Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔
اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة صٓ 35
ان آیات کے ترجمہ اور تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
ایک گروہ ان کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ گھوڑوں کے معاینے اور ان کی دوڑ کے ملاحظہ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ نماز عصر بھول گئے، یا بقول بعض اپنا کوئی خاص وظیفہ پڑھنا بھول گئے جو وہ عصر و مغرب کے درمیان پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انہوں نے حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ، اور جب وہ واپس آئے تو حضرت سلیمان ؑ نے تلوار لے کر ان کا ٹنا، یا بالفاظ دیگر، اللہ کے لیے ان کو قربان کرنا شروع کردیا کیونکہ وہ ذکر الٰہی سے غفلت کے موجب بن گئے تھے۔ اس مطلب کے لحاظ سے ان آیات کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے۔ " تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
سورج کی واپسی کا قصہ
بعض حضرات نے پہلی تفسیر کو اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ نماز عصر کے قضا ہوجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یا فرشتوں سے یہ درخواست کی کہ سورج کو دوبارہ لوٹا دیا جائے، چناچہ سورج لوٹا دیا گیا، اور آپ نے اپنا معمول پورا کرلیا۔ اس کے بعد دوبارہ سورج غروب ہوا، یہ حضرات ردوھا کی ضمیر کو سورج کی طرف راجع مانتے ہیں۔
لیکن محقق مفسرین مثلاً علامہ آلوسی وغیرہ نے اس قصے کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ ردوھا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف راجع ہے نہ کہ سورج کی طرف۔ اس لئے نہیں کہ معاذ اللہ سورج کو دوبارہ لوٹا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں، بلکہ اس لئے کہ یہ قصہ قرآن و حدیث…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کا امتحان
ولقد فتنا سلیمن یعنی ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ ضروری نہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کسی جرم ہی کی سزا کے طور پر امتحان میں ڈالے گئے ہوں۔ امتحان تمام نبیوں اور رسولوں کو پیش آئے ہیں جس سے ان کے صبر یا شکر کی آزمائش ہوئی ہے۔ اسی طرح کے ایک امتحان میں حضرت سلیمان ؑ بھی ڈالے گئے اور چونکہ وہ ایک بادشاہ تھے اس وجہ سے ان کو یہ امتحان ان کی بادشاہ کی راہ سے پیش آیا۔
Read the full tafseer →33۔ 1 اس آیت کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معانیہ میں حضرت سلیمان ؑ کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت کرتے تھے جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا گم ہوگیا کہ سورج کا پردہ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفہ رہ گیا۔ چناچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نے سارے گھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے، امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے
Read the full tafseer →15: حضرت سلیمان ؑ کے سامنے وہ بہترین گھوڑے پیش کیے گئے جو جہاد کے مقصد سے اکٹھے کئے گئے تھے اور ان سے آپ کی سلطنت کی شان و شوکت کا مظاہر ہورہا تھا، آپ نے جب ان کا معاینہ فرمایا تو یہ شان و شوکت آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کرسکی، بلکہ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس دولت سے محبت اس لیے نہیں ہے کہ اس سے میرے دبدبے کا اظہار ہوتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ یہ جہاد کے لیے تیار کیے گئے ہیں، اور جہاد اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا جاتا ہے۔ پھر وہ گھوڑے چلتے ہوئے آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئے تو آپ نے انہیں دوبارہ بلوایا، اور ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس واقعے کو ذکر فرما کر قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 40
یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
5 یعنی نہایت اصیل، شائستہ اور تیز و سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی۔ حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ شاید اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے ہوں۔ اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ایک طرف ذکر اللہ (یاد خدا) سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے۔ جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آخرت اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہ دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت…
Read the full tafseer →آیت 33 { رُدُّوْہَا عَلَیَّط فَطَفِقَ مَسْحًام بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ } ”تو اس نے کہا : واپس لائو ان کو میرے پاس ! تو اب وہ لگا تلوار مارنے ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر۔“
یعنی آپ علیہ السلام کو نماز قضا ہونے کا اس قدر افسوس تھا کہ آپ علیہ السلام نے گھوڑوں کو واپس منگوایا اور شدید تاثر اور مغلوبیت کی کیفیت میں ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر تلوار سے وار کرنا شروع کردیے۔ یہاں پر بعض مفسرین نے مَسْحًاسے ”ہاتھ پھیرنا“ مراد لے کر آیت کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دراصل گھوڑوں کی کارکردگی سے خوش ہو کر انہیں واپس منگوایا تھا اور جب گھوڑے واپس لائے گئے تو آپ علیہ السلام ان کی گردنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
41 اس آیت کے تحت بعض مفسرین نے درج ذیل حدیث درج کی ہے :
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ سیدنا سلیمان نے کہا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ان سے ہر ایک ایک سوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا آپ کے کسی ساتھی نے کہا انشاء اللہ کہو مگر انہوں نے یہ بات نہ کہی تو ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی ماسوائے ایک کے اور وہ بھی ادھورا بچہ جنی۔ اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب کے ہاں بچے پیدا ہوتے اور سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی) لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →34۔ یعنی غیرت دینی کے جوش میں ان گھوڑوں ہی کو ذبح کرڈالا، کہ جو چیز کچھ دیر کے لیے بھی یاد الہی سے غفلت کا باعث ہوئی وہ اس قابل نہیں کہ باقی رکھی جائے۔ (آیت) ” ردوھا “۔ ضمیر مؤنث گھوڑوں کی جانب ہے۔ والھاء فی ردوھاللخیل (قرطبی) بعض نے یہ معنی بھی لیے ہیں کہ آپ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے لگے، جب جہاد محبوب ومقصود تھا تو جو چیزیں آلات واسباب کا کام دے رہی تھیں قدرۃ وہ بھی آپ کے التفات کی پوری مستحق تھیں۔ (آیت) ” فطفق ..... الاعناق “۔ مراد ان گھوڑوں کے ذبح کر ڈالنے سے ہے قال الاکثرون معناہ انہ مسح السیف بسوقھا واعنا قھا اے قطعھا (کبیر) بعض مشائخ اور صوفیہ نے جامہ دری وغیرہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
آیت نمبر 27 تا 40
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…
Read the full tafseer →ردوھا علی گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ۔
فطفق مسحا بالسوق والاعناق (گھوڑے واپس آگئے) تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے ہاتھ) صاف کرنا شروع کردیا۔
یعنی حضرت سلیمان نے تلوار سے گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنی شروع کردیں۔
مَسَحَ عَلٰی وَرِیْدِہٖ اس کی گردن مار دی۔ حضرت ابن عباس ‘ حسن ‘ قتادہ ‘ مقاتل اور اکثر اہل تفسیر نے یہی معنی بیان کئے ہیں۔ ابن المنذر نے بطریق ابن جریج بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت سلیمان نے تلوار سے ان کی پنڈلیاں کاٹ دیں۔ طبرانی نے اولاسط میں اور اسماعیل نے معجم میں اور ابن مردویہ نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
(31۔ 34) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔
ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔
اور ہم نے سلیمان کی…
Read the full tafseer →رُدُّوْهَا عَلَيَّ ۭ فَطَفِقَ مَسْحًۢا : تو انھوں نے حکم دیا کہ انھیں میرے پاس واپس لاؤ۔ جب وہ واپس لائے گئے تو سلیمان ؑ محبت کے ساتھ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
گھوڑوں کی دوڑ لگوانا اور ان کے جسم پر محبت سے ہاتھ پھیرنا دونوں کام جہاد کا حصہ اور باعث اجر و ثواب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کے دونوں عمل ان کے ”نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ“ ہونے کی مثال کے طور پر ذکر فرمائے ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ بھی گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ کروایا کرتے تھے، عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں : (سَابَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ قَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30 ۔ 33:۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر کرچکے تو حضرت سلیمان السلام کا ذکر کیا۔ اواب کا معنی مطیع ہے الجیاد کا معنی گھوڑے ہیں یہ جواد کی جمع ہے جس کا معنی گھوڑا ہے جس طرح انسان کو جواد کہتے ہیں جب وہ طبعا بہت ہی سخی ہو یہ کہا جاتا ہے : قوم اجواد خیل جیادیہ بھی کہا جاتا ہے : جاد الرجل بما لہ یجود جو دا فھو جواد۔ یعنی آدمی اپنے مال کے ساتھ سخاوت کرتا ہے قوم جواد جس طرح قذال کی جمع قذل آتی ہے یہاں وائو کو ساکن کردیا گیا ہے کیونکہ یہ حرف علت ہے اس کی جمع اجواد ‘ اجاود ‘ جرداء بھی آتی ہے اسی طرح یہ کہتے ہیں : امراۃ جواد ‘ نسوۃ جود جس طرح نوار اور نور آتی ہے شاعر نے کہا :
صناع یا شفاھا حصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
1:۔ ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان عطا فرمایا تو داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹے ! سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کا سکینہ اور ایمان۔ پھر پوچھا : کون سی چیز سب سے زیادہ بری ہے ؟ عرض کیا : ایمان کے بعد کفر) اختیار کرنا) پھر پوچھا : سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ کی رحمت اس کے بندوں کے درمیان پھر پوچھا کونسی چیز زیادہ ٹھنڈی ہے (یعنی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟ ) فرمایا : لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نبی ہے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ساتھ…
Read the full tafseer →رُدُّوْهَا [تم لوگ لوٹاؤ ان (گھوڑوں) کو ] عَلَيَّ ۭ [مجھ پر ] فَطَفِقَ مَسْحًۢا [تو وہ ہاتھ پھیرنے لگے ] بِالسُّوْقِ [پنڈلیوں پر ] وَالْاَعْنَاقِ [اور گردنوں پر ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ وہ اچھے بندہ تھے
حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مال اور دولت اور ملک اور حکومت سے نواز تھا اول ان کے بارے میں فرمایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) کہ وہ اچھے بندے تھے اور ساتھ ہی (اِنَّہٗ اَوَّابٌ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔
گھوڑوں کا پیش کیا جانا آخر میں متنبہ ہونا
اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے پاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے اندازہ یہی ہے کہ یہ گھوڑے جہاد کی ضرورت کے لیے پال رکھے تھے گھوڑے بھی اصیل تھے، اور عمدہ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔
گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
30:۔ اذ عرض الخ : ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد کی ضرورت پیش آئ تو پچھلے پہر کے وقت اصطبل سے گھوڑے پیش کرنے کا حکم دیا جن کی تعداد کم و بیش ایک ہزار تھی چناچہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ چونکہ وہ گھوڑوں کے اوصاف سے بخوبی واقف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ تمام گھوڑے عمدہ نسل کے، اصیل اور سبک رفتار ہیں تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔ یہ مال (گھوڑوں) کی محبت بھی یاد الٰہی کی وجہ سے ہے یہ دنیوی محبت نہیں۔ اسی دوران میں گھوڑے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ اس لیے دوبارہ حکم دیا کہ ان کو دوبارہ واپس لاؤ جب وہ واپس لائے گئے تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے تھپکی دینے لگے (ابن جریر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ربط آیات :
مشرکین کا رد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے رفقاء کو کفار کی ایذاء رسانیوں کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے بھی آزمائش کے وقت صبر و برداشت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ خلافت و حکومت بھی عطا فرمائی اور آپ کے درجات کو بلند فرمایا اس میں اشارہ تھا کہ آپ بھی پیش آمدہ تکالیف کو برداشت کریں ، ایک وقت آنے والا ہے جب آپ کے مخالفین ناکام ہوجائیں گے اور کامیابی آپ ہی کے قدم چومے گی ، پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →رُدُّوْہَا عَلَيَّ 0 ۭ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ 33
رد
الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147]
( رد د ) الرد ( ن )
اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔
وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔
طفق
يقال : طَفِقَ يفعل کذا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔
پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ ج حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۔ رُدُّوْھَا علَیَّ ط فَطَفِقَ مَسْحًا م بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ ۔ (صٓ: 31 تا 33)
(اس وقت کو یاد کرو جب شام کے وقت حضرت سلیمان کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میں نے دوست رکھا ہے مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔ انھیں میرے پاس واپس لائو، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ )
آیت کی تفسیر میں اختلاف اور نقطہ اعتدال
گزشتہ رکوع میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : اولوالباب میں سے دو عظیم عقل مندوں کا کردارپیش کیا جاتا ہے۔
اسی سورة میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے محبوب ﷺ ! ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد فرمائیں جو طاقت ورہونے کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے اس کے لیے پہاڑ اور پرندے مسخر کیے تھے۔ ہم نے اس کی مملکت کو مضبوط کیا اور اسے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ ہم نے ہی اسے سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ سلیمان (علیہ السلام) بھی بہترین بندہ اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا، اس کا اہم واقعہ یہ ہے کہ جب شام کے وقت اس کے سامنے سکھلائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے…
Read the full tafseer →گھوڑوں کا واپس لوٹا کر ذبح کرنا :
33: رُدُّوْھَا عَلَیَّ (ان گھوڑوں کو ذرا پھر تو میرے پاس لائو) ملائکہ کو کہا سورج کو واپس لائو تاکہ میں عصر کی نماز ادا کرلوں پس سورج لوٹا دیا گیا۔ اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی۔ یا عمدہ گھوڑوں کو میری طرف واپس کردو۔ فَطَفِقَ مَسْحًام بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ (پس انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا) پس چھونے لگے چھونا یعنی تلوار سے ان کی پنڈلیوں کو چھونے لگے۔ سوقؔ یہ جمع ساق کی ہے جیسا دار اور دور اور اعناق کو چھونے لگے۔ یعنی کاٹنے لگے۔ کیونکہ گھوڑے نماز عصر کیلئے رکاوٹ بنے تھے۔ تم کہو گے مسح عِلَاوَتَہُ جبکہ وہ اس کی گردن اڑا دے۔ اور…
Read the full tafseer →مسحا بالسوق والاعناق کی تفسیر
تفسیر 33۔ ، ردوھا علی فطفق سحا بالسوق والاعناق، ابو عبیدہ کا قول ہے مسح سے مراد کاٹنا ہے۔ پھر وہ گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنے لگے۔ یہ قول ابن عباس ، حسن ، قتادہ ، مقاتل اور اکثراہل تفسیر نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ انہوں نے کبھی گھوڑوں کو نہیں کاٹاجب ان کو کسی چیز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے ان کو ذبح کیا اور ان کے گوشت صدقہ کردیا۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت سلیمان نے ان گھوڑوں کو جہاد کے لیے وقف کردیا تھا اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر وقف کی علامت کے طورپرداغ لگادیا تھا۔ زہری اور کیسان نے یہ مطلب بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر 2 ؎ ابن منذر میں حضرت علی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ دریائی گھوڑے تھے جن کے دیکھنے کے شغل میں سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی نماز کو دیر ہوگئی اوسط 3 ؎ طبرانی میں ابی بن کعب سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز میں دیر ہوجانے کے رنج سے سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں اور پھر ان کو ذبح کر ڈالا۔ دین الٰہی کے جوش میں سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر بیان کی گئی اس کی سند میں سعید بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن)
(1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔
یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو مسح کرنے کا مفہوم
قول باری ہے (ردوھا علی فطفق مسحا بالسوق والاعناق۔ ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو۔ پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی گردنوں کے بالوں اور کونچوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔
ہمیں محمد بن بکر نے اسی مضمون کی روایت کی ہے، انہیں ابودائود نے ، انہیں ہارون بن عبداللہ نے، انہیں ہشام بن سعید الطالقانی نے، انہیں محمد بن المہاجر نے، ا ہیں عقیل بن شعیب نے ابو وہب الحثمی ؓ سے (انہیں حضور ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی تھی) کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارتبطوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
47 حضرت سلیمان کی ایک آزمائش کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت سلیمان کی آزمائش اور ان کی شان اوابیت وانابت و رجوع الی اللہ کا ایک اور نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جس فتنہ و آزمائش کا ذکر ہے اس سے اور آپ (علیہ السلام) کی کرسی پر دھڑ ڈال دینے سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں قرآن و سنت میں کہیں کوئی تصریح نہیں پائی جاتی۔ کتب تفسیر میں اس بارے میں جو کچھ روایات نقل کی گئی ہیں ان میں سے بعض تو بالکل ہی من گھڑت اسرائیلی روایات ہیں جو عصمت انبیاء کے مشہور و معروف اور مسلمہ عقیدے کے سراسرے خلاف ہیں۔ اور بقول علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین بنی اسرائیل میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
سیدناسلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ
تشریح : سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے اوپر جو کچھ عنایات اللہ کی طرف سے کی گئیں اُ ن میں سے ایک نعمت بہت اچھے بیٹے کی بھی دی گئی۔ ان کا نام سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تھا۔ آپ کو بھی نبوت، حکومت اور بہت سی نعمتیں دی گئی تھیں۔ آپ کا ذکر سورة بقرہ، بنی اسرائیل، انبیاء، نمل اور سبا میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ مصلحتاً دہرایا جا رہا ہے۔ تاکہ اللہ کی مہربانیاں اور اچھے انسانوں کی خوبیاں بیان کی جاسکیں۔ آپ کی تسلی کیلئے ان آیات کے ترجمہ و تفسیر میں بےحد اختلاف ہے۔ تذکرۃ الانبیاء محترم حافظ قاضی عبد الرزاق صاحب اور تفہیم القرآن کی روشنی میں مجھے کچھ یوں مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–40
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40:
اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 2 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرے لگا “۔ اس کا اکثر مفسرین (رح) نے وہی مطلب بیان کیا ہے جو متن میں درج ہے۔ دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلبی بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) گھوڑوں کی ٹانگوں اور گردنوں سے غبار جھاڑنے لگے۔ ابن جریر (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے مگر حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ پہلا مطلب زیادہ صحیح ہے اور اسی پر ” فسخرنا لہ الریح۔۔۔ “ کا صلہ مل رہا ہے ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں۔ پھر غصے ہوئے، ان گھوڑوں کو منگا کر کاٹ ڈالا یہ اللہ کی محبت کا جوش تھا ان کی تعریف فرمائی۔ ( موضح) ۔
Read the full tafseer →(38:33) ردوھا : ای قال ردوھا : ردوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ رد باب نصر سے مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الصفنت الجیاد ہے۔ یعنی گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ۔ علی میرے سامنے۔ جیسا کہ عرض علیہ میں ہے (آیت 31: متذکرہ بالا) میں ہے۔ علی بمعنی مجھ پر بھی ہے۔ ای لہ علی حق اس کا مجھ پر حق ہے۔
فطفق مسحا بالسوق والاعباق : ای فلما ردوھا علیہ طفق یمسح سوقھا واعناقھا مسحا۔ یعنی جب وہ گھوڑے اس کے سامنے واپس لائے گئے تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
فطفق میں فاء فصیحت کے لئے ہے اور جملہ مقدرہ ماقبل کی وضاحت کے لئے ہے۔ نیز حکم کی بجا آوری کی سرعت پر دال ہے۔ یعنی ادھر حکم ہوا ادھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا تذکرہ۔
(ف 1) اوپر داود (علیہ السلام) کی خلافت کا زکر فرماکران آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت اور نبوت اور بادشاہت کو اللہ نے فقط داؤد پر ختم نہیں کیا بلکہ ان کی اولاد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا کہ وہ نبی بھی ہوئے بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہ کے وہ ہمیشہ اللہ کے مرضی کے کامون میں لگے رہے اب آگے ان کے جوش دینی اور مرض الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال گھوڑوں کے قصہ سے بیان فرمائی۔ شائستہ اور تیز وسبک رفتا گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
[12] یعنی ان سے رضائے الٰہی اور تقویت دین کے لئے محبت کرنا ہے۔ میری محبت ان کے ساتھ دنیوی غرض سے نہیں۔
[13] یعنی نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
حضرت سلیمان کے گھوڑے
1: حضرت سلیمان کے متعلق اس قصہ میں بھی افسانہ آرائی سے کام لیا گیا ہے ۔ اور ان کے متعلق بھی ان کے باپ کی طرح یہ الزام لگایا گیا ہے ۔ کہ انہوں نے نماز عصر کو قضا کردیا تھا ۔ محض گھوڑوں سے محبت اور فریفتگی کی وجہ سے اور پھر آخر میں جب انہوں نے محسوس کیا ۔ کہ بڑی غفلت ہوئی ۔ تو ان گھوڑوں کو قتل کردیا تھا ۔ تاکہ نہ یہ رہیں اور نہ آئندہ آزمائش وابتلاء کا موقع پیش آئے ۔ یہ قصہ قطع نظر اس کے قرآن کے انداز بیان کے خلاف ہے ۔ اور منصب نبوت کے منافی بجائے خود اس درجہ رکیک ہے ۔ کہ عقل تسلیم نہیں کرتی ۔ کیونکہ حضرت سلیمان خود بادشاہ تھے ۔ بادشاہ کے بیٹے تھے ۔ ہمیشہ جاہ وحشم کو دیکھا…
Read the full tafseer →(33) ان گھوڑوں کو میرے پاس واپس لائو اور واپس مجھ پر لوٹائو چناچہ گھوڑوں کی واپسی پر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔ یعنی گھوڑوں ک وقتل کرنا شروع کردیا اور کہتے ہیں نو سو گھوڑے قتل کردیئے اور ایسا کرنا شاید ان کی شریعت میں جائز ہوگا اور اتنے گھوڑے قتل کردینے سے گھوڑوں میں کچھ کمی نہ پڑتی ہوگی۔
بعض حضرات نے کہا ایک دین کے فرض کی وجہ سے دوسرے فرض میں غفلت کوئی ایسی بڑی خطا نہ تھی جس پر گھوڑوں کو قتل کیا جاتا اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو صاف کرنا شروع کردیا اور گھوڑوں کی تعظیم کی یعنی جو چیز فوت ہوچکی وہ تو ہو ہی چکی اب گھوڑوں کو تو ٹھیک کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 3۔ یعنی اس پر عمل کریں۔
Read the full tafseer →گھوڑے دوڑ کر جب واپس آئے تو آپ نے ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر تھپکیاں دیں
33۔ گھوڑے اپنی دوڑ مکمل کر کے جب واپس لوٹے تو گھوڑ سواروں کو آپ نے حکم دیا کہ ان میں سے ایک ایک کو وہ میرے پاس لاتے جائیں اور آپ کے حکم کے مطابق گھوڑے باری باری آپ کے پاس لائے گئے آپ نے ان کو دیکھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر خود بنفس نفیس تھپکیاں دیں اور کہا کہ اس طرح کرنے سے اظہار محبت ہوتا ہے جو گھوڑے بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں شاباش دی جا رہی ہے اور ان کے دوڑانے والے بھی اور اس طرح یہ تھپکیاں دینے والے بھی محسوس کرتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس طرح آپ نے بھی کیا اور لطف اندوز ہوتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
The story of the return and resetting of the Sun
Some early interpreters have, while following the first Tafsir, also said that soon after having missed the Salah of al-` Asr, Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) prayed to Allah Ta’ ala, or requested the angels, that the Sun should be made to return. Accordingly, the Sun was returned and he was enabled to perform his appointed Salah. After that, the Sun set once again. These people take the pronoun in: رُدُّوهَا (rudduha: Bring it back to me - 38:33) as reverting to the Sun.
But, investigative commentators, for instance, ` Allamah ` Alusi and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
35 There is a difference of opinion among the commentators about the translation and commentary of these verses. One section of them interprets them as follows:
The Prophet Solomon became so absorbed in reviewing the horses and watching their races, that he forgot to offer his 'Asr Prayer, or according to some others, to perform certain devotions that he used to perform before the sunset. Then when the sun went down, he commanded that the horses be brought back, and when they came back, the Prophet Solomon started slashing them with the sword, or in other words, slaughtering them as a…
Read the full tafseer →