Saad 38:32

Saad · from ayah 32

38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ ۚ— حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۟ۥفَقَالَ اِنِّىۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّىۡ‌ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until the sun disappeared into the curtain [of darkness]."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:32

تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو انہوں نے کہا : میں نے اس دولت کی محبت اپنے پروردگار کی یاد ہی کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس نے کہا بیشک میں نے اس مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے دوست رکھا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پردے میں چھپ گئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو کہا : میں نے اس مال کو اپنے پروردگار کی یاد کی بنا پر پسند کیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ رسالہ آپ کے سامنے سے اوجھل ہوگیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس نے کہا کہ یہ تو مال کی محبت میں لگ کر، میں اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ نے کہا کہ میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ وہ چھپ گیا اوٹ کے پیچھے

— مولانا اسحاق مدنی

تو کہنے لگے میں اس مال کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس نے کہا کہ میں نے پسند کرلیا مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر کے مقابلے میں ! یہاں تک کہ (سور ج) چھپ گیا اوٹ میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو کہنے لگے میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب سے محبت (کی وجہ) سے، پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

he said: “Lo! I have come to love this wealth on account of the remembrance of my Lord.” And when the horses disappeared,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :I held the love of the good things (i.e. these horses) because of the remembrance of my Lord. until it went behind the veil.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :I held the love of the good things (i.e. these horses) because of the remembrance of my Lord. until it went behind the veil.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "I did love the good instead of remembering my Lord," till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he said: Lo! I have preferred the good things (of the world) to the remembrance of my Lord; till they were taken out of sight behind the curtain.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until the sun disappeared into the curtain [of darkness]."

— Saheeh International

he said, "My love of horses for the cause of God has made me continue watching them until sunset, thus making me miss my prayer".

— Muhammad Sarwar

Then he said: Surely I preferred the good things to the remembrance of my Lord-- until the sun set and time for Asr prayer was over, (he said):

— Muhammad Habib Shakir

He said: verily I have loved the love of earthly good above the remembrance of my Lord until the sun hath disappeared behind the veil.

— Abdul Majid Daryabadi

And he said, "Truly do I love the love of good, with a view to the glory of my Lord,"- until (the sun) was hidden in the veil (of night):

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–33

حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16؀) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 34 اصل میں لفظ خَیْر استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں مال کثیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور گھوڑوں کے لیے بھی مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ نے ان گھوڑوں کو چونکہ راہ خدا میں جہاد کے لیے رکھا تھا، اس لیے انہوں نے " خیر " کے لفظ سے ان کو تعبیر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورج کی واپسی کا قصہ بعض حضرات نے پہلی تفسیر کو اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ نماز عصر کے قضا ہوجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یا فرشتوں سے یہ درخواست کی کہ سورج کو دوبارہ لوٹا دیا جائے، چناچہ سورج لوٹا دیا گیا، اور آپ نے اپنا معمول پورا کرلیا۔ اس کے بعد دوبارہ سورج غروب ہوا، یہ حضرات ردوھا کی ضمیر کو سورج کی طرف راجع مانتے ہیں۔ لیکن محقق مفسرین مثلاً علامہ آلوسی وغیرہ نے اس قصے کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ ردوھا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف راجع ہے نہ کہ سورج کی طرف۔ اس لئے نہیں کہ معاذ اللہ سورج کو دوبارہ لوٹا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں، بلکہ اس لئے کہ یہ قصہ قرآن و حدیث…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(آیت) حضرت سلیمان کی انابت کا ایک دوسرا اقعہ یہ حضرت سلیمان کی انابت کا دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ اس واقعہ کی شکل بھی تفسیر کی کتابوں میں چونکہ بہت بدنما بنا دی گئی ہے اس وجہ سے اس کو بھی پہلے سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد الفاظ قرآن پر غور فرمایئے۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ کو یہ سخت امتحان پیش آیا کہ دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیشتر علاقے چھین لئے اور باقی علاقوں میں بھی ایسی گڑ بڑ پھلا دی کہ نظم حکومت عملاً بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ ان کی تاخت سے صرف مرکز بچا جس میں حضرت سلیمان ؑ بالکل مجبور و محصور ہو کر رہ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 31–32

31۔ 1 یعنی حضرت سلیمان ؑ نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ نسل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان ؑ پر معائنے کے لئے پیش کئے گئے، ظہر یا عصر سے لے کر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے شام سے تعبیر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–32

14: یعنی جب آخرت اور حساب و کتاب کی ضرورت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسانوں کو پہلے سے متنبہ کرنے کے لیے کوئی ہدایت نامہ عطا فرمائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنی آخرت کو درست کرسکیں۔ اس کے لیے قرآن کریم کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–35

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–33

5 یعنی نہایت اصیل، شائستہ اور تیز و سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی۔ حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ شاید اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے ہوں۔ اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ایک طرف ذکر اللہ (یاد خدا) سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے۔ جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آخرت اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہ دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { فَقَالَ اِنِّیْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ } ”تو اس نے کہا کہ میں نے پسند کرلیا مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر کے مقابلے میں !“ حُبَّ الْخَیْرِ سے مال و دولت یعنی گھوڑوں کی محبت مراد ہے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اس قدر مشغول ہوگیا کہ اپنے رب کے ذکرکو بھول گیا۔ اپنے ربّ کی یاد سے غافل ہوگیا۔ { حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ } ”یہاں تک کہ سور ج چھپ گیا اوٹ میں۔“ یہاں پر تَوَارَتْ کے بعد الشَمْس سور ج کا لفظ گویا محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 سیدنا سلیمان کے ہاں پیش کئے جانے والے گھوڑے :۔ تو ارت میں واحد مونث کی ضمیر کس طرف راجع ہے ؟ اس میں اختلاف کی وجہ سے اس آیت کی تفسیر میں بھی خاصا اختلاف واقع ہوا ہے۔ ( تَوَارَتْ بالْحِجَابِ ) سے بعض مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ جب گھوڑوں کا رسالہ نظروں سے چھپ گیا۔ اور بعض نے یہ مراد لی ہے کہ جب سورج غروب ہوگیا۔ پہلے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ ایک دن پچھلے پہر سیدنا سلیمان اپنے گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے پھر ان کی دوڑ کرائی تاآنکہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے چونکہ یہ سارا سلسلہ جہاد کی خاطر تھا اس لئے آپ اس شغل سے بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ (پھر جب آپ کو خود ہی تنبہ ہوا تو آپ اپنے اوپر نفریں وملامت کے لیے یہ کلمات زبان پر لانے لگے) کاملین اہل اللہ یوں ہی اپنی خفیف غفلتوں کے تدارک میں اہتمام عظیم کیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” تو ارت “۔ تقدیر کلام یوں ہے، تو ارت الشمس (کشاف، مدارک) والاکثر فی التفسیر ان التی تو ارت بالحجا بھی الشمس (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–40

آیت نمبر 27 تا 40 ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی پھر اس نے کہا : (افسوس) میں اس مال کی محبت میں (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا۔ الْخَیْرِکثیر مال ‘ مراد وہ گھوڑے جن کے معائنہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تھی ‘ یا یوں کہا جائے کہ خیر کا اطلاق خیل (گھوڑوں) پر (اصالۃً اور لغۃً ) عربی میں کیا ہی جاتا ہے ‘ عرب راء کی جگہ لام اور لام کی جگہ راء بول دیتے ہیں جیسے اِخْتَلْتُْ کی جگہ اِخْتَرْتُ (میں نے اس کو دھوکا دیا) کہہ دیتے ہیں۔ گھوڑوں کو خیر کہنے کی یہ وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر وابستہ ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : روز قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–34

(31۔ 34) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔ ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔ اور ہم نے سلیمان کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَقَالَ اِنِّىْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ : ”الْخَيْرِ“ کا معنی تو بھلائی ہے، مگر عموماً اس سے مراد مال ہوتا ہے، جیسا کہ انسان کے متعلق فرمایا : (وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ) [ العادیات : 8 ] ”اور بیشک وہ مال کی محبت میں یقیناً بہت سخت ہے۔“ یہ لفظ عموماً زیادہ مال پر بولا جاتا ہے۔ یہاں ”الْخَيْرِ“ سے مراد وہ اصیل اور تیز رفتار گھوڑے ہیں جو پچھلے پہر ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ ”لِحُبِّ الْخَيْرِ“ پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے ”لِحُبِّ الْخَيْرِ“ کا ترجمہ ”اس مال کی محبت“ کیا گیا ہے۔ ”عن“ یہاں سببیہ ہے، جس کا معنی ”کی وجہ سے“ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–33

30 ۔ 33:۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر کرچکے تو حضرت سلیمان السلام کا ذکر کیا۔ اواب کا معنی مطیع ہے الجیاد کا معنی گھوڑے ہیں یہ جواد کی جمع ہے جس کا معنی گھوڑا ہے جس طرح انسان کو جواد کہتے ہیں جب وہ طبعا بہت ہی سخی ہو یہ کہا جاتا ہے : قوم اجواد خیل جیادیہ بھی کہا جاتا ہے : جاد الرجل بما لہ یجود جو دا فھو جواد۔ یعنی آدمی اپنے مال کے ساتھ سخاوت کرتا ہے قوم جواد جس طرح قذال کی جمع قذل آتی ہے یہاں وائو کو ساکن کردیا گیا ہے کیونکہ یہ حرف علت ہے اس کی جمع اجواد ‘ اجاود ‘ جرداء بھی آتی ہے اسی طرح یہ کہتے ہیں : امراۃ جواد ‘ نسوۃ جود جس طرح نوار اور نور آتی ہے شاعر نے کہا : صناع یا شفاھا حصان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–33

1:۔ ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان عطا فرمایا تو داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹے ! سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کا سکینہ اور ایمان۔ پھر پوچھا : کون سی چیز سب سے زیادہ بری ہے ؟ عرض کیا : ایمان کے بعد کفر) اختیار کرنا) پھر پوچھا : سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ کی رحمت اس کے بندوں کے درمیان پھر پوچھا کونسی چیز زیادہ ٹھنڈی ہے (یعنی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟ ) فرمایا : لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نبی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقَالَ [تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] اِنِّىْٓ اَحْبَبْتُ [کہ میں نے محبت کی ] حُبَّ الْخَيْرِ [اس مال کے پار سے ] عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ [اپنے رب کی یاد کے سبب سے ] حَتّٰى تَوَارَتْ [یہاں تک کہ وہ (گھوڑے) چھپ گئے ] بِالْحِجَابِ [اوٹ میں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–33

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ وہ اچھے بندہ تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مال اور دولت اور ملک اور حکومت سے نواز تھا اول ان کے بارے میں فرمایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) کہ وہ اچھے بندے تھے اور ساتھ ہی (اِنَّہٗ اَوَّابٌ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ گھوڑوں کا پیش کیا جانا آخر میں متنبہ ہونا اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے پاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے اندازہ یہی ہے کہ یہ گھوڑے جہاد کی ضرورت کے لیے پال رکھے تھے گھوڑے بھی اصیل تھے، اور عمدہ تھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–40

قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔ گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–33

30:۔ اذ عرض الخ : ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد کی ضرورت پیش آئ تو پچھلے پہر کے وقت اصطبل سے گھوڑے پیش کرنے کا حکم دیا جن کی تعداد کم و بیش ایک ہزار تھی چناچہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ چونکہ وہ گھوڑوں کے اوصاف سے بخوبی واقف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ تمام گھوڑے عمدہ نسل کے، اصیل اور سبک رفتار ہیں تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔ یہ مال (گھوڑوں) کی محبت بھی یاد الٰہی کی وجہ سے ہے یہ دنیوی محبت نہیں۔ اسی دوران میں گھوڑے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ اس لیے دوبارہ حکم دیا کہ ان کو دوبارہ واپس لاؤ جب وہ واپس لائے گئے تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے تھپکی دینے لگے (ابن جریر،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–33

ربط آیات : مشرکین کا رد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے رفقاء کو کفار کی ایذاء رسانیوں کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے بھی آزمائش کے وقت صبر و برداشت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ خلافت و حکومت بھی عطا فرمائی اور آپ کے درجات کو بلند فرمایا اس میں اشارہ تھا کہ آپ بھی پیش آمدہ تکالیف کو برداشت کریں ، ایک وقت آنے والا ہے جب آپ کے مخالفین ناکام ہوجائیں گے اور کامیابی آپ ہی کے قدم چومے گی ، پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَالَ اِنِّىْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ۝ 0 ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ۝ 32۪ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔ پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–33

اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ ج حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۔ رُدُّوْھَا علَیَّ ط فَطَفِقَ مَسْحًا م بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ ۔ (صٓ: 31 تا 33) (اس وقت کو یاد کرو جب شام کے وقت حضرت سلیمان کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میں نے دوست رکھا ہے مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔ انھیں میرے پاس واپس لائو، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ ) آیت کی تفسیر میں اختلاف اور نقطہ اعتدال گزشتہ رکوع میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–33

فہم القرآن ربط کلام : اولوالباب میں سے دو عظیم عقل مندوں کا کردارپیش کیا جاتا ہے۔ اسی سورة میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے محبوب ﷺ ! ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد فرمائیں جو طاقت ورہونے کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے اس کے لیے پہاڑ اور پرندے مسخر کیے تھے۔ ہم نے اس کی مملکت کو مضبوط کیا اور اسے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ ہم نے ہی اسے سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ سلیمان (علیہ السلام) بھی بہترین بندہ اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا، اس کا اہم واقعہ یہ ہے کہ جب شام کے وقت اس کے سامنے سکھلائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32: فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ( تو کہنے لگے کہ میں اس مال کی محبت میں اپنے رب کی یاد) ذِکْرِ رَبِّیْ (سے غافل ہوگیا) یعنی میں نے گھوڑوں کی محبت کو رب کی یاد پر ترجیح دی۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ پس اَحْبَبْتُ کا معنی ٰاثرت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فاستحبوا العمی علی الھدی ] فصلت : 17[۔ عن ؔ یہ علیٰ کے معنی میں ہے گھوڑے کو خیر فرمایا۔ گویا وہ مجسمہ خیر ہے کیونکہ خیر اس سے متعلق ہے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ الخیل معقود بنواصیھا الخیرالی یوم القیامۃ۔ ] بخاری، 2849، المسلم 1871[ ابو علی کا قول ہے کہ احببت کا معنی جلست ہے یہ احباب البعیر اونٹ بٹھانا سے ماخوذ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32، فقال انی احببت حب الخیر، کثیر مال مرادوہ گھوڑے جن کے معائنہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تھی۔ عرب لوگ راء کی جگہ لام بول دیتے ہیں۔ جیسے ، اختلت، کی جگہ ، اخترت، کہہ دیتے تھے۔ خیل کو خیر اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ان کی پیشانی میں خیرہوتی ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ مال یا گھوڑے ان پر پیش کیے گئے۔ ، عن ذکرربی ، نماز سے۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ ، حتی توارت بالحجاب، جب سورج چھپ جائے اور آنکھوں سے اوجھل ہوجائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ حجاب ایک پہاڑ ہے جو کوہ قاف سے پرے ایک سال کی مسافت پر ہے۔ سورج اس کی آڑ میں غروب ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–33

30۔ 33۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر 2 ؎ ابن منذر میں حضرت علی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ دریائی گھوڑے تھے جن کے دیکھنے کے شغل میں سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی نماز کو دیر ہوگئی اوسط 3 ؎ طبرانی میں ابی بن کعب سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز میں دیر ہوجانے کے رنج سے سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں اور پھر ان کو ذبح کر ڈالا۔ دین الٰہی کے جوش میں سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر بیان کی گئی اس کی سند میں سعید بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–40

آیت 30 اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن) (1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔ یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

یہاں خیر مال کو کہا گیا ہے قول باری ہے (انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی ۔ میں اس مال کی محبت میں اپنے پروردگار کی ید سے غافل ہوگیا) اس کی تفسیر میں دو احتمال ہیں ایک تو یہ کہ خیر سے مال مرادہو یعنی میں اس مال کی محبت میں جوان گھوڑوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا ، اس سے وہ نماز مراد ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس وقت ادا کیا کرتے تھے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ خیر سے خود گھوڑے مراد ہوں، گھوڑوں کو خیر کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا کہ ان کے ذریعے اللہ کے راستے میں جہادکرکے اور خدا کے دشمنوں سے قتال کرکے خیر یعنی نیکی حاصل ہوتی ہے۔ اس صورت میں قول باری (عن ذکرربی) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

46 { حَتّٰی تَوَارَتْ بالْحِجَابِ } کا مفہوم و مطلب ؟ : یعنی " سورج جو کہ ڈوب گیا "۔ یعنی " تو ارت " کی ضمیر فاعل کا مرجع سورج ہے۔ اور یہاں ماقبل میں اگرچہ اس مرجع کا ذکر موجود نہیں۔ لیکن سورج چونکہ ان مشہور چیزوں میں سے ہے جن کو ان کی شہرت کی بنا پر بغیر سبق ذکر کے یونہی مرجع قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں اس کو مرجع بنانا درست ہے۔ اور یوں " العِشَیِّ " کے ذکر کے ضمن میں بھی اس کا ذکر آگیا ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ اس مقام کی مشہور تفسیر کے اعتبار سے ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ حسب معمول حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی دیکھ بھال کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–33

سیدناسلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ تشریح : سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے اوپر جو کچھ عنایات اللہ کی طرف سے کی گئیں اُ ن میں سے ایک نعمت بہت اچھے بیٹے کی بھی دی گئی۔ ان کا نام سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تھا۔ آپ کو بھی نبوت، حکومت اور بہت سی نعمتیں دی گئی تھیں۔ آپ کا ذکر سورة بقرہ، بنی اسرائیل، انبیاء، نمل اور سبا میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ مصلحتاً دہرایا جا رہا ہے۔ تاکہ اللہ کی مہربانیاں اور اچھے انسانوں کی خوبیاں بیان کی جاسکیں۔ آپ کی تسلی کیلئے ان آیات کے ترجمہ و تفسیر میں بےحد اختلاف ہے۔ تذکرۃ الانبیاء محترم حافظ قاضی عبد الرزاق صاحب اور تفہیم القرآن کی روشنی میں مجھے کچھ یوں مناسب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–40

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40: اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 2 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرے لگا “۔ اس کا اکثر مفسرین (رح) نے وہی مطلب بیان کیا ہے جو متن میں درج ہے۔ دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلبی بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) گھوڑوں کی ٹانگوں اور گردنوں سے غبار جھاڑنے لگے۔ ابن جریر (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے مگر حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ پہلا مطلب زیادہ صحیح ہے اور اسی پر ” فسخرنا لہ الریح۔۔۔ “ کا صلہ مل رہا ہے ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں۔ پھر غصے ہوئے، ان گھوڑوں کو منگا کر کاٹ ڈالا یہ اللہ کی محبت کا جوش تھا ان کی تعریف فرمائی۔ ( موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:32) انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی : احببت ماضی واحد متکلم میں نے دوست رکھا۔ میں نے پسند کیا۔ بعض کے نزدیک یہاں احببت بمعنی اثرت میں نے ترجیح دی ہے۔ حب الخیر۔ مضاف مجاف الیہ۔ مال کی محبت۔ الخیر بمعنی مال۔ اور جگہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے مثلا وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ (انسان مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے۔ عن حرف جر ہے اس کا استعمال مختلف معانی میں ہوتا ہے لیکن یہاں اس کتے وہ معانی تحریر کئے جاتے ہیں کو مختلف علماء کے نزدیک مختلف اقوال کا باعث بنے ہیں :۔ (1) عن کا استعمال تعلیل یا بیان سبب کے لئے۔ انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی میں نے اس مال (گھوڑوں) کی محبت کو پسند کیا ہے اپنے رب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–40

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ) تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–33

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا تذکرہ۔ (ف 1) اوپر داود (علیہ السلام) کی خلافت کا زکر فرماکران آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت اور نبوت اور بادشاہت کو اللہ نے فقط داؤد پر ختم نہیں کیا بلکہ ان کی اولاد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا کہ وہ نبی بھی ہوئے بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہ کے وہ ہمیشہ اللہ کے مرضی کے کامون میں لگے رہے اب آگے ان کے جوش دینی اور مرض الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال گھوڑوں کے قصہ سے بیان فرمائی۔ شائستہ اور تیز وسبک رفتا گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–33

[12] یعنی ان سے رضائے الٰہی اور تقویت دین کے لئے محبت کرنا ہے۔ میری محبت ان کے ساتھ دنیوی غرض سے نہیں۔ [13] یعنی نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–32

ف 3: جو اس فلسفہ کو پیش کرنے والی کتاب ہے ، وہ نہایت مبارک ہے ۔ اور ہر صاحب عقل انسان اس کا مخاطب ہے اس کی خواہش ہے کہ سب لوگ اس کے حقائق ومعارف پر غور کریں اور سوچیں ۔ پھر اگر یہ مجموعہ تعلیمات واقعی کارآمد ہو اور لوگوں کو برکت وسعادت سے بہرہ مند کرسکے ۔ تو اس کو قبول کرلیں ۔ ورنہ کوئی شخص اس کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور نہ ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) پس سلیمان نے کہا میں نے اس مال کو پسند کیا اور میں اپنے پروردگار کی یاد اور اس کی عبادت سے اس مال کی محبت میں لگ کر غافل ہوگیا یہاں تک کہ آفتاب پردے میں چھپ گیا۔ خیر فرمایا مال کو جیسا کہ عادیات میں فرمایا : فرانہ لحب الخیر لشدید حدیث میں آتا ہے الخیل معقود بنواسیھا الخیر الی یوم القیمۃ یعنی گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ قیامت تک کے لئے خیر وابستہ کردی گئی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کسی علاقہ پر جہاد کرنے کی غرض سے گھوڑوں کی دیکھ بھال کررہے تھے لیکن ان گھوڑوں میں اس قدر مشغول ہوئے کہ ان کی مقررہ عبادت کا وقت فوت ہوگیا ہوسکتا ہے کہ یہ عصر کی نماز ہو۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ ان کی ملت میں یا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

32۔ دوڑنے والے گھوڑے جب میدان میں لائے جاتے ہیں تو ان کو تیار کرنے کے لیے ادھر ادھر لے جانا پڑتا ہے اس طرح سے گھوڑ سوار ان کو پھراتے رہے اور آپ ان کو کافی دیر تک دیکھتے رہیے یہاں تک کہ ان کو ایک دم بھاگنے کے لیے گھوڑ دوڑ میں گھوڑ سواروں نے چھوڑ دیا اور جب تک آپ کی آنکھیں ان کو دیکھتی رہیں دیکھتی رہیں لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگئے ایسے میں جو لوگ آپ کے ارد گرد دیکھنے کے لیے حاضر ہوئے تھے ان کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ میں جو ان گھوڑوں کو پالنے اور ان سے دوڑ کروانے اور اسی طرح ان کی دوڑ دیکھنے کے لیے اپنے قیمتی اوقات خرچ کر رہا ہوں تو یہ محض یاد الہٰی کے لیے ہے نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

The story of the return and resetting of the Sun Some early interpreters have, while following the first Tafsir, also said that soon after having missed the Salah of al-` Asr, Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) prayed to Allah Ta’ ala, or requested the angels, that the Sun should be made to return. Accordingly, the Sun was returned and he was enabled to perform his appointed Salah. After that, the Sun set once again. These people take the pronoun in: رُ‌دُّوهَا (rudduha: Bring it back to me - 38:33) as reverting to the Sun. But, investigative commentators, for instance, ` Allamah ` Alusi and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 The Arabic word khair in the Text is used for abundance of wealth as well as for horses metaphorically. As the Prophet Solomon had kept these horses for fighting in the way of Allah, he called them "khair".

Read the full tafseer →