Saad 38:39

Saad · from ayah 39

38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۟هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[We said], "This is Our gift, so grant or withhold without account."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:39

(ہم نے اُس سے کہا) "یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور ان سے کہا تھا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے، اب تمہیں اختیار ہے کہ احسان کر کے کسی کو کچھ دو ، یا اپنے پاس رکھو، تم پر کسی حساب کی ذمہ داری نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر یا روک رکھ تجھ پر کچھ حساب نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ارشاد ہوا:) یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہماری عطا ہے، سو احسان کر، یا روک رکھ، کسی حساب کے بغیر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ہم نے ان سے کہا) یہ ہماری بخشش ہے۔ اب کسی پر احسان کرو یا اپنے پاس رکھو، کوئی حساب نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہماری بےحساب بخشش ہے تو چاہو اس کو بخشو یا روکو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یہ سب کچھ دے کر ہم نے ان سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ) یہ ہماری بخشش ہے اب (تمہاری مرضی کہ) تم احسان کرو یا روک رکھو بغیر کسی حساب کے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ہماری بخشش ہے سو خواہ کسی کو دو یا نہ دو تم پر کچھ حساب نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہماری عطا ہے پس تم چاہو تو لوگوں پر احسان کرو یا اپنے پاس روکے رکھو اس پر کوئی حساب نہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے سلیمان !) یہ ہماری بخشش ہے چاہو تو احسان کرو چاہو تو رکھ چھوڑو، تم سے کوئی حساب نہ ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

“This is Our bestowal. So give or withhold as you wish without account.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is Our gift. So, do favor (to someone) or withhold (it), with no (requirement to give) account.

— Muhammad Taqi Usmani

This is Our gift. So, do favor (to someone) or withhold (it), with no (requirement to give) account.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Saying): This is Our gift, so bestow thou, or withhold, without reckoning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[We said], "This is Our gift, so grant or withhold without account."

— Saheeh International

We told him, "This is Our gift to you so give them away free or keep them as you like".

— Muhammad Sarwar

This is Our free gift, therefore give freely or withhold, without reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

This is Our gift, SO bestow thou or withhold, without rendering an account.

— Abdul Majid Daryabadi

"Such are Our Bounties: whether thou bestow them (on others) or withhold them, no account will be asked."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–40

سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 39 اس آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، تمہیں اختیار ہے کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہے نہ دو۔ دوسرے یہ کہ یہ ہماری بخشش ہے، جسے چاہو دو نہ دو ، دینے یا نہ دینے پر تم سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا۔ ایک اور مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ شیاطین کلیۃً تمہارے تصرف میں دے دیے گئے ہیں، ان میں سے جسے چاہو رہا کردو اور جسے چاہو روک رکھو، اس پر کوئی محاسبہ تم سے نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ (زنجیروں میں جکڑے ہوئے) جنات کی تسخیر اور جو خدمات وہ انجام دیتے تھے، ان کی تفصیل سورة سبا میں گزر چکی ہے، یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ سرکش جنات کو حضرت سلیمان نے زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اب ان زنجیروں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ یہی نظر آنے والی لوہے کی زنجیریں ہوں، ہوسکتا ہے کہ جنات کو جکڑنے کے لئے کوئی اور طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔ جسے آسانی سے سمجھانے کے لئے یہاں زنجیروں سے تعبیر کردیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

ھذا عطآء نا فامنن اوامک بغیر حساب (29) بغیر حساب کا تعلق ھذا عطائونا سے ہے۔ یعنی یہ عظیم نعمتیں تمہعارے قیاس و گمان اور تمہاری امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ تم خاب و خیال میں بھی ان کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی فامنن اوملک یہ ان کے اس اختیار کا بیان ہے جو ہعر مالک کو اس کی ملکیت اور ہر بادشاہ کو اس کی مملکت میں حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم چاہو تو اس کو لوگوں پر خرچ کرو اور چار ہو تو اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہو، تم کو دونوں کا حق حاصل ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ آزادی اور اختیارات تمہیں دونوں بالوں کے لئے حاصل ہے لیکن فیاضی کرو گے تو اس کا حق ادا کرو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–40

20: حضرت سلیمان ؑ کو یہ دولت مالک بنا کر دے دی گئی تھی، اور یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جتنی چاہیں، خود رکھیں، اور جتنی چاہیں، کسی اور کو دیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھذا۔۔۔ حساب (38: 39) ” یہ ہماری بخشش ہے تجھے اختیار ہے ، جسے چاہے دے اور جس سے چاہئے روک لے کوئی حساب نہیں ہے “۔ یہ اس لیے کہ آپ کو اللہ بہت بڑا اعزاز دینا چاہتا تھا کہ حکومت پر کوئی مالی قدغن عائد نہیں ہے۔ مزید اس پر یہ اضافہ فرمایا کہ حضرت سلیمان ہمارے نزدیک بہت ہی مقرب اور برگزیدہ بندے تھے۔ اور ان کا انجام بہتر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی کسی کو بخشش دو یا نہ دو تم مختار ہو۔ اس قدر بےحساب دیا اور حساب و کتاب کا مواخذہ بھی نہیں رکھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ اور مہربانی کی کہ اتنی دنیا دی اور مختار کردیا۔ حساب معاف کر کے لیکن وہ کھاتے تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے ٹوکرے بنا کر۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 { ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”یہ ہماری عطا ہے ‘ پس تم چاہو تو لوگوں پر احسان کرو یا اپنے پاس روکے رکھو ‘ اس پر کوئی حساب نہیں۔“ ہم نے سلیمان علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ ہم نے جو نعمتیں تمہیں عطا کر رکھی ہیں ان میں سے جو چاہو لوگوں میں تقسیم کرو اور جو چاہو اپنے پاس رکھو۔ نیز جس کو چاہو دو اور جس کو چاہو نہ دو۔ اس معاملے میں آپ علیہ السلام سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 جنوں پر سیدنا سلیمان کی حکمرانی :۔ یعنی جنوں کے معاملہ میں آپ کو مکمل اختیارات حاصل تھے کسی سے کام لیں یا نہ لیں۔ کسی کو معاوضہ دیں یا نہ دیں۔ یہ معاوضہ تھوڑا دیں یا زیادہ دیں۔ یہ سب کچھ آپ کی صوابدید پر منحصر تھا۔ اور اگر اس آیت کو عام سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے آپ کو بےپناہ مال و دولت عطا کی تھی۔ اور کہہ دیا تھا کہ اسے جیسے چاہو خرچ کرو آپ سے اس کا کچھ مؤاخذہ نہ ہوگا۔ اب ایک طرف اللہ تعالیٰٰ کے انعامات کا یہ حال ہے کہ بےحساب مال و دولت دے کر فرمایا کہ جیسے چاہو خرچ کرو آپ سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ دوسری طرف سیدنا سلیمان کا یہ حال تھا کہ اپنی ذاتی ضروریات کے لئے بیت المال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38۔ یعنی تم اس سارے سازوسامان، مال وجاہ کے محض خازن یا امین نہیں ہو۔ مالک ہو اور ہر طرح تصرف کے مجاز ومختار، تم سے حساب کتاب نہ دینے پر ہوگا اور نہ نہ دینے پر۔ اے لاحساب علیک فی ذلک (مدارک) اے مھما فعلت فھو جائز لک احکم بما شئت فھو صواب (ابن کثیر) آیت سے یہ ظاہر ہوگیا کہ شریعت اسلامی میں بادشاہ ہمیشہ اور لازمی طور پر خزائن ملک کا محض امین ومتولی ہی نہیں ہوتا مالک ومختار مطلق بھی ہوسکتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سالک کا بڑا سرمایہ جمیعت قلب ہے۔ اسی لیے محققین صوفیہ کو اس کا بڑا اہتمام رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–40

آیت نمبر 27 تا 40 ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا عطاؤنا فامنن او امسک بغیرحساب۔ (اور ہم نے کہا :) یہ ہماری دین ہے ‘ اب تم کسی کو دو یا نہ دو ‘ تم سے کچھ داروگیر نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے سلیمان یہ ہماری عنایت کردہ بادشاہت ہے کہ اس کے ذریعے سے ہم نے تمہیں جنات پر بادشاہت دی ہے تو ان سرکشوں میں سے پر چاہو احسان کرو اس کو رہا کر دو یا قید ہی میں پڑا رہنے دو تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھٰذَا عَطَاۗؤُنَا فَامْنُنْ : یعنی ہم نے تمہاری دعا کے مطابق تمہیں عظیم بادشاہی عطا کردی، اب تم جسے چاہو دو جسے چاہو نہ دو اور جتنا چاہو دو ، تم سے کوئی حساب بھی نہیں لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–40

34 ۔ 40:۔ وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (1) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–40

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) اپنی سند میں طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا نہیں سنی مگر آپ اس کو ” سبحان ربی الاعلی الوھاب “ سے شروع فرماتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ (فرمایا اے میرے رب ! میرے قصور معاف کردیجئے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو) یعنی اس سے ملک نہ چھینا جائے، آپ نے مجھ سے چھین لیا تھا (جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی گم ہوجانے پر حکومت چھین لیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا عَطَاۗؤُنَا [یہ ہماری بخشش ہے ] فَامْنُنْ [تو (اب) آپ (علیہ السلام) احسان کریں (کسی پر)] اَوْ اَمْسِكْ [یا آپ (علیہ السلام) روک لیں (کسی سے)] [بِغَيْرِ حِسَابٍ : کسی حساب کتاب کے بغیر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–40

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–40

قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔ گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

34:۔ ” ھذا الخ “۔ یہ اللہ کی طرف سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے خطاب ہے۔ یہ ملک عظیم اور انعامات بےپایاں ہم نے تجھے دئیے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ اس میں سے اوروں کو بھی دے یا نہ دے۔ قال ابن عباس ؓ اعط من شئت وامنع من شئت بغیر ھساب ای لیس علیک حرج فیما اعطیت وفیما امسکت (کبیر ج 7 ص 205) ۔ ” وان لہ عندنا الخ “: اس دنیوی سلطنت، تسخیر ریح و شیاطین کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہمارے یہاں مرتبہ بہت بلند ہے اور ان کی عاقبت بھی محمودہ ہے اور وہ ہمارے مقبول اور برگزیدہ بندے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–40

ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔ (دوسری آزمائش) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا عَطَاۗؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝ 39 عطا العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء : الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ( ع ط و ) العطوا ( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔ منن والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–40

ھذا عطاؤنا سلیمان ( علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا، یہ ہماری بےحساب نعمت ہے، خواہ آپ کسی کو دیں یا نہ دیں، ہر طرح سے آپ کو مختار کیا گیا اور اس پر موقوف نہیں، آخرت میں بھی سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے ہمارے پاس بلند مرتبہ اور عمدہ ٹھکانا ہے، یعنی جنت جسمانی و روحانی۔ جو لوگ وجود جن اور خرق عادات کے قائل نہیں وہ ہوا کے مسخر ہونے کے یہ معنے کہتے ہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے دریائِ قلزم کے کنارے پر جو ادوم کی سرزمین ہے، جہازوں کی بحر بنائی اور حیرام نے اس بحر میں اپنے جاکر ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے، ان کے ساتھ بھجوائے، وہ اوفیر جاکر سونا لاتے تھے۔ جہاز ہوا سے چلا کرتے تھے اور ہوا سلیمان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

ھٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ وَاِنَّ لَـہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 39، 40) (یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، پس احسان کرو یا روک لو۔ یقینا اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام اور بہترین مرجع ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بڑی سے بڑی بخشش بھی اس کی دین ہے خاتمہ کلام پر پروردگار نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ تسخیرِعناصر اور شیاطین کا قبضے میں دینا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں جو آپ کی امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کے ہیں۔ آپ نے کبھی خواب و خیال میں بھی اس کا تصور نہیں کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام پر کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–40

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایسے اختیارات دیئے جو کسی حکمران کو حاصل نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا وہ ملک کے جس حصے کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ ہوا انہیں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی وہ دو ماہ کا سفر صبح و شام طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے دیو ہیکل جِنّات کو ان کے تابع کردیا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جِنّوں کو مختلف کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ ایک جماعت کو تعمیرات کے کام پر لگایا اور دوسری جماعت کو سمندر پر مامور کیا جو غوطہ زنی کرتے ہوئے سمندر سے ہیرے جواہرات نکالا کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رزق پر عدم دادگیر کا وعدہ : 39: ھٰذَا (یہ) جو تمہیں بادشاہی، مال ‘ و سعت ِرزق عنایت کی ہے۔ عَطَآ ؤُ نَا فَامْنُنْ (عطیہ ہے اس کو دو ) اس میں سے جو چاہو جتنا چاہو دو یہ فامنن اَلْمَنُّ سے بنا ہے۔ وہ عطاء کو کہتے ہیں اَوْاَمْسِکْ (یا نہ دو ) یعنی عطاء سے رک جائو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب دیتے تو اجر ملتا اور اگر روک لیتے تو گناہ گار نہ تھے بخلاف دیگر لوگوں کے۔ بِغَیْرِ حِسَابٍ (تم سے کچھ دار وگیر نہیں) یہ عطاؤنا کے متعلق ہے بعضؔ نے کہا یہ اس سے حال ہے یعنی یہ ہمارا کثیر مقدار میں عطیہ ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا یا نمبر 2۔ یہ تسخیر ہمارا عطیہ ہے۔ شیاطین میں سے جن کو تم چاہو احسان کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 39–40

39، ھذا عطاء نا، ہم نے ان کو کہا کہ یہ ہماری طرف سے عطاء کردہ تھا۔ ، فامنن او امسک ، فامنن سے مراد احسان ہے کہ اب یہ ہماری طرف سے آپ کے اوپر احسان ہے۔ آپ جس کو چاہیں دے دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ ، بغیر حساب ، اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ جس کو چاہیں عطاکریں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ حسن کا قول ہے اللہ نے جس کسی کو نعمت سے سرفراز کیا آخرکاروہ نعمت اس کے لیے انجام بدبن گئی سوائے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کیوں کہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان کو ثواب ملے گانہ دیں تو انجام میں مؤ اخذ ہ نہ ہوگا۔ مقاتل نے کہا، ھذاعطاء نا، کا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی جنات کی تسخیر ہمارا خاص عطیہ ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–40

34۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–40

آیت 30 اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن) (1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔ یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–43

گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

56 حضرت سلیمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے حضرت سلیمان کے لیے ان کے حسن تصرف کے نتیجے اور انعام کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کیلئے ہمارے ہاں خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانہ بھی "۔ یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ دنیا میں آپ (علیہ السلام) کو نبوت و حکومت سے بھی سرفراز فرمایا گیا اور آخرت کی ابدی زندگی میں بھی بےمثال نعمتوں اور عظیم الشان مراتب و درجات سے نوازا گیا ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الَّذِیْ لا حَدَّ لِکَرَمِہٖ وَ الاِحْسَانِ ۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ ملنے اور ان تمام عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز ہونے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–40

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات تشریح : یہ آیات شان کریمی کی روشن دلیل ہیں۔ اللہ کو نخوت غرور نا شکری اور تکبر بےحد ناپسند ہے وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب ضرور ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں استغفار، شکر، عاجزی، انکساری اور فرمانبرداری اس قدر پسند ہے کہ جس کی مثال سیدنا سلیمان ہیں۔ جب انہوں نے صبر و شکر سے استغفار کیا اور دعا مانگی تو ان کی منہ مانگی دعا قبول ہوگئی واقعی آج تک کسی کو ہواؤں، جِنوں اور پھر تمام نعمتوں کو خرچ کرنے پر حساب کتاب سے آزادی نہیں ملی۔ آپ کو پورا اختیار دیا گیا تھا کہ اپنی مرضی سے ہواؤں کو چلاؤ اور جنوں کو بھی آپ کے قبضہ میں کردیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–40

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40: اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہماری دین ہے۔۔۔۔۔ ( لوگوں کو اس میں سے دینے یا نہ دینے میں) تجھ پر کوئی محاسبہ نہیں ہے۔ “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:39) ھذا عطاؤنا ۔۔ الخ ای قلنا لسلیمن ۔۔ الآیۃ۔ ھذا۔ اسم اشارہ قریب واحد مذکر۔ یہ۔ اس کا مشار الیہ ملک و مال و اقتدار کی عطائگی ہے۔ جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یہ ہماری عطاء ہے (آپ کو) ۔ فامنن۔ من باب نصر مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو احسان کو تو خرچ کر۔ امساک۔ امساک (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو روک رکھ۔ بغیر حساب۔ بغیر حساب کے۔ اس آیت کے مندرجہ ذیل مطلب ہوسکتے ہیں :۔ (1) یہ عطاء ہماری بہت بڑی اور بیحد و حساب ہے اسے خرچ کرو یا رکھ چھوڑو۔ یعنی اس کو خود خرچ کرو یا رکھ چھوڑو۔ دوسروں کا دو یا نہ دو (تمہیں اختیار ہے) اس صورت میں بغیر حساب متعلق بہ عطاؤنا ہے۔ (2) یہ ہماری بخشش…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–40

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ) تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–40

(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–40

ف 2: ان آیتوں میں حضرت سلیمان کی وسعت سلطنت کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر وہ ہواؤں میں اڑتے تھے اور ان کا تخت ہوائی ان کے تابع تھا ۔ جہاں وہ چاہتے تھے جاتے تھے ۔ اور ہر نوع کے کام کرنے والے ان کے مسخر تھے ۔ حل لغات :۔ الصفنات ۔ صافۃ کی جمع ہے ۔ وہ گھوڑے جو تین پاؤں اور چوٹھے سم پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ مراداصل اور عمدہ گھوڑوں سے ہے الجیاد ۔ جواد کی جمع ہے ۔ بمعنی تیز رفتار گھوڑے فتنا ۔ حضرت سلیمان کے ایک دوسرے واقعہ کا ذکر ہے جب وہ دشمنوں کے حملہ کی خبر سے متاثر ہوکر اپنی کرسی پر سے گر پڑے ، اور ان کو معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط ہے تو ہوش میں آئے اور سجدہ شکر ادا کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) یہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اے سلیمان یہ ہماری بخشش اور عطیہ ہے اب تو جس پرچا ہے احسان کر یا روک رکھ تجھ سے کوئی حساب نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–39

ف 1۔ حدیث شیخین میں ہے کہ ایک بار سلیمان (علیہ السلام) اپنے امراء لشکر پر ان کی کسی کوتاہی جہاد پر خفا ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں آج کی رات اپنی ستر بیبیوں سے ہمبستر ہوں گا اور ان سے ستر مجاہد پیدا ہوں گے، فرشتہ نے قلب میں القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے، آپ کو کچھ خیال نہ رہا۔ چناچہ صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اور اس سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا، جس کے ایک طرف کا دھڑ نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہماری عطا ہے کہ تو جس کو چاہے عطا کرے اور جس سے چاہے روک دے 39۔ سلیمان (علیہ السلام) کے نبی و رسول بھی تھے صرف بادشاہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو احسانات آپ پر کیے وہ دنیا دار بادشاہوں کی طرح ان انعامات و احسانات کو حاصل کرنے میں اپنا کمال اور بہادری نہیں سمجھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی سمجھتے تھے اور جس کو وہ عطا کرتے اس کو عطا کرتے جس کو عطا کرنا چاہتے اور جس سے روکتے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے روکتے تھے بلاشبہ آپ حاکم وقت اور اقتدار اعلی کے مالک بنائے گئے لیکن آپ کا حکم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تابع تھا اس لیے اللہ تاعلیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–40

In verse 38, it was said: مُقَرَّ‌نِينَ فِي الْأَصْفَادِ (held in chains). Details about the subjugation of Jinns and the services they performed have appeared earlier in the commentary on Surah Saba' within this Volume VII. Here, it has been said that Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) was holding the unruly Jinns by having them chained. Now, it is not necessary that these chains be the visible chains of iron. It is possible that there could have been some other method used to tie them up more tightly or securely - and it has been expressed as 'chains' for the sake of common comprehension.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

39 This verse can have three meanings: (1) "This is Our unlimited gift: you have the authority to give of it freely w whomsoever you like and keep it from whomsoever you like;" (2) "this is Our gift: you may give of it to whomsoever you like and keep it from whomsoever you like: you will not be called to account for giving it or keeping it from the people;" and (3) Another meaning of it given by some commentators is: The satans have been placed entirely under your control: you may set free whomsoever you like and restrain whomsoever you like: you will not be held accountable for this."

Read the full tafseer →