبَّـہٗٓ اِنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ۔ (صٓ: 41) (اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کروجب اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ابتلا اور آپ کا صبر نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو ہر طرح کے حالات میں صبر و شکر اور نا گفتہ بہ حالات میں بہتری اور کامیابی کا یقین پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے آئندہ چند انبیائے کرام کا مختصر تذکرہ کیا جارہا ہے، جس سے اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کیسے نامساعد حالات میں صبر و شکر سے کام لیا اور مایوس ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ہی بہتری اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–44

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا شان و شکوہ بیان کرنے کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےبسی اور تکلیف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ایوب ہمارا پسندیدہ بندہ تھا۔ اے نبی ﷺ ! ان کی بیماری اور کمزوری کا لوگوں کے سامنے تذکرہ کریں کہ انتہا درجہ کی بیماری اور کمزوری کے باوجود اس نے اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کی رضا پر راضی رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) اس قدر بیمار ہوئے کہ چلنے پھرنے سے بھی عاجز آگئے۔ مفسرین نے لکھا کہ اس دوران ان کا مال بھی تباہ ہوا اور ایک بیوی کے سوا باقی بیویاں ان سے الگ ہوگئیں۔ شدید بیماری اور شدید ترین آزمائشوں کے باوجود ایوب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ذکر : 41: وَاذْکُرْ عَبْدَنَآ اَیُّوْبَ (اور آپ ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے) نحو : ایوب یہ عبدنا سے بدل یا عطف بیان ہے اور اذؔ اس سے بدل الاشتمال ہے۔ اِذْ نَادٰٰی رَبَّہٗ (جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا) نادی دعا کے معنی میں ہے۔ اَنِّیْ مَسَّنِیَ (کہ مجھے پہنچایا ہے) یہ بانی مسنی ہے اور یہ ان کے کلام کی حکایت ہے جس کے سبب سے انہوں نے پکارا۔ اگر حکایت کلام نہ ہوتی تو اس طرح ہوتا۔ بانہ مسَّہٗ کیونکہ وہ غائب ہے غائب کا صیغہ چاہیے تھا۔ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ ( شیطان نے رنج اور دکھ) قراءت : عام قراء نے تو صاد کا جزم پڑھا۔ یزید نے بنصُبِ صادؔ کو ضمہ دیا۔ اور یعقوب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41، واذکرعبد نا ایوب اذنادی ربہ انی مسنی الشیطان بنصب ، نصب کا معنی مشقت اور تکلیف ۔ ابوجعفر نے نون کے ضمہ اور صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہیں ۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے مشقت اور تکلیف جسم میں ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعلق جسم سے ہے۔ ، و عذاب ، مال میں ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا ابتلاء آزئش انبیاء (علیہم السلام) کے قصوں میں ذکر کیا گیا۔ جب ان کی مدت آزمائش پوری ہوگئی تو ان سے کہا گیا :

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–43

41۔ 43۔ بعضے علما کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی آئے ہیں۔ قرآن شریف کی اس سورة میں اور سورة الانبیاء میں ایوب (علیہ السلام) کا قصہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے۔ اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے۔ لیکن ابن عساکر میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیا میں ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) بہت صاحب اولاد اور صاحب مال تھے۔ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–44

آیت 41 (واذکر) ” اور یاد کرو “ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر (عبدنا ایوب) ” ہمارے بندے ایوب کا “ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدممح و ثنا کیجیے۔ جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچتی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سابنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا (اذنادٰی ربہ) جب ایوب ( علیہ السلام) نے غیر اللہ کے پاس نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا : اے میرے رب : (انی مسنی الشطن بنصب و عذاب) یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–43

گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت ایوب کے ابتلاء اور آپکا اپنے رب کے حضور ابلیس کے بارے میں شکایت کا ذکر فرمایا گیا کہ اسی لعین نے جیسا کہ روایات میں وارد ہے آنجناب کو مال و دولت کی کثرت و فراوانی اور صحت و اولاد کی بنا پر عجب میں مبتلا کیا۔ اور اس کے نتیجے میں آپ (علیہ السلام) اس طرح مبتلائے عذاب ہوئے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یوں ہر برا کام عموماً شیطان ہی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ ہے ہی ہر شیطنت اور برائی کا منبع ومصدر ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ الاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہ } ۔ اس کے علاوہ یہ بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–44

سیدنا ایوب (علیہ السلام) کے حالات تشریح : سیدنا ایوب (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً سورة ٔانبیاء میں گزر چکا ہے۔ یہاں صبر، شکر اور استغفار کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے ان کے حالات کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ آپ کو بیماری نے گھیر لیا تمام مال و اولاد برباد ہوگیا تو بھی آپ نے اللہ سے نہ گلا کیا نہ شکوہ کیا۔ بس دعا کی اور وہ بھی یوں ” کہ یا الہ ا لعٰلمین شیطان نے مجھے ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے “۔ آپ کی یہ ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ آپ کے لیے چشمہ نکال دیا جس سے نہائے اور پانی پیا اور شفایاب ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں یہ انعام دیا کہ پہلے سے زیادہ اچھی صحت پہلے سے زیادہ مال و دولت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–41

ف 7 قرآن نے عموماً ایسے۔ امور کی نسبت شیطان کی طرف کی ہے جن میں شر یا ایذا کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو۔ کیونکہ کسی نہ کسی قریب یا بعید وجہ میں ایسے امور کا تعلق شیطان ہی سے ہوتا ہے۔ اس معنی میں حضرت ایوب ( علیہ السلام) نے اپنی جسمانی بیماری یا مالی تکلیف کی نسبت شیطان کی طرف کردی ہے ورنہ انبیاء ( علیہ السلام) کے جسم و قلب پر شیطان کو تسلط نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اس مقام پر تفسیروں میں اسرائیلی قصہ درج کیا گیا اور دعا ظ مبالغہ آمیزی کے ساتھ عوام کی دلچسپی کے لئے داستان گوئی کرتے رہتے ہیں۔ ( ابن حزم)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 40–41

(38:40) وان لہ : ای وان مع ذلک المال والملک یعنی اس ملک اور سلطنت اور ان میں بہمہ نوع اختیارات تصرف دینے کے علاوہ ان کو بارگاہ الٰہی میں قرب اور حسن مآب (جنت کی خوشخبری) ہے۔ زلفی وحسن ماب۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔ متذکرہ بالا۔ واذکر ۔۔ کا عطف واذکر عبدنا داؤد پر (آیۃ : 17) پر ہے۔ عبدنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ منصوب بوجہ مفعول اذکر۔ ایوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا اس کا بدل ہے۔ اذ نادی ربہ : عبدنا یا ایوب کا بدل اشتمال ہے۔ جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔ انی : ای بانی۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم ۔ کہ بیشک میں ۔ مسنی۔ مس ماضی واحد مذکر غائب مس باب نصر سے۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مفعول۔ اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نصب ( بیماری ، تکلیف ، مشقت) ارکض (ہلا کر زور سے مارو) رجل ( پاؤں) مغتسل ( نہانے کا پانی) شراب ( پینے کی چیز ، مشروب) اول الالباب ( عقل و فہم والے) ضغثا (تیلیوں یا سینکوں کا مٹھا) لاتحنث (قسم نہ توڑ) تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ ” واصبر علی مایقولون “ یعنی جو کچھ لوگ باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے ان کی مثال بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے خوش حالی کے زمانہ میں شکر اور شدید مشکلات اور بیماریوں میں صبر کا دامن تھا مے رکھا ۔ شیطان نے ہر طرح وسوسے ڈالنے اور ان کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–43

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں نبی ﷺ فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق حضرت ایوب کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کی سب اولاد مرگئی سارامال برباد ہوگیا خود ایسے بیمارے ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا، سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ رہا، تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لیے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[16] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 44 آیت 84 صفحہ 457 [17] بیماری کی حالت میں شیطان ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا جس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔ یہاں آپ نے اس کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–47

ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) اور اے پیغمبر آپ ہمارے بندے ایوب ﷺ کو یاد کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو شیطان نے درد اور تکلیف پہنچا رکھی ہے - یوں تو حضرت ایوب ﷺ عرصہ سے بیمار تھے لیکن شیطان نے ان کی بیوی کو پریشان دیکھ کر کہا کہ ایک طبیب بہت اچھا ہے وہ اس کے ہمراہ چلی گئیں وہ ایک طبیب کے پاس لے گیا انہوں نے اس سے اپنی خاوند کی بیماری کا ذکر کیا۔ اس طبیب نے کہا اگر تو ایوب کو تھوڑی سی شرات پلادے تو اس کو آرام ہوجائے گا اور جب آرام ہوجائے تو یوں کہیو فلاں طبیب نے شفا دی ہے یہ نہ کہیو خدا نے شفادی ہے۔ یہ سن کر یہ بیوی جن کا نام رحمت تھا واپس گھر آئیں اور انہوں نے حضرت ایوب ﷺ کو اس طبیب کا تمام قصہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 2۔ قصہ جہاد میں صبر یہ ہوا کہ اتنے مال کثیر کی کچھ پروا نہ کی، یہ غایت ثبات فی الدین کی کہ حقیقت صبر کی یہی دلیل ہے، اور قصہ جسد میں توبہ کرنا باوجودیکہ یہ معصیت نہ تھی نیز دلیل ہے غایب ثبات فی الدین کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمارے بندے ایوب کا ذکر کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا 41۔ ایوب (علیہ السلام) کا مختصر تذکرہ قبل ازیں سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے اور اس کے بعد اس جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ ایوب (علیہ السلام) کو جب تکالیف اور مصائب نے گھیر لیا تو آپ نے بارگاہ ربِ ذوالجلال والاکرام میں مناجات کی۔ یہ وہ وقت تھا کہ آپ کو ہر قسم کے رنج و غم اور آلام نے گھیر لیا تھا لیکن آپ کی پکار کو دیکھو کہ بارگاہ صمدی میں کوئی گلہ شکوہ نہیں اور نہ ہی ان دکھ دینے والوں کی شکایت ہے۔ صبر کا دامن آپ نے تھام لیا اور غم واندوہ کے سمندر میں ڈوب کر اپنے رب کریم سے التجا کر رہے ہیں کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان کی طرف سے بہت ہی دکھ اور عذاب پہنچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–43

Commentary The event relating to Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) has been introduced here to comfort and prompt the Holy Prophet (علیہ السلام) ، so that he would also observe patience. This event has appeared with details in our commentary on Surah Al-Anbiya' (Ma’ ariful-Qur’ an, Volume V1). A few significant notes are being added here. In the opening verse (41), it was said: مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ : (The Shaitan has inflicted weariness and pain upon me). Some early commentators have given details as to how the Shaitan had caused this affliction and pain. They say that the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41 This is the fourth place in the Qur'an where the Prophet Job has been mentioned. Before this he has been mentioned in An-Nisa. 163, Al-An'am: 84 and AI-Anbiya': 83-84 above. For the details about him, please see E.N.'s 76 to 79 of Surah Al-Anbiya' 42 This does not mean that Satan has afflicted me with illness and brought distress upon me, but it means: "The affliction of the severities of illness, the loss of property and wealth, and the desertion of the near and dear ones, is not so great a torment and trouble for me as the temptation of Satan, who is exploiting my condition to despair me…

Read the full tafseer →