Explained with ayahs 34–40
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔
ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة صٓ 35
ان آیات کے ترجمہ اور تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
ایک گروہ ان کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ گھوڑوں کے معاینے اور ان کی دوڑ کے ملاحظہ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ نماز عصر بھول گئے، یا بقول بعض اپنا کوئی خاص وظیفہ پڑھنا بھول گئے جو وہ عصر و مغرب کے درمیان پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انہوں نے حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ، اور جب وہ واپس آئے تو حضرت سلیمان ؑ نے تلوار لے کر ان کا ٹنا، یا بالفاظ دیگر، اللہ کے لیے ان کو قربان کرنا شروع کردیا کیونکہ وہ ذکر الٰہی سے غفلت کے موجب بن گئے تھے۔ اس مطلب کے لحاظ سے ان آیات کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے۔ " تو اس نے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے سلیمان ؑ کو (ایک اور طرح سے بھی) امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کے تخت پر ایک دھڑلا ڈالا۔ پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا۔
معارف و مسائل
اس آیت میں باری تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی ایک اور آزمائش کا تذکرہ فرمایا ہے، اور اس سلسلے میں صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ اس آزمائش کے دوران کوئی دھڑ حضرت سلیمان ؑ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ اب وہ دھڑ کیا تھا ؟ اس کے کرسی پر ڈالنے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی ؟ یہ تفصیلات نہ قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں۔ اس لئے بعض محقق مفسرین مثلاً حافظ ابن کثیر کا رجحان یہاں بھی اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کی غم والم اور ان کی بےبسی کی تصویر
والقینا علی کرسیہ جسداً یہ نہایت مختصر لیکن نہایت مختصر لیکن نہایت جامع لفظوں میں اس امتحان کا بیان ہے کہ کہاں تو وہ ایک وسیع الاطراف حکومت کے نہایت طاقتور اور صاحب اقتدار بادشاہ تھے یا ہم نے ان کو ان کے تخت پر ایک بالکل جسد بےجان بنا کر ڈال دیا۔ لفظ جسد یہاں بطور کنایہ حضرت سلیمان ؑ کی بےبسی اور ان کے غم و الم کی تصویر کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی اور حالات نے ان کو اس قدر بےبس اور غم زدہ بنا دیا کہ گویا صرف جسم رہ گیا، روح غائب ہوگئی۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک بےبس اور غمزدہ بادشاہ کی،…
Read the full tafseer →34۔ 1 یہ آزمائش کیا تھی، کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا ؟ اور اس کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی بھی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعہ کو اس پر چسپاں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد 70 یا 90 تھی) ہم بستری کرونگا تاکہ ان سے شاہ سوار پیدا ہوں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اس پر انشاء اللہ نہیں کہا تھا (یعنی صرف اپنی ہی تدبیر پر سارا اعتماد کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہیں ہوئی۔ اور حاملہ بیوی نے جو بچہ جنا، وہ ناقص یعنی آدھا تھا۔ نبی ﷺ…
Read the full tafseer →16: یہ ایک اور واقعہ ہے جس کی تفصیل نہ قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے، نہ کسی مستند حدیث اس آیت کی تفسیر کے طور پر کوئی واقعہ ثابت ہوتا ہے۔ جو روایتیں اس آیت کی تفسیر میں بیان کی گئی ہیں، وہ یا تو انتہائی کمزور اور لوغو ہیں، یا ان کا اس آیت کی تفسیر ہونا ثابت نہیں، لہذا سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ جس بات کو خود قرآن کریم نے مبہم چھوڑا ہے اسے مبہم ہی رہنے دیا جائے۔ واقعے کا حوالہ دینے کا جو مقصد ہے، وہ تفصیلات جانے بغیر بھی پورا ہوجاتا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش فرمائی تھی جس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی سے رجوع فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 40
یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح…
Read the full tafseer →6 حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام عورتوں کے پاس جاؤں گا (جو تعداد میں ستر یا نوے یا سو کے قریب تھیں) اور ہر ایک عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ فرشتہ نے القاء کیا کہ " انشاء اللہ " کہہ لیجئے۔ مگر (باوجود دل میں موجود ہونے کے) زبان سے نہ کہا خدا کا کرنا کہ اس مباشرت کے نتیجے میں ایک عورت نے بھی بچہ نہ جنا۔ صرف ایک عورت سے ادھورا بچہ ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دایہ نے وہ ہی ادھورا بچہ ان کے تخت پر لا کر ڈال دیا۔ کہ لو ! یہ تمہاری قسم کا نتیجہ ہے (اسی کو یہاں " جسد " (دھڑ) سے تعبیر کیا ہے) یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ندامت کے ساتھ اللہ…
Read the full tafseer →آیت 34 { وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ } ”اور اسی طرح ہم نے آزمائش میں ڈالا سلیمان علیہ السلام کو ‘ اور اس کے تخت پر ہم نے ایک جسد ڈال دیا ‘ پھر اس نے رجوع کیا۔“
اس واقعہ کے بارے میں ایک مرفوع حدیث موجود ہے۔ واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنے سپہ سالاروں سے غصے کی کیفیت میں کہا کہ تم مت سمجھو کہ میرا اقتدار اور میری طاقت تم لوگوں کے بل پر قائم ہے۔ میں آج رات اپنی تمام بیویوں کے پاس جائوں گا اور ان سب سے بیٹے پیدا ہوں گے جو بڑے ہو کر میرے دست بازو بنیں گے۔ لیکن آپ علیہ السلام یہ کہتے ہوئے ”ان شاء اللہ“ کہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
41 اس آیت کے تحت بعض مفسرین نے درج ذیل حدیث درج کی ہے :
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ سیدنا سلیمان نے کہا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ان سے ہر ایک ایک سوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا آپ کے کسی ساتھی نے کہا انشاء اللہ کہو مگر انہوں نے یہ بات نہ کہی تو ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی ماسوائے ایک کے اور وہ بھی ادھورا بچہ جنی۔ اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب کے ہاں بچے پیدا ہوتے اور سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی) لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →35۔ ہمارے بعض مفسرین نے (اللہ ان کی اجتہادی غلطیوں کو معاف فرمائے) اس مقام پر بعض عجیب عجیب قصے یہود کی کتابوں سے نقل کردیئے ہیں، جو کسی طرح بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے پیغمبر برحق کے شایان شان نہیں، لیکن محققین نے ان کے قبول کرنے سے قطعی انکار کردیا ہے۔ چناچہ امام المفسرین امام رازی (رح) لکھتے ہیں۔
اقول انا شدید التعجب من الناس کیف قبلوا ھذہ الوجوہ السخیفۃ مع ان العقل والنقل یردھا ولیس فی اثباتھا شبھۃ فضلا عن حجۃ (کبیر)
مجھے بڑی حیرت ان لوگوں پر ہے کہ انہوں نے ایسی رکیک حکایات کو قبول ہی کیسے کرلیا، جبکہ عقل ونقل دونوں ان کی تردید کررہے ہیں، اور ان کی تائید میں کوئی دلیل تو کیا ہوتی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا ثم اناب اور ہم نے (ایک اور طرح سے بھی) سلیمان کی
جانچ کی اور اس کی کرسی پر ایک (ادھورا) دھڑ لا ڈالا ‘ پھر اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔
فَتَنَّاہم نے جانچ کی ‘ امتحان میں مبتلا کیا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ایک روز) حضرت سلیمان نے کہا کہ آج رات میں ننانوے عورتوں (اور ایک روایت میں ننانوے کی جگہ سو (100) کا لفظ آیا ہے) کا چکر لگاؤں گا (یعنی سب سے قربت کروں گا) جن میں سے ہر عورت کے بطن سے ایک شہسوار راہ خدا کا مجاہد پیدا ہوگا۔ فرشتے نے کہا : انشاء اللہ بھی کہو۔ لیکن حضرت سلیمان کو خیال نہیں رہا اور انہوں نے انشاء اللہ نہیں کیا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
(31۔ 34) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔
ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔
اور ہم نے سلیمان کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ : روح المعانی کے مصنف آلوسی کے کہنے کے مطابق اس آزمائش سے سب سے زیادہ ظاہر مراد وہ واقعہ ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ لَأَطُوْفَنَّ اللَّیْلَۃَ عَلٰی سَبْعِیْنَ امْرَأَۃً تَحْمِلُ کُلُّ امْرَأَۃٍ فَارِسًا یُجَاہِدُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ إِنْ شَاء اللّٰہُ فَلَمْ یَقُلْ ، وَلَمْ تَحْمِلْ شَیْءًا إِلاَّ وَاحِدًا سَاقِطًا أَحَدُ شِقَّیْہِ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ لَوْ قَالَہَا لَجَاہَدُوْا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، قَالَ شُعَیْبٌ وَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
34 ۔ 40:۔
وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (1) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی…
Read the full tafseer →1:۔ فریابی (رح) و حکیم ترمذی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا “ (اور ہم نے سلیمان کی جانچ کی اور اس کی کرسی پر ایک ادھورا دھڑ ڈالا۔” جسدا “ سے مراد شیطان ہے جو آپ کے تخت پر تھا اور لوگوں کے درمیان چالیس دنوں تک فیصلے کرتا رہا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی ایک بیوی تھی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا اس کے خاندان اور ایک قوم کے درمیان کوئی جھگڑا تھا تو انہوں نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیا مگر اس بات کو پسند کرتے تھے کہ حق اس کے گھروالوں کا ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ عنقریب تجھ پر کوئی آزمائش آئے گی مگر وہ نہیں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ فَتَنَّا [اور بیشک ہم آزمائش میں ڈال چکے ] سُلَيْمٰنَ [سلیمان (علیہ السلام) کو ] وَاَلْقَيْنَا [اور ہم نے ڈالا ] عَلٰي كُرْسِيِّهٖ [ان کے تخت پر ] جَسَدًا [ایک بےجان جسم ] ثُمَّ اَنَابَ [پھر انھوں نے رجوع کیا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں
اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔
گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…
Read the full tafseer →31:۔ ” ولقد فتنا الخ “ سلیمان (علیہ السلام) کو ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ان کے تخت پر ایک جسد ڈالدیا اس آیت میں جسد اور آزمائش کی تعیین نہیں کی گئی اس لیے اس کی تعیین میں بھی اختلاف ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں سے مقاربت کروں گا تو ہر ایک کے بچہ پیدا ہوگا۔ اور ہر بچہ مجاہد ہوگا۔ لیکن انشاء اللہ نہ کہا چناچہ ایک بیوی کے سوا کسی کے بچہ پیدا نہ ہو اور وہ بھی ناقص الخلقت۔ اس کے بعدحضور ﷺ نے فرمایا اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ لیتے تو تمام بیویوں کے بچے پیدا ہوتے اور سب مجاہد و شہسوار ہوتے۔ حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔
(دوسری آزمائش)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ،…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ وَاَلْقَيْنَا عَلٰي كُرْسِيِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ 34
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
تفسیر : ولقد فتنا سلیمان یہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ بیان فرماتا ہے کہ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ پھر اس آزمائش کی قدرے تفصیل کرتا ہے۔
والقینا علی کرسیہ جسد اثم اناب اور اس کی کرسی یعنی تخت پر ہم نے ایک جسم ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا، بعض کہتے ہیں یہ دو واقعہ ہیں۔ ولقد فتنا ایک اور القینا دوسرا۔ قرآن مجید میں اور کسی حدیث میں جہاں تک کہ محدثین نے تلاش کیا ان دونوں واقعوں کی کوئی بھی تفصیل نہیں کہ آزمائش سلیمان ( علیہ السلام) کی کس بات میں تھی اور ان کے تخت پر جسم ڈالنے اور سلیمان ( علیہ السلام) کے رجوع ہونے سے کیا مراد ہے۔ ہاں مفسروں نے بعض اہل کتاب کے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ۔ (صٓ: 34)
(اور ہم نے سلیمان کو بھی آزمایا اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ، پھر اس نے رجوع کیا۔ )
آیت کی تفسیر میں اشکال اور ابن کثیر کی رائے
یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عبدیت، اوابیّت اور انابت الی اللہ کی ایک اور مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ اس سے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے سب سے بڑے حکمران تھے۔ شوکت اور طاقت ان کے نام کا لاحقہ ہو کر رہ گئی تھیں۔ بڑے سے بڑا دشمن ان کے نام اور عظمت سے گھبراتا تھا۔ لیکن جب کبھی ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی آزمائش کے لیے بہت سے طریقے ہیں جن میں دو بڑے طریقے یہ ہیں۔ کبھی اپنے بندے کو نعمت دے کر آزماتا ہے اور کبھی اس سے نعمت چھین کر آزمائش کرتا ہے۔ پہلے واقعہ میں سلیمان (علیہ السلام) کو گھوڑوں کے ذریعے آزمایا گیا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے تھے۔ اس واقعہ میں ان سے نعمت چھین کر آزمایا گیا جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا اور کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔ اس حال میں سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور دعا کی کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھے ایسی…
Read the full tafseer →سلیمان ( علیہ السلام) کا امتحان :
34: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ (ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا) وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ (اور ان کے تخت پر لا ڈالا) کرسی سے تخت مراد ہے۔ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ (ایک دھڑ پھر انہوں نے رجوع کیا) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
ایک قول :
سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش بیس سال حکومت کرنے کے بعد کی گئی۔ اور اس آزمائش کے بیس سال بعد آپ نے حکومت کی۔ ان کی آزمائش یہ تھی کہ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ شیاطین نے کہا اگر یہ زندہ رہا تو ہم مسخر ہونے سے چھوٹ نہیں سکتے۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ ان کو قتل کردیں یا اس کو پاگل بنادیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم…
Read the full tafseer →34، ولقد فتنا سلیمان ، ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جانچ کی اور امتحان لیا اور اس واقعہ کا سبب وہ ہے جس کو محمد بن اسحاق نے وہب کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا امتحان
بغوی نے لکھا ہے کہ محمد اسحاق نے وہب بن منبہ کی روایت سے بیان کیا، وہب نے کہا : حضرت سلیمان نے سنا کہ سمندر میں کوئی جزیرہ ہے جس کا نام صیدون ہے، وہاں کا ایک بڑا بادشاہ ہے۔ جزیرہ کا محل وقوع چونکہ سمندر میں ہے اس لیے کوئی شخص صیدون تک نہیں پہنچتا (اور بادشاہ آزاد ہے ، کسی کاتابع نہیں) اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وہ حکومت عطاکی تھی کہ ان کی حکومت سے بحروبر میں کوئی چیز باہر نہیں تھی ۔ آپ ہواپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
34۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن)
(1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔
یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم
قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔
ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
47 حضرت سلیمان کی ایک آزمائش کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت سلیمان کی آزمائش اور ان کی شان اوابیت وانابت و رجوع الی اللہ کا ایک اور نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جس فتنہ و آزمائش کا ذکر ہے اس سے اور آپ (علیہ السلام) کی کرسی پر دھڑ ڈال دینے سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں قرآن و سنت میں کہیں کوئی تصریح نہیں پائی جاتی۔ کتب تفسیر میں اس بارے میں جو کچھ روایات نقل کی گئی ہیں ان میں سے بعض تو بالکل ہی من گھڑت اسرائیلی روایات ہیں جو عصمت انبیاء کے مشہور و معروف اور مسلمہ عقیدے کے سراسرے خلاف ہیں۔ اور بقول علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین بنی اسرائیل میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش اور بخشش
تشریح : اس میں بھی بڑی مختلف آراء ہیں، لہٰذا بیشمار مستند تفاسیر کی روشنی میں اور ترجمہ کی مناسبت سے میری سمجھ میں تو کچھ اس طرح آیا ہے کہ آپ ایک مرتبہ شدید بیمار ہوگئے اور کمزوری کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے یوں لگتا تھا کہ آپ کے تخت پر ایک بےجان جسم پڑا ہوا ہے۔ تب آپ نے اللہ جل شانہ سے دعا کی اور آپ کی صحت و تندرستی واپس آگئی اور آپ نظام حکومت کو پہلے سے بھی زیادہ اچھی طرح چلانے لگے اور سب سے مختلف حکومت آپ کو ملی وہ اس طرح کہ جنات بھی آپ کے تابع کردیئے گئے تھے اور وہ آپ کے حکم کے منتظر رہتے۔ کچھ اور نعمتیں بھی آپ کو دی گئیں ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 3 اس واقعہ کی تفصیل میں بہت سے علما نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کچھ عرصہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تخت پر صخر نامی ایک جن کو قابض کردیا تھا۔ اس کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی ایک بیوی بت پرست تھی۔ اس کی یہ سزا ملی کہ جتنی مدت اس بیوی نے بت پرستی کی تھی اتنی مدت کیلئے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) تخت سلطنت سے محروم کردیئے گئے اور ان کی انگوٹھی جس میں اسم اعظم تھا ایک لونڈی کے واسطہ سے صخر کے ہاتھ پڑگئی۔ اس کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی دریا میں گرگئی اور ایک مچھلی نے اسے نگل لیا، پھر وہ مچھلی شکار ہو کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس آئی…
Read the full tafseer →(38:34) ولقد فتنا قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے فتنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تحقیق ہم نے آزمایا۔
القینا۔ ماضی جمع متکلم القاء (افعال) مصدر سے۔ ہم نے ڈالا۔ ہم نے ڈال دیا۔
کرسیہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی کرسی۔ اس کا تخت۔ جب کرسی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد علم حکومت ، فرما نروائی۔ سلطنت ہے۔
جسدا۔ بدن ، دھڑ۔ جسد کے معنی جسم ہی کے ہیں۔ مگر یہ اس سے اخص ہے۔ کیونکہ جسد وہ ہے جس میں رنگ ہو۔ اور جسم کا استعمال اس کے لئے بھی ہوتا ہے جس کا رنگ ظاہر نہ ہو۔ جیسے پانی ، ہوا۔ اس کی جمع اجساد ہے۔
اناب۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ انابۃ (افعال) سے وہ رجوع ہوا۔ انابت الی اللہ کے معنی اخلاص عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
[14] اس آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ ان کے تخت پر کوئی جسم ڈال دیا گیا تھا۔ وہ جسم کیا تھا اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی اس کی تفصیل نہ قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا قرآن نے جس بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنی بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی آزمائش کی تھی جس کے بعد انہوں نے پہلے سے زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔ اور قرآن کا مقصد اتنے بیان سے پورا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
حضرت سلیمان کے گھوڑے
1: حضرت سلیمان کے متعلق اس قصہ میں بھی افسانہ آرائی سے کام لیا گیا ہے ۔ اور ان کے متعلق بھی ان کے باپ کی طرح یہ الزام لگایا گیا ہے ۔ کہ انہوں نے نماز عصر کو قضا کردیا تھا ۔ محض گھوڑوں سے محبت اور فریفتگی کی وجہ سے اور پھر آخر میں جب انہوں نے محسوس کیا ۔ کہ بڑی غفلت ہوئی ۔ تو ان گھوڑوں کو قتل کردیا تھا ۔ تاکہ نہ یہ رہیں اور نہ آئندہ آزمائش وابتلاء کا موقع پیش آئے ۔ یہ قصہ قطع نظر اس کے قرآن کے انداز بیان کے خلاف ہے ۔ اور منصب نبوت کے منافی بجائے خود اس درجہ رکیک ہے ۔ کہ عقل تسلیم نہیں کرتی ۔ کیونکہ حضرت سلیمان خود بادشاہ تھے ۔ بادشاہ کے بیٹے تھے ۔ ہمیشہ جاہ وحشم کو دیکھا…
Read the full tafseer →(34) اور یقینا ہم نے سلیمان کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کیا اور ہم نے اس کے تخت پر ایک ناقص الخلقت دھڑلاڈالا۔ پھر سلیمان نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع کیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ماتحت امراء اور سرداروں سے ان کی بعض کوتاہیوں کے سلسلے میں منغص اور ناراض ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ میں آج کی رات اپنی ستریا سو بیویوں سے ہم بستر ہوں گا اور ہر ایک بیوی سے ایک ایک لڑکا پیدا ہوگا تو ان کو جہاد میں استعمال کیا جائے گا۔
اس موقعہ پر فرشتے نے قلب میں السقا کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے مگر سلیمان کو خیال نہ رہا اور زبان سے انشاء اللہ نہ کہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی کے ہاں کچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 1۔ حدیث شیخین میں ہے کہ ایک بار سلیمان (علیہ السلام) اپنے امراء لشکر پر ان کی کسی کوتاہی جہاد پر خفا ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں آج کی رات اپنی ستر بیبیوں سے ہمبستر ہوں گا اور ان سے ستر مجاہد پیدا ہوں گے، فرشتہ نے قلب میں القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے، آپ کو کچھ خیال نہ رہا۔ چناچہ صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اور اس سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا، جس کے ایک طرف کا دھڑ نہ تھا۔
Read the full tafseer →سلیمان (علیہ السلام) کو ایک امتحان میں ڈالا گیا اور بحمد اللہ وہ پاس ہو گیا
34۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کو یہ حکومت اپنے والد ماجد سیدنا دائود (علیہ السلام) سے ملی تھی اور دائود (علیہ السلام) نے اس کو اپنی بہادری اور شجاعت کے بل بوتے اللہ کے خاص فضل و کرم سے حاصل کیا تھا جب کہ آپ طالوت کے لشکر میں شامل ہو کر جالوت کے ساتھ لڑے تھے اور آپ ہی نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ اب بنی اسرائیل کی حکومت جو بڑھنے لگی تو جالوت کے سارے علاقے پر پھیل گئی اور ان لوگوں نے جو اس وقت طالوت کے اعوان و انصار تھے اس وقتی حکومت کو تسلیم کرلیا تھا۔ دائود (علیہ السلام) کا زمانہ گزر گیا اور سلامتن…
Read the full tafseer →Commentary
In this verse, Allah Ta’ ala has mentioned yet another test of Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) with a simple statement saying that, during this test, some body, or part of it, was put on the throne of Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) . As for what that body was and what its placement on the throne means and how it was a test, these details are not available in the noble Qur'an, nor are they proved from any Sahih Hadith. Therefore, some authentic commentators, for instance, Ibn Kathir seems to incline to the approach that anything the Qur'an has left ambiguous should be left as is,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
35 There is a difference of opinion among the commentators about the translation and commentary of these verses. One section of them interprets them as follows:
The Prophet Solomon became so absorbed in reviewing the horses and watching their races, that he forgot to offer his 'Asr Prayer, or according to some others, to perform certain devotions that he used to perform before the sunset. Then when the sun went down, he commanded that the horses be brought back, and when they came back, the Prophet Solomon started slashing them with the sword, or in other words, slaughtering them as a…
Read the full tafseer →