Saad 38:40

Saad · from ayah 40

38:40

وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۟۠وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ

اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:40

یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے، اور بہترین ٹھکانا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں خصوصی قربت اور آخرت میں عمدہ مقام ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں یقینا بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ انہیں ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک اس کے لئے ہمارے پاس خاص قرب اور بہترین مرجع ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس بےمثال دنیاوی ساز و سامان کے علاوہ) ان کے لئے ہمارے یہاں ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور یقیناً ان کے لئے ہمارے ہاں (خاص) قرب اور نیک انجامی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کے لیے ہمارے پاس مقام قرب بھی ہے اور بہت عمدہ ٹھکانہ بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک ان کو ہمارے ہاں بڑا قرب حاصل ہے اور خوبصورت انجام

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed an exalted position of nearness awaits him and an excellent resort.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He has a place of nearness in Our presence, and an excellent end.

— Muhammad Taqi Usmani

He has a place of nearness in Our presence, and an excellent end.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! he hath favour with Us, and a happy journey's end.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.

— Saheeh International

In Our eyes he certainly has a high position and the best place to return.

— Muhammad Sarwar

And most surely he had a nearness to Us and an excellent resort.

— Muhammad Habib Shakir

And verily for him is an approach with us, and a happy end.

— Abdul Majid Daryabadi

And he enjoyed, indeed, a Near Approach to Us, and a beautiful Place of (Final) Return.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–40

سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 40 اس ذکر سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے کی اکڑ جتنی مبغوض ہے، اس کی عاجزی کی ادا اتنی ہی محبوب ہے۔ بندہ اگر قصور کرے اور تنبیہ کرنے پر الٹا اور زیادہ اکڑ جائے تو انجام وہ ہوتا ہے جو آگے آدم و ابلیس کے قصے میں بیان ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس ذرا لغزش بھی اگر بندے سے ہوجائے اور وہ توبہ کر کے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے تو اس پر وہ نوازشات فرمائی جاتی ہیں جو داؤد و سلیمان (علیہما السلام) پر فرمائی گئیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے استغفار کے بعد جو دعا کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کیا اور ان کو فی الواقع ایسی بادشاہی دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی تھی، نہ ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ (زنجیروں میں جکڑے ہوئے) جنات کی تسخیر اور جو خدمات وہ انجام دیتے تھے، ان کی تفصیل سورة سبا میں گزر چکی ہے، یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ سرکش جنات کو حضرت سلیمان نے زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اب ان زنجیروں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ یہی نظر آنے والی لوہے کی زنجیریں ہوں، ہوسکتا ہے کہ جنات کو جکڑنے کے لئے کوئی اور طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔ جسے آسانی سے سمجھانے کے لئے یہاں زنجیروں سے تعبیر کردیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

ھذا عطآء نا فامنن اوامک بغیر حساب (29) بغیر حساب کا تعلق ھذا عطائونا سے ہے۔ یعنی یہ عظیم نعمتیں تمہعارے قیاس و گمان اور تمہاری امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ تم خاب و خیال میں بھی ان کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی فامنن اوملک یہ ان کے اس اختیار کا بیان ہے جو ہعر مالک کو اس کی ملکیت اور ہر بادشاہ کو اس کی مملکت میں حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم چاہو تو اس کو لوگوں پر خرچ کرو اور چار ہو تو اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہو، تم کو دونوں کا حق حاصل ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ آزادی اور اختیارات تمہیں دونوں بالوں کے لئے حاصل ہے لیکن فیاضی کرو گے تو اس کا حق ادا کرو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 یعنی دنیاوی جاہ و مرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان ؑ کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–40

20: حضرت سلیمان ؑ کو یہ دولت مالک بنا کر دے دی گئی تھی، اور یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جتنی چاہیں، خود رکھیں، اور جتنی چاہیں، کسی اور کو دیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان له عندنا لزلفٰی وحسن ماٰب (38: 40) ” یقیناً اس کے لیے ہمارے ہاں تقریب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔ یہ ایک نہایت ہی عظیم مقام و مرتبہ ہے جو حضرت سلیمان کو دیا گیا۔ نہایت ہی فضل وکرم اور رضامندی اور بخشش اور مہربانیاں۔ حضرت سلیمان کے بعد اب حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ ابتلا آتا ہے اور اس کے بعد ان پر اللہ کا فضل وکرم حضور ﷺ اور مسلمانوں کے لیے امید پیدا کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی بادشاہت کے باوجود جو روحانی تقرب اور مرتبہ ہمارے ہاں حاصل ہے اور فردوس بریں میں جو اعلیٰ سے اعلیٰ ٹھکانا تیار ہے وہ بجائے خود رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40 { وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”اور اس کے لیے ہمارے پاس مقام قرب بھی ہے اور بہت عمدہ ٹھکانہ بھی۔“ جب وہ علیہ السلام لوٹ کر ہمارے پاس آئے گا تو اسے مقام قرب ‘ بہت بلند مراتب اور بڑے بڑے انعامات سے نوازا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 یعنی ان کی سلطنت اور فرمانروائی ہماری عبادت گزاری کے آڑے نہ آسکی۔ شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی ایک بڑی آزمائش ہے جس میں وہ پورے اترے لہذا اللہ نے انہیں مقربین میں شامل کرلیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

39۔ اوپر سازوسامان دنیوی کا بیان تھا، اب مقبولیت عند اللہ واجر اخروی کا بیان ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مقبولیت وبرگزیدگی کی یہ تصریحات بار بار اس لیے اور بھی آئی ہیں کہ یہود ونصاری نے اپنے نوشتوں میں آپ کو دل کھول کر بدنام کیا ہے، اور ہر طرح کی بدعقیدگی برگشتگی وغیرہ کے الزامات آپ پر تھوپ دیئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–40

آیت نمبر 27 تا 40 ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب اور (علاوہ اس کے) اس کیلئے ہمارے یہاں (خاص) قرب بھی ہے اور اچھا انجام بھی۔ ھٰذَا عَطَآءُنَا یعنی ہم نے سلیمان سے کہا کہ یہ حکومت اور ایسا تسلط جو کسی اور کو نہیں دیا گیا ‘ صرف تم کو دیا گیا ہے ‘ ہمارا خاص عطیہ ہے۔ فَامْنُنْ سو جس کو چاہو دو ۔ اَوْ اَمْسِکْ اور جس سے چاہو روک رکھو ‘ نہ دو ۔ بغیر حسابتم سے اس کی حساب فہمی نہ ہوگی کہ کیوں دیا اور کیوں نہ دیا ‘ کیونکہ تصرف کا پورا اختیار تم کو دے دیا گیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ نے جس نعمت سے سرفراز کیا ‘ آخرکار وہ نعمت اس کیلئے انجام بد بن گئی سوائے حضرت سلیمان کے ‘ کیونکہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ : یعنی دنیوی بادشاہی کے علاوہ اسے ہمارے ہاں خاص قرب حاصل ہے اور ان کے لیے آخرت کا بہترین ٹھکانا یعنی سب سے بلند مقام جنت الفردوس تیار ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–40

34 ۔ 40:۔ وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (1) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–40

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) اپنی سند میں طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا نہیں سنی مگر آپ اس کو ” سبحان ربی الاعلی الوھاب “ سے شروع فرماتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ (فرمایا اے میرے رب ! میرے قصور معاف کردیجئے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو) یعنی اس سے ملک نہ چھینا جائے، آپ نے مجھ سے چھین لیا تھا (جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی گم ہوجانے پر حکومت چھین لیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّ لَهٗ [اور بیشک ان کے لئے ہے ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] لَزُلْفٰى [یقینا زیادہ قریب ہونا ] وَحُسْنَ مَاٰبٍ [اور ٹھکانے کا حسن ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–40

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–40

قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔ گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

34:۔ ” ھذا الخ “۔ یہ اللہ کی طرف سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے خطاب ہے۔ یہ ملک عظیم اور انعامات بےپایاں ہم نے تجھے دئیے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ اس میں سے اوروں کو بھی دے یا نہ دے۔ قال ابن عباس ؓ اعط من شئت وامنع من شئت بغیر ھساب ای لیس علیک حرج فیما اعطیت وفیما امسکت (کبیر ج 7 ص 205) ۔ ” وان لہ عندنا الخ “: اس دنیوی سلطنت، تسخیر ریح و شیاطین کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہمارے یہاں مرتبہ بہت بلند ہے اور ان کی عاقبت بھی محمودہ ہے اور وہ ہمارے مقبول اور برگزیدہ بندے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–40

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔ (دوسری آزمائش) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ۝ 40ۧ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–40

ھذا عطاؤنا سلیمان ( علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا، یہ ہماری بےحساب نعمت ہے، خواہ آپ کسی کو دیں یا نہ دیں، ہر طرح سے آپ کو مختار کیا گیا اور اس پر موقوف نہیں، آخرت میں بھی سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے ہمارے پاس بلند مرتبہ اور عمدہ ٹھکانا ہے، یعنی جنت جسمانی و روحانی۔ جو لوگ وجود جن اور خرق عادات کے قائل نہیں وہ ہوا کے مسخر ہونے کے یہ معنے کہتے ہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے دریائِ قلزم کے کنارے پر جو ادوم کی سرزمین ہے، جہازوں کی بحر بنائی اور حیرام نے اس بحر میں اپنے جاکر ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے، ان کے ساتھ بھجوائے، وہ اوفیر جاکر سونا لاتے تھے۔ جہاز ہوا سے چلا کرتے تھے اور ہوا سلیمان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

ھٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ وَاِنَّ لَـہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 39، 40) (یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، پس احسان کرو یا روک لو۔ یقینا اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام اور بہترین مرجع ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بڑی سے بڑی بخشش بھی اس کی دین ہے خاتمہ کلام پر پروردگار نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ تسخیرِعناصر اور شیاطین کا قبضے میں دینا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں جو آپ کی امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کے ہیں۔ آپ نے کبھی خواب و خیال میں بھی اس کا تصور نہیں کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام پر کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–40

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایسے اختیارات دیئے جو کسی حکمران کو حاصل نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا وہ ملک کے جس حصے کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ ہوا انہیں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی وہ دو ماہ کا سفر صبح و شام طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے دیو ہیکل جِنّات کو ان کے تابع کردیا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جِنّوں کو مختلف کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ ایک جماعت کو تعمیرات کے کام پر لگایا اور دوسری جماعت کو سمندر پر مامور کیا جو غوطہ زنی کرتے ہوئے سمندر سے ہیرے جواہرات نکالا کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

40: وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ (اور ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور نیک انجامی ہے) نحو : لزلفٰی یہ اِنَّ کا اسم ہے اور لہؔ خبر ہے اور عندؔ میں خبر عامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 39–40

39، ھذا عطاء نا، ہم نے ان کو کہا کہ یہ ہماری طرف سے عطاء کردہ تھا۔ ، فامنن او امسک ، فامنن سے مراد احسان ہے کہ اب یہ ہماری طرف سے آپ کے اوپر احسان ہے۔ آپ جس کو چاہیں دے دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ ، بغیر حساب ، اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ جس کو چاہیں عطاکریں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ حسن کا قول ہے اللہ نے جس کسی کو نعمت سے سرفراز کیا آخرکاروہ نعمت اس کے لیے انجام بدبن گئی سوائے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کیوں کہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان کو ثواب ملے گانہ دیں تو انجام میں مؤ اخذ ہ نہ ہوگا۔ مقاتل نے کہا، ھذاعطاء نا، کا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی جنات کی تسخیر ہمارا خاص عطیہ ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–40

34۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–40

آیت 30 اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن) (1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔ یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–43

گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

56 حضرت سلیمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے حضرت سلیمان کے لیے ان کے حسن تصرف کے نتیجے اور انعام کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کیلئے ہمارے ہاں خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانہ بھی "۔ یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ دنیا میں آپ (علیہ السلام) کو نبوت و حکومت سے بھی سرفراز فرمایا گیا اور آخرت کی ابدی زندگی میں بھی بےمثال نعمتوں اور عظیم الشان مراتب و درجات سے نوازا گیا ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الَّذِیْ لا حَدَّ لِکَرَمِہٖ وَ الاِحْسَانِ ۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ ملنے اور ان تمام عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز ہونے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–40

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات تشریح : یہ آیات شان کریمی کی روشن دلیل ہیں۔ اللہ کو نخوت غرور نا شکری اور تکبر بےحد ناپسند ہے وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب ضرور ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں استغفار، شکر، عاجزی، انکساری اور فرمانبرداری اس قدر پسند ہے کہ جس کی مثال سیدنا سلیمان ہیں۔ جب انہوں نے صبر و شکر سے استغفار کیا اور دعا مانگی تو ان کی منہ مانگی دعا قبول ہوگئی واقعی آج تک کسی کو ہواؤں، جِنوں اور پھر تمام نعمتوں کو خرچ کرنے پر حساب کتاب سے آزادی نہیں ملی۔ آپ کو پورا اختیار دیا گیا تھا کہ اپنی مرضی سے ہواؤں کو چلاؤ اور جنوں کو بھی آپ کے قبضہ میں کردیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–40

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40: اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–41

ف 7 قرآن نے عموماً ایسے۔ امور کی نسبت شیطان کی طرف کی ہے جن میں شر یا ایذا کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو۔ کیونکہ کسی نہ کسی قریب یا بعید وجہ میں ایسے امور کا تعلق شیطان ہی سے ہوتا ہے۔ اس معنی میں حضرت ایوب ( علیہ السلام) نے اپنی جسمانی بیماری یا مالی تکلیف کی نسبت شیطان کی طرف کردی ہے ورنہ انبیاء ( علیہ السلام) کے جسم و قلب پر شیطان کو تسلط نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اس مقام پر تفسیروں میں اسرائیلی قصہ درج کیا گیا اور دعا ظ مبالغہ آمیزی کے ساتھ عوام کی دلچسپی کے لئے داستان گوئی کرتے رہتے ہیں۔ ( ابن حزم)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 40–41

(38:40) وان لہ : ای وان مع ذلک المال والملک یعنی اس ملک اور سلطنت اور ان میں بہمہ نوع اختیارات تصرف دینے کے علاوہ ان کو بارگاہ الٰہی میں قرب اور حسن مآب (جنت کی خوشخبری) ہے۔ زلفی وحسن ماب۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔ متذکرہ بالا۔ واذکر ۔۔ کا عطف واذکر عبدنا داؤد پر (آیۃ : 17) پر ہے۔ عبدنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ منصوب بوجہ مفعول اذکر۔ ایوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا اس کا بدل ہے۔ اذ نادی ربہ : عبدنا یا ایوب کا بدل اشتمال ہے۔ جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔ انی : ای بانی۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم ۔ کہ بیشک میں ۔ مسنی۔ مس ماضی واحد مذکر غائب مس باب نصر سے۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مفعول۔ اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–40

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ) تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–40

(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–40

ف 2: ان آیتوں میں حضرت سلیمان کی وسعت سلطنت کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر وہ ہواؤں میں اڑتے تھے اور ان کا تخت ہوائی ان کے تابع تھا ۔ جہاں وہ چاہتے تھے جاتے تھے ۔ اور ہر نوع کے کام کرنے والے ان کے مسخر تھے ۔ حل لغات :۔ الصفنات ۔ صافۃ کی جمع ہے ۔ وہ گھوڑے جو تین پاؤں اور چوٹھے سم پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ مراداصل اور عمدہ گھوڑوں سے ہے الجیاد ۔ جواد کی جمع ہے ۔ بمعنی تیز رفتار گھوڑے فتنا ۔ حضرت سلیمان کے ایک دوسرے واقعہ کا ذکر ہے جب وہ دشمنوں کے حملہ کی خبر سے متاثر ہوکر اپنی کرسی پر سے گر پڑے ، اور ان کو معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط ہے تو ہوش میں آئے اور سجدہ شکر ادا کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) اور یقینا ہمارے ہاں سلیمان کے لئے خاص قرب اور بڑی اچھی باز گشت ہے۔ یعنی یہ سب طاقتیں اور زروجواہر دے کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ہمارا عطیہ ہے چاہے کسی کو دو یا نہ دو تم سے کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی داروگیر نہیں۔ یعنی ہر قسم کے تصرف کا تجھ کو اختیار ہے تو محض خازن اور حارس نہیں ہے یا بغیر حساب عطائونا کے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دیا ہے وہ بےحساب ہے نہ کوئی شمار کرسکتا ہے اور نہ گھیر سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جنات کا مسخرا کرنا ہماری بخشش ہے اب تو چاہے جس پر احسان کر اور چھوڑ دے اور جس کو چاہے قیدرکھ اور اس سے کام لے۔ آگے ان کے خصوصی قرب اور اچھی بازگشت کا ذکر فرمایا جیسے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 2۔ قصہ جہاد میں صبر یہ ہوا کہ اتنے مال کثیر کی کچھ پروا نہ کی، یہ غایت ثبات فی الدین کی کہ حقیقت صبر کی یہی دلیل ہے، اور قصہ جسد میں توبہ کرنا باوجودیکہ یہ معصیت نہ تھی نیز دلیل ہے غایب ثبات فی الدین کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں اعلیٰ مرتبہ اور بہتر انجام ہے 40۔ فرمایا اس دنیا کی سلطنت ومملکت کا تعلق تو بہر حال اس دنیا سے ہے اور جس طرح یہ دنیا فانی ہے ان ساری چیزوں کو بھی فنا ہے ، کوئی انسان کتنا ہی مقتدر ہو اور کتنی عزت و تکریم کا مالک بنا دیا جائے بہرحال یہ دنیا بھی عارضی اور اس کا اقتدار بھی عارضی اور اس دناک کی عمر ومہلت بھی عارضی ، اس جگہ آخر ہمیشگی کس کو ہے اس لیے اس دنیا میں حکومت و سلطنت اور اس میں ہر طرح کے تصرف و اختیارات دینے پر بس نہیں بلکہ آپ کے لیے خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ سلیمان (علیہ السلام) کو ہماری بارگاہ عزت میں بڑا قرب حاصل ہے اور انہیں حسن تاب کی خوشخبری سنا دی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–40

In verse 38, it was said: مُقَرَّ‌نِينَ فِي الْأَصْفَادِ (held in chains). Details about the subjugation of Jinns and the services they performed have appeared earlier in the commentary on Surah Saba' within this Volume VII. Here, it has been said that Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) was holding the unruly Jinns by having them chained. Now, it is not necessary that these chains be the visible chains of iron. It is possible that there could have been some other method used to tie them up more tightly or securely - and it has been expressed as 'chains' for the sake of common comprehension.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

40 Here, the object is to tell that just as a servant's arrogance causes Allah's displeasure and wrath, so does his humility earns Allah's pleasure and approval for him. If a servant commits an error and becomes even more arrogant when warned, he is led to the same fate as is being mentioned in connection with the story of Adam and Satan below. Contrary to this, if a servant happens to commit an error and he repents and bows down before his Lord humbly, he is blessed with such bounties as the Prophets David and Solomon were blessed with. The prayer that Solomon had made after seeking Allah's…

Read the full tafseer →