Saad 38:46

Saad · from ayah 46

38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَی الدَّارِ ۟ۚاِنَّاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ذِكۡرَى الدَّارِ‌ۚ‏

ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We chose them for an exclusive quality: remembrance of the home [of the Hereafter].

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:46

ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دار آخرت کی یاد تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے انہیں ایک خاص وصف کے لیے چن لیا تھا، جو (آخرت کے) حقیقی گھر کی یاد تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک ہم نے اُن کو آخرت کے گھر کی یاد کی خاص (خصلت) کی وجہ سے چن لیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے انھیں ایک خاص صفت کے ساتھ چن لیا، جو اصل گھر کی یاد ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انہیں ایک خاص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا وہ دارآخرت کی یاد تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے ان کو ایک خاص متن … آخرت کی یاد دہانی … پر امور کیا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم نے ان سب کو برگزیدہ کیا تھا ایک خاص صفت یعنی اس گھر کی یاد کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا وہ یاد آخرت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے ان کو خالص کرلیا تھا ایک خالص شے یعنی آخرت کے گھر کی یاد دہانی کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ان کو ایک خاص صفت (یعنی آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily We exalted them in consideration of a sterling quality: their remembrance of the Abode of the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We chose them for a trait of remembering the (eternal) Home (in the Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani

We chose them for a trait of remembering the (eternal) Home (in the Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We purified them with a pure thought, remembrance of the Home (of the Hereafter).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We chose them for an exclusive quality: remembrance of the home [of the Hereafter].

— Saheeh International

We gave them this pure distinction because of their continual remembrance of the Day of Judgment.

— Muhammad Sarwar

Surely We purified them by a pure quality, the keeping in mind of the (final) abode.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We distinguished them with a distinct quality: the remembrance of the Abode.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily We did choose them for a special (purpose)- proclaiming the Message of the Hereafter.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–48

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 46–47

سورة صٓ 49 یعنی ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا، ان کی ساری فکر و سعی آخرت کے لیے تھی، وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبے دیے جو دنیا بنانے کی فکر میں منہمک رہنے والے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں یہ لطیف نکتہ بھی نگاہ میں رہنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لیے صرف الدار (وہ گھر، یا اصل گھر) کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس سے یہ حقیقت ذہن نشین کرنی مطلوب ہے کہ یہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہے ہی نہیں، بلکہ یہ صرف ایک گزر گاہ ہے، ایک مسافر خانہ ہے، جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–47

فکر آخرت انبیاء کا امتیازی وصف ہے ذکری الدار۔ اس کے لفظی معنی ہیں ”گھر کی یاد“ اور ”گھر“ سے مراد آخرت ہے۔ آخرت کے بجائے یہ لفظ استعمال کر کے تنبیہ کردی گئی ہے کہ انسان کو اپنا اصلی گھر آخرت ہی کو سمجھنا چاہئے اور اسی کی فکر کو اپنے افکار و اعمال کی بنیاد بنانا چاہئے۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فکر آخرت انسان کی فکری اور عملی قوت کو اور زیادہ جلا بخشتی ہے۔ بعض ملحدین کا یہ خیال بالکل بےبنیاد ہے کہ فکر آخرت انسان کی قوتوں کو کند کردیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 46–47

(آیت) حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق و حضرت یعقوب (علیہم السلام) کا خاص مشن یہ حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی یاد دہانی فرمائی۔ یہ اسرائیلی سلسلہ رشد و ہدایت کے اصل عمائد ہیں۔ ان لوگوں کو پدر سرا نہ قسم کی سرداری بھی حاصل رہی اور روحانی بصیرت بھی۔ اس وجہ سے ان کی صفت اولوالایدی والابصار آئی ہے یعنی ان کو قوت اور بصیرت دونوں نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے نواز تھا۔ اگر قوت کے ساتھ بصیرت نہ ہو تو آدمی ایک نہایت خطرناک جانو بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ ان کو ہم نے آخرت کی یاد دہانی کے خاص مشن پر مامور کیا تھا اور وہ ہمارے خاص برگزیدہ اخبار میں سے تھے۔ ذکری الدار، خالصۃ سے بدل واقع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–47

46۔ 1 یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چناچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زاہد وتقویٰ کی بنیاد) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–47

23: حضرت ایوب ؑ کی اہلیہ کو ایک مرتبہ شیطان نے اس طرح ورغلایا کہ وہ ایک طبیب کی شکل میں ان کے سامنے آیا، یہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، انہوں نے اس کو واقعی طبیب سمجھ کر اس سے کہا کہ میرے شوہر کا اعلاج کردو، وہ تو شیطان تھا، اس نے کہا کہ اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر تمہارے شوہر کو شفا ہوگئی تو تمہیں یہ کہنا ہوگا کہ اس طبیب نے انہیں شفا دی ہے۔ یہ خاتون چونکہ اپنے شوہر کی بیماری سے پریشان تھیں، اس لیے ان کے دل میں اس کی بات ماننے کا میلان پیدا ہوا، اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب ؑ سے اس کا ذکر کیا۔ حضرت ؑ کو بڑا رنج ہوا کہ شیطان نے ان کی اہلیہ تک رسائی حاصل کرلی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا۔۔۔ الدار (38: 46) ” ان کو ایک خاص صفت کی نبا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دار آخرت کی یاد تھی “۔ یہ انکا مرتبہ اور ان کی بلندی نے ان کو برگزیدہ بنادیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 انبیاء کا امتیاز یہ ہے کہ ان کے برابر خدا کو اور آخرت کو یاد رکھنے والا کوئی نہیں۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے اللہ کے ہاں ان کو سب سے ممتاز مرتبہ حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 { اِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ } ”ہم نے ان کو خالص کرلیا تھا ایک خالص شے ‘ یعنی آخرت کے گھر کی یاد دہانی کے لیے۔“ ان لوگوں کی زندگی کا ایک یہی مقصد تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو آخرت کی زندگی کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔ اس حوالے سے یہ بات میں بارہا عرض کرچکا ہوں کہ اللہ کا جو بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اسے دنیا کے مال و دولت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی میں اگر اس کا کوئی ہدف ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے ‘ انہیں آخرت کے برے انجام سے بچائے۔ پھر اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی ہدف کے لیے صرف ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیتیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 یعنی آخرت کی یاد رکھنا ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو انسان کو اللہ کا برگزیدہ بنا دیتا ہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں نے اس دنیا کو بس ایک مسافر خانہ کی طرح سمجھا اور آخرت کا گھر ہی ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

47۔ خاصان خدا اور مقبولین حق کی اصلی اور امتیازی خصوصیت ان کی ہی یاد آخرت اور اس کا استحضار ہوتا ہے۔ (آیت) ” الدار “۔ سے مراد دارالآخرت ہے کہ وہی دار حقیقی ہے۔ وتعریف الدار للعبد فیہ اشعار بانھا الدار فی الحقیقۃ وانھا الدنیا مجاز (روح) فقہاء اور متکلمین نے آیت سے مسائل ذیل کا بھی استنباط کیا ہے۔ 1۔ (آیت) ” انااخلصنھم “۔ سے ظاہر ہورہا ہے کہ فضائل نبوت وہبی ہیں، کسبی نہیں، (آیت) ” اخلصنھم بخالصۃ “۔ اس پر دلیل ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ معصیت کی ہلکی سی آمیزش سے بھی خلوص کامل میں نقص آجاتا ہے۔ 2۔ (آیت) ” اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “۔ سے یہ نکلتا ہے کہ انبیاء مخصوص ومامور ہدایت وحق نمائی ہی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–64

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا اخلصنھم بخالصۃ ذکر الدار۔ ہم نے ان کو ایک خاص بات کیلئے مخصوص کرلیا تھا اور وہ بات تھی آخرت کی یاد ‘

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ : ان انبیاء میں پائی جانے والی خاص صفت کو پہلے مبہم رکھا کہ ”ہم نے انھیں ایک خاص صفت کے ساتھ چُن لیا“ تاکہ شوق اور تجسّس پیدا ہو کہ وہ خاص صفت کیا ہے، پھر بتایا کہ وہ صفت اصل گھر کی یاد ہے۔ اصل گھر سے مراد آخرت ہے، کیونکہ دنیا گھر نہیں بلکہ گزر گاہ ہے۔ ان انبیاء کا خاص وصف یہ تھا کہ وہ ہر وقت آخرت کو یاد رکھتے تھے اور ہر معاملہ میں اسی کو پیش نظر رکھتے تھے، دنیا کی ہوس کا ان میں کوئی شائبہ نہ تھا اور لوگوں کو بھی وہ ہمیشہ آخرت یاد دلاتے رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 44–47

اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کے بارے میں یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سوکوڑے ماریں گے اس کے سبب کے بارے میں چار اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے حکامیت بیان کی ہے کی ابلیس ایک طبیب کی صورت میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا جس نے حضت ایوب علیہ السما کے علاج معالہ کے لئے اسے دعوت دی تو ابلیس نے کہا : میں اس کا اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب وہ صحت مند ہوجائے تو وہ یہ کہے : تو نے مجھے شفا دی ہے ‘ اس کے سوا میں اس سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا بیوی نے اس بارے میں حضرت ایوب (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ میں ضرور اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–48

1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا پھر آپ کی اولاد کا ذکر فرمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی جمع کا صیغہ اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے عبادت میں قوت والا ” والابصار “ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ [بیشک ہم نے الگ کیا (ممتاز کیا) ان سب کو ] بِخَالِصَةٍ [ایک خالص (بات) سے ] ذِكْرَى الدَّارِ [جو اس (آخرت کے) گھر کی یاد دہانی تھی ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ان کی ایک اور صفت بیان فرمائی (اِِنَّا اَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرٰی الدَّارِ ) (یعنی ہم نے انہیں ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے۔ ) یہ حضرات خالص آخرت کے کاموں میں اور وہاں کی فکر مندی میں لگے رہتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت مالک بن دینار سے اس آیت کی تفسیر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے (نزع اللّٰہ تعالیٰ من قلوبھم حب الدنیا وذکرھا اخلصھم بحب الاخرۃ وذکرھا) (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور اس کی یاد کو نکال دیا اور ان کے دلوں میں خالص آخرت کی محبت ڈال دی اور خالص اسی کے فکر سے آراستہ فرما دیا اور حضرت قتادہ (رح) سے نقل کیا ہے (کانوا یذکرون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–54

تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔ گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–47

38:۔ ” واذکر عبدنا الخ “۔ یہ چوتھی نقلی دلیل ہے ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کرو جو ظاہری اعمال طاعت اور باطنی علوم اوردینی بصیرت میں کامل تھے۔ ” اولی الایدی والابصار “ اولی القوۃ فی الطاعۃ والبصیرۃ فی الدین او اولی الاعمال الجلیلۃ والعلوم الشریفۃ (ابو السعود جلد 7 ص 209) ۔ ہم نے ان کو یاد آخرت کے لیے خاص کردیا اور ان کی تمام تر توجہ اللہ کی اطاعت اور عبادت اور اس کی رضا جوئی پر مرکوز تھی گویا وہ ہر وقت آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے تو جن کا اپنا یہ حال ہو بھلا وہ شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مقبول، برگزیدہ اور نیک بندے تھے لیکن شفیع غالب نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–47

(بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ) گذشتہ درس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) ان کے صبر اور پھر ان کے انعامات کا ذکر ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں بعض دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ابرھیم واسحق ویعقوب “۔ اور آپ ذکر کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور یعقوب (علیہ السلام) آپ نے پوتے ہیں ، یہ سارے ہی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں گذشتہ آیات میں مذکورہ انبیاء کی طرح اس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِكْرَى الدَّارِ۝ 46ۚ خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–55

و اذکر عبادنا ابراھیم و اسحاق و یعقوب جمہور نے عبادنا جمع کے صیغہ سے پڑھا ہے، تب ابراہیم و اسحاق و یعقوب عطف بیان ہوگا اور بعض نے مفرد کا صیغہ پڑھا ہے، تب ابراہیم عطف بیان اور مابعد کا عبدنا پر عطف ہوگا نہ ابراہیم پر یہ ان تین بزرگوار انبیائِ اولو العزم کا ذکر ہے کہ وہ بڑے قوت والے تھے۔ عبادت و نصیحت کے لیے ان کے دل بڑے قوی تھے اور بڑے بینائی والے بھی تھے۔ ہر بات سے عمدہ نتائج نکالتے تھے۔ آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے تھے۔ علمی اور عملی دونوں قوتیں ان کو حاصل تھیں۔ انا اخلصناھم بخالصۃ ہم نے ان کو خالصہ یعنی اخلاص کے لیے خاص کرلیا تھا۔ (علی انھا مصدر بمعنی الاخلاص فیکون ذکری منصوبابہ او بمعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 46–47

اِنَّـآ اَخْلَصْنٰـھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ ۔ وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ۔ (صٓ: 46، 47) (اور ہم نے انھیں امتیاز دیا ایک چنی ہوئی بات کا، اور وہ دارآخرت کی یاد تھی۔ اور وہ یقینا ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک بندوں میں سے ہیں۔ ) ان پیغمبروں کا خاص مشن پیشِ نظر آیت کریمہ میں متذکرہ انبیائے کرام کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی برگزیدگی اور ان کے ممتاز ہونے کی اصل وجہ تھی کہ ان کی ساری فکروسعی کا محورومدار اور حاصل فکرِآخرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ آیت میں ذِکْرَی الدَّارِخالصتاً سے بدل واقع ہوا ہے اور دار سے مراد دارآخرت ہے۔ اس سے دو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–49

فہم القرآن ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد ان کے جدّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور کچھ دوسری شخصیات کا مختصر بیان۔ سورة ہود کی آیت 71 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ جس طرح یہ حضرات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ان میں یکساں طور پر ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ یہ حضرات ہاتھوں اور آنکھوں والے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انبیاء ( علیہ السلام) یادِ آخرت کے لئے مخصوص : 46: اِنَّآ اَخْلَصْنٰھُمْ (ہم نے ان کو مخصوص کیا تھا) ہم نے ان کو اپنے لیے خاص کرلیا۔ بِخَا لِصَۃٍ (ایک خاص بات سے) ایک خاص خصلت کے ساتھ جس میں ملاوٹ نہ تھی۔ ذِکْرَی الدَّارِ (وہ یاد آخرت کی ہے) نحو : نمبر 1۔ ذکرٰی یہ محل نصب میں ہے۔ یا محل رفع میں ہے اعنی محذوف مانیں تو نصبی حالت اور ہی مقدر ہو تو رفعی ہے۔ نمبر 3۔ خالصۃ سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ مطلب یہ ہوا ہم نے ان کو یاد آخرت کے ساتھ مخصوص کردیا یعنی ہم نے اس طرح خالص بنایا کہ وہ لوگوں کو آخرت یاددلانے والے ہیں اور دنیا سے بےرغبتی دلانے والے ہیں۔ جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا طرز عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 46–48

46، انا اخلصناھم، ہم نے آپ کو ان کے لیے چنا۔ ، بخالصۃ ذکری الدار، قراء اہل مدینہ نے ، بخالصۃ، اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات اس کو اضافت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں وہ اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے آخرت کے گھر کو خالص کردیا کہ اسی کے لیے ہم خالص کریں۔ وذکری بمعنی ذکر کے ہے۔ مالک بن دینا کا قول ہے کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور یا دنکال دی اور آخرت کی یاد محبت کے لیے ان کر مخصوص کردیا۔ قتادہ نے ان کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ وہ آخرت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف تبلیغ دیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ آخرت کا ڈررکھنے کے لیے ان کو مخصوص…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–47

45۔ 47۔ اوپر ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے فرمایا تھا کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمان مشرکین مکہ کی ایذا دہی پر صبر کریں گے تو ان کا انجام بھی اچھا ہوگا۔ اسی مطلب کے لئے اب ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام یاد دلایا کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر لوگوں کی ہدایت اور عقبے کی نصیحت کے لئے چنا تھا۔ انہوں نے بھی دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلیں اور صبر کیا۔ اے رسول اللہ کے تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان صبر سے کام لیویں گے تو وقت مقررہ آنے پر ان مشرکوں کی ساری سرکشی خاک مل جاوے گی۔ اور جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور نسل ابراہیمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–48

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذ کر عبدنا) ” ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے “ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا (ابرھیم) ” ابرھیم “ خلیل اللہ (و) ” اور “ ان کے بیٹے (اسحق و) ” اسحاق اور “ ان (ابراھیم) کے پوتے (یعقوب اولی الیدی) ” یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔ “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ( والالصار) اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا (انا اخلصنھم بخالصۃ) ” بیشک ہم نے نھیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔ “ یعنی بہت بڑی خالص صفت کیساتھ جو کہ (ذکری ادار) ” آخرت کی یاد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

63 دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی کی عظمت شان : سو اس سے دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان حضرات انبیائے کرام کا اصل کام دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو چن لیا تھا آخرت کے گھر کی تذکیر و یاددہانی کے لیے "۔ یعنی آخرت کی یاد کہ اصل گھر وہی ہے ۔ { وَاِنَّ الاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَارِ } ۔ (المومن : 39) ۔ یہ دنیا تو محض ایک گزرگاہ اور عارضی منزل ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کا اصل امتیاز اور ان کی خصوصی شان بس اسی دار آخرت کی تذکیر و یاد دھانی تھی۔ مگر افسوس کہ آج اس مادی دور میں انسان آخرت کے اپنے اس حقیقی گھر اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–55

اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–64

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی وہ ہر معاملہ میں اپنے پیش نظر صرف آخرت رکھتے تھے۔ دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا ان میں شائبہ تک نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:46) اخلصنہم بخالصۃ۔ اخلصنا۔ اخلاص (افعال) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور اس کا مرجع حضرت ابراہیم و حضرت استحق و حضرت یعقوب علیہم الصلوٰۃ والتسلیم ہیں) بخالصۃ باء سببیہ ہے خالصۃ اسم فاعل واحد مؤنث اور اس کی تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ ای خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی آلائش یا ملاوٹ سے پاک خصلت۔ ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ان کی ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک خصلت کی وجہ سے ان کو (اپنے لئے) مخصوص کرلیا۔ ای جعلنا ہم خالصین لنا بسب خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ذکری الدر۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–64

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–47

(ف 2) اے محبوب ﷺ قرآن میں ہمارے مقبول بندوں، سچے رسولوں کا ذکر کرو، حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم کہ یہ لوگ اپنے زمانوں میں بڑے قوت والے اللہ کی عبادت میں اور بڑے عمدہ سمجھ والے امور دین ویقین میں گزرے ہیں ہم نے ان کو خاص ایک ہی بات کے لیے خالص کرلیا تھا، دوسری چیز کی طرف التفات ہی نہ کرتے تھے وہ ذکر آخرت اور ذکر خدا یعنی سوائے یاد خدا اور ذکر آخرت کے دنیا کی طرف توجہ ہی نہ رکھتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے اس لیے ان کے ہاتھ پیروں کی عبادت ان کے دلوں کا نور ایمانی سب کچھ اللہ کی مرضی کے موافق تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–47

[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–47

ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) اور ہم نے ان کو ایک خاص وصف کے ساتھ امتیاز دیا کہ وہ دارآخرت کا یاد کرنا تھا۔ مجاہد نے کہا کہ ہم نے ان کو اید آخرت کے لئے خاص کیا تھا کہ ان کو سوائے آخرت کے نہ کوئی ذکر تھا اور نہ کوئی فکر۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کے ذکر جمیل کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو پچھلے لوگ بہترین طریقے سے یاد کرتے ہیں حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم نے دنیا کی محبت ان کے دلوں سے کھینچ لی تھی اور ان کے دلوں کو آخرت کی محبت اور اس کے ذکر سے خاص کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ شاید یہ اس لئے بڑھا دیا ہو کہ اہل غفلت کے کان ہوں کہ جب انبیاء اس فکر سے خالی نہ تھے تو ہم کس شمار میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان سب کو اللہ تعالیٰ نے آخرت کی یاد کے لیے منتخب کیا تھا 46۔ اللہ تعالیٰ نے اس سب کو اپنی خصوصی نعمت کے ساتھ مخصوص کیا تھا یعنی ان سب کو آخرت کی یاد بخشی تھی اور وہ ہر وقت اور ہر آن اپنی آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں متفکر رہتے تھے اور ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہی تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا ان کی ساری فکر و سعی آخرت ہی کے لیے تھی وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی یاد دلاتے تھے یہی وجہ تھی کہ اللہ نے ان سب کی دنیا بھی سنوار دی اور آخرت بھی یقینا سنوار دی اور یہ وہ مرتبے ہیں جو دنیا کے طالبوں کو کبھی حاصل نہیں ہو سکتے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–47

Concern for 'Akhirah is a distinct attribute of the noble prophets The word 'home' in the statement: ذِكْرَ‌ى الدَّارِ‌ (remembering the [ eternal ] Home [ in the Hereafter ]- 38:46) refers to the 'Akhirah, (the Hereafter, the life-to-come). Instead of using the word: 'Akhirah, the text has used the word: الدَّارِ‌ (ad-dar: home) whereby it has warned human beings that they must take 'Akhirah as their real Home, and make the concern for it the basis for whatever they think and do. Right from here, we also come to know that the concern for 'Akhirah further sharpens and furbishes one's…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–47

49 That is, "The real cause for their success and eminence was that there was no tinge of-worldliness in their character: all their efforts, mental and physical, were directed towards the Hereafter. They remembered it themselves and urged others also to remember it. That is why Allah exalted them to such high ranks as have never been attained by those who remained absorbed in earning worldly wealth and prosperity. In this regard, one should also keep in view the subtle point that Allah here has only used the word ad-dar (that abode, or the real abode) for the Hereafter. This is meant to…

Read the full tafseer →